13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 13:1

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

المر (اے محمد ﷺ یہ کتاب (الہٰی) کی آیتیں ہیں۔ اور جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ قرآن، کتاب اللہ کی آیات ہیں جو دین کے اصول و فروع میں ہر اس چیز کی طرف راہنمائی کرتی ہیں جس کے بندے محتاج ہیں اور یہ قرآن جو رسول اللہ ﷺ پر آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا وہ واضح حق ہے، کیونکہ اس کی خبریں صدیق پر مبنی اور اس کے اوامرو نواہی سراسر عدل ہیں اور قطعی دلائل وبراہین ان کی تائید کرتے ہیں۔ جو کوئی اس کے علم کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہی حقیقی اہل علم میں شمار ہوتا ہے اور اس کا علم اس کے لئے عمل کا موجب بنتا ہے۔ (ولکن اکثر الناس لایومنون) ” لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ “ یعنی اکثر لوگ یا تو (قرآن) سے جہالت، اس سے روگردانی اور اس کی طرف عدم توجہ کی بنا پر یا محض عناد اور ظلم کی وجہ سے، اس قرآن پر ایمان نہیں رکھتے۔ بنا بریں اکثر لوگ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے، اس کی وجہ اس سبب کا معدوم ہونا ہے جو فائدہ اٹھانے کا موجب ہے۔
Ayah 13:2

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

خدا وہی تو ہے جس نے ستونوں کے بغیر آسمان جیسا کہ تم دیکھتے ہو (اتنے) اونچے بنائے۔ پھر عرش پر جا ٹھہرا اور سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا۔ ہر ایک ایک میعاد معین تک گردش کر رہا ہے۔ وہی (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتا ہے۔ (اس طرح) وہ (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ تم اپنے پروردگار کے روبرو جانے کا یقین کرو۔

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تخلیق و تدبیر اور عظمت و سلطان میں منفرد ہے اس کی یہ وحدانیت دلالت کرتی ہے کہ وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں کرنی چاہیے، چناچہ فرمایا : (اللہ الذی رفع السموت) ” اللہ وہی تو ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا “ آسمانوں کے بہت بڑے اور بہت وسیع ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو بلند کر رکھا ہے۔ (بغیر عمد ترونھا) ” ستونوں کے بغیر جیسا کہ تم دیکھتے ہو “ یعنی آسمانوں کو سہارا دینے کے لئے ان کے نیچے کوئی ستون نہیں اور ان کو ستون نے سہارا دیا ہوتا تو وہ تمہیں ضرور دکھائی دیتے۔ (ثم) ” پھر “ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے بعد (استوی علی العرش) ” وہ عرش پر مستوی ہوا۔ “ وہ عرش عظیم جو اعلیٰ ترین مخلوق ہے۔ استواء کی کیفیت وہ ہے جو اس کے جلال کے لائق اور اس کے کمال کے مناسب ہے۔ (وسخر الشمس والقمر) ” اور سورج اور چاند کو مسخر کردیا۔ “ بندوں کے مصالح نیز ان کے مویشیوں، باغات اور کھیتوں کے مصالح کی خاطر (کل) ” ہر ایک “ یعنی چاند اور سورج (یجری) ” چل رہا ہے۔ “ یعنی غالب اور علم والی ہستی کے مقرر کردہ اندازے پر چل رہا ہے۔ (لاجل مسمی) ” ایک وقت مقرر تک “ دونوں ایک منظم رفتار سے چل رہے ہیں جس میں کوئی فرق آتا ہے نہ ان کی رفتار میں کوئی سستی آتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت مقرر آجائے گا اور اللہ اس جہان آب و گل کی بساط لپیٹ دے گا اور بندوں کو دارآخرت میں منتقل کر دے گا۔ جو ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے۔ تب اس وقت اللہ تعالیٰ ان آسمانو کو لپیٹ دے گا اور ان کو اور وہی آسمانوں سے بدل دے گا اور اسی طرح اس زمین کو دوسری زمین سے بدل دے گا۔ سورج اور چاند بےنور کردیئے جائیں گے اور ان کو اکٹھا کر کے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ تاکہ ان کی عبادت کرنے والے دیکھ لیں کہ وہ عبادت کے مستحق نہ تھے تاکہ وہ سخت حسرت زدہ ہوں اور کفار کو معلوم ہوجائے کہ وہ جھوٹے تھے۔ (یدبر الامر یفصل الایت) ” تدبیر کرتا ہے کام کی، وہ کھول کر بیان کرتا ہے آیتوں کو “ یہاں خلق و امر کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے یعنی اللہ عظمت والا تخت اقتدار پم مستوی ہے اور وہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تدبیر کر رہا ہے، پس وہی پیدا کرتا ہے اور رزق عطا کرتا ہے، وہی غنی کرتا اور محتاج کرتا ہے، وہ کچھ قوموں کو سربلند کرتا ہے اور کچھ قوموں کو قعر مذلت میں گرا دیتا ہے، وہی عزت عطا کرتا ہے، وہی ذلت سے ہمکنار کرتا ہے، وہی گراتا ہے اور وہی رفعتیں عطا کرتا ہے، وہی لغزشوں پر عذر قبول کرتا ہے، وہی مصیبتوں اور تکلیفوں کو دور کرتا ہے، وہی تقدیر کو اس کے وقت مقرر پر نافذ کرتا ہے، جو اس کے احاطہ علم میں ہے اور جس پر اس کا علم جاری ہوچکا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان فرشتوں کو تدبیر کائنات کے لئے بھیجتا ہے جن کو اس تدبیر کے لئے مقرر کر رکھا ہے۔ وہ کتب الٰہی کو اپنے رسولوں پر نازل فرماتا ہے، احکام شریعت اور اوامرونواہی کے جن کے بندے سخت محتاج ہیں، کھول کھول کر بیان کرتا ہے تو ضیح، تبین، اور تمیز کے ذریعے سے ان کی تفصیل بیان کرتا ہے (لعلکم) ” شاید کہ تم “ یعنی اس سبب کہ اس نے تمہیں آفاق میں اپنی نشانیاں دکھائیں اور تم پر آیات قرآنیہ نازل فرمائیں (بلقآء ربکم توقنون) ” اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو۔ “ کیونکہ دلائل کی کثرت اور ان کی توضیح وتبین تمام امور الٰہیہ میں، خاص طور پر بڑے بڑے عقائد مثلاً زندگی بعد موت اور قبروں سے نکلنے میں یقین کے حصول کا سبب بنتی ہے۔ نیز ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ (حکیم) ” حکمت والا “ ہے وہ مخلوق کو بےفائدہ پیدا نہیں کرتا، نہ وہ ان کو عبث چھوڑے گا۔ پس جیسے اس نے انبیاء ومرسلین مبعوث کئے اور بندوں کے لئے اوامرونواہی کی طرح کتابیں نازل فرمائیں۔ تب یہ ضروری ٹھہرا کہ وہ بندوں کو ایک ایسے جہاں میں منتقل کرے جہاں انہیں ان کے اعمال کی جزا دی جائے۔ نیکو کاروں کو بہترین بدلہ اور بدکاروں کو ان کی بدی کا بدلہ۔
Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا پیدا کئے۔ اور ہر طرح کے میووں کی دو دو قسمیں بنائیں۔ وہی رات کو دن لباس پہناتا ہے غور کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

(وھو الذی مد الارض) ” وہی ہے جس نے پھیلائی زمین “ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اپنے بندوں کے لئے تخلیق کیا، اس کو وسعت بخشی، اس میں برکت عطا کی، اپنے بندوں کے لئے اس کو پھیلایا اور اس کے اندران کے لئے فوائد و مصالح ودیعت کئے۔ (وجعل فیھا رواسی) ” اور رکھے اس میں پہاڑ “ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیئے تاکہ زمین مخلوق کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ اس لئے اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین اپنے رہنے والوں کے ساتھ ایک طرف جھک جاتی، کیونکہ زمین پانی کی سطح پر تیر رہی ہے جس کو ثبات و استقرار نہیں۔ مضبوطی کے ساتھ جمے ہوئے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں توازن پیدا کیا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین کے لئے میخیں بنایا ہے۔ (وانھرا) ” اور دریا “ یعنی زمین کے اندر دریا بنائے جو انسان، ان کے مویشیوں اور ان کے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ پس ان دریاؤں کے ذریعے سے درخت، کھیتیاں اور باغات اگائے اور ان کے ذریعے سے خیر کثیر برآمد کیا۔ اس لئے فرمایا : (آیت) ” اور ہر پھل کے رکھے اس میں جوڑے، دو دو قسم “ یعنی ان میں دو اصناف پیدا کیں جن کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ (یغشی الیل النھار) ” ڈھانکتا ہے دن پر رات کو “ وہ دن پر رات کو طاری کردیا ت ہے جس سے تمام آپ اق اور اندھیرا چھا جاتا ہے اور ہر جاندار اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر دن بھر کی مشقت اور تھکن کو دور کرنے کے لئے آرام کرتا ہے۔ جب وہ اپنی نیند پوری کرلیتے ہیں تو دن رات پر چھا جاتا ہے تو لوگ دن کے وقت پھیل کر اپنے مصالح کے حصول اور اپنے کام کاج میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اور یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لئے دن اور رات بنائے تاکہ تم اس میں آرام کرو اور تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور شاید کہ تم شکر گزار بنو۔ “ (ان فی ذلک لایت) ” اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ “ یعنی اس میں مطالب الہیہ پر دلائل ہیں (لقوم یتفکرون) ” غور و فکر کرنے والوں کے لئے۔ “ یعنی ان لوگوں کے لئے جو ان آیات و دلائل میں غور و فکر کرتے ہیں، انہیں عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو اس ہستی کی طرف راہنمائی کرتی ہیں جس نے ان کو تخلیق کیا، ان کی تدبیر کی اور ان میں تصرف کیا۔ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی الہ اور کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔ وہ غائب اور موجود ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ وہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے، وہ اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے، اپنے خلق و امر میں قابل تعریف، نہایت بابرکت اور بہت بلند ہستی ہے۔
Ayah 13:4

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور انگور کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت۔ بعض کی بہت سی شاخیں ہوتی ہیں اور بعض کی اتنی نہیں ہوتیں (باوجودیہ کہ) پانی سب کو ایک ہی ملتا ہے اور ہم بعض میووں کو بعض پر لذت میں فضیلت دیتے ہیں۔ اس میں سمجھنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

(وفی الارض قطع متجورت وجنت) ” اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور باغات “ اس کے کمال قدرت اور انوکھی صنعت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ زمین میں الگ الگ مگر ایک دوسرے سے متصل خطے پائے جاتے ہیں اور اس کے اندر باغات ہیں جن میں انواع و قاسام کے درخت ہیں (من اعناب وزرع ونخیل) ” انگور کے باغ “ کھیتیاں اور کھجور کے باغ ہیں “ اور یدگر پھل، اور کھجور کے باغات جن میں سے بعض (صنوان) ” ایک کی جڑ دوسری سے ملی ہوئی “ یعنی متعدد درخت ایک ہی جڑ سے پھوٹے ہیں (وغیر صنوان یسقی بمآء واحد) ” اور بعض بن ملی، ان کو پانی بھی ایک ہی دیا جاتا ہے “ یعنی تمام درخت ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں اور ایک ہی زمین میں اگے ہوئے ہیں۔ (ونفضل بعضھا علی بعض فی الاکل) ” اور فضیلت دی ہم نے بعض کو بعض پر میوؤں میں “ یعنی رنگ، ذائقہ، فوائد اور لذت میں بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ پس یہ اچھی اور زرخیز زمین ہے جس میں بکثرت سرسبز گھاس، بیل بوٹے، درخت اور کھیتیاں اگتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملی ہوئی زمین کی ایک قسم وہ ہے جس میں گھاس اگتی ہے نہ وہ پانی کو روک کر اس کا ذخیرہ کرسکتی ہے۔ زمین کی ایک قسم وہ ہے جو پانی کو روک کر ذخیرہ کرلی ہے مگر اس میں ہریالی نہیں اگتی، ایک زمین وہ ہے جس میں درخت اور کھیتیاں اگتی ہیں مگر گھاس نہیں ہوتی۔ کوئی پھل شیریں ہے، کوئی تلخ اور کسی کا ذائقہ ان کے بین بین ہے۔ کیا یہ تنوع ان کا ذاتی اور طبعی ہے یا غالب اور رحم کرنے والی ہستی کی مقرر کردہ تقدیر ہے ؟ (ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون) ” بیشک اس میں سمجھنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ “ یعنی اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ایسی عقل سے بہرہ ور ہیں جو ان کی ان امور کی طرف راہنمائی کرتی ہے جو ان کے لئے مفید ہیں یہ عقل ان امور کی طرف لے چلتی ہے جن کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے اوامرونواہی کو سمجھتے ہیں۔ رہے روگرداں اور بلید الذہن لوگ تو وہ اپنے نظریات کے اندھیروں میں حیران و سرگرداں اور اپنی گمراہی میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ اپنے رب کی طرف انہیں کوئی راہ سمجھائی دیتی ہے نہ اس کی بات کو یاد رکھتے ہیں۔
Ayah 13:5

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اگر تم عجیب بات سننی چاہو تو کافروں کا یہ کہنا عجیب ہے کہ جب ہم (مر کر) مٹی ہوجائیں گے تو کیا از سر نو پیدا ہونگے ؟ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے منکر ہوئے ہیں۔ اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہونگے۔ اور یہی اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد : (وان تعجب) ” اور اگر آپ تعجب کریں “ میں احتمال ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت اور توحید کے دلائل کی کثرت پر تعجب ہو۔ اس لئے کہ اس کے باوجود جھٹلانے والوں کا انکار اور ان کا روز قیامت کی تکذیب کرنا عجیب بات ہے، ان کا یہ کہنا : (اذا کنا ترباً ء انا لفی خلق جدید) ” کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے، کیا نئے سرے سے بنائے جائیں گے ؟ “ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق، یہ بہت بعید اور ممتنع ہے کہ جب وہ مٹی میں رل مل جائیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ انہوں نے بربنائے جہالت خالق کی قدرت کو مخلقو کی قدرت پر قیاس کرلیا ہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ یہ مخلوق کی قدرت سے باہر ہے تو انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ خلاق کے لئے بھی ممتنع ہے۔ حالانکہ وہ فراموش کر بیٹھے کہ ان کی پہلی بار اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھے۔ آیت کریمہ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے اگر آپ ان کی بات اور ان کی ان کے مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی تکذیب پر تعجب کرتے ہیں تو واقعی ان کی یہ بات عجائبات میں شمار ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ شخص جس کے سامنے آیات الٰہی بیان کی جائیں، جو زندگی بعد موت پر ایسے قطعی دلائل دیکھتا ہو جن میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں اور اس کے بعد وہ انکار کر دے تو یہ عجیب بات ہے۔ مگر ان کی یہ بات کوئی انوکھی چیز نہیں ہے۔ (اولئک الذین کفروا بربھم) ” یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا “ اور اس کی وحدانیت کو جھٹلایا حالانکہ توحید سب سے زیادہ واضح اور سب سے زیاد روشن چیز ہے۔ (و اولئک الاغلل) ” اور وہی لوگ، طوق ہیں “ جو ان کو راہ ہدایت سے روکتے ہیں (فی اعناقھم) ان کی رگدنوں میں “ کیونکہ انہیں ایمان کی طرف بلایا گیا مگر وہ ایمان نہ لائے، ان کے سامنے ہدایت پیش کی گئی مگر انہوں نے اسے قبول نہ کیا، لہٰذا سزا کے طور پر ان کے دل پلٹ دیئے گئے کیونکہ یہ لوگ پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے۔ (واولئک اصحب النارھم فیھا خلدون) ” یہی لوگ دوزخی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ “ یعنی وہ جہنم سے کبھی نہیں نکلیں گے۔
Ayah 13:6

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار (یعنی طالب عذاب ہیں) حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع) ہوچکے ہیں۔ اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود انکی بےانصافیوں کے معاف کرنے والا ہے اور بیشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو جھٹلانے والے مشرکین کی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جن کو نصیحت کی گئی مگر انہوں نے نصیحت حاصل نہ کی۔ ان پر دلائل قائم کئے گئے مگر انہوں نے ان دلائل کو نہ مانا، بلکہ اس کے برعکس انہوں نے کھلم کھلا انکار کیا انہوں نے اللہ واحد وقہار کے حلم اور ان کے گناہوں پر فوری طور پر گرفت نہ ہونے کی وجہ سے استدلال کیا کہ وہ حق پر ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہنا شروع کردیا کہ وہ جلدی سے عذاب لے آئیں اور ان میں سے بعض تو یہاں تک کہہ دیتے : (آیت) ” اے اللہ ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔ “ (ووقد خلت من قبلھم المثلت) ” اور گزر چکی ہیں ان سے پہلے مثالیں “ اور حال یہ ہے کہ جھٹلانے والی قوموں پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نازل ہونے کے واقعات گزر چکے ہیں کیا وہ اپنے حال پر غور و فکر کر کے اپنی جہالت کو چھوڑ نہیں سکتے ؟ (وان ربک لذو مغفرۃ للناس علی ظلمھم) ” اور آپ کا رب لوگوں کو ان کے ظلم کے باوجود معاف کرنے والا ہے “ یعنی اللہ تعالیٰ کی بھلائی، اس کا احسان، اس کا کرم اور اس کا عفو و در گزر اس کے بندوں پر ہمیشہ نازل ہوتا رہتا ہے اور بندوں کی طرف سے ان کا شرک و عصیان اس کی طرف بلند ہوتا ہے، اس کے بندے اس کی نافرمانی کرتے ہیں وہ ان کو اپنے دروازے کی طرف بلاتا ہے، وہ جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں مگر وہ انہیں اپنے فضل و احسان سے محروم نہیں کرتا۔ پس اگر وہ توبہ کرلیں تو وہ ان کا دوست ہے، کیونکہ وہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ اگر وہ توبہ نہ کریں تو وہ ان کا طبیب ہے، وہ ان کو مصائب میں مبتلا کرتا ہے، تاکہ وہ ان کو گناہوں سے پاک کر دے۔ وہ کہتا ہے : (آیت) ” کہہ دیجیے ! اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بیشک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ “ (وان ربک لشدید العاقب “ ” بیشک آپ کا رب سخت عذاب دینے والا ہے۔ “ ان لوگوں کو جو اپنے گناہوں پر مصر رہتے ہیں، جو اللہ غالب اور بخشنے والے کے پاس توبہ، استغفار اور التجا کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ پس بندوں کو اللہ تعالیٰ کی ان سزاؤں سے ڈرنا چاہیے جو وہ اہل جرائم کو دیتا ہے، اس کی پکڑ نہایت سخت اور درد ناک ہے۔
Ayah 13:7

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر ﷺ پر اس کے پروردگار کیطرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ سو (اے محمد ﷺ تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو اور ہر ایک قوم کیلئے رہنما ہوا کرتا ہے۔

یعنی کفار آپ ﷺ سے بغیر سوچے سمجھے اور اپنی خواہشات کے مطابق معین آیات و معجزات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : (آیت) ” کیوں نہیں اتاری گئی آپ پر کوئی نشانی، آپ کے رب کی طرف سے “ معجزات کے مطالبے کا جواب نہ ملنے پر رسول اللہ ﷺ کے سامنے عذر پیش کرتے ہوئے یہ بات کہتے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ تو محض ڈرانے والے ہیں آپ کو کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو آیات و معجزات نازل فرماتا ہے۔ اس نے ایسے واضح دلائل کے ساتھ رسول کی تائید فرمائی جو عقل مندوں پر مخفی نہیں ہیں اور طالب حق ان دلائل کے ذریعے سے راہ راست پاسکتا ہے۔ رہا منکر حق، جو اپنے ظلم و جہالت کی وجہ سے بغیر سوچے سمجھے آیات و معجزات کا مطالبہ کرتا ہے تو یہ مطالبہ باطل جھوٹ اور بہتان طرازی ہے، کیونکہ اس کے پاس جو بھی معجزہ اور نشانی آئے گی وہ اس پر ایمان لائے گا۔ اس کی اطاعت کرے گا، کیونکہ اس کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس کی صحت پر دلائل نہیں، بلکہ اس کے ایمان نہ لانے کی وجہ صرف خواہشات نفس اور شہوات کی پیروی ہے۔ (ولکل قوم ھاد) ” اور ہر قوم کے لئے ایک راہنما ہوا کرتا ہے۔ “ یعنی ہر قوم کے پاس انبیاء ومرسلین اور ان کے متبعین میں سے ایک داعی آتا ہے جو انہیں ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔ ان کے پاس دلائل وبراہین ہوتے ہیں جو اس ہدایت کی صحت پر دلالت کرتے ہیں۔
Ayah 13:8

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

خدا ہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی (واقف ہے) اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کا علم سب کو شامل، اس کی اطلاع بہت وسیع اور اس نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، چناچہ فرماتا ہے : (اللہ یعلم ماتحمل کل انثی) ” اللہ جانتا ہے جو پیٹ میں رکھتی ہے ہر مادہ “ یعنی انسان اور جانوروں میں سے (وما تغیض الارحام) ” اور جو کم کرتے ہیں پیٹ “ یعنی رحم میں موجود حمل میں جو کمی ہوتی ہے، یا وہ ہلاک ہوجاتے ہیں، یا وہ سکڑ کر مضمحل ہوجاتے ہیں، (وما تزداد) ” اور جو وہ زیادہ کرتے ہیں “ اور ان میں موجود بچے بڑے ہوجاتے ہیں۔ (وکل شی عندہ بمقدار) ” اور ہر چیز کا اس کے ہاں اندازہ ہے۔ “ کوئی چیز اس مقدار سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے۔ اس مقدار سے زیادہ ہوسکی نہ کم، مگر جس کا تقاضا اس کی حکمت اور علم کرے۔
Ayah 13:9

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ دانائے نہاں و آشکار ہے۔ سب سے بزرگ (اور) عالی رتبہ ہے۔

(علم الغیب والشھادۃ الکبیر) ” وہ نہاں اور آشکار کا جاٹنے والا اور بڑا ہے “ یعنی وہ عالم غیب اور عالم ظاہر کا علم رکھتا ہے وہ اپنی ذات اور اپنے اسماء وصفات میں بڑا ہے۔ (المتعال) ” عالی رتبہ ہے۔ “ یعنی وہ اپنی ذات، قدرت اور غلبہ کے اعتبار سے تمام مخلوق پر بلند ہے۔
Ayah 13:10

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

کوئی تم میں سے چپکے سے بات کہے یا پکار کر یا رات کو کہیں۔ چھپ جائے یا دن (کی روشنی) میں کھلم کھلا چل پھرے (اس کے نزدیک) برابر ہے۔

(سوآء منکم) ” برابر ہے تم میں سے “ یعنی اس کے علم اور سمع و بصر میں (من اسر القول و من جھربہ ومن ھو مستخف بالیل) ” جو آہستہ بات کہے اور جو پکار کر کہے اور جو چھپنے والا ہے رات میں “ یعنی رات کے وقت کسی خفیہ مقام پر ٹھہرا ہوا ہے۔ (وسارب بالنھار) ” اور جو دن میں چلنے والا ہے۔ “ یعنی دن کے وقت اپنی پناہ گاہ کے اندر ہے اور (السرب) اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں انسان چھپتا ہے، خواہ یہ جگہ گھر کے اندر ہو، کوئی غار ہو یا کوئی کھوہ وہغیرہ ہو۔
Ayah 13:11

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

اسکے آگے اور پیچھے خدا کے چوکیدار رہیں جو خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ خدا اس (نعمت) کو جو کسی قوم کو (حاصل) ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب خدا کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی اور خدا کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔

(لہ) ” اس کے لئے “ یعنی انسان کے لئے (معقبت) ” پہرے دار ہیں “ یعنی فرشتے جو شب و روز ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں۔ (آیت) ” بندے کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے اللہ کے حکم سے اس کی نگہانی کرتے ہیں۔ “ یعنی یہ فرشتے اس کے جسم و روح کی ہر اس چیز سے حفاظت کرتے ہیں جو اس کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے، وہ اس کے اعمال کی حفاظت کرتے ہیں اور وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتے ہیں۔ پس جیسے اللہ تعالیٰ کے علم نے انسان کا احاطہ کر رکھا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لئے یہ فرشتے بھیج رکھے ہیں جب کہ انسان کے اعمال اور احوال اللہ تعالیٰ سے اوجھل ہیں نہ وہ ان میں سے کچھ بھولتاے۔ (ان اللہ لایغیرما بقوم) ” بیشک اللہ، وہ نہیں بدلتا جو لوگوں کو حاصل ہے “ یعنی نعمت، احسان اور اسباب زیست کی فراوانی (حتی بغیروا مابانفسھم) ” جب تک وہ خود اس چیز کو نہ بدل دیں “ یعنی جب تک کہ وہ ایمان سے کفر، اطاعت سے نافرمانی اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر سے ناشکری کی طرف منتقل نہیں ہوتے، تب اس صورت میں اللہ تعالیٰ سے اپنی نعمتیں سلب کرلیتا ہے اور اسی طرح جب بندے اپنی حالت کو بدل لیتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو چھوڑ کر اطاعت کا راستہ اختیار کرلیتے تو پھر ان کی بدبختی کی حالت کو بھلائی، مسرت، خوشی اور رحمت کی حالت میں بدل دیتا ہے۔ (واذا اراد اللہ بقوم سوآء) ” اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے “ یعنی اللہ تعالیٰ کسی قوم کے لئے کسی عذاب، سختی یا کسی ایسے امر کا ارادہ کرتا ہے جسے وہ ناپسند کرتے ہیں، تو اس کا ارادہ ان پر ضرور نافذ ہوتا ہے۔ (فلا مردلہ) ” اسے کوئی رد نہیں کرسکتا “ یعنی اس سے انہیں کوئی بچا نہیں سکتا۔ (وما لھم من دونہ من وال) ” اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں ہے۔ “ یعنی جو ان کے معاملات کی سرپرستی کر کے ان کے لئے ان کی محبوب و مرغوب اشیا مہیا کرے اور ناپسندیدہ چیزوں کو ان سے دور کرے۔ پس لوگ ان امور پر قائم رہنے سے بچیں جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں مبادا کہ ان پر وہ عذاب نازل ہوجائے جو مجرموں پر سے ہٹایا نہیں جاتا۔
Ayah 13:12

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔

(ھو الذی یریکم البرق خوفاً وطمعاً ) ” وہی ہے جو دکھاتا ہے تم کو بجلی، ڈرانے کے لئے اور امید دلانے کے لئے “ یعنی اس بجلی (کے گرنے) کی وجہ سے کڑک اور عمارتوں کے منہدم ہونے کا نیز باغات اور کھیتیوں کے پھلوں پر مختلف اقسام کے ضرر رساں اثرات کا خدشہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس میں بھلائی اور فائدے کی امید بھی ہوتی ہے۔ (وینشی السحاب الثقال) ” اور وہ بارش سے لدے ہوئے بھاری بھاری بادل اٹھاتا ہے۔ “ یہ بارش بندوں کو اور زمین کو فائدہ دیتی ہے۔
Ayah 13:13

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور رعد اور فرشتے سب اسکے خوف سے اس کی تسبیح وتحمید کرتے رہتے ہیں۔ اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے۔ پھر جس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے۔ اور وہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اور وہ بڑی قوت والا ہے۔

(ویسبح الرعد بحمدہ) ” اور تسبیح بیان کرتا ہے گرجنے والا، اس کی خوبیوں کی “ (الرعد) سے مراد بجلی کی کڑک کی آواز ہے جو بادلوں سے سنائی دیتی ہے اور بندوں کو ڈرا دیتی ہے۔ یہ کڑک اپنے رب کے سامنے جھکی ہوئی، اس کی تسبیح کے ساتھ اس کی حمد کرتی ہے۔ (والملئکۃ من حیفتہ) ” اور سب فرشتے اس کے ڈر سے “ یعنی اپنے رب کے سامنے فروتنی کے ساتھ اور اس کی سطوت سے ڈرتے ہوئے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں (ویرسل الصواعق) ” اور بھیجتا ہے وہ کڑکتی بجلیاں “ اس سے مراد وہ آگ ہے، جو بادلوں سے نکلتی ہے۔ (فیصیب بھامن یشآء) ” پھر ڈالتا ہے ان کو جس پر چاہے “ وہ کڑکتی ہوئی بجلیاں اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اور جتنی چاہتا ہے اور جب ارادہ کرتا ہے گرا دیتا ہے۔ (وھم یجادلون فی اللہ وھوشدید المحال) ” اور وہ جھگڑتے ہیں اللہ کی بات میں اور اس کی گرفت سخت ہے “ وہ بہت زیادہ قوت و اختیار کا مالک ہے وہ جو چاہتا ہے کہ گزرتا ہے کوئی اس کے سامنے دم مار سکتا ہے نہ بھاگ کر بچ سکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اکیلا ہی، بندوں کے لئے بادل اور بارش لاتا ہے جس کے اندر ان کے رزق کا مادہ ہے، وہی ہے جو تمام امور کی تدبیر کرتا ہے، بڑی سے بڑی مخلوق اس کے خوف سے نہایت عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے سرافگندہ ہے، بندے اس کے خوف سے لرزاں ہیں اور وہ بہت بڑی قوت کا مالک ہے۔۔۔ تب وہی عبادت کا مستحق ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

سودمند پکارنا تو اسی کا ہے۔ اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے۔ مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دو رہی سے) اس کے منہ تک آپہنچے۔ حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا۔ اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے۔

(لہ دعوۃ الحق) ” سود مند پکارنا تو اسی کا ہے۔ “ یعنی صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے دعوت حق ہے۔ دعوت حق سے مراد، صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو صرف اسی کے لئے خالص کرنا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو پکارا جائے، اس سے ڈرا جائے، اس پر امیدیں باندھی جائیں، اس سے محبت کی جائے، اس کی طرف رغبت رکھی جائے، اس سے خوف کھایا جائے اور اسی کی طرف رجوع کیا جائے کیونکہ اسی کی الوہیت حق ہے اور غیر اللہ کی الوہیت باطل ہے۔ (آیت) ” اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں “ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے سوا بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو، جن کو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے، پکارتے ہیں (آیت) ” وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرسکتے۔ “ یعنی یہ خود ساختہ معبود ان کو تھوڑا یا بہت کوئی جواب نہیں دے سکتے جو ان کو پکارتے اور عبادت کرتے ہیں خواہ اس پکار کا تعلق امور دنیا سے ہو یا آخرت سے (الا کباسط کفیہ الی المآء) ” مگر جیسے کسی نے پھیلائے دونوں ہاتھ پانی کی طرف “ یعنی وہ شخص جس جس کے ہاتھ دور ہونے کی بنا پر پانی تک پہنچ نہیں سکتے۔ (لیبلغ) ” کہ آپہنچے وہ پانی “ یعنی اپنے ہاتھوں کو پانی کی طرف پھیلانے کی وجہ سے (فاہ) ” اس کے منہ تک “ کیونکہ وہ پیاسا ہے اور شدت پیاس کی وجہ سے اپنا ہاتھ پانی کی طرف بڑھاتا ہے مگر وہ پانی اس تک پہنچ نہیں پاتا۔ اسی طرح کفار جو اللہ کے ساتھ خود ساختہ معبودوں کو پکارتے ہیں، یہ معبو ان کو کوئی جواب دے سکتے ہیں نہ ان کی حاجت کے شدید ترین اوقات میں ان کو کچھ فائدہ پہنچاسکتے ہیں۔ کیونکہ وہ خود اسی طرح محتاج ہیں جس طرح ان کو پکارنے والے محتاج ہیں۔ وہ زمین و آسمان میں ذرہ بھر کسی چیز کے مالک نہیں، نہ وہ ان میں شریک ہیں اور نہ ان میں کوئی اللہ کا مددگار ہے۔ (وما دعآء الکفرین الا فی ضل) ” اور کافروں کی ساری پکار گمراہی میں ہے “ کیونکہ جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، باطل ہیں۔ پس ان کی عبادت کرنا اور ان کو پکارنا سب باطل ٹھہرا، مقاصد کے بطلان کے ساتھ وسائل بھی باطل ہوجاتے ہیں اور چونکہ اللہ تعالیٰ ہی واضح حقیقی بادشاہ ہے، اس لئے اس کی عبادت حق ہے اور عبادت گزار کو دنیا و آخرت میں نفع پہنچاتی ہے۔ غیر اللہ کو پکارنے والے کفار کی پکار کو اس شخ سے تشبیہ دینا جو پانی کی طرف ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ پانی اس کے منہ تک پہنچ جائے۔۔۔ ایک بہترین تشبیہ ہے، کیونکہ یہ ایک امر محال سے تشبیہ ہے جس طرح یہ امر محال ہے اسی طرح مشبہ بہ بھی محال ہے۔ کسی چیز کی نفی کے لئے اس کو امر محال پر معلق ٹھہرانا، نفی کا بلیغ ترین پیرا یہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (آیت) ” بیشک وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ تکبر سے پیش آئے ان کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے۔ ان کا جنت میں داخل ہونا اتنا ہی محال ہوگا جتنا اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا۔ “
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا زبردستی سے خدا کے آگے سجدہ کرتی ہے۔ اور ان کے سامنے بھی صبح وشام (سجدے کرتے) ہیں۔

یعنی زمین و آسمان کی ہر چیز اپنے رب کی مطیع اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہے (طوعا و کرھا) ” خوشی سے اور ناخوشی سے “ (طوعا) اس شخص کے لئے جو اختیاری طور پر اللہ کے سامنے جھکتا اور اسے سجدہ کرتا ہے جیسے اہل ایمان اپنے اختیار سے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکتے ہیں (کرھاً ) اس شخص کے لئے استعمال ہوا ہے جو تکبر کرتے ہوئے اپنے رب کی عبادت نہیں کرتا مگر خود اس کی فطرت اور اس کا حال اس کی تکذیب کرتے ہیں (آیت) ” اور ان کی پرچھائیاں صبح اور شام “ یعنی تمام مخلوقات کے سائے، صبح و شام اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور ہر چیز کا سجدہ اس کے حسب حال ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” اس جہان ہست و بود میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح بیان نہ کر رہی ہو مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں۔ “ جب صورتحال یہ ہے کہ تمام کائنات طوعاً وکرہاً اپنے رب کے سامنے سرافگندہ ہے تو معلوم ہوا کہ وہی الہ حقیقی اور وہی معبود حقیقی ہے اور غیر اللہ کی الوہیت باطل ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے غیر اللہ کی الوہیت کے بطلان کا ذکر کرتے ہوئے دلیل دی ہے۔
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے ؟ (تم ہی انکی طرف سے) کہہ دو کہ خدا۔ پھر (ان سے) کہو کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو کیوں کارساز بنایا ہے جو خود اپنے نفع و نقصان کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتے ؟ (یہ بھی) پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں ؟ یا اندھیرا اور اجالا برابر ہوسکتا ہے ؟ بھلا ان لوگوں نے جن کو خدا کا شریک مقرر کیا ہے۔ کیا انہوں نے خدا کی سی مخلوقات پیدا کی ہے جس کے سبب ان کو مخلوقات مشتبہ ہوگئی ہے ؟ کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنیوالا ہے اور وہ یکتا (اور) زبردست ہے۔

یعنی ان مشرکین سے کہہ دیجیے جو بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور ان کے ساتھ ویسی ہی محبت کرتے ہیں جیسی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کرتے ہیں اور ان کے تقرب کے لئے مختلف انواع کی عبادت ان کو پیش کرتے ہیں۔ کیا تمہاری عقل ماری گئی ہے کہ تم نے اللہ کو چھوڑ کر دورسوں کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے، تم ان کی عبادت کرتے ہو حالانکہ وہ عبدت کے مستحق نہیں ہیں ؟ (آیت) ” وہ اپنے نفسوں کے لئے بھی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتے “ اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم نے اس ہستی کی سرپرستی کو چھوڑ دیا جو اسماؤ صفات میں کامل، زندوں اور مردوں کی مالک ہے، جس کے ہاتھ میں تمام کائنات کی تخلیق و تدبیر اور نفع و نقصان ہے۔ پس اللہ وحدہ کی عبادت اور خود ساختہ شریکوں کی عبادت برابر نہیں ہوسکتی۔ فرمایا : (آیت) ” کہہ دیجیے ! کیا اندھا اور بینا برابر ہوسکتا ہے، یا کیا اندھیرے اور روشنی برابر ہوسکتی ہے ؟ “ اگر انہیں کوئی شک و شبہ ہے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیئے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے معبود بھی پیدا کرسکتے ہیں جیسے اللہ پیدا کرتا ہے ان کے معبود بھی ہو کام کرسکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلیل قائم کر کے ان کا شک و شبہ زائل کردیجیے۔ پس ان سے کہہ دیجیے (اللہ خلاق کل شیء) ” اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے الا ہے “ پس یہ محال ہے کہ کوئی چیز اپنے آپ کو پیدا کرسکتی ہے اور یہ بھی محال ہے کہ کوئی چیز خالق کے بغیر وجود میں آجائے اور تب یہ حقیقت متعین ہوگئی کہ کوئی ایسی ہستی موجود ہے جو کائنات کی خالق اور الہ ہے، اس کی تخلیق میں کوئی اس کا شریک نہیں کیونکہ وہ واحد وقہار ہے اور وحدانیت اور غلبہ یہ باہم الزم ہیں اور یہ اکیلے اللہ کے لئے متعین ہیں۔ تمام کائنات میں ہر مخلوق کے اوپر ایک اور مخلوق ہے جو اس پر غالب ہے پھر اس غالب مخلوق پر فوقیت رکھنے والی ایک اور مخلوق ہے حتی کہ یہ سلسلہ اس واحد وقہار ہستی پر جا کر ختم ہوجاتا ہے۔ غلبہ اور توحید لازم و ملزوم اور اللہ واحد کے لئے متحقق اور متعین ہیں۔۔۔ تب ناقابل تردید عقلی دلیل کے ذریعے سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جن ہستیوں کو پکارا جاتا ہے انہوں نے ان مخلوقات میں سے کسی چیز کو بھی تخلیق نہیں کیا اور اس طرح یہ بات متحقق ہوگئی کہ ان ہستیوں کی عبادت باطل ہے۔
Ayah 13:17

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اسی نے آسمان سے مینہ برسایا۔ پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہ نکلے۔ پھر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لئے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہوجاتا ہے اور (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔ اس طرح (خدا) صحیح اور غلط کی) مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ تم سمجھو)

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہدایت کو جسے قلب و روح کی زندگی کے لئے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمایا، پانی سے تشبیہ دی ہے جسے اس نے بدن کی زندگی کے لئے نازل فرمایا۔ ہدایت الٰہی میں جو عام اور کثیر نفع ہے اور بندے جس کے محاتج ہیں، اس کو بارش میں موجود اس نفع عام سے تشبیہ دی ہے جو بندوں کے لئے بہت ضروی ہے اور ہدایت کے حامل قلوب اور ان کے تفاوت (باہمی فرق) کو ان وادیوں سے تشبیہ دی ہے جن کے اندر سیلاب بہتے ہیں۔ پس بڑی وادی، جس میں بہت زیادہ پانی سما جاتا ہے اس بڑے دل کی مانند ہے جو بہت زیادہ علم سے لبریز ہے اور چھوٹی وادی جو تھوڑے سے پانی کی متحمل ہوتی ہے اس چھوٹے دل کی مانند ہوتی ہے جس میں بہت تھوڑا علم سماتا ہے۔ وصول حق کے وقت دلوں کے اندر جو شہوات و شبہات ہوتے ہیں ان کو اس جھاگ سے تشبیہ دی ہے جو سیلاب کے پانی کی سطح پر آجاتا ہے اور یہ جھاگ اس وقت بھی اوپر آجاتا ہے جب زیور کو کھوٹ سے خالص کرنے کے لئے آگ میں تپایا جاتا ہے اور جھاگ برابر پانی کے اوپر رہتا ہے اور پانی کو مکدر کرنے والا میل کچیل پانی کی سطح پر تیرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ مضمحل ہو کر ختم ہوجاتا ہے اور صاف پانی اور خالص زیور باقی رہ جاتا ہے جو لوگوں کے لئے فائدہ مند ہے۔ یہی حال شبہات و شہات کا ہے قلب ان شبہات و شہوات کو ناپسند کرتا ہے، وہ دلائل وبراہین اور پختہ ارادے کے ذریعے سے ان کے خلاف جدوجہد کرتا ہے حتی کہ یہ شبہات و شہوات مضمحل ہو کر ختم ہوجاتے ہیں اور قلب پاک صاف اور خالص ہوجاتا ہے اور حق کے علم، اس کو ترجیح دینے اور اس کی رغبت کے سوا اس میں کچھ بھی باقی نہیں رہتا ہے۔ باطل زائل ہوجاتا ہے اور حق اس کو مٹا دیتا ہے۔ (آیت) ” بیشک باطل مٹنے ہی والا ہے۔ “ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اس طرح بیان کرتا ہے اللہ مثالیں “ تاکہ باطل میں سے حق اور گمراہی میں سے ہدایت واضح ہوجائے۔
Ayah 13:18

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ ہی اتنے اور (نجات کے) بدلے میں صرف کر ڈالیں (مگر نجات کہاں ؟ ) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانہ بھی دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے حق کو باطل سے واضح کردیا، تو اب فرما رہا ہے کہ لوگ دو اقسام میں تقسیم ہیں : (1) اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہنے والے، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ثواب کا ذکر فرمایا۔ (2) اپنے رب کی دعوت پر لبیک نہ کہنے والے، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عذاب کا ذکر فرمایا۔ (للذین استجابوا لربھم) ” ان لوگوں کے لئے جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانا “ یعنی جن کے دل علم و ایمان کے سامنے سرافگندہ ہیں اور ان کے جوارح امرونہی پر عمل پیرا ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے جو کچھ چاہتا ہے وہ اس کی مراد کی موافقت کرتے ہیں۔ (الحسنی) ” بھلائی ہے۔ “ یعنی اچھی حالت اور اچھا ثواب ان کی صفات جلیل ترین، ان کے مناقب بہترین اور ان کے لئے دنیاوی اور اخروی ثواب ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں اس کا گزر ہوا ہے۔ (والذین لم یستجیبوا لہ) ” اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا “ یعنی ان کے سامنے مثالیں بیان کرنے اور حق واضح کرنے کے بعد بھی انہوں نے اپنے رب کی آواز پر لبیک نہ کہا، ان کی حالت اچھی نہ ہوگی۔ (لو ان لھم ما فی الارض جمعیاً ) ” اگر ان کے پاس ہو جو کچھ کہ زمین میں ہے سارا “ یعنی زمین کا تمام سونا چاندی وغیرہ (و مثلہ معہ لافتدوابہ) ” اور اتنا ہی اس کے ساتھ اور، تو سب دے ڈالیں اپنے بدلے میں “ یعنی قیامت کے روز کے عذاب سے بچنے کے لئے فدیہ میں، تو ان سے یہ سب کچھ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور یہ مال انہیں حاصل بھی کہاں سے ہوگا ؟ (آیت) ” ان کے لئے ہے برا حساب “ یعنی یہ حساب ہر اس بد اعمالی کے بارے میں ہوگا جس کا انہوں نے دنیا میں ارتکاب کیا تھا اور بندوں کے جو حقوق ضائع کئے تھے، ان کی تمام بد اعمالیاں لکھ کر محفوظ کرلی گئی ہیں۔ وہ پکار اٹھیں گے۔ (آیت) ” ہائے ہماری بدبختی ! یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو لکھنے سے چھوڑی ہے نہ کسی بڑی بات کو، اور وہ اپنے تمام اعمال کو موجود پائیں گے جو انہوں نے سرانجام دیئے ہوں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ “ (و) ” اور “ یعنی اس برے حساب کتاب کے بعد (ماؤءھم جھنم) ” ان کا ٹھکانا جہنم ہے “ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع ہے۔ مثلاً شدید بھوک، درد ناک پیاس، بھڑکتی ہوئی آگ، کھانے کو تھوہر، ٹھٹھرا دینے والی سردی، خار دار جھاڑ اور عذاب کی وہ تمام اقسام جن کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ (وبئس المھاد) ” اور وہ بری جگہ ہے۔ “ یعنی ان کا مسکن اور ٹھکانا بدترین ہوگا۔
Ayah 13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا حق ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے ؟ اور سمجھتے تو وہی ہیں جو عقلمند ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ اہل علم و عمل اور غیر اہل علم لوگوں کے درمیان فرق کرتے ہوئے فرماتا ہے : (آیت) ” بھلا جو شخص جانتا ہے کہ جو کچھ اترا آپ پر آپ کے رب کی طرف سے، حق ہے “ پس اس حق کو خوب سمجھ لیا اور اس پر عمل پیرا ہوا، (کمن ھواعمی) ” برابر ہوسکتا ہے اس کے جو کہ اندھا ہے “ اور وہ حق کا علم رکھتا ہے نہ حق پر عمل کرتا ہے، دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ پس بندے پر لازم ہے کہ وہ غور کرے کہ فریقین میں سے کس کا حال اچھا اور کس کا انجام بہتر ہے۔ پھر اسے چاہیے کہ اسی راستے کو ترجیح دے اور اسی گروہ کی پیروی میں رواں دواں رہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص غور و فکر نہیں کرتا کہ اس کے لئے کیا چیز فائدہ مند اور کیا چیز نقصان دہ ہے ؟ (آیت) ” عقل مند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ “ یعنی جو پختہ عقل اور کامل رائے رکھتے ہیں یہ لوگ کائنات کالب لباب اور بنی آدم میں چنے ہوئے لوگ ہیں۔
Ayah 13:20

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

جو خدا کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اقرار کو نہیں توڑتے۔

اگر آپ ان کے اوصاف کے بارے میں سوال کریں تو آپ ان اوصاف سے بڑھ کر کوئی وصف نہیں پائیں گے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو موصوف کیا ہے، چناچہ فرمایا : (الذین یوفون بعھد اللہ) ” وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں “ وہ ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کی تھی اور وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا یعنی اس کے حقوق کو کامل طور پر قائم کرنا، ان کو پوری طرح ادا کرنا یعنی ان حقوق کی نشو و نما اور ان میں خیر خواہی کرنا۔ (و) ” اور “ ان حقوق کی تکمیل یہ ہے کہ وہ (لاینقضون المیثاق) وہ اقرار کو نہیں توڑتے۔ “ یعنی اس عہد کو نہیں توڑتے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے باندھا ہے۔ اس آیت کریمہ کے حکم میں ہر قسم کا معاہدہ، عہد، قسم اور نذر وغیرہ داخل ہیں جنہیں بندے اپنے آپ پر لازم کرتے ہیں۔ اس عہد اور میثاق کو بتمام پورا کئے بغیر بندہ، عقل مندوں میں شمار نہیں ہوسکتا جن کے لئے ثواب عظیم ہے۔
Ayah 13:21

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کا جوڑے رکھتے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں

(آیت) ” اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا “ یہ ان تمام امور کے لئے عام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ اور اس کے سرلو ﷺ پر ایمان، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت، اللہ تعالیٰ وحدہ کی عبادت اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے لئے سرتسلیم خم کرنا۔ سب اس میں داخل ہے۔ یہ لوگ اپنے ماں باپ کے ساتھ قولی اور فعلی حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں اور ان کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اسی طرح اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اپنے قول و فعل میں حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں۔ اپنی بیویوں، اپنے دوستوں، ساتھیوں اور اپنے غلاموں کے دین اور دنیاوی حقوق کی کامل ادائیگی کے ذریعے سے حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔ اور وہ سبب جس کی بنا پر بندہ ان امور کو ملاتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور روز حساب کا خوف ہے۔ بنابریں فرمایا : (ویخشون ربھم) ” اور وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا خوف اور قیامت کے دن اس کے حضور پیش ہونے کا ڈرا نہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ارتکاب اور اس کے احکام میں کوتاہی سے بچاتا ہے، ان کا یہ رویہ عذاب کے ڈر اور ثواب کی امید کی بنا پر ہے۔
Ayah 13:22

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور جو پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (مصائب پر) صبر کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے انکو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں اور نیکی سے برائی کو دور کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے لئے عاقبت کا گھر ہے۔

(آیت) ” اور جو صبر کرتے ہیں۔ “ یعنی وہ لوگ جو مامورات کی تعمیل اور منہیات سے بچنے اور ان سے دور رہنے اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضا و قدر پر عدم نارضای کے ساتھ صبر کرتے ہیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ صبر صرف (آیت) ” اپنے رب کی رضا کی خاطر ہو “ کسی فاسد اغراض و مقاصد کے لئے نہ ہو۔ یہی وہ صبر ہے جو فائدہ مند ہے جو بندے کو اپنے رب کی رضا کی طلب اور اس کے قرب کی امید کا پابند اور اس کے ثواب سے بہرہ ور کرتا ہے اور یہی وہ صبر ہے جو اہل ایمان کی خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔ وہ صبر جو بہت سے لوگوں میں مشترک ہوتا ہے اس کی غایت و انتہا استقلال اور فخر ہے یہ صبر نیک اور بد، مومن اور کافر، ہر قسم کے لوگوں سے صادر ہوسکتا ہے، صبر کی یہ قسم درحقیقت ممدوح نہیں ہے۔ (واقاموا لصلوۃ) ” اور نماز قائم کرتے ہیں۔ “ یعنی وہ نماز کو اس کے تمام ارکان، شرائط اور ظاہری و باطنی تکمیل کے ساتھ قائم کرتے ہیں، (وانفقوا مما رزقنھم سراً وعلانیۃ) ” اور جو ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں “ اس میں تمام نفقات واجبہ مثلاً زکوۃ اور کفارہ اور نفقات مستحبہ داخل ہیں۔ یہ کھلے چھپے ان تمام مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں ضرورت تقاضا کرتی ہے۔ (ویدرؤن بالحسنۃ السیءۃ) ” اور وہ برائی کے مقابلے میں بھلائی کرتے ہیں “ یعنی جو کوئی قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے، وہ اس کے ساتھ برے طریقے سے پیش نہیں آتے بلکہ اس کے برعکس حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔ پس جو کوئی انہیں محروم کرتا ہے یہ اسے عطا کرتے ہیں، جو کوئی ان پر ظلم کرتا ہے یہ اسے معاف کردیتے ہیں، جو کوئی ان سے قطع تعلق کرتا ہے یہ اس سے جڑتے ہیں اور جو کوئی ان سے برا سلوک کرتا ہے یہ اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔۔۔ جب برا سلوک کرنے والوں کے ساتھ ان کے حسن سلوک کی یہ کیفیت ہے تو اس شخص کے ساتھ ان کے حسن سلوک کی کیفیت ہوگی جس نے ان کے ساتھ کبھی برا سلوک نہیں کیا۔ (اولئک) ” یہی “ یعنی وہ لوگ جو ان صفات جلیلہ اور مناقبت جمیلہ کے حامل ہیں (آیت) ” انہی کے لئے آخرت کا گھر ہے۔
Ayahs 13:23–24

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

(یعنی) جو ہمیشہ رہنے کے باغات جن میں وہ داخل ہونگے اور ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں سے جو نیکوکار ہوں گے وہ بھی (بہشت میں جائیں گے) اور فرشتے (بہشت کے) ہر ایک دروازے سے انکے پاس آئینگے

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

(اور کہیں گے) تم پر رحمت ہو (یہ) تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے اور عاقبت کا گھر خوب (گھر) ہے۔

23-24:“ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” باغ میں ہمیشہ رہنے کے لئے “ یعنی وہ ان جنتوں میں قیام کریں گے وہ کبھی ان سے دور نہ ہوں گے اور نہ وہ ان جنتوں سے منتقل ہونا چاہئیں گے وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے اوپر کوئی منزل نہیں۔۔۔ کیونکہ یہ جنتیں ایسی نعمت اور مسرت پر مشتمل ہیں جو مطلوب و مقصود ہے۔ اور ان کے لئے نعمت کی تکمیل اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک یہ ہے کہ (آیت) ” وہ اس (جنت) میں داخل ہوں گے اور جو نیک ہوئے ان کے باپ دادا میں سے، (مردوں اور عورتوں میں سے) اور ان کی بیویوں میں سے اور ان کی اولاد میں سے “ اور اسی طرح ان جیسے دیگر لوگ، ان کے دوست، ہم نشین، ان کے ساتھی۔ اس لئے کہ یہ سب ان کی ازدواج اور اولاد کی قبیل ہی میں شمار ہوں گے (آیت) ” اور فرشتے ان پر ہر دروازے سے داخل ہوں گے۔ “ وہ انہیں سلام اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اکرام و تکریم کے ذریعے سے ہدیہ تہنیت پیش کریں گے۔ اور کہیں گے (سلم علیکم) ” تم پر سلامتی ہو۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر سلامتی اور سلام کا ہدیہ ہے جو تمہیں پیش کیا گیا ہے اور یہ سلام ہر ناخوشگوار کے زائل ہونے کو متضمن اور ہر محبوب چیز کے حصول کو مستلزم ہے (آیت) ” تمہارے صبر کے سبب سے “ یہ صبر ہی ہے جس نے تمہیں ان مقامات بلند اور جنت عالیشان میں پہنچایا (آیت) ” سو کیا خوب ہے عاقبت کا گھر۔ “ پس جو کوئی اپنے نفس کا خیر خواہ ہے اور اس کے نزدیک اس کی قدرو قیمت ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے تزکیہ کے لئے پوری جدوجہد کرے شاید وہ عقل مندوں کے اوصاف سے بہرہ ور ہوسکے اور شاید اسے آخرت کے گھر سے کوئی حصہ مل سکے، جو دلوں کی آرزو اور روح کا سرور ہے، جو ہر قسم کی لذتوں اور فرحتوں کا جامع ہے۔ پس اس قسم کی منزل کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے اور اس قسم کے مقام کے لئے سبقت کرنی چاہیے۔
Ayah 13:25

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا سے عہد واثق کر کے اسکو توڑ ڈالتے اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو قطع کردیتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے ہیں ایسوں پر لعنت ہے۔ اور انکے لئے گھر بھی برا ہے

اور وہلوگ جو توڑتے ہیں عہد اللہ کا بعد پختہ کرنے کے اس کو، اور قطع کرتے ہیں اس چیز کو کہ حکم دیا اللہ نے اس کی بابت کہ بلایا جائے (اسے) اور وہ فساد کرتے ہیں زمین میں یہی لوگ ہیں واسطے انکے لعنت ہے اور واسطے انہی کے بہت برا گھر ہے۔ اہل جنت کا حال بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کے ایسے احوال بیان فرمائے ہیں جو اہل جنت کیا وصاف کے برعکس ہیں۔ چناچہ فرمایا : (آیت) ” وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں اس کو مضبوط کرنے کے بعد “ یعنی اللہ تعالیٰ کے اپنے انبیاء ومرسلین کے ذریعے سے اس عہد کو مؤکد اور پکا کرنے کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑا اور اطاعت و تسلیم سے اس عہد کو پورا نہ کیا بلکہ اس سے روگردانی کرتے ہوئے اس کو توڑ دیا۔ (آیت) ” اور قطع کرتے ہیں اس چیز کو جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا “ پس انہوں نے ایمان و عمل کے ذریعے سے اپنے اور اپنے رب کے مابین تعلق کو قائم کیا، نہ انہوں نے صلہ رحمی کی اور نہ انہوں نے حقوق ادا کئے بلکہ اس کے برعکس انہوں نے کفرو معاصی کا ارتکاب کرکے، لوگون کو اللہ کے راستے سے روک کر اور اس کے راستے کو ٹیڑھا کرنے کی کوششوں کے ذریعے سے، زمین میں فساد پھیلایا۔ (آیت) ” ایسوں پر لعنت ہے “ یعنی ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور اس کے فرشتوں اور اس کے مومن بندوں کی طرف سے مذمت ہے (آیت) ” اور ان کے لئے گھر بھی برا ہے۔ “ اس سے مراد جہنم ہے کیونکہ اس میں ان کے لئے المناک عذاب ہوگا۔
Ayah 13:26

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

خدا جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کا چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے۔ اور (کافر لوگ) دنیا کی زندگی پر خوش ہو رہے ہیں۔ اور دنیا کی زندگی آخرت (کے مقابلے) میں (بہت) تھوڑا فائدہ ہے۔

یعنی وہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہے۔ رزق وسیع کرتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے اسے کشادہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے نپا تلا رزق عطا کرکے اس پر رزق کو تنگ کردیتا ہے (آیت) ” اور وہ خوش ہیں “ یعنی کفار، (آیت) ” دنیا کی زندگی پر “ انہیں ایسی خوشی ہے جو ان کے لئے دنیا پر اطمینان اور آخرت سے غفلت کی موجب ہے اور یہ ان کی کم عقلی ہے۔ (آیت) ” اور نہیں ہے دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں، مگر حقیر سامان “ یعنی دنیا کی زندگی ایک حقیر سی چیز ہے جس سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور جو فائدہ اٹھانے والے دنیا داروں سے جدا ہوجائے گی اور اپنے پیچھے ایک طویل ہلاکت چھوڑ جائے گی۔
Ayahs 13:27–29

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی کہہ دو کہ خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ اور جو (اسکی طرف) رجوع ہوتا ہے اسکو اپنی طرف کا راستہ دکھاتا ہے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

(یعنی) جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یاد خدا سے آرام پاتے ہیں (انکو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لئے خوش حالی اور عمدہ ٹھکانا ہے۔

27- 29: اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں، اللہ کے رسول سے بطریق تلسبیس بےسوچے سمجھے سوال کرتے ہیں اور کہتے ہیں (آیت) ” کیوں نہ اتری اس پر کوئی نشانی اسکے رب کی طرف سے “ یعنی ان کے زعم کے مطابق، ان اگر ان کے پاس معجزہ آگیا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” کہہ دیجئے ! اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے اور راہ دکھلاتا ہے اپنی طرف اس کو جس نے رجوع کیا۔ “ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار ہوا۔ پس ہدایت اور گمراہی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے کہ وہ سے آیات و معجزات پر موقف قرار دیں، بایں ہمہ وہ سخت جھوٹے ہیں۔ (آیت) (الانعام : 6 / 111) ” اگر ہم ان پر فرشتے نازل کردیں، ان کے ساتھ مردے ہم کلام ہوں اور ان کے سامنے ہر چیز اکٹھی کردیں تب بھی یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر ایمان نہیں لائیں گے۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں۔ “ یہ لازم نہیں کہ رسول ان کے پاس وہی متعین معجزہ لے کر آئے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں بلکہ وہ جو نشانی لے کر آئے جس سے حق واضح ہوجائے تو کافی ہے اور اس سے مقصد حاصل ہوجاتا ہے اور ان کے لئے ان کے متعین معجزات کے طلب کرنے سے زیادہ نفع مند ہے۔ کیونکہ اگر ان کے مطالبے کے مطابق نشانی آجائے اور وہ اس پر ایمان لانے سے انکار کردیں تو بہت جلد ان کو اللہ تعالیٰ کا عذاب آلے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کی علامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دلوں کا قلق اور اضطراب دور ہوجاتا ہے اور اس کی جگہ فرحت اور لذت آجاتی ہے۔ فرمایا : (آیت) ” سنو ! اللہ کے ذکر ہی سے دل چین پاتے ہیں۔ “ دلوں کے لائق اور سزا وار بھی یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سوا کسی چیز سے مطمئن نہ ہوں کیونکہ دلوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی محبت ان کے انس اور اس کی معرفت سے بڑھ کر کوئی چیز لذیذ اور شیریں نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت کی مقدار کے مطابق دل اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔ اس قول کے مطابق یہاں ذکر سے مراد بندے کا اپنے رب کا ذکر کرنا ہے مثلاً تسبیح اور تکبیر و تہلیل وغیرہ۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی یاد دہانی کے لئے نازل فرمائی ہے۔ تب ذکر الہٰی کے ذریعے سے اطمینان قلب کے معنی یہ ہوں گے کہ دل جب قرآن کے معانی اور اس کے احضکام کی معرفت حاصل کرلیتے ہیں تو اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ کیونکہق رآن کے معانی حق مبین پر دلالت کرتے ہیں اور دلائل وبراہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس پر دل مطمئن ہوتے ہیں کیونکہ علم اور یقین کے بغیر دلوں کو اطمینان حاصل نہیں ہوتا اور کتاب اللہ کامل ترین وجوہ کے ساتھ علم اور یقین کو متضمن ہے۔ کتاب اللہ سوا دیگر کتب علم و یقین کی طرف راجع نہیں ہوتیں، اس لئے دن ان پر مطمئن نہیں ہوتے، بلکہ اس کے برعکس وہ دلائل کے تعارض اور احکام کے تضاد کی بنا پر ہمیشہ قلق کا شکار رہتے ہیں (آیت) (النساء : 4 / 28) ” اگر یہ قرآن اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت سا اختلاف ہاتے “۔ اور یہ چیز کتاب اللہ کی دی ہوئی خبر، کتاب اللہ میں تدبیر اور دیگر مختلف علوم میں غور و فکر سے واضح ہوجاتی ہے پس (طالب حق) ان کتب علوم اور کتاب اللہ کے درمیان بہت بڑا فرق پائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔ “ یعنی جو اپنے دل سے اللہ پر، اس کے فرشتون پر، اس کی کتابوں پر اور یوم آخرت پر ایمان لائے اور اعمال صالحہ یعنی اعمال قلوب مثلاً محبت الہٰی، خشیت الہٰی اور اللہ تعالیٰ پر امید وغیرہ اور اعمال جو ارح مثلاً نماز وغیرہ کے ذریعے سے اس ایمان کی تصدیق کرے۔ (آیت) ” ان کے لئے خوش حالی اور عمدہ ٹھکانا ہے۔ “ یعنی ان کا حال پاک صاف اور ان کا انجام اچھا ہے اور یہ اس بنا پر ہے کہ انہیں دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی طرف سے اکرام و تکریم حاصل ہے اور انہیں کامل راحت اور پورا اطمینان قلب عطا کیا گیا ہے۔ ان جملہ نعمتوں میں، جنت کا ” شجر طوبیٰ “ بھی شامل ہے کہ ایک سوار اس درخت کے سائے میں ایک سو سال تک چلتا رہے گا مگر سایہ ختم ہونے کو نہیں آئے گا۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہوا ہے۔ (1) (1۔ مسند احمد 3 / 17)