عقل کے اندھے ضدی لوگ
اللہ تبارک وتعالی اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ آپ ان کے جھٹلانے کا کوئی تعجب نہ کریں یہ ہیں ہی ایسے اس قدر نشانیاں دیکھتے ہوئے، اللہ کی قدرت کا ہمیشہ مطالعہ کرتے ہوئے، اسے مانتے ہوئے کہ سب کا خالق اللہ ہی ہے پھر بھی قیامت کے منکر ہوتے ہیں حالانکہ اس سے بڑھ کر روز مرہ مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ سب کچھ کردیتا ہے۔ ہر عاقل جان سکتا ہے کہ زمین و آسمان کی پیدائش انسان کی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ اور دوبارہ پیدا کرنا بہ نسبت اول بار پیدا کرنے کے بہت آسان ہے۔ جیسے فرمان ربانی ہے آیت (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ…
Read the full tafseer →سورة الرَّعْد 12
یعنی ان کا آخرت سے انکار دراصل خدا سے اور اس کی قدرت اور حکمت سے انکار ہے۔ یہ صرف اتنا ہی نہیں کہتے کہ ہمارا مٹی میں مل جانے کے بعد دوبارہ پیدا ہونا غیر ممکن ہے، بلکہ ان کے اسی قول میں یہ خیال بھی پوشیدہ ہے کہ معاذاللہ وہ خدا عاجز دور ماندہ اور نادان و بےخرد ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے۔
سورة الرَّعْد 13
گردن میں طوق پڑا ہونا قیدی ہونے کی علامت ہے۔ ان لوگوں کی گردنوں میں طوق پڑے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اپنی جہالت کے، اپنی ہٹ دھرمی کے، اپنی خواہشات نفس کے، اور اپنے آباواجداد کی اندھی تقلید کے اسیر بنے ہوئے ہیں۔ یہ آزادانہ غور و فکر نہیں کرسکتے۔ انہیں ان کے تعصبات نے ایسا جکڑ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ اگر آپ کو (ان لوگوں کے انکار قیامت سے) تعجب ہو تو (واقعی) ان کا یہ قول تعجب کے لائق ہے کہ جب ہم (مر کر) خاک ہوگئے کیا (خاک ہو کر) ہم پھر (قیامت کو) از سر نو پیدا ہوں گے (تعجب کے لائق اس لئے کی جو ذات ایسی اشیاء مذکورہ کے خلق پر ابتداء قادر ہے اس کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے اور اسی سے جواب ہوگیا استبعاد بعث کا اور انکار نبوت کا بھی جس کا مبنی وہ استبعاد تھا ایک کے جواب سے دوسرے کا جواب ہوگیا آگے ان کے لئے وعید ہے کہ) یہ وہ لوگ ہیں کہ انہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا (کیونکہ انکار بعث سے اس کی قدرت کا انکار کیا اور انکار قیامت سے انکار نبوت لازم آتا ہے) اور ایسے…
Read the full tafseer →وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ ڛ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ الْاَغْلٰلُ فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۔
تعجب کی اصلی بات : یعنی خدا کی قدرت و حکمت اور اس کے خلق و تدبیر کی ان نشانیوں کی موجودگی میں جن کا ذکر اوپر ہوا، تعجب کرنے کی بات وہ نہیں ہے جس سے تم (خطاب پیغمبر ﷺ سے ہے) لوگوں کو آگاہ کر رہے ہو کہ مرنے کے بعد اٹھنا اور خدا کے حضور حساب کتاب کے لیے حاضر ہونا ہے بلکہ تعجب کے قابل خود ان لوگوں کا یہ تعجب ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ جب ہم سڑ گل کر خاک…
Read the full tafseer →5۔ 1 یعنی جس ذات نے پہلی مرتبہ پیدا کیا، اس کے لئے دوبارہ اس چیز کا بنانا کوئی مشکل کام نہیں۔ لیکن کفار یہ عجیب بات کہتے ہیں کہ دوبارہ ہم کیسے پیدا کئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →9: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مردوں کو زندہ کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں، اس لیے کہ جو ذات یہ عظیم کائنات عدم سے وجود میں لاسکتی ہے، اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے ؟ لیکن تعجب کے لائق تو یہ بات ہے کہ یہ کافر لوگ کھلی آنکھوں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے بیشمار مظاہر دیکھنے کے بعد بھی نئے سرے سے پیدا کرنے کو اللہ تعالیٰ قدرت سے بعید سمجھتے ہیں۔
10: جب کسی کے گلے میں طوق پڑا ہوا ہو تو وہ ادھر ادھر دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح یہ لوگ حقائق کو دیکھنے اور ان کی طرف دھیان کرنے سے محروم ہیں (روح المعانی) اس کے علاوہ گلے میں طوق در اصل غلامی کی علامت ہے۔ چنانچہ اسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
آیت نمبر 2 تا 7
آسمان کیا ہیں اور ان کا مفہوم مختلف ادوار میں لوگ کیا سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے ، لیکن یہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ ایک عظیم منفر اور عظیم کائنات ہے۔ جب بھی کوئی ان پر غور کرتا ہے اور معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی عظمت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ پھر یہ سب نظام کسی ظاہری سہارے کے بغیر قائم ہے۔ جس طرح اس زمین پر کوئی چیز بغیر سہارے کے نہیں ہوتی ، ایسا سہارا جو ہمیں نظر آئے۔ بغیر عمد ترو نہا۔
یہ اس پوری کائنات کی تصویر کشی کے سلسلے میں پہلا ٹچ ہے اور انسانی وجدان اور قوت مدرکہ کے لئے یہ ایک پہلی ضرب ہے ، خصوصاً جبکہ انسان اس عظیم کائنات پر غور کر رہا ہو اور وہ سوچے کہ…
Read the full tafseer →7 یعنی اس سے زیادہ عجیب بات کیا ہوگی کہ جس نے اول ایک چیز بنائی وہ دوبارہ بنانے پر قادر نہ ہو ؟ (العیاذ باللہ)
8 گویا یہ لوگ " بعث بعد الموت " کا انکار کر کے خداوند قدوس کی شہنشاہی سے منکر ہیں۔ تو ایسے باغیوں کا انجام یہ ہی ہونا ہے کہ گلے میں طوق اور ہاتھ پاؤں میں ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا کر ابدی جیل خانہ میں ڈال دیے جائیں جو حقیقت میں ایسے مجرموں کے لیے بنایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 5 وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ
یعنی کفار کا مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر تعجب کرنا ‘ بذات خود باعث تعجب ہے۔ جس اللہ نے پہلی مرتبہ تم لوگوں کو تخلیق کیا پوری کائنات اور اس کی ایک ایک چیز پر حکمت طریقے سے بنائی اس کے لیے یہ تعجب کرنا کہ وہ ہمیں دوبارہ کیسے زندہ کرے گا یہ سوچ اور یہ نظریہ اپنی جگہ بہت ہی مضحکہ خیز اور باعث تعجب ہے۔
اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ
دوبارہ جی اٹھنے کے عقیدے سے ان کا یہ انکار دراصل اللہ کے وجود کا انکار ہے۔ اس کی قدرت اور اس کے عَلٰی کُلِّ شَیٌ قَدِیْر ہونے کا انکار ہے۔
Read the full tafseer →9 نبا تات میں معرفت الہٰی پر دلائل۔ یعنی اگر آپ کو اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی ایسی ایسی نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے اور ہمیں اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ایسی حیران کن نشانیاں دیکھتے بھی ہیں اور پھر یہ پوچھتے ہیں کہ جب ہم مر کر زمین میں مل جائیں گے تو کیا پھر دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟ وہ یہ نہیں سوچتے کہ ایک بیج زمین میں مل کر مٹی بن جاتا ہے۔ مگر جب موسم آتا ہے تو وہی بیج اگ کر ایک تناور درخت بن جاتا ہے۔ پھر آخر تم کیوں دوبارہ پیدا نہیں کئے جاسکتے ؟
10 اللہ کی قدرتوں سے انکار اللہ ہی کا انکار ہوتا ہے۔ گویا دوبارہ پیدا ہونے سے انکار حقیقتاً اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →9۔ (آخرت سے انکار کرکے) آیت کا مطلب یہ ہوا کہ یہ نادان ونافہم جو بڑے استعجاب کے لہجہ میں کہتے ہیں کہ یہ ممکن کیسے ہے کہ ہم جب ایک بار خاک ہوگئے تو دوبارہ پھر مجسم ومتشکل ہو کر برآمد ہوں تو دراصل حیرت واستعجاب کے قابل تو خود ان کا یہ انکار ہے، یہ نافہم اتنا نہیں سوچتے کہ جب خود انہی کے اقرار کے مطابق خدائے قادر و توانا کیسی کیسی عجیب اور عظیم الشان مخلوقات عدم محض سے پیدا کرچکا اور برابر پیدا کرتا رہتا ہے تو اس کے لئے ان کا اعادہ انہیں دوبارہ شکل دے دینا مشکل ہی کیا ہے ؟ مضحکہ کے قابل عقیدہ آخرت ذرا بھی نہیں بلکہ تمامتر قابل مضحکہ انکار آخرت ہے،۔
10۔ (اور کبھی نجات نہ پاسکیں گے) یہاں یہ بتایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 7
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے، المر، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیتیں قرآن کریم کی آیتیں ہیں اور (آیاتُ الکتاب) میں اضافت بمعنی مِنْ ہے اور جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے اتارا جاتا ہے سب حق ہے (یعنی) اس میں کوئی شک نہیں ہے، (وَالَّذِیْ اُنزلَ اِلیک الخ) مبتداء ہے اور الحقُّ اس کی خبر ہے، لیکن اکثر لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے کہ یہ منجانب اللہ ہے اور وہ اہل مکہ ہیں، اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر بلند فرمایا جو تم کو نظر آتے ہوں، العمد، عمادٌ کی جمع ہے اور وہ ستون ہیں اور عدم…
Read the full tafseer →وان تعجب فعجب قولھم ءاذا کنا تراباء انا لفي خلق جدیدہ اور (اے محمد ﷺ اگر آپ کو تعجب ہو تو (واقعی) ان کا یہ قول تعجب کے لائق ہے کہ جب ہم خاک ہوگئے تو کیا ازسرنو پھر (قیامت کے دن) پیدا ہوں گے۔
جملۂ استفہامیہ قولھم کا بدل ہے یا مقولہ (یعنی مفعول) ہے ‘ یعنی ان کا یہ قول حشر کا انکار کر رہا ہے۔ وہ اس بات کا تو اقرار کرتے ہیں کہ اوّل تخلیق اللہ نے کی لیکن دوبارہ پیدا کئے جانے کے منکر ہیں حالانکہ یہ بات ہر شخص مانتا ہے کہ کسی کام کی ابتداء سے دوبارہ اس کو کرنا آسان ہوتا ہے (بشرطیکہ ابتداء ارادہ و اختیار کے ساتھ ‘ علم اور اندازہ کے تحت کی گئی ہو ‘ بےاختیار ‘ بلا ارادہ ‘ بغیر جانے بوجھے نہ ہوگی ہو اور…
Read the full tafseer →(5) اے محمد ﷺ اگر آپ کو ان لوگوں کی تکذیب پر تعجب ہو تو واقعی ان کا یہ قول تعجب کے لائق ہے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل جائیں گے تو کیا مرنے کے بعد ہم پھر دوبارہ زندہ ہو کر اٹھیں گے اور ہم میں پھر روح پھونکی جائے گی، یہ مرنیکے بعد زندہ ہونے کا انکار کرنے والے وہ لوگ ہیں جنھون نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا، تو ان کافروں کی گردنوں میں بیڑیاں اور طوق باندھے جائیں گے اور یہ بیڑیوں اور طوق والے دوزخی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے نہ ان کو وہاں موت آئے گی اور نہ یہ وہاں سے کبھی نکالے جائیں گے۔
Read the full tafseer →وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ۔۔ : ”فَعَجَبٌ“ میں تنوین تعظیم و تہویل کے لیے ہے، اسی لیے اہل علم نے ترکیب میں اسے نکرہ ہونے کے باوجود مبتدا بنانا جائز رکھا ہے، گویا یہ نکرہ موصوفہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ اتنی نشانیاں دیکھ کر بھی ان کے ایمان نہ لانے پر تعجب کریں تو بہت ہی عجیب بات ان کا دوبارہ نئے سرے سے پیدا ہونے کو ناممکن قرار دینا ہے، حالانکہ جو شخص معمولی علم اور معمولی عقل رکھتا ہے بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ اتنی قدرتوں کے مالک اور پہلی دفعہ انھیں پیدا کرنے والے کے لیے انھیں دوبارہ نئے سرے سے پیدا کرنا کیوں مشکل ہے۔
اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ : یعنی جب انھوں نے آخرت سے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 5
قولہ تعالیٰ : وان تعجب فعجب قولھم۔ یعنی اے محمد ﷺ ! اگر آپ ان کے اس روپے پر حیران ہیں کہ آپ کو صادق وامین تسلیم کرنے کے بعد انہوں نے آپ کی تکذیب کی تو ان کا بعث بعد الموت کی تکذیب کرنا اس سے زیادہ حیران کن ہے۔ اللہ تعالیٰ تو حیران نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے حیران ہونا چاہئے، کیونکہ تعجب تو اسباب مخفیہ کی وجہ سے نفس کی تبدیلی کو کہتے ہیں (اور اللہ تعالیٰ تو اس سے منزہ و مبرا ہے) ، یہاں صرف اس لیے ذکر فرمایا ہے تاکہ اس سے اللہ کا نبی اور مومنین حیران ہوں۔ ایک قول کے مطابق معنی یہ ہے : اے محمد ﷺ ! اگر آپ اس بات سے حیران ہیں کہ یہ مجھے آسمانوں، زمین اور ایک زمین سے مختلف پھلوں کا خالق…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وان تعجب فعجب قولہم “ کے بارے میں فرمایا اے محمد اگر آپ تعجب فرما رہے ہیں ان کے جھٹلانے سے۔ اور وہ دیکھنے والے ہیں اللہ کی قدرت کو اور اس کے حکم کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مثالیں بیان فرمائی اور اس نے ان کو مردوں کو زندہ کرکے دکھایا اور مردہ زمینوں کو آبادکرکے دکھایا آپ تعجب کریں ان کے قول سے (آیت) ” ءاذا کنا ترباء انا لفی خلق جدید “ کی انہوں نے دیکھا کہ ان کی پیدائش ایک نطفہ سے ہوئی جو زیادہ مشکل تھا۔ مٹی اور ہڈیوں سے پیدا کرنے سے۔
3:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان…
Read the full tafseer →[وَان : اور اگر ] [تَعْجب : آپ ﷺ تعجب کریں ] [ فَعَجب : تو عجیب ہے ] [ قَوْلُهُمْ : ان لوگوں کی بات (کہ)] [ءَ : کیا ] [اِذَا : جب ] [ كُنَا : ہم ہوجائیں گے ] [ تُرٰبًا : مٹی ] [ءَ : (تو) کیا ] [انا : ہم ] [لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ : ضرور ایک نئی مخلوق میں ہوں گے ] [اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ہیں ] [الَّذِينَ : جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : انکار کیا ] [ بِرَبِهِمْ : اپنے رب کا ] [ وَاُولٰۗىِٕكَ : اور وہ ہیں (کہ)] [الْاَغْلٰلُ : طوق ہیں ] [ فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ : ان کی گردنوں میں ] [ وَاُولٰۗىِٕكَ : اور وہ لوگ ] [اَصْحٰبُ النَارِ : آگ والے ہیں ] [هُمْ : وہ ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
منکرین بعث کا انکار لائق تعجب ہے ‘ ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ اگر آپ کو مخاطبین کے انکار قیامت سے تعجب ہے تو آپ کا تعجب واقعی برمحل ہے ‘ ان کا یہ قول تعجب کے لائق ہے کہ جب ہم مر کر خاک ہوجائیں گے تو کیا پھر نئے سرے سے ہماری پیدائش ہوگی ‘ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہرے ان کے سامنے ہیں ان کے ہوتے ہوئے پھر تعجب کر رہے ہیں کہ ہم کیسے زندہ ہوں گے ‘ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ہم خود اور ہمارے آباؤ اجداد موجود نہیں تھے سب کو خالق جل مجدہ نے پیدا فرمایا ہے نطفہ سے ‘ نطفہ بھی بےجان ہے جس نے نطفہ میں جان ڈال دی وہ اس پر بھی قادر ہے کہ مٹی سے دوبارہ پیدا فرما دے اور مٹی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
منکرین نبوت کے شبہات اور ان کے جوابات
قال اللہ تعالیٰ : وان تعجب فعجب قولہم .... الیٰ .... انما انت منذر ولکل قوم ھاد
(ربط) اوپر کی آیتوں میں توحید کا مضمون تھا اب ان آیات میں منکرین نبوت کے تین شبہات کے جوابات مع وعید و تبدید ذکر کرتے تھے کہ یہ کیسے نبی ہیں جو ایک محال اور ناممکن کی خبر دیتے ہیں اور اس پر ایمان لانے کا حکم دیتے ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں ہے ہل ندلکم علی رجل تنبئکم اذا مذقتم کل ممزق انکم لفی خلق جدید افتری علی اللہ کذبا ام بہ جنۃ (دوسرا) شبہ یہ تھا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں تو آپ کے منکرین اور مکذبین پر عذاب کیوں نازل نہیں ہوتا کما قال اللہ تعالیٰ واذ قالوا اللہم ان کان ھذا ھو الحق…
Read the full tafseer →6:۔ یہ شکوی ہے۔ ” عجب ای معجب “ یعنی اے پیغمبر اگر آپ مشرکین کی اس حرکت پر متعجب ہیں کہ وہ ایک بدیہی حقیقت کا انکار کرتے ہیں اور ایسے دلائل قاہرہ کی موجودگی میں اور یہ مانتے ہوئے کہ ساری کائنات کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی وہ اللہ کی عاجز مخلوق کو کارساز اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو دوبارہ جی اٹھنے سے ان کا انکار کرنا بھی کوئی کم قابل تعجب نہیں۔ ” و ان تعجب من اتخاذ المشکرین مالا یضرھم ولا ینفعھم الیۃ یعبدونھا مع اقرار ھم بان اللہ تعالیٰ خالق السموات والارض وھو یضر و ینفع و قدرا وامن قدرۃ اللہ وما ضرب لھم بہ المثال ما راوا فعجب قولھم “ (خازن ج 4 ص 5) ۔ ” اولئک الاغلل الخ “ تخویف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(ربط آیات)
اس سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ پر مشتمل بعض دلائل توحید بیان فرمائے ہیں ، زمین اور اس میں پیدا ہونے والے مختلف قسم کے درختوں اور پھلوں کا ذکر فرمایا ، سارے ایک پانی سے سیراب ہونے والے پھلوں کے ذائقے اور رنگ مختلف ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا کام ہے ، فرمایا کہ ان میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانیاں ہیں ، ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں اور غوروفکر کرتے ہیں ، جو ایسا نہیں کرتے ان کو یہ واضح دلائل بھی کچھ مفید نہیں ہوتے ، وہ اپنی جہالت اور نادانی میں ہی پڑے رہتے ہیں ، اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر…
Read the full tafseer →وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ ڛ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ الْاَغْلٰلُ فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ
عجب
العَجَبُ والتَّعَجُّبُ : حالةٌ تعرض للإنسان عند الجهل بسبب الشیء، ولهذا قال بعض الحکماء : العَجَبُ ما لا يُعرف سببه، ولهذا قيل : لا يصحّ علی اللہ التَّعَجُّبُ ، إذ هو علّام الغیوب لا تخفی عليه خافية . يقال : عَجِبْتُ عَجَباً ، ويقال للشیء الذي يُتَعَجَّبُ منه : عَجَبٌ ، ولما لم يعهد مثله عَجِيبٌ. قال تعالی: أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً أَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ترکیب : قولھم مبتداء عجب خبر جملہ جواب ان تعجب اذا کنا جملہ قولہم کا بیان ہے اذا کا۔ عامل نبعث محذوف ہے قبل الحسنۃ یستعملون سے متعلق ہے علی ظلمھم حال ہے الناس سے۔ المثلات جمع المثلۃ بوزن السمرۃ وھی العقوبۃ الفاضحۃ قال ابن الانباری المثلۃ ہے العقوبۃ التی تبقی فی المعاقب شیئا تنغیر بعض خلقہ
تفسیر : جب دلائلِ قاہرہ وبراہین باہرہ سے اپنی ذات اور صفات کاملہ کا آسمانوں اور زمین اور ان کی سب چیزوں کے پیدا کرنے سے ثبوت فرما چکا تو اس کے بعد مسئلہ معاد بھی ضروری الثبوت تھا کیونکہ جب انسان یہ اعتقاد کرلیتا ہے کہ مر کر پھر زندہ ہونا اور خدا کے روبرو حاضر ہو کر نیکی بدی کا بدلہ پانا ہے تو ہر قسم کی برائی…
Read the full tafseer →وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُہُمْ ئَ اِذَا کُنَّا تُرٰ بًائَ اِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ 5 ط اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ ج وَاُوْلٰٓئِکَ الْاَغْلٰلُ فِیْ ٓ اَعْنَاقِہِمْ ج وَاُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (سورۃ الرعد : 5)
(اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو ہم ازسرنو وجود میں آئیں گے، یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا، یہی لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں، یہی لوگ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ )
تعجب کے قابل اصل بات
نبی کریم ﷺ جب مشرکین کے سامنے اپنی دعوت پیش فرماتے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کی لا تعداد قدرتوں کو دیکھنے اور ان سے استفادہ کرنے کے باوجود یہ لوگ اس کی قدرت کا انکار کرتے ہیں کہ ہمارے مرنے کے بعد ہمیں کون اٹھائے گا۔
یہ کتنی بڑی حقیقت ہے جس پر یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ ایک چھوٹے سے بیج سے کس قدر تناور درخت پیدا کرتا ہے، پھر غور کریں کہ کتنے بیج ہیں جو کئی کئی سال تک زمین میں دفن رہتے ہیں لیکن اگنے کا نام نہیں لیتے۔ جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے تو زمین سے نکل کر بڑے بڑے درختوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اسی طرح انسان کو متعین مدت کے بعد اٹھایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آفاق، جمادات اور نباتات کے حوالے سے اپنی…
Read the full tafseer →اگر ان سب کا خالق ہے تو اعادئہ انسان کیوں ناممکن :
5: وَاِنْ تَعْجَبْ (اگر تمہیں تعجب ہو) اے محمد ﷺ اگر آپ انکے انکار بعث والے قول پر تعجب کرتے ہیں۔ فَعَجَبٌ قَوْلُھُمْ (تو
انکا یہ قول تعجب کے قابل ہے) یہ خبر اور مبتداء ہے یعنی انکا قول اس قابل ہے کہ اس پر تعجب کیا جائے کیونکہ یہ تمام چیزیں پیدا کرسکتا ہے تو اسکو انکا دوبارہ لوٹانا تو آسان تر ہے۔ اور سہل ترین ہے پس ان منکرین کا انکار تو عجوبہ کائنات ہے۔ ئَ اِذَا کُنَّا تُرٰبًا ئَ اِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ۔ (جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو کیا نئے سرے سے پیدا ہوں گے) قراءت : عاصم، حمزہ نے ہر ایک کو دو ہمزہ سے پڑھا ہے۔ اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ…
Read the full tafseer →وان تعجب فعجب قولھم کی تفسیر
تفسیر 5۔” وان تعجب فعجب قولھم “ تعجب اس کیفیت کا نام ہے کہ کسی امر بعید کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا ۔ یہاں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے کہ آپ ﷺ ان کے اس قول پر تعجب نہ کریں کہ یہ اس بات کا اقرار تو کرتے ہیں کہ اول تخلیق اللہ نے کی لیکن یہ دوبارہ پیدا کیے جانے کے منکر ہیں کیونکہ مشرکین دوبارہ اٹھائے جانے کے منکر تھے۔ اگرچہ ابتداء پیدا کیے جانے کے قائل تھے اور یہ بات دل میں بار بار کھٹکتی ہے کہ پہلی بار کسی چیز کو بنانا مشکل ہے بنسبت دوسری مرتبہ پیدا کرنے سے ، یہ جگہ بطور تعجب کے ہے یا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مشرک جو آپ کے دعوائے رسالت کی تکذیب کر رہے ہیں اور واضح دلائل کے…
Read the full tafseer →5۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منکرین حشر کا یہ قول کہ مٹی ہو کر پھر کیوں کر جئیں گے ضعیف ٹھہرایا اس واسطے فرمایا کہ دنیا بھر میں کسی کو تعجب کی بات سننی ہو تو ان کا یہ قول سنے کیوں کہ ہر عقلمند جانتا ہے کہ پہلے پہل ہر کام مشکل ہوتا ہے ایک دفعہ جو کام ہوچکا اور اس کا راستہ پڑگیا پھر دوبارہ اس کا ہوجانا کیا دشوار ہے دنیا کو جب ناپید حالت سے اللہ تعالیٰ نے موجود کردیا تو اب دوبارہ ناپید کر کے پھر موجود کردینا اس کو کیا مشکل ہے اور دنیا بھر میں وہ کون سی عقل ہے جس عقل سے اس بات کو دشوار کہا جاسکتا ہے اور دنیا بھر کے عقلوں سے نرالی یہ ایک بات منکرین حشر کہتے ہیں اس لئے دنیا بھر کی باتوں سے بڑھ کر…
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد : (وان تعجب) ” اور اگر آپ تعجب کریں “ میں احتمال ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت اور توحید کے دلائل کی کثرت پر تعجب ہو۔ اس لئے کہ اس کے باوجود جھٹلانے والوں کا انکار اور ان کا روز قیامت کی تکذیب کرنا عجیب بات ہے، ان کا یہ کہنا : (اذا کنا ترباً ء انا لفی خلق جدید) ” کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے، کیا نئے سرے سے بنائے جائیں گے ؟ “ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق، یہ بہت بعید اور ممتنع ہے کہ جب وہ مٹی میں رل مل جائیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ انہوں نے بربنائے جہالت خالق کی قدرت کو مخلقو کی قدرت پر قیاس کرلیا ہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ یہ مخلوق کی قدرت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
زمین کے خطے مختلف اقسام کے ہوتے ہیں
قول باری ہے (وفی الارض قطع متجاورات، اور دیکھو زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور ضحاک کا قول ہے کہ اس سے زمین شورا اور زمین شیریں مراد ہے۔ قول باری ہے (ونخیل صہنوان۔ کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ اکہرے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ حضرت براء بن عازب ؓ ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ کھجور کے ایسے درخت جن کی جڑیں اکہری ہوں۔ قول باری ہے (یسقی بماء واحد و نفضل بعضھا علی بعض فی الاکل۔ سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کمتر) آیت میں ان لوگوں کے قول کے بطلان کی واضح ترین دلالت موجود ہے جو کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
17۔ کفار و منکرین کا حال قابل تعجب :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر آپ ان لوگوں کے حال پر تعجب کریں تو واقعی ان کا حال قابل تعجب ہے۔ یعنی ان کا یہ کہنا تعجب کے لائق ہے کہ کیا جب ہم لوگ مر کرمٹی ہوجائیں گے تو واقعی ہمیں از سرنو پھر پیدا کیا جائے گا ؟ کیونکہ جو خدا وندقدوس ایسی ایسی قدرتوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ اور جس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی اس تمام عجیب و غریب مخلوق کو خلعت وجود سے نوازا، اس کے لیے بھلا اس انسان ضعیف البنیان کو دوبارہ وجود بخش دینا اور اس کو نیست کے بعد ہست کردینا آخرکیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ جبکہ آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کا پیدا کرنا انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
اللہ کی تخلیقات اور آخرت کا انکار کرنیوالوں کا انجام
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رب اور خالق ہونے کے دلائل بیان فرمائے ہیں اس دنیا کا اور تمام کائنات کا خالق اور قادر مطلق اللہ تعالیٰ ہے اس کی بنائی ہوئی تخلیقات انتہائی حیران کن ہیں اور انسان کے لیے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس کو چھت کے طور پر آسمانوں کا سایہ دیا، آسمان کی تخلیق اس قدر حیرت انگیز ہے کہ اس کی تعمیر کے لیے کسی ستون یا کھمبے کی ضرورت نہیں پڑی یہ بیان تو ایک عام، بےعلم انسان کے لیے ہے مگر علم و فضل رکھنے والے انسان کے لیے یہاں بہت بڑی سائنسی اصطلاح اور ایک بہت بڑا اصول بیان کردیا گیا ہے۔ کیونکہ جب آسمان، زمین،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الرعد :
رکوع نمبر 1 :
اسرارومعارف :
(آیت) ” الم ، تلک ایت الکتب۔ 1 تا 7 ۔ یہ سورة مبارکہ بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے اور سورة یوسف کے آخر کا مضمون یعنی توحید باری کا ثبوت اور نبوت کی حقانیت ہی کے دلائل کا تسلسل ہے کہ ارشاد ہوتا ہے کہ یہ مضامین ایک بےمثال کتاب میں ہیں جو اللہ کا ذاتی کلام ہے اور جو بجائے خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے کہ اس کی نظیر پیش کرنا انسانی بس میں نہیں اور جو کچھ اس میں فرمایا گیا ہے ، انسان کبھی اسے غلط ثابت نہیں کرسکتا اگرچہ اس میں دنیاوی امور کے بارے افزائش کے مسائل اور صورتیں سیاسیات ، اخلاقیات اور معاشیات تک بیان کی گئی ہیں واقعات عالم کے بارے…
Read the full tafseer →ف 13 ۔ کہ ان کافروں نے اتنی نشانیاں دیکھ لینے کے باوجود آپ ﷺ کو جھٹلایا۔ (روح) ۔
1 ۔ حالانکہ ہر وہ شخص جو معمولی علم اور معمولی عقل رکھتا ہے باآسانی سمجھ سکتا ہے کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنا انسانوں کے پیدا کرنے سے مشکل ہے اور یہ کہ جس خدا نے انسانوں کو پہلی بار پیدا کیا اس کے لئے انہیں دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے۔ (ابن کثیر) ۔
2 ۔ یعنی جب انہوں نے آخرت سے انکار کیا تو تو یا خدا کی قدرت سے انکار کی اور یہ کہا کہ خدا اتنا عاجز اور درماندہ ہے کہ انہیں دوبارہ پیدا کر ہی نہیں سکتا۔ (العیاذ باللہ) ۔
3 ۔ جیسے قیدیوں اور مجرموں کے گلے میں ڈالے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →(13:5) تعجب۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل ان ۔ واحد مذکر حاضر۔ (اگر) تو تعجب کرتا ہے۔ حیران ہے (باب سمع) تعجب اس حالت کا نام ہے جو انسان کو کسی شے کا سبب معلوم نہ ہونے پر پیش آتی ہے۔ ان تعجب۔ ای ان تعجب من قولہم فی انکار البعث۔ یعنی ان کی انکار آخرت کے متعلق باتیں اگر آپ کو تعجب خیز لگتی ہیں (تو حیرت انگیز ان کا یہ قول بھی ہےء اذا کنا ۔۔ خلق جدید) ۔
الاغلال۔ طوق۔ ہتھکڑیاں۔ غل کی جمع ہے۔ الغلل۔ کے اصل معنی کسی چیز کو اوپر اوڑھنے یا اس کے درمیان چلے جانے کے ہیں۔ اسی لئے غلل اس پانی کو کہتے ہیں جو درختوں کے درمیان سے بہہ رہا ہو۔ اور انغل کے معنی درختوں کے درمیان میں داخل ہونے کے ہیں۔ لہٰذا غل (طوق) خاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 7
تعجب تو تعجب اور حیرت کرتا ہے ءاذا کیا جب تراب مٹی خلق جدید نئی پیدائش الا غلل طوق۔ گلے کا ہار اعناق (عنق) ۔ گردنیں یستعجلون وہ جلدی مچاتے ہیں السیئۃ برائی الحسنۃ نیکی، بھلائی قدخلت یقینا گذر گئی المثلت (مثل) عبرت کے واقعات ذو مغفرۃ معافی دینے والا شدید العقاب سخت عذاب دینے والا ایۃ نشانی، معجزہ منذر ڈرانیو الا ھاد ہدایت دینے والا۔ رہنمائی کرنے والا
تشریح : آیت نمبر 5 تا 7
کفار مکہ ہر روز کوئی نہ کوئی اعتراض کر کے اپنی جہالت، تعصب اور حسد کا اظہار کرتے رہتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام شبہات اور سوالات کے جوابات گزشتہ آیات میں دے کر ایک مرتبہ پھر ان کے چند شبہات…
Read the full tafseer →منکرین حشر کا ذکر
اس آیت کو اللہ تعالیٰ نے منکرین حشر کا یہ قول : مٹی ہوکر پھر کیونکر جئیں گے۔ ضعیف ٹھہرایا اس اس واسطے فرمایا کہ دنیا بھر میں کسی کو تعجب کی بات سننی ہو تو ان کا قول سنے۔ کیو کہ ہر عقلمند جانتا ہے کہ پہلے پہل ہر کام مشکل ہوتا ہے ایک دفعہ جو کام ہوچکا اور اس کا راستہ پڑگیا پھر دوبارہ اس کا ہوجانا کیا دشوار ہے۔ یعنی پہلی مرتبہ کی پیدائش کو آنکھوں سے دیکھ کر جو یہ لوگ دوسری دفعہ کی پیدائش کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر گنتے ہیں تو یہ ان کا اللہ تعالیٰ کی شان میں ایک کفر ہے۔ جس کی سزا یہ ہے کہ قیامت کے دن سخت جرم کے مجرموں کی طرح ان کی گردنوں میں آگ کے طوق ڈالے جاویں گے تاکہ یہ…
Read the full tafseer →[5] جب یہ کارخانہ ہستی ایک سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ ہے تو یہ بغیر کسی مصلحت و مقصد کے نہیں ہوسکتا لہذا ضروری ہے کہ انسان کی زندگی صرف اتنی نہ ہو کہ پیدا ہو، کھائے پئے اور فنا ہوجائے ورنہ تدبیر و مصلحت کا یہ سارا کارخانہ باطل ہوجاتا ہے۔ پس عجیب بات یہ نہیں ہے کہ مرنے کے بعد پھر انسان پر ایک دوسری زندگی طاری ہوگی کیونکہ اس کی شہادت تو دنیا کی ہر چیز دے رہی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ انسان سمجھ لے کہ اس کی پیدائش سے جو کچھ مقصود تھا وہ صرف اتنا ہی تھا کہ ایک مرتبہ پیدا ہو، کھائے پئے اور مرجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(ف 1) ان آیات میں بھی دعوت غو وفکر ہے کہ یہ لوگ فکر وعقل سے اگر کام لیں تو یقینا مذہب سب کی پہنائیوں کو پالیں ، یہ غلط ہے کہ فلسفہ وعلوم کے مطالعہ سے انسان ملحد ہوجاتا ہے ، قرآن حکیم اور اسلام کے متعلق تو یہ نظریہ قطعی غلط ہے ، قرآن تو ہر قسم کے لوگوں کو عقل وفکر کی جانب پکار پکار کر مدعو کرتا ہے ، اور کہتا ہے ۔ زمین کے پھیلاؤ کو دیکھو ، پہاڑوں اور نہروں کے فوائد پر نظر دوڑاؤ پھلوں کے اقسام ملاحظہ کرو ، دن اور رات کو مشاہد کرو ، کیونکہ رات کی تاریکی دن کی تابندگی سے بدل جاتی ہے ، زمین کے مختلف قلمات تمہارے سامنے ہیں ، باغات ہیں کھیت ہیں انگوروں کی چھتریاں ہیں ، کھجوریں ہیں پھر اس پر جو کچھ…
Read the full tafseer →5 ۔ اور اگر اے پیغمبر ! آپ کو کسی بات پر تعجب اور اچمبا ہو تو کافروں کا یہ قول واقعی تعجب کے لائق ہے کہ جب ہم مر کر خاک ہوگئے تو کیا کیا ہم قیامت میں از سر نو پھر پیدا ہوں گے اور کیا ہم نئے سرے سے بنائے جائیں گے یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں گے اور ایسے ہی لوگ دوزخی ہیں ۔ وہ اس دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو خالق اور تمام عالم کا پیدا کرنے والا مان کر پھر دوبارہ پیدا کرنے سے انکار کرنا اور اس کو دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز سمجھنا حالانکہ ہمیشہ کسی چیز کا پہلی مرتبہ پیدا کرنا اور بنانا دقت طلب ہوتا ہے تو اس قسم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ف 2۔ یعنی لڑکا ہے یا لڑکی ہے۔
3۔ بچہ میں یامدت میں مثلا کبھی ایک بچہ ہوتا ہے کبھی زیادہ کبھی جلدی ہوتا ہے کبھی دیر میں۔
Read the full tafseer →عجیب بات ان منکروں کی ہے جو مرنے کے بعد کی زندگی میں شک کر رہے ہیں
10 ؎ فرمایا کہ کائنات کی ہرچیز اور ہر بات یقین دلا رہی ہے کہ یہ کارخانہ تدبیر و ہکمت بغیر کسی مصلحت و مقصد کے نہیں ہو سکتا اور ضروری ہے کہ انسان کی زندگی صرف اتنی ہی نہ ہو کہ پیدا ہوا ‘ کھایا پیا اور مر گیا بلکہ اس کے بعد بھی کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے ورنہ یک انسان اور کتے بلے کی زندگی میں آخر فرق ہی کیا رہا ؟ یقینا کچھ ہونے والا ہے اگر کچھ بھی ہونے والا نہ ہوتا تو تدبیر و مصلحت کا سہارا کارخانہ باطل ہوجاتا لیکن اگر اس پر بھی لوگوں کی غفلت کا یہ حال ہے کہ حیات آخرت کی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی تو اس سے زیادہ کونسی بات عجیب ہو…
Read the full tafseer →Commentary
Contained in the first three verses cited above (5-7) there is a refutation of the doubts expressed by the disbelievers about prophethood. Along with it, added there is a warning of punishment for deniers.
1. The first of the three doubts they had was about people returning to life after having been dead and according to them, the whole idea of accounting and retribution on the Day of Resurrection was improbable and irrational. On this basis, they used to belie the prophets and rejected their claim to prophethood. This doubt of theirs has been mentioned in the following verse of…
Read the full tafseer →12. They“disbelieved in their Lord”: their denial of the Hereafter is, in fact, the denial of the Power and Wisdom of Allah. As they say that it is impossible to bring them again to life after their death, it implies that, God forbid, their Allah Who has created them lacks not only power but wisdom, too.
13. As a shackle around the neck is a symbol of imprisonment, the words“shackles upon their necks”have been used here idiomatically to show that they are slaves of ignorance, obduracy, lust and are blind followers of their forefathers. As their thinking is influenced by their prejudices, they…
Read the full tafseer →