13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 13:1

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

المر (اے محمد ﷺ یہ کتاب (الہٰی) کی آیتیں ہیں۔ اور جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

(1) یعنی جو کچھ تم کرتے اور کہتے ہو اللہ تعالیٰ ان سب باتوں کو خوب جانتا اور دیکھتا ہے، یا یہ کہ یہ ایک قسم ہے۔ یہ سورت (رعد) قرآن کریم کی آیات ہیں اور قرآن کریم جو حکم دیتا ہے یہ آپ کے پروردگار کی طرف سے بالکل سچ ہے لیکن اکثر اہل مکہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 13:2

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

خدا وہی تو ہے جس نے ستونوں کے بغیر آسمان جیسا کہ تم دیکھتے ہو (اتنے) اونچے بنائے۔ پھر عرش پر جا ٹھہرا اور سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا۔ ہر ایک ایک میعاد معین تک گردش کر رہا ہے۔ وہی (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتا ہے۔ (اس طرح) وہ (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ تم اپنے پروردگار کے روبرو جانے کا یقین کرو۔

(2) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو پیدا کیا اور بغیر ستون کے ان کو زمین پر کھڑا کردیا، تم ان آسمانوں کو اسی طرح دیکھ رہے ہو یہ ایسے ستون ہیں جن کو تم نہیں دیکھ رہے اور آسمانوں کے اونچا کرنے سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ عرش پر تھا اور پھر عرش پر متمکن ہوا یعنی علم وقدرت کے اعتبار سے قریب وبعید سب اس کے نزدیک برابر ہیں اور چاند وسورج کی روشنی کو انسانوں کے لیے مسخر کردیا ہر ایک اپنے مدار پر ایک وقت مقررہ میں چلتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بندے کے تمام کاموں کی نگرانی کرتے ہیں وہی تنزیل مصیبت کو بذریعہ فرشتوں کے نازل فرماتا ہے یہ قرآن پاک اوامرو نواہی کو صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ تم مرنے کے بعد کی تصدیق کرو،
Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا پیدا کئے۔ اور ہر طرح کے میووں کی دو دو قسمیں بنائیں۔ وہی رات کو دن لباس پہناتا ہے غور کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

(3) اور اس نے زمین کو پانی پر پھیلایا اور زمین میں بڑے قائم رہنے والے پہاڑ کو جو کہ زمین کے لیے میخیں ہیں پیدا کیے اور نہریں جاری کیں اور اس میں ہر ایک قسم کے پھلوں سے دو دو قسم کے پھل مثلا کھٹے، میٹھے، سفید سرخ پیدا کیے وہ دن کی روشنی سے رات کو رات کی تاریکی سے دن کی روشنی کو چھپا دیتا ہے یا یہ کہ وہ رات کو لے جاتا ہے دن کو لاتا ہے اور دن کو لے جاتا ہے اور رات کو لے آتا ہے۔ ان مور مذکورہ میں نشانیاں اور دلائل ہیں تاکہ ان میں غور کریں۔
Ayah 13:4

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور انگور کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت۔ بعض کی بہت سی شاخیں ہوتی ہیں اور بعض کی اتنی نہیں ہوتیں (باوجودیہ کہ) پانی سب کو ایک ہی ملتا ہے اور ہم بعض میووں کو بعض پر لذت میں فضیلت دیتے ہیں۔ اس میں سمجھنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

(4) اور زمین میں پاس پاس مختلف قطعے ہیں کہ کھاری اور خراب زمین کا حصہ ہے اور اسی کے ساتھ صاف شیریں اور ٹھنڈی زمین کا حصہ ہے کہ یہ حصے ایک دوسرے سے ملحق ہیں اور انگوروں کے باغ ہیں اور مختلف کھیتیاں ہیں اور کھجور کے درخت ہیں کہ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ نیچے سے ایک ہی جڑ ہے اور اوپر جا کر دس اور اس سے زیادہ اور کم جڑیں ہوجاتی ہیں اور بعض میں جڑیں جدا جدا نہیں ہوتیں بلکہ ایک ہی جڑ رہتی ہے، سب کو بارش یا نہر ہی کا پانی دیا جاتا ہے، اس کے باوجود ہم ایک کو دوسرے پر وزن اور لذت میں فوقیت دیتے ہیں اور ان مزوں اور رنگوں کے اختلافات ہیں ان حضرات کے لیے دلائل ہیں جو ان تمام چیزوں کی منجانب اللہ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 13:5

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اگر تم عجیب بات سننی چاہو تو کافروں کا یہ کہنا عجیب ہے کہ جب ہم (مر کر) مٹی ہوجائیں گے تو کیا از سر نو پیدا ہونگے ؟ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے منکر ہوئے ہیں۔ اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہونگے۔ اور یہی اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے۔

(5) اے محمد ﷺ اگر آپ کو ان لوگوں کی تکذیب پر تعجب ہو تو واقعی ان کا یہ قول تعجب کے لائق ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل جائیں گے تو کیا مرنے کے بعد ہم پھر دوبارہ زندہ ہو کر اٹھیں گے اور ہم میں پھر روح پھونکی جائے گی، یہ مرنیکے بعد زندہ ہونے کا انکار کرنے والے وہ لوگ ہیں جنھون نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا، تو ان کافروں کی گردنوں میں بیڑیاں اور طوق باندھے جائیں گے اور یہ بیڑیوں اور طوق والے دوزخی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے نہ ان کو وہاں موت آئے گی اور نہ یہ وہاں سے کبھی نکالے جائیں گے۔
Ayah 13:6

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار (یعنی طالب عذاب ہیں) حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع) ہوچکے ہیں۔ اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود انکی بےانصافیوں کے معاف کرنے والا ہے اور بیشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے۔

(6) اے محمد ﷺ یہ لوگ بطور مذاق کے آپ سے عافیت سے قبل نزول عذاب کا تقاضا کرتے ہیں اور آپ سے عافیت کی درخواست نہیں کرتے حالانکہ ان سے پہلے عقوبات کے واقعات گزر چکے جن کی بنا پر ہلاک ہونے والے ہلاک ہوئے اور آپ کا پروردگار ان مکہ کے کافروں کے شرک کو اگر یہ توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں تو معاف کردے گا اور جو شرک سے توبہ نہ کرے تو یقیناً آپ کا پروردگار اس کو سخت سزا دے گا۔
Ayah 13:7

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر ﷺ پر اس کے پروردگار کیطرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ سو (اے محمد ﷺ تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو اور ہر ایک قوم کیلئے رہنما ہوا کرتا ہے۔

(7) اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے منکر یوں بھی کہتے ہیں کہ ان پر خاص معجزہ کیوں نہیں اتارا گیا جیسا کہ پہلے انبیاء ؑ پر معجزات نازل کیے گئے تھے، محمد ﷺ آپ تو صرف عذاب خدا سے ڈرانے والے رسول ہیں، اور ہر ایک قوم کے لیے نبی ہوتے چلے آئے، یا یہ کہ داعی جو ان کو گمراہی سے نجات دے کر ہدایت کی طرف دعوت دیتے رہے۔
Ayah 13:8

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

خدا ہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی (واقف ہے) اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے۔

(8) اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہوتی ہے جو کچھ کسی عورت کو حمل رہتا ہے کہ لڑکا ہے یا لڑکی اور جو کچھ حمل میں نوماہ کے اندر کمی ہوتی ہے اور جو کچھ نوماہ سے زیادہ زیادتی ہوتی ہے۔ اور یہ مدت میں زیادتی وکمی اور رحم مادر میں بچہ کا ٹھہرانا اور اس کا نکلنا سب ایک خاص اندازہ سے مقرر ہے۔
Ayah 13:9

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ دانائے نہاں و آشکار ہے۔ سب سے بزرگ (اور) عالی رتبہ ہے۔

(9) اور وہ تمام ان باتوں کو جو بندوں سے پوشیدہ ہیں اور جو انکو معلوم ہیں اللہ تعالیٰ سب کو جاننے والا ہے اور کہا گیا ہے کہ غیب سے رماد وہ چیزیں ہیں جو ہونے والی ہیں اور شہادۃ سے مراد وہ ہیں جو ہو چکیں اور کہا گیا ہے کہ غیب سے مراد مادر میں لڑکے وغیرہ کا وجود اور شہادۃ سے اس کا خروج مراد ہے، وہ سب سے بڑا ہے اس سے بڑی اور بلند اور کوئی چیز نہیں۔
Ayah 13:10

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

کوئی تم میں سے چپکے سے بات کہے یا پکار کر یا رات کو کہیں۔ چھپ جائے یا دن (کی روشنی) میں کھلم کھلا چل پھرے (اس کے نزدیک) برابر ہے۔

(10) تم میں سے کوئی بات یا کوئی کام چپکے سے کرین یا پکار کر کہے سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ سب برابر ہیں اور ایسے ہی جو شخص رات میں کہیں چھپ جائے اور جو دن میں چلے پھرے وہ سب کو جانتا ہے۔
Ayah 13:11

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

اسکے آگے اور پیچھے خدا کے چوکیدار رہیں جو خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ خدا اس (نعمت) کو جو کسی قوم کو (حاصل) ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب خدا کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی اور خدا کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔

(11) ہر ایک شخص کی حفاظت کے لیے کچھ فرشتے بھی مقرر ہیں، جن کی تبدیلی ہوتی رہتی ہے کہ رات کے فرشتے چلے جاتے ہیں اور دن کے آجاتے ہیں اور دن کے چلے جاتے ہیں اور رات کے آجاتے ہیں کہ وہ خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں تقدیر کے مطابق ان کی نگرانی کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب اور اس کی ہلاکت تجویز کرلیتا ہے تو پھر ان سے فیصلہ خداوندی کے ہٹنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی اور اللہ تعالیٰ کے سوا پھر کوئی ان سے عذاب خداوندی کو ہٹانے والا نہیں اور نہ اس کے علاوہ اور کوئی جائے پناہ ہے۔
Ayah 13:12

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔

(12) اور وہ تمہیں کو بارش کے وقت بجلی چمکتی ہوئی دکھاتا ہے کہ بارش سے مسافر کو اپنے سازوسامان کے بھیگ جانے کا خوف بھی ہوتا ہے اور مقیم کو خواہش وامید ہوتی ہے کہ اس کی کھیتی سیراب ہوجائے اور وہ بادلوں کو بھی جو بارش سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں پیدا کرتا اور ان کو بلند کرتا ہے۔
Ayah 13:13

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور رعد اور فرشتے سب اسکے خوف سے اس کی تسبیح وتحمید کرتے رہتے ہیں۔ اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے۔ پھر جس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے۔ اور وہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اور وہ بڑی قوت والا ہے۔

(13) اور رعد فرشتہ اللہ کے حکم سے اس کی پاکی بیان کرتا ہے، اور رعد کے معنی آسمانی آواز کے ساتھ بھی کیے گئے ہیں اور دوسرے فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کے خوف سے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ اور وہ بجلیاں یعنی ان میں آگ بھیجتا ہے، سو جس کو چاہتا ہے اس کے ذریعے سے ہلاک کردیتا ہے جیسا کہ زید بن قیس کو اللہ تعالیٰ نے ایسی ہی آگ کے ذریعے ہلاک کیا اور اس کے ساتھی عامر بن طفیل کو ایک گلٹی کے ذریعے جو اس کی کوکھ میں نکلی تھی، یعنی طاعون سے ہلاک کردیا اور یہ اللہ تعالیٰ کے باب میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ جھگڑ رہے تھے حالانکہ وہ بہت سخت عذاب دینے والا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”اللہ یعلم ما تحمل“۔ (الخ) طبرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ زید بن قیس اور عامر بن طفیل دونوں رسول اکرم ﷺ کے پاس مدینہ میں آئے تو عامر کہنے لگا محمد ﷺ اگر میں اسلام لے آؤں تو آپ مجھے کیا دیں گے آپ نے ارشاد فرمایا تمہارے لیے وہ تمام حقوق حاصل ہوجائیں گے جو اور مسلمانوں کے لیے ہیں اور تم پر وہ تمام ذمہ داریاں عائد ہوجائیں گے جو دوسرے مسلمانوں پر عائد ہیں عامر کہنے لگا کیا آپ اپنے مرنے کے بعد امر نبوت کو میرے لیے نہیں کرے گے، آپ نے ارشاد فرمایا یہ چیز نہ تمہارے لیے ہوسکتی ہے اور نہ تمہاری قوم کے لیے ہوسکتی ہے، چناچہ یہ دونوں آپ کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ عامر نے زید سے کہا کہ میں محمد ﷺ کو باتوں میں لگا کر تم سے غافل کر دوں گا اور تو (نعوذ باللہ) آپ کو تلوار سے ختم کردینا، چناچہ اس مشورہ کے بعد پھر دونوں لوٹ کر آئے، عامر آکر کہنے لگا محمد ﷺ آپ میرے ساتھ کھڑے ہوں میں آپ سے کچھ بات چیت کرنا چاہتا ہوں چناچہ اس کے کہنے پر آپ ﷺ کھڑے ہوگئے اور کھڑے ہو کر اس سے بات چیت کرنا شروع کردی۔ رسول اکرم ﷺ نے اس کی طرف توجہ فرمائی اور اس کو دیکھا پھر آپ وہاں سے لوٹ آئے اور یہ دونوں وہاں سے بھاگ نکلے جب رقم پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے زید پر بجلی گرا کر اس سے جھلس دیا، تب اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”اللہ یعلم“۔ سے ’‘’ شدید المحال“۔ تک یہ آیات نازل فرمائی۔ اور امام نسائی اور بزار نے حضرت انس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ میں سے ایک صحابی کو رؤساء کفار میں سے ایک سردار کے پاس دعوت توحید کے لیے بھیجا تو وہ بدبخت کہنے لگا کہ تمہارا پروردگار جس کی طرف تم مجھ کو دعوت دیتے ہو وہ کس قسم کا ہے نعوذ باللہ، لوہے کا ہے یا پیتل کا یا چاندی کا ہے یا سونے کا، چناچہ ان صحابی کو نے رسول اکرم کی خدمت میں آکر اس کے جواب سے آپ کو مطلع کردیا، پھر آپ نے ان کو دوبارہ اور تیسری مرتبہ بھیجا، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سردار پر بجلی گرا کر اس کو جلا دیا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی (آیت) ”ویرسل الصواعق“۔ (الخ) یعنی وہ بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے گرا دیتا ہے۔ ادھر زید بن قیس بدبخت نے تلوار سونتی جب اس بدبخت نے اپنا ہاتھ تلوار کے دستہ پر رکھا تو اس کا ہاتھ سوگیا۔
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

سودمند پکارنا تو اسی کا ہے۔ اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے۔ مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دو رہی سے) اس کے منہ تک آپہنچے۔ حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا۔ اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے۔

(14) سچا پکارنا یعنی دین حق شہادۃ ان الاالہ الا اللہ“۔ اور یہی سچا پکارنا ہے اسی کے لیے خاص ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور جن کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی پکار پر انکو اس سے زیادہ نفع نہیں پہنچا سکتے، جتنا کہ پانی اس شخص کو نفع پہنچاتا کہ وہ شخص دور دراز سے اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہوتا کہ پانی اس کے منہ میں اڑ کر پہنچ جائے اور اس حالت میں پانی کبھی بھی اس کے منہ تک نہیں پہنچ سکتا سو جیسا کہ پانی کبھی بھی اس کے منہ تک نہیں پہنچ سکتا اسی طرح بتوں کی پوجا بھی اسے کوئی نفع نہیں پہنچا سکتی اور کافروں کی یہ عبادت محض باطل ہے جس سے یہ لوگ گمراہ ہو رہے ہیں۔
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا زبردستی سے خدا کے آگے سجدہ کرتی ہے۔ اور ان کے سامنے بھی صبح وشام (سجدے کرتے) ہیں۔

(15) اور اللہ ہی کے سامنے سب سرجھکائے ہوئے ہیں کہ اس کی عبادت اور نماز میں مصروف ہیں جو کہ آسمانوں میں فرشتے اور زمین میں مومن لوگ ہیں، آسمان والے خوشی سے جھکائے ہوئے ہیں، کیوں کہ انکو عبادت میں ناگواری نہیں ہوتی، اور زمین والے مجبورا جھکائے ہوئے ہیں کیوں کہ ان کو عبادت میں ناگواری ہوتی ہے یا یہ کہ مخلصین خوشی سے اور منافقین مجبوری سے جھکائے ہوئے ہیں اور اہل زمین سے جو لوگ سرجھکائے ہوئے ہیں، ان کے سائے بھی صبح وشام سرخم کیے ہوئے ہیں کہ صبح کو دائیں جانب اور شام کو بائیں جانب۔
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے ؟ (تم ہی انکی طرف سے) کہہ دو کہ خدا۔ پھر (ان سے) کہو کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو کیوں کارساز بنایا ہے جو خود اپنے نفع و نقصان کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتے ؟ (یہ بھی) پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں ؟ یا اندھیرا اور اجالا برابر ہوسکتا ہے ؟ بھلا ان لوگوں نے جن کو خدا کا شریک مقرر کیا ہے۔ کیا انہوں نے خدا کی سی مخلوقات پیدا کی ہے جس کے سبب ان کو مخلوقات مشتبہ ہوگئی ہے ؟ کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنیوالا ہے اور وہ یکتا (اور) زبردست ہے۔

(16) اے محمد ﷺ آپ مکہ والوں سے کہئے کہ آسمانوں اور زمین کا خالق کون ہے ؟ سو اگر وہ جواب میں اللہ کہہ دیں تو ٹھیک ورنہ آپ ہی فرمادیجیے کہ اللہ خالق ہے پھر یہ کہیے کہ کیا پھر بھی تم نے اللہ کے علاوہ دوسرے معبود بنارکھے ہیں۔ جو خود اپنی ذات کو بھی نفع پہنچانے اور نقصان کے دور کرنے پر طاقت نہیں رکھتے ، اے محمد ﷺ آپ ان سے یہ فرما دیجیے کیا کافر اور مومن دونوں برابر ہوسکتے ہیں یا کہیں کفر و ایمان میں برابری ہوسکتی ہے یا انہوں نے اللہ کے ایسے بتوں کو شریک قرار دے رکھا ہے کہ انہوں نے بھی کسی چیز کو پیدا کیا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ پیدا کرتا تو اس واسطے ان کو تمام مخلوق ایک سی معلوم ہوئی جس کی وجہ سے انکو مخلوقات خداوندی اور اپنے بتوں کی پیدا کردہ چیز میں امتیاز باقی نہ رہا ہو تو آپ اس کے متعلق فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ہے یہ بت کسی چیز کے خالق نہیں، اس کے علاوہ اور کوئی معبود عبادت کے لائق نہیں اور وہ واحد ہے اور اپنی تمام مخلوق پر غالب ہے۔
Ayah 13:17

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اسی نے آسمان سے مینہ برسایا۔ پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہ نکلے۔ پھر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لئے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہوجاتا ہے اور (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔ اس طرح (خدا) صحیح اور غلط کی) مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ تم سمجھو)

(17) اب اللہ تعالیٰ حق و باطل کے امتیاز کو ایک مثال سے سمجھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ جبریل امین قرآن کریم اتارا اور اس قرآن پاک میں حق اور باطل کو وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا تو روشن دلوں نے اپنی وسعت اور اپنے نور کے اعتبار سے قرآن حکیم کو اپنے سینوں میں جگہ دے لی اور اندھیرے والے دل اپنی باطل خواہشوں کے پیروکار ہوئے۔ اور اس پانی کی طرح اللہ تعالیٰ دوسری مثال بیان فرماتے کہ سونے اور چاندی کو جس وقت آگ میں ڈال کر تپاتے ہیں تو دریائی جھاگوں کے اوپر جو میل کچیل اوپر آجاتا ہے اسی طرح اس میں بھی آجاتا ہے تو حق سونے اور چاندی کی طرح ہے کہ جیسے سونے چاندی کو نفع حاصل کرنے اور زیور بنانے کے لیے تباتے ہیں اسی طرح حق سے صاحب حق نفع حاصل کرتا ہے اور باطل سونے چاندی کے میل کچیل کی طرح ہے جیسا کہ وہ کسی کام میں نہیں آتا، اسی طرح باطل سے بھی اہل باطل نفع نہیں حاصل کرسکتے۔ اور اسی طرح لوہے اور پیتل میں بھی تپانے سے میل اوپر آجاتا ہے تو حق لوہے اور پیتل کی طرح ہے جیسا کہ یہ چیزیں کام میں آتی ہیں اسی طرح حق سے بھی نفع پہنچتا ہے اور جیسا کہ ان کا میل کچیل کسی کام کا نہیں ہوتا، اسی طرح باطل سے بھی کسی قسم کا کوئی نفع نہیں ملتا تو میل کچیل پھینک دیا جاتا ہے، اسی طرح باطل بھی کارآمد نہیں اور نفع کی چیزیں وہ خالص پانی، سونا چاندی اور لوہا، پتیل ہے کہ دنیا میں ان سے نفع حاصل ہوتا ہے ایسے ہی حق سے نفع حاصل کیا جاتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ اور باطل کی مثالیں بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 13:18

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ ہی اتنے اور (نجات کے) بدلے میں صرف کر ڈالیں (مگر نجات کہاں ؟) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانہ بھی دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

(18) یعنی جو دنیا میں توحید کے قائل ہوگئے ان کو آخرت میں جنت ملے گی اور جو توحید خداوندی کے قائل نہیں ہوئے تو ان کے پاس اگر تمام دنیا کی دولت ہو بلکہ اس کے ساتھ اسی کے برابر اور بھی ہو یہ سب کا سب اپنی جانوں کی رہائی کے لیے دے ڈالیں تب بھی ان لوگوں پر سخت عذاب ہوگا اور ان کے لوٹنے کی جگہ دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانا اور لوٹنے کا برا مقام ہے۔
Ayah 13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا حق ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے ؟ اور سمجھتے تو وہی ہیں جو عقلمند ہیں۔

(19) جو شخص قرآن کریم کی حقانیات کی تصدیق کرتا ہو تو کیا یہ مومن کافر کی طرح ہوسکتا ہے، سو قرآن کریم سے نصیحت تو سمجھدار ہی لوگ قبول کرتے ہیں۔
Ayahs 13:20–21

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

جو خدا کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اقرار کو نہیں توڑتے۔

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کا جوڑے رکھتے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں

(20۔ 21) اور یہ حضرات خداوندی کی پوری طرح بجاآوری کرتے ہیں اور کبھی فرائض خداوندی کی ادائیگی کو ترک نہیں کرتے اور صلہ رحمی کرتے ہیں یا رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے پر قائم رہتے ہیں اور اپنے پروردگار کے حکم کی بجا آوری کرتے ہیں اور عذاب کی سختی سے ڈرتے ہیں۔
Ayah 13:22

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور جو پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (مصائب پر) صبر کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے انکو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں اور نیکی سے برائی کو دور کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے لئے عاقبت کا گھر ہے۔

(22) اور یہ لوگ ایسے ہیں کہ اپنے رب کی رضا مندی کے خواہش مند رہ کر اس کے احکامات پر پوری طرح قائم رہتے ہیں اور پانچوں نمازوں کے پابند رہتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے چھپ کر بھی اور لوگوں کے سامنے ظاہر کرکے بھی صدقہ و خیرات کرتے رہتے ہیں اور جب کوئی ان کے ساتھ برائی کرتا ہے تو اچھی بات اور حسن سلوک سے اس کو ٹال دیتے ہیں، مذکورہ صفات والے حضرات کے لیے جنت ہے اور ان حضرات کو کون سی جنت ملے گی اب اس کی تفصیل یہ ہے۔
Ayahs 13:23–24

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

(یعنی) جو ہمیشہ رہنے کے باغات جن میں وہ داخل ہونگے اور ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں سے جو نیکوکار ہوں گے وہ بھی (بہشت میں جائیں گے) اور فرشتے (بہشت کے) ہر ایک دروازے سے انکے پاس آئینگے

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

(اور کہیں گے) تم پر رحمت ہو (یہ) تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے اور عاقبت کا گھر خوب (گھر) ہے۔

(23۔ 24) کہ وہ جنت عدن ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا مقام ہے اور وہی انبیاء کرام صدیقین اور شہداء وصالحین کا ٹھکانہ ہے اور ان کے ماں، باپ، بیویاں اور اولاد جو مومن اور وحدانیت کے قائل ہوں گے اور اس جنت میں داخل ہونے لائق ہوں گے وہ اسی جنت میں داخل ہوں گے۔ اور ان میں سے ہر ایک کیلیے ایک موتیوں کا خیمہ ہوگا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور ہر ایک دروازے میں چوکھٹ ہوگا ان کے پاس ہر ایک دروازے سے فرشتے آئیں گے اور کہیں گے کہ تم ہر ایک مصیبت سے بچے رہو گے اور جنت اس صلہ میں ملی ہے کہہ تم احکام خداوندی پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہے تو جنت تمہارے لیے بہت اچھا انعام ہے۔
Ayah 13:25

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا سے عہد واثق کر کے اسکو توڑ ڈالتے اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو قطع کردیتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے ہیں ایسوں پر لعنت ہے۔ اور انکے لئے گھر بھی برا ہے

(25) اور جو لوگ فرائض خداوندی کو ان کی تاکید اور پختگی کے بعد چھوڑتے ہیں اور صلہ رحمی اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے کو ترک کرتے اور کفر وشرک کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کو پکارتے اور ان کی پوجا پات کرتے ہیں ایسے لوگوں پر دنیا میں بھی عذاب نازل ہوگا اور آخرت میں بھی جہنم میں جائیں گے۔
Ayah 13:26

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

خدا جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کا چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے۔ اور (کافر لوگ) دنیا کی زندگی پر خوش ہو رہے ہیں۔ اور دنیا کی زندگی آخرت (کے مقابلے) میں (بہت) تھوڑا فائدہ ہے۔

(26) اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے دنیا میں مال کی وسعت وفراخی کردیتا ہے اور یہ اس کی طرف تدبیر اور جس پر چاہتا ہے تنگی کردیتا ہے اور یہ اس کی جانب سے ایک قسم کی مہلت ہے، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کی بھلائی اور درستگی وسعت وفراخی میں ہے اگر وہ اس فراخی کو غیر اللہ کی طرف پھیر دیں تو یہ ان کے لیے بدترین چیز ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے بہت سے بندوں کی درستگی تنگی ہی میں ہوسکتی ہے اگر وہ اس کو غیر اللہ کی طرف پھیر دیں تو یہ ان کے لیے بہت بدترین بات ہوجائے۔ اور یہ لوگ دنیاوی زندگی اور اس کے عیش و عشرت پر اترانے لگے اور دنیاوی زندگی میں جو بھی عیش و عشرت ہے یہ آخرت کی نعمتوں کے بقاء کے مقابلہ میں سوائے تھوڑی سی پونجی کے اور کچھ نہیں جیسا کہ گھر کا سازوسامان۔
Ayah 13:27

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی کہہ دو کہ خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ اور جو (اسکی طرف) رجوع ہوتا ہے اسکو اپنی طرف کا راستہ دکھاتا ہے۔

(27) اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے منکر یوں کہتے ہیں کہ محمد ﷺ پر انکی نبوت کی تصدیق کے لیے کوئی معجزہ کیوں نازل نہیں کیا گیا جیسا کہ سابقہ رسولوں پر معجزات نازل کیے گئے۔ اے محمد ﷺ آپ فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہیں اپنے دین سے بےپرواہ کردیں جو اسی چیز کا مستحق ہو اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو اسے اپنے دین کی ہدایت کردیتے ہیں۔
Ayah 13:28

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

(یعنی) جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یاد خدا سے آرام پاتے ہیں (انکو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں

(28) مراد اس سے وہ لوگ ہیں جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور قرآن کریم اور حلف باللہ سے ان کے دلوں کو سکون اور خوشی حاصل ہوتی ہے اچھی طرح جان لو کہ قرآن کریم سے دل کو سکون اور خوشی حاصل ہوتی ہے۔
Ayah 13:29

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لئے خوش حالی اور عمدہ ٹھکانا ہے۔

(29) جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور احکام خداوندی کو بجا لائے ایسے حضرات قابل رشک ہیں اور کہا گیا ہے کہ طوبی نام کا جنت میں ایک درخت ہے اس کا تنا سونے کا ہے اور اس کے پتے ریش میں جوڑے ہیں اور اس پر ہر رنگ کے پھل ہیں اور اس کی شاخیں پوری جنت میں پھیلی ہوئی ہیں اس کے نیچے مشک، زعفران اور عنبر کے ٹیلے ہیں اور ایسے حضرات ہی جنت میں جائیں گے۔
Ayah 13:30

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

(جس طرح ہم اور پیغمبر بھیجتے رہے ہیں) اسی طرح (اے محمد ﷺ ہم نے تم کو اس امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں بھیجا ہے تاکہ ان کو وہ (کتاب) جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے پڑھ کر سنا دو۔ اور یہ لوگ رحمن کو نہیں مانتے۔ کہہ دو وہی تو میرا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اسی پر بھروسا رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

(30) اسی طرح ہم نے آپ کو ایک ایسی امت میں رسول بنا کر بھیجا ہے کہ اس سے پہلے اور امتیں گزر چکی ہیں۔ آپ ان کو وہ قرآن حکیم پڑھ کر سنائیں جو ہم نے آپ پر بذریعہ جبریل امین نازل کیا ہے۔ اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو مسیلمہ کذاب کے علاوہ (جو رحمن کے ساتھ مشہور ہے) کسی اور رحمن کو نہیں جانتے۔ اے محمد ﷺ آپ فرما دیجیے کہ رحمن تو میرا پروردگار ہے، اس کے علاوہ اور کوئی عبادت کے لائق نہیں میں نے اس پر اعتماد اور بھروسہ کرلیا اور آخرت میں اسی کے پاس مجھے جانا ہے۔
Ayah 13:31

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس (کی تاثیر) سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے کلام کرسکتے۔ (تو یہی قرآن ان اوصاف سے متصف ہوتا مگر) بات یہ ہے کہ سب باتیں خدا کے اختیار میں ہیں تو کیا مومنوں کو اس سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر خدا چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کے راستے پر چلا دیتا۔ اور کافروں پر ہمشہ ان کے اعمال کے بدلے بلا آتی رہے گی یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی۔ یہاں تک کہ خدا کا وعدہ آپہنچے۔ بیشک خدا وعدہ خلاف نہیں کرتا۔

(31) اگلی آیت عبداللہ بن امیہ مخزومی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ ان لوگوں نے اپنے باہم مشورہ سے رسول اکرم ﷺ سے کہا تھا کہ مکہ مکرمہ کے پہاڑ اپنے قرآن کی طاقت سے دور کردو اور اس مقام پر پانی کے چشمے پیدا کردو جیسا کہ تم کہتے ہو کہ داؤد ؑ کے لیے تانبے کا چشمہ نرم کردیا گیا تھا اور جیسا کہ بقول آپ کے حضرت سلیمان ؑ کے لیے ہوا مسخر تھی، اسی طریقہ سے ہمارے لیے بھی ہوا کو مسخر کردو کہ ہم اس پر سوار ہو کر ملک شام چلے جایا کریں اور پھر آجایا کریں اور جیسا کہ آپ کے حضرت عیسیٰ ؑ مردوں کو زندہ کردیا کرتے تھے، آپ بھی ہمارے مردوں کو زندہ کر دو ، سو اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے کہ اگر محمد ﷺ کے قرآن کے علاوہ کوئی قرآن ایسا ہوتا جس کے ذریعے سے پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹا دیے جاتے تو اس کے ذریعے سے زمین جلدی طے ہوجاتی یا اس کے ذریعے سے مردہ زندہ کردیے جاتے تو رسول اکرم ﷺ کے قرآن کے ذریعے سے ہوتیں بلکہ ان تمام چیزوں کے کرنے کا سارا اختیار خاص اللہ ہی کو ہے۔ پھر بھی ان لوگوں کو جو کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والے تھے ان کے دل کو یہ بات نہ لگی کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسانوں کو اپنے دین سے سرفراز فرما دیتا ، آسمانی کتب اور رسولوں کے منکر یعنی کفار مکہ تو ہمیشہ اس حالت میں رہتے ہیں کہ ان کے کفر کی وجہ سے کوئی نہ کوئی حادثہ حملہ آوری یا بجلی وغیرہ ان پر یا ان کے ساتھیوں پر ان کے شہر مکہ کے قریب عسفان تک نازل ہوتا ہی رہتا ہے، یہاں تک کہ اسی حالت میں مکہ مکرمہ فتح ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتے یعنی مکہ مکرمہ فتح ہوگا یا یہ کہ قیامت قائم ہوگی۔ شان نزول : (آیت) ”ولو ان قرانا سیرت“۔ (الخ) امام طبرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ کفار مکہ نے رسول اکرم ﷺ سے کہا کہ اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو تو ہمارے پہلے بوڑھے جو مرچکے ہیں ان کو زندہ کرکے دکھلاؤ تاکہ ہم ان سے بات چیت کریں اور ہم سے ان پہاڑوں یعنی مکہ مکرمہ کے پہاڑوں کو جو ہم سے بالکل ملے ہوئے دور کردو، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ، اور ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور ابن مردویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عطیہ عوفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ کفار نے نبی اکرم ﷺ سے کہا، کاش آپ ہمارے لیے مکہ کے پہاڑوں کو ہٹا دیتے تاکہ ہم پر زمین وسیع ہوجاتی اور ہم اس میں کھیتی وغیرہ کرتے جیسا کہ سلیمان ؑ اپنی قوم کے لیے زمین کو ہوا کے ذریعے کاٹ کردیتے تھے اسی طرح آپ بھی ہمارے لیے زمین کو کاٹ دیجئے یا ہمارے مردوں کو زندہ کردیجیے جیسا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اپنی قوم کے لیے مردوں کو زندہ کردیا کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔
Ayah 13:32

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں تو ہم نے کافروں کو مہلت دی پھر پکڑ لیا۔ سو (دیکھ لو کہ) ہمارا عذاب کیسا تھا ؟

(32) اور جیسا کہ آپ کی قوم قریش آپ کے ساتھ مذاق کرتی ہے، اسی طرح بہت سے رسولوں کے ساتھ ان کی قوم نے مذاق کیا تو پھر اس مذاق کے بعد میں ان کافروں کو مہلت دیتا رہا، پھر میں نے ان پر عذاب نازل کیا تو سمجھنے کی بات ہے کہ کیسا سخت میں نے ان پر عذاب نازل کیا۔
Ayah 13:33

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

تو کیا جو (خدا) ہر متنفس کے اعمال کا نگراں (ونگہبان) ہے (وہ بتوں کی طرح) بےعلم و بیخبر ہوسکتا ہے ؟ اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں۔ ان سے کہو کہ (ذرا) انکے نام تو لو۔ کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں (کہیں بھی) معلوم نہیں کرتا ؟ یا (محض) ظاہری (باطل اور جھوٹی) بات کی (تقلید کرتے ہو ؟) اصل بات یہ ہے کہ کافروں کو ان کے فریب خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ اور وہ (ہدایت کے) راستے سے روک لئے گئے ہیں۔ اور جسے خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنیوالا نہیں۔

(33) تو کیا پھر بھی اللہ تعالیٰ جو کہ ہر ایک نفس کی نگرانی اور حفاظت کرتا ہے اور ہر ایک کی نیکی بدی روزی اور تنگی تمام امور سے واقف ہے اور ان لوگوں کے معبود جن کی یہ اللہ کے علاوہ پوجا کرتے ہیں برابر ہوسکتے ہیں جو ان لوگوں نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے ہیں، اے محمد ﷺ آپ ان سے فرمائیے کہ اگر یہ شرکاء بالفرض اللہ کے ساتھ شریک ہیں تو ان کے نفع پہنچانے اور ان کی کارگزاریاں تو گناؤ، کیا تم اللہ تعالیٰ کو ایسی بات کی خبر دیتے ہو کہ دنیا بھر میں اس کے وجود کی خبر اللہ تعالیٰ کو نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بھی کوئی ہے جو نفع ونقصان کا مالک ہے یا محض ظاہری باطل اور جھوٹی باتوں پر ان کی پوجا کرتے ہو، بلکہ ان کافروں کو اپنے اقوال وافعال مرغوب معلوم ہوتے ہیں اور یہ لوگ دین حق سے محروم رہ گئے ہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ اپنے دین سے بےراہ کردے تو پھر اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔
Ayah 13:34

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان کو دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت سی سخت ہے۔ اور ان کو خدا (کے عذاب سے) کوئی بھی بچانے والا نہیں۔

(34) یہ لوگ بدر کے مارے جائیں گے اور آخرت کا عذاب اس دنیاوی عذاب سے کئی گنا سخت ہے اور اللہ کے عذاب سے ان کو کوئی بچانے والا نہیں اور کوئی جائے پناہ نہیں کہ جہاں جاکر پناہ حاصل کریں۔
Ayah 13:35

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

جس باغ کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف یہ ہیں کہ اس کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ہمیشہ (قائم رہنے والے) ہیں اور اس کے سائے بھی۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو متقی ہیں اور کافروں کا انجام دوزخ ہے۔

(35) اور جس جنت کا کفر وشرک اور برائیوں سے بچنے والوں سے وعدہ کیا گیا ہے، اس کی کیفیت یہ ہے کہ اس کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ، شہد، شراب اور پانی کی نہریں جاری ہوں گی اس کا پھل ہمیشہ رہے گا کبھی ختم نہ ہوگا اور ایسے ہی اس کا سایہ ہمیشہ رہے گا جنت تو کفر وشرک اور برائیوں سے بچنے والوں کے لیے ہوگی اور کافروں کا انجام دوزخ ہوگا۔
Ayah 13:36

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس (کتاب) سے جو تم پر نازل ہوئی ہے خوش ہوتے ہیں اور بعض فرقے اس کی بعض باتیں نہیں بھی مانتے۔ کہہ دو کہ مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ خدا ہی کی عبادت کروں اور اسکے ساتھ (کسی کو) شریک نہ بناؤں۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹنا ہے۔

(36) یعنی جن لوگوں کو ہم نے توریت کا علم عطا کیا ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور انکے ساتھی تو وہ رحمان (اللہ تعالیٰ) کے اس ذکر سے جو آپ پر نازل کیا گیا خوش ہوتے ہیں۔ اور ان یہود ہی میں بعض ایسے ہیں کہ سورة یوسف اور رحمن (اللہ تعالیٰ) کے ذکرکے علاوہ بعض قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں یا یہ کہ کفار وغیرہ میں سے بعض گروہ قرآن کریم کے اس حصے کا انکار کرتے ہیں جس میں رحمن (اللہ تعالیٰ) کا ذکر ہے۔ اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ مجھے اس بات کا حکم ہوا ہے کہ میں خالص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کروں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤں اور مخلوق کو میں اللہ ہی کی طرف بلاتا ہوں اور آخرت میں مجھے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔
Ayah 13:37

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان نازل کیا ہے۔ اور اگر تم علم (ودانش) آنے کے بعد ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو خدا کے سامنے کوئی نہ تمہارا مدرگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔

(37) اور اسی طرح ہم نے قرآن حکیم کو جبریل امین کے ذریعے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ پورا کا پورا اللہ تعالیٰ کا ایک خاص حکم ہے، عربی زبان میں اور بالفرض اگر آپ انکے دین اور ان کے قبلہ کی پیروی کرنے لگیں جبکہ آپ کے پاس دین ابراہیمی اور قبلہ ابراہیمی کا کھلا بیان پہنچ چکا ہے تو عذاب الہی کے مقابلہ میں نہ آپ کا کوئی قریبی رشتہ دار آپ کو فائدہ پہنچائے گا اور نہ کوئی اس عذاب کو آپ سے روکنے والا ہوگا۔
Ayah 13:38

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے تھے اور ان کو بیبیاں اور اولاد بھی دی تھی۔ اور کسی پیغمبر کے اخیتار کی بات نہ تھی کہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی نشانی لائے۔ ہر (حکم) قضاُ (کتاب میں) مرقوم ہے۔

(38) اور جیسا کہ ہم نے آپ کو رسول بناکربھیجا اسی طرح اور بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان کو بیویاں بھی دیں جیسا کہ حضرت داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کو اور آپ کی اولاد سے زیادہ سے زیادہ اولاد بھی دی جیسا کہ حضرت ابراہیم ؑ حضرت اسحاق ؑ ، حضرت یعقوب ؑ کو یہ آیت مبارکہ یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ کیوں کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر محمد ﷺ نبی ہوتے تو نبوت انکو شادیاں کرنے میں مشغول نہ کرتی (تو اس کا جواب دیا کہ شادی کرنا نبوت کے خلاف نہیں بلکہ عین موافق ہے، ترجم) کسی پیغمبر کے اختیار میں میں کہ ایک دلیل بھی خدا کے حکم کے بغیر لاسکے۔
Ayah 13:39

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

خدا جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جسکو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے۔ اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔

(39) اور ہر کتاب پر عمل کرنے کا اس کے ہاں ایک خاص وقت مقرر ہے اور فرشتوں کی عدالت میں سے جن باتوں پر ثواب و عذاب کچھ نہیں ہوتا، ان کو مٹا دیتے ہیں اور جن پر ثواب و عذاب ہوتا ہے ان کو باقی رہنے دیتے ہیں اور اصل کتاب یعنی لوح محفوظ ان ہی کے پاس ہے کہ جس میں زیادتی اور کمی کچھ نہیں ہوتی۔
Ayah 13:40

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہیں دکھائیں (یعنی) تمہارے روبرو ان پر نازل کریں۔ یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں (یعنی تمہارے انتقال کے بعد عذاب بھیجیں) تو تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے۔

(40) اور جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کررہے اس میں اگر کچھ آپ کی زندگی دکھا دیں یا اس عذاب کے دکھانے سے پہلے ہم آپ کو وفات دے دیں تو کسی بھی صورت میں آپ فکر نہ کریں کیوں کہ آپ کے ذمہ تو صرف احکام الہی کا پہنچا دینا ہے اور ثواب و عذاب دینا تو ہمارا کام ہے۔