13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 13:1–7

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

الٓمٓر۔ یہ کتاب (الٰہی) کی آیات ہیں اور جو کچھ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے بالکل سچ ہے و لیکن بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

اللہ ایسا (قادر) ہے کہ اس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے اونچا کھڑا کرادیا (جیسا کہ) تم دیکھ رہے ہو پھر عرش پر قائم ہوا اور سورج اور چاند کا کام پر لگادیا۔ ہر ایک ، ایک مقررہ میعاد تک گردش کررہا ہے وہی (اللہ) ہر ایک کام کی تدبیر فرماتا ہے (اور) دلائل کو تفصیل سے بیان فرماتا ہے تاکہ تم اپنے پروردگار کے پاس جانے پر یقین کرو

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہ ایسا (قادر) ہے کہ اس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا پیدا فرمائے اور اس میں ہر قسم کے پھلوں سے دو دو قسمیں پیدا فرمائیں۔ ڈھانک دیتا ہے رات سے دن (کی روشنی) کو ، بیشک اس میں سوچنے والوں کے لئے بہت سے دلائل موجود ہیں

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں کئی طرح کے کھیت ہیں پاس پاس اور انگوروں کے باغ اور کھیتیاں ہیں اور کھجوریں ہیں بعضے تو ایسے ہیں کہ ایک تنے سے اوپر جاکردو تنے ہوجاتے ہیں اور بعضے نہیں ہوتے (باوجودیکہ) سب کو ایک پانی دیا جاتا ہے اور ہم بعض (پھلوں) کو بعض پر کھانے میں (لذت میں) فضیلت بخشتے ہیں۔ بیشک ان امور میں (بھی) سمجھ داروں کے لئے دلائل (موجود) ہیں

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اور اگر آپ کو تعجب ہوا تو (واقعی) ان کا یہ کہنا عجیب ہے کہ جب ہم (مر کر) مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم از سر نو پیدا ہوں گے ؟ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے منکر ہوئے اور ایسے ہی لوگوں کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہ لوگ دوزخ کے رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور یہ لوگ آپ سے عافیت (بھلائی) سے پہلے مصیبت (برائی) کا تقاضا (مطالبہ) کرتے ہیں اور یقینا ان سے پہلے عذاب (واقع) ہوچکے اور بیشک آپ کا پروردگار لوگوں کو باوجود ان کی ناانصافیوں کے معاف فرمانے والا ہے اور یقینا آپ کا پروردگار سخت سزا دیتا ہے

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ ان پر (وہ) معجزہ (جو وہ چاہتے ہیں) ان کے رب کی طرف سے کیوں نازل نہیں کیا گیا۔ بیشک آپ (انجام بد سے) ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لئے راہنما ہوا کرتا ہے۔

سورة الرعد : رکوع نمبر 1 : اسرارومعارف : (آیت) ” الم ، تلک ایت الکتب۔ 1 تا 7 ۔ یہ سورة مبارکہ بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے اور سورة یوسف کے آخر کا مضمون یعنی توحید باری کا ثبوت اور نبوت کی حقانیت ہی کے دلائل کا تسلسل ہے کہ ارشاد ہوتا ہے کہ یہ مضامین ایک بےمثال کتاب میں ہیں جو اللہ کا ذاتی کلام ہے اور جو بجائے خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے کہ اس کی نظیر پیش کرنا انسانی بس میں نہیں اور جو کچھ اس میں فرمایا گیا ہے ، انسان کبھی اسے غلط ثابت نہیں کرسکتا اگرچہ اس میں دنیاوی امور کے بارے افزائش کے مسائل اور صورتیں سیاسیات ، اخلاقیات اور معاشیات تک بیان کی گئی ہیں واقعات عالم کے بارے پیشگویاں جو پوری اتری ہیں تو اگر یہ سب کچھ سچ ہے تو الہیات اور آخرت کے بارے اس کے ارشادات کو نہ ماننے کوئی وجہ نہیں یہ تو خود اللہ کا ذاتی کلام ہے ۔ (حدیث رسول ﷺ بھی منزل من اللہ ہوتی ہے) آپ جو کچھ بھی دین کے بارے یا ذات صفات باری کے متعلق یا آخرت اور عذاب وثواب کی بات ارشاد فرماتے ہیں وہ بھی آپ اپنی رائے سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے چیلنج نہیں کرسکتا ، نہ ان میں کبھی کوئی بات غلط ثابت کرسکتا ہے تو اس سے ثابت ہے کہ حدیث رسول ﷺ بھی اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہے اور اس پر ایمان ایسا ہی ضروری ہے جیسا قرآن حکیم پر فرق صرف یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ اور معانی دونوں اللہ کی طرف سے ہیں اس لیے اس کی تلاوت کی جاتی ہے اور حدیث میں معانی اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں مگر الفاظ رسول اللہ ﷺ کے لہذا اس کی تلاوت نماز وغیرہ میں نہیں کی جاتی لہذا آپ ﷺ کے ارشادات بھی منزل من اللہ ہونے کے باعث حق ہیں لیکن لوگوں کی بدنصیبی یہ ہے کہ اس کے باوجود اکثریت انکار کئے بیٹھی ہے اور دولت ایمان سے محروم ہے ۔ اگر اللہ نبی ارسال نہ فرماتا اور کتاب بھی نازل نہ ہوتی تو بھی اس قدر دلائل نظام عالم میں موجود تھے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت پر ایمان لانا انسان کا فریضہ ثابت ہوتا ہے ، اے انسان ذرا دیکھ اس کی قدرت کاملہ کو کہ جس آسمان کو تو دیکھتا ہے اسے اللہ جل جلالہ نے بغیر کسی ستون ، دیوار یا مدد کے تمام سیاروں کے گرد قائم فرما دیا ہے ۔ (فلاسفہ کے اقوال آسمان کے بارے) فلاسفہ کا خیال ہے کہ یہ نیلگوں نظر آنے والا آسمان نہیں بلکہ فضا میں جہاں انسانی نگاہ کام کرنا چھوڑ دیتی ہے وہاں اسے نیلگوں سی روشنی نظر آتی ہے مگر اس بات سے فلاسفہ بھی انکار نہیں کرسکتے کہ شاید اس روشنی میں آسمان کی جھلک بھی موجود ہو اور اس کا رنگ بھی ایسا ہی نظر آتا ہو ، یہاں ارشاد ہے یہ آسمان ہے جیسے تم دیکھتے ہو اور پھر اس نے عرش کو تخت سلطنت اور نظام عالم کے چلانے کا مرکز قرار دے دیا یہ خیال کہ اللہ عرش پر تشریف فرما ہے درست نہیں اس کی ذات حدود سے بالاتر ہے اور اگر عرش پر بیٹھنا مانا جائے تو ایک حد تو مقرر ہوگئی جو ناجائز ہے ہاں اپنی شان کے مطابق وہاں جلوہ فگن ہے کہ تمام نظام عالم کو چلانے کا مرکز عرش کو قرار دے دیا ہے پھر اسی نے سورج چاند یعنی نظام شمسی کو ایک فریضہ ادا کرنے پر پابند کردیا کہ اربوں ، کھربوں سالوں سے ایک خاص رفتار پر ایک خاص راستے پر ایک مقررہ انداز سے چل کر خدمت انجام دے رہے ہیں اور پورا نظام عالم ان سے اثر پذیر ہے ، اگر ان کی رفتار یا روشنی اور قوت کی مقدار میں عدم توازن آجائے ، انسانی زندگی اور نسل تک متاثر ہو مگر ایسا کبھی نہیں ہوتا ۔ (تقدیر اور تدبیر) وہی ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے انسان اگرچہ اسباب کو اختیار کرنے کا مکلف ہے اور ناجائز ذرائع کے مقابل جائز اور حلال ذرائع اختیار کرنا ہی اسے زیب دیتا ہے مگر یہ اسباب وذرائع موثر بالذات نہیں ہوتے بلکہ ان میں اثر پیدا کرنا اور ان سے نتیجہ برآمد کرنا یہ اللہ جل جلالہ کا کام ہے اور ہی نظام عالم کے تمام امور کی تدبیر فرماتا ہے اور بیشمار دلائل نظام عالم میں بھی اس نے نہایت تفصیل کے ساتھ سمو دیئے ہیں کہ ان سب سے سبق حاصل کرکے انسان یہ یقین کرسکے کہ اسے اپنے مالک کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے کہ جب نظام عالم کے ہر کام کا ایک انجام ہے تو حیات انسانی کا باقی یقینا نیک انجام ہوگا اس کی قدرت کاملہ کو دیکھو کے زمین کو بچھا دیا اگرچہ کرہ ہے مگر ہر جگہ سے ہر طرف سے بچھونا بنی ہوئی ہے پھر اس پر بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردیے جو زمین کے توازن قائم رکھنے کی خدمت کے ساتھ اپنی اپنی چوٹیوں پر برف کی صورت میں پانی کا شفاف سمندر لیے کھڑے ہیں اور یوں ان سے دریا ندیاں اور چشمے پھوٹتے ہیں جو زمین سے طرح طرح کی روئیدگی اور بہترین پھلوں کے پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں اور اس نے ہر ہر پھل میں رنگارنگی پیدا کردی ایک ہی شاخ پر لگنے والا پھل کھٹا بھی ہے اور میٹھا بھی نیز پھلوں کی اس قدر اقسام پیدا فرما دیں کہ شمار ناممکن انسانی بس میں نہیں کہ صرف گن ہی لے اور ان میں نرومادہ پیدا فرما دیے کہ نر کے اجزاء مادہ پودے تھا پہنچیں تو پھل دیتا اور ایسا قادر ہے کہ دن کے اجالوں پر رات کی سیاہ چادر ڈال دیتا ہے دن کے باعث الگ نعمتیں تقسیم ہوتی ہیں اور شب کا آنا دوسری طرح کے انعامات بٹنے کا باعث بنتا ہے ان سب امور میں ایسے لوگوں کے لیے جنہوں غور وفکر نصیب ہو بیشمار نشانیاں ہیں ایک ہی قطعہ زمین پر مختلف اور متصل ٹکروں میں الگ الگ قسم کے پھل پھول بہار دے رہے ہیں زمین ایک ہے پانی ایک جیسا دیا جاتا ہے مگر ہر تنکے کے ہاتھ میں الگ قسم کا پھول ہے رنگ الگ بو جدا ذائقہ علیحدہ اور تاثیر اپنی رکھتا ہے یہی حال پھلوں اور اجناس کا ہے کہ ایک ایک کھیت میں ایک ہی پانی سے کس قدر مختلف النواع کھیتاں پیدا فرماتا ہے اور ایک ایک باغ میں کس قدر مختلف النواع پھل کہیں انگوروں کی بہار ہے تو دوسری جگہ کھجور جیسے تناور درخت کھڑے ہیں اور ہر ہر پھل ہر ہر غلے کی تاثیر جدا رکھ دی ہے اگر عقل سلامت ہو تو اللہ جل جلالہ کی عظمت اور قدرت کاملہ کے یہ بہترین گواہ اور اس کی تخلیق کے شاہکار ہیں ۔ یہ سب کچھ دیکھ کر کفار یہ کہنا کہ بھلا جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے ابدان گل سڑ کر مٹی بن جائیں گے تو پھر دوبارہ ہم نئے سرے سے کیسے بنائے جاسکیں گے سب سے عجیب تر یہ ہے کہ ہر آن کائنات میں کس قدر چیزیں فنا ہوتی ہیں اور پھر دوبارہ نئی بن رہی ہیں اس کا شمار ناممکن خود انسانی وجود کی تخلیق میں جو مادہ غذا کے طور پر جسم بنانے کا کام آتا ہے اس کے ذرات دنیا میں دور دراز علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ کہ ان سب کو یکجا کرکے ایک بدن کی تعمیر پر صرف اسی کی قدرت کاملہ سے ممکن ہے تو مرکر تو بدن کے اجزا اس قدر منتشر بھی نہیں ہو سکتے بھلا جس خالق نے پہلے بنایا اس کے لیے دوبارہ بنانا کیسے دشوار ہو سکتا ہے اور اس بات سے انکار کتنا عجیب ہے ، دراصل یہ اپنے بنانے والے اور اپنے پالنے والے پر ایمان ہی نہیں رکھتے اور ان کا یہی کفر ان کے گلے کا طوق بنا ہوا ہے ایسے ہی لوگ دوزخ میں رہیں گے اور کفر ایسی مصیبت ہے کہ کافر کو ہمیشہ دوزخ میں رہنا پڑے گا ۔ ذرا ان کی دانشمندی دیکھیں کہ آپ سے ہدایت حاصل کرنے اور استفادہ کرنے سے پہلے عذاب طلب کرتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ رسول برحق ہیں تو جس عذاب سے آپ ﷺ ڈراتے ہیں وہ ہم پر واقع ہوجائے پھر مانیں گے ، بھلا یہ دانشمندی ہے کہ جب عذاب واقع ہوگا تو تمہیں ماننے کی فرصت ہوگی ؟ اور اس کے نمونے پہلے بہت گزر چکے جن میں تباہ شدہ قوموں کے کھنڈر ابھی تک گواہی دینے کے لیے موجود ہیں کہ نبی سے جھگڑا کرنے پر عذاب آتا ہے اور تباہی ہوجاتی ہے پھر اصلاح کا موقع نہیں ملتا ، اور آپ کا رب کتنا کریم ہے کہ لوگ گناہ اور ظلم کرتے رہتے ہیں اور مسلسل معاف فرماتا اور درگذر کرتا ہی رہتا ہے گناہ اور ظلم پر بھی فوری پکڑ نہیں کرتا لیکن ایک حد سے اگر کوئی اس تک جا پہنچے تو پھر اس کے عذاب بھی بڑے سخت اور اس کی گرفت تباہ کن ہوتی ہے ۔ بیشمار معجزات اور معجزانہ کلام اور آپ ﷺ کے عالی اوصاف سب کچھ انہیں قائل کرنے کو کافی نہیں کہ کہتے ہیں بھلا وہ خاص معجزہ جو ہم مانگتے ہیں وہ ان پر کیوں نہیں نازل ہوتا ، حالانکہ آپ ﷺ کی دعوت اللہ جل جلالہ کی طرف ہے اور آپ ﷺ اسی کا قادر مطلق ہونا منواتے ہیں آپ تو اپنی ذات کے بارے یہ دعوی ہی نہیں رکھتے کہ میں جو چاہوں کروں تو پھر یہ مطالبہ آپ سے کیسے درست ہو سکتا ہے آپ جس بات کا دعوی کرتے ہیں اور جو حق ہے وہ یہ ہے کہ آپ اعمال کے ان نتائج سے جو موت کے بعد پیش آئیں گے جب اصلاح کا وقت نہ ہوگا آج آگاہ فرماتے ہیں جب اصلاح کا وقت ہے ۔ (معجزہ اور کرامات) معجزہ تو اللہ جل جلالہ کا فعل ہے اور جب وہ چاہتا ہے اپنی نبی کے ہاتھ پہ ظاہر فرماتا ہے نیز یہی معجزہ جب نبی کا کامل اتباع کرنے والے ولی کے ہاتھ پر صادر ہوتا ہے تو کرامت کہلاتا ہے یہ اللہ جل جلالہ کا فعل ہوتا ہے اور نبی کی صداقت کی دلیل بنتا ہے اور ہر ہر قوم میں اللہ جل جلالہ نے ہادی پیدا فرمائے کبھی نبی ورسول اور کبھی ان کے متبعین سے ان کا پیغام پہنچانے کا کام لیا یعنی ہر قوم میں ہدایت کے سامان کے طور پر ایسے افراد ضرور پیدا فرمائے ، جو حق کی طرف بلانے والے تھے نبی یا ان کے ماننے والے تو گویا ہر ہر آبادی میں نبی کا پیدا ہونا ضروری نہیں ، ہاں ہر دور میں اور ہر جگہ کسی نہ کسی طور دعوت الی اللہ کے پہنچانے کا اہتمام ہوتا رہا ۔
Ayahs 13:8–18

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

اللہ کی خبر رہتی ہے جو کسی عورت کو حمل رہتا ہے اور جو کچھ (ماں کے) پیٹ کے اندر کمی اور بیشی ہوتی ہے اور ہر شے اس کے نزدیک ایک اندازے سے (مقرر) ہے

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کا جاننے والا ہے سب سے بڑا (اور) عالی شان ہے

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

(اس کے نزدیک) برابر ہے تم میں کوئی بات چھپائے اور (یا) اسے پکار کر کہے (ظاہر کرے) اور جو شخص رات کو کہیں چھپا رہے اور دن (کی روشنی) میں کہیں چلے پھرے

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

اس کے آگے اور پیچھے اس (اللہ) کے چوکیدار (فرشتے) ہیں اور جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ واقعی اللہ کسی قوم کی حالت میں تبدیلی نہیں فرماتے جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب اللہ کسی قوم پر مصیبت کا ارادہ فرمالیتے ہیں تو اس کے ہٹنے کی کوئی صورت نہیں رہتی اور اس (اللہ) کے سوا کوئی ان کا مددگار نہیں ہوتا

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم کو بجلی دکھاتا ہے جس میں ڈر بھی ہوتا ہے اور امید بھی اور بھاری بادل پیدا فرماتا ہے

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور گرجنے والا اس کی پاکی بیان کرتا ہے اس کی تعریف کے ساتھ اور فرشتے (بھی) اس کے خوف سے۔ اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے انہیں گرا (بھی) دیتا ہے اور وہ اللہ کے بارے جھگڑا کرتے ہیں۔ اور وہ بڑی قوت والا ہے

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

اسی کے لئے پکارنا سچا ہے اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی درخواست کو اس سے زیادہ منظور نہیں کرسکتے مگر جیسے کوئی شخص پانی کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دے تاکہ وہ اس کے منہ تک (اڑکر) آجائے اور وہ (از خود) اس (کے منہ) تک آنے والے نہیں اور کافروں کی پکار محض بےکار ہے

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور اللہ کے سامنے ہر کوئی سجدہ کرتا ہے (سر خم کیے ہوئے ہے) جو کوئی آسمانوں میں اور زمین میں ہے خوشی سے مجبوری سے اور ان کے سائے بھی صبح اور شام (سجدہ کرتے ہیں)

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

آپ کہئے آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے ؟ فرما دیجئے اللہ ہے (پھر) آپ (یہ) کہیے کہ کیا تم نے اس کے سوا مددگار قرار دے رکھے ہیں جو خود اپنے نفع ونقصان کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتے فرمائیے کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں ؟ یا اندھیرا اور روشنی برابر ہوسکتے ہیں ؟ یا انہوں نے جو اللہ کے شریک قرار دے رکھے ہیں تو انہوں نے (کسی چیز کو) پیدا کیا جیسے وہ (اللہ) پیدا کرتا ہے پھر ان کو پیدا کرنا ایک سا معلوم ہو ہو ؟ فرمادیجئے کہ اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ یکتا (اور) غالب ہے

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اسی نے آسمان سے پانی (مینہ) برسایا پھر اس سے اپنی مقدار کے مطابق نالے بہہ نکلے پھر وہ سیلاب خس و خاشاک بہا لایا جو اس (پانی) کے اوپر آرہا اور جن چیزوں کو زیور بنانے کے لئے یا سامان بنانے کے لئے آگ کے اندر تپاتے ہیں ان میں بھی ایسا ہی میل (اوپر آجاتا) ہے اس طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان فرماتے ہیں سو جو میل (جھاگ) ہوتا ہے تو وہ ناکارہ سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے اور جو چیز لوگوں کے لئے کار آمد ہوتی ہے پس وہ زمین میں (نفع رسانی کے ساتھ) رہتی ہے اسی طرح اللہ مثالیں بیان فرماتے ہیں

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے پروردگار کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت اچھی ہوگی اور جن لوگوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سارے خزانے ان کے بس میں ہوں اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی تو وہ نجات کے بدلے دینا چاہیں (تو بھی نجات کہاں) ان لوگوں کا سخت حساب ہوگا اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے

رکوع نمبر 2 : اسرارومعارف : اللہ جل جلالہ انسانی ضروریات سے پوری طرح واقف ہے اس کا علم تو اس قدر وسیع ہے کہ نہ صرف دنیا میں بلکہ ماؤں کے پیٹوں میں قرار پکڑنے والے حمل اور اس کی ہر ہر لمحہ کی گھٹنی بڑھتی اور تبدیل ہوتی ہوئی صورت کو جانتا ہے اور آج تک طب اور جدید سائنس نے بھی اپنی پوری قوت صرف کرکے اگر اندازہ لگا بھی لیا کہ حمل سے بچی پیدا ہوگی یا بچہ تو ان کا یہ علم بھی محض ایک اندازہ ہوتا ہے یقینی نہیں ہوتا اور صرف یہ اندازہ کو لینا ہی تو کافی نہیں اس کا رنگ ، قد کاٹھ ، صحت ، عرم اور عملی استعداد یا دنیا میں زندگی کی کن منازل سے گذرے گا ، غرض ہر پیدا ہونے واے انسان کے کوائف کی ایک بہت لمبی فہرست ہے جسے جاننا صرف اللہ کا خاصہ ہے ، علاوہ ازیں استقرار حمل سے لے کر پیدا ہونے تک ہر قطرے اور ہر ذرے میں ہونے والی کمی بیشی کو ہر آن جانتا ہے بلکہ ہر کام اس کے مقرر کردہ اندازے اور ٹائم ٹیبل کے مطابق اس کے حکم سے ہوتا ہے کہ ہر ہر کام کا وقت مقدار اور سب کچھ طریق کار اس نے متعین فرما دیا ہوا ہے ۔ اللہ کا علم محیط ہے اور وہ غیب اور پوشیدہ کو بھی ایسے ہی جانتا ہے جیسے ظاہر کو جانتا ہے اور اس کی شان انسان کی فکر تک سے بلند ہے مگر انسان اس کی بڑائی کا اقرار کرنے کے باوجود پھر اس کے لیے ایسی صفات مان لیتے ہیں جو محض عام انسانی اوصاف ہوتے ہیں جیسے یہود ونصاری نے اس کے لیے اوصاف ماننا شروع کردیتے ہیں جو صرف اللہ جل جلالہ کو سزاوار ہیں تو وہ اتنا عظیم ہے اپنی ذات کے اعتبار سے بھی اور اپنی صفات کے اعتبار سے بھی کہ فکر انسانی کی وہاں تک رسائی ہی نہیں اور بغیر اپنے عجز کے اقرار کے انسان کے پاس کوئی چارہ نہیں ۔ فلہذا کوئی تم میں سے چھپ کر اور نہایت رازداری سے بات کرے یا کھلے بندوں اعلان کرتا پھرے اللہ جل جلالہ ہر حال میں جانتا ہے کوئی راتوں کو چھپ کر چلتا ہے یا کام کرتا ہے یا دن کے اجالے میں قدم اٹھاتا ہے اللہ کے لیے دونوں برابر ہیں اور انہیں ایک طرح سے جانتا ہے نہ صرف وہ خود جانتا ہے بلکہ انسان کے ہر حال میں انسان کی نگہداشت کرنے والے فرشتے تک انسان کے ساتھ ہوتے ہیں جو اس کے آگے پیچھے ہر طرف اس کی حفاظت کرتے ہیں اور اللہ کریم کے حکم سے ہی ان کی ذمہ داری ہے ، نطفے سے سے انسانی بدن کی تعمیر اس کی پیدائش پھر اسے رزق پہنچانا بلکہ اس کے پیٹ میں پہنچانا اس کے وجود کا حصہ بنانا اسی طرح اس کے ہر قول وفعل کو لکھ کر محفوظ کرنا پھر مختلف حادثات سے اس کی حفاظت کرنا جو اس کی اپنی کوتاہیوں کے باعث اسے گھیرے رہتے ہیں ، اور بیماریوں سے اس کی حفاظت کرنا یہ سب ان کی ذمہ داری ہے اور جب وہ ساتھ رہتے ہیں تو انسان کے بارے ذرہ ذرہ بات تو اللہ جل جلالہ کی ایک مخلوق یعنی فرشتہ کے علم میں بھی ہے ، خود اللہ جل جلالہ کا علم تو بہت بلند ہے اور اس کا علم وسیع تر ہے ایسے ہی حوادثات سے حفاظت پر بھی فرشتے متعین ہیں ، لہذا جب کسی کو بیماری میں مبتلا کرنا یا کسی حادثے سے دو چار کرنا مقصود ہوتا ہے جو خود اس کی کسی کوتاہی کا نتیجہ ہو یا اللہ جل جلالہ کی طرف سے اسے کسی امر میں مبتلا کرکے اجر دینا مقصود ہو تو فرشتوں کی حفاظت اس سے ہٹا دی جاتی ہے ۔ ّ (جنات سے نجات کا حیلہ) روایات میں ہے کہ اگر یہ فرشتوں کی حفاظت حاصل نہ ہوتی تو صرف جنات ہی انسان کا جینا دوبھر کردیتے ، لہذا جن لوگوں کو جنات کی طرف سے اذیت ملتی ہے تو گویا ان سے کسی حد تک حفاظت الہیہ ہٹا لی جاتی ہے جس کا سب سے موثر علاج توبہ ہے یعنی دوسرے علاج کے ساتھ ایک بہت موثر حیلہ توبہ ہے ایسے ہی یہ فرشتے شیطان کی دعوت کے مقابلے میں گناہوں سے بچانے کا اہتمام بھی کرتے ہیں اور انسان کے دل میں گناہ سے نفرت اور نیکی سے رغبت کا داعیہ پیدا کرتے رہتے ہیں اور بدکار ان کا ہاتھ جھٹک کر ہی برائی کرتا ہے اللہ ایسا کریم ہے اپنے اس حفاظتی نظام سے کبھی کسی قوم کو یا جماعت کو مجرم نہیں فرماتا جب تک کہ خود انسان اپنے اختیار سے اس کی حفاظت کو جھٹک نہیں دیتا اور اپنے آپ کو اس کی نافرمانی کے راستے پر گامزن نہیں کردیتا ، پھر جب انسان یہی طے کرلیتا ہے تو اللہ جل جلالہ بھی اسے اپنی حفاظت سے محروم فرما کر اسے مصیبتوں کے سپرد فرما دیتے ہیں اور وہ مبتلائے گناہ ہو کر بالآخر اللہ جل جلالہ کے عذٓب میں مبتلا ہوجاتا ہے اور جب اللہ جل جلالہ کسی سے اپنی حفاظت ہٹالیں اور اسے عذاب میں مبتلا کردیں ، تو پھر عذاب الہی کے مقابلے میں اس کا کوئی مددگار بھی نہیں ہوتا نہ کوئی انسان ان کے کام آسکتا ہے اور نہ فرشتے ہی کچھ مدد کر پاتے ہیں ۔ وہ ہی قادرمطلق ہے کہ بادلوں میں پانی کے ساتھ آگ کو یعنی بجلی کو جمع فرما دیا جو چمک چمک کر تمہیں بارش کی امید دلاتی ہے تو ساتھ بجلی گرنے اور تباہی کا خطرہ بھی نظر آتا ہے اور وہ ایسا قادر ہے کہ پانی کا بہت بڑا ذخیرہ بادل میں بھر کر ہوا پر چلا دیتا ہے بجلی کی کڑک بھی اسی کی تسبیح بیان کرتی ہے اور اسی کی عظمت کا اقرار کر رہی ہوتی ہے اور تمام فرشتے بھی اس کی عظمت کے سامنے لرزاں وترساں رہتے ہیں وہ جہاں چاہے بادلوں سے ہر شے کو سیراب کر دے اور جہاں چاہتا ہے بجلی گرا کر تباہ برباد بھی کر دتیا ہے ، یہ سب انسان کی نگاہ کے سامنے ہے اس کے باوجود ان بدنصیبوں کو اس کی عظمت وکبریائی میں شبہ ہے اور اس شان میں جھگڑتے ہیں ، حالانکہ ایسا کرنا بہت بڑی گستاخی ہے اور اس کی گرفت اور عذاب جو گستاخی پہ واقعہ ہوتا ہے بہت سخت ہے ، ضرورت کے وقت یا مدد کے لیے یا عبادات میں پکارنا اللہ جل جلالہ ہی کو سزاوار ہے اور یہی حق ہے کہ کسی کو پکار سننا یا اس کی حاجت پوری کرنا یہ اللہ جل جلالہ ہی کا کام ہے ، جو لوگ اللہ جل جلالہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کو پکارتے ہیں ، دیوی دیوتاؤں کو یا غیبی طاقتوں کو یا فرشتوں اور اللہ جل جلالہ کے بندوں کو تو وہ سخت غلطی کے مرکتب ہوتے ہیں اس لیے کہ اللہ جل جلالہ کے سوا جو کوئی بھی ہے وہ مخلوق ہے اور خود اپنی ذات کے لیے بھی اور اپنی ضروریات کے لیے بھی اللہ جل جلالہ کا محتاج ہے لہذا وہ کسی دوسرے کی پکار پر لبیک نہیں کہہ سکتا اس کی مثال تو ایسے ہے جیسے کوئی دریا کی طرف ہاتھ پھیلا دے اور پکارے کہ میری پیاس بجھا دو تو اور میرے منہ تک اپنا پانی پہنچاؤ تو دریا کبھی ایسا نہ کرسکے گا خواہ وہ پانی سے لبالب بھرا ہو ، اس لیے کہ اس طرح پکار اور دعا پر حاجت روائی کرنا اس کا منصب نہیں وہ خود مخلوق ہے اور اپنی ذمہ داری کی حد تک خدمت پر مامور ہاں اللہ جل جلالہ کے بتائے ہوئے قاعدے ہی سے پیاس بجھائی جاسکتی ہے ایسے ہی کفار کے اعمال اور ان کی عبادات و مناجات سب بیکار جاتے ہیں کہ وہ سب کام اپنی پسند سے کرتے ہیں اللہ جل جلالہ کے ارشاد کردہ دین کی پیروی نہیں کرتے اور جو کچھ اپنی پسند سے یا انسانوں کی تجویز کردہ رسومات کے مطابق کرتے ہیں وہ کبھی شرف قبولیت نہیں پاتا ۔ ہر چیز اللہ جل جلالہ کے سامنے سربسجود ہے اپنی پسند سے اطاعت کرے یا نہ بھی کرنا چاہے تو اس کے پاس اطاعت کے سوا چارہ نہیں ، پیدا ہونے اور مرنے میں قد کاٹھ یا رنگ روپ میں صحت وبیماری میں غرض کہ ہر حال میں اسی کے حکم کے تابع ہیں اور اس قدر مکمل اطاعت کرتے ہیں جیسے سربسجود ہوں سب چیزوں کا سایہ ہی دیکھ لو کہ صبح شام انہیں کے قدموں میں لوٹ کر اس بات پر گواہی دیتا ہے کہ تمہاری کوئی حیثیت نہیں اور ساری عظمت صرف اللہ جل جلالہ کے لیے جو سارے جہانوں کا خالق ومالک ہے ۔ ان سے فرمائیے کہ کون بنانے اور قائم رکھنے والا ہے آسمان کا اور سب زمینوں کا کہ آسمانی مخلوق تو خود آسمان پر قیام کرنے کے لیے اس کی محتاج ہے اور زمینوں کے باسیوں کی پناہ گاہ خود زمینیں ہی ہیں تو لامحالہ یہ ان کو سنبھالنے کی اہلیت تو نہیں رکھتے تو انہیں بتائیے کہ صرف اللہ جل جلالہ ہے جو آسمان اور زمینوں سب کا بنانے والا بھی ہے اور سب کو قائم رکھنے والا بھی پھر اتنی بڑی شان والے مالک کو چھوڑ کر تم مخلوق کا آسرا پکڑتے ہو اور مخلوق سے اپنی حاجت برآری کی تمنا رکھتے ہو حالانکہ مخلوق تو خود اپنے بھلے برے اور نفع نقصان پر بھی اختیار نہیں رکھتی ایسا کرنا تو گویا بالکل اندھا پن ہے اور اندھے کبھی آنکھوں والوں کے برابر نہیں ہو سکتے یا ظلمت کبھی نور کا مقابلہ نہیں کرسکتی کہ معرفت الہی نور ہے اور اس کی عظمت سے بیگانہ پن ظلمت آخر کیوں یہ لوگ اس مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور غیر اللہ کو اپنی امیدوں کا مرکز کیوں بناتے ہیں کیا نہوں نے بھی کچھ تخلیق کیا ہے کوئی مخلوق پیدا کی ہے کہ انہیں دھوکا لگ رہا ہے اور ان سے بھی امید لگائے بیٹھے ہیں ہرگز نہیں بلکہ فرما دیجئے کہ وہ تو خود مخلوق ہیں اور صرف اللہ جل جلالہ ہر شے کا خالق ہے اور وہ اپنی ذات اور اپنی صفات میں یکتا ہے اکیلا ہے اور بہت بڑی قدرت و طاقت کا مالک ہے ،۔ اسی کی قدرت کاملہ سے بارش کا نزول ہوتا ہے اور ندی نالے لبالب بھر کر بہنے لگتے ہیں ان کی روانی میں خس و خاشاک بھی شامل ہوجاتا ہے اور پانی کا جھاگ بھی یا جیسے زیور بنانے کے لیے دھاتوں کو پگھلاتے ہو تو ان پر میل کچیل جھاگ کی صورت میں جم جاتا ہے ، اللہ جل جلالہ حق و باطل کی یہی مثال ارشاد فرماتے ہیں کہ باطل خس و خاشاک اور جھاگ کی مانند ہے جیسے حالات کے طوفان جنم دیتے ہیں مگر بہت جلدی مٹ جاتا ہے اور ختم ہوجاتا ہے لیکن حق اس پانی کی مانند ہے جو سطح زمین پر ٹھہر کر مخلوق کو سیراب کرتا ہے یا زمین کے اندر جذب ہو کر اسے سرسبزی وشادابی عطا کرتا ہے یا جیسے دھات کا جھاگ ختم ہوجاتا ہے اور صاف ستھری دھات باقی رہتی ہے جس سے خوبصورت زیور بنائے جاتے ہیں جو مخلوق کا حسن بڑھاتے ہیں اللہ جل جلالہ اسی طرح مثالوں سے بات کو واضح فرما دیتے ہیں کہ کوئی بھی ذی شعور خس و خاشاک اور جھاگ کو پانی کے مقابل یا جھاگ کو دھات کے عوض پسند نہیں کرتا تو پھر حق کو چھوڑ کر باطل کو اختیار کرنا کہاں کی عقلمندی ہے ۔ ہر طرح کی بہتری صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے پروردگار کی عظمت کا اقرار کرتے ہیں اور اس کا حکم مانتے ہیں جن بدنصیبوں نے اس کی اطاعت سے منہ موڑا اور اس کی ذات یا صفات میں کسی دوسرے کو شریک ٹھہرایا اگرچہ انہیں جو کچھ دنیا میں ہے سب مل جائے ، بلکہ مال اور بھی مل جائے اور انجام کار وہ یہ سب کچھ دے کر جان چھڑانا چاہئیں تو ایسا نہ ہو سکے گا دنیا کا سب مال کسی ایک انسان کو ملنا محال ہے اگر ایسا ہو بھی بلکہ اسے دوگنا کردیا جائے تو بھی اللہ جل جلالہ کی نافرمانی کے بدلے بہت مہنگا سودا ہے اور لوگ دنیا ہی کی طلب میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی کرتے بھی ہیں مگر یوم حساب بہت سخت ہو اور ایسے لوگوں سے بہت شدت سے باز پرس ہوگی جس کے نتیجے میں ان کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا جو بہت ہی برا اور تکلیف دہ ٹھکانہ ہے جہاں کبھی کوئی لمحہ آرام کا سوچا بھی نہیں جاسکتا ۔
Ayahs 13:19–26

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ آپ پر جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے اتارا گیا ہے حق ہے ، وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو اندھا ؟ بیشک نصیحت تو عقل مند لوگ ہی قبول کرتے ہیں

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

جو لوگ اللہ سے کیئے گئے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اقرار کو توڑتے نہیں۔

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور وہ لوگ ایسے ہیں کہ جن (رشتوں) کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے ہیں اور اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور برے حساب سے خوف کھاتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے پروردگار کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے (گناہ سے) صبر کرتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور جو روزی ہم نے ان کو دی ہے اس میں سے پوشیدہ بھی اور ظاہر بھی (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور نیکی سے برائی کو دور کرتے ہیں ان ہی لوگوں کے لئے عاقبت کا گھر ہے

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

o ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن میں یہ داخل ہوں گے اور ان کے ماں باپ اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو نیکوکار ہوں گے (وہ بھی داخل ہوں گے) اور فرشتے ان کے پاس ہر دروازے سے آتے ہوں

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

(اور کہیں گے) سلامتی ہو تم پر یہ تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے سو آخرت کا گھر کیا خوب (گھر) ہے

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کے وعدوں کو پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں اور جن (فرشتوں) کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے ان کو قطع کردیتے ہیں اور زمین میں فساد کرتے ہیں ایسے ہی لوگوں کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے گھر بھی برا ہے

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اللہ جس کا چاہتے ہیں رزق زیادہ کردیتے ہیں اور (جس کا چاہتے ہیں) تنگ کردیتے ہیں اور یہ (کافر) دنیا کی زندگی پہ خوش ہو رہے ہیں اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں بہت تھوڑا سامان ہے

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف مومن جسے یقین کی یہ دولت نصیب ہو کہ آپ ﷺ پر جو کچھ اپنے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا حق ہے اس کی عظمت کو دل کے اندھے یعنی جو اس یقین سے محروم ہیں بھلا کب پا سکتے ہیں اگرچہ یہ بات بہت واضح ہے مگر سمجھنے کے لیے تو عقل ضروری ہے لہذٓ ٰٓسی بات بھی دانا لوگ ہی جان سکتے ہیں اور دانا وہ ہیں جو اپنے اللہ جل جلالہ سے کئے گئے وعدے کا پاس رکھتے ہیں اور اسے نباہتے ہیں جو ازل میں عہد کیا تھا کہ تو ہی ہمارا پروردگار ہے اور پھر کلمہ طیبہ پڑھ کر دوبارہ اس کی عظمت اور نبی ﷺ کی صداقت کا اقرار کرکے اطاعت کا وعدہ کیا پھر نافرمانی کرکے اسے توڑتے نہیں ، تیسرا وصف ان کا یہ ہے کہ جن امور یا رشتوں کو اللہ جل جلالہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں توڑتے نہیں ان میں صلہ رحمی بھی شامل ہے مگر یاد رہے کہ اس کی بھی ایک حد ہے یعنی اللہ جل جلالہ کی نافرمانی پر ساتھ دینا درست نہیں ہاں دنیا کے معاملات میں درگذر کرنا صلہ رحمی ہے کہ آدمی اپنا نقصان بھی برداشت کرلے مگر قطع نہ کرے ، لیکن خلاف شریعت پر تعاون نہ کیا جائے اور جوڑنے سے مراد ایمان کے ساتھ اعمال صالح کو ملانا بھی ہے کہ اللہ جل جلالہ نے انہیں ملانے کا حکم دیا ہے مگر انسان نرے دعوے ایمان پر قناعت کرکے بیٹھ رہتا ہے اور عمل صالح کے لیے کوشش نہیں کرتا ایسا کرنا دانشمندی کے خلاف ہے اور اس سب کے باوجود اللہ جل جلالہ کی محبت اور اس کے قرب کی طلب میں اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ مبادا کوئی غلطی کر بیٹھیں اور اللہ جل جلالہ ناراض ہوجائیں خشیت ایسے ہی ڈر کو کہا جاتا ہے اور حساب کو سختی سے ڈرتے رہتے ہیں کہ کوئی بھی شخص کتنے ہی اعمال کرلے نجات کے لیے اللہ جل جلالہ کی رحمت ہی کا محتاج ہوگا کہ انسان سے کہیں نہ کہیں ایسی غلطی ہوجاتی ہے جو سب اعمال کو بیکار کرنے کے لیے کافی ہو نیز انسان پر اللہ جل جلالہ کے احسانات اس قدر ہیں کہ کبھی بھی غلطی نہ کرے جب بھی ان کا شکر ادا نہیں کر پاتا حتی جب آپ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں جو بھی داخل ہوگا اللہ جل جلالہ کی رحمت سے ہوگا تو عرض کیا گیا آپ ﷺ بھی یا رسول اللہ فرمایا ، بیشک میں بھی اور حساب کے لیے فرمایا کہ حساب یسیر کی دعا مانگا کرو کہ آسان حساب یہ ہے کہ پوچھا نہ جائے کہ تو نے ایسا کیوں کیا حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں ہے کہ جس پر سوال ہوگیا کہ ایسا کیوں کیا تھا وہ ضرور عذاب میں گرفتار ہوگا ، لہذا دانشمندی یہ ہے کہ حساب کا ڈر ہر آن دل میں موجود رہے ۔ اگلا وصف ان کا یہ ہے کہ اپنے رب کی رضا مندی کو پانے کے لیے صبر کرتے ہیں اور یہ بھی عجیب بات ہے کہ آج کا مسلمان اگر چند سجدے کر گزرے تو اس کا خیال یہ ہوتا ہے کہ دنیا کا ہر کام اس کی پسند سے ہونا چاہئے اور کوئی اس کی مرضی کے خلاف واقع نہ ہو ، حالانکہ اسلام اپنی پسند ، آرام اور خواہشات پر صبر کرنے کا نام ہے ، صبر سے مراد خود کو ضبط کرکے رکھنا ہے کہ خواہش ہو ضرورت ہو مگر اللہ کے حکم کے خلاف اسے پورا نہ کرے بلکہ اس پر صبر کرلے اور اللہ جل جلالہ کی اطاعت کو نہ چھوڑے تو یہ دو طرح کا صبر ہوگا ، اطاعت پہ قائم رہنا اور گناہ سے رک جانا ہاں اگر وہ مجبور ہے اور کسی وجہ سے ایسا کر ہی نہیں تو بھی گناہ سے تو بچ گیا مگر یہ غیر اختیاری کام صبر نہ کہلائے گا اس لیے یہ امید رکھنا کہ خطا کا کبھی موقع ہی نہ آئے یا نفس اور شیطان کی طرف سے کوئی داعیہ پیدا نہ ہو صحیح نہیں کہ ایسی حالت میں ہی اپنے کو خطا سے روکنا اور صرف اللہ جل جلالہ کی رضا کے لیے روکنا ہی تو صبر ہے ، دانشمندوں کی اگلی نشانی یہ ہے کہ نماز کو قائم کرتے ہیں ، اس کے دو طریقے ہیں اول اپنی نماز کو اس کی جملہ شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے ادا کرنا ، دوم جہاں تک ممکن ہو قیام صلوۃ کے لیے کوشش کرتے رہنا پھر ان کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اللہ جل جلالہ نے جو کمالات یا علم دولت انہیں بخشی ہے اسے اللہ جل جلالہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں ، یعنی جو قوت انہیں حاصل ہے اس سے اللہ جل جلالہ کی عظمت ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور اپنی طاقتوں کو ذاتی اغراض کی تکمیل کا سبب نہیں بناتے یہ ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ انسان اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اختیار کرے نیز موقع کی مناسبت سے پوشیدہ کوشش بھی کرتے ہیں اور ظاہر بھی یعنی جہاں جیسا موقع ہو اور جیسا کرنے سے دینی فائدہ کی زیادہ امید ہو یا صدقہ فرض ظاہر کرکے ادا کرنا اور نفلی کو خفیہ مگر وسیع تر مراد یہی ہے کہ اپنی قوتوں کے صرف سے ذاتی شہرت یا فائدے کے بجائے دین کی عظمت مقصود ہو اور موقع کے مناسب کام کیا جائے ۔ نیز وہ برائی کے مقابلے میں برائی نہیں کرتے بلکہ نیکی سے برائی کا دفعیہ کرتے ہیں کہ برائی کے مقابلے میں برائی سے تو بدی اور بڑھتی ہے ظلم زیادہ ہوتا ہے مگر اللہ جل جلالہ کے بندے بدی کے مقابل نیکی پھیلاتے ہیں اس سے یہ مراد نہ لی جائے کہ قاتلوں ، ڈاکوؤں اور چوروں کو معاف کردینا برائی کے مقابلے میں نیکی ہے یہ تو بہت بڑی برائی ہے ہاں نیکی یہ ہے کہ مجرم سے تو قصاص لیا جائے مگر اس کے بدلے دشمنی نہ پالی جائے اور اس کے لواحقین سے بہتر سلوک کیا جائے ، نیز عام معاشرے کی روش کو نہیں اپناتے جیسا کہ عام انسانی مزاج ہے بلکہ سب معاشرے بھی کسی برائی پر متفق ہوجائے تو بھی اللہ کے بندے یا صاحب خرد لوگ نیکی ہی کو اپنا شعار بناتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے آخرت کا گھر ہے ۔ ّ (اللہ کے بندوں اور نیک لوگوں سے تعلق کا اثر) جنت عدن جس میں ان کے سبب ان کے متعلقین بھی داخل ہوں گے اگر وہ بھی دنیا سے ایمان کے ساتھ گئے ہوں اگرچہ ان کے اپنے اعمال جنت کے اس درجہ کو پانے کے قابل نہ بھی ہوں تو بھی ان کی بیویاں ، ان کے والدین اور ان کی اولاد صرف ان کی وجہ سے وہاں داخل ہوگی ، ایسے ہی ان کے دوست یا متعلقین اور ان سب کے لیے صرف ایمان شرط ہے کہ کفر پہ مرنے والا سارے رشتوں سے محروم ہوجاتا ہے اور مومن وکافر ہیں کوئی رشتہ نہیں رہتا صاحب تفسیر مظہری نے بیان فرمایا ہے کہ یہ آیت ازواج مطہرات اور خاندان نبی علی صا حبھا لصلوۃ والسلام کے بارے اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سب لوگ نبی اکرم ﷺ کے طفیل اعلی درجات پر اور آپ ﷺ کے ہمراہ ہوں گے ، خصوصا ازواج مطہرات کا ٹھکانہ آپ ﷺ ہی کا دولت کدہ ہوگا اور یہی نسبت نیچے تک چلے گی کہ رشتہ ایمان ہی نسبی رشتے کی بقا کا سبب بھی ہے کافر اس سے محروم رہے گا نیز اللہ جل جلالہ اپنے بندوں کو خوش کرنے کے لیے ان کے متعلق کو خواہ نسبی ہوں یا جہری یا دوستی کا رشتہ ہو بشرط ایمان ان کے ساتھ جگہ عطا فرمائے گا اور ہر ہر دروازے سے فرشتے داخل ہو کر انہیں مبارکباد اور ابدی سلامتی کا پیغام دیں گے اور کہیں کہ تم نے اللہ کی اطاعت پر صبر کیا تکالیف برداشت کرلیں مگر اطاعت الہی کو ہاتھ سے نہ دیا تو اس کا کتنا بہترین بدلہ پا رہے ہو اور یہ آخرت کا گھر کتنا عجیب ہے کہ اس کے حسن کا جواب نہیں ، نعمتوں کا کوئی حساب نہیں کسی دکھ کا نام نہیں اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والا ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آخرت کی کامیابی اور درجات عالیہ کے لیے انسان کو دنیا میں صبر اختیار کرنا چاہئے ، اللہ کی اطاعت کے ساتھ بندوں کے حقوق کا پورا پورا لحاظ ضروری ہے جس پر صبر سب سے مشکل کام ہے ہاں اللہ ہی توفیق دینے والا ہے ۔ جو لو گ اللہ کے عہد کے پرواہ نہیں کرتے اس کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں یعنی اپنی امیدیں غیر اللہ سے وابستہ کرلیتے ہیں ، اور عہد شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں وہ پھر اللہ کے بندوں کے حقوق کی پرواہ بھی نہیں کرتے اور جن رشتوں کو جوڑنے کا حکم ہے ایسے لوگ انہیں توڑنے کا سبب بنتے ہیں اور اس طرح زمین پر فساد بپا کرتے ہیں تو اس عارضی فرصت کے بعد جب ہمیشہ کے گھر میں یعنی آخرت میں پہنچتے ہیں اور انہیں اللہ جل جلالہ کی رحمت سے محرومی یعنی لعنت سے واسطہ پڑتا ہے اور بہت ہی بری اور تکلیف دہ جگہ ٹھکانہ ملتا ہے اور یوں تباہی اور ہمیشہ کے دکھ میں مبتلا ہوتے ہیں انہوں نے دنیا میں اللہ جل جلالہ کی نافرمانی کرکے دنیا کمانے کی ٹھانی تھی ، حالانکہ یہ بھی ان کی بھول تھی رزق تو خود اللہ جل جلالہ کی طرف سے ہوتا ہے جسے چاہے زیادہ عطا کر دے اور جس پر چاہے تنگی وارد کر دے اس میں انسان کا اختیار صرف اتنا ہے کہ وہ حصول رزق میں اللہ جل جلالہ کی اطاعت کی راہ اختیار کرتا ہے یا نافرمانی کرتا ہے ان بدنصیبوں کو دنیا میں چند روز کیا مل گئے کہ اسی پر ناز کرنے لگے ، حالانکہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔
Ayahs 13:27–31

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں ان پر (ہمارے فرمائشی معجزوں میں سے) کوئی معجزہ ان کے پروردگار کی طرف سے کیوں نازل نہیں کیا گیا آپ فرمادیجئے کہ بیشک اللہ جس کو چاہتے ہیں گمراہ کردیتے ہیں اور جو ان کی طرف رجوع کرتا (متوجہ ہوتا) ہے اس کو اپنی طرف راستہ دکھادیتے ہیں

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

(مراد وہ لوگ ہیں) جو لوگ ایمان لائے اور اللہ کے ذکر سے ان کے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے۔ یاد رکھو ! اللہ کے ذکر سے ہی دل اطمینان پاتے ہیں

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے ، ان کے لئے خوش حالی ہے اور نیک انجام ہے

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے آپ کو ایک ایسی امت میں (پیغمبر بنا کر) بھیجا ہے یقینا جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں تاکہ آپ ان کو وہ (کتاب) پڑھ کر سنائیں جو ہم نے آپ پر وحی کے ذریعے بھیجی ہے اور یہ لوگ بڑے رحمت والے (اللہ) کو نہیں مانتے۔ فرمادیجئے کہ وہ میرا پروردگار ہے اس کے علاوہ کوئی عبادت کا مستحق نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر قرآن ایسا ہوتا کہ اس (کی تاثیر) پہاڑ چل پڑتے یا اس سے زمین پھٹ جاتی یا اس کے ساتھ (ذریہ) مُردوں سے باتیں کرادی جاتیں (تو بھی یہ نہ مانتے) بلکہ سب باتیں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں تو کیا ایمان والوں کو تسلی نہیں ہوئی کہ اگر اللہ چاہتے تو تمام لوگوں کو ضرور ہدایت فرمادیتے اور کافر تو ہمیشہ ایسے حال میں رہتے ہیں کہ ان کے اعمال (بد) کی وجہ سے ان پر مصیبت آتی رہتی ہے یا ان کی بستی کے قریب نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آجائے گا یقینا اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتے

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف پ 13 ع 10 ” ویقول الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 27 تا 31۔ کفار کا یہ کہنا کہ جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں وہ ان سے کیوں صادر نہیں ہوتا اور ان کا پروردگار ایسی نشانی ان پر نازل کیوں نہیں فرماتا حالانکہ آپ کی پوری حیات مبارکہ بہت بڑا معجزہ ہے ، قرآن حکیم بہت بڑا معجزہ ہے اور اس کے علاوہ اس قدر معجزات کا ظہور ہوا کہ انسانی شمار سے باہر ہیں ، ان سب کو یہ کوئی اہمیت نہیں دے رہے تو جس بات کا یہ مطالبہ کرتے ہیں اس کے پورا ہونے پر کب ایمان لائیں گے ، ان کا ایمان نہ لانا کسی معجزے کا محتاج نہیں بلکہ ان کے گناہوں کے سبب اللہ جل جلالہ نے ان پر ہدایت کا دروازہ بند کردیا ہے اور ہمیشہ کی گمراہی ان کا مقدر ہے کہ اللہ جل جلالہ ہدایت اسی کو عطا فرماتے ہیں جس کے دل میں انابت یعنی طلب پیدا ہوجائے جو ہدایت اور صداقت کو اپنانے کی آرزو تو کرے ورنہ تو زبردستی ہوگی پھر حساب کیسا ہاں انسان کائنات کو دیکھ اللہ جل جلالہ کے بندوں کو دیکھ کر ان کی دعوت سن کر از خود کم از کم یہ فیصلہ تو کرے کہ مجھے حق کو اختیار کرنا چاہئے تو اس کی تمنا پر اللہ جل جلالہ ہدایت کے اسباب مہیا فرما دیتے ہیں عقل و شعور اور قلب ونظر کی راہیں واہو جاتی ہے ۔ (قلب کا اطمینان کیا ہے) جیسے مومنین کو دیکھ لیجئے کہ پہلے اسی معاشرے کا حصہ تھے مگر ان کے دلوں کا قرار اللہ جل جلالہ کی یاد میں ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ دل اللہ جل جلالہ کی یاد ہی سے قرار پاتے ہیں مفسرین کرام کے مطابق ذکر اللہ سے مراد قرآن حکیم بھی ہے جسے کافر اور منکرین کوئی اہمیت دینے کو تیار نہ تھے بلکہ اپنے تجویز کردہ معجزات کے طالب تھے جن کا تذکرہ آگے آرہا ہے مگر دیاد رہے کہ نزول قرآن کو تو مسلسل تئیس برس لگے مگر اعلان نبوت کے ساتھ ہی اطمینان قلب اور ذکر اللہ کی دولت تقسیم ہونے لگ گئی بعثت عالی کے روز جسے ایمان نصیب ہوا جیسے حضرت خدیجۃ الکبری ؓ تو وہ شرف صحابیت سے مشرف ہوا اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کا وصف قرآن حکیم میں بیان ہوا ہے کہ (آیت) ” ثم تلین جلودھم وقلوبھم الی ذکر اللہ “۔ کہ پھر کھال سے لے کر ان کے نہاں خانہ دل تک ذکر اللہ سے روشن ہوجاتے ہیں اور یہاں بھی صرف ایمان کو بنیاد قرار دے کر اس نعمت کا بیان ہے اور ایمان درحقیقت رسول اللہ ﷺ کی معرفت کا نام ہے جو آپ ﷺ پر اعتبار ویقین کی دولت عطا کرے تو یہ نسبت فیضان وبرکات نبوت کے حصول کا سبب بنتی ہے اور برکات نبوت شرف صحابیت عطا کرتی ہیں اور یوں نہ صرف دل بلکہ سارا وجود ذاکر ہوجاتا ہے اور دل کو اطمینان نصیب ہوتا جو اللہ جل جلالہ کی واحد ذات پر اعتماد کا نام ہے کہ دل فرد کی ذاتی ضروریات و خواہشات کے لیے بیقرار رہتا ہے کبھی کسی سبب کے پیچھے لپکتا ہے تو کبھی کسی دروازے پہ جبہ سائی کرتا ہے ، مگر جب اسے اللہ جل جلالہ کی معرفت نصیب ہوتی ہے تو اسی ایک ذات کو اور اس کی تجلیات کو خود میں بسا لیتا ہے ، پھر کسی دوسرے دروازے کی حاجت نہیں رہتی اسی کو دل کا اطمینان کہا جاتا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین نے آپ ﷺ سے براہ راست حاصل کیا ، تابعین نے ان سے اور بعد والوں نے ان سے ان برکات کو پانا ہی صحبت شیخ کا حاصل اور اسی کا نام توجہ ہے اور اسی پر سلاسل تصوف کی بنیاد استوار ہے یاد رہے جنہیں یہ توجہ نصیب نہ ہوئی اور محض ایمان کی دولت ملی قرآن بھی پڑھا کئے عبادات ومجاہدات بھی کئے اطمینان پایا بھی مگر اس درجے کا نہ پا سکے جو حاملین صحبت کو نصیب ہوا۔ اس اطمینان کا پھل پھر ایمان ویقین کامل ہے کہ وہی اس کا تخم بھی ہے اور پھل بھی اسی سے ذکر الہی نصیب ہوتا ہے اور ذکر کرنے سے ایمان میں کمال حاصل ہوتا ہے جس کا اثر اعمال پر پڑتا ہے تو انہیں اتباع سنت کے سانچے میں ڈھال کر عمل صالح بنا دیتا ہے ارشاد ہوتا ہے مبارک ہیں ایسے لوگ اور مبارک ہے ایسے لوگوں کے لیے اور بہترین انجام اور شاندار دائمی ٹھکانہ ان کے لیے ہے ۔ کہ نہ آپ ﷺ کی بعثت کوئی نئی بات نہیں کہ نہ ماننے والوں کو بہت عجیب لگی ہو بلکہ آپ ﷺ سے پہلے بہت سے انبیاء مختلف امتوں میں مبعوث ہوتے رہے جن کے حالات سے یہ لوگ بھی آگاہ ہیں ایسے ہی آپ ﷺ کو اس امت میں مبعوث فرما دیا ۔ (وحی سننا بھی صرف نبی کا منصب ہے اور اس کا معنی بیان کرنا بھی فریضہ نبوت ہے) اللہ جل جلالہ کی طرف سے جو کلام بذریعہ وحی آپ ﷺ پر نازل ہوتا ہے وہ ان تک پہنچائیں بھی اور ان کو اس کا معنی ومفہوم سمجھائیں بھی کہ بغیر معنی بتائے محض کتاب پڑھنا تو وہ مقصد پورا نہیں کرتا جو نزول کتاب کا ہے ، لہذا معنی وہی معتبر ہوگا جو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین نے سمجھا اس پر عمل کر کے آپ ﷺ سے اپنے عمل کی تصدیق حاصل کی اور یہ اللہ جل جلالہ کا بہت بڑا احسان تھا یوں بھی وہ بہت بڑا رحم کرنے والا ہے اور اس کے انعامات شمار وقطار سے باہر ہیں پھر آپ ﷺ کا مبعوث فرمانا اپنا ذاتی کلام نازل کرنا اور اس کی طرف دعوت عام یہ صرف اسی کی رحمت کی وسعت کو سزا وار ہے مگر یہ بدبخت اتنے بڑے رحم کرنے والے پر ایمان لانے کو تیار نہیں ہوتے الٹا کفر کرتے ہیں تو انہیں کہہ دیجئے کہ تم یا تمہارا کفر مجھے کوئی گزند نہیں پہنچا سکتے اس لیے کہ یہی عظیم ہستی میری نگہبان ہے میرا پروردگار ہے اور میری ساری حاجات پوری کرنا اسی کا کام ہے وہ جو اکیلا عبادت کے لائق ہے اور جس کے علاوہ کوئی بھی عبادت کا مستحق نہیں میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں کہ بالاخر اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے لہذا میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ مشرکین کا یہ مطالبہ کہ اگر قرآن حکیم اللہ کا کلام ہے اور آپ ﷺ برحق رسول تو ذرا ان پہاڑوں کو مکہ سے پرے دھکیل دیں کہ جگہ کھلی ہوجائے یا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرح ہوا پر چل کر تھوڑے وقت میں بہت فاصلہ طے ہو کہ ہم دور دراز تجارت کرسکیں یا عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح مردوں کو زندہ کریں اور قصی بن کلاب کو اٹھائیں کہ ہم ان سے پوچھیں تو ارشاد ہوا کہ اگر قرآن حکیم سے یہ سب ہو بھی جائے پہاڑ ٹل جائیں یا فاصلے سمٹ جائیں یا مردے زندہ ہوجائیں تب کیا یہ مان لیں گے ہرگز نہیں کہ ماننے نہ ماننے کا مدار تو اللہ جل جلالہ کے حکم پر ہے کہ سب کام اسی کے حکم کے تابع ہیں اور اس نے انسان کو شعور عطا فرما کر اور دنیا کو اس کے گرد سجا دیا ہے اور ہدایت کی شرط وہ تمنا اور وہ تڑپ قرار دی ہے جو اس کی بارگاہ کے علاوہ انسان کے دست طلب کو کہیں رکنے نہ دے جب ان میں وہ طلب ہی نہیں تو یہ عجائبات انہیں نور ایمان کیسے عطا کردیں گے ، صاحب مظہری لکھتے ہیں کہ پہاڑوں کے ٹلنے سے بڑا معجزہ تو چاند کا شق ہونا تھا یا مردہ کے کلام کرنے سے بڑا معجزہ کنکریوں کا کلام کرنا تھا پھر کیوں ایمان نہ لائے کیونکہ اسباب کبھی موثر حقیقی نہیں ہوتے اختیار تو اللہ جل جلالہ کے پاس ہے ان کی اس بےجا ضد کو دیکھ کر بھی مسلمانوں کو ان سے خیر کی امید کیوں ہے کہ چاہتے ہیں یہ معجزات ظاہر ہوں تو شاید سارا مکہ مسلمان ہوجائے ہاں ! اللہ قادر ہے جو چاہے کرسکتا ہے اور اس نے زبردستی ہدایت نہ دینے کا فیصلہ فرمایا ہے لہذا ان کی اصلاح سے امیدیں نہ جوڑیں بلکہ کفر کے سبب ان پر کیا عذاب آتے ہیں وہ دیکھیں کہ کبھی ان پر کوئی وبا پڑتی ہے تو کبھی جنگ میں ہلاک اور تباہ ہوتے ہیں ، کبھی کسی قریبی بستی پہ مصیبت ٹوٹتی ہے جس سے ان پر خوف طاری ہوجاتا ہے یونہی لرزاں وترساں رہیں گے کہ اللہ جل جلالہ کا وعدہ پورا ہوگا یعنی مکہ مکرمہ فتح ہو کر اسلام کا قلعہ بن جائے گا جس کا اللہ جل جلالہ نے اپنے نبی سے وعدہ فرمایا ہے اور اللہ جل جلالہ کبھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا نہ ایفائے عہد کے لیے وہ کسی کا محتاج ہے کہ یہ ایمان ہی لائیں تو وعدہ پورا کرسکے گا ۔
Ayahs 13:32–37

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور بیشک بہت سے پیغمبروں سے جو آپ سے پہلے ہوئے ، تمسخر ہوتے رہے ہیں۔ پس ہم نے کافروں کو مہلت دی پھر ان کو پکڑ لیا سو (دیکھ لیں) ہمارا عذاب کیسا تھا

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

تو بھلا جو ہستی ہر شخص کے اعمال کی (ہروقت) نگہبان (باخبر) ہو اور (جو) ان لوگوں نے اللہ کے شریک مقرر کر رکھے ہیں (جن کو کوئی خبر نہیں ، برابر ہوسکتے ہیں ؟ ) فرمائیے کہ ذرا ان کے نام تو لو۔ یا تم اس (اللہ) کو ایسی بات کی خبر دیتے ہو جس کو وہ زمین میں (کہیں بھی) نہیں جانتا یا محض ظاہری (جھوٹی) بات کرتے ہو۔ بلکہ کافروں کو ان کے فریب خوبصورت لگتے ہیں اور (اسی وجہ سے) وہ (ہدایت کے) راستے سے روک دیئے گئے ہیں اور جس کو اللہ گمراہی میں رکھے سو اس کو کوئی ہدایت پر لانے والا نہیں

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے اور ان کو اللہ (کے عذاب) سے کوئی بچانے والا بھی نہیں

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

جس جنت کا پرہیز گاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف یہ ہیں کہ اس کے تابع نہریں بہہ رہی ہیں اور اس کا پھل ہمیشہ رہنے والا ہے اور اس کا سایہ بھی۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو پرہیزگار ہیں اور کافروں کا انجام آگ (دوزخ) ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ اس (کتاب) سے خوش ہوتے ہیں جو آپ پر نازل فرمائی گئی ہے اور بعض لوگ (فرقے) ایسے ہیں کہ اس کی کچھ باتوں کا انکار کرتے ہیں۔ فرمادیجئے کہ بیشک مجھے یہی حکم ہوا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤں میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹ کر جانا ہے

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے (قرآن) کو نازل فرمایا یہ ایک فرمان ہے عربی زبان میں اور اگر آپ (بفرض محال) ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگیں اس کے بعد کہ آپ کے پاس (صحیح) علم پہنچ چکا تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی آپ کا مددگار ہوگا اور نہ بچانے والا

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف کفر اور معصیت کا اثر دل کو ویران کردیتا ہے اور انسان نبی اور رسول کی عظمت کو پانے سے محروم ہوجاتا ہے ، چناچہ انبیاء کی تعلیمات کا مذاق اڑاتا ہے جو اس کے فہم سے بالاتر ہوتی ہیں کہ اس نے کفر پر ضد اور اصرار کرکے اپنی فراست تباہ کرلی ہوتی ہے اور یہ آپ سے پہلے آنے والے انبیاء ورسل سے بھی ہوتا رہا ۔ اللہ جل جلالہ نے ان کفار کو بھی مہلت دی فورا گرفت نہ فرمائی ، انہوں نے دعوت حق کو سنا مگر مذاق ہی اڑاتے رہے حتی کہ اپنے انجام کو پہنچے مہلت ختم ہوگئی اور اللہ جل جلالہ کے عذاب کی لپیٹ میں آگئے اور ایسے آئے کہ پھر ان کی سزا مثال بن گئی ، اگرچہ تعلیمات رسالت کا مذاق اڑانا بہت بڑی حماقت ہے مگر یہ لوگ تو اس سے بڑی حماقت میں گرفتار ہیں کہ اللہ جل جلالہ کی اس عظیم ذات کے ساتھ جو ہر شخص کے ہر عمل سے ہر آن آگاہ ہے پتھر کی بےجان اور بےحس مورتیوں اور بتوں کو شریک ٹھہراتے ہیں ذرا ان سے کہیئے کسی ایسی ہستی کا نام تو لو جو ذات میں یا صفات میں اس کی برابری کرسکتی ہو ایسی سرے سے کوئی ہستی ہے ہی نہیں یا تمہارا کیا خیال ہے کہ معاذ اللہ اللہ جل جلالہ کا علم ناقص ہے اور وہ نہیں جانتا بلکہ تم اس ذات علیم و خیبر کو بتانا چاہتے ہو یہ کس قدر حماقت اور کتنی بودی بات ہے تو ان کے ایسے اعمال کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ سے طلب تک کا رشتہ توڑ کر یہ شیطان کی راہ پر چل نکلے ہیں اور وہ انہیں ان کی ہر برائی اور حماقت خوب سجا کر دکھاتا ہے حتی کہ ان کے فریب اور نہ صرف گمراہ ہونا بلکہ دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوششیں انہیں بھلی لگتی ہیں سچ یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ سے جس کا رشتہ طلب تک ٹوٹ جائے اور اللہ جل جلالہ کی طرف سے اس کے سبب اسے ہدایت نہ ملے تو ایسے لوگوں کو کوئی دوسرا ہدایت نہیں دے سکتا ۔ تعلیمات نبوت کا مذاق اڑانے والے لوگوں کی دنیا کی زندگی بھی عذاب الہی بن جاتی ہے اور کبھی کوئی لمحہ چین کا انہیں نصیب نہیں ہوتا اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی شدید اور سخت ہے اور یہ قانون قدرت ہے لہذا اس سے بھاگ نہیں سکتے نہ کوئی انہیں اللہ جل جلالہ کی گرفت سے بچا سکتا ہے ۔ (دنیا کا سکون) لہذا ثابت ہے کہ دار دنیا کا سکون بھی اتباع رسالت ﷺ میں مضمر ہے اور کتنے سادہ ہیں وہ لوگ جو اتباع سنت تو اختیار نہیں کرتے مگر مختلف دروازوں پہ سکون کی خاطر دھکے کھاتے رہتے ہیں ، اور جن لوگوں کو یہ نعمت یعنی اتباع رسالت ﷺ جسے تقوی کا عظیم نام دیا گیا ہے نصیب ہوتی ہے ان کا گھر تو جنت ہے جس کے نیچے سدا نہریں جاری ہیں جس کے پھل ابدی اور سائے ہمیشہ کے لیے ہیں یہی جنت ان کی دنیا کی زندگی میں بھی رس گھولتی رہتی ہے اور انہیں سکون و اطمینان کی لازوال دولت نصیب ہوتی ہے اور دنیا سے جانے کے بعد تو یہی نیک بندوں کا مسکن ہے اور کفار کا ٹھکانہ جہنم ہے جس کی چنگاریاں ان کی دنیا کی زندگی کو بھی زخم زخم کرتی رہتی ہیں آپ ﷺ سے پہلے جو اہل کتاب تھے اور واقعی کتاب پہ ایمان تھا انہیں تو آپ ﷺ کی تعلیمات سے از حد مسرت ہوئی اور فورا ایمان لے آئے مگر بعض فرقے ان میں بھی ایسے نکلے جن کو بعض امور پر ایمان لانے میں تردد ہے کہ ان کی کتاب کے مطابق نہیں تو فرما دیجئے کہ اصول میں تو اختلاف نہیں جیسے توحید کہ مجھے بھی یہی حکم ہے کہ اللہ جل جلالہ کی عبادت کروں جس کا کوئی شریک نہیں ، دوسرا رکن رسالت ہے جس کے لیے مجھے بھی دعوت الی اللہ ہی کا حکم ہے اور میں وہی کچھ کر رہا ہوں جو پہلے نبی کرتے تھے تیسرا رکن معاد اور آخرت ہے جس میں میرا ایمان بھی وہی ہے ، دعوت بھی وہی کہ سب کو لوٹ کر اس کی بارگاہ میں جانا ہے جہاں جواب دینا ہوگا تو مذاہب حقہ میں اصول تو ایک ہی ہیں ، فروعات ہر زمانے اور ہر امت کی رعایت اور ضرورت کے مطابق ہیں جیسے تمہاری کتب دوسری زبانوں میں تھیں مگر یہ کتاب عربی زبان میں ہے تو اسے اختلاف کی بنیاد بنانا درست نہیں ہاں یہ حق ہے کہ آپ کے پاس تو علوم حقہ ہیں اللہ جل جلالہ کی وحی ہے لہذا انہیں آپ ﷺ کا اتباع کرنا چاہئے ۔ (رواداری) یہ درست نہیں کہ آپ وحی الہی کو چھوڑ کر انکی باتوں پہ کان دھریں اگر ایسا ہو جو کہ ناممکن ہے تو پھر آپ کو کوئی بھی اللہ جل جلالہ کی گرفت سے بچانے والا نہ مل سکے گا نہ کوئی حمایتی یہ حکم جب آپ ﷺ کے لیے ہے تو واضح ہوگیا کہ کفر کے ساتھ سمجھوتہ دین پر یعنی اسلام کے مقابل ان کی بعض باتیں قبول کرکے اسے رواداری کہنا سراسر ظلم ہے اور حق وہی ہے جس کی دعوت اسلام دیتا ہے اس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ۔