Ayah 13:11:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الٓر “ سے مراد ہے میں اللہ ہوں میں دیکھ رہا ہوں۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” تلک ایت الکتب “ یعنی توراۃ اور انجیل (آیت ) ” والذی انزل الیک من ربک الحق “ یعنی قرآن مجید۔
3:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” تلک ایت الکتب “ یعنی وہ کتابیں جو قرآن سے پہلے تھیں (آیت) ” والذی انزل الیک من ربک “ یعنی یہ قرآن مجید۔
Ayahs 13:2–3آسمانوں کے ستون کا ذکر :
1:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ فلاں یوں کہتا ہے (آیت) ” انھا علی عمد “ یعنی آسمان پر قائم ہیں پھر فرمایا اس کو یہ آیت پڑھاؤ (آیت ) ” بغیر عمد ترونھا “ یعنی ان ستونوں کو نہیں دیکھتے ہو۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” رفع السموت بغیر عمد ترونھا “ کے بارے میں فرمایا تجھے کیا معلوم شاید کہ ایسے ستونوں پر قائم ہو جو تم نہیں دیکھتے ہو۔
3:۔ عبدالرزاق وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” بغیر عمدترونھا “ کے بارے میں فرمایا کہ آسمانوں کے ستون ہیں لیکن تم ان ستونوں کو نہیں دیکھ سکتے۔
4:۔ ابن جریر (رح) نے ایاس بن معاویہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” رفع السموت بغیر عمد ترونھا “ کے بارے میں فرمایا کہ آسمان زمین پر قبہ کی طرح بنایا گیا ہے۔
5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آسمان چار ستونوں پر واقع ہے۔ اور ہر زاویہ پر ایک فرشتہ مقرر کیا گیا ہے۔
6:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” بغیر عمد ترونھا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ستونوں کے ساتھ ہے جس کو تم نہیں دیکھتے ہو۔
7:ـ۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے حسن اور قتادہ ؓ سے دونوں حضرات سے روایت کیا کہ وہ فرمایا کرتے تھے کہ آسمانوں کو بنایا اور بغیر ستونوں کے پھر ان کو حکم دیا گیا کہ ٹھہرے رہو تو وہ ٹھہر گئے۔
8:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر رحمہما اللہ نے معاذ ؓ سے روایت کیا کہ ابی کے مصحف میں یوں ہے (آیت ) ” بغیر عمد ترونھا “۔
9:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وسخرالشمس والقمر، کل یجری لاجل مسمی “ کے بارے میں فرمایا کہ مدت معلوم ہے اور مقرر کردہ حد ہے جس میں کمی بیشی نہیں ہوتی۔
10:ـ۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” کل یجری لاجل مسمی “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے دنیا۔
11:۔ ابن جریر وابن حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یدبرالامر “ سے مراد ہے کہ اکیلے ہی اس کا فیصلہ فرماتے ہیں۔
12:۔ ابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” لعلکم بلقآء ربکم توقنون “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو اتارا اور اپنے رسولوں کو بھیجا تاکہ لوگ ایمان لے آئیں اس کے وعدہ کے مطابق اور اس کے ملاقات کا یقین کرلیں۔
مشرق ومغرب کے درمیان فاصلہ :
13:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عمر بن عبداللہ (رح) جو غفرہ کے آزاد کردہ غلام تھے ان سے روایت کیا کہ کعب نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ نے مشرق ومغرب کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ بنایا۔ اور مشرق میں سو سال کا ایسا فاصلہ موجود ہے کہ اس میں حیوان میں سے کوئی چیز نہیں رہتی نہ جن نہ انسان نہ جانور اور نہ درخت اسی طرح سو سال کا فاصلہ ہے مغرب میں اسی منزل کے ساتھ اور تین سو سال کا فاصلہ ہے مشرق اور مغرب کے درمیان اسی میں حیوان رہتے ہیں۔
14:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ دنیا پانچ سو سال کا فاصلہ ہے چار سو سال کی مسافت غیرآباد ہے اور سو سال کی مسافت آباد ہے اور اس میں سے مسلمانوں کے قبضہ میں ایک سو سال کی مسافت ہے۔
15ـ:۔ ابن ابی حاتم و ابونعیم نے الحلیۃ میں وھب منبہ (رح) سے روایت کیا کہ دنیا کے خراب حصہ میں آباد حصہ ایسا ہے جیسے ایک خیمہ ہو سمندر میں۔
16:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابوالجلد (رح) سے روایت کیا کہ زمین چوبیس ہزار فرسخ ہے۔ سودان کے لئے بارہ ہزار ہے۔ روم کے لئے آٹھ ہزار ہے اور فارس کے لئے تین ہزار ہے اور باقی ایک ہزار سارے عرب کے لئے ہے۔
17:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے خالد بن مغرب (رح) سے روایت کیا کہ زمین کی کل مسافت پانچ سو سال ہے، تین سو سال کا حصہ اس کے آباد کرنے والوں کے لئے ہے۔ اور دو سو حصہ خراب ہے۔
18:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے حسان بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ زمین کی وسعت پانچ سو سال ہے تین سو سال سمندر کے لئے ہے۔ اور ایک سو سال خراب ہے اور ایک سو سال کی مسافت آبادی کے لئے ہے۔
19:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ زمین کے سات ٹکڑے ہیں چھ ٹکڑوں میں یاجوج ماجوج ہیں اور ٹکڑے میں ساری مخلوق ہے۔
20:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو ذکر کیا گیا کہ زمین (کافاصلہ) چوبیس ہزار فرسخ ہے بارہ ہزار فرسخ اس میں سے ہند کی زمین ہے۔ آٹھ ہزار چین کی۔ تین ہزار مغرب کی اور ایک ہزار عرب کی ہے۔
21:۔ ابن منذر (رح) نے مغیث بن سمی (رح) سے روایت کیا کہ زمین کے تین حصہ ہیں ایک تہائی میں لوگ اور درخت ہیں۔ اس میں سے ایک تہائی میں سمندر ہیں اور ایک تہائی میں ہوا ہے۔
اما قولہ تعالیٰ : وجعل فیھا رواسی وانھرا :
22:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا پہلے ہوا کو پیدا فرمایا پس ہوا چل پڑی۔ وہ ایک بلند ٹیلہ سے شروع ہوئی۔ فرمایا جو زمین کے نیچے ہے پھر اس ٹیلہ سے زمین کو پھیلایا لمبائی اور چوڑائی میں وہ ہلنے لگی تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو گاڑ دیا۔
23:۔ ابن جریر (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا فرمایا تو وہ حرکت کرنے لگی اور کہنے لگی اے میرے رب تو مجھ پر آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو پیدا کرتا ہے۔ وہ مجھ پر گناہ کریں گے اور برے اعمال کریں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس پر پہاڑوں کو پیدا فرمایا جو تم کو نظر آتے ہیں یا جو تم کو نظر نہیں آتے اور زمین کا ٹھہرنا ایسا ہے جیسے گوشت حرکت کررہا ہوتا ہے۔
24:۔ ابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ سب سے پہلا پہاڑ جو زمین پر رکھا گیا ابوقیس کا پہاڑ ہے۔
25:۔ ابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” جعل فیھا زوجین اثنین “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز سے مذکر مونث بنائے۔
26:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یغشی الیل النھار “ یعنی وہ دن کو رات پہنا دیتا ہے۔
Ayah 13:4قدرت کی نشانیاں :
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وفی الارض قطع متجورت “ سے مراد ہے کہ اچھی اور عمدہ زمین اللہ تعالیٰ کے حکم سے فصل اگاتی ہے جبکہ اس کے پڑوس میں ایسی زمین ہے جو شور والی ہے اس پر کوئی فصل نہیں اگتی حالانکہ یہ دونوں ایک ہی زمین ہیں اور ان دونوں کا پانی بھی ایک ہی ہے جو نمکین ہے۔ اور میٹھا ہے لیکن ایک کو دوسری پر فضیلت دی گئی ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ زمین میں پانی نہیں ہے مگر جو نازل ہوتا آسمان سے لیکن زمین کی تہیں اسے تبدیل کردیتی ہیں۔ جو شخص ارادہ کرے کہ نمکین بدل جائے میٹھے میں تو اس کو چاہئے وہ زمین سے پانی کو اوپر نکالے۔
3:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وفی الارض قطع متجورت “ سے مراد ہے زمین کے مختلف ٹکڑے ہیں تنور والی اور میٹھی اور نمکین اور صاف۔
4:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وفی الارض قطع متجورت “ سے مراد ہے بستیاں آپس میں ملی ہوئیں اور اس کا بعض بعض قریب ہے۔
5:۔ ابوالشیخ رحمہماا للہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وفی الارض قطع متجورت “ سے مراد ہے فارس اھواز کوفہ اور بصرہ کے علاقے میں۔
6:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وفی الارض قطع متجورت “ سے مراد ہے ایک زمین جو میٹھے پھل اگاتی ہے اور دوسری زمین جو کچے اور ترش اگاتی ہے اور یہ زمینیں آپس میں ملی ہوتی ہیں اور ایک ہی پانی سے پلائی جاتی ہیں۔
7:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وفی الارض قطع متجورت “ سے مراد ہے ایک ہی زمین سے اس میں بادام، امرود انگور سفید و سیاہ لگتے ہیں بعض بڑے ہوئے ہیں اور بعض چھوٹے ہوئے ہوتے ہیں بعض میٹھے ہوتے ہیں اور بعض کھٹے ہوتے ہیں اور بعض بعض سے عمدہ ہوتے ہیں۔
8:۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے براء بن عازبؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” صنوان وغیر صنوان “ کے بارے میں فرمایا کہ (آیت) ” الصنوان “ سے مراد وہ درخت جس کی جڑ ایک ہوتی ہے جبکہ وہ متفرق ہوتے ہیں اور (آیت) ” غیر صنوان “ سے مراد وہ ہوتے ہیں جو اکیلے اگتے ہیں۔ اور دوسرے لفظ میں (آیت) ” صنوان “ سے مراد ہے وہ کھجور کا درخت جو دوسری کھجور سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ اور (آیت) ” صنوان وغیر “ سے مراد ہے علیحدہ علیحدہ کھجور کا درخت۔
9:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” صنوان “ سے مراد ہے کھجوروں کا جمع ہونا ایک جڑ میں اور (آیت) ” وغیر صنوان “ یعنی متفرق کھجور کے درخت۔
10:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وفی الارض قطع متجورت “ یعنی زمین کے مختلف ٹکڑے جو قریب قریب ہیں اور جو کچھ اس کے ساتھ اور چیزیں ہیں اور آیت ” صنوان “ یعنی کھجوروں کے درخت یا زیادہ درخت ہیں جن کی جڑ ایک ہو (آیت ) ” غیر صنوان “ یعنی اکیلا کھجور کا درخت جو پلایا جاتا ہے ” بمآء واحد “ (ایک ہی پانی سے) یعنی آسمان کے پانی سے جیسے مثال ہے آدم (علیہ السلام) کی اولاد کی کہ کچھ ان میں سے نیک ہیں اور کچھ ان میں سے برے ہیں۔ (حالانکہ) باپ ایک ہی ہے اسی طرح کھجور کے درخت ہیں کہ ان کی جڑ ایک ہوتی ہے۔ لیکن ذائقہ مختلف ہوتا ہے۔ حالانکہ وہ ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں۔
صنوان اور غیر صنوان کی تفسیر :
11:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” صنوان وغیر صنوان “ سے اکٹھے اور الگ الگ درخت مراد ہیں۔ (آیت ) ” یسقی بمآء ونفضل بعضھا علی بعض فی الاکل “ یعنی بعض انگور سفید ہوتے ہیں اور بعض سیاہ اور سرخ ہوتے ہیں اور انجیر سفید ہوتی ہے اور پالی ہوتی ہے اور کھجوریں سرخ اور زرد ہوتی ہیں۔
12:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” صنوان “ سے مراد ہے ایک ہی جڑ میں تین کھجور کے درخت جیسے ماں باپ کے تین بیٹے عمل میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح ان تین کھجوروں کے پھل بھی آپس میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ اگرچہ جڑ ایک ہی ہوتی ہے۔
13:۔ ابن جریر (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا اللہ عزوجل نے مثال بیان فرمائی بنوآدم کے دلوں میں آئی کہ زمین رحمن کے ہاتھ میں ایک ہی مٹی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو ہموار کیا ور اس کو پھیلا دیا۔ زمین کے مختلف ٹکڑے بن گئے جو ایک دوسرے کے قریب تھے ان پر آسمان سے پانی برستا ہے پھر وہ زمین اپنی رونق پھل اور درخت نکالتی ہے اور جنت ظاہر کرتی ہے۔ مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے اور اس کے قریب والی زمین بارش کے بعد شور۔ حالانکہ ان دونوں کو ایک ہی پانی پلایا جاتا ہے اگر پانی نمکین ہوتا ہے تو کہا جاتا کہ وہ اس پانی کی وجہ سے شور والی ہوگئی۔ اس طرح لوگ پیدا کئے گئے آدم (علیہ السلام) سے ان پر آسمان سے نصیحت اتاری گئی کچھ دل نرم ہوجاتے ہیں اور خشوع کا خضوع کا اظہار کرے ہیں اور اس کے برعکس کچھ دل سخت ہوجاتے ہیں (اللہ کی یاد سے) غافل ہوجاتے ہیں (اللہ کو) بھول جاتے ہیں حسن ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم ! نہیں ہے بیٹھنے والا قرآن کے ساتھ کوئی بھی مگر اس نے اٹھنے کے وقت زیادتی یا کمی پائی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وننزل من القرآن ما ھو شفآء ورحمۃ للمومنین ولا یزید الظلمین الا خسارا (82) (اسراء آیت 82)
چچا احترام کی باپ کی طرح ہیں :۔
14:۔ عبدالرزاق وابن جریر رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” صنوان “ سے مراد ہے وہ کھجور کہ جس میں دو یا تین کھجوریں کے درخت ہیں اور ان کی جڑ ایک ہے اور فرماتے ہیں کہ مجھے ایک آدمی نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب ؓ اور عباس ؓ کے درمیان ایک جھگڑا ہوا حضرت عباس ؓ نے حضرت عمر بن خطاب ؓ پر زیادتی کی عمر نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا اے اللہ کے نبی ! کیا آپ نے عباس ؓ کو نہیں دیکھا کہ اس نے میرے ساتھ زیادتی کی میں نے ارادہ کیا کہ میں اس کا جواب دوں لیکن پھر مجھے آپ کا رشتہ وتعلق یادآ گیا تو میں رک گیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے گا بیشک آدمی کے چچا اس کے باپ کی طرح ہوتا ہے۔
15:۔ عبدالرزاق وابن جریر رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا عباس کے بارے میں مجھے تکلیف نہ دو کیونکہ وہ میرے آباواجداد کا بقیہ ہے اور آدمی کا چچا اس کے باپ کی طرح ہوتا ہے۔
16:۔ ابن جریر (رح) نے عطا اور ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عمر ؓ سے فرمایا اے عمر ! کیا تو نہیں جانتا کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی طرح ہوتا ہے۔
17:۔ حاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا اور امام ذہبی نے ضعیف کہا ہے وابن مردویہ (رح) نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اے علی ؓ لوگ مختلف درخت سے ہیں اور میں اور تو اے علی ایک ہی درخت سے ہیں۔ پھر نبی کریم ﷺ سے یہ آیتیں تلاوت فرمائی۔ (آیت) ” وجنت من اعناب وزرع ونخیل صنوان وغیر صنوان “۔
18:۔ حاکم (رح) نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت ” ونفضل بعضھا علی بعض “ کو نون کے ساتھ پڑھا۔
19:۔ الترمذی نے اور آپ نے اس کو حسن کہا والبزار وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت آیت ” ونفضل بعضھا علی بعض فی الاکل “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ردی کھجور، فارسی، میٹھے اور ترش پھل ہیں۔
20:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت ” ونفضل بعضھا علی بعض فی الاکل “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ یہ ترش ہے میٹھا ہے اور یہ ردی کھجوریں ہیں اور یہ فارسی ہیں۔۔
21:۔ ابوالشیخ (رح) نے مجاہد ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت ” ونفضل بعضھا علی بعض فی الاکل “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ میٹھا ہے یہ کڑوا ہے اور یہ ترش ہے اسی طرح آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں کہ ان کا باپ ایک ہے اور ان میں سے کافر ہیں اور مومن ہیں۔
Ayah 13:51:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وان تعجب فعجب قولہم “ کے بارے میں فرمایا اے محمد اگر آپ تعجب فرما رہے ہیں ان کے جھٹلانے سے۔ اور وہ دیکھنے والے ہیں اللہ کی قدرت کو اور اس کے حکم کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مثالیں بیان فرمائی اور اس نے ان کو مردوں کو زندہ کرکے دکھایا اور مردہ زمینوں کو آبادکرکے دکھایا آپ تعجب کریں ان کے قول سے (آیت) ” ءاذا کنا ترباء انا لفی خلق جدید “ کی انہوں نے دیکھا کہ ان کی پیدائش ایک نطفہ سے ہوئی جو زیادہ مشکل تھا۔ مٹی اور ہڈیوں سے پیدا کرنے سے۔
3:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان تعجب فعجب قولہم ‘ سے مراد ہے کہ رحمن نے ان کو دوبارہ اٹھائے جانے کو جھٹلانے سے تعجب فرمایا۔
اما قولہ تعالیٰ : واولئک الاغل فی اعناقہم :
4: ابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ دوزخ والوں کی گردنوں میں طوق اس لئے نہیں ڈالے جائیں گے کہ وہ رب سے بھاگ نہ جائیں لیکن پھر (قیامت کے دن) ان کی گردنوں میں طوق اس لئے ڈال دیئے جائیں گے کہ جب ان پر آگ کے شعلے بھڑکیں ہوں گے تو وہ طوق اس کو آگ میں قید رکھیں گے۔
Ayah 13:61:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویستعجلونک بالسیئۃ قبل الحسنہ “ میں ” السیئۃ “ سے مراد عذاب ہے اور الحسنۃ “ سے مراد عافیت ہے (آیت ) ” وقد خلت من قبلہم المثلث “ میں مثلات گزشتہ قوموں کے وہ واقعات ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ ” المثلت “ سے مراد ہے جو عذاب پہلی امتوں کو پہنچا۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقد خلت من قبلہم المثلت “ یعنی مثالیں (گذرچکیں)
4:۔ ابن جریر (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” وقد خلت من قبلہم المثلت “ سے مراد ہے کہ بندر اور سور بنا دینا یہ مثلات ہیں۔
5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان ربک لذو مغفرۃ للناس علی ظلمہم وان ربک لشدید العقاب “ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر نہ ہوتا اللہ تعالیٰ کا معاف کرنا اور اس کا درگزر کرنا تو کسی کے لئے یہاں زندگی نہ ہوتی۔ اور اگر اس کا ڈرانا اور اس کی سزا نہ ہوتی۔ اور اگر اس کا ڈرانا اور اس کی سزا نہ ہوتی تو ہر آدمی (اس کے معاف کردینے پر) بھروسہ کرلیتا۔
Ayah 13:71:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یقول الذین کفروا لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ “ یہ قول ہے عرب کے مشرکوں (آیت) ” انما انت منذر ولکل قوم ھاد “ یعنی ہر قوم کے لئے ایک بلانے والا ہوتا ہے جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے۔
ہرقوم کے لئے ہادی ہونا :
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم ابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولکل قوم ھاد “ یعنی پلانے والا۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما انت منذر ولکل قوم ھاد “ میں منذر سے مراد محمد ﷺ اور (آیت) ” ولکل قوم ھاد “ یعنی ” ھاد “ سے مراد ہے وہ نبی جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے۔
4:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما انت منذر ولکل قوم ھاد “ سے مراد ہے محمد ﷺ ڈرانے والے ہیں اور ہدایت دینے والے ہیں اللہ عزوجل ہیں۔
5:۔ ابن جریر وابن منذر وان مردویہ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما انت منذر ولکل قوم ھاد “ میں ” المنذر “ سے محمد ﷺ مراد ہیں اور اللہ عزوجل ہدایت دینے والے ہیں ہر قوم کو اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ڈرانے والے ہیں اور وہی ہدایت دینے والے ہیں۔
6:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ اور ابوالضحی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما انت منذر ولکل قوم ھاد “ سے مراد کہ ہے محمد ﷺ وہی ڈرانے والے ہیں اور وہی ہدایت کرنے والے ہیں۔
7:۔ ابن جریر وابن مردویہ وابوانعیم نے المعرفہ میں والدیلمی وابن عساکر وابن ابخار رحمہم اللہ نے دیلمی ابن عساکر اور ابن نجار رحمہم اللہ تینوں حضرات سے روایت کیا کہ جب یہ آیت (آیت) ” انما انت منذر ولکل قوم ھاد “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ کو اپنے سینے مبارک پر رکھا اور فرمایا میں ڈرانے والا ہوں۔ اور اپنے ہاتھ سے علی ؓ کے کندھے کی طرف اشارہ کرنے ہوئے فرمایا تو ہدایت کرنے والا ہے اے علی میرے بعد تجھ ہی سے ہدایت پانے والے ہیں ہدایت پائیں گے۔
8:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوبرزہ سلمی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (آیت) ” انما انت منذر “ اور آپ نے اپنے ہاتھ مبارک کو اپنے سینے پر رکھا پر پھر اس کو علی کے سینے پر رکھا اور فرمایا کہ ہر قوم کے لئے آپ ہدایت کرنے والے ہیں۔
9:۔ ابن مردویہ (رح) والضیاء نے المختارۃ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ڈرانے والا میں ہوں اور ہدایت کرنے والا علی بن ابی طالب ؓ ہیں۔
10ـ:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد المسند میں وابن ابی حاتم والطبرنی نے الاوسط میں والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ وابن عساکر رحمہم اللہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” انما انت منذر ولکل قوم ھاد “ کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ڈرانے والے ہیں اور میں ہدایت کرنے والا ہوں اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ ہدایت کرنے والا ہو ہاشم میں سے ایک آدمی ہے یعنی اپنی ہی ذات کے بارے میں فرمایا۔
Ayah 13:81:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اللہ یعلم ما تحمل کل انثی “ یعنی وہ جانتا ہے (ماں کے پیٹ میں) لڑکا یا لڑکی ہے۔ (آیت) ” وما تغیض الارحام “ یعنی وہ عورت جو خون کی دیکھتی ہے اپنے حمل میں۔
2:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما تغیض الارحام “ یعنی خون کا نکلنا (آیت) ” وما تزداد “ یعنی اس کا روکنا۔
ماں کے پیٹ میں بچے کے احوال سے اللہ واقف ہیں :
3:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما تغیض الارحام “ یعنی عورت کا حمل کے دوران خون دیکھنا (آیت ) ” وما تزداد “ یعنی نوماہ میں۔
4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما تغیض الارحام وما تزداد “ یعنی یا زیادہ ہوجائے اور جو نو سے کم ہوجائے۔ ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ مجھے میری ماں نے مجھے اپنے پیٹ میں دو سال تک اٹھائے رکھا۔ مجھے جنم دیا تو میرے آگے کے دانت نکلے ہوئے تھے۔
5:۔ ابن منذر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اللہ یعلم ما تحمل کل انثی وما تغیض الارحام “ سے مراد ہے ادھورا بچہ گرنا (آیت) ” وما تزداد “ یعنی کمی پر حمل کی اتنی زیادتی ہے کہ وہ اسے مکمل بچہ جنم دیں گے اور یہ اس وجہ سے عورتوں میں سے بعض وہ ہیں جو دس ماہ حمل اٹھائے رکھتی ہیں۔ اور ان میں سے وہ ہیں جو نو ماہ حمل اٹھائے رکھتی ہیں اور بعض مدت حمل سے زائد اٹھائے رکھتی ہیں اور بعض کم مدت اٹھائے رکھتی ہیں اور یہ کم ہونا اور زیادہ ہونا جس کو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا اور یہ سب کچھ اس کے علم کے ساتھ ہے۔ (کہ اللہ تعالیٰ ان ساری کیفیات کو جانتے ہیں)
7:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جو نوماہ سے کم ہو وہ حیض ہے اور اس سے اوپر ہو وہ زیادہ ہے۔
حمل ماں کے پیٹ میں دو سال سے زیادہ نہیں رہ سکتا :
8:۔ ابن جریر (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ دو سال سے زیادہ حمل اتی مقدار بھی نہیں رہتا جتنی مقدار میں چرخہ کا چکر گھومتا ہے۔
9:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ جو رحم کم کردے خون کو ایک دن مگر وہ زیادہ کردیتا ہے حمل میں ایک دن یہاں تک کہ پورے ہوجاتے ہیں نوماہ پاکی کی حالت میں۔
10:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما تغیض الارحام “ یعنی بچہ کا ادھورا کرنا۔
11:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا جب عورت حمل کے دوران خون دیکھے تو بچہ سست اور کمزور ہوتا ہے اور جب خون کو نہ دیکھے تو بڑا ہوتا ہے۔
12:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ ماں کے پیٹ میں بچہ نہ طلب کرتا ہے نہ رنج کرتا نہ غم کرتا ہے اس کا رزق آتا ہے اس کی ماں کے پیٹ میں سے اس کے حیض کے خون سے اس لئے حمل والی کو حیض نہیں آتا اور جب بچہ زمین پر واقع ہوتا ہے تو رونے لگتا ہے اور اس کا رونا نئے مکان کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب اس کی ناف کاٹ دی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ پھیر دیتے ہیں اس کا رزق اس کی ماں کی چھاتی میں۔ یہاں تک کہ وہ اس وقت بھی نہ طلب کرتا ہے نہ غم کرتا ہے نہ رنج کرتا ہے پھر بچہ بن جاتا ہے۔ تو ہاتھ میں کسی چیز کو پکڑ کر کھاتا ہے۔ جب بالغ ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ میرا رزق کہاں سے ہے اے افسوس ہے تجھ پر اس نے تجھے غذا دی۔ تیری ماں کے پیٹ میں جب چھوٹا بچہ تھا۔ یہاں تک کہ جوان ہوگیا۔ اور عقل مند ہوگیا تو تو نے کہا میرے لئے رزق کہاں ہے ؟ پھر مکحول نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” یعلم ما تحمل کل انثی “ الآیہ۔
13:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکل شیء عندہ بمقدار “ یعنی ہر چیز کے لئے ایک مدت ہے وہ رزاق ہے حفاظت کی اپنی مخلوق کی اور ان کی مدتوں کی وجہ سے اس نے ایک معلوم مدت مقرر فرمائی۔
Ayahs 13:9–101:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” علم الغیب والشھادۃ “ سے مراد ہے کہ چھپے ہوئے اور علانیہ۔
2:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وبوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” سوآء منکم من اسر القول ومن جھر بہ “ یعنی بلند آواز سے بات کرنے والا اور آہستہ بات کرنے والا ان کے نزدیک برابر ہے۔ (آیت) ” ومن ھو مستخف بالیل “ رات کو چھپ کر گناہ کرنے والا (آیت) ” وسارب بالنھار “ دن کو ظاہر میں گناہ کرنے کے برابر ہیں۔
3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” سوآء منکم من اسر القول ومن جھر بہ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب (صورتیں) برابر ہیں آہستہ اعلانیہ اندھیرا اور روشنی “۔
4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا وہ جانتا ہے آہستہ بات میں جو علانیہ میں سے بھی جانتا ہے وہ علانیہ میں بھی جانتا ہے جو آہستہ میں سے جانتا ہے اور وہ جانتا ہے رات میں سے (جیسے) وہ جانتا ہے دن میں سے وہ جانتا ہے (دن میں سے) جیسے وہ جانتا ہے رات میں سے۔
5:۔ ابوعبید وابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وسارب بالنھار “ یعنی ظاہر ہیں۔
6:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن ھو مستخف بالیل وسارب بالنھار “ سے مراد ہے شک کرنے والا آدمی (آیت) ” ومن ھو مستخف بالیل “ اور جب وہ دن کو نکلتا ہے تو لوگوں کو دیکھتا ہے کہ وہ بری ہے گناہ سے۔
Ayah 13:11محافظ فرشتوں کا ذکر :
1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم والطبرانی نے الکبیر میں وابن مردویہ ابونعیم نے دلائل میں عطاء بن یسار کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اربد بن قیس اور عامر بن طفیل رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ منورہ آئے آپ کے پاس پہنچے تو آپ بیٹھے ہوئے تھے دونوں آپ کے سامنے بیٹھ گئے عامر نے کہا اگر میں مسلمان ہوجاوں تو سب میرے لئے کیا کریں گے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا تیرے لئے وہی حقوق و فرائض ہوں گے جو دوسرے مسلمانوں کے حقوق و فرائض ہوں گے اور تیرے اوپر وہی سزا ہوگی۔ جو ان کے لئے ہیں۔ عامر نے کہا اپنے بعدخلافت کا حق میرے لئے مختص کریں گے۔ اگر میں اسلام قبول کرلوں یہ خلافت کا معاملہ نہ تیرے لئے اور نہ تیری قوم کے لئے لیکن گھوڑوں کی لگام میں تم کو سپرد کردوں گا کہنے لگے میرے لئے خیمے اور اپنے لئے مٹی کے گھر بنا دے نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں۔ جب وہ کھڑا ہوگیا آپ کے پاس سے تو کہا میں تم پر گھوڑوں اور پیدل فوج کے ذریعے حملہ کردوں گا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تجھ کو روک دیں گے جب اربد اور عامر باہر نکلے عامر نے کہا اے اربد میں باتوں میں محمد ﷺ کو تجھ سے غافل کردوں گا تو ان پر تلوار سے وار کردینا۔ جب تو محمد ﷺ کو قتل کردے گا تو لوگ دیت سے کچھ زیادہ مطالبہ نہ کریں۔ اور وہ لوگ ناپسند کریں گے لڑائی کو اور ہم عنقریب ان کو دیت ادا کردیں گے۔ اربد نے کہا میں ایسا کروں گا دونوں ( یہ پروگرام بنا کر) واپس آئے عامر نے کہا اے محمد ! میرے ساتھ اٹھ کر آئیں میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں آپ ﷺ اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور دونوں ایک دیوار کی طرف علیحدہ ہوگئے آپ کے ساتھ عامر کھڑا ہوگیا۔ جو ان سے بات کررہا تھا اربد نے تلوار سونتی جب اس نے اپنے ہاتھ کو اپنی تلوار پر پر رکھا تو اس کا ہاتھ خشک ہوگیا تلوار کے دستہ پر تو وہ اپنی تلوار کو نہ لہرا سکا۔ اربد نے دیر لگا دی تلوار مارنے میں عامر نے کہا اربد سے تجھے کیا ہوا تو نے وار نہیں کیا اس نے کہا میں نے اپنے ہاتھ کو تلوار کا دستہ پر رکھا تو وہ خشک ہوگیا جب عامر اور اربد دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے چلے گئے۔ یہاں تک دونوں بحرہ کے مقام پر اترے تھے انکی طرف سعید بن معاذ اور اسید بن حضیر آئے اور کہا اے اللہ کے دشمن دفع ہوجاؤ۔ تم دونوں پر اللہ کی لعنت ہو اور حضرت سعد ؓ نے ان دونوں کو مارا عامر نے کہا اے سعید یہ کون ہے (تیرے ساتھ) سعد نے فرمایا یہ اسید بن حضیر الاکتائب ہے۔ عامر نے کہا اللہ کی قسم کہ حضیر میرا دوست تھا یہاں تک کہ جب یہ دونوں رقم (کے مقام) پر تھے تو اللہ تعالیٰ نے اربد پر بجلی بھیجی اور اس کو مار ڈالا۔ اور عامر نکلا یہاں تک کہ وہ (مقام) خریب پر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر ایک زخم لگایا تو اس کی وجہ سے وہ مرگیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں (آیت) ” اللہ یعلم ما تحمل کل انثی “ سے لے کر ” لہ معقبت من بین یدیہ “ تک فرمایا (یکے بعد دیگرے آنے والے فرشتے) اللہ کے حکم سے اور وہ حفاظت کرتے ہیں۔ محمد ﷺ کی پھر اس کے قتل ہونے کا ذکر کیا۔ اور فرمایا (آیت) ھوالذی یریکم البرق “ سے لے کر ” وھو شدید المحال “ تک۔
2:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ( یہ آیت) ” لہ معقبت من بین یدیہ ومن خلفہ یحفظونہ “ (کا ارشاد) نبی کریم ﷺ کے لئے خاص ہے۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ( آیت) ” یحفظونہ من امر اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ فرشتے انسان کی حفاظت کرتے ہیں ان کے آگے سے ان کے پیچھے سے۔
4:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) یحفظونہ من امر اللہ “ سے مراد ہے یہ حفاظت اللہ کے حکم سے اور اللہ کے حکم کے ساتھ ہوتی ہے۔
5:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہ معقبت “ سے مراد ہیں فرشتے (اور) (آیت ) ” یحفظونہ من امر اللہ “ یعنی اللہ کی اجازت سے۔
6:۔ ابن جریر (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہ معقبت “ سے فرشتے مراد ہیں۔
7:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہ معقبت “ سے مراد فرشتے ہیں (جو حفاظت کرتے ہیں) اللہ کے حکم۔
8:۔ ابن جریر (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہ معقبت “ سے مراد ہے فرشتے (آیت) ” یحفظونہ من امر اللہ “ یعنی ان کی خاص طور پر حفاظت کرتے ہیں اللہ کے حکم سے۔
9:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یحفظونہ من امر اللہ “ یعنی اللہ کے حکم سے اور بعض قرأۃ میں یوں ہے۔ (آیت ) ” یحفظونہ من امر اللہ “
10:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہ معقبت “ الا یہ یعنی بادشاہ کے محافظ جو اس پر چوکیداری کرنے والے ہوتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں اس کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ ان کی حفاظت کرتے ہیں میرے حکم سے بلاشبہ میں جب ارادہ کرتا ہوں کسی قوم کو تکلیف پہنچانے کا تو اسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔
11:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہ معقبت “ الآیہ سے مراد ہے کہ بادشاہ اپنے محافظ بناتے ہیں جو ان کی حفاظت کرتے ہیں اس کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے اور اس کے دائیں سے اور اس کے بائیں سے اس کی حفاظت کرتے ہیں قتل سے۔ کہا تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا۔ (آیت) ” واذا اراد اللہ بقوم سوءا “ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کی حفاظت کرنے والے اسے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچاتے۔
12:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہ معقبت “ اس سے مراد امراء ہیں (کے آگے پیچھے حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں۔
ہر انسان کی حفاظت کے لئے فرشتے مقرر ہیں۔
13:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہ معقبت “ سے مراد وہ فرشتے ہیں جو رات اور دن میں انسان کے پیچھے آتے ہیں اور آدم کی اولاد (کے اعمال نامے) لکھتے ہیں۔
14:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہ معقبت “ سے مراد ہے حفاظت کرنے والے فرشتے۔
15:۔ ابن منذر (رح) نے ایک دوسری سند سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لہ معقبت “ کے بارے میں فرمایا کہ فرشتے رات اور دن انسان کے پیچھے رہتے ہیں اور ابن آدم کے اعمال نامے لکھتے ہیں اور مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ فرشتے تم میں عصر کی نماز کے وقت جمع ہوتے ہیں ان کے آگے سے اسی طرح یہ قول بھی ہے (آیت ) ” عن الیمین وعن الشمال “ (ق آیت 17) یعنی نیکیاں ان کے آگے سے اور برائیاں ان کے پیچھے سے لکھتے ہیں جو اس کے داہنی طرف ہوتا ہے۔ وہ نیکیاں لکھتا ہے اور جو اس کے بائیں طرف ہوتا ہے وہ نہیں لکھتا مگر اس فرشتے کی گواہی کے ساتھ جو اس کے دائیں طرف ہے جب وہ چلتا ہے تو ان میں سے ایک اس کے آگے ہوتا اور دوسرا اس کے پیچھے ہوتا ہے۔ جب وہ بیٹھتا ہے تو ان میں ایک اس کے داہنی طرف اور دوسرا بائیں طرف ہوتا ہے اگر وہ سوجائے تو ان میں سے ایک اس کے سر کے قریب ہوتا ہے اور دوسرا اس کے پاوں کے پاس ہوتا ہے (آیت ) ” یحفظونہ من امر اللہ “ یعنی وہ اللہ کے حکم سے حفاظت کرتے ہیں اس کی۔ س
16:۔ ابوالشیخ (رح) نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہ معقبت “ یعنی وہ کراما کاتبین فرشتے ہیں جو حفاظت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کی اور وہ اس کا حکم دیئے گئے ہیں۔
17:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یحفظونہ من امر اللہ “ یعنی جنات میں سے کچھ جن اللہ کے حکم سے انسان کی حفاظت کرتے ہیں۔
18۔ عبدالرزاق والفریابی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہ معقبت “ یعنی فرشتے جو اس کی حفاظت کرتے ہیں اس کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے جب وہ قضائے حاجت کے لئے جاتا ہے تو اس سے جدا ہوجاتے ہیں۔
فرشتے ہر شر سے حفاظت کرتے ہیں۔
19:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کوئی ایسا بندہ نہیں ہے کہ اس پر فرشتہ مقرر نہ ہو جو اس کی حفاظت کرتا ہے اس کی نیند میں اور اس کی حفاظت کرتا ہے جنہوں نے انسان اور کپڑوں سے جو چیز بھی انسان کو تکلیف پہنچانے کے لئے آتی ہے وہ فرشتہ اسے پیچھے کردیتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ جب تکلیف پہنچانے کا ارادہ فرماتے ہیں تو وہ چیز اللہ کے حکم سے (اس کو) پہنچ جاتی ہے۔
20:۔ ابن جریر (رح) نے کعب بن احبار (رح) سے روایت کیا کہ اگر ابن آدم کے لئے ظاہر ہوجائے ہر نرمی اور سختی تو دیکھے گا ہر چیز پر اس میں سے شیاطین کو اگر اللہ تعالیٰ مقرر نہ فرمائے تمہارا ساتھ فرشتوں کو جو تمہاری حفاظت کرتے ہیں تمہارے کھانے کی تمہارے پینے کی اور تمہاری شرمگاہوں کی جب تو وہ تم اچک کرلے جاتے۔
21:۔ ابن جریر (رح) نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ مراد قبیلہ میں سے ایک آدمی علی کے پاس آیا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے اس نے کہا اپنی حفاظت کے لئے مراد قبیلہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ کو قتل کا ارادہ کیا آپ نے فرمایا ہر آدمی کے ساتھ دو فرشتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں ان مصیبتوں سے جب تک تقدیر کا فیصلہ نہیں آتا۔ جب تقدیر کا فیصلہ آجاتا ہے تو اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ اور بلاشبہ موت مضبوط ڈھال ہے۔
22:۔ اب جریر (رح) نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ کوئی آدمی ایسا نہیں ہے کہ اس کے ساتھ فرشتہ نہ ہو جو اس کی (تکلیف دینے والی چیزوں) کو ہٹا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کی تقدیر الہی کے فیصلہ کے حوالے کردیتا ہے۔
23:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ کوئی بندہ ایسا نہیں ہے مگر اس دل کی حفاظت کے لئے آگے پیچھے آنے والے فرشتے ہوتے ہیں۔ دو فرشتے اس کے ساتھ دن میں ہوتے ہیں جب رات آتی ہے وہ اوپر چڑھ جاتے ہیں اور ان کے پیچھے دو اور فرشتے آتے ہیں اور یہ دو فرشتے اس کے ساتھ رات کو رہتے ہیں یہاں تک کہ صبح ہوجاتی ہے۔ وہ فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں اس کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے اور اس کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی جو اس کی تقدیر میں نہ لکھی ہو۔ جب بھی اس پر کوئی چیز حملہ آور ہوتی ہے تو وہ دونوں فرشتے اس کو دور کردیتے ہیں کیا تو اس کو نہیں دیکھتا کہ ایک آدمی دیوار کے پاس سے گزرتا ہے جب وہ اس سے گزر جاتا ہے تو وہ دیوار گر پڑتی ہے ؟ جب لکھا ہوا تقدیر کا وقت آجاتا ہے تو وہ درمیان سے ہٹ جاتے ہیں (آیت) وھم من امر اللہ “ یعنی یہ اللہ کے حکم سے اور (اللہ تعالیٰ نے) ان کو حکم فرمایا ہے کہ وہ اسکی حفاظت کریں۔
24:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ابی بن کعب کی قراءۃ میں یوں ہے (آیت) ” لہ معقبت من بین یدیہ ورقیب من خلفہ یحفظون من امر اللہ “
25:۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ پڑھتے تھے (آیت) ” لہ معقبت من بین یدیہ ورقیب من خلفہ یحفظون “
26:۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے جار ودبن ابی سبرہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس کو سنا کہ میں (اس طرح) پڑھتا ہوں (آیت) ” لہ معقبا تمن بین یدیہ ورقیب من خلفہ “ پھر فرمایا وہاں ایسا نہیں ہے لیکن یوں ہے ” لہ معقبا تمن بین یدیہ ورقیب من خلفہ “
27:۔ ابن منذر وابوالشیخ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہ معقبت من بین یدیہ ورقیب من خلفہ یحفظون من امر اللہ “ سے مراد ہے کہ نہیں ہے کوئی بندہ مگر اس کے سات فرشتے ہوتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں کہ اس پر کوئی دیوار واقع نہ ہوجائے یا کسی کنویں میں نہ گرپڑے یا اس کو کوئی درندہ نہ کھائے۔ یا غرق نہ ہوجائے (آگ میں) جل جائے (پھر) جب تقدیر آتی ہے۔ تو فرشتے تقدیر الہی کے سامنے سے ہٹ جاتے ہیں (یعنی فرشتے درمیان سے ہٹ جاتے ہیں اور تقدیر کا لکھا ہوا غالب آجاتا ہے۔ )
28:۔ ابن ابی الدنیا نے مکائد الشیطان میں والطبرانی والصابونی نے المانتین میں ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کے ساتھ تین سو ساٹھ فرشتے مقرر کئے جاتے ہیں۔ جو اس کا دفاع کرتے ہیں جب تک اس پر تقدیر کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ آنکھ کے لئے سات فرشتے ہوتے ہیں جو اس سے (تکلیف دینے والی چیز کو ہٹاتے ہیں جیسے شہد کے پیالے سے مکھیوں کو ہٹایا جاتا ہے گرمی کے دن میں اور اگر ظاہر کردیا جائے تمہارے لئے البتہ تم اس کو دیکھو گے ہر نرم زمین پر پہاڑ پر ان میں سے ہر ایک اپنے ہاتھوں کو پھیلانے والا ہے اور وہ داخل ہوجائیں اس کے رہنے کی جگہوں میں اور اگر بندہ کو آنکھ جھپکنے کی دیر بھی حفاظت پر چھوڑ دیا جائے تو اس کو شیاطین اچک لیں۔
29:۔ ابوداود (رح) نے القدر میں وابن ابی الدنیا وابن عساکر نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ بندے کے لئے حفاظت کرنے والے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں اس پر کوئی دیوار نہ گرپڑے یا کسی کنویں میں نہ گرپڑے یا اس کو کوئی جانور نہ پہنچ (یعنی کوئی موذی چیز نہ ڈس لے) یہاں تک کہ جب تقدیر آتی ہے جو اس کے لئے مقدر کی گئی تھی تو حفاظت کرنے والے اس کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس کو پہنچ جاتی ہے۔ (وہ تکلیف) جو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ اس کو پہنچے۔ اور ابوداود کے الفاظ یوں ہیں کہ لوگوں میں سے کوئی بھی ایک ایسا نہیں ہے کہ اس کے لئے کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو چیز اس کو تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرتی ہے۔ تو وہ فرشتے اس سے کہتے ہیں اس سے بچ جا اس سے بچ جا جب تقدیر آتی ہے تو وہ فرشتہ اس کو چھوڑ دیتا ہے۔
محافظ فرشتوں کی تعداد :
30:۔ ابن جریر نے کنانہ عدوی (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے بتائیے کہ انسان کے ساتھ کتنے فرشتے ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ایک فرشتہ اس کے داہنی طرف اس کی نیکیوں (کے لکھنے) پر مقرر ہوتا ہے اور وہ امین ہوتا ہے۔ بائیں جانب والے پر جب کوئی نیک کام کرتا ہے تو اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جب وہ کوئی برا کام کرتا ہے تو بائیں جانب والا دائیں جانب والے کو کہتا ہے کیا میں یہ برائی لکھ لوں ؟ وہ کہتا ہے نہیں شاید کہ وہ توبہ اور استغفار کرلے جب وہ تین مرتبہ پوچھتا ہے تو وہ اس جانب والا کہہ دیتا ہے کہ اس کو لکھ لو اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس سے آرام پہنچائے برا ساتھی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے اس کا ڈرنا کتنا کم ہے۔ تو اس سے حیا کرنا کتنا برا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” مایلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید (18) (ق آیت 18) اور وہ فرشتے ہیں تیرے آگے اور تیرے پیچھے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” لہ معقبت من بین یدیہ ورقیب من خلفہ یحفظونہ من امر اللہ “ ایک فرشتے پکڑے ہوئے ہوتا ہے تیری پیشانی سے جب تو تواضع اختیار کرتا ہے اللہ کے لئے تو وہ تجھ کو بلند کردیتا ہے۔ اور جب تو بڑائی کا اظہار کرتا ہے اللہ پر تو وہ تجھ کو گرا دیتا ہے۔ اور تیرے ہونٹوں پر دو فرشتے ہیں وہ تیرے نبی کریم ﷺ پر دورد بھجنے کو محفوظ کرتے ہیں اور ایک فرشتہ تیرے منہ پر مقرر ہے۔ وہ سانپ کو تیرے منہ میں داخل ہونے کی حفاظت کرتا ہے اور دو فرشتے تیرے آنکھوں پر مقرر ہیں اور یہ دس فرشتے ہر بنی آدم پر مقرر ہیں نازل ہوتے ہیں رات کے فرشتے دن کے فرشتوں پر اس لئے کہ رات کے فرشتے دن کے فرشتوں کے علاوہ ہیں اور یہ بیس فرشتے ہر آدمی پر (مقرر) ہیں اور ابلیس ان کو اور اس کی اولاد (رات کو) ہوتی ہے۔
31:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان اللہ لایغیر ما بقوم حتی یغیرو ما بانفسہم “ سے مراد ہے کہ (اللہ تعالیٰ ) اپنے بندوں پر کی گئی ان نعمتوں کو نہیں بدلتے یہاں تک کہ وہ گناہ نہ کریں۔ (جب وہ گناہ کرتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ ان سے نعمتوں کو اٹھا لیتے ہیں۔
32:۔ ابن ابی شیبہ نے کتاب العرش میں وابوالشیخ وابن مردویہ (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میری عزت میرے جلال اور میرے عرش کے بلند ہونے کی قم ! نہیں ہے کوئی بستی والے اور نہ گھر والے اور نہ کوئی دیہات میں رہنے والے جو میری نافرمانی کرتے ہیں میری اطاعت کرتے ہیں وہ میری اطاعت کرنے لگ جاتے ہیں جو مجھے محبوب ہے تو میں بدل دیتا ہوں ان کے عذاب کو اپنی رحمت سے جو ان کو محبوب ہے اور نہیں کوئی گھر والوں میں سے بستی والوں میں سے اور دیہات کے رہنے والوں میں سے جو میری اطاعت کرتے ہیں۔ جس کو میں محبوب رکھتا ہوں پھر وہ میری نافرمانی کرنے لگتے ہیں جو مجھے ناپسند ہے تو میں ان کو اپنی محبوب رحمت کی بجائے عذاب میں مبتلا کردیتا ہوں جو ان کو ناپسند ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کا واقعہ :
33:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ عامر بن الطفیل اور اربد بن ربیعہ رسول اللہ ﷺ کے پاسآگئے عامر نے کہا آپ سے مجھے آپ کیا دیں گے اگر میں آپ کی اتباع کروں فرمایا تو شہسوار ہے۔ میں تجھے گھوڑے کی لگامیں دوں گا۔ اس نے کہا صرف (یہی چیز دیں گے) آپ نے فرمایا تو کیا چاہتا ہے ؟ اس نے کہا میرے لئے مشرق ہو اور آپ کے لئے مغرب ہو اور میرے لئے خیمے اور آپ کے لئے مٹی کا گھر ہو۔ آپ نے فرمایا نہیں (ایسا کبھی نہ ہوگا) اس نے کہا میں آپ پر چڑھائی کروں گا۔ گھوڑوں اور پیدل فوج کے ساتھ۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تجھ سے محفوظ رکھے یہ دونوں آئے ایک قبیلہ کے پاس جس کو اوس اور خزرج سے پکارا جاتا ہے وہ دونوں باہر نکلے عامر نے ان سے کہا اگر ہمارے لئے اس شخص کو قتل کرنا ممکن ہو تو ہم سے بدلہ لیا جائے۔ اور وہ لوگ البتہ اس بات پر راضی ہوں گے کہ ہم ان کو دیت اد اکریں۔ اور وہ صلح کرنے کو محبوب رکھیں گے اور لڑائی کو ناپسند کریں گے جب وہ دیکھیں گے اس کام کو جو واقع ہوچکا دوسرے نے کہا اگر تو چاہے تو ایسا کرے دونوں نے پھر مشورہ کیا۔ ایک نے کہا میں (محمد ﷺ کو) باتوں میں لگالوں گا اور تم تلوار سے ان کے پیچھے سے آکر ایک دم حملہ کردینا۔ دونوں نے اس طرح کہا۔ ایک نبی کریم ﷺ کے پیچھے چلا گیا اور دوسرے نے (سامنے آکر) کہا مجھ کو اپنا قصہ بیان کیجئے۔ آپ کیا کہتے ہیں آپ نے فرمایا میں تم کو اپنا پیغام سنا دیتا ہوں وہ آہستہ آہستہ آپ سے باتیں کرتا رہا۔ جب دوسرے نے وار نہ کیا۔ پیچھے سے، تو اس نے (اپنے ساتھی سے) کہا تجھے کیا ہوا تو کیوں رکا ہوا ہے تو کیوں رکا ہوا ہے۔ اس نے کہا میں نے اپنے ہاتھ تلوار کے دستے پر رکھا تو وہ سوکھ گیا میں نے اپنے کام کی طاقت نہ رکھی۔ میں اپنے ہاتھ کو حرکت دیتا رہا مگر ہو حرکت نہ کرسکا وہ دونوں (وہاں سے ناکام ہوکر) نکلے۔ جب یہ دونوں حرہ (کے مقام) پر تھے۔ انہوں نے سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر کی آواز سنی دونوں حضرات ان کی طرف گئے۔ اپنے ہتھیار اور نیزوں کو اٹھا کر اور اسید اپنی تلوار کو (گلے میں) لٹکائے ہوئے تھے اسید ؓ نے عامر بن طفیل سے کہا اے کانے خبیث ! تو نے رسول اللہ ﷺ پر شرط لگائی تھی اگر تو رسول اللہ ﷺ کی طرف سے امان میں نہ ہوتا۔ تو میں اسی جگہ تیری گردن اڑا دیتا۔ اس نے کہا تو کون ہے ؟ انہوں نے کہا اسید بن حضیر ہے عامر نے کہا اگر اس کا باپ زندہ ہوتا تو یہ میرے ساتھ ایسا نہ کرتا پھر عامر نے اربد سے کہا اے اربد تو یہاں سے ؟ کی طرف چلا جا اور میں نکلتا ہوں محمد ﷺ کی طرف میں لوگوں کو اکٹھا کروں گا تاکہ ان کے ساتھ جنگ کریں۔ اربد نکلا یہاں تک یہ وہ رقم (کے مقام) پر تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر ایسی کڑک بھیجی جس نے اس کو جلا کر خاکسر کردیا۔ اور عامر نکلا یہاں تک کہ وہ وادی خرید میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر طاعون کو بھیج دیا اس نے چیخنا شروع کا اے عامر کے گھروالوں یہ پھوڑا ہے اونٹ کے پھوڑے کی طرح جو مجھے قتل کردے گا۔ اور موت بھی سلولیہ کے گھر میں آرہی ہے اور یہ قیس قبیلہ میں سے ایک عورت تھی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔ (آیت) ” سوآء منکم من اسرالقول ومن جھربہ “ سے لے کر (آیت) ” لہ معقبت من بین یدیہ ومن خلفہ یحفظونہ من امر اللہ “ سے مراد ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے آگے پیچھے فرشتے ہوتے ہیں کہ حفاظت کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے (آیت ) ” ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسہم “ یہاں تک کہ (اس آیت پر) پہنچے (آیت) ” وما دعآء الکفرین الا فی ضلل (14) اور بعید نے کہا اپنے بھائی کے بارے میں اور وہ اس کو رورہا تھا۔
اخشی علی اربد الختوف ولا ارھب نوی السماء ولا سہ
ترجمہ : میں اربد کے لئے موت سے ڈرتا ہوں جبکہ میں آسمان کے ستارے اور شیر سے بھی نہیں ڈرتا تھا۔
فجعتنی الرعد والصواعق بالفارس یوم الکریھۃ النجد
ترجمہ : بجلی کی کڑک اور چمک نے مجھے دکھ پہنچایا یا اس شہسوار کی موت کے ساتھ نجد کے ناپسندیدہ دن۔
34:۔ ابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیرو ما بانفسہم “ سے مراد ہے کہ تنگی لوگوں کی طرف سے ہوتی ہے جبکہ آسانی اللہ تعالیٰ سے ہوتی ہے اور اپنی بداعمالیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو نہ بدلو۔
35:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ایک نبی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی قوم سے کہو کہ کوئی دیہات والے گھر والے اللہ کی اطاعت کو چھوڑ کر اللہ کی معصیت کو اختیار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی ان کی محبوب چیزوں کو ان چیزوں سے بدل دیں گے جن کو وہ ناپسند کرتے ہیں پھر فرمایا کہ اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے۔ (یعنی آیت ” ان اللہ لا یغیرما بقوم حتی یغیرو ما بانفسہم “
گناہوں سے ڈرانا :
36:۔ ابوالشیخ (رح) نے سعید بن ابی ہلال (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) میں سے ایک نبی نے اپنی قوم سے فرمایا جب وہ گناہوں میں جلدی کرنے لگے میرے پاس ہوجاؤ میں تم کو اپنے رب کا پیغام ضرور پہنچاوں گا۔ وہ لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے۔ اور پیغمبر کے ہاتھ میں ایک ٹھکیری تھی۔ انہوں نے فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ تم کو فرماتے ہیں کہ تم نے گناہ کئے جو آسمان تک پہنچ چکے ہیں۔ اور تم اس سے توبہ نہیں کرتے اور نہ تم اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہو مگر میں تم کو اس طرح لوٹا دوں گا۔ جیسے یہ ٹھیکری توڑی جاتی ہے۔ پھر اس نبی نے ٹھیکری کو پھینکا تو وہ ٹوٹ کر ٹکڑے ہوگئی پھر فرمایا کہ میں تم کو ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا یہاں تک کہ تم سے نفع نہیں اٹھایا جائے گا، پھر تم پر ایسا شخص مسلط کروں گا جس کا کوئی حصہ نہ ہوگا پھر تم سے میرے لئے انتقام لے گا۔ پھر میں اپنے لئے خود انتقام لوں گا۔
37:۔ ابوالشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ جھگڑنا بھی ایک سزا ہے۔ تم استقبال نہ کرو اللہ کی سزا کا تلوار کے ساتھ لیکن تم اس کا استقبال کرو توبہ کے ساتھ آہ زاری کے ساتھ اور اس کی تابعداری کے ساتھ۔
38:۔ ابوالشیخ (رح) نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ جب بھی تم کوئی گناہ کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے پیدا فرما دیتے ہیں اپنی قدرت سے سزا کو۔
بادشاہوں کے قلوب اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں۔
39:۔ ابوالشیخ (رح) نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے بعض کتابوں کو پڑھا کہ بلاشبہ میں اللہ ہوں بادشاہوں کا بادشاہ ہوں۔ بادشاہوں کے دل میرے ہاتھوں میں ہے۔ پس اپنے دلوں کو مشغول نہ کرو بادشاہوں کے سبب سے اور مجھ سے مانگو۔ میں تم پر ان سے زیادہ مہربان ہوں۔
40:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” ومالھم من دونہ من وال “ کے بارے میں فرمایا کہ وہی ذات ہے کہ وہ ان کو دوست بناتا ہے اور ان کی مدد کرتا ہے اور وہ انکو اپنی طرف پناہ دیتا ہے۔