13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 13:1–2

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

المر یہ کتاب کی آیتیں ہیں۔ اور آپ کے رب کی طرف سے جو کچھ آپ کی طرف اتارا گیا حق ہے۔ لیکن بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند فرما دیا تم ان آسمانوں کو دیکھ رہے ہو پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔ اور اس نے چاند اور سورج کو مسخر فرما دیا ہر ایک مدت مقررہ کے مطابق چلتا ہے وہ کام کی تدبیر فرماتا ہے۔ نشانیوں کو واضح طور پر بیان فرماتا ہے۔ تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرلو۔ ا

آسمانوں کی بلندی ‘ شمس وقمر کی تسخیر اور زمین کے پھیلاؤ ‘ پھلوں کی انواع و اقسام میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت کی نشانیاں ہیں یہاں سے سورة الرعد شروع ہو رہی ہے اس کی ابتداء المر سے ہے جو حروف مقطعات میں سے ہے ان کے معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں ‘ پہلے تو فرمایا (تِلْکَ اٰیَاتُ الْکِتٰبِ ) یہ کتاب کی یعنی قرآن کی آیات ہیں ‘ پھر فرمایا (وَالَّذِیْ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ الْحَقُّ ) اور آپ کے رب کی طرف سے جو آپ کی طرف نازل کیا گیا وہ حق ہے ‘ اس کا حق ہونا امر واقعی ہے کوئی مانے نہ مانے وہ بہر حال حق ہے (وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے) چونکہ لوگ فکرونظر سے کام نہیں لیتے اپنے رواج اور باپ دادوں کے اتباع ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اس لئے ایمان قبول نہیں کرتے۔ پھر فرمایا (اَللّٰہُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوَاتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا) (اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے آسمانوں کو اونچائی پر بغیر ستونوں کے بنا دیا) اتنے بڑے بڑے آسمان ہیں جو بغیر کسی ستون کے بلندی پر قائم ہیں اور آسمان تمہاری نظروں کے سامنے ہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو۔ (ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ) (پھر اس نے عرش پر استواء فرمایا) استواء علی العرش کے بارے میں اہل سنت والجماعت کا جو مسلک ہے ہم سورة اعراف (رکوع 6) کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں۔ (وَسَخَّرَ الشَّمْسَ والْقَمَرَ ) (اور چاند اور سورج کو مسخر فرما دیا) انہیں جس کام میں لگایا ہے اسی میں لگے ہوئے ہیں (کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی) (ان میں سے ہر ایک وقت مقرر کے مطابق چلتا ہے) اللہ تعالیٰ نے جو نظام ان کے لیے مقرر فرما دیا ہے اسی کے مطابق چلتے ہیں ہر ایک کا مدار مقرر ہے ان کی تیز رفتاری اسی مدار پر ہے۔ سورة یٰسین میں آفتاب کے بارے میں فرمایا (وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّھَا ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ ) (اور آفتاب اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے یہ اندازہ باندھا ہوا ہے اس کا جو زبردست علم والا ہے) ۔ پھر فرمایا (لَا الشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَھَا اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّیْلُ سَابِقُ النَّھَارِ وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ ) (نہ آفتاب کی مجال ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے اور دونوں ایک ایک دائرہ میں تیر رہے ہیں) ۔ بعض حضرات نے لِاَجَلٍ مُّسَمًّی سے دنیا کا وجود مراد لیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ چاند سورج دونوں وقت معین تک چل رہے ہیں اور وقت معین قیامت کا قائم ہونا ہے جب قیامت قائم ہوگی تو یہ چاند اور سورج کا نظام ختم ہوجائے گا۔ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ اللہ تعالیٰ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے یعنی عالم سفلی اور عالم علوی میں جو کچھ ہوتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق ہے جس طرح چاہتا ہے تدبیر فرمایا ہے۔ (یُفَصِّلُ الْاٰیَاتِ لَعَلَّکُمْ بِلِقَآءِ رَبِّکُمْ تُوْقِنُوْنَ ) (وہ آیات کو تفصیل کے ساتھ بیان فرماتا ہے تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرلو) اس سے بعض حضرات نے آیات قرآنیہ مراد لی ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ آیات سے دلائل توحید مراد ہیں خواہ دلائل تشریعیہ ہوں (جو آیات قرآنیہ کو بھی شامل ہیں) اور خواہ دلائل تکوینیہ ہوں جن میں سے بعض کا ذکر اسی آیت میں گزر چکا ہے ان آیات کا بیان فرمانا اس لئے ہے کہ تم غور اور فکر سے کام لو اور یہ سمجھ لو کہ جب اللہ تعالیٰ ایسی ایسی عظیم چیزوں کے پیدا فرمانے پر قادر ہے تو بدرجہ اولیٰ ان مردوں کو زندہ کرنے پر قدرت رکھتا ہے اسی کے حکم سے قیامت قائم ہوگی اور وہ مردوں کو زندہ فرمائے گا جو حساب کے موقع پر حاضر ہوں گے اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے فرمائے گا اسی کو بِلِقَآءِ رَبِّکُمْ سے تعبیر فرمایا (وَھُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ ) (اور اللہ وہی ہے جس نے زمین کو پھیلا دیا اور اس میں بوجھل پہاڑ پیدا فرما دئیے جو اپنی اپنی جگہوں پر جمے ہوئے ہیں) سورة لقمان میں فرمایا (وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَبِکُمْ ) کہ اللہ نے زمین پر بھاری بوجھل پہاڑوں کو ڈال دیا تاکہ زمین تمہارے ساتھ حرکت نہ کرے ‘ اس میں پہاڑوں کے پیدا فرمانے اور ان کو بوجھل بنانے اور زمین پر جما دینے کی حکمت بیان فرمائی وَاَنْھٰرًا (اور اللہ نے زمین میں نہریں پیدا فرمائیں) یہ نہریں انسانوں کے لیے پانی پینے اور جانوں کو پلانے اور کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں ‘ آیت شریفہ میں جو یہ فرمایا ہے کہ زمین کو پھیلا دیا یہ پھیلا ناز میں کے کرہ ہونے کے منافی نہیں ہے اگر زمین کروی ہو جیسا کہ اہل سائنس کہتے ہیں کہ تو یہ زمین کے پھلاؤ کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ پھیلاؤ کے لیے کسی چیز کا اول سے آخیر تک سطح واحد ہونا ضروری نہیں ہے ‘ زمین چونکہ بہت بڑی ہے اس لئے انسانوں کو اس پر رہنا چلنا پھرنا اور سفر کرنا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسا کہ سطح واحد پر ہی جا رہے ہیں ‘ چیونٹی کے طول وعرض کو جو ایک بہت بڑی گیند سے نسبت سے ہے انسانوں کی آبادیوں کو زمین کے پھیلاؤ سے وہ نسبت بھی نہیں ہے۔
Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

ور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلا دیا اور اور اس میں پہاڑ اور نہریں پیدا فرما دیں اور ہر قسم کے پھلوں سے دو دو قسمیں پیدا فرمائیں اور رات کو دن پر ڈھانپ دیتا ہے۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کیلئے نشانیاں ہیں جو فکر کرتے ہیں۔

(وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِیْھَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ ) (اور زمین میں ہر طرح کے پھلوں میں سے دو دو قسم کے پھل پیدا فرمائے) مثلاً بعض کھٹے ہیں ‘ بعض میٹھے بعض چھوٹے ہیں اور بعض بڑے کسی کا رنگ مثلاً پیلا ہے اور کسی کا رنگ ہرا ہے ‘ قال صاحب الروح ص 10 ج 13 جعل من کل نوع من انواع الثمرات الموجودۃ فی الدنیا ضربین وصنفین اما فی اللون کالابیض والاسود اوفی الطعم کالحلو والحامض او فی القدر کالصغیر والکبیراو فی الکیفیۃ کالحارو البارد فما اشبہ ذالک ‘ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں : دنیا میں موجود تمام پھلوں کی دو دو قسمیں بنائیں یا تو رنگ کے اعتبار سے جیسا کہ سفید اور سیاہ یا ذائقہ کے لحاظ سے جیسے میٹھا اور کھٹایا مقدار کے لحاظ سے جیسے چھوٹا اور بڑایا کیفیت کے اعتبار سے جیسے ٹھنڈا اور گرم اور اسی طرح دیگر صورتیں چونکہ رنگ اور مزے دو سے زیادہ بھی ہوتے ہیں اس لئے بعض مفسرین نے فرمایا کہ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ میں تعداد انواع بیان فرمانا مقصود ہے، تعدد کا سب سے پہلا مرتبہ دو ہے اس لیے زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ فرما دیا لہٰذا یہ اس کے معارض نہیں کہ کسی پھل کے انواع کثیرہ ہوں ‘ یُغْشِی اللَّیْلَ النَّھَارَ (اللہ تعالیٰ رات سے دن کو ڈھانپ دیتا ہے) یعنی دن کی روشنی کے بعد رات کو لے آتا ہے جس سے دن کی روشنی ختم ہوجاتی ہے ‘ جس طرح کسی روشن چیز کو کسی پردہ سے ڈھانپ دیا جائے اسی طرح رات ڈھانپ لیتی ہے۔ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ) (بلاشبہ اس میں ان لوگوں کیلئے نشانیاں ہیں جو فکر کرتے ہیں) یہ جو کچھ باتیں بیان کی گئیں ان میں فکر کرنے والے فکر کریں اور یہ سوچیں کہ مذکورہ بالا چیزوں کی تخلیق اور ان کی ایجاد اور ان کا بقاء اور ان کی تسخیر اور ترتیب بغیر کسی متصرف کے نہیں ہے ‘ ان کا پیدا کرنے والا بھی ہے اور ان کو باقی رکھنے والا بھی ہے اور ان کو مسخر کرنے والا بھی ہے غور کریں گے تو خالق اور مالک کی الوہیت اور وحدانیت سمجھ میں آجائے گی۔ (وَفِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرَاتٌ) (الایۃ) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے زمین کی پیداوار کا تذکرہ فرمایا اس پیداوار میں جو عجائب قدرت ہیں ان کو بیان فرمایا۔ ارشاد فرمایا کہ زمین میں بہت سے قطعے ہیں۔ جو آپس میں ملتے ہیں ایک ٹکڑا دوسرے ٹکڑے سے متصل ہے ان میں انگوروں کے باغات ہیں اور کھیتیاں ہیں اور کھجور کے درخت ہیں جن میں بعض درخت ایسے ہیں کہ اوپر جا کر ایک تنے دو تنے ہوجاتے ہیں اور عام درختوں میں ایسا ہی ہوتا ہے اور بعض درخت ایسے ہیں جن کا آخر تک ایک ہی تنا رہتا ہے جیسا کہ کھجور کے درخت میں مشاہدہ کیا جاتا ہے ‘ ان باغوں اور کھیتیوں کو ایک ہی طرح کا پانی پلایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود مزوں میں مختلف ہوتے ہیں ‘ بعض پھلوں کو بعض دوسرے پھلوں پر فضیلت حاصل ہوتی ہے ایک ہی زمین ہے ایک ہی جنس کے پھل ہیں لیکن مزہ میں مختلف ہوتے ہیں اور یہ بات بھی دیکھی جاتی ہے کہ کھاری زمین اچھی زمین سے متصل ہے اور دونوں میں درخت ہیں لیکن کھاری زمین کا اثر میٹھی جنس کے پھلوں میں نہیں آتا بلکہ خود کھاری زمین کے پھل بھی میٹھے ہوتے ہیں ‘ پھلوں کی میٹھی جنس کا مزاج زمین کے کھاری پن پر غالب آجاتا ہے ‘ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) (بلاشبہ اس میں سمجھداروں کے لیے نشانیاں ہیں) عقل والے غور کریں گے تو ان چیزوں کو دیکھ کر ان کے خالق ومالک کو پہچان سکتے ہیں جو ان چیزوں میں اپنی سمجھ کو خرچ نہیں کرتے وہ اہل عقل ہی نہیں۔
Ayahs 13:4–5

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں ٹکڑے ہیں جو آپس میں پڑوسی ہیں اور انگوروں کے باغ ہیں اور کھیتیاں ہیں اور کھجور کے درخت ہیں جن میں بعض کی جڑ بعض سے ملی ہوئی ہیں اور بعض ملی ہوئی نہیں ہیں انہیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور ہم ایک کو دوسرے پر فضیلت دیتے ہیں بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سمجھ سے کام لیتے ہیں۔

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اور اگر آپ کو تعجب ہو تو ان کا یہ قول لائق تعجب ہے کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو کیا نئے سرے سے پیدا ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا اور یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہ لوگ دوزخ والے ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

منکرین بعث کا انکار لائق تعجب ہے ‘ ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے ان آیات میں اول تو یہ فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ اگر آپ کو مخاطبین کے انکار قیامت سے تعجب ہے تو آپ کا تعجب واقعی برمحل ہے ‘ ان کا یہ قول تعجب کے لائق ہے کہ جب ہم مر کر خاک ہوجائیں گے تو کیا پھر نئے سرے سے ہماری پیدائش ہوگی ‘ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہرے ان کے سامنے ہیں ان کے ہوتے ہوئے پھر تعجب کر رہے ہیں کہ ہم کیسے زندہ ہوں گے ‘ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ہم خود اور ہمارے آباؤ اجداد موجود نہیں تھے سب کو خالق جل مجدہ نے پیدا فرمایا ہے نطفہ سے ‘ نطفہ بھی بےجان ہے جس نے نطفہ میں جان ڈال دی وہ اس پر بھی قادر ہے کہ مٹی سے دوبارہ پیدا فرما دے اور مٹی کے اجزاء میں دوبارہ جان ڈال دے۔ (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ وَاُولٰٓءِکَ الْاَغْلَالُ فِیْ اَعْنَاقِھِمْ ) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا یہ تو دنیا میں ان کا حال ہے اور آخرت میں ان کو جو سزا دی جائے گی اس میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہوں گے (وَاُولٰٓءِکَ اَصْحَاب النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ) (اور یہ لوگ دوزخ والے ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے) ۔
Ayah 13:6

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور یہ لوگ عافیت سے پہلے آپ سے مصیبت کے جلدی آنے کا تقاضا کرتے ہیں اور حالانکہ ان سے پہلے عذاب کے واقعات گزر چکے ہیں اور بلاشبہ آپ کا رب لوگوں کے ظلم کے باوجود انہیں بخش دینے والا ہے۔ اور یہ بات یقینی ہے کہ آپ کا رب سخت عذاب والا ہے۔

پھر فرمایا (وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بالسَّیِّءَۃِ قَبْلَ الْحَسَنَۃِ ) (آپ سے یہ لوگ عافیت سے پہلے مصیبت کے جلدی آجانے کا تقاضا کرتے ہیں) یعنی ان سے جو کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ ورنہ تمہیں دنیا و آخرت میں عذاب بھگتنا ہوگا تو بطور استہزاء اور تمسخر کہتے ہیں کہ لاؤ عذاب لا کر دکھا دو ‘ یہ لوگ عافیت سے اور سلامتی والی حالت میں جی رہے ہیں اس کے بجائے عذاب طلب کر رہے ہیں ‘ چونکہ عذاب والی بات کو جھوٹ سمجھ رہے ہیں اس لئے عافیت اور سلامتی کا جو وقت اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر میں مقرر ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے ہی عذاب آنے کی رٹ لگا رہے ہیں انہیں یہ معلوم نہیں کہ جب عذاب آجائے گا تو ٹالا نہ جائے گا۔ سورة ہود میں فرمایا (وَلَءِنْ اَخَّرْنَا عَنْھُمُ الْعَذَابَ اِلٰی اُمَّۃٍ مَّعْدُوْدَۃٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُہٗ اَلَایَوْمَ یَأْتِیْھِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْھُمْ وَحَاقَ بِھِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِءُوْنَ ) (اور اگر ہم ایک وقت مقرر تک ان سے عذاب موخر کردیں تو کہتے ہیں کہ اسے کس نے روک رکھا ہے ‘ خبردار جس دن عذاب آئے گا تو وہ ان سے ہٹایا نہ جائے گا اور جس چیز کا وہ مذاق بناتے تھے وہ ان پر نازل ہوجائے گا) ۔ (وَقَدْ خلَتْ مِنْ قَبْلِھِمُ الْمَثُلٰتُ ) (حالانکہ ان سے پہلے عذاب کے رسوا کن واقعات گزر چکے ہیں) یعنی ان سے پہلے قوموں پر عذاب آچکا ہے۔ عذاب کے واقعات کا ان کو علم ہے پھر بھی عذاب آنے کی خواہش کر رہے ہیں۔ یہ ان کی بےہودگی اور بد فہمی کی بات ہے قال صاحب الروح المثلت جمع مثلۃ کثمرۃ وثمرات وھی العقوبۃ الفاضحۃ۔ (وَاِنَّ رَبَّکَ لَذُوْ مَغْفِرَۃٍ لِّلنَّاسِ عَلٰی ظُلْمِھِمْ وَاِنَّ رَبَّکَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ ) مطلب یہ ہے کہ گناہ کر کے جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمانے والا ہے کبھی توبہ سے کبھی بلا توبہ ‘ کبھی حسنات کے ذریعہ سیئات کا کفارہ فرما کر اور کبھی اموال و اولاد وغیرہ میں مصیبت بھیج کر) اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا بھی ہے (مغفرت والی بات سن کر سرکشی اور نافرمانی میں آگے بڑھتے ہوئے نہ چلے جائیں ‘ اگر گرفت ہوگی تو عذاب کی مصیبت سے بچ نہ سکیں گے) کافروں کی مغفرت کے لیے لازم ہے کہ کفر سے توبہ کریں اہل ایمان سے جو گناہ سر زد ہوجاتے ہیں ان کی مغفرت کی صورتوں متعدد ہیں جو ابھی اوپر بیان کی گئیں۔
Ayah 13:7

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ کہتے ہیں۔ ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں کی گئی۔ آپ صرف ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لیے ہدایت دینے والے ہوتے چلے آئے ہیں۔

فرمائشی معجزہ طلب کرنے والوں کا عناد : پھر فرمایا (وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ) (یعنی کافر لوگ یوں کہتے ہیں کہ اگر آپ رسول ہیں تو آپ کی تصدیق اور تائید کے لیے وہ معجزہ ظاہر ہونا چاہئے جو ہم چاہتے ہیں) جاہلوں نے ضد وعناد اور ایمان لانے سے انکار کرنے کے لیے جو حیلے تراشے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ہم جو معجزہ چاہتے ہیں وہ ظاہر ہونا چاہئے۔ در حقیقت معجزہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور فضل ظاہر کیا جاتا تھا اصل چیز تو دلائل ہیں جب دلائل سے حق واضح ہوگیا اور نبی کی نبوت ثابت ہوگئی تو نبی پر ایمان لانا فرض ہوجاتا تھا لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل ہوتا تھا معجزات ظاہر ہوجاتے تھے۔ جن لوگوں کو ماننا نہ تھا وہ نہ دلائل سے مانتے تھے اور نہ معجزہ دیکھ کر ایمان لاتے تھے ان کے کہنے کے مطابق بھی بعض معجزات ظاہر ہوئے لیکن جنہیں عناد تھا اور ماننا نہ تھا انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے ‘ فرمائشی معجزوں کی بات کرنا قبول حق کے لیے نہیں تھا بلکہ اپنی ضد پر قائم رہنے کے لیے تھا۔ پھر فرمایا (اِنَّمَا اَنْتَ مُنْذِرٌ) کہ آپ ان کی باتوں سے دل گیر نہ ہوں آپ کا کام بس حق کا پہنچا دینا اور عذاب آخرت سے ڈرانا ہے ‘ لوگوں سے منوانا آپ کے ذمہ نہیں ہے اگر یہ کسی خاص معجزہ کی فرمائش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اسے ظاہر نہیں فرماتا اور اس کو وہ عدم قبول کا بہانہ بناتے ہیں تو آپ فکر مند نہ ہوں ‘ جب آپ نے انذار و تبلیغ کا کام کردیا تو آپ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوگئے ماننا ان کا کام ہے ‘ پھر فرمایا ولکل قوم ھاد یعنی آپ سے پہلے بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) اقوام عالم کو ہدایت دینے کے لیے مبعوث ہوتے رہے ان کی بھی تکذیب کی گئی ان کی اقوام میں سے کسی نے حق قبول کیا اور کسی نے رد کردیا جو ان کے ساتھ ہوا وہی آپ کے ساتھ ہو رہا ہے ‘ منکرین کے طرز عمل سے رنجیدہ نہ ہوں صبر کریں اور اپنا کام کرتے رہیں سورة احقاف میں فرمایا (فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّھُمْ ) (سو آپ صبر کیجئے جیسا کہ اولوا لعزم رسولوں نے صبر کیا اور ان کے لیے عذاب آنے کی جلدی نہ کیجئے) ۔ فائدہ : ولکل قوم ھاد فرمایا ‘ ولکل قوم نبی نہیں فرمایا۔ ھادی کے لیے نبی ہونا ضروری نہیں حضرات انبیاء کرام ( علیہ السلام) کی امتوں میں جو اہل علم تھے وہ اپنے اپنے نبی کی امتوں کو ہدایت دیتے رہے ‘ اگر دنیا کے کسی خطے میں کسی نبی کے تشریف لانے کا تحقیقی ثبوت نہ ملے تو اس آیت کے مفہوم پر کوئی اثر نہیں پڑتا نبی نہ آئے تو ان کے نائب ھادی ضرور آئے گو ہمیں ان سب کی تفصیل معلوم نہ ہو ‘ نیز یہ بھی سمجھ لینا چاہئے جس کسی کی نبوت کا ثبوت نہ ہو اسے خواہ مخواہ اس لئے نبیوں کی فہرست میں شمار کرلینا کہ اقوام عالم میں سے کوئی نہ کوئی قوم اس کی طرف منسوب ہوتی ہے اور ان کے مذہب کا پیشوا اور بانی ہے یہ غلط ہے اور گمراہی ہے بعض لوگ ہندوؤں ‘ بدھوں اور زرتشتوں کے بڑوں کو نبی ماننے کو تیار ہیں ‘ یہ ضالت اور جہالت کی بات ہے ‘ یہ لوگ آیت کریمہ (وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ ) سے استدلال کرتے ہیں اول تو آیت میں لفظ ھاد ہے لفظ نبی ہوتا تب بھی کسی کو بلا دلیل شرعی محض اٹکل سے نبی ماننا غلط ہے ‘ پھر ان اقوام کے پیشواؤں کی تعلیمات نقل ہوتی چلی آرہی ہیں ان میں شرک ہے اور ان میں سے بعض لوگوں کی جو تصویریں سامنے آئی ہیں وہ ننگی تصویریں ہیں کوئی نبی ننگا نہیں رہ سکتا ‘ شرم اور حیاء تو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کا خصوصی شعار ہے ننگا رہنے والا کیسے نبی ہوسکتا ہے ؟ ہاں یہ ایک احتمال ہے کہ جو حضرات موحد تھے ان کے ماننے والوں نے ان کے دین میں شرک داخل کردیا ہو اور ان کی ننگی تصویریں خود سے تجویز کردی ہوں لیکن یقین کرنے کا کوئی راستہ نہیں اور بلا دلیل شرعی کسی کی نبوت کا اعتقاد رکھنا بھی باطل ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے نبوت ختم فرمانے کا اعلان فرما دیا تو ان کے بعد کسی کا دعوائے نبوت کرنا اور اس کی تصدیق کرنا سراپا کفر ہے۔
Ayah 13:8

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

اللہ جانتا ہے جو کوئی کسی عورت کو حمل ہوتا ہے اور جو کچھ رحم میں کمی اور بیشی ہوتی ہے۔ اور ہر چیز اللہ کے نزدیک ایک خاص مقدار کے ساتھ ہے۔

اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ عورتوں کے رحم میں کیا ہے ‘ وہ علانیہ اور پوشیدہ سب چیزوں کو جانتا ہے ‘ ہر اونچی اور آہستہ آواز اس کے نزدیک برابر ہے ‘ رات میں چھپا ہوا اور دن میں چلنے والا ہر ایک اس کے علم میں ہے۔ ان آیات میں اللہ جل شانہ نے اپنی صفات جلیلہ میں سے صفت علم کو بیان فرمایا ہے کہ عورتوں کو جو حمل رہ جاتا ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ پوری طرح جانتا ہے کب استقرار ہوا اور کب وضع حمل ہوگا اور لڑکا وجود میں آئے گا یا لڑکی ‘ ادھورا بچہ پیدا کرے گا یا پورا بچہ پیدا ہوگا اور اس کا رنگ وروپ کیسا ہوگا اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ رحم میں بچہ ہے یا یوں ہی ہوا کی وجہ سے پھولا ہوا ہے ‘ رحموں میں سے جو چیز کم ہوتی ہے اور جو چیز رحموں میں زیادہ ہوتی ہے یعنی بڑھ جاتی ہے اللہ تعالیٰ کو اس کا بھی علم ہے بچہ کی ابتداء کتنے جسم اور کتنے وزن سے ہوتی ہے پھر اس میں کتنا اضافہ ہوا اور یہ بات کہ یہ بچہ تھوڑی مدت میں پیدا ہوگا یا دیر لگے گی اور یہ کہ رحم میں ایک بچہ ہے یا جڑواں بچے ہیں اور جڑواں بچوں میں سے ایک باہر آگیا تو اندر باقی کتنے ہیں وغیرہ وغیرہ ‘ ان سب باتوں کا اللہ تعالیٰ کو پوری طرح علم ہوتا ہے یہاں پہنچ کر بعض بےعلم یہ اشکال کرتے ہیں کہ رحم میں کیا ہے لڑکا ہے یا لڑکی اس کے بارے میں ڈاکٹر پہلے سے بتا دیتے ہیں لہٰذا یہ بات کہ اللہ تعالیٰ ہی کو اس کا علم ہے محل نظر ہوگئی ‘ ان لوگوں کا یہ سوال اور اشکال غلط ہے اللہ تعالیٰ کا جو علم ہے وہ آلات اور تجربات کی بنیاد پر نہیں ہے وہ علیم اور خبیر ہے اسے کسی آلہ اور کسی تجربہ کی ضرورت نہیں اور مخلوق کا جو علم ہے وہ تجربہ اور گمان اور آلات پر مبنی ہے ‘ پھر ان کی بات غلط بھی نکل آتی ہے۔ یہ علم جو مخلوق کا محتاج ہے یعنی آلات کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے یہ علیم اور خبیر جل مجدہ کے علم کے برابر کیسے ہوسکتا ہے ؟ جسے تخلیق عالم سے پہلے ہی سب کچھ معلوم ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ کس مرد کے نطفہ سے اور کس عورت کے رحم سے کیا پیدا ہوگا اور کب پیدا ہوگا اور پورا ہوگا یا ادھورا ہوگا اس کے علم کی شان ہی اور ہے۔ (وَکُلُّ شَیْءٍ عنْدَہٗ بِمِقْدَارٍ ) یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہر چیز کی ایک خاص مقدار مقرر ہے۔ اس عموم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ بچہ کتنے دن شکم مادر میں رہے گا کتنے برس دنیا میں جئے گا ‘ اسے کتنا رزق ملے گا اور کیا کیا عمل کرے گا وغیرہ وغیرہ۔
Ayah 13:9

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ تمام پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کا جانے والا ہے بڑا ہے برتر ہے۔

پھر فرمایا (عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ الْکَبِیْرُ الْمُتَعَالَ ) اللہ پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کو اور تمام امور کو جانتا ہے وہ بڑا ہے (اور) برتر ہے۔ پھر معلومات الٰہیہ کی مزید جزئیات ذکر فرمائیں اور فرمایا (سَوَاءٌ مِّنْکُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَھَرَبِہٖ ) (الایۃ) کہ تم میں جو شخص آہستہ سے بات کرے اور جو زور سے بولے اور جو شخص رات میں کہیں چھپا ہوا ہو یا دن میں کہیں چل پھر رہا ہو اللہ تعالیٰ ان سب کو یکساں جانتا ہے کوئی شخص کسی حال میں اللہ سے پوشیدہ نہیں اور وہ ہر ایک کی ہر بات کو جانتا ہے ‘ پھر اپنی ایک نعمت کو بیان فرمایا۔
Ayahs 13:10–11

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

تم میں سے جو کوئی شخص کوئی بات آہستہ سے کہے اور جو شخص پکار کر کہے اور جو شخص رات میں چھپا ہوا ہو اور جو شخص دن میں چلتا پھرتا ہو یہ سب برابر ہیں۔

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

ہر ایک کیلئے آگے پیچھے آنے جانے والے فرشتے ہیں جو آگے سے اور پشت کے پیچھے سے آتے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ لوگ خود اپنی حالت کو نہیں بدلتے۔ اور جب اللہ کسی قوم کو تکلیف پہنچانے کا ارادہ فرمائے تو اسے کوئی واپس کرنے والا نہیں۔ اور ان لوگوں کے لیے ان کے سوا کوئی مددگار نہیں۔

فرشتے بندوں کی حفاظت کرتے ہیں : (لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْم بَیِْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ ) کہ انسان کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر فرمائے ہیں جو یکے بعد دیگرے آتے رہتے ہیں جو آگے سے اور پشت کے پیچھے سے انسان کی حفاظت کرتے ہیں اور ضرر دینے والی چیزوں سے بچاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اس کام پر لگایا ہے کہ وہ انسان کی حفاظت کریں۔ صاحب روح المعانی نے بحوالہ ابن ابی الدنیا وغیرہ حضرت علی ؓ سے نقل کیا ہے کہ ہر بندہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے حفاظت کرنے والے فرشتے مقرر فرما دیئے جو اس کی حفاظت کرتے ہیں تاکہ اس پر کوئی دیوار نہ گرجائے یا وہ کسی کنویں میں نہ گرپڑے یہاں تک کہ جب اللہ کی قضاء وقدر کے مطابق کوئی تکلیف پہنچنے کا موقع آجاتا ہے تو فرشتے علیحدہ ہوجاتے ہیں لہٰذا جو تکلیف پہنچنی ہوتی ہے پہنچ جاتی ہے۔ جب تک لوگ نافرمانی اختیار کر کے مستحق عذاب نہیں ہوتے اس وقت تک اللہ تعالیٰ ان کی امن و عافیت والی حالت کو نہیں بدلتا۔ اس کے بعد فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت کو نہیں بدلتے) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی امن اور عافیت والی حالت کو مصائب اور آفات سے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود ہی تبدیلی نہ لے آئیں یعنی بد اعمالی اختیار کر کے وہ عذاب اور مصیبت کے مستحق نہ ہوجائیں جب وہ اپنے اچھے حالات کو سرکشی اور نافرمانی سے بدل دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی عافیت کو آفات اور بلیات سے بدل دیتا ہے اور ایسے موقع پر فرشتوں کا جو پہرہ ہے وہ بھی اٹھا لیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا قہر اور عذاب آجاتا ہے آیت کا مضمون وہی ہے جو سورة نحل کی آیت کریمہ (ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَرْیَۃً کَانَتْ اٰمِنَۃً ) (الایۃ) میں بیان فرمایا ہے پھر فرمایا (وَاِذَا اَرَاد اللّٰہُ بِقَوْمٍ سُوْءً فَلَا مَرَدَّلَہٗ ) (اور جب اللہ کسی قوم کو تکلیف پہنچانے کا ارادہ فرمائے تو اسے کوئی واپس کرنے والا نہیں) یعنی جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی قوم پر کسی مصیبت کے بھیجنے کا فیصلہ ہوجائے تو وہ مصیبت آکر رہے گی اسے کوئی ہٹانے والا اور دفع کرنے والا نہیں (وَمَا لَھُمْ مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّالٍ ) اور ایسے وقت میں (جبکہ مصیبت آپہنچے) اللہ کے سوا کوئی ان کا والی نہیں ہوتا جو ان کی مصیبت کو رفع کرے اس وقت حفاظت کے فرشتے ہٹ جاتے ہیں اور مصیبت آکر رہتی ہے۔
Ayah 13:12

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جو تمہیں بجلی دکھاتا ہے جس سے تمہیں ڈر لگتا ہے اور امید بندھتی ہے اور وہ بھاری بادلوں کو پیدا فرماتا ہے۔

بادل اور بجلی اور رعد کا تذکرہ ان آیات میں بجلی اور بادل اور کڑک کا تذکرہ فرمایا ‘ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ سے اور اس کی تکوین اور تخلیق سے وجود میں آتی ہیں ‘ اللہ تعالیٰ بجلی کو بھیج دیتا ہے لوگ اسے دیکھتے ہیں پھر دیکھنے والوں میں بعض تو اس سے ڈر جاتے ہیں مثلاً مسافر راستوں میں ہوتے ہیں وہ ڈرتے ہیں کہ بارش ہونے لگی تو ہمارا کیا بنے گا ‘ اور بعض لوگ اسے دیکھ کر نفع کی امید باندھتے ہیں کہ بارش ہوگی تو کھیت کی آبیاری ہوگی اور بارش اچھی ہوگی۔ (وَیُنْشِءُی السَّحَاب الثِّقَالَ ) (اور اللہ تعالیٰ بھاری بادلوں کو پیدا فرما دیتا ہے۔ یہ بادل ایسی جگہ جا کر برس پڑتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے سورة اعراف میں فرمایا (وَھُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیَاحَ بُشَرًام بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہٖ حَتّٰی اِذَا اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰہُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بْہِِ الْمَآءُ فَاَخْرَجْنَا بِہٖ مِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ ) اور اللہ وہی ہے جو خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے اور اس کی رحمت یعنی بارش کے آنے سے پہلے یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں تو ہم کسی ایسی جگہ بادل کو روانہ کردیتے ہیں جو مردہ تھی یعنی اس میں کسی درخت یا گھاس کا کوئی نشان بھی نہ تھا پھر ہم اس جگہ میں پانی اتار دیتے ہیں پھر اس پانی کے ذریعے ہر طرح کے پھل نکال دیتے ہیں۔
Ayah 13:13

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور رعد اس کی تسبیح کے ساتھ اس کی تعریف بیان کرتا ہے۔ اور فرشتے بھی اس کے خوف سے۔ اور بجلیاں بھیجتا ہے پھر جسے چاہے پہنچا دیتا ہے اور حال یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور وہ سخت قوت والا ہے۔

رعد کیا ہے ؟ پھر فرمایا کہ رعد اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہے اور اس کی تعریف بیان کرتا ہے اور دوسرے فرشتے بھی اللہ کے خوف سے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ‘ سنن ترمذی (تفسیر سورة الرعد) میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک یہودی حضور اکرم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اے ابو القاسم ہمیں یہ بتائیے کہ رعد کیا ہے آپ نے فرمایا کہ رعد فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے جو بادلوں پر مقرر کیا ہوا ہے اس کے پاس پھاڑنے والی چیزیں ہیں جو آگ کی بنی ہوئی ہیں اور ان کے ذریعے بادلوں کو ہانکتا ہے اللہ جہاں چاہتا ہے وہاں لے جاتا ہے ‘ یہودیوں نے عرض کیا کہ یہ آواز کیا ہے جو سننے میں آتی ہے ‘ آپ نے فرمایا کہ بادل کو جھڑکنے کی آواز ہے ‘ رعد انہیں جھڑکتا ہے یہاں تک کہ بادلوں کو وہاں لے جاتا ہے جہاں لے جانے کا حکم ہوتا ہے۔ (قال الترمذی ھذا حدیث حسن صحیح غریب) ۔ پھر فرمایا (وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِھَا مَنْ یَّشَآءُ ) (اور اللہ تعالیٰ بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس کو چاہے پہنچا دیتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے بجلی گرا دیتا ہے) (وَھُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰہِ ) اور حال یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑا کر رہے ہوتے ہیں۔ (وَھُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِ ) (اور وہ سخت قوت والا ہے) ۔ آیت وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ کا سبب نزول : حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی ؓ کو رؤسائے جاہلیت میں سے ایک شخص کی طرف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور الوہیت کی دعوت دینے کے لیے بھیجا ‘ اس نے کہا کہ تمہارا رب کون ہے ‘ جس کے ماننے کی دعوت دیتے ہو وہ لوہے کا ہے یا تانبے کا ‘ چاندی کا ہے یا سونے کا ‘ وہ صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں واپس آئے اور آپ کو اس کی باتوں کی خبر دی آپ نے دوبارہ انہیں بھیجا اس شخص نے پھر وہی بات کہی جو پہلے کہی تھی ‘ یہ صحابی ؓ پھر حاضر خدمت ہوئے اور اس کی بات نقل کردی آپ نے تیسری بار ان کو پھر بھیجا اس شخص نے پھر وہی بات کہی اس مرتبہ جب یہ صحابی ؓ واپس ہو کر حاضر ہوئے اور آپ کو اس کے سوال سے باخبر کیا تو آپ نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بجلی اس پر نازل فرما دی جس کی وجہ سے وہ جل گیا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت شریفہ (وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ ) (آخر تک) نازل فرمائی اور ایک روایت میں یوں ہے کہ تیسری بار جب وہ شخص بات کر رہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے سر پر ایک بادل بھیج دیا وہ بادل گرجا اور اس میں سے ایک بجلی گری جو اس سرکش کافر کی کھوپڑی کو لے کر چلی گئی (مجمع الزوائد ص 42 ج 7 عن ابی یعلی والبزار والطبرانی فی الاوسط ورجال البزار رجال الصحیح غیر دیلم بن غزوان وھو ثقۃ) ۔
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

سچا پکارنا اسی کیلئے خاص ہے اور جو لوگ اس کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں وہ ذرا بھی ان کی درخواست کو منظور نہیں کرتے مگر جیسے کوئی شخص پانی کی طرف اپنی ہتھیلیاں پھیلائے ہوئے ہو تاکہ پانی اس تک پہنچ جائے حالانکہ وہ اس تک پہنچنے والا نہیں اور کافروں کی پکار بس ضائع ہے۔

غیر اللہ سے مانگنے والوں کی مثال ‘ سب اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں وہ آسمانوں کا اور زمین کا رب ہے سب کو اسی نے پیدا فرمایا ہے وہ واحد ہے قہار ہے ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو پکارنا اور اس سے دعا کرنا ہی سچی پکار ہے اور صحیح پکار ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی سب کی پکار سنتا ہے اور دعائیں قبول فرماتا ہے وہ سمیع الدعاء ہے قادر مطلق ہے قاضی الحاجات ہے ‘ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مشرک ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے ہیں یہ لوگ جن کو پکارتے ہیں وہ خود عاجز محض ہیں کسی کی پکار پر کوئی بھی مدد نہیں کرسکتے ان لوگوں کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہتھیلیاں پھیلائے ہوئے ہو اور پانی کو بلا رہا ہو کہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ وہ اس کے منہ تک پہنچنے والا نہیں ہے ‘ جس طرح یہ پانی کی درخواست کرنے والا منہ میں پانی پہنچنے کی آرزو سے محروم رہے گا اور پانی خود اس کے منہ میں پہنچنے سے عاجز رہے گا اسی طرح مشرکین کے معبود ان باطلہ عاجز محض ہیں وہ پکارنے والے کی کچھ بھی فریاد رسی نہیں کرسکتے سورة اعراف میں فرمایا (وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَکُمْ وَلَا اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ ) اور اللہ کے سوا تم جن لوگوں کو پکارتے ہو وہ تمہاری مدد نہیں کرسکتے اور نہ وہ اپنی مدد کرسکتے ہیں (وَمَا دُعَاءُ الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلَالٍ ) اور کافر لوگ جو اپنے معبودوں کو پکارتے ہیں یہ سب ضائع ہے۔ پھر فرمایا (وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ ) (الآیۃ) کہ جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں وہ سب اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہیں ان سجدہ کرنے والوں میں خوشی سے سجدہ کرنے والے بھی ہیں اور مجبوری سے بھی ‘ اور ان کے سائے بھی اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور یہ سجدہ صبح وشام کے اوقات میں یعنی ہمیشہ ہر وقت ہوتے ہیں۔
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور اللہ ہی کیلئے سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں خوشی سے اور مجبوری سے اور ان کے سائے بھی صبح اور شام کے اوقات میں۔

یَسْجُدُ کا معنی : بعض حضرات نے یَسْجُدُ کا معروف معنی لیا ہے اور آیت کا مطلب یہ بتایا ہے کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو فرشتے ہیں اور مومنین ہیں یہ سب اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہیں فرشتے اور مومنین جنات اور انسان تو خوشی سے سجدہ کرتے ہیں اور جو لوگ منکرین ہیں اور منافقین ہیں وہ بھی تلوار کے ڈر سے یا ماحول کے دباؤ سے سجدہ کرتے ہیں اس کو مجبوری کے سجدہ سے تعبیر فرمایا وَظِلٰلُھُمْ ان کے سائے بھی سجدہ کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار ہیں جس طرح چاہتا ہے وہ اس کو گھٹاتا اور بڑھاتا ہے ‘ صبح وشام کے وقت ان کے گھٹنے اور بڑھنے کا مظاہرہ زیادہ ہوتا ہے اس لیے ان وقتوں کی تخصیص کی گئی۔ بعض حضرات نے علیٰ سبیل عموم المجاز اس کا معنی لیا ہے کہ سجدہ کرنے والے جب سجدہ کرتے ہیں تو دھوپ یا روشنی میں ان کا سایہ بھی ان کے تابع ہو کر سجدہ کرتا ہے یعنی سائے کی پشت دیکھنے میں آجاتی ہے ‘ بعض حضرات نے فرمایا کہ خوشی کا سجدہ ان لوگوں کا ہے جن پر سجدہ کرنا شاق نہیں گزرتا اور زبردستی کا سجدہ ان لوگوں کا ہے جو سجدہ تو کرتے ہیں لیکن سجدہ کرنا ان کی طبیعتوں پر شاق گزرتا ہے۔ اور بعض حضرات نے یَسْجُدُ کا معنی یخضع اور ینقاد کا لیا ہے ان حضرات کے نزدیک آیت کا معنی یہ ہے کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو مخلوق ہے وہ سب اللہ کے لیے سرخم کئے ہوئے ہے۔ یعنی اللہ کی مشیت اور ارادے کے مطابق چلتے ہیں ان میں ایسے بھی ہیں جو با اختیار خود اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور ان میں ایسے بھی ہیں جو مجبور ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور تکوینی طور پر تو سبھی اس کی قضاء اور قدر کے تابع ہیں ‘ اور ان چیزوں کے جو سائے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہیں صبح و شام جو بھی سایہ ہو وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ کے موافق ہی چلتا ہے اور گھٹتا بڑھتا ہے۔ اس کو سورة فرقان میں یوں بیان فرمایا (اَلَمْ تَرَ اِلٰی رَبِّکَ کَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ وَلَوْ شَاءَ لَجَعَلَہٗ سَاکِنًا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیْلًا ثُمَّ قَبَضْنٰہُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا) ۔ (کیا تو نے نہیں دیکھا تیرے رب نے سایہ کو کیونکر پھیلایا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اس کو ایک حالت پر ٹھہرایا ہوا رکھتا پھر ہم نے آفتاب کو اس پر علامت مقرر کیا پھر ہم نے اس کو اپنی طرف آہستہ آہستہ سمیٹ لیا) ۔ (طَوْعًا وَّکَرْھًا) کے بارے میں سورة آل عمران کی آیت (اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ وَلَہٗ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا) کی تفسیر میں ہم نے جو کچھ لکھا ہے اس کی بھی مراجعت کرلی جائے ‘ پھر فرمایا (قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ ) (الایۃ) یعنی آپ مشرکین سے سوال کیجئے کہ بتاؤ آسمانوں کا اور زمین کا رب کون ہے پھر آپ خود ہی جواب دے دیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے وہ جہل یا عناد کی وجہ سے جواب نہ دے سکیں تو آپ انہیں بتادیں اور سمجھا دیں ‘ اس کے بعد فرمایا کہ آپ زجرو توبیخ اور سر زنش کے طور پر ان سے سوال فرمائیں کہ یہ جو تم نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے اولیاء بنا رکھے ہیں اور یہ سمجھتے ہو کہ یہ ہماری مدد کرنے والے ہیں یہ تو اپنی جانوں تک کے لیے کسی بھی نفع اور ضرر کے مالک نہیں ہیں نہ کوئی نفع اپنی طرف لاسکتے ہیں اور نہ اپنے سے کوئی ضرر رفع کرسکتے ہیں جبکہ ان کا اپنی جان کے بارے میں یہ حال ہے جسے تم جانتے ہو تو تمہیں کیا نفع دے سکتے ہیں اور تم سے کیا کسی ضرر کو رفع کرسکتے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ (رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ ) ہے اور یہ جانتے ہوئے کہ جن کو تم نے اولیاء بنایا ہے عاجز محض ہیں پھر بھی تم نے ان کو اللہ کا شریک قرار دے رکھا ہے تف ہے اس سفاہت اور ضلالت پر۔
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

آپ سوال کیجئے کہ آسمانوں کا اور زمینوں کا رب کون ہے ؟ آپ جواب دے دیجئے کہ اللہ ہے۔ آپ سوال کیجئے کیا تم لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے مددگار تجویز کر رکھے ہیں جو اپنی جانوں کے لیے نفع اور ضرر کے مالک نہیں ہیں ؟ آپ سوال کیجئے کہ نابینا اور بینا برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا اندھیریاں اور روشنی برابر ہوسکتی ہیں کیا یہ بات ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کے لیے شریک تجویز کئے ہیں جنہوں نے کوئی چیز پیدا کی ہو جیسے کہ اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے جس کی وجہ سے ان پر مخلوق میں اشتباہ پیداہو گیا ہو۔ آپ فرما دیجئے اللہ ہر چیز کا پیدا فرمانے والا ہے اور وہ تنہا ہے غالب ہے۔

بینا اور نابینا اور نور اور اندھیرے برابر نہیں ہوسکتے : پھر فرمایا (قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ ) (آپ ان سے سوال کیجئے کیا نابینا اور بینا برابر ہوسکتے ہیں) نابینا سے مشرک مراد ہیں جو اس ذات پاک کی عبادت نہیں کرتا جو مستحق عبادت ہے ‘ اور غیر اللہ کی عبادت میں لگا ہوا ہے اور بینا سے موحد مراد ہے جو یہ جانتا ہے کہ مجھے صرف اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کرنا ہے اور پھر وہ اپنے علم کے مطابق عمل کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرتا ہے جس طرح آنکھوں سے معذور اندھا دیکھنے والے کے برابر نہیں ہوسکتا اسی طرح مومن اور مشرک برابر نہیں ہوسکتے ‘ پھر فرمایا (اَمْ ھَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَالنُّوْرُ ) (کیا اندھیریاں اور نور برابر ہوسکتے ہیں) اندھیریوں سے تمام انواع کفر مراد ہیں اور اسی لیے اسے جمع لایا گیا ہے اور نور سے ایمان اور توحید مراد ہے جس طرح حسیات میں اندھیریاں اور روشنی برابر نہیں اسی طرح دینیات میں ایمان اور کفر برابر نہیں ‘ کافروں کے جتنے بھی دین ہیں وہ سب ملۃ واحدہ ہیں ‘ ان کا دین اور اہل ایمان کا دین الگ ہے ‘ ایمان اور کفر برابر نہیں ‘ مومن اور کافر بھی برابر نہیں ایمان جنت میں لے جانے والا ہے اور کفر دوزخ میں پہنچانے والا ہے۔ سورۂ انعام میں فرمایا (اَوَ مَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰہُ وَجَعَلْنَا لَہٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِہٖ فِی النَّاسِ کَمَنْ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْھَا) (جو شخص مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کردیا اور اس کے لیے ایسا نور مقرر کردیا جس کے ذریعہ وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کیا یہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کا حال یہ ہے کہ وہ اندھیریوں میں ہے اور ان سے نکلنے والا نہیں) ۔ پھر فرمایا (اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَاَءَ خَلَقُوْا کَخَلْقِہٖ فَتَشَابَہَ الْخَلْقُ عَلَیْھِمْ ) (کیا ایسی بات ہے کہ ان لوگوں نے جنہیں اللہ کا شریک قرار دیا ہے انہوں نے کچھ مخلوق پیدا کی ہے پھر انہیں مخلوق میں اشتباہ ہوگیا ہو کہ یہ مخلوق تو اللہ کی ہے اور یہ مخلوق شرکاء کی ہے اس اشتباہ اور التباس کی وجہ سے وہ غیر اللہ کی عبادت کرنے لگے) یہ سب استفہام انکاری کے طور پر ہے اور مطلب یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی خالق ہے سب کو اسی نے وجود بخشا ہے اس کو سب ہی مانتے ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے ‘ اگر کسی اور نے بھی کوئی مخلوق پیدا کی ہوتی تو اشتباہ ہونے کا موقع ہوتا کہ اس نے بھی بعض چیزوں کی تخلیق کی ہے لہٰذا یہ بھی مستحق عبادت ہونا چاہئے (العیاذ باللہ) لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے کچھ پیدا کیا ہی نہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا جو معبود انہوں نے تجویز کئے ہیں وہ کسی چیز کی پیدائش پر قادر ہی نہیں اگر سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو پیدا نہیں کرسکتے۔ (اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا لَہٗ ) لہٰذا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی عبادت کا مستحق نہیں۔ (قُلِ اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ وَّھُوَ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ ) ۔ آپ فرما دیجئے کہ اللہ ہر چیز کا خالق ہے لہٰذا وہی سب کا معبود ہے اور وہی واحد حقیقی ہے اور وہ الوہیت میں اور ربوبیت میں منفرد اور متوحد ہے اور وہ سب پر غالب ہے ساری مخلوق مقہور اور مغلوب ہے جو مخلوق اور مقہور ہو وہ خالق وقہار جل جلالہ کا شریک کیسے ہوسکتا ہے۔
Ayah 13:17

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھرنا لے اپنی مقدار کے موافق بہنے لگے پھر بہتے ہوئے پانی نے اپنے اوپر جھاگ کو اٹھایا جو پانی پر بلند ہے اور جن چیزوں کو آگ میں ڈال کر اوپر سے جلاتے ہیں تاکہ زیور یا کوئی دوسری نفع کی چیز حاصل کریں اس میں بھی اسی طرح کی جھاگ ہے اسی طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔ سو جو جھاگ ہے وہ تو بےفائدہ ہو کر چلا جاتا ہے اور جو لوگوں کو نفع دیتا ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتا ہے اللہ تعالیٰ ایسے ہی مثالیں بیان فرماتا ہے۔

حق اور باطل کی مثال ‘ قیامت کے دن نافرمان اپنی جان کے بدلہ دنیا اور اس جیساجو کچھ اور مل جائے سب دینے کو تیار ہوں گے : یہ دو آیتیں ہیں پہلی آیت میں حق اور باطل کی دو مثالیں بیان فرمائی ہیں پہلی مثال تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے۔ یہ بارش کا پانی وادیوں میں اور نالوں میں چل دیتا ہے جو پانی چلتا ہے خس و خاشاک کو بہا کرلے جاتا ہے ‘ پانی پر بہت سا کوڑا کرکٹ جمع ہوجاتا ہے جو پھولا ہوا نظر آتا ہے اور پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہتا ہے پھر کوڑا کرکٹ تو یوں ہی بلا فائدہ رہ جاتا ہے اور ادھر ادھر کہیں ٹھہر جاتا ہے اور پانی یا تو کہیں جمع ہوجاتا ہے جس سے کھیتیاں سیراب کی جاتی ہیں اور انسان اس میں سے پیتے ہیں اور نہاتے دھوتے ہیں یا زمین میں اندر چلا جاتا ہے جو اندر کے چشموں میں جا کر مل جاتا ہے ‘ جو اصل چیز ہے یعنی نفع دینے والا پانی وہ زمین میں ٹھہر جاتا ہے اور خس و خاشاک جو بےحیثیت چیز ہے اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی نہ اسے کوئی سمیٹتا ہے نہ اس کی کوئی حفاظت کرتا ہے ‘ اور دوسری مثال یہ بیان فرمائی کہ لوگ زیور یا کوئی دوسری کام کی چیز مثلاً برتن وغیرہ حاصل کرنے کے لیے چاندی سونے کو گلاتے ہیں اور گلانے کے لیے نیچے آگ جلاتے ہیں جب آگ جلتی ہے اور سونا چاندی کو تپایا جاتا ہے تو خالص چیز علیحدہ ہوجاتی ہے اور جھاگ علیحدہ ہوجاتی ہے یہ جھاگ بھی سیلاب کے پانی کی طرح اوپر اٹھے ہوئے نظر آتے ہیں پھر یہ جھاگ تو پھینک دئیے جاتے ہیں اور اصل چیز یعنی سونا چاندی باقی رہ جاتا ہے ‘ دونوں مثالوں میں ایک چیز تو مفید اور نافع ہے جو باقی رہ جاتی ہے اور کام میں لائی جاتی ہے اور دوسری چیز فضول اور بےحیثیت اور بےکار ہوتی ہے ‘ پہلی مثال میں پانی نافع ہے اور خس و خاشاک بےکار چیز ہے اور دوسری مثال میں چاندی سونا یا دوسری دھاتیں نافع ہیں اور تپاتے وقت جو میل کچیل نکلتا ہے وہ بےکار ہے ‘ اسی طرح سے حق اور باطل یعنی ایمان اور کفر کو سمجھ لیا جائے کہ ایمان نافع چیز ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘ اور کفر باطل چیز ہے ‘ اس پر اللہ کی طرف سے کوئی اجرو ثواب نہیں بلکہ وہ دوزخ کی آگ میں داخل کرانے کا ذریعہ ہے دنیا میں کفر اگرچہ پھولا پھولا نظر آتا ہے (جیسا کہ بہتے ہوئے پانی پر خس و خاشاک اور پگھلتے ہوئے سونے چاندی کے جھاگ) لیکن انجام کے اعتبار سے بالکل بےوزن بےحقیقت اور بےفائدہ ہے۔
Ayah 13:18

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے رب کی اطاعت کی ان کے لیے جنت ہے اور جن لوگوں نے اللہ کی فرمانبرداری نہ کی اگر ان کیلئے وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اس جیسا اور بھی ہو تو وہ اس سب کو اپنی جان کے بدلہ دے دیں گے یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے برا حساب ہے اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ رہنے کی بری جگہ ہے۔

دوسری آیت میں اہل ایمان کے ثواب اور اہل کفر کی بد حالی کا تذکرہ فرمایا (لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّھِمُ الْحُسْنٰی) (جو لوگ اللہ کی دعوت حق قبول کر کے اللہ پر ایمان لائے اور اللہ کے بھیجے ہوئے دین کو قبول کیا ان کے لیے اچھا ثواب ہے یعنی جنت ہے) اور جن لوگوں نے اللہ کی دعوت کو قبول نہ کیا اس کی فرماں برداری نہ کی وہ لوگ سخت مصیبت میں ہوں گے ‘ اول تو ان سے بری طرح یعنی سخت حساب لیا جائے گا اور پھر انہیں دوزخ میں بھیج دیا جائے گا ‘ جو بہت برا ٹھکانہ ہے جب حساب اور عذاب کی مصیبت میں گرفتار ہوں گے تو اپنی جان کا بدلہ دینے کے لیے رضا مند ہوں گے وہاں کوئی مال پاس نہ ہوگا لیکن اگر بالفرض پوری زمین اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب ان کے پاس ہو اور اسی قدر اور بھی ہو تو اس سب کو دے کر جان چھڑانے پر راضی ہوں گے ‘ پارہ سوم کی آخری آیت اور پارہ ششم کے نصف پر آیت کریمہ (اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَھُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ ) کی تفسیر دوبارہ ملاحظہ کرلی جائے۔ (انوار البیان جلد اول دوم)