اعتراض برائے اعتراض
کافر لوگ ازروئے اعتراض کہا کرتے تھے کہ جس طرح اگلے پیغمبر معجزے لے کر آئے، یہ پیغمبر کیوں نہیں لائے ؟ مثلا صفا پہاڑ سونے کا بنا دیتے یا مثلا عرب کے پہاڑ یہاں سے ہٹ جاتے اور یہاں سبزہ اور نہریں ہوجاتیں۔ پس ان کے جواب میں اور جگہ ہے کہ ہم یہ معجزے بھی دکھا دیتے مگر اگلوں کی طرح ان کی جھٹلانے پر پھر اگلوں جیسے ہی عذاب ان پر آجاتے۔ تو ان کی باتوں سے مغموم و متفکر نہ ہوجایا کر، تیرے ذمے تو صرف تبلیغ ہی ہے تو ہادی نہیں، ان کے نہ ماننے سے تیری پکڑ نہ ہوگی۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، یہ تیرے بس کی بات نہیں۔ ہر قوم کے لئے رہبر اور داعی ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہادی میں ہوں تو تو ڈرانے والا…
Read the full tafseer →سورة الرَّعْد 15
نشانی سے ان کی مراد ایسی نشانی تھی جسے دیکھ کر ان کو یقین آجائے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ وہ آپ ﷺ کی بات کو اس کی حقانیت کے دلائل سے سمجھنے کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ آپ ﷺ کی سیرت پاک سے سبق لینے کے لیے تیار نہ تھے۔ اس زبردست اخلاقی انقلاب سے بھی کوئی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے تیار نہ تھے جو آپ ﷺ کی تعلیم کے اثر سے آپ ﷺ کے صحابہ کی زندگیوں میں رونما ہو رہا تھا۔ وہ ان معقول دلائل پر بھی غور کرنے کے لیے تیار نہ تھے جو ان کے مشرکانہ مذہب اور ان کے اوہام جاہلیت کی غلطیاں واضح کرنے کے لیے قرآن میں پیش کیے جا رہے تھے۔ ان سب چیزوں کو چھوڑ کر وہ چاہتے تھے کہ انہیں کوئی کرشمہ دکھایا جائے جس…
Read the full tafseer →(آیت) وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ
یعنی یہ کفار آپ ﷺ نبوت پر اعتراض کرنے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ ان پر خاص معجزہ جس کو طلب کرتے ہیں وہ کیوں نازل نہیں کیا گیا سو اس کا جواب واضح ہے کہ معجزہ ظاہر کرنا پیغمبر اور نبی کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ براہ راست وہ حق تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے۔
وہ اپنی حکمت سے جس وقت جس طرح کا معجزہ ظاہر کرنا پسند فرماتے ہیں اس کو ظاہر کردیتے ہیں وہ کسی کے مطالبہ اور خواہش کے پابند نہیں اسی لئے فرمایا (آیت) اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌ یعنی آپ ﷺ کافروں کو خدا کے عذاب سے صرف…
Read the full tafseer →وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۔
مطالبۂ عذاب کا جواب : " ایات " سے مراد یہاں کوئی نشانی عذاب ہے۔ اوپر والی ایت میں جس عذاب کے لیے عجلت کا ذکر ہے یہ اسی کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر ہمیں جس عذاب کے ڈراوے ہر وقت سنا رہے ہیں آخر اس کی کوئی نشانی یہ کیوں نہیں دکھاتے ؟ فرمایا کہ تمہارا کام صرف لوگوں کو اس عذاب سے خبردار کردینا ہے، اس کی کوئی نشانی دکھانا یا اس عذاب کو لادینا تمہارا کام نہیں ہے۔ یہ ہمارا کام ہے۔ تم اپنا کام کرو اور ہمارا کام ہم پر چھوڑو۔ ان کی بکواسوں کی پروا مت کرو۔ ولکل…
Read the full tafseer →7۔ 1 ہر نبی کو اللہ نے حالات و ضروریات اور اپنی مشیت و مصلحت کے مطابق کچھ نشانیاں اور معجزات عطا فرمائے لیکن کافر اپنے حسب منشا معجزات کے طالب ہوتے رہے ہیں۔ جیسے کفار مکہ نبی ﷺ کو کہتے کہ کوہ صفا کو سونے کا بنادیا جائے یا پہاڑوں کی جگہ نہریں اور چشمے جاری ہوجائیں، وغیرہ وغیرہ جب ان کی خواہش کے مطابق معجزہ صادر کر کے نہ دکھایا جاتا تو کہتے کہ اس پر کوئی نشان (معجزہ) نازل کیوں نہیں کیا گیا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے پیغمبر ! تیرا کام صرف تبلیغ ہے۔ وہ تو کرتا رہ کوئی مانے نہ مانے، اس سے تجھے کوئی غرض نہیں، اس لئے کہ ہدایت دینا یہ ہمارا کام ہے۔ تیرا کام راستہ دکھانا ہے، اس راستے پر چلا دینا، یہ…
Read the full tafseer →13: آنحضرت ﷺ کو بہت سے معجزات دئیے گئے تھے، لیکن کفار مکہ اپنی طرف سے نت نئے معجزات کی فرمائش کرتے رہتے تھے۔ اور جب ان کا کوئی مطالبہ پورا نہ ہوتا تو وہ یہ بات کہتے تھے جو اس آیت میں مذکور ہے۔ جواب میں قرآن کریم نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ تو ایک پیغمبر ہیں وہ اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر کوئی مجعزہ نہیں دکھا سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے پاس ایسے پیغمبر بھیجے ہیں ان سب کا یہی حال تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
آیت نمبر 2 تا 7
آسمان کیا ہیں اور ان کا مفہوم مختلف ادوار میں لوگ کیا سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے ، لیکن یہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ ایک عظیم منفر اور عظیم کائنات ہے۔ جب بھی کوئی ان پر غور کرتا ہے اور معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی عظمت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ پھر یہ سب نظام کسی ظاہری سہارے کے بغیر قائم ہے۔ جس طرح اس زمین پر کوئی چیز بغیر سہارے کے نہیں ہوتی ، ایسا سہارا جو ہمیں نظر آئے۔ بغیر عمد ترو نہا۔
یہ اس پوری کائنات کی تصویر کشی کے سلسلے میں پہلا ٹچ ہے اور انسانی وجدان اور قوت مدرکہ کے لئے یہ ایک پہلی ضرب ہے ، خصوصاً جبکہ انسان اس عظیم کائنات پر غور کر رہا ہو اور وہ سوچے کہ…
Read the full tafseer →2 یعنی جو نشانی ہم مانگتے ہیں وہ کیوں نہیں اتری جسے دیکھ کر ہم ایمان لانے پر مجبور ہوجاتے۔
3 یعنی آیات کا اتارنا آپ کے قبضہ میں نہیں، یہ تو خدا کا کام ہے جو آیت پیغمبر کی تصدیق کے لیے مناسب ہو دکھلائے۔ آپ کا فرض اسی قدر ہے کہ خیر خواہی کی بات سنا دیں اور برائی کے مہلک انجام سے لوگوں کو آگاہ کردیں۔ پہلے بھی ہر قوم کی طرف ہادی " راہ بتانے والا " اور نذیر ڈرانے والے آتے رہے ہیں۔ ان میں سے کسی کا یہ دعویٰ نہیں ہوا کہ جو نشان معاندین طلب کریں گے ضرور دکھلا کر رہیں گے ہاں خدا کی راہ دکھانا ان کا کام تھا وہ ہی آپ ﷺ کا ہے۔ البتہ وہ خاص خاص قوم کے لیے ہادی تھے آپ ﷺ دنیا کی ہر قوم کے لیے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 7 وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ
مشرکین مکہ بار بار اسی دلیل کو دہراتے تھے کہ اگر آپ رسول ہیں تو آپ کے رب کی طرف سے آپ کو کوئی حسی معجزہ کیوں نہیں دیا گیا ؟
اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ
جس طرح ہم نے ہر قوم کے لیے پیغمبر بھیجے ہیں اسی طرح آپ کو بھی ہم نے ان لوگوں کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا ہے۔ آپ کے ذمہ ان کی تبشیر ‘ تنذیر اور تذکیر ہے۔ آپ اپنا یہ فرض ادا کرتے رہیں۔
Read the full tafseer →12 حسی مطا لبات کے پورا ہونے پر بھی کافر ایمان نہیں لا تے۔ یعنی انھیں کوئی ایسا حسی معجزہ درکار ہے جس سے ان کو یقین آئے کہ آپ فی الواقع اللہ کے نبی ہیں اور سچے ہیں۔ حالانکہ منکرین حق ایسے حسی معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہیں لایا کرتے۔ کیا صالح کے معجزہ اونٹنی کو دیکھ کر ان کی قوم ان پر ایمان لے آئی تھی۔ یا عصائے موسیٰ (علیہ السلام) اور یدبیضا دیکھ کر ان کی قوم ان پر ایمان لے آئی تھی یا سیدنا عیسیٰ جو مردوں کو زندہ کرتے تھے تو یہود ان پر ایمان لے آئے تھے ؟ ایسے معجزات دیکھ کر بھی معاندین ایمان نہیں لاتے بلکہ ان کی دوسری مادی توجیہات بیان کرنا شروع کردیتے ہیں۔ لہذا اگر مشرکین مکہ قرآن کے دلائل…
Read the full tafseer →13۔ ( اور آپ (علیہ السلام) کا اصل کام سرکشوں کو ڈرانا اور انہیں راہ بتانا ہے نہ کہ ہر فرمایشی معجزہ کی تعمیل کرتے رہنا) قرآن مجید نے پورا پورا جواب ذرا سے فقرہ میں اعجوبہ پرستوں کو دے دیا کہ یہ نادان رسول ﷺ کی صداقت کا معیار فرمایشی خوارق ومعجزات کو سمجھ رہے ہیں، یہ کس قدر جہل ہے ؟ کہ پیغمبر کے اصلی فرائض سے اسے اصلا تعلق نہیں، انجیل میں حالانکہ صاحب انجیل اپنے خوارق ومعجزات ہی کے لئے سب سے زیادہ مشہور ہیں معجزات کی فرمایش کرنے والوں پر یوں لتاڑ آئی ہے :۔” اے استاد ہم تجھ سے ایک نشان دیکھنا چاہتے ہیں، اس نے جواب دے کر ان سے کہا کہ اس زمانہ کے برے اور زنا کار لوگ نشان طلب کرتے ہیں۔ “ (متی۔ 12:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 7
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے، المر، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیتیں قرآن کریم کی آیتیں ہیں اور (آیاتُ الکتاب) میں اضافت بمعنی مِنْ ہے اور جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے اتارا جاتا ہے سب حق ہے (یعنی) اس میں کوئی شک نہیں ہے، (وَالَّذِیْ اُنزلَ اِلیک الخ) مبتداء ہے اور الحقُّ اس کی خبر ہے، لیکن اکثر لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے کہ یہ منجانب اللہ ہے اور وہ اہل مکہ ہیں، اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر بلند فرمایا جو تم کو نظر آتے ہوں، العمد، عمادٌ کی جمع ہے اور وہ ستون ہیں اور عدم…
Read the full tafseer →ویقول الذین کفروا لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ اور یہ کفار کہتے ہیں : ان پر کوئی (خاص) معجزہ) جو ہم چاہتے ہیں) کیوں ان کے رب کی طرف سے نہیں نازل کیا گیا ؟ اٰیَۃٌ یعنی کوئی خاص نشانی اور معجزہ جو ان کی نبوت کو ثابت کر رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ پر جو معجزات نازل کئے گئے ‘ کافروں کے نزدیک درخور اعتناء نہیں تھے اور عناد و ضد کی وجہ سے (خودپسند) معجزات کے طلب گار تھے۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا :
انما انت منذر ولکل قوم ھاد آپ صرف (مخالفت کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والے (نبی) ہیں اور ہر قوم کیلئے راہنما ہوتے چلے آئے ہیں۔ یعنی آپ کے ذمے صرف احکام الٰہی پہنچا دینا اور (نہ ماننے والوں کو عذاب کا)…
Read the full tafseer →(7) اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے منکر یوں بھی کہتے ہیں کہ ان پر خاص معجزہ کیوں نہیں اتارا گیا جیسا کہ پہلے انبیاء ؑ پر معجزات نازل کیے گئے تھے، محمد ﷺ آپ تو صرف عذاب خدا سے ڈرانے والے رسول ہیں، اور ہر ایک قوم کے لیے نبی ہوتے چلے آئے، یا یہ کہ داعی جو ان کو گمراہی سے نجات دے کر ہدایت کی طرف دعوت دیتے رہے۔
Read the full tafseer →وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ ۭ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی ایک اور کمینگی کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ یہ کفار تمام انبیاء کی آیات (معجزوں) سے بڑی آیت (بڑا معجزہ یعنی قرآن مجید) دیکھنے کے باوجود کہہ رہے ہیں کہ اس پر کوئی آیت (معجزہ) نازل کیوں نہیں ہوئی۔ ان کے مطالبوں کی مثال دیکھنی ہو تو دیکھیے سورة بنی اسرائیل (90 تا 93) آیت یعنی نشانی دو قسم کی ہوتی ہے، ایک تنزیلی یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اترنے والے احکام و آیات اور دوسری تکوینی یعنی جن کا مقابلہ کرنے سے ساری کائنات عاجز ہو۔ قرآن میں دونوں خوبیاں ہیں، اس میں ہدایت کی آیات بھی ہیں اور ساری دنیا کو پہلے پوری کتاب،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
آیت نمبر 6 تا 7
قولہ تعالیٰ : ویستعجلونک بالسیئۃ قبل الحسنۃ یعنی اپنے انکار اور تکذیب کی زیادتی کی وجہ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق اس سے مراد ان کا یہ قول ہے : اللہھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء (الانفال : 32) یا اللہ ! اگر تیری طرف سے یہی حق ہے تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا۔ حضرت قتادہ نے کہا : انہوں نے معافی سے پہلے سزا کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پروردگار عالم نے اس امت سے سزا کو قیامت تک مؤخر کرنے کا فیصلہ فرما دیا ہے۔ ایک قول کے مطابق : قبل الحسنۃ سے مراد قبل الایمان ہے جس کی وجہ سے امان اور نیکیوں کی امید ہوتی ہے۔ المثلث سے مراد عقوبات…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یقول الذین کفروا لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ “ یہ قول ہے عرب کے مشرکوں (آیت) ” انما انت منذر ولکل قوم ھاد “ یعنی ہر قوم کے لئے ایک بلانے والا ہوتا ہے جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے۔
ہرقوم کے لئے ہادی ہونا :
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم ابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولکل قوم ھاد “ یعنی پلانے والا۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما انت منذر ولکل قوم ھاد “ میں منذر سے مراد محمد ﷺ اور (آیت) ” ولکل قوم ھاد…
Read the full tafseer →[وَيَقُوْلُ : اور کہتے ہیں ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ لَوْلَآ : کیوں نہیں ] [ انزِلَ : اتاری گئی ] [ عَلَيْهِ : ان ﷺ پر ] [ اٰيَةٌ: کوئی نشانی ] [ مِّنْ رَّبِهٖ : ان ﷺ کے رب (کی طرف) سے ] [انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [انتَ : آپ ﷺ ] [ مُنْذِرٌ: خبردار کرنے والے ہیں ] [وَّلِكُلِ قَوْمٍ هَادٍ : اور ہر قوم کے لئے ایک ہدایت دینے والا ہے ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 7 میں جو یہ ارشاد ہے کہ ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہے، اس سے ثابت ہوا کہ کوئی قوم اور کوئی خطۂ ملک اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ہدایت کرنے والوں سے خالی نہیں ہوسکتا، خواہ وہ نبی ہو یا اس کے قائم مقام نبی کی…
Read the full tafseer →فرمائشی معجزہ طلب کرنے والوں کا عناد :
پھر فرمایا (وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ) (یعنی کافر لوگ یوں کہتے ہیں کہ اگر آپ رسول ہیں تو آپ کی تصدیق اور تائید کے لیے وہ معجزہ ظاہر ہونا چاہئے جو ہم چاہتے ہیں) جاہلوں نے ضد وعناد اور ایمان لانے سے انکار کرنے کے لیے جو حیلے تراشے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ہم جو معجزہ چاہتے ہیں وہ ظاہر ہونا چاہئے۔ در حقیقت معجزہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور فضل ظاہر کیا جاتا تھا اصل چیز تو دلائل ہیں جب دلائل سے حق واضح ہوگیا اور نبی کی نبوت ثابت ہوگئی تو نبی پر ایمان لانا فرض ہوجاتا تھا لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
منکرین نبوت کے شبہات اور ان کے جوابات
قال اللہ تعالیٰ : وان تعجب فعجب قولہم .... الیٰ .... انما انت منذر ولکل قوم ھاد
(ربط) اوپر کی آیتوں میں توحید کا مضمون تھا اب ان آیات میں منکرین نبوت کے تین شبہات کے جوابات مع وعید و تبدید ذکر کرتے تھے کہ یہ کیسے نبی ہیں جو ایک محال اور ناممکن کی خبر دیتے ہیں اور اس پر ایمان لانے کا حکم دیتے ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں ہے ہل ندلکم علی رجل تنبئکم اذا مذقتم کل ممزق انکم لفی خلق جدید افتری علی اللہ کذبا ام بہ جنۃ (دوسرا) شبہ یہ تھا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں تو آپ کے منکرین اور مکذبین پر عذاب کیوں نازل نہیں ہوتا کما قال اللہ تعالیٰ واذ قالوا اللہم ان کان ھذا ھو الحق…
Read the full tafseer →9: یہ شکویٰ ہے۔ یہ ضدی اور معاند لوگ بات اس قدر واضح اور ظاہر ہونے کے باوجود نہیں مانتے اور ٓپ سے معجزہ طلب کرتے ہیں۔ ” اِنَّمَا اَنْتَ مُنْذِرٌ الخ “ جواب شکوی ہے۔ معجزہ لانا آپ کے اختیار میں نہیں۔ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں آپ کا کام اللہ تعالیٰ کا پیغام ان تک پہنچانا ہے جس طرح پہلے انبیاء اپنی قوموں کو اللہ کا پیغام دیتے اور انہیں اللہ کی توحید کی طرف بلاتے رہے (وَ لِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ ) من الانبیاء یھدیھم الی الدین و یدعوھم الی اللہ الخ (مدارک ج 3 ص 187) ۔ پہلی عقلی دلیل دعوی اولیٰ (اللہ کے سوا کوئی کارساز نہیں) کے لیے تھی اور یہاں تک بشارتیں، تخویفیں، زجریں اور شکوے بھی سی دعوی سے متعلق تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(ربط آیات)
اس سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ پر مشتمل بعض دلائل توحید بیان فرمائے ہیں ، زمین اور اس میں پیدا ہونے والے مختلف قسم کے درختوں اور پھلوں کا ذکر فرمایا ، سارے ایک پانی سے سیراب ہونے والے پھلوں کے ذائقے اور رنگ مختلف ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا کام ہے ، فرمایا کہ ان میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانیاں ہیں ، ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں اور غوروفکر کرتے ہیں ، جو ایسا نہیں کرتے ان کو یہ واضح دلائل بھی کچھ مفید نہیں ہوتے ، وہ اپنی جہالت اور نادانی میں ہی پڑے رہتے ہیں ، اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر…
Read the full tafseer →وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ ۧ
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
1 ؎ جس کے وہ طالب تھے ورنہ بہت سی نشانیاں اتری تھیں یا وہ نشانیاں ان کو نشانیاں ہی نہ معلوم ہوتی تھیں بات کو معمولی سمجھ کر ٹھٹھوں میں ٹال دیتے تھے۔ یہ پورا اندھا پن ہے جس کی طرف بہت جگہ قرآن میں اشارہ ہوا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ط اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌوَّلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ ۔ (سورۃ الرعد : 7)
(اور جن لوگوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی، تم تو بس ایک خبردار کردینے والے ہو اور ہر قوم کے لیے ایک ہادی ہے۔ )
مشرکین کے مطالبہ کا جواب
مشرکین نبی کریم ﷺ کی دعوت و تبلیغ کو ناکام کرنے اور بعض دفعہ آپ ﷺ کو زچ کرنے کے لیے کبھی تو عذاب کا بار بار مطالبہ کرتے بلکہ اس کا مذاق اڑاتے اور کبھی یہ کہتے کہ اگر آپ واقعی اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسالت دے کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : آخرت کا منکر ہونے کی وجہ سے کفار جلد بازی کا مظاہرہ کرکے دنیا میں عذاب کا مطالبہ کیا کرتے ہیں۔
آخرت کا انکار کرنے والے شخص میں خدا خوفی کا تصور بالآخرختم ہوجاتا ہے۔ جس کی بنا پر اس سے ایسے گناہ اور جرائم سرزد ہوتے ہیں جس کا ایماندار شخص تصور بھی نہیں کرسکتا۔ آخرت کے انکار کی وجہ سے کفار جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ سے بار بار یہ مطالبہ کرتے تھے کہ اگر تو واقعی اللہ کا پیغمبر اور یہ قرآن من جانب اللہ ہے تو اس کا انکار کرنے کی وجہ سے ہم پر عذاب نازل کیوں نہیں ہوتا۔ قرآن مجید نے کفار کے اس مطالبے کا مختلف انداز میں جواب دیا ہے۔ یہاں اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد…
Read the full tafseer →من پسند نشانی کیوں نہیں لائے ؟
7: وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ (اور کافر کہتے ہیں کیونکر اس پر اتاری نہیں جاتی کوئی نشانی اسکے رب کی طرف سے) رسول اللہ ﷺ پر اتاری جانے والی آیات کو کافر درخور اعتناء ہی نہ سمجھتے۔ عناد سے انکار کرتے خود پسند معجزات موسٰی و عیسیٰ (علیہما السلام) جیسے عصا کا سانپ بن جانا مردوں کا زندہ ہونا۔ وغیرہ کے طلب گار تھے۔ رسول اللہ ﷺ کو کہا گیا۔ اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌ (بیشک آپ ڈرانے والے ہیں) بیشک آپکو منذر بنا کر بھیجا گیا۔ برے انجام سے آپ انکو ڈرانے والے اور دوسرے رسولوں کی طرح خیر خواہی کرنے والے ہیں اور آپکے ذمہ صرف…
Read the full tafseer →7۔” ویقول الذین کفروا لولا انزل علیہ “ یعنی محمد ﷺ یہ کوئی معجزہ نازل کیوں نہیں ہوتا ۔ ” آیۃ من ربہ “ اس کی نبوت پر دلیل اور حجت بنے۔” انما انت منذر “ بمعنی ڈرانے والا ” ولکل قوم ھاد “ یعنی ہر ایک قوم کے لیے ایک نبی جوان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔ کلبی (رح) کا قول ہے کہ ایک دعوت دینے والا ان کو دعوت دیتا ہے حق کو طرف یا گمراہی کی طرف ۔ عکرمہ (رح) کا قول ہے ہادی سے مراد ہیں رسول اللہ ﷺ یعنی آپ (علیہ السلام) تو صرف ڈرانے والے اور ہر قوم کو سیدھا راستہ دکھانے والے ، سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ہادی اللہ تعالیٰ ہیں ۔
Read the full tafseer →7۔ یہ مشرکوں کا وہی پرانا سوال ہے جس کو بار بار وہ کہہ چکے تھے کہ اگلے رسولوں کو تو بڑی بڑی نشانیاں ملی تھیں حضرت موسیٰ کو عصا اور ید بیضا ملا تھا حضرت صالح کے وقت میں اونٹنی پیدا ہوئی تھی عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کرتے تھے آپ بھی کوئی نشانی دکھلائیے اس صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دیجئے یا یہ پہاڑ یہاں سے اکھڑ کر کہیں دور چلا جاوے اور یہاں ایک خوشنما باغ لگ جائے اگر آپ ایسا کریں گے تو ہم آپ کو سچا سمجھیں گے اور ایمان لائیں گے اللہ جل شانہ نے حضرت ﷺ سے فرمایا کہ تم ان کے سوال کے پورا ہونے کی زیادہ خواہش نہ کرو تمہارے متعلق تو صرف اتنی بات ہے کہ تم ان لوگوں کو نصیحت کر دو کیونکہ رسول تو فقط…
Read the full tafseer →یعنی کفار آپ ﷺ سے بغیر سوچے سمجھے اور اپنی خواہشات کے مطابق معین آیات و معجزات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : (آیت) ” کیوں نہیں اتاری گئی آپ پر کوئی نشانی، آپ کے رب کی طرف سے “ معجزات کے مطالبے کا جواب نہ ملنے پر رسول اللہ ﷺ کے سامنے عذر پیش کرتے ہوئے یہ بات کہتے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ تو محض ڈرانے والے ہیں آپ کو کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو آیات و معجزات نازل فرماتا ہے۔ اس نے ایسے واضح دلائل کے ساتھ رسول کی تائید فرمائی جو عقل مندوں پر مخفی نہیں ہیں اور طالب حق ان دلائل کے ذریعے سے راہ راست پاسکتا ہے۔ رہا منکر حق، جو اپنے ظلم و جہالت کی وجہ سے بغیر سوچے سمجھے آیات و…
Read the full tafseer →قول باری ہے (انما انت منذر ولکل قوم ھاد۔ تم تو محض خبردار کرنے والے ہو اور ہر قوم کے لئے ایک رہنما ہے) حضرت ابن عباس ؓ ، سعید بن جبیر، مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ ہادی تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے نیز قتادہ سے کہ ہر امت کا نبی اس کا ہادی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ ہادی وہ شخص ہے جو حق کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے، حسن، قتادہ، ابو الضحی اور عکرمہ سے مروی ہے کہ ہادی حضور اکرم ﷺ ہیں۔ یہی تاویل درست ہے اس لئے کہ عبارت کی ترتیب اس طرح ہے (انما انت منذرو ھاد لکل قوم) تم ہر قوم کو خبردار کرنے والے اور ہدایت دینے والے ہو) منذر کو ہادی کہتے ہیں اور ہادی کو منذر۔ دونوں ہم…
Read the full tafseer →23۔ منکرین کی طرف سے نشانی کا مطالبہ اور اس کا جواب :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ کافر لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں اتاری گئی ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے۔ یعنی اس طرح کے معجزات آپ کو کیوں نہیں دئے گئے جو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دئے گئے تھے۔ یا یہ کہ ہماری فرمائش کے مطابق صفا کی پہاڑی کو سونے کا بنادیا جائے اور مکہ مکرمہ کی پہاڑیوں کو اپنی جگہ سے ہٹا کریہاں پر سرسبز و شاداب باغات کا سلسلہ قائم کردیا جائے وغیرہ وغیرہ (جامع البیان، صفوۃ التفاسیر اور مراغی وغیرہ وغیرہ) سو یہ ان لوگوں کے عناد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے ورنہ پیغمبر کو اتنے اور ایسے ایسے…
Read the full tafseer →معجزے کا مطالبہ
تشریح : اس آیت میں بھی کفار مکہ کا جواب ہے۔ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو اپنے رب سے کہیں ہماری فرمائش کے مطابق فرشتوں کو لا سامنے کھڑا کریں یا آسمان کا ٹکڑا گرا دے وغیرہ وغیرہ۔ تو اس پر اللہ جواب دیتا ہے کہ ان کو اچھی طرح سمجھا دو کہ میں تو صرف و عظ و نصیحت اور ہدایت دینے کے لیے بھیجا گیا ہوں جیسا کہ جب سے دنیا شروع ہوئی ہے ہر زمانہ اور ہر قوم و ملک کے لیے اللہ تعالیٰ پیغمبر اور رسول بھیجتے رہے تاکہ لوگوں کو راہ ہدایت بتائیں۔ میں کوئی جادوگر نہیں کہ تمہاری فرمائشیں پوری کروں۔ معجزہ تو اللہ کی مرضی سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور پھر جن لوگوں نے ایمان لانا ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الرعد :
رکوع نمبر 1 :
اسرارومعارف :
(آیت) ” الم ، تلک ایت الکتب۔ 1 تا 7 ۔ یہ سورة مبارکہ بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے اور سورة یوسف کے آخر کا مضمون یعنی توحید باری کا ثبوت اور نبوت کی حقانیت ہی کے دلائل کا تسلسل ہے کہ ارشاد ہوتا ہے کہ یہ مضامین ایک بےمثال کتاب میں ہیں جو اللہ کا ذاتی کلام ہے اور جو بجائے خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے کہ اس کی نظیر پیش کرنا انسانی بس میں نہیں اور جو کچھ اس میں فرمایا گیا ہے ، انسان کبھی اسے غلط ثابت نہیں کرسکتا اگرچہ اس میں دنیاوی امور کے بارے افزائش کے مسائل اور صورتیں سیاسیات ، اخلاقیات اور معاشیات تک بیان کی گئی ہیں واقعات عالم کے بارے…
Read the full tafseer →ف 7 ۔ جسے دیکھ کر ہمیں پتلا چل جاتا کہ یہ واقعی اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔
8 ۔ ی سے خلفاء اربعہ ؓ اور سلف (رح) کہ اس امت کے بادی ہو گزرے ہیں۔ مستدرک حاکم میں روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میں منذر ہوں اور تو ہادی ہے۔ “ مگر یہ روعایت صحیح نہیں ہے پھر خلافت بلافصل پر اس سے استدلال بھی غلط ہے۔ کما لا یخفی (روح) ۔
Read the full tafseer →(12:7) لولا ۔ کیوں نہیں۔
ایۃ۔ سے مراد یہاں معجزہ ہے (یعنی معجزے تو ان کو بار ہا دکھائے گئے لیکن ہر دفعہ کسی نئے معجزہ کا وہ مطالبہ کرتے رہے) ۔
منذر۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ انذار (افعال) مصدر۔ ڈرانے والا۔
ھاد۔ اصل میں ھادی تھا۔ اسم فاعل واحد مذکر ھدایۃ مصدر (باب ضرب) راستہ بتانے والا۔ ہدایت کرنے والا۔
ولکل قوم ھاد۔ اور ہر قوم کے لئے آپ ہادی ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہوا ہے جیسے پہلے انبیاء (علیہم السلام) اپنی اپنی قوموں کی طرف ہدایت کے لئے بھیجے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 7
تعجب تو تعجب اور حیرت کرتا ہے ءاذا کیا جب تراب مٹی خلق جدید نئی پیدائش الا غلل طوق۔ گلے کا ہار اعناق (عنق) ۔ گردنیں یستعجلون وہ جلدی مچاتے ہیں السیئۃ برائی الحسنۃ نیکی، بھلائی قدخلت یقینا گذر گئی المثلت (مثل) عبرت کے واقعات ذو مغفرۃ معافی دینے والا شدید العقاب سخت عذاب دینے والا ایۃ نشانی، معجزہ منذر ڈرانیو الا ھاد ہدایت دینے والا۔ رہنمائی کرنے والا
تشریح : آیت نمبر 5 تا 7
کفار مکہ ہر روز کوئی نہ کوئی اعتراض کر کے اپنی جہالت، تعصب اور حسد کا اظہار کرتے رہتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام شبہات اور سوالات کے جوابات گزشتہ آیات میں دے کر ایک مرتبہ پھر ان کے چند شبہات…
Read the full tafseer →یہ مشرکوں کا وہی پرانا سوال ہے جس کو بار بار وہ کہہ چکے تھے کہ اگلے رسولوں کو بڑی بڑی نشانیواں ملی تھیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور ید بیضا ملا تھا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے وقت میں اونٹنی پیدا ہوئی تھی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کرتے تھے آپ بھی کوئی نشانی دکھائیے، اس صفا پہار کو سونے کا بنا دیجئے یا یہ پہار یہاں سے اکھڑ کر کہیں اور چلا جاوے اور یہاں ایک خوشنما باغ لگ جائے۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو ہم آپ کو سچا سمجھیں گے اور ایمان لائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ سے فرمایا کہ تم ان کے سوال کے پورا ہونے کی زیادہ خواہش نہ کرو، تمہارے متعلق تو صرف اتنی بات ہے کہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
[8] بچے میں یا مدت میں۔ مثلاً کبھی ایک بچہ پیدا ہوتا ہے کبھی ایک سے زیادہ۔ کبھی جلدی ہوتا ہے کبھی دیر میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(ف 2) یعنی معجزہ طلبی کی عادت اچھی نہیں ہے غور کرنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا حضور ان تمام صفات حسنہ سے متصف ہیں ، ادیان مذاہب کے لئے ضروری ہیں ، اور کیا صحیح معنوں میں آپ قوم کے قائد ونذیر قرار دیئے جاسکے ہیں ؟ معجزات کا اظہار یقینا نبوت کے علائم ظاہری میں سے ہے ، مگر یہ کیا کم معجزہ ہے کہ دلوں کو بدل دیا جائے اور ان میں نور وعرفان بھر دیا جائے ، رسول اللہ ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ یہی دلوں کو تبدیلی ہے ۔
حل لغات :
الاغلال : طوق ہائےْ
Read the full tafseer →7 ۔ اور یہ دین حق کے منکروں کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر جو معجزہ ہم چاہتے ہیں وہ منہ مانگا معجزہ کیوں نہیں نازل ہوا ۔ اے پیغمبر آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور آپ کا کام تو صرف ڈر سنا دینا ہے بلکہ ہر قوم کے لئے کوئی نہ کوئی ہادی اور رہنما ہوا ہے۔ یعنی معجزوں کی فرمائش کا پورا کرنا آپ کے اختیار میں نہیں آپ تو کافروں کو خدا کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں ، پھر یہ کہ آپ کوئی انوکھے پیغمبر نہیں ہیں بلکہ ہر قوم میں ہادی ہوتے چلے آئے ہیں خواہ ہر قوم میں کوئی بالذات پیغمبر اور رسول آیا ہو یا رسول کا رسول آیا ہو کسی ہادی نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ جو معجزہ تم مانگو گے وہ ضرور تم کو دکھایا جائیگا اور ایسے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ف 2۔ یعنی لڑکا ہے یا لڑکی ہے۔
3۔ بچہ میں یامدت میں مثلا کبھی ایک بچہ ہوتا ہے کبھی زیادہ کبھی جلدی ہوتا ہے کبھی دیر میں۔
Read the full tafseer →کفر کا شیوہ اختیار کرنے والوں کو اعتراض ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی ؟
15 ؎ کفر کیا ہے ؟ انکار کا دوسرا نام۔ پھر جب ایک آدمی نہ ماننے کی قسم کھالے تو اس کا علاج ؟ وہی جو نافرمان قوموں اور انسانوں کا ہوتا آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بار بار یہ کہا ہے کہ ہم نے اس قرآن میں عبرت و موعظت کی تمام باتیں دہرا دہرا کر بیان کردیں مگر یہ باتیں انہی کے دلوں کو پکڑ سکتی ہیں جن میں سچائی کی طلب ہے ورنہ اکثروں کا حال یہ ہے کہ انکار و سرکشی میں بڑھے ہی جاتے ہیں۔ پھر قرآن کریم نے ان کے انکار و سرکشی کی باتیں نقل بھی کی ہیں۔ فرمایا وہ کہتے ہیں ہم تو جبھی مانیں گے جب تم ہم کو اس طرح کی…
Read the full tafseer →(that is, in order to raise an objection against the prophethood of Sayyidna Muhammad al-Mustafa ﷺ ، they say) 'Why has the specific miracle they demand has not been shown by him?' The answer is clear. The showing of a miracle is not within the control of a prophet or messenger. Instead, that is directly an act of God. It is He who elects to show a miracle, of whatever kind, at any time, and in His wisdom - all as deter-mined by Him alone. He is not restricted by or burdened with anyone's demand or desire. Therefore, it was said: إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرٌ (You are but a warner), that is, the…
Read the full tafseer →15. This showed their mentality. The only criterion of judging whether Muhammad (peace be upon him) was a true Prophet or not according to these disbelievers, was whether he would perform a miracle to them. This was because they would not judge his message by rational arguments: they would not learn a lesson from his high character nor from the moral revolution that was being brought about among his companions by his message and noble example: nor would they carefully consider the rational arguments given in the Quran to prove the errors of their religion of shirk and superstitions of…
Read the full tafseer →