13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 13:1

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

الف۔ لام۔ میم۔ را۔ یہ کتاب (عظیم) کی آیتیں ہیں اور جو کچھ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا جاتا ہے وہ (بالکل) سچ ہے لیکن اکثر انسان ایمان نہیں لاتے،1۔

1۔ (حالانکہ اس کلام کی حقانیت وصداقت کا مقتضاء یہ تھا کہ سب کے سب اس پر ایمان لے آتے) (آیت) ” المر “۔ حروف مقطعات پر حاشیہ سورة بقرہ میں گزر چکا۔ یہاں ان حروف کو فقرہ انا اللہ اعلم واری ما تعملون کا بھی مخفف سمجھا گیا ہے اور فقرہ انا اللہ الملک الرحمن (کبیر عن عطاء)
Ayah 13:2

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

اللہ وہی تو ہے جس نے آسمانوں کو بلند کر رکھا ہے بغیر ستون کے (جیسا کہ) تم اسے دیکھ رہے ہو،2۔ پھر قائم ہوا عرش (سلطنت) پر اور آفتاب وماہتاب کو مطیع کیا،3۔ ہر ایک ایک وقت معین میں چلتا رہتا ہے،4۔ (اللہ) ہر امر کا انتظام کرتا رہتا ہے، نشانیوں کو کھول بیان کرتا ہے، تاکہ تم اپنے پروردگار کی ملاقات کا یقین کرلو،5۔

2۔ زمین سے آسمان کا اتنا بلند نظر آنا اور اتنی بلند چیز بغیر کسی ظاہری مادی سہارے کے۔۔۔ یہ بجائے خود ایک دلیل خالق فطرت کی اعلی صناعی وقدرت کی ہے، جمہور مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں نفی عمد کی کی گئی ہے۔ آیت میں ان یونانی ومصری حکماء وفلاسفہ کا رد آگیا، جو آسمان کو قائم بالذات صاحب عقل و ارادہ دیوتا تسلیم کرتے تھے۔ (آیت) ” ترونھا “۔ کے ترجمہ میں ضمیر مونث السماوات کی طرف لی گئی ہے لیکن جائز ہے کہ عمد کی طرف بھی لی جائے اس صورت میں نفی عمد کی نہیں بلکہ رؤیت عمد کی رہے گی یعنی آسمانوں کے لئے ایسے ستون ہیں جو تمہارے لئے غیر مرئی وغیرہ مشاہد ہیں۔ قیل ضمیر النصب فی ترونھا عائد علی عمد ای بغیر عمد مرئیۃ (بحر) یحتمل وجھین احدھما انھا لھا عمد ولا تری تلک العمد وھذا ذھب الیہ مجاھد وقتادۃ (بحر) وقال ابن عباس ؓ وما یدریک انھا بعمد لا تری (بحر) اس صورت میں قانون کشش وغیرہ جس نام سے بھی سائنس توجیہات پیش کرے، سب آیت کے ماتحت غیر مرئی کے عموم میں داخل ہوجائیں گی، اور سب سے بہتر اس باب میں وہ تشریح ہے جو امام رازی (رح) نے پیش کی ہے۔ امام موصوف (رح) فرماتے ہیں کہ آسمان کو قائم رکھنے والے اصلی ستون حق تعالیٰ کی قوت حفظ وتدبیر ہیں اور یہ تمہارے لئے غیر مرئی ہیں۔ وقد دللنا علی ان ھذہ الاجسام انھا بقیت واقفۃ فی اجو العالی بقدرۃ اللہ تعالیٰ وحینئذ یکون عمدھا ھو قدرۃ اللہ تعالیٰ (کبیر) 3۔ (اپنے احکام تکوینی کا اور انہیں کام میں لگا دیا) سورج اور چاند دیوی دیوتا ہونا تو خیر بڑی چیز ہے خود مختار اور آزاد بھی نہیں، مشیت الہی کے آگے تمامتر مسخر ومجبور ہیں ان کے خالق نے انہیں جس کام چاہا لگا دیا۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” استوی علی العرش “۔ یعنی قوانین جہانبانی کا نفاذ شروع کردیا۔ استواء اور عرش دونوں پر مفصل حاشیہ پہلے گزر چکے ہیں۔ 4۔ (اپنے اپنے مدار پر حسب قانون خداوندی) (آیت) ” کل یعنی سورج اور چاند دونوں میں سے ہر ایک۔ 5۔ مطلب یہ ہوا کہ جو قادر مطلق ایسی ایسی عظیم الشان مخلوقات کی خلق اور ایجاد پر قادر ہے اس کے لئے انسان کا دوبارہ پیدا کردینا کچھ دشوار ہے ؟ (آیت) ” یدبر الامر “۔ ہر امر کا انتظام حکمت ومصلحت کے ساتھ کرتا رہتا ہے یعنی وہ محض صانع و خالق ہی نہیں جو ایک مرتبہ تخلیق کے بعد معطل ہو کر بیٹھ گیا (جیسا کہ بہت سے گمراہ فرقوں نے فرض کر رکھا ہے) بلکہ حاکم و متصرف بھی ہے۔ (آیت) ” الایت “۔ اس کے اندر تکوینی نشانات اور تشریعی دلائل دونوں آگئے۔
Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہ وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا رکھ دیئے اور اس میں ہر پھل کی دو دو قسمیں رکھ دیں،6۔ وہ رات سے دن کو چھپا دیتا ہے بیشک ان (سب) میں سوچنے والوں کے واسطے نشان موجود ہیں،7۔

6۔ ایک دوسرے کے مقابل مثلا بڑے اور چھوٹے یا ترش اور شیریں وقس علی ھذا۔ سائنسی تحقیقات سے آج یا آگے چل کر جس جس قسم کا بھی تعلق زوجیت پھلوں کے درمیان منکشف ہو سب آیت کے تحت میں آجائے گا۔ (آیت) ” رواسی وانھرا “۔ یعنی نہ کوئی پہاڑ (نہ گوری شنکر نہ بندھیا چل نہ ننگاپربت) اور نہ کوئی دریا (نہ گنگا نہ نربدانہ سرسوتی) معبود یانیم معبود یا کسی دیوی دیوتا کا مسکن جیسا کہ ہندوستان کے اندر اور ہندوستان کے باہر بھی بہت سی جاہل قوموں کا عقیدہ ہے اور رہ چکا ہے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ (آیت) ” مد الارض “۔ یعنی یہ زمین بھی نہ کوئی دیوی ہے نہ کوئی مائی جی، محض اللہ کا پھیلایا ہوا ایک فرش ہے جس پر اس کی مخلوق آزادی سے چلے پھرے، دوڑے دھوپے، مدوامتداد سے زمین کی کرویت کا انکار ہرگز لازم نہیں آتا اصلی شکل جو کچھ بھی ہو، قرآن مجید کو اس سے مطلق بحث نہیں، بشری آنکھ کو تو بہرحال پھیلی ہوئی اور مسطح ہی نظر آتی ہے امام رازی (رح) کی تفسیر کبیر توساتویں صدی ہجری کی بالکل ابتداء کی تصنیف ہے زمین کی کرویت اس وقت بھی مسلم ہوچکی تھی۔ ثبت بالدلائل ان الارض کرۃ فکیف یمکن المکابرۃ فیہ (کبیر) لیکن چونکہ یہ کرہ ہے نہایت ہی عظیم جسامت رکھنے والا اس لیے بشری آنکھ کے سامنے اس کا جتنا ٹکڑا آتا ہے مسطح ہی نظر آتا ہے اور اس کی کرویت غیر مشاہد رہتی ہے۔ امام موصوف ہی کے الفاظ ہیں :۔ والکرۃ اذا اکانت فی غایۃ الکبر کان کل قطعۃ منھا تشاھد کالسطح (کبیر) 7۔ یعنی ترید شرک وتعددالہ کے اور اللہ کی توحید اور صنعت گری کے دلائل۔ (آیت) ” یغشی الیل النھار “۔ یعنی رات کی تاریکی دن کی روشنی کو چھپا دیتی ہے۔ دنیا میں ایسی مشرک قومیں بھی گزری ہیں جنہوں نے ” رات “ اور ” دن “ کو مستقل دیوتامان مان کر ان کی پوجا کی ہے۔ پارۂ سیقول کے حاشیوں میں اس کا ذکر آچکا ہے :۔
Ayah 13:4

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں پاس پاس قطعے ہیں اور انگوروں کے باغ اور کھیتیاں ہیں اور کھجوریں گنجان (بھی) اور چہترے (بھی) ایک ہی پانی سے سیراب کئے جانے والے اور (پھر بھی) ہم ان میں سے پھلوں میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دیتے ہیں بیشک ان (سب) میں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں دلائل (موجود) ہیں،8۔

8۔ (آیت) ” قطع متجورت “۔ یعنی زمین کے یہ قطعے ہوتے تو پاس ہی پاس ہیں لیکن اثرات کے لحاظ سے مختلف۔ حاصل ان سب مثالوں کا یہ ہے کہ مؤثر ات مادی ایک ہی ہوتے ہیں، اور پھر بھی اثرات مختلف ہوتے ہیں طبیعت ایک اور حکم مختلف یہ سب اس لیے کہ فاعل حقیقی کوئی اور ہی ہے، اس میں رد آگیا ان ” نیچری “ مذاہب کا جو کائنات کو محض قوانین طبعی کا (بغیر کسی قانون گروقانون ساز کے) مقیدہ محکوم سمجھتے ہیں۔ (آیت) ” لایت لقوم یعقلون “۔ ان سب واقعات میں جو روزانہ مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں رد شرک اور اثبات توحید کے پورے پورے دلائل موجود ہیں۔
Ayah 13:5

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اور اگر آپ تعجب کریں تو تعجب کے قابل (خود) ان کا (یہ) قول ہے کہ جب ہم خاک ہوگئے تو پھر کیا ہم نئے سرے سے پیدا ہوں گے ؟ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا،9۔ اور انہیں لوگوں کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی لوگ اہل دوزخ ہیں اس میں (ہمیشہ) پڑے رہیں گے،10۔

9۔ (آخرت سے انکار کرکے) آیت کا مطلب یہ ہوا کہ یہ نادان ونافہم جو بڑے استعجاب کے لہجہ میں کہتے ہیں کہ یہ ممکن کیسے ہے کہ ہم جب ایک بار خاک ہوگئے تو دوبارہ پھر مجسم ومتشکل ہو کر برآمد ہوں تو دراصل حیرت واستعجاب کے قابل تو خود ان کا یہ انکار ہے، یہ نافہم اتنا نہیں سوچتے کہ جب خود انہی کے اقرار کے مطابق خدائے قادر و توانا کیسی کیسی عجیب اور عظیم الشان مخلوقات عدم محض سے پیدا کرچکا اور برابر پیدا کرتا رہتا ہے تو اس کے لئے ان کا اعادہ انہیں دوبارہ شکل دے دینا مشکل ہی کیا ہے ؟ مضحکہ کے قابل عقیدہ آخرت ذرا بھی نہیں بلکہ تمامتر قابل مضحکہ انکار آخرت ہے،۔ 10۔ (اور کبھی نجات نہ پاسکیں گے) یہاں یہ بتایا ہے کہ یہ منکرین آخرت بھی ویسے ہی کافر اور ویسے ہی معذب رہیں گے جیسے دوسرے منکرین توحید ومنکرین رسالت۔
Ayah 13:6

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور یہ لوگ آپ سے جلدی کرتے ہیں مصیبت کی قبل عافیت کے درآنحالیکہ ان کے قبل واقعات عقو بت گزر چکے ہیں،11۔ اور بیشک آپ کا پروردگار لوگوں کے حق میں باوجود ان کی زیادیتوں کے صاحب مغفرت ہے اور بیشک آپ کا پروردگار سخت سزا دینے والا بھی ہے،12۔

11۔ یعنی یہ منکرین وقوع عذاب کو اس قدر مستبعد سمجھ رہے ہیں کہ قبل اس کے کہ ان کی میعاد ومہلت ختم ہو الٹے آپ سے نزول عذاب کا تقاضا کررہے ہیں ! حالانکہ تاریخ کی شہادت انہیں خود مل سکتی ہے کہ مکذب وآخرت فرامواش قوموں کی کیسی کیسی حسرتناک بربادیاں اسی دنیا میں واقع ہوچکیں۔ (آیت) ” مثلت “۔ مثلہ کی جمع ہے۔ یہاں مراد واقعات عذاب و عقوبت سے ہے۔ اے عقوبات امثالھم من المکذبین (جلالین) السیءۃ سے مراد عذاب اور الحسنۃ سے مقصود عافیت ہے۔ قال ابن عباس ؓ السیءۃ العذاب والحسنۃ العافیۃ (بحر) 12۔ یعنی حق تعالیٰ میں دونوں صفات موجود ہیں، جن کا ظہور اپنے اپنے موقع پر ہوتا ہے، صفت عذاب کا ظہور اگر ابھی ان کافروں پر نہیں ہوا ہے تو یہ احمق آخر غافل وبے فکر کس برتے پر ہوئے جارہے ہیں ؟ (آیت) ” ان ربک لذو مغفرۃ للناس علی ظلمھم “۔ حضرت ابن عباس ؓ صحابی سے منقول ہے کہ قرآن مجید میں سب سے بڑھ کر پرامیدوتسلی یہی آیت ہے۔ قال ابن عباس ؓ لیس فی القران ایۃ ارجی من ھذہ (بحر) متکلمین اہل سنت نے آیت سے یہ نکالا ہے کہ صاحب کبائر کی مغفرت توبہ کے قبل بھی ہوسکتی ہے۔ فاعلم ان اصحابنا تمسکو ا بھذہ الایۃ علی ان تعالیٰ قد یعفوا عن صاحب الکبیرۃ قبل التوبۃ (کبیر)
Ayah 13:7

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ ان پر (فلاں) معجزہ ان کے پروردگار کی طرف سے کیوں نہیں اترا بیشک آپ تو بس ایک ڈرانے والے ہیں،13۔ اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہوتا ہے،14۔

13۔ ( اور آپ (علیہ السلام) کا اصل کام سرکشوں کو ڈرانا اور انہیں راہ بتانا ہے نہ کہ ہر فرمایشی معجزہ کی تعمیل کرتے رہنا) قرآن مجید نے پورا پورا جواب ذرا سے فقرہ میں اعجوبہ پرستوں کو دے دیا کہ یہ نادان رسول ﷺ کی صداقت کا معیار فرمایشی خوارق ومعجزات کو سمجھ رہے ہیں، یہ کس قدر جہل ہے ؟ کہ پیغمبر کے اصلی فرائض سے اسے اصلا تعلق نہیں، انجیل میں حالانکہ صاحب انجیل اپنے خوارق ومعجزات ہی کے لئے سب سے زیادہ مشہور ہیں معجزات کی فرمایش کرنے والوں پر یوں لتاڑ آئی ہے :۔” اے استاد ہم تجھ سے ایک نشان دیکھنا چاہتے ہیں، اس نے جواب دے کر ان سے کہا کہ اس زمانہ کے برے اور زنا کار لوگ نشان طلب کرتے ہیں۔ “ (متی۔ 12: 39) ” جب بڑی بھیڑ جمع ہوتی جاتی تھی تو وہ کہنے لگا کہ اس زمانہ کے لوگ برے ہیں وہ نشان طلب کرتے ہیں۔ “ (لوقا 11: 29) ” پھر فریسی نکل کر اس سے بحث کرنے لگے اور اسے آزمانے کے لئے اس سے کوئی آسمانی نشان طلب کیا، اس نے اپنی روح میں آہ کھینچ کر کہا، اس زمانہ کے لوگ کیوں نشان طلب کرتے ہیں ؟ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اس زمانہ کے لوگوں کو کوئی نشان نہ دیا جائے گا۔ “ (مرقس، 8: 11۔ 13) 14۔ (اور اس قوم کے لئے ہادی اعظم آپ ﷺ ہیں) (آیت) ” ھاد “۔ لفظ ہادی عام ووسیع ہے، پیغمبر کا مرادف نہیں ہے۔ اس کو تحت میں نبی اور نائبان نبی سب ہی آجاتے ہیں، اس لئے آیت سے جن لوگوں نے ہندوستان میں کسی نبی کا آنا لازمی قرار دیا ہے ان کا استدلال قوی نہیں، البتہ درجہ احتمال میں اس کا مان لینا ضروری ہے اور اسی لئے مفسر تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں زیادہ بحث و مباحثہ غیر ضروری ہے۔ عن ابن عباس ؓ الھادی الداعی الی الحق (جصاص) اعنی بہ ولکل قوم قائد (ابن جریر) عن ابی صالح قال لکل قوم قادۃ (ابن جریر)
Ayah 13:8

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

اللہ کو علم رہتا ہے اس کا جو کچھ کسی عورت کے حمل میں ہوتا ہے اور جو کچھ (عورتوں کے) رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور ہر شے اس کے نزدیک ایک متعین اندازہ ہی سے ہے،15۔

15۔ یعنی قدرت کے سارے انتظامات ایک خاص نظام کے ماتحت ہی انجام پاتے ہیں، اٹکل پچو نہیں، اور نہ اس میں کسی سہویا غلطی کا امکان ہے۔ (آیت) ” اللہ۔۔۔ تزداد “۔ خدائے اسلام کا علم کامل بھی ہے اور محیط بھی، ہر ہر جزئیہ اور سارے مخفیات ومغیبات پر شامل۔ یہ جاہلی مذہبوں پر ضرب کاری ہے جن میں خدا کا علم ناقص یا صرف کلیاب کا مانا گیا ہے۔ (آیت) ” ماتحمل کل انثی “۔ مثلا یہی کہ حمل میں لڑکی ہے یا لڑکا۔ (آیت) ” ماتغیض الارحام وما تزداد “۔ مثلا یہ کہ کسی کی مدت حمل بڑھ گئی اور کسی کی گھٹ گئی، یا یہ کہ کسی کے حمل میں ایک بچہ ہے، اور کسی کے زاید۔
Ayah 13:9

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

(وہ) پوشیدہ اور کھلی چیزوں (سب) کا جاننے والا ہے عالی شان ہے،16۔

16۔ اسی کی قدرت سب پر بالا اور سب پر حاکم کوئی اس کا بالا دست نہیں، اور اس کا علم محیط وکامل۔ وہی ہمہ دان، ہمی بین، اور وہی ہمہ تواں، مذاہب شرکیہ اور ادیان جاہلی کو سب سے زیادہ ٹھوکر حق تعالیٰ کی صفات علم وقدرت ہی کے سمجھنے میں لگی ہے اسی لئے قرآن مجید ان عقاید کو بار بار صاف کرتا جاتا ہے اور ان کی غلطیوں کی بار بار اصلاح کرتا جاتا ہے۔
Ayah 13:10

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

اس کے علم میں) برابر ہے تم میں سے جو کوئی بات چھپائے اور جو کوئی اسے ظاہر کرے اور جو کوئی رات میں چھپ جائے اور (جو کوئی) دن میں چلے پھرے،17۔

17۔ یعنی یہ سروجہر، یہ پوشیدگی و ظہور، یہ تاریکی و روشنی، سب تمہاری نسبت سے ہے، اس کے علم کے اعتبار سے سب یکساں ہے۔ مشرک قوموں نے اپنے دیوی، دیوتاؤں کو بھی اپنے ہی محدود اور ناقص حواس اور قوتوں پر قیاس کیا ہے۔ اس کی اصلاح ضروری تھی ،
Ayah 13:11

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

ہر ایک کے لئے باری باری آنے والے فرشتہ ہیں اس کے آگے بھی اور اس کے پیچھے بھی وہ اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں،18۔ بیشک اللہ کسی قوم کو (اچھی) حالت بدل نہیں دیتا جب تک وہ لوگ خود اپنے میں تبدیلی نہیں کرلیتے،19۔ اور جب اللہ کسی قوم پر مصیبت ڈالنے کا ارادہ کرلیتا ہے تو کوئی صورت ہی اس کے ہٹنے کی نہیں اور نہ کوئی اللہ کے مقابلہ میں ان کا مددگار رہتا ہے،20۔

18۔ خالق کا تعلق مخلوق سے بےاعتنائی اور بےالتفاتی کا نہیں، وہ غایت شفقت وکرم سے سب کی حفاظت کی فکر واہتمام رکھتا ہے۔ (آیت) ” من امر اللہ “۔ توحید کی تاکید واہتمام مزید کے لئے ہے، فرشتہ تک بھی متصرف بالذات نہیں، جو کچھ بھی کرتے ہیں، اطاعت سرشت بندوں کی طرح، اپنے خالق کے حکم ہی سے کرتے ہیں، اللہ اللہ ! توحید خالص پر اس کتاب برحق نے کن کن طریقوں سے زور دیا ہے۔ (آیت) ” معقبت “۔ مراد فرشتہ ہی ہیں، خدائی حکومت میں فرشتوں کی ڈیوٹی لگی رہتی ہے، پہرہ اپنے اپنے وقت پر بدلتا رہتا ہے۔ 19۔ (مسلسل نافرمانیاں کرکے) یہاں یہ قانون بیان کیا ہے کہ حق تعالیٰ تو عدل مطلق ہے، اسکی طرف سے کسی ظلم و زیادتی کا امکان ہی نہیں، وہ تو جب کبھی کسی قوم کو گرفت میں لے گا، تو اس قوم کی مسلسل نافرمانیوں کی پاداش ہی میں لے گا۔ (آیت) ” یغیروا مابانفسھم “۔ اس تغیر کی نسبت فاعلی قوم کی طرف کرکے اس کا اظہار کردیا ہے کہ یہ تبدیلیاں قوم کے اپنے قصد، عمد واختیار سے، ہوتی ہیں، باقی اگر کوئی تبدیلی کسی قوم میں، کسی مجبور یا اضطرار یا لاعلمی کے نتیجہ کے طور پر ہوجائے تو اس پر یہ گرفت نہیں۔ (آیت) ” مابقوم “۔ مراد اچھی حالتوں سے ہے۔ اے من النعمۃ والعافیۃ (روح) 20۔ (ان میں سے جن کی امداد کا بڑا بھروسہ اور زعم ان نافرمانوں کو رہا کرتا ہے) (آیت) ” اذا اراد اللہ بقوم سوٓء ا “۔ اور یہ ارادہ الہی ہمیشہ اسی نافرمان قوم کے اعمال کی پاداش میں ہوتا ہے۔ (آیت) ” من دونہ من وال “۔ یہاں تک کہ جو فرشتہ انسان کی حفاظت پر مامور رہتے ہیں وہ بھی اب بہ حکم خدا اس کی حفاظت سے دستبردار ہوجاتے ہیں،
Ayah 13:12

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

وہ وہی (خدا) ہے جو تمہیں بجلی (کی چمک) دکھلاتا ہے ذریعہ خوف بھی بناکر اور ذریعہ امید بھی بنا کر اور بوجھل بادلوں کو بلند کرتا ہے21۔

21۔ (جو پانی سے لدے ہوئے ہوتے ہیں) مدعایہ کہ بجلی اور بادل نہ خود کوئی دیوی دیوتا ہیں، نہ کسی اور دیوی دیوتا کے محکوم وماتحت ہیں محض اللہ کی ایک مخلوق اور دوسری بیجان مخلوق کی طرح تابع فرمان ہیں، اندر دیوتا یا کوئی اور دیوتا بجلی اور بارش کے خدا نہیں، (آیت) ” خوفا “۔ (یعنی یہ کہ کہیں گر کر سامان ہلاکت نہ بن جائے۔ ضمنا یہ بھی معلوم ہوگیا کہ برق میں ایک صفت ناری موجود ہے۔ (آیت) ” طمعا “۔ یعنی یہ کہ اب تیز بارش ہوگی اور اس سے سرسبزی، شادابی، خوشحالی پھیلے گی، ضمنا یہ بھی معلوم ہوگیا کہ برق میں ایک صفت نوری موجود ہے۔
Ayah 13:13

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور رعد اس کی پاکی بیان کرتا ہے اس کی حمد کے ساتھ اور (دوسرے) فرشتے بھی اس کے رعب و جلال سے (یہی کرتے ہیں)22۔ اور وہ (اللہ) بجلیاں بھیجتا ہے پھر گرا دیتا ہے اسے جس پر چاہتا ہے23۔ اور یہ لوگ اللہ کے باب میں جھگڑا رہے ہیں حالانکہ وہ بڑا ہی زبردست قوت والا ہے24۔

22۔ اپنے اپنے مرتبہ وجود کی مناسبت سے، اور کوئی بھی اللہ کی عبدیت ومحکومیت سے باہر نہیں) (آیت) ” الرعد “۔ رعد کے لفظی معنی بادل کی گرج کے ہیں، صوت السحاب (راغب) اصطلاح شریعت میں اس سے مراد وہ فرشتہ ہے جو ناظم ابرو سحابیات ہے، ملک من الملائکۃ موکل بالسحاب (جامع ترمذی، ابواب تفسیر القرآن، عن ابن عباس ؓ) انہ ملک یسوق السحاب (راغب) الرعد ھو الملک موکل بالسحاب (کبیر) مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ گرج یا بادل کا کوئی مستقل اور متصرف بالذات دیوتا نہیں، جیسا کہ مشرق ومغرب کی جاہل قومیں ہزار ہاسال تک سمجھتی رہیں بلکہ یہ کام تو ایک محکوم ومطیع ایک حمد وتسبیح کرتے رہنے والے فرشتہ کے سپرد ہے، ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ’ ’ من خیفتہ “۔ حق تعالیٰ کا رعب و جلال بڑی سی بڑی مقتدر ومعصوم مخلوق پر بھی غالب اور مسلط ہے۔ (آیت) ” والمآئکۃ “۔ ملائکہ کے اس عطف سے یہ شبہ پیدا نہ ہو کہ رعد بھی اگر کوئی فرشتہ ہی ہے تو ملٓئکۃ ہی پر اس کا عطف کیسا ؟ عربی میں عطف ہمیشہ مغائرت جنس ہی کے موقع پر نہیں، بلکہ ہم جنسی کے باوجود تعظیم و تکریم کے لئے بھی آتا ہے، جس کی نظیریں خود قرآن مجید ہی میں موجود ہیں۔ لایبعد ان یکون من جنس الملائکۃ وانما حسن افرادہ بالذکر علی سبیل التشریف کما فی قولہ وملائکتہ ورسلہ وجبریل ومیکال وفی قولہ واذ اخذنا من النبیین میثاقھم ومنک ومن نوح (کبیر) 23۔ یہ فضائے ارضی کی طرف بجلیاں بھیجتے رہنا اور پھر اسے حسب مصلحت ومشیت تکوینی جس پر اور جہاں چاہنا گراتے رہنا یہ اس کام اسی قادر مطلق حکیم کل کا ہے، کسی اور کا نہیں، یونانی سمجھتے تھے کہ بجلی زی اس دیوتا کا حربہ ہے اور رومی عقیدہ رکھتے تھے کہ جو پیڑ (عطادر) دیوتا کا، اور ہندیوں کے خیال میں اندردیوتا کا، دوسری مشرک قومیں بھی ایسی ہی خوش خیالیوں میں مصروف تھیں، قرآن مجید نے ایک چند لفظی فقرے سے ان ساری وہم پرستیوں پر ضرب کاری لگا دی، (ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن) 24۔ (اپنی قدرت خلاقی اور قوت صناعی کے لحاظ سے بھی اور اپنی طاقت و گرفت وسزا دہی کے لحاظ سے بھی) مطلب یہ ہوا کہ ایسا خدا جس کے نظام کائنات کی کارفرمائیاں اتنی عجیب وعظیم ہوں اور جس کا اختیار واقتدار اتنا ہمہ گیر اور کامل، یہ نادان اسی خدا کے مقابلہ میں دوسروں کو لاتے ہیں اور اس کی ذات وصفات میں اوروں کو شریک کرنا چاہتے ہیں۔
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

اسی کے لئے (خاص) ہے سچا پکارنا25۔ اور جن کو (یہ لوگ) اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کا جواب اس سے زیادہ نہیں دے سکتے جتنا پانی (اسے جواب دے سکتا ہے) جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہو کہ وہ (پانی) اس کے منہ تک پہنچ جائے، درآنحالیکہ وہ اس تک پہنچنے والا نہیں26۔ اور کافروں کی پکار تو محض بےاثر ہی ہے27۔

25۔ یعنی حقیقی دعا صرف اسی کے حضور میں ہوسکتی ہے، سننے کی قوت، قبول کرنے کی قوت اسی اکیلے میں تو ہے، اس کے علاوہ کسی اور سے دعا مانگنا حماقت محض اور سفاہت خالص نہیں تو اور کیا ہے ؟ کسی اور میں کوئی اختیار ہی کب ہے ؟ 26۔ یہ غیر خدا کے آگے عرض نیاز کرنے، دعا مانگنے کی مثال دی ہے کہ جیسے کوئی احمق پیاسا پانی جیسی بےجان، بےارادہ، لایعقل چیز کی طرف اسی امید پر ہاتھ پھیلائے رہے کہ پانی از خود اس کے منہ تک پہنچ کر اس کی پیاس بجھائے گا تو اس سے بڑھ کر حماقت اور کیا ہوگی، اسی طرح یہ احمق دعا کے ذریعہ سے فریاد رسی اسی سے چاہتے ہیں جو سرے سے قادر ہی فریاد رسی پر نہیں ! 27۔ (اس لئے کہ وہ تو غیر اللہ کے سامنے رہتی ہے) کافروں کی جو دعائیں بظاہر مقبول معلوم ہوتی ہیں ان واقعات کا تعلق دعاء سے بالکل نہیں ہوتا، ان کی وہ آرزوئیں یوں ہی بغیر دعاء کے پوری ہوجاتی ہیں، تکوینی اسباب ومصالح سے عام نظام ربوبیت کے ماتحت، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کافروں کی غیر مقبول دعاؤں سے مراد ان کی آخرت سے متعلق دعائیں ہیں، نہ کہ دنیا سے متعلق۔ المراد دعاؤ ھم اللہ تعالیٰ بما یتعلق بالاخرۃ (روح)
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے آگے جھکے رہتے ہیں (سب) جتنے آسمانوں میں ہیں اور (جتنے) زمین میں ہیں28۔ (کوئی) ارادۃ (تو) اور (کوئی) جبرا (تو)29۔ اور ان کے سائے بھی صبح وشام کے وقت،30۔

28۔ یعنی ساری کی ساری مخلوقات اللہ ہی کی قانون تکوینی کی مطیع ومنقاد ہے۔ (آیت) ” وللہ یسجد “۔ اس ترکیب کے اقتضاء سے معنی یہ پیدا ہوئے کہ اللہ ہی کی مطیع ومنقاد ہے نہ کسی اور کی اے للہ وحدہ یخضع وینقاد ولا بشیء غیرہ (روح) (آیت) ” من فی السموت والارض “۔ مراد جمیع مخلوق سے ہے۔ المراد ما یشمل اولئک وغیرھم والتعبیر بمن للتغلیب (روح) (آیت) ” یسجد “۔ سجدہ یہاں باصطلاح شرعی نہیں بلکہ اپنے اصلی ولغوی معنی میں ہے یعنی سب کے سب اللہ کے آگے جھکے ہوئے اور اس کی مشیت کے مطیع ومنقاد ہیں۔ السجود اصلہ التطامن والتذلل۔۔۔ وذلک ضربان سجود باختیار ولیس ذلک الا للانسان و سجود تسخیر وھو للانسان والحیوانات والنبات وعلی ذلک قولہ وللہ یسجد من فی السموت والارض (راغب) السجود وعبارۃ عن الانقیاد والخضوع وعدم الامتناع وکل من فی السموت والارض ساجد للہ بھذہ المعنی لان قدرتہ ومشیئتہ نافذۃ فی الکل (کبیر) اے ینقاد انہ لاحداث ما ارادۂ فیھم من افعالہ (کشاف) 29۔ یعنی افعال اختیاری میں توقصد واختیار سے اور امور غیر اختیاری میں اضطرارا۔ 30۔ یعنی علی الدوام ہر حال میں، ہر وقت، ب یہاں فی کے مرادف ہے۔ والمراد بھا الدوام (بیضاوی) الباء بمعنی فی (روح) (آیت) ” وظلھم “۔ سایہ ایک عدمی اور سلبی شے ہے جس کا اطلاق اس حال پر ہوتا ہے جب روشنی کسی جسم کثیف کے توسط سے دور ہوجائے، جیسے رات کا اطلاق دن کے عدم پر ہوتا ہے، یہاں پر اگر یہ لفظی معنی لیے جائیں جب بھی کوئی اشکال نہیں، مراد یہ ہوگی کہ اشیاء موجود فی الخارج اور ان کے اظلال سب ہی قادر مطلق کے مطیع ومنقاد ہیں، وحشی قوموں میں ” سایہ “ کو عالم بالا کی کوئی چیز سمجھ کر اس سے ڈرا گیا ہے قرآن مجید نے بتایا کہ ہر موجود شے کی طرح اس کا سایہ بھی محض مخلوق اور منقاد مشیت الہی ہے، لیکن محققین ہی سے ایک قول اور بھی منقول ہے، ہو یہ کہ اظلال سے مراد آثار وتوابع ہیں، اس صورت میں مطلب یہ ہوا کہ ہر موجود بذات خود بھی مطیع وسربسجود ہے اور اس کے آ ثار و خواص وافعال بھی
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

آپ پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے ؟ آپ (ہی) کہہ دیجئے کہ اللہ (پھر) کہیے کہ تو کیا تم نے (پھر بھی) اس کے سوا (اور) کارساز قرار دے لئے ہیں جو اپنی ہی ذات کے لئے بھی نفع ونقصان کا اختیار نہیں رکھتے،31۔ آپ کہیے کہ کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوسکتا ہے یا یہ کہ کہیں تاریکی اور روشنی برابر ہوئی ہے،32۔ یا یہ کہ انہوں نے اللہ کے شریک ایسے ٹھیرارکھے ہیں کہ جنہوں نے اس کی خلق کی طرح کسی کو خلق کیا ہے جس سے انکو خلق میں اشتباہ ہوگیا،33۔ آپ کہہ دیجیے اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہ واحد ہے، غالب ہے،34۔

31۔ (چہ جائیکہ اپنے پرستاروں کی سن سنا سکیں، یا ان کی مدد کرسکیں) مطلب یہ ہوا کہ ان مشرکین عرب سے بھی اگر یہ سوال کردیجئے کہ اس سارے نظام کائنات کا خالق وموجد حافظ ومبقی ومدبر وحاکم کون ہے تو یہ باوجود اپنے شرک کے اس کے قائل نکلیں گے کہ وہ تو ایک ہی خدائے قادر و توانا ہے جسے عرب کی بولی میں اللہ کہتے ہیں، پس اس پر ان کی گرفت کیجئے، اور ان سے یہ کہیے کہ اس صحیح بنیادی عقیدہ کے باوجود پھر یہ تم پر کیا شامت سوار ہے، کہ تم تعدد الہ کی لعنت میں گرفتار ہو اور چھوٹے چھوٹے خداؤں دیوی دیوتاؤں کے چکر میں پھنسے ہوئے ہو ؟ جب ایک خدا کو مان لیا تو پھر اب دوسرے بےچاروں کے پاس کسی قسم کا اختیار و تصرف سرے سے باقی ہی کہاں رہ جاتا ہے ؟ 32۔ (اور جب یہ نہیں اور بداہۃ نہیں تو پھر موحد و مشرک یعنی صاحب ایمان اور محروم الایمان اور شرک اور توحید یا کفر ایمان کیسے ایک سطح پر آسکتے ہیں ؟ ) آیت میں رد آگیا آج کے ان ” روشن خیالوں “ کا جو دنیا کے ہر مذہب کو یکساں سمجھتے ہیں اور ان ” آزاد خیالوں “ کا جو فلاح دنیوی کے لیے ایمان کی شرط غیر ضروری جانتے ہیں۔ 33۔ (اور یہ دھوکے میں پڑ کر اس خالق اعظم کی طرح دوسرے خالقوں کو بھی خدا سمجھ بیٹھے ! ) مطلب یہ ہو اصفت خالقیت میں انہوں نے اپنے کسی گڑھے ہوئے خدا کو خدائے حقیقی کا شریک اپنے تجربہ ومشاہدہ میں پایا ہے ؟ اور جب کسی کو بھی نہیں تو پھر آخر کیا یہ خدا کی مار ہے کہ ان دوسروں کو معبودیت میں شریک کیے جاتے ہیں ؟ 34۔ یہاں مختصرا تین صفات بیان کرکے بہت سی پھیلی ہوئی گمراہیوں اور کثیر التعداد مذاہب شرک کی جڑکاٹ دی۔ پہلی صفت یہ کہ اللہ ہی چھوٹی بڑی ہر چیز کا جو ہر وعرض، ایجاب وسلب، خوشگوار وناخوشگوار، سب کا خالق ہے، دوسری صفت یہ کہ وہ عددا بھی ایک ہی ہے اپنی ذات کے لحاظ سے بھی اور اپنی صفات کمالیہ کے لحاظ سے بھی، یہ نہیں کہ اس کی ” شخصیت “ تو ایک ہو لیکن اس کے ” بروز “ اور اس کے ” اقنوم “ کئی کئی ہوں، تیسری صفت یہ ہے کہ وہ اپنی ساری مخلوقات پر غالب وحاکم ہے خود اس کے اوپر کوئی ہستی یا کوئی قانون حاکم و متصرف نہیں۔
Ayah 13:17

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اسی نے) آسمان سے پانی اتارا جس سے نالے اپنی مقدار کے موافق چلنے لگے،35۔ پھر وہ سیلاب جھاگ کو اوپر لے آیا اور جن چیزوں کو آگ کے اندر تپاتے ہیں زیور یا (اور) اسباب بنانے کی غرض سے اس میں ایسا ہی جھاگ ہے،36۔ اسی طرح حق و باطل کی اللہ مثال بیان کرتا ہے،37۔ سو جھاگ تو نکماہوکر جاتا رہتا ہے اور جو چیز لوگوں کے لئے کارآمد ہے سو وہ زمین پر رہ جاتی ہے، اللہ اسی طرح مثالیں بیان کیا کرتا ہے،38۔

35۔ (یعنی چھوٹے نالے کم پانی کے ساتھ اور بڑے نالے زیادہ پانی کے ساتھ سب اپنی اپنی بساط وحیثیت کے مطابق) 36۔ (اور وہ بھی اوپر آجاتا ہے) (آیت) ” زبد “۔ سے یہاں مراد ہے میل کچیل، خس و خاشاک، کوڑا کرکٹ۔ 37۔ یعنی ایک طرف توحید و ایمان اور دوسری طرف کفر وشرک کی ،
Ayah 13:18

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا کہنا مان لیا ان کے لئے نیک (بدلہ) ہے،39۔ اور جن لوگوں نے اس کا کہنا نہ مانا ان کے پاس اگر دنیا بھر کی چیزیں بھی ہوں اور اسی کے ساتھ اتنی ہی اور بھی تو وہ سب اپنی طرف سے بہ طور فدیہ دے ڈالیں،40۔ سخت حساب ان لوگوں کا ہوگا اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیسی بری قرار گاہ ہے،41۔

38۔ (اپنے کلام میں ہر مضمون کے لیے) (آیت) ” فیمکث فی الارض “۔ یعنی اپنی نفع رسانی کے ساتھ باقی رہ جاتی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جس طرح جھاگ کچھ دیر کے لیے اصل چیز کے اوپر نظر آتا ہے لیکن آخر کار وہ ناکارہ سمجھ کر پھینک ہی دیا جاتا ہے اور اصل چیز باقی رہ جاتی ہے، اسی طرح گوباطل چند روز کے لیے حق پر غالب آجائے لیکن انجام کار باطل مغلوب ہی ہو کر رہتا ہے، اور حق باقی وثابت رہتا ہے۔ 39۔ یعنی جنت (آیت) ” استجابوا لربھم “۔ اور اپنے رب کا کہنا مان لینا یہی ہے کہ توحید و اطاعت کی راہ اختیار کرلی ، 40۔ (قیامت کے دن اس امید پر کہ کسی طرح جان تو بچے اور عذاب سے رہائی ملے) (آیت) ” لم یستجیبوا لہ “۔ یعنی بدستور رہ معصیت وکفر پر قائم رہے۔ 41۔ یعنی قیامت میں ساری کائنات اور اس سے بڑھ کر بھی تصدیق کرنا ان منکروں اور بےدینوں کو ذرا بھی نفع نہ پہنچا سکے گا، اور یہ بدستور گرفتار عذاب رہیں گے۔
Ayah 13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

کیا جو شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ آپ پر جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے حق ہی ہے وہ اس کی طرح ہوسکتا ہے جو اندھا ہے ؟ نصیحت تو بس اہل فہم ہی قبول کرتے ہیں،42۔

42۔ (اور جو لوگ فہم خداداد سے کام ہی نہیں لیتے وہ محروم رہتے ہیں) (آیت) ” افمن یعلم۔۔ الحق “۔ یعنی مومن ومسلم۔ (آیت) ” من ھو اعمی “۔ یعنی کافر ومنکر (آیت) ” یعلم “۔ علم یہاں یقین و اعتقاد کے معنی میں ہے۔ (آیت) ” انزل الیک “۔ اس سے قرآن مراد ہونا تو ظاہر ہی ہے باقی رسول اللہ ﷺ نے وحی خفی کی بناء پر قرآن سے باہر جو احکام دیئے ہیں وہ بھی اس کے عموم میں شامل ہیں، (آیت) ” انما یتذکراولوا الالباب “۔ یہ اولوا الالباب یا صاحبان فہم خالص وہی لوگ ہوتے ہیں، جو اپنی عقل پر تعصبات یا جذبات عناد وغیرہ کو غالب نہیں آنے دیتے اور یہی فرق ہے لب اور مطلق عقل کے در میان۔ اللب العقل الخالص من الشوائب (راغب) وقیل ھو مازکی من العقل فکل لب عقل ولیس کل عقل لبا (راغب) واللب اخص من العقل وھو الذی ذھب الیہ الراغب (روح) فقہاء نے یہیں سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ عقل معتبر عقل معاد ہی ہے وہی جو تذکر کرتی ہے اور ایسا ہی شخص عاقل کہنے کے قابل ہے اگرچہ امور دنیوی میں وہ ناواقف ہو۔
Ayah 13:20

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے رہتے ہیں اور (اس) پیمان کو توڑتے نہیں ہیں،43۔

43۔ (جو اللہ سے یوم الست میں کرچکے ہیں) اہل فہم کی پہلی شناخت یہ ارشاد ہوئی کہ یہ لوگ اپنے عہد الہی کے ایفاء کرنے والے ہیں (آیت) ” عھد اللہ “۔ سے مراد وہ عہد اطاعت ہے جو انسان روز اول اللہ سے کرچکا ہے۔ اے ماعقدوا علی انفسھم من الاعتراف بربوبیتہ حین قالوا بلی (بیضاوی) وسعت دے کر اس کے تحت میں وہ سب مسائل داخل کرلیے گئے ہیں جو دلائل شرعی سے پیدا ہوتے ہیں۔ اے کل ما قام الدلیل علیہ (کبیر) یدخل فیہ الاتیان بجمیع المامورات والانتھاء عن کل المنھیات (کبیر) ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ یہ لفظ حقوق اللہ کے مرادف ہے۔ اور اسکی ادائی کا درجہ اقل یہ ہے کہ معاصی کبیرہ سے اجتناب رہے۔ واقلہ درجۃ اجتناب الکبائر (ابن العربی)
Ayah 13:21

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور جس کے جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے جوڑے رکھتے ہیں اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں اور سخت حساب کا اندیشہ رکھتے ہیں،44۔

44۔ (اور کبھی اپنی طاعت و اطاعت پر نازاں ہو کر مطمئن وبے فکر نہیں ہوجاتے) (آیت) ” یصلون “۔ یوصل یہ انہی اہل فہم کی دوسری شناخت ارشاد ہوئی۔ پہلی آیت میں جس طرح سے حقوق اللہ کی ادائی کی تاکید تھی، اس میں حقوق العباد کا اہتمام آگیا۔ رعایۃ جمیع الحقوق الواجبۃ للعباد (کبیر) حاصل الکلام ان قولہ الذین یوفون بعھد اللہ اشارۃ الی التسلیم لامر اللہ (قولہ والذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل) اشارۃ الی الشفقۃ علی خلق اللہ (کبیر) (آیت) ” یخشون۔۔ الحساب “۔ یعنی ان کے اس حسن کردار کی نبی اد ان کی خشیت الہی پر ہوتی ہے۔
Ayah 13:22

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے پروردگار کی رضامندی کی تلاش میں مضبوط رہتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں خفیہ بھی اور ظاہرطور پر بھی اور بدسلوکی کی حسن سلوک سے ٹالتے رہتے رہیں انہی کے حق میں نیک انجام ہے،45۔

45۔ حق تعالیٰ کی رضاء یہی لوگ حاصل کریں گے اور یہی لوگ رضاء الہی کے محل ومقام میں ہوں گے۔ یہ سب شناختیں انہیں صاحبان فہم کی بیان ہوئیں۔ (آیت) ” الذین۔۔ ربھم “۔ یعنی دین حق پر ہر طرح کی جسمانی صعوبتوں اور دماغی پریشانیوں کے باوجود قائم رہتے ہیں۔ اس صبر کے عموم میں ہر قسم کے احکام تشریعی اور مصائب تکوینی پر صبر شامل ہے۔ یدخل فی الصبر علی فعل العبادات والصبر علی ثقل الامراض والمضار والغموم والاحزان والصبر علی ترک المشتھیات وبالجملۃ الصبر علی ترک المعاصی وعلی ادآء الطاعات (کبیر) (آیت) ” سرا وعلانیۃ “۔ یعنی حسب موقع ومصلحت کبھی اس خرچ کا اظہار بھی کردیتے ہیں، اور کبھی اسے مخفی بھی رکھتے ہیں، مثلا جو رقم سلطنت اسلامی میں واجب الادا ہوا سے علانیہ سرکاری بیت المال میں داخل کرتے ہیں، اور جہاں اپنے تنگ دست عزیزوں، پڑوسیوں، مسافروں وغیرہ کی امداد ضروری دکھائی دیتی ہے وہاں اسے بالکل مخفی طور پر کرتے رہتے ہیں، (آیت) ” یدرء ون بالحسنۃ السیءۃ “۔ اس کے ایک معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اپنی خطاؤں اور لغزشوں کو نیکیاں کر کرکے مٹاتے رہتے ہیں، اے یتبعون السیءۃ الحسنۃ فتمحوھا (بیضاوی) عن ابن عباس ؓ انہ قال یدفعون بالصالح من العمل السیء من العمل وھو معنی قولہ ان الحسنات یذھبن السیئات (معالم) (آیت) ” مما رزقنھم “۔ یعنی اپنی جائز و حلال کمائی سے، حرام آمدنی کا انتساب اللہ تعالیٰ کی جانب ہو ہی نہیں سکتا، قالت المعتزلۃ ذلک یدل علی انہ لا رزق الا الحلال ولو کان الحرام رزقا لکان قد رغب فی انفاق الحرام وانہ لایجوز (کبیر) (آیت) ” ابتغآء وجہ ربھم “۔ یعنی ان کے صبر وثابت قدمی سے مقصود دنیوی ناموری یا اور کچھ نہیں ہوتا، بلکہ محض اجر و رضاء الہی ہی مقصود رہتا ہے۔ معناہ انہ صبر لمجرد ثوابہ وطلب رضا اللہ تعالیٰ (کبیر) لاغیرہ من اغراض الدنیا (جلالین) (آیت) ” عقبی الدار “۔ یعنی جنت جو اس دنیا کے بعد کی اور آخری چیز ہے۔ اے عاقبۃ الدنیا وھی الجنۃ (مدارک)
Ayah 13:23

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

(یعنی) ہمیشگی کے باغ جن میں وہ (خود بھی) داخل ہوں گے اور (وہ بھی) جو جنت کے لائق ہوں گے ان کے ماں باپوں میں سے اور ان کے میاں بیویوں میں سے اور ان کی اولاد میں سے،46۔ اور فرشتے ان کے پاس ہر دروازہ سے داخل ہوتے ہوں گے

46۔ یعنی یہ نیک کردار اور اولوالالباب جنت میں خود تو خیر داخل ہوں گے، ان کے ساتھ ہی ان کے بڑے اور چھوٹے اور برابر والے عزیزوں کو بھی جنت میں پہنچا دیا جائے گا، بشرطیکہ ان میں صلاحیت بھی کسی درجہ کی جنت میں جانے کی ہوئی۔ (آیت) ” من صلح “۔ اس قید نے صاف کردیا کہ اہل جنت سے مطلق قرابت کا تعلق مغفوریت کے لیے کافی نہیں مغفرت تو ایمان ہی پر مرتب ہوگی البتہ ترقی درجات و مراتب کی گنجائش اعزہ واقربا کی شفاعت کی بنا پر ہے۔ قال ابن عباس ؓ یرید من صدق بما صدقوا بہ وان لم یعمل مثل اعمالھم (کبیر) قال الواحدی والصحیح ما قال ابن عباس ؓ (کبیر) والمعنی انہ یلحق بھم من صلح من اھلیھم وان لم یبلغ مبلغ فضلھم تبعا لھم تعظیما لشانھم (بیضاوی) وھو دلیل علی ان الدرجۃ تعلوا بالشفاعۃ (بیضاوی) وفی التقیید بالصلاح دلالۃ علی ان مجرد الانساب لاتنفع (بیضاوی) وان لم یعملوا بعملھم یکونون فی درجاتھم تکرمۃ لھم (جلالین) اے یجمع بینھم وبین احباءھم فیھا من الاباء والاھلین والابناء بمن ھو صالح لدخول الجنۃ من المومنین لتقراعینھم بھم (ابن کثیر) (آیت) ” ابآءھم “۔ اس کے تحت میں عجب نہیں جو کل بزرگان خاندان آجائیں، باپ اور ماں دونوں کی طرف سے۔ (آیت) ” ازواجھم “۔ زوج میں میاں بیوی مذکر ومؤنث دونوں آگئے۔ (آیت) ” ذریتھم “۔ ذریت کے تحت میں عجب نہیں کہ فروع وتوابع سب آجائیں لڑکے، لڑکی، پوتے، نواسے اور پھر شاگرد مسترشدین وغیرہ۔
Ayah 13:24

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

یہ کہتے ہوئے کہ) سلامتی ہو تم پر اس کے صلہ میں کہ تم صبر کرتے رہے سو (تمہارا) اس جہاں میں بہت ہی اچھا انجام ہے،47۔

47۔ حالت سرور، فرحت ونشاط میں انسان گفتگو بھی اسی قسم کی سننا چاہتا ہے جو اس کے لیے اور زیادہ کیف آور ونشاط انگیز ہو، چناچہ فرشتے بھی ہر طرف سے آ آکر ایسے ہی پیام پہنچائیں گے، (آیت) ” من کل باب “۔ ہر ہر دروازے سے “ کے ایک معنی تو ظاہر ہی ہیں، جنت کے ہر محل میں دروازے متعدد ہوں گے اور یہ پیام مسرت لانے والے ہر طرف سے داخل ہوں گے دوسرے معنی یہ لیے گئے ہیں کہ مومن نے دنیا میں جتنے قسم کی طاعتیں کی ہیں مثلا نماز، روزہ، حسن معاملت، سچائی وغیرہ اس میں سے ہر ہر قسم کے لیے ایک ایک دروازہ قائم ہوجائے گا اور فرشتے اس میں سے داخل ہوں گے، قال ابوبکر الاصم من کل باب میں ابواب البر (کبیر)
Ayah 13:25

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کے عہد کو اس کی پختگی کے بعد توڑتے رہتے ہیں اور اسے کاٹتے رہتے ہیں جس کے لئے اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے اور زمین پر فساد کرتے رہتے ہیں ایسوں پر لعنت ہوگی اور ان کے لئے ان جہان میں خرابی (ہی) ہے،48۔

48۔ اب اولو الالباب کے مقابلہ میں نافہم، کج فہم بدبختوں کا ذکر ہورہا ہے ان کی علامتیں بھی اس دنیا میں ان سے بالکل مختلف رہتی ہیں، اور ان کا انجام بھی قدرۃ ان سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ (آیت) ” الذین۔۔ یوصل “۔ یعنی حقوق اللہ وحقوق العباد سب میں یہ شریعت الہی کی خلاف ورزی ہی کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” ویفسدون فی الارض “۔ عقاید شرکیہ اور اعمال شرک وفسق سے ملک میں ہر طرح کی ابتری ہی ظہور پذیر ہوتی رہتی ہے۔ وذلک الفساد ھو الدعاء الی غیر دین اللہ وقد یکون بالظلم فی النفوس والاموال وتخریب البلاد (کبیر)
Ayah 13:26

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اللہ جس پر چاہے روزی کشادہ کردیتا ہے اور (جس پر چاہے) تنگ کردیتا ہے،49۔ اور یہ لوگ دنیوی زندگی پر اتراتے ہیں حالانکہ دنیوی زندگی آخرت کے مقابلہ میں بس ایک حقیر ہی سودا ہے،50۔

49۔ (اس انتظام تکوینی کو مقبولیت وعدم مقبولیت سے کوئی تعلق نہیں) بعض گم کردۂ راہ قوموں اور فرقوں نے حق و باطل کا معیار معیشت کی خوشحالی و فارغ البالی اور تنگ دستی اور بدحالی کو سمجھا ہے، یہاں اس کی پوری تردید ہورہی ہے، اور ارشاد ہو رہا ہے کہ اس کا تعلق تمامتر مشیت تکوینی سے ہے، (آیت) ” یقدر “۔ کے معنی یہاں تنگ کردینے کے لیے گئے ہیں، جیسا کہ سیاق سے بالکل ظاہر ہے، قال المفسرون معنی یقدر ھھنا یضیق (کبیر) 50۔ ان منکرین آخرت کی تنگ دماغی کا یہ حال ہے کہ یہ اسی محدود اور چند سالہ مختصر زندگی کو سب کچھ سمجھے ہوئے ہیں، اور اس بےانتہا وسیع عالم کو جو اس کے معا بعد شروع ہونے والا ہے نذر بیخبر ی کیے ہوئے ہیں، جیسے یہ سارا کارخانہ حیات کسی صاحب شعور وصاحب ارادہ کا برپا کیا ہوا ہی نہیں، (آیت) ” متاع “۔ میں تنوین تحقیر کی ہے۔
Ayah 13:27

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی معجزہ (ہمارا فرمایشی) کیوں نہیں اترا،51۔ آپ کہہ دیجیے کہ واقعی اللہ گمراہ رکھتا ہے جسے چاہتا ہے اور راہ دکھا دیتا ہے اسے جو (اس کی طرف) رجوع کرے،52۔

51۔ یعنی یہ کافر از راہ طعن وعناد کہتے ہیں کہ یہ صاحب جو مدعی نبوت پیدا ہوئے ہیں، آخر اپنے خدا کے ہاں سے کوئی معجزہ ہماری پسند اور ہمارے معیار کے لائق لے کر کیوں نہیں آئے ہیں۔ 52۔ (اور یہ رجوع وانابت بندہ کا فعل اختیاری ہے) اس فعل اختیاری کے اختیار پر اللہ کی طرف سے ترتب ہدایت کا وعدہ ہے۔ (آیت) ” یضل من یشآء “۔ یعنی جسے اپنی حکمت تکوینی کے ماتحت اسے گمراہ رکھنا ہی منظور ہوتا ہے۔ گمراہی کی بابت کئی بار اوپر آچکا ہے کہ یہ انہی کے نصیب میں آتی ہے جو اپنی فہم خداداد سے کام نہیں لیتے۔
Ayah 13:28

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

(یعنی) وہ لوگ جو ایمان لائے اور اللہ کے ذکر سے انہیں اطمینان ہوگیا،53۔

53۔ (اور اس اطمینان کی بڑی اور اصلی علامت یہ کہ ان کا ایمان اللہ کے کلام پر قائم ہوگیا)
Ayah 13:29

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

خوب سن لو کہ اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ہو ہی جاتا ہے،54۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے خوشحالی اور خوش انجامی ہے،55۔

54۔ یعنی ذکر الہی میں خاصیت ہی یہ ہے کہ یہ انسان کے قلب کو غیر اللہ کیطرف متوجہ ہونے کے الجھاؤ سے بچاتا ہے، اور شرک سے جو انتشار ذہنی پیدا ہوتا ہے یقین توحید اس کے لیے سپر ہوجاتا ہے، البتہ اس اطمینان کے بھی مختلف درجے ومرتبے ہوتے ہیں، جس درجہ کا ذکر الہی ہوتا ہے اسی نسبت سے اطمینان قلب بھی حاصل ہوتا ہے، ذکر الہی کے آثار میں سے ایک اثر خوف و خشیت کا ہے، اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم لیکن یہ ماسوا کی طرف سے اطمینان و فراغت خوف خدا کے منافی ذرا بھی نہیں، بلکہ یہ دونوں کیفیتیں تو عین ایک دوسرے کی متمم ومکمل ہیں۔ 55۔ خوشحالی اس دنیا میں اور خوش انجامی آخرت میں۔ خوشحالی سے مراد مالی یا معاشی خوشحالی نہیں، بلکہ فراغ خاطر ہی مقصود ہے۔
Ayah 13:30

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے آپ کو ایک امت میں بھیجا ہے جس کے قبل بھی امتیں گزر چکی ہیں تاکہ آپ ان کو وہ (کتاب) پڑھ کر سنائیں جو ہم نے آپ پر وحی کی ہے (مگر) وہ لوگ رحمن کے ساتھ کفر ہی کررہے ہیں،56۔ آپ کہہ دیجیے وہی میرا پروردگار ہے کہ کوئی معبود نہیں اس کے سوا، اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف (مجھے) واپس جانا ہے،57۔

56۔ (اور ایسے رحمت والے آقا کے کلام پر ایمان لانے کے بجائے الٹے اس کی ناشکری اور ناقدری ہی کررہے ہیں) (آیت) ” کذلک “ یعنی جس طرح ہم اور امتوں میں رسول بھیج چکے ہیں، اے کما ارسلنا الانبیاء قبلک (کبیر عن ابن عباس ؓ والحسن وقتادۃ) 57۔ (نہ کہ کسی اور کی طرف) (آیت) ” علیہ توکلت “۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے جو میری ہر حفاظت، کفالت کے لیے کافی ہے اور آخری جزاء وصلہ کی توقع بھی بس اسی ایک سے ہے۔
Ayah 13:31

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا جس کے ذریعہ سے پہاڑ ہٹا دیئے جاتے یا اس کے ذریعہ سے زمین (جلدی جلدی) طے ہوجاتی یا اس کے ذریعہ سے مردے بولنے لگتے (جب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے) ،58۔ ہے یہ کہ سارا اختیار اللہ ہی کو ہے کیا پھر بھی ایمان والوں کو یکسوئی نہیں ہوئی کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا،59۔ اور (یہ) کافر تو ہمیشہ اسی حال میں رہیں گے کہ (کوئی نہ کوئی) حادثہ ان پر ان کے کرتوتوں کے باعث پڑتا ہی رہتا ہے یا ان کی بستی کے قریب ہی نازل ہوتا رہتا ہے،60۔ یہاں تک کہ اللہ کا (وقت) موعود آجائے گا یقیناً اللہ (اپنے) وعدہ کے خلاف نہیں کرتا،61۔

58۔ (آیت) ” لو، کلمہ شرط ہے اس کی جزاء محذوف ہے جو متن ترجمہ میں قوسین میں ظاہر کردی گئی اور اسلوب بلاغت خصوصا قرآن مجید میں اس قسم کے محذوفات عام ہیں، حرف بل خود اس طرف اشارہ کررہا ہے کہ فقرۂ ماقبل میں جو چیزیں بیان ہوئی ہیں وہ موثر حقیقی نہیں، منکروں نے یہود کی تعلیم وترغیب سے فرمائشیں اس قسم کی کی تھیں کہ پیغمبر کا دعوی ہے تو داؤد پیغمبر (علیہ السلام) کی طرح پہاڑوں کی تسخیر کا تماشا کیوں نہیں دکھا دیتے یا سلیمان (علیہ السلام) رسول کی طرح سفر کیوں نہیں طے کرا دیتے، یاعیسی نبی (علیہ السلام) کی طرح مردے کیوں نہیں جلا دکھاتے، آیت انہی بیہودہ فرمایشوں کے جواب میں ہے۔ 59۔ یعنی بالفرض اس قرآن میں یہ سب مؤثرات خارجی جمع کردیئے جاتے جب بھی مؤثر حقیقی یہ خوارق بالکل نہیں، توفیق ہدایت توتمامتر اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور عادۃ اللہ یہ ہے کہ طالب کو توفیق مل جاتی ہے اور معاند محروم رہتا ہے۔ بہت سے سادہ دل مسلمان اب بھی اپنی سادہ دلی سے یہ تمنا کیے ہوئے تھے کہ ان خوارق کا ظہور کسی طرح ہوجاتا تو کفار شاید ایمان لے ہی آتے، ان کے جواب میں ارشاد ہورہا ہے کہ تم اب بھی ان کے تعصب وعناد کے اتنے مشاہدات کے بعد بھی یہ امید لگائے بیٹھے ہو ! فاطر کائنات اور ناظم فطرت کی مشیت اگر کہیں یہ ہوتی کہ ہر انسان کو اس کی طرف سے کسی طلب اور اس میں کسی صلاحت کے وجود کے بغیر از خود ہدایت ہوجائے تو ان سب کو بھی اضطرار ہدایت نصیب ہو ہی جاتی لیکن جب اس نے اس عالم کو عالم ابتلابنا رکھا ہے اور ہر مکلف کے لیے طلب ہدایت لازمی رکھ دی ہے۔ تو اب ان معاندین کے ایمان کی توقع ہی عبث ہے، 60۔ (جس سے انہیں خوف ہوتا ہے کہ کہیں ہم پر یہ بلاآپڑے) (آیت) ” ولا یزال “۔ یعنی یہ صورت حال تو مستقل ہوگئی ہے۔ (آیت) ” الذین کفروا “۔ مراد وہی کافر ومعاند ہیں جو از راہ عناد خوارق کی فرمائش کرتے رہتے ہیں، (آیت) ” قارعۃ “۔ مثلا جنگ میں شکست یا قید، یا قتل۔ 61۔ (اور ان کفار معاندین سے وعدہ عذاب کا ہے) (آیت) ” وعداللہ “۔ وقت موعود یعنی موت یا قیامت۔ الموت اوالقیامۃ (بیضاوی) مطلب یہ ہوا کہ یہ معاندین اپنی ان حالتوں میں مبتلا رہیں گے، یہاں تک کہ موت آپہنچے گی اور عذاب برزخی اخروی کا مشاہدہ شروع ہوجائے گا۔
Ayah 13:32

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور بالیقین رسولوں کے ساتھ آپ کے قبل بھی استہزاء ہوچکا ہے لیکن میں کافروں کو مہلت دیتا رہا پھر میں نے انہیں پکڑ لیا سو میری سزا کیسی (سخت) تھی ! ،62۔

62۔ اور سرکش اور نافرمان قوموں کی عبرتناک تباہی وہلاکت کی داستان تاریخ کے صفحات، اثری کتبات اور عمارتوں کے کھنڈروں پر یکساں ثبت ہے۔ (آیت) ” فاملیت للذین کفروا “۔ یعنی ان تمسخر کرنے والوں پر بھی گرفت معا نہیں ہوگئی انہیں ایک مدت تک برابر مہلت ملتی رہی، جس سے ان کا تمردوعصیان اور بڑھتا ہی گیا، تاآنکہ کوئی گنجائش ہی عذر وترحم کی نہ رہ گئی، (آیت) ” ثم اخذتھم “۔ سو ان مثالوں سے چاہیے تھا کہ موجودہ کفار ومعاندین بھی اپنے انجام سے غافل نہ ہوں، ایک زمانہ آئے گا جب مہلتیں ختم ہوں گی اور سزا اپنے وقت موعود پر مل کررہے گی ،
Ayah 13:33

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

پھر کیا وہ جو ہر شخص کے اوپر مطلع ہے کہ اس نے کیا کیا (وہ دوسروں کے برابر ہے ؟ ) ،63۔ ان لوگوں کے لئے شریک ٹھہرائے ہیں، آپ کہیے ان کے صفات تو بتاؤ،64۔ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دے رہے ہو جسے وہ زمین میں جانتا ہی نہیں یا یہ ہے کہ (وہ محض) ظاہری لفظ کے اعتبار سے (معبود ہیں) ؟ ،65۔ بلکہ بات یہ ہے کہ (ان) کافروں کی نظر میں ان کا مکر خوشنما کردکھایا گیا ہے اور یہ لوگ راہ (حق) سے محروم رہ گئے ہیں،66۔ اور جسے اللہ گمراہ رکھے اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں،67۔

63۔ یعنی کہیں ایسا علیم کل، ہمہ بین، ہمہ دان، معبود برحق اور تمہارے خود ساختہ، بیخبر معبود ان باطل برابر ہوسکتے ہیں ؟ (آیت) ” قآئم۔۔۔ کسبت “۔ یعنی ہمہ دان۔ ہمہ تواں قادر مطلق وعلیم کل، اے قادرعلی کل الممکنات عالم بجمیع المعلومات (کبیر) اے رقیب ومھیمن (روح) 64۔ جن سے ان کی معبودیت پر کچھ تو روشنی پڑے) (آیت) ” سموھم “۔ اسم۔ پر حاشیہ سورة بقرہ رکوع 4 علم ادم الاسماء کلھا کے تحت میں گزر چکا ہے، مراد یہاں صفات سے ہے جیسے اردو فقرہ میں کہیں کہ ذرا تعریف تو کیجئے۔ یہ مراد نہیں کہ ان کے نام گنانا شروع کردو۔ قیل صفوھم ثم انظروا ھلھی اھل لان تعبد (معالم) والمعنی صفوھم فانظروا ھل لھم ما یستحقون بہ العبادۃ (بیضاوی) ولیس المراد ان یذکروا اسامیھا نحواللات والعزی وانما المعنی اظھار تحقیق ماتدعونہ الھا وانہ ھل یوجد معانی تلک الاسماء فیھا (راغب) (آیت) ” جعلوا للہ شرکآء “۔ شریک ٹھہرانا یہی ہے کہ کسی صفت خداوندی میں بھی کسی مخلوق کو شریک کرلیا جائے ، 65۔ (اور لفظ کے عقب میں حقیقت کچھ بھی نہیں) تو اگر یہ شق قبول ہے، تو خود ہی اعتراف ان نام کے معبودوں کے معبود نہ ہونیکا ہے۔ (آیت) ” ام تنبؤنہ۔۔۔ الارض “۔ حق تعالیٰ تو انہی چیزوں کو موجود جانے گا جو موجود ہیں، اور جو سرے سے موجود ہی نہیں بلکہ معدوم ہیں، انہیں موجود سمجھ لینا، یہ تو علم نہ ہوا جہل وکذب ہوا، تو اب یہ تمہارے نام نہاد معبود بہ حیثیت معبود خارج میں وجود رکھتے ہی کہاں ہیں، جو حق تعالیٰ کو ان کے وجود کا علم ہو، ان کا وجود تو جو کچھ بھی ہے بس وہ تمہارے وہم ہی میں تو ہے۔ 66۔ (اپنے عناد وتعصب اختیاری کی بناء پر) (آیت) ” مکرھم “۔ یعنی ان کی مغالطہ پر ور تقریریں ان کے جھوٹے عذرات، ان کی طرح طرح کی چالیں عداوت اسلام ومسلمین میں۔ 67۔ حق تعالیٰ کی جانب نسبت اضلال پر حاشیے بار بار آ چکے ہیں۔
Ayah 13:34

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان (کافروں) کے لیے دنیوی زندگی میں بھی عذاب ہے اور عذاب آخرت (اس سے) بدرجہا سخت ہے،68۔

68۔ (بہ لحاظ شدت بھی اور بہ لحاظ مدت بھی) (آیت) ” عذاب فی الحیوۃ الدنیا “۔ قتل وہلاکت، اسیری وہزیمت، مرض وقحط، بہت سی صورتیں عذاب دنیوی کی ہوسکتی ہیں۔
Ayah 13:35

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

اور انہیں اللہ (کے عذاب) سے کوئی بچانے والا نہیں،69۔ جنت جس کا وعدہ متقیوں سے ہوا ہے اس کی کیفیت یہ ہے کہ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اس کا پھل اور اس کا سایہ دائمی ہوگا یہ انجام ہوگا اہل تقوے کا اور کافروں کا انجام آتش (دوزخ) ہے،70۔

69۔ (نہ دنیا میں نہ آخرت میں) 70۔ آیت میں صاف صاف دونوں راستوں کفرو ضلالت اور ایمان وہدایت کا انجام بتا دیا ہے، ایک کا نتیجہ دائمی سکھ ہے اور دوسرے کا مستقل دکھ، کسی کو اس باب میں اشتباہ رہنا ہی نہ چاہیے۔ (آیت) ” المتقون “۔ تقوی کی اولین شرط کفر وشرک سے احتیاط ہے، (آیت) ” اکلھا دآئم “۔ جنت کی نہ تو کوئی نعمت فنا ہوگی اور نہ کوئی راحت زائل۔
Ayah 13:36

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو کتاب ہم نے دی تھی وہ خوش ہورہے ہیں اس (کتاب) سے جو آپ پر نازل ہوئی ہے،71۔ اور انہی کے گروہ میں ایسے بھی ہیں جو اس کے بعض (حصوں) کا انکار کرتے ہیں،72۔ آپ کہیے کہ مجھے تو بس اس کا حکم ملا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور اس کا شریک کسی کو نہ کروں، اسی کی طرف میں بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے (واپس) جانا ہے،73۔

71۔ (چنانچہ وہ اس پر ایمان لے آئے اور آپ ﷺ کی تصدیق کی) لانھم امنوا بہ وصدقوہ (کبیر عن ابن عباس ؓ (آیت) ” الذین اتینھم الکتب “۔ یہ ذکر ان لوگوں کا ہے جو سچے اہل کتاب تھے صحیح معنی میں اپنے اپنے دین و شریعت کے پیرو تھے، یہ رسول اللہ ﷺ پر بھی بلاتامل ایمان لے آئے، ھم الذین امنوا بالرسول من اھل الکتاب (کبیر عن ابن عباس ؓ 72۔ یعنی ایسے حصوں سے انکار جو ان کی مرضی و خواہش کے خلاف ہوتے ہیں۔ (آیت) ” الاحزاب “۔ یعنی کافروں ومنکروں کے وہ حصے جنہوں نے رسول اسلام کی مخالفت پر جتھے بنا لیے اور اس میں مشرکین عام اہل کتاب سب آگئے۔ والاحزاب بقیۃ اھل الکتاب وسائر المشرکین (کبیر عن ابن عباس ؓ یعنی کفرتھم الذین تحزبوا علی رسول اللہ ﷺ بالعداوۃ (بیضاوی) 73۔ ذرا اسے غور کرکے دیکھا جائے تو اتنے سے فقرہ میں توحید، رسالت، معاد، تینوں بنیادی عقیدے آگئے۔ ھذا الکلام جامع لکل ما ورد التکلیف بہ (کبیر) اذا تامل الانسان فی ھذہ الالفاظ القلیلۃ ووقف علیھا عرف انھا محتویۃ علی جمیع المطالب المعتبرۃ فی الدین (کبیر) (آیت) ’ امرت “۔ یعنی میرے پاس وحی سے حکم بھیجا ہے، اثبات رسالت، (آیت) ” اعبداللہ ولا اشرک بہ۔ “ اثبات توحید، (آیت) ” الیہ ادعوا “۔ اثابت رسالت “۔ (آیت) ” الیہ ماب “۔ اثبات معاد۔
Ayah 13:37

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس (کتاب) کو نازل کیا بطور ایک صاف حکم کے،74۔ اور اگر آپ کہیں ان کی خواہشوں پر چلنے لگیں بعد اس کے کہ آپ کے پاس علم (صحیح) پہنچ چکا ہے تو آپ کا نہ کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا،75۔

74۔ (جس کے اصل مسائل و احکام میں کسی قسم کا خفا نہیں ہے) (آیت) ” کذلک “۔ یعنی جس طرح انبیاء سابقین پر وحی و کتاب نازل کی تھی، (آیت) ” عرب یا “۔ صاف واضح، عربی پر حاشیہ پارہ 12 سورة یوسف آیت 3 کے ذیل میں گذر چکا۔ 75۔ اللہ اکبر ! دائرہ عبدیت سے ذرہ بھر قدم باہر نکالنے کی گنجائش، سیدالبشر بلکہ سرور انبیاء تک کو نہیں دی گئی ہے ! (آیت) ” اھوآء ھم “۔ ضمیر اہل کتاب کی جانب سمجھی گئی ہے اور ان کی اھواء (خواہشوں) کے اندر ان کی تحریفات بھی آگئیں۔
Ayah 13:38

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

اور بالیقین آپ سے قبل ہم نے پیغمبر بھیجے اور ان کے لئے بیویاں اور بچے بھی رکھے،76۔ اور کسی رسول کے بس میں یہ نہیں کہ ایک آیت بھی بغیر اللہ کے حکم کے لاسکے،77۔ ہر زمانہ کے لئے ایک کتاب ہوتی ہے،78۔

76۔ (اور یہ عیالداری کمالات نبوت کے ذرا بھی منافی نہیں تو پھر بعض احمقوں کو آپ ﷺ کے صاحب ازواج واولاد ہونے پر کیا اعتراض ہورہا ہے ؟ ) آیت میں یہ بتایا ہے کہ سلسلۂ رسالت تو بہت قدیم ہے اور آپ کا دعوئے رسالت دنیا کی تاریخ میں کوئی انوکھا واقعہ نہیں، نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم خلیل (علیہ السلام) ، اسحاق واسماعیل، علیہ السلامیعقوب (علیہ السلام) وموسی کلیم (علیہ السلام) ، داؤد (علیہ السلام) وسلیمان (علیہ السلام) آخر ان سب کے حالات تاریخ میں محفوظ ہیں، یہ سب حضرات عیال دار ہی ہوئے ہیں، پھر آخر آپ ﷺ کی عیال داری پر اعتراض کیوں ہے ؟ آیت میں تردید ہے، بودھ مت اور مروجہ مسیحیت اور دوسرے مذاہب جاہلی کی جہاں خانہ داری اور عیال داری کی زندگی کو تقرب الہی و خدا رسی کے منافی سمجھا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ آیت میں بڑی عبرت وبصیرت کا سبق ہمارے زمانہ کے ” مجرد “ اور ” تارک الدنیا “ مشائخ اور اہل خانقاہ کے لئے ہے، جنہوں نے شادی بیاہ، بیوی اور اولاد کو کمالات ولایت وروحانیت کے منافی قرار دے لیا ہے ! 77۔ (خواہ وہ آیت مکتوبی تنزیلی ہو یا آیت تکوینی ہو معجزہ وخارق) (آیت) ” ایۃ “۔ کے دو مختلف معنی ہیں ایک تو آیت قرآنی یا حکم الہی، دوسرے نشانی یا معجزہ۔ یہاں مراد دونوں ہوسکتے ہیں، یعنی کوئی رسول نہ اپنی طرف سے کوئی تنزیل الہی لاسکتا ہے اور نہ کوئی معجزہ، اکابر تفسیر سے منقول بھی دونوں معنی ہیں، لیکن آگے جو مضمون آرہا ہے اس سے مناسب ترمعنی آیت مکتوبی وتنزیلی ہی کے ٹھیرتے ہیں، قد یراد بالایۃ ایۃ الکتابیۃ النازلۃ بالحکم علی وفق مراد المرسل الیھم وھو اوفق بما بعد (روح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے مطالبہ خوارق کی ممانعت نکلتی ہے اور جب اس کی ممانعت پیغمبروں سے ہے جن کا صاحب خوارق ہونا ضروری ہے تو اولیاء سے تو اس کی ممانعت بدرجہ اولی ٹھیرتی ہے، جن کا صاحب خوارق ہونا ضروری ہے ہی نہیں ، 78۔ (اس زمانہ اور اس ماحول کے مطابق ومناسب احکام لانے والی یہاں تک کہ یہ آخری کتاب ایسی آگئی کہ جس کے احکام ومسائل کسی زمانہ اور کسی ماحول کے بھی غیر مطابق نہ ہوں گے) :۔ (آیت) ” لکل اجل “۔ معنی ہر دور کے لئے۔ ہر مدت معین کے لئے۔ (آیت) ” کتاب “۔ کتاب کے معنی حکم کے بھی ہوسکتے ہیں اور حدیث میں بکتاب اللہ بحکم اللہ کے معنی میں آیا بھی ہے، بکتاب اللہ اے بحکم اللہ الذی انزل فی کتابہ وکتبہ علی عبادہ (تاج) اے حکم معین یکتب علی العباد حسب ما تقتضیہ الحکمۃ (روح)
Ayah 13:39

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

اللہ جس (حکم) کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) باقی رکھتا ہے اور اصل کتاب اسی کے پاس ہے،79۔

79۔ چھوٹی بڑی ہر شے اسی کی مشیت اور قدرت کے ماتحت ہے۔ (آیت) ” ام الکتب “۔ سے عموما مراد لوح محفوظ لی گئی ہے۔ ای عندہ اصل الکتب وجملتہ (ابن جریر) اصل کل کتاب وھو اللوح المحفوظ (کشاف) ھو الذی یکون اصلا بجمیع الکتب (کبیر)
Ayah 13:40

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور جس چیز کا ہم ان سے وعدہ کررہے ہیں اس میں کا کچھ حصہ خواہ ہم آپ کو دکھلادیں یا آپ کو وفات دے دیں تو آپ کے ذمہ تو صرف (احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمہ حساب لینا ہے،80۔

80۔ قبل اس کے کہ وہ عذاب موعود آئے، خواہ دنیا میں خواہ آخرت میں خواہ دونوں جگہ) ضمنا وتبعا اتنے جزو سے دو اور مسئلے بھی روشنی میں آگئے۔ (1) ایک یہ کہ آپ ﷺ کی وفات واقع ہوگی آپ ﷺ غیر فانی بنا کر نہیں بھیجے گئے ہیں۔ (2) دوسرے یہ کہ جن وعدوں اور دعو وں کا اظہار آپ ﷺ کی زبان سے کرایا گیا۔ ان میں سے بعض کا وقوع آپ ﷺ کے بعد ہی ہوگا۔ (آیت) ” الذی نعدھم “۔ یعنی عذاب الہی خصوصا اسی دنیا میں (آیت) ” وان مانرینک بعض الذی نعدھم “۔ یعنی آپ ﷺ کی زندگی ہی میں عذاب ان پر لے آئیں۔ یہ سب کافروں کے اس مطالبہ کے جواب میں کہا جارہا ہے کہ آخر عذاب ہم پر آکیوں نہیں جاتا ہے ؟ صوفیہ محققین نے آیت سے یہ نکالا ہے کہ طالب سالک پر اطاعت وامتثال بہرصورت لازم ہے۔ دنیا میں کشودواثر سے اور آخرت میں صلہ واکرام سے اسے بحث نہ ہونا چاہیے، الغرض عذاب جلد آئے یا بدیر، بہرصورت آپ زیادہ فکر و تشویش میں نہ پڑیں عذاب اپنے وقت معین پر آئے گا ضرور) آیت نے ایک بار پھر اس واضح حقیقت کو واضح تر کردیا کہ رسالت اور الوہیت کے حدود بالکل جدا گانہ ہیں خلط کی کوئی گنجائش ہی نہیں رسول، مقرب ترین رسول کا کام صرف تبلیغ احکام اور تبلیغ دین ہے باقی اس پر سزا وجزا سوال وباز پرس کا تعلق صرف فاطر کائنات سے ہے۔