Ar-Ra'd 13:6

Ar-Ra'd · from ayah 6

13:6

وَیَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ ؕ— وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰی ظُلْمِهِمْ ۚ— وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ ۟وَيَسۡتَعۡجِلُوۡنَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبۡلَ الۡحَسَنَةِ وَقَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِمُ الۡمَثُلٰتُ‌ؕ وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوۡ مَغۡفِرَةٍ لِّـلنَّاسِ عَلٰى ظُلۡمِهِمۡ‌ۚ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيۡدُ الۡعِقَابِ‏

اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار یعنی (طالب عذاب) ہیں حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع) ہوچکے ہیں اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود ان کی بےانصافیوں کے معاف کرنے والا ہے۔ اور بےشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They impatiently urge you to bring about evil before good, while there has already occurred before them similar punishments [to what they demand]. And indeed, your Lord is full of forgiveness for the people despite their wrongdoing, and indeed, your Lord is severe in penalty.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Ra'd

All translations of 13:6

یہ لوگ بھلائی سے پہلے برائی کے لیے جلدی مچا رہے ہیں حالانکہ ان سے پہلے (جو لوگ اس روش پر چلے ہیں ان پر خدا کے عذاب کی) عبرت ناک مثالیں گزر چکی ہیں حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود ان کے ساتھ چشم پوشی سے کام لیتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تیرا رب سخت سزا دینے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار یعنی (طالب عذاب) ہیں حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع) ہوچکے ہیں اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود ان کی بےانصافیوں کے معاف کرنے والا ہے۔ اور بےشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو تجھ سے (سزا کی طلبی میں) جلد کر رہے ہیں راحت سے پہلے ہی، یقیناً ان سے پہلے سزائیں (بطور مثال) گزر چکی ہیں، اور بیشک تیرا رب البتہ بخشنے واﻻ ہے لوگوں کے بے جا ﻇلم پر بھی۔ اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ تیرا رب بڑی سخت سزا دینے واﻻ بھی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ لوگ خوشحالی (کی میعاد ختم ہونے) سے پہلے تم سے بدحالی کی جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ ان سے پہلے ایسے عذاب کے واقعات گزر چکے ہیں جس نے لوگوں کو رسوا کر ڈالا تھا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ لوگوں کے لیے ان کی زیادتی کے باوجود تمہارے رب کی ذات ایک معاف کرنے والی ذات ہے، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کا عذاب بڑا سخت ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں رحمت سے پہلے اور ان اگلوں کی سزائیں ہوچکیں اور بیشک تمہارا رب تو لوگوں کے ظلم پر بھی انہیں ایک طرح کی معافی دیتا ہے اور بیشک تمہارے رب کا عذاب سخت ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ لوگ رحمت سے پہلے آپ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی کرتے ہیں، حالانکہ ان سے پہلے کئی عذاب گزر چکے ہیں، اور (اے حبیب!) بیشک آپ کا رب لوگوں کے لئے ان کے ظلم کے باوجود بخشش والا ہے اور یقیناً آپ کا رب سخت عذاب دینے والا (بھی) ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ تجھ سے بھلائی سے پہلے برائی کو جلدی طلب کرتے ہیں، حالانکہ ان سے پہلے کئی عبرت ناک سزائیں گزر چکیں اور بیشک تیرا رب یقینا لوگوں کے لیے ان کے ظلم کے باوجود بڑی بخشش والا ہے اور بلاشبہ تیرا رب یقینا بہت سخت سزا والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ لوگ بھلائی سے پہلے آپ سے برائی کے لئے جلدی مچا رہے ہیں حالانکہ ان سے پیشتر (ان جیسے لوگوں پر عذاب آنے کی) کئی مثالیں گزر چکی ہیں۔ اور آپ کا پروردگار لوگوں کے ظلم کے باوجود انھیں معاف کردینے والا ہے۔ اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ آپ کا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ لوگ خیر سے پہلے شر کے لیے تم سے جلدی مچائے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان سے پہلے عقوبت کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ تمہارا رب لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود ان سے درگزر کرنے والا بھی ہے اور تیرا رب سخت سزا دینے والا بھی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ لوگ جلدی مچا رہے ہیں آپ سے برائی کے لئے بھلائی سے پہلے، حالانکہ گزر چکی ہیں ان سے پہلے (کے لوگوں میں طرح طرح کے عذابوں کی) عبرتناک مثالیں، اور بیشک تمہارا رب بڑا ہی بخشنے والا ہے لوگوں کو ان کے ظلم پر، اور بیشک تمہارا رب یقینی طور پر عذاب دینے میں بھی بڑا سخت ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ لوگ آپ سے جلدی کرتے ہیں مصیبت کی قبل عافیت کے درآنحالیکہ ان کے قبل واقعات عقو بت گزر چکے ہیں۔ اور بیشک آپ کا پروردگار لوگوں کے حق میں باوجود ان کی زیادیتوں کے صاحب مغفرت ہے اور بیشک آپ کا پروردگار سخت سزا دینے والا بھی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ لوگ جلدی مچا رہے ہیں آپ سے برائی (عذاب) کے لیے بھلائی سے پہلے حالانکہ ان سے پہلے (بہت سی) مثالیں گزر چکی ہیں اور یقیناً آپ کا رب لوگوں کے حق میں معاف کرنے والا ہے ان کے ظلم کے باوجود اور یقیناً آپ کا رب سخت سزا دینے والا بھی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے آپ سے برائی کے جلد خواستگار ہیں (طالب عذاب ہیں) ، حالانکہ ان سے پہلے (عذاب کی) مثالیں گزر چکی ہیں۔ اور آپ کا پروردگار لوگوں کو ان کی بےانصافیوں کے باوجود معاف کرنے والا ہے۔ اور بیشک آپ کا رب سخت عذاب دینے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They challenge you to hasten the coming of evil upon them before the coming of any good, although people who followed a like course before had met with exemplary punishment (from Allah). Verily your Lord is forgiving to mankind despite all their wrong-doing. Verily your Lord is also severe in retribution.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They ask for evil to come sooner than good, while punishments have really come to pass (against people) earlier to them. And surely, your Lord is the lord of forgiveness for the people against their wrongdoing, and surely, your Lord is severe in punishing.

— Muhammad Taqi Usmani

They ask for evil to come sooner than good, while punishments have really come to pass (against people) earlier to them. And surely, your Lord is the lord of forgiveness for the people against their wrongdoing, and surely, your Lord is severe in punishing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They ask you to hasten the evil before the good, while exemplary punishments have indeed occurred before them. But verily, your Lord is full of forgiveness for mankind, in spite of their wrongdoing. And verily, your Lord is (also) severe in punishment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they bid thee hasten on the evil rather than the good, when exemplary punishments have indeed occurred before them. But lo! thy Lord is rich in pardon for mankind despite their wrong, and lo! thy Lord is strong in punishment.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They impatiently urge you to bring about evil before good, while there has already occurred before them similar punishments [to what they demand]. And indeed, your Lord is full of forgiveness for the people despite their wrongdoing, and indeed, your Lord is severe in penalty.

— Saheeh International

They ask you to bring upon them punishment before they ask you for mercy. Such punishments were already brought upon the people who lived before them. Your Lord, certainly, has forgiveness for the injustice of the people. He is also stern in His retribution.

— Muhammad Sarwar

And they ask you to hasten on the evil before the good, and indeed there have been exemplary punishments before them; and most surely your Lord is the Lord of forgiveness to people, notwithstanding their injustice; and most surely your Lord is severe in requiting (evil).

— Muhammad Habib Shakir

And they ask thee to hasten the evil before the good, while examples have already gone forth afore them. And thy Lord is Owner of forgiveness unto mankind despite their wrong-doing; and verily thy Lord is severe in requital

— Abdul Majid Daryabadi

They ask thee to hasten on the evil in preference to the good: Yet have come to pass, before them, (many) exemplary punishments! But verily thy Lord is full of forgiveness for mankind for their wrong-doing, and verily thy Lord is (also) strict in punishment.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 13:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

منکرین قیامت یہ منکرین قیامت کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب جلد ہی کیوں نہیں لاتے ؟ کہتے تھے کہ اے اپنے آپ پر اللہ کی وحی نازل ہونے کا دعویٰ کرنے والے، ہمارے نزدیک تو تو پاگل ہے۔ اگر بالفرض سچا ہے تو عذاب کے فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا ؟ اس کے جواب میں ان سے کہا گیا کہ فرشتے حق کے اور فیصلے کے ساتھ ہی آیا کرتے ہیں، جب وہ وقت آئے گا اس وقت ایمان لانے یا توبہ کرنے یا نیک عمل کرنے کی فرصت ومہلت نہیں ملے گی۔ اسی طرح اور آیت میں ہے آیت (ویستعجونک دو آیتوں تک۔ اور جگہ ہے سال سائل الخ اور آیت میں ہے کہ بےایمان اس کی جلدی مچا رہے ہیں اور ایماندار اس سے خوف کھا رہے ہیں اور اسے برحق جان رہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الرَّعْد 14 کفار مکہ نبی ﷺ سے کہتے تھے کہ اگر تم واقعی نبی ہو اور تم دیکھ رہے ہو کہ ہم نے تم کو جھٹلا دیا ہے تو اب آخر ہم پر وہ عذاب آ کیوں نہیں جاتا جس کی تم ہم کو دھمکیاں دیتے ہو ؟ اس کے آنے میں خواہ مخواہ دیر کیوں لگ رہی ہے ؟ کبھی وہ چیلنج کے انداز میں کہتے کہ " رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ " (خدایا ہمارا حساب تو ابھی کر دے، قیامت پر نہ اٹھا رکھ)۔ اور کبھی کہتے کہ " اَلَّھُمّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِ کَ فَاَ مْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَ ۃً مِّنَ السَّمَآ ءِ اَوِأْ تِنَا بِعَذَ ابٍ اَلِیْمٍ۔ " (خدایا اگر یہ باتیں جو محمد ﷺ پیش کر رہے ہیں حق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ ۭ وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ ۚ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ یعنی یہ لوگ ہمیشہ عافیت کی میعاد ختم ہونے سے پہلے آپ ﷺ سے مصیبت کے نازل ہونے کا تقاضا کرتے ہیں (کہ اگر آپ نبی ہیں تو فوری عذاب منگوا دیجئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ عذاب کے آنے کو بہت ہی بعید یا ناممکن سمجھتے ہیں حالانکہ ان سے پہلے دوسرے کافروں پر بہت سے واقعات عذاب کے گذر چکے ہیں جن کا سب لوگوں نے مشاہدہ کیا ہے تو ان پر عذاب آجانا کیا مستبعد ہے یہاں لفظ مثلت مثلہ کی جمع ہے جس کے معنی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ ۭ وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ ۚ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَاب۔ عاقل وہ ہے جو دوسروں سے سبق حاصل کرے : مَثُلٰتُ ، مثلۃ کی جمع ہے۔ اس کے معنی عقوبت اور عبرت انگیز عذاب کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ توبہ اور اصلاح سے پہلے کسی آفت اور عذاب کے منتظر ہیں۔ کہتے ہیں کہ جب ہم اس عذاب کی کوئی نشانی دیکھ لیں گے جس سے پیغمبر ڈرا رہے ہیں، تب ہم ان کی بات مانیں گے۔ حالانکہ عاقل وہ ہے جو دوسروں سے سبق حاصل کرے۔ ان سے پہلے کتنی قومیں گزر چکی ہیں جنہوں نے انہیں کی طرح اپنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6۔ 1 یعنی عذاب الٰہی سے قوموں اور بستیوں کی تباہی کی کئی مثالیں پہلے گزر چکی ہیں، اس کے باوجود یہ عذاب جلدی مانگتے ہیں ؟ یہ کفار کے جواب میں کہا گیا جو کہتے تھے کہ اے پیغمبر ! اگر تو سچا ہے تو عذاب ہم پر لے آ۔ جس سے تو ہمیں ڈراتا رہتا ہے۔ 6۔ 3 یعنی لوگوں کے ظلم و معصیت کے باوجود وہ عذاب میں جلدی نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے اور بعض دفعہ تو اتنی تاخیر کرتا ہے کہ معاملہ قیامت پر چھوڑ دیتا ہے، یہ اس کے حلم و کرم اور عفو و درگزر کا نتیجہ ہے ورنہ وہ فوراً مواخذہ کرنے اور عذاب دینے پر آجائے تو روئے زمین پر کوئی انسان ہی باقی نہ رہے (وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

11: کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ اگر ہمارا دین غلط ہے تو اللہ تعالیٰ سے کہیے کہ ہم پر عذاب نازل کردے۔ یہاں ان کے اس بےہودہ مطالبہ کی طرف اشارہ ہے۔ 12: یعنی جو چھوٹے چھوٹے گناہ انسان سے نادانی میں سر زد ہوجائیں یا بڑے گناہ ہوں، مگر انسان ان سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ ان زیادتیوں کے باوجود اپنے بندوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ لیکن کفر و شرک اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ضد اور عناد کا معاملہ ایسا ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ لہذا بندوں کو یہ سوچ کر بےفکر نہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا ہے، اس لیے وہ ہماری ہر نافرمانی کو ضرور معاف فرما دے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 2–7

آیت نمبر 2 تا 7 آسمان کیا ہیں اور ان کا مفہوم مختلف ادوار میں لوگ کیا سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے ، لیکن یہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ ایک عظیم منفر اور عظیم کائنات ہے۔ جب بھی کوئی ان پر غور کرتا ہے اور معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی عظمت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ پھر یہ سب نظام کسی ظاہری سہارے کے بغیر قائم ہے۔ جس طرح اس زمین پر کوئی چیز بغیر سہارے کے نہیں ہوتی ، ایسا سہارا جو ہمیں نظر آئے۔ بغیر عمد ترو نہا۔ یہ اس پوری کائنات کی تصویر کشی کے سلسلے میں پہلا ٹچ ہے اور انسانی وجدان اور قوت مدرکہ کے لئے یہ ایک پہلی ضرب ہے ، خصوصاً جبکہ انسان اس عظیم کائنات پر غور کر رہا ہو اور وہ سوچے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی حق کو قبول نہیں کرتے جس سے دنیا و آخرت کی بھلائی ملے کفر اختیار کرتے ہیں اور کہتے ہیں عذاب لے آؤ۔ 1 یعنی پہلے بہتیری قوموں پر عذاب آچکے ہیں۔ تم پر لے آنا کیا مشکل تھا، بات صرف اتنی ہے کہ تیرا پروردگار اپنی شان حلم و عفو سے ہر چھوٹے بڑے جرم پر فورًا گرفت نہیں کرتا۔ وہ لوگوں کے ظلم و ستم دیکھتا اور درگزر کرتا رہتا ہے حتی کہ جب مظالم اور شرارتوں کا سلسلہ حد سے گزر جاتا ہے اس وقت اس کے تباہ کن عذاب سے بچنے کی کوئی صورت نہیں رہتی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6 وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ کفار مکہ حضور سے بڑی جسارت اور ڈھٹائی کے ساتھ بار بار مطالبہ کرتے تھے کہ لے آئیں ہم پر وہ عذاب جس کے بارے میں آپ ہمیں روز روز دھمکیاں دیتے ہیں۔ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ اللہ کے عذاب کی بہت سی عبرت ناک مثالیں گزشتہ اقوام کی تاریخ کی صورت میں ان کے سامنے ہیں۔ وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ یہ اس کی رحمت اور شان غفاری کا مظہر ہے کہ ان کے مطالبے کے باوجود اور ان کے شرک وظلم میں اس حد تک بڑھ جانے کے باوجود عذاب بھیجنے میں تاخیر فرما رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

11 عذاب میں تا خیر کے اسباب۔ منکرین حق کا یہ مطالبہ سنجیدگی پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ ایسے مذاق اور طنز پر مبنی ہوتا ہے، جس میں ان کا انکار پوشیدہ ہوتا ہے۔ یعنی اگر تم سچے ہو تو جیسا کہتے ہو وہ عذاب ہم پر کیوں نہیں لے آتے ؟ یا وہ عذاب ہم پر اب تک آیا کیوں نہیں وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ ان سے پہلے کئی بار ایسا ہوچکا ہے کہ لوگوں نے عذاب طلب کیا اور جیسا عذاب طلب کیا ان پر ویسا عذاب آگیا اور اب جو ان کے مطالبے پر ابھی تک عذاب نہیں آیا اور تو اس کی کئی وجوہ ہیں۔ ایک یہ کہ اگر اللہ ان لوگوں کے ایسے مطالبات فوراً پورے کرنا شروع کردیتا تو یہ دنیا کب کی تباہ ہوچکی ہوتی۔ لہذا یہ اللہ کی رحمت ہے کہ ایسے مطالبے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

11۔ یعنی یہ منکرین وقوع عذاب کو اس قدر مستبعد سمجھ رہے ہیں کہ قبل اس کے کہ ان کی میعاد ومہلت ختم ہو الٹے آپ سے نزول عذاب کا تقاضا کررہے ہیں ! حالانکہ تاریخ کی شہادت انہیں خود مل سکتی ہے کہ مکذب وآخرت فرامواش قوموں کی کیسی کیسی حسرتناک بربادیاں اسی دنیا میں واقع ہوچکیں۔ (آیت) ” مثلت “۔ مثلہ کی جمع ہے۔ یہاں مراد واقعات عذاب و عقوبت سے ہے۔ اے عقوبات امثالھم من المکذبین (جلالین) السیءۃ سے مراد عذاب اور الحسنۃ سے مقصود عافیت ہے۔ قال ابن عباس ؓ السیءۃ العذاب والحسنۃ العافیۃ (بحر) 12۔ یعنی حق تعالیٰ میں دونوں صفات موجود ہیں، جن کا ظہور اپنے اپنے موقع پر ہوتا ہے، صفت عذاب کا ظہور اگر ابھی ان کافروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–7

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 7 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے، المر، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیتیں قرآن کریم کی آیتیں ہیں اور (آیاتُ الکتاب) میں اضافت بمعنی مِنْ ہے اور جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے اتارا جاتا ہے سب حق ہے (یعنی) اس میں کوئی شک نہیں ہے، (وَالَّذِیْ اُنزلَ اِلیک الخ) مبتداء ہے اور الحقُّ اس کی خبر ہے، لیکن اکثر لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے کہ یہ منجانب اللہ ہے اور وہ اہل مکہ ہیں، اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر بلند فرمایا جو تم کو نظر آتے ہوں، العمد، عمادٌ کی جمع ہے اور وہ ستون ہیں اور عدم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویستعجلونک بالسیءۃ قبل الحسنۃ وقد خلت من قبلھم المثلت اور یہ لوگ بھلائی (عافیت کی میعاد ختم ہونے) سے پہلے آپ سے برائی (یعنی مصیبت کے نزول) کا تقاضا کرتے ہیں حالانکہ ان سے پہلے (اور کفار پر) واقعات عقوبت گذر چکے ہیں۔ استعجال ‘ وقت مقرر سے پہلے کسی چیز کی طلب کرنا (عجلت طلبی) سیۂ سے مراد ہے : عذاب اور سزا اور حسنہ سے مراد ہے : نعمت و عافیت۔ مشرکین مکہ عافیت کی جگہ عذاب (خداوندی) کے طالب تھے اور استہزاء کے طور پر کہتے تھے : اے اللہ ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی اور دردناک عذاب بھیج دے۔ الْمَثُلٰتُ ان جیسے دوسرے کافروں پر نازل ہونے والی سزائیں ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(6) اے محمد ﷺ یہ لوگ بطور مذاق کے آپ سے عافیت سے قبل نزول عذاب کا تقاضا کرتے ہیں اور آپ سے عافیت کی درخواست نہیں کرتے حالانکہ ان سے پہلے عقوبات کے واقعات گزر چکے جن کی بنا پر ہلاک ہونے والے ہلاک ہوئے اور آپ کا پروردگار ان مکہ کے کافروں کے شرک کو اگر یہ توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں تو معاف کردے گا اور جو شرک سے توبہ نہ کرے تو یقیناً آپ کا پروردگار اس کو سخت سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ۔۔ :”اَلسَّیِّءَۃُ“ سے مراد بری حالت مثلاً عذاب اور ”الْحَسَنَةِ“ سے مراد اچھی حالت مثلاً عافیت اور خوش حالی ہے۔ ”الْمَثُلٰتُ“ کی واحد ”مَثُلَۃٌ“ بروزن ”سَمُرَۃٌ“ ہے، معنی ہے سخت سزا اور رسوا کن عذاب جو انسان پر اترے اور اسے دوسروں کے لیے برے کاموں سے باز رکھنے کے لیے مثال اور عبرت بن جائے۔ ”اِسْتِعْجَالٌ“ کسی چیز کا وقت آنے سے پہلے اسے لانے کا مطالبہ کرنا، یعنی ان کی سرکشی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ جھٹلانے اور مذاق اڑانے کے لیے تندرستی اور عافیت کے بجائے پہلے عذاب لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مشرکین کے اس قسم کے مطالبوں کا قرآن میں کئی جگہ ذکر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–7

آیت نمبر 6 تا 7 قولہ تعالیٰ : ویستعجلونک بالسیئۃ قبل الحسنۃ یعنی اپنے انکار اور تکذیب کی زیادتی کی وجہ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق اس سے مراد ان کا یہ قول ہے : اللہھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء (الانفال : 32) یا اللہ ! اگر تیری طرف سے یہی حق ہے تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا۔ حضرت قتادہ نے کہا : انہوں نے معافی سے پہلے سزا کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پروردگار عالم نے اس امت سے سزا کو قیامت تک مؤخر کرنے کا فیصلہ فرما دیا ہے۔ ایک قول کے مطابق : قبل الحسنۃ سے مراد قبل الایمان ہے جس کی وجہ سے امان اور نیکیوں کی امید ہوتی ہے۔ المثلث سے مراد عقوبات…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویستعجلونک بالسیئۃ قبل الحسنہ “ میں ” السیئۃ “ سے مراد عذاب ہے اور الحسنۃ “ سے مراد عافیت ہے (آیت ) ” وقد خلت من قبلہم المثلث “ میں مثلات گزشتہ قوموں کے وہ واقعات ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ ” المثلت “ سے مراد ہے جو عذاب پہلی امتوں کو پہنچا۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقد خلت من قبلہم المثلت “ یعنی مثالیں (گذرچکیں) 4:۔ ابن جریر (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” وقد خلت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ : اور وہ لوگ جلدی مانگتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ بِالسَّيِّئَةِ : برائی کو ] [قَبْلَ الْحَسَنَةِ : بھلائی سے پہلے ] [ وَ : حالانکہ ] [ قَدْ خَلَتْ : گزر چکی ہیں ] [مِنْ قَبْلِهِمُ : ان کے پہلے سے ] [ الْمَثُلٰتُ : عبرتناک سزائیں ] [ وَان : اور بیشک ] [رَبَّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ : یقینا مغفرت والا ہے ] [ لِلنَاسِ : لوگوں کے لئے ] [ عَلٰي ظُلْمِهِمْ : ان کے ظلم کے باوجود ] [ وَان : اور بیشک ] [ رَبَّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ : یقینا پکڑنے کا سخت ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بالسَّیِّءَۃِ قَبْلَ الْحَسَنَۃِ ) (آپ سے یہ لوگ عافیت سے پہلے مصیبت کے جلدی آجانے کا تقاضا کرتے ہیں) یعنی ان سے جو کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ ورنہ تمہیں دنیا و آخرت میں عذاب بھگتنا ہوگا تو بطور استہزاء اور تمسخر کہتے ہیں کہ لاؤ عذاب لا کر دکھا دو ‘ یہ لوگ عافیت سے اور سلامتی والی حالت میں جی رہے ہیں اس کے بجائے عذاب طلب کر رہے ہیں ‘ چونکہ عذاب والی بات کو جھوٹ سمجھ رہے ہیں اس لئے عافیت اور سلامتی کا جو وقت اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر میں مقرر ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے ہی عذاب آنے کی رٹ لگا رہے ہیں انہیں یہ معلوم نہیں کہ جب عذاب آجائے گا تو ٹالا نہ جائے گا۔ سورة…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–7

منکرین نبوت کے شبہات اور ان کے جوابات قال اللہ تعالیٰ : وان تعجب فعجب قولہم .... الیٰ .... انما انت منذر ولکل قوم ھاد (ربط) اوپر کی آیتوں میں توحید کا مضمون تھا اب ان آیات میں منکرین نبوت کے تین شبہات کے جوابات مع وعید و تبدید ذکر کرتے تھے کہ یہ کیسے نبی ہیں جو ایک محال اور ناممکن کی خبر دیتے ہیں اور اس پر ایمان لانے کا حکم دیتے ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں ہے ہل ندلکم علی رجل تنبئکم اذا مذقتم کل ممزق انکم لفی خلق جدید افتری علی اللہ کذبا ام بہ جنۃ (دوسرا) شبہ یہ تھا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں تو آپ کے منکرین اور مکذبین پر عذاب کیوں نازل نہیں ہوتا کما قال اللہ تعالیٰ واذ قالوا اللہم ان کان ھذا ھو الحق…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

7:۔ زجر مع شکوی۔ سیئہ سے عذاب اور حسنہ سے عافیت مراد ہے اور ” قَبْلَ الْحَسَنَۃ “ یعنی یہ لوگ عذاب ہی کا مطالبہ کرتے ہیں اور عافیت تو مانگتے ہی نہیں۔ مشرکین عناد و استہزاء کی وجہ سے عذاب کا مطالبہ کرتے تھے۔ فرمایا میرے عذاب سے ڈرو وہ مانگنے کی چیز نہیں تم سے پہلے تم جیسی مکذب اور معاند قوموں کو میں نے شدید ترین عذابوں سے ہلاک کیا ہے تمہارا بھی وہی حشر ہوگا۔ ” ان مشرکی مکۃ کانوا یطلبون العقوبۃ بدلا من العافیۃ استہزاء منھم الخ “ (مظہری ج 5 س 216) ۔ ” وَ قَدْ خَلَتْ الخ “ جملہ حالیہ ہے۔ ” والحال انہ مضت العقوبات الفاضحۃ النازلۃ علی امثالھم من المکذبین المستہزئین “ (روح ج 12 ص 106) ۔ 8:۔ باوجود…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–7

(ربط آیات) اس سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ پر مشتمل بعض دلائل توحید بیان فرمائے ہیں ، زمین اور اس میں پیدا ہونے والے مختلف قسم کے درختوں اور پھلوں کا ذکر فرمایا ، سارے ایک پانی سے سیراب ہونے والے پھلوں کے ذائقے اور رنگ مختلف ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا کام ہے ، فرمایا کہ ان میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانیاں ہیں ، ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں اور غوروفکر کرتے ہیں ، جو ایسا نہیں کرتے ان کو یہ واضح دلائل بھی کچھ مفید نہیں ہوتے ، وہ اپنی جہالت اور نادانی میں ہی پڑے رہتے ہیں ، اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ ۭ وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ ۚ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ ۝ عجل العَجَلَةُ : طلب الشیء وتحرّيه قبل أوانه، وهو من مقتضی الشّهوة، فلذلک صارت مذمومة في عامّة القرآن حتی قيل : «العَجَلَةُ من الشّيطان» «2» . قال تعالی: سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] ، ( ع ج ل ) العجلۃ کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے ہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا اس کا تعلق چونکہ خواہش نفسانی سے ہوتا ہے اس لئے عام طور پر قرآن میں اس کی مذمت کی گئی ہے حتی کہ آنحضرت ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–6

ترکیب : قولھم مبتداء عجب خبر جملہ جواب ان تعجب اذا کنا جملہ قولہم کا بیان ہے اذا کا۔ عامل نبعث محذوف ہے قبل الحسنۃ یستعملون سے متعلق ہے علی ظلمھم حال ہے الناس سے۔ المثلات جمع المثلۃ بوزن السمرۃ وھی العقوبۃ الفاضحۃ قال ابن الانباری المثلۃ ہے العقوبۃ التی تبقی فی المعاقب شیئا تنغیر بعض خلقہ تفسیر : جب دلائلِ قاہرہ وبراہین باہرہ سے اپنی ذات اور صفات کاملہ کا آسمانوں اور زمین اور ان کی سب چیزوں کے پیدا کرنے سے ثبوت فرما چکا تو اس کے بعد مسئلہ معاد بھی ضروری الثبوت تھا کیونکہ جب انسان یہ اعتقاد کرلیتا ہے کہ مر کر پھر زندہ ہونا اور خدا کے روبرو حاضر ہو کر نیکی بدی کا بدلہ پانا ہے تو ہر قسم کی برائی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالسَّیِّئَۃِ قَبْلَ الْحَسَنَۃِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِمُ الْمَثُلٰتُ ط وَاِنَّ رَبَّکَ لَذُوْ مَغْفِرَۃٍ لِّلنَّاسِ عَلٰی ظُلْمِہِمْ ج وَاِنَّ رَبَّکَ لَشَدِیْدُالْعِقَابِ ۔ (سورۃ الرعد : 6) (اور یہ لوگ خیر سے پہلے شر کے لیے آپ سے جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ گزر چکی ہیں ان سے پہلے عبرتناک مثالیں اور بیشک آپ کا رب ان کی زیادتیوں کے باوجود ان سے درگزر کرنے والا بھی ہے اور بیشک آپ کا رب سخت سزا دینے والا بھی ہے۔ ) انسان مجموعہ اضداد ہے انسان کو اللہ تعالیٰ نے مجموعہ اضداد بنایا ہے۔ اگر یہ خیر کے راستے پر چل پڑتا ہے تو فرشتے بھی اس کے دامن میں نماز پڑھنا فخر محسوس کرتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–6

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کی لا تعداد قدرتوں کو دیکھنے اور ان سے استفادہ کرنے کے باوجود یہ لوگ اس کی قدرت کا انکار کرتے ہیں کہ ہمارے مرنے کے بعد ہمیں کون اٹھائے گا۔ یہ کتنی بڑی حقیقت ہے جس پر یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ ایک چھوٹے سے بیج سے کس قدر تناور درخت پیدا کرتا ہے، پھر غور کریں کہ کتنے بیج ہیں جو کئی کئی سال تک زمین میں دفن رہتے ہیں لیکن اگنے کا نام نہیں لیتے۔ جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے تو زمین سے نکل کر بڑے بڑے درختوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اسی طرح انسان کو متعین مدت کے بعد اٹھایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آفاق، جمادات اور نباتات کے حوالے سے اپنی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مطالبہ عذاب کا جواب : 6: وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالسَّیِّئَۃِ قَبْلَ الْحَسَنَۃِ (یہ لوگ آپ سے مصیبت جلد مانگتے ہیں بھلائی سے پہلے) عافیت کا وقت ختم ہونے سے پہلے عذاب کو مانگتے ہیں اور اسکا معاملہ اس طرح پیش آیا کہ انہوں نے رسول اللہ سے سوال کیا کہ ہم پر عذاب لے آئو۔ اور یہ بات آپکے انذار کا مذاق اڑاتے ہوئے کہی وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِھِمُ الْمَثُلٰتُ (حالانکہ ان سے پہلے واقعات عقوبت گزر چکے) سزائیں جو ان جیسے مکذبین کو پیش آئیں۔ انکو کیا ہوا کہ یہ عبرت نہیں پکڑتے ورنہ یہ استہزاء نہ کرتے۔ المثلہ۔ سزا۔ اسکو المثلہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جرم اور مجرم میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ جیسا اس آیت میں جزاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6۔” ویستعجلونک بالسیئۃ قبل الحسنۃ “ استعجال کہا جاتا ہے کسی کام کو جلد یطلب کرنا یا مقررہ وقت سے پہلے کسی چیز کو طلب کرنا ۔ یہاں ” سیئۃ “ سے مراد سزا و عذاب ہے اور ” حسنہ “ سے مراد نعمت و عافیت یعنی مشرکین مکہ عافیت کی جگہ عذاب کے طالب تھے اور استہزاء کے طور پر کہتے تھے۔ اے اللہ ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی اور درد ناک عذاب بھیج دے۔” وقد خلت من قبلھم المثلات “ ان سے پہلے امتیں گزر چکی ہیں جنہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور رسولوں کو جھٹلایا ۔ اس وجہ سے ان کو سزائیں پڑیں۔ مثلات جمع ہے مثلہ کی ، میم کے فتحہ اور ثاء کے ضمہ کے ساتھ جیسے صدقہ اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

6۔ بت پرستی کی مذمت اور توحید اور احوال قیامت اس قسم کی آیتیں جب نازل ہوتیں اور آنحضرت ﷺ قریش وہ آیتیں سناتے تو قریش لوگ سرکشی سے صاف کہہ دیتے تھے کہ ہم تو تمہاری ایک نہیں سنتے اگر تم سچے نبی ہو تو اللہ کی طرف سے ہم پر عذاب لے آؤ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ رسول سے مخالفت کرنے والوں پر عذاب الٰہی کا نازل ہوجانا کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے بہت سی امتیں رسولوں کی مخالفت کے سبب سے غارت ہوچکی ہیں بجائے فرمانبرداری کے یہ لوگ جو سرکشی کر کے عذاب کی جلدی کرتے ہیں ان کو یہ معلوم رہے کہ اللہ تعالیٰ میں رحم اور قہر دونوں صفتیں ہیں اور اب تک اللہ تعالیٰ نے اپنی رحم کی صفت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو جھٹلانے والے مشرکین کی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جن کو نصیحت کی گئی مگر انہوں نے نصیحت حاصل نہ کی۔ ان پر دلائل قائم کئے گئے مگر انہوں نے ان دلائل کو نہ مانا، بلکہ اس کے برعکس انہوں نے کھلم کھلا انکار کیا انہوں نے اللہ واحد وقہار کے حلم اور ان کے گناہوں پر فوری طور پر گرفت نہ ہونے کی وجہ سے استدلال کیا کہ وہ حق پر ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہنا شروع کردیا کہ وہ جلدی سے عذاب لے آئیں اور ان میں سے بعض تو یہاں تک کہہ دیتے : (آیت) ” اے اللہ ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔ “ (ووقد خلت من…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 4–6

زمین کے خطے مختلف اقسام کے ہوتے ہیں قول باری ہے (وفی الارض قطع متجاورات، اور دیکھو زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور ضحاک کا قول ہے کہ اس سے زمین شورا اور زمین شیریں مراد ہے۔ قول باری ہے (ونخیل صہنوان۔ کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ اکہرے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ حضرت براء بن عازب ؓ ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ کھجور کے ایسے درخت جن کی جڑیں اکہری ہوں۔ قول باری ہے (یسقی بماء واحد و نفضل بعضھا علی بعض فی الاکل۔ سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کمتر) آیت میں ان لوگوں کے قول کے بطلان کی واضح ترین دلالت موجود ہے جو کہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 5–6

17۔ کفار و منکرین کا حال قابل تعجب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر آپ ان لوگوں کے حال پر تعجب کریں تو واقعی ان کا حال قابل تعجب ہے۔ یعنی ان کا یہ کہنا تعجب کے لائق ہے کہ کیا جب ہم لوگ مر کرمٹی ہوجائیں گے تو واقعی ہمیں از سرنو پھر پیدا کیا جائے گا ؟ کیونکہ جو خدا وندقدوس ایسی ایسی قدرتوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ اور جس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی اس تمام عجیب و غریب مخلوق کو خلعت وجود سے نوازا، اس کے لیے بھلا اس انسان ضعیف البنیان کو دوبارہ وجود بخش دینا اور اس کو نیست کے بعد ہست کردینا آخرکیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ جبکہ آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کا پیدا کرنا انسان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

اللہ معاف کرنے والا اور سخت عذاب دینے والا ہے تشریح : اس آیت میں کفار مکہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو آپ پر ایمان لانے میں بےیقینی کا شکار ہوچکے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا آپ بڑے ہی نیک سیرت انسان ہیں۔ اسی لیے آپ کو صادق (سچا) اور امین (امانتدار) کے ناموں سے پکارتے تھے۔ آپ کے پاس اپنی امانتیں رکھتے تھے۔ حجر اسود لگانے کا جھگڑا جب کھڑا ہوا تو آپ کے فیصلہ کو تمام اہل مکہ نے بخوشی قبول کیا۔ لیکن جب آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اہل مکہ حیران و پریشان ہوگئے کیونکہ آپ ﷺ کو جھٹلانا بھی ان کے لیے ممکن نہ تھا اور آپ پر ایمان لانا بھی ان کے لیے ممکن نہ تھا، لہٰذا وہ خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–7

سورة الرعد : رکوع نمبر 1 : اسرارومعارف : (آیت) ” الم ، تلک ایت الکتب۔ 1 تا 7 ۔ یہ سورة مبارکہ بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے اور سورة یوسف کے آخر کا مضمون یعنی توحید باری کا ثبوت اور نبوت کی حقانیت ہی کے دلائل کا تسلسل ہے کہ ارشاد ہوتا ہے کہ یہ مضامین ایک بےمثال کتاب میں ہیں جو اللہ کا ذاتی کلام ہے اور جو بجائے خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے کہ اس کی نظیر پیش کرنا انسانی بس میں نہیں اور جو کچھ اس میں فرمایا گیا ہے ، انسان کبھی اسے غلط ثابت نہیں کرسکتا اگرچہ اس میں دنیاوی امور کے بارے افزائش کے مسائل اور صورتیں سیاسیات ، اخلاقیات اور معاشیات تک بیان کی گئی ہیں واقعات عالم کے بارے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 ۔ یعنی استہذا اور تکذیب کے طور پر کہتے ہیں کہ اس تندرستی اور عافیت کی بجائے عذاب اور بلا کیوں نہیں نازل ہوتی۔ مشرکین کے اس قسم کے مطالبے کا قرآن نے متعدد آیات میں ذکر کیا ہے۔ (ابن کثیر) ۔ 5 ۔ جن میں انے لئے عبرت کا کافی سامان موجود ہے۔ موضح میں ہے کہ پہلے ہوچکی ہیں کہاوتیں یعنی عذاب ویسے کہ ان کی کہاوتیں چلی ہیں۔ 6 ۔ معلوم ہوا کہ اسلامتی اور امن کی راہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی امید بھی رکھے اور اسکے عذاب سے ڈرتا بھی رہے۔ سعید ؓ بن المسیب سے ایک (مرسل) روایت میں ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ کا عفو و درگزر نہ ہو تو کسی شخص کی زندگی خوشگوار…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(13:6) یستعجلونک ۔ یستعجلون مضارع جمع مذکر غائب استعجال (استفعال ) مصدر وہ جلدی مانگتے ہیں۔ تعجیل چاہتے ہیں۔ نیکی (یعنی بخشش سے) پہلے۔ یعنی اللہ کی طرف سے ان کو جو سنبھلنے کی مہلت دی جا رہی ہے اس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس مہلت کو جلدی ختم کردیا جائے اور ان کی باغیانہ روش پر فوراً گرفت کر ڈالی جائے۔ نادان نہیں جانتے کہ اگر ان کے اعمال بد کے نتیجہ میں عذاب آگیا اور وہ برباد ہوگئے تو ان کو پھر کیا فائدہ پہنچے گا۔ المثلت۔ جمع مؤنث اس کی واحد المثلۃ ہے۔ مثلۃ وہ سزا۔ جس سے دوسرے عبرت حاصل کر کے ارتکاب جرم سے رک جائیں۔ یہی معنی نکال کے ہیں۔ المثلت۔ عبرت ناک سزائیں۔ عبرت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 5–7

لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 7 تعجب تو تعجب اور حیرت کرتا ہے ءاذا کیا جب تراب مٹی خلق جدید نئی پیدائش الا غلل طوق۔ گلے کا ہار اعناق (عنق) ۔ گردنیں یستعجلون وہ جلدی مچاتے ہیں السیئۃ برائی الحسنۃ نیکی، بھلائی قدخلت یقینا گذر گئی المثلت (مثل) عبرت کے واقعات ذو مغفرۃ معافی دینے والا شدید العقاب سخت عذاب دینے والا ایۃ نشانی، معجزہ منذر ڈرانیو الا ھاد ہدایت دینے والا۔ رہنمائی کرنے والا تشریح : آیت نمبر 5 تا 7 کفار مکہ ہر روز کوئی نہ کوئی اعتراض کر کے اپنی جہالت، تعصب اور حسد کا اظہار کرتے رہتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام شبہات اور سوالات کے جوابات گزشتہ آیات میں دے کر ایک مرتبہ پھر ان کے چند شبہات…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

آنحضرت ﷺ نے جب کفار کو عذاب کی آیتیں سنائی اور دھمکایا اور ڈرایا تو نضر بن حارث وغیرہ نے بطور ہنسی کے عذاب کی جلدی کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ آخرت سے پہلے ہی عذاب چاہتے ہیں۔ حالانکہ آنحضرت ﷺ کی برکت سے اس زمانہ میں کافروں پر عذاب موقو رکھا گیا، قیامت کے دن اکٹھا ہوجائے گا۔ یہ بیوقوف عذاب کا آنا کچھ بڑی بات سمجھتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھتے کہ پہلی امتوں پر کیسے کیسے عذاب ہوچکے۔ زمین میں دھنس جانا، صورتوں کا مسخ ہوجانا اور زلزلہ کا آنا یہ عذاب کس نے بھیجے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ میں رحم اور قہر دونوں صفتیں ہیں اور اب تک اللہ تعالیٰ نے اپنی رحم کی صفت کے تقاضے ان کو چھوڑ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[6] منکرین کہتے تھے کہ اگر انکار و بدعملی کا برا نتیجہ نکلنے والا ہے تو وہ نتیجہ کہاں ہے ؟ کیوں پیش نہیں آجاتا ؟ فرمایا کہ یہ نادان خیر سے پہلے شر مانگتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے ان کو سنبھلنے کے لئے جو مہلت دی جا رہی ہے اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مہلت کو جلد ختم کردیا جائے۔ [7] یعنی اللہ تعالیٰ میں دونوں صفات موجود ہیں جن کا ظہور اپنے اپنے موقع پر ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

شدید العقاب کی تشریح : (ف 1) یعنی کفار مکہ میں یہ عیب ہے کہ وہ اسلام کی برکات سے بہرہ مند نہیں ہونا چاہتے ، بلکہ عذاب طلب کرتے ہیں ، اور یہ نہیں سوچتے کہ عذاب کا آجانا کیا مشکل ہے ، کیا اس سے پہلے نافرمانوں کو ہلاک نہیں کیا گیا ؟ کیا عادوثمود کی بستیاں اب تک ماتم کناں نہیں ، تکنے والے کیوں نہ خیال کرتے ہیں کہ وہ بالکل محفوظ ہیں ، اور انہیں ان کی نافرمانیوں کی سزا نہیں مل سکے گی ۔ جو لوگ خدا کے متعلق اسلامی تخیل کو قابل اعتراض ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو اسلام کا خدا بہت سخت گیر ہے ، انہیں اس آیت پر غور کرنا چاہئے ۔ قرآن کہتا ہے ، وہ صاحب غفران ہے وہ باوجود گناہوں کے اس کا جوش مغفرت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

6 ۔ اور اے پیغمبر عافیت اور بھلائی سے پہلے یہ لوگ آپ سے برائی اور مصیبت طلب کرنے کا تقاضا اور جلدی کرتے ہیں حالانکہ ان سے پہلے بہت سے عذاب کے واقعات گزر چکے ہیں یہ امر یقینی ہے کہ آپ کا پروردگار لوگوں کو ان کی زیادتیوں کے باوجود معاف کرتا رہتا ہے اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ آپ کا پروردگار سخت سے سخت سزا دینے والا بھی ہے ۔ یعنی عافیت سے پہلے عذاب طلب کرتے ہیں اور آپ سے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں حالانکہ عذاب کوئی ایسی مستبعد چیز تو نہیں ہے کہ کبھی آیا نہ ہو ان سے پہلوں پر بارہا آچکا ہے جسکی مثالیں اور واقعات گزر چکے ہیں یہ واقعہ ہے کہ حضرت حق تعالیٰ خطائوں پر چشم پوشی بھی فرماتا ہے اور جب کسی کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–8

ف 2۔ یعنی لڑکا ہے یا لڑکی ہے۔ 3۔ بچہ میں یامدت میں مثلا کبھی ایک بچہ ہوتا ہے کبھی زیادہ کبھی جلدی ہوتا ہے کبھی دیر میں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

چاہئے تو تھا کہ بھلائی کی طلب کرتے لیکن ان کو عذاب الٰہی کا بڑا شوق ہے 12 ؎ اے پیغمبر اسلام آپ ﷺ کے مخالفین و معاندین اس طرح کے لوگ ہیں جس طرح کے پہلے انبیاء کرام ﷺ کی امتوں اور قوموں میں گزر چکے۔ آج سے نہیں یہ تو ان لوگوں کی مدت سے حالت چلی آرہی ہے کہ یہ بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول ﷺ سے بھلائی اور نیکی طلب کرتے لیکن انہوں نے بھلائی طلب کرنے کی قسم کھائی کہ اس کو طلب نہیں کریں گے ان کو عذاب الٰہی کا بڑا شوق ہے یہ جب مانگتے ہیں اور جب اپنے رسولوں سے مطالبہ کرتے ہیں تو اس بات کا کہ وہ عذاب آ کر کیوں نہیں جاتا اور تو اے رسول ! اس پر عذاب کو لے کیوں نہیں آتا ؟ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِمُ الْمَثُلَاتُ ۗ وَإِنَّ رَ‌بَّكَ لَذُو مَغْفِرَ‌ةٍ لِّلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلْمِهِمْ ۖ وَإِنَّ رَ‌بَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ 'And they ask for evil to come sooner than good (by saying: If you are a prophet, let us have your promised punishment now - which shows that they take the coming of the Divine punishment as something very far-removed or virtually impossible) al-though punishments have really come to pass against people earlier to them, (which have been witnessed by others.) Now, if the punishment is to come to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

14. This refers to the demand of the Quraish from the Prophet (peace be upon him): If you are a true Prophet (peace be upon him) of God, why don’t you hasten to bring that scourge of God upon us of which you have been threatening us, when we are flouting and denying you? They did this in different ways. Sometimes they would invoke God mockingly and say: O Lord, settle our accounts now and do not postpone these to the Day of Resurrection. At another time, they would say: Our Lord, if what Muhammad (peace be upon him) says be true, and be from Thee, then stone us from the sky or send down some…

Read the full tafseer →