13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 13:1–2

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

ا۔ ل۔ م۔ رٰ یہ آیتیں ہیں اس عظیم الشان کتاب کی اور (یہ ایک حقیقت ہے کہ) جو کچھ اتارا گیا آپ کی طرف (اے پیغمبر) آپ کے رب کی جانب سے وہ سراسر حق ہے لیکن اکثر لوگ (پھر بھی) ایمان نہیں لاتے۔1

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے اٹھایا ان (وسیع و عریض) آسمانوں کو بغیر ایسے ستونوں کے جن کو تم لوگ دیکھ سکو،1 پھر وہ (اپنی اس کائنات پر حکمرانی کے لئے) جلوہ فرما ہوا عرش پر، اور اس نے (اپنی بےپایاں قدرت اور لا محدود رحمت و عنایت سے) کام میں لگا دیا سورج اور چاند (کے ان عظیم الشان کروں کو، (اپنی مخلوق کے بھلے کے لئے اس طور پر کہ ان میں سے) ہر ایک چل رہا ہے ایک مقرر وقت کے لئے،2 وہی تدبیر فرماتا ہے ہر کام کی وہ کھول کر بیان کرتا ہے اپنی آیتوں کو تاکہ تم لوگ اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرسکو۔

1۔ عظیم الشان آیات : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ آیتیں ہیں اس کتاب حکیم کی " جو اس سورة کریمہ میں مذکور ہیں۔ یا اس سے پورے قرآن حکیم کی آیات مراد ہیں۔ (معالم، جامع، فتوحات الہیہ وغیرہ) ۔ سو جب یہ آیتیں اس عظیم الشان کتاب کی ہیں جو کہ ایک بےمظال کتاب اور معجزہ خداوندی ہے تو پھر اس کی ان عظیم الشان آیتوں کی عظمت شان کے کہنے ہی کیا ؟ سو سورة کریمہ کی ابتداء اور اس کا آغاز ہی اس طرح فرمانے سے یہ درس ملتا ہے کہ جیسے یہ کتاب عظیم الشان اور بےمثال ہے اسی طرح اس کی یہ آیات بھی عظیم الشان اور بےمثال ہیں۔ لہذا ان کی تلاوت بھی اسی انداز و اعتبار سے ہونی چاہئے اور ان کو دل وجان سے اپنانا چاہئے کہ اسی میں انسان کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرضی وعلی مایحب ویرضی۔ بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ 2۔ احسان اور دھمکی کے دونوں پہلؤوں کی طرف اشارہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ آیتیں ہیں اس کتاب حکیم کی جس کے اتارنے کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے فرمایا تھا۔ یعنی قرآن حکیم کی۔ جس کی عظمتوں، رحمتوں اور برکتوں کا کوئی کنارہ نہیں۔ جس جیسی دوسری کوئی کتاب نہ آج تک کبھی ہوئی اور نہ قیامت تک کبھی ممکن ہے۔ اور جو انسان کے لئے دارین کی سعادت اور فوز و فلاح کی کفیل وضامن ہے۔ سو اس کتاب حکیم سے اعراض کرنا اور منہ موڑنا پرلے درجے کی حماقت اور سب سے بڑی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور انہی عظمتوں کی بناء پر یہ کتاب ایسی عظیم الشان اور بےمثال کتاب ہے کہ یہی کتاب کہے جانے کے لائق ہے۔ اسی لیے اس کا تعارف ہی " الکتاب " کے نام و عنوان سے کرایا جارہا ہے۔ اور یہی ہے وہ موعود و منتظر کتاب الہی جس کا آخری اور کامل صحیفہ ہدایت کی حیثیت سے اتارنے کا وعدہ اللہ پاک نے اپنے انبیاء ورسل کے ذریعے فرمایا تھا۔ سو اس کی تعلیمات مقدسہ کو دل وجان سے اپنانا دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی راہ کو اپنانا ہے۔ سو یہ حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی طرف سے اس کے بندوں پر عظیم الشان انعام اور بےمثال احسان ہے اور اس کا تقاضایہ ہے کہ لوگ اس کو دل وجان سے اپنا کر اس کی برکات سے مستفید و متمتع اور فیضاب ہوں۔ اور اگر انہوں نے اس کی ناقدری کی اور اس سے اعراض و روگردانی برتی۔ والعیاذ باللہ۔ تو اس کے نتیجے میں ان کو دارین کی محرومی اور ہلاکت و تباہی کا خمیازۃ بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضاء و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔ 3۔ پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ : سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ جو کتاب آپ کی طرف سے آپ کے رب کی جانب سے اتاری گئی وہ سراسرحق ہے۔ اس میں کسی شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ خواہ اس کا تعلق عقائد و ایمانیات سے ہو یا معاملات و اخلاق سے۔ معیشت ومعاشرت سے ہو یا عبادات و عادات سے۔ سو یہ اجمال بعد التفصیل کے قبیل سے ہے جو کہ بلاغت کلام کا ایک معروف اسلوب ہے۔ اور جو عربی زبان میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ سو اس کے مطابق قرآن حکیم کی عظمت شان کو واضح فرمایا گیا۔ اور پھر بالاجمال ارشاد فرمایا گیا کہ جو قرآن آپ کی طرف اتارا گیا ہے وہ سارے کا سارا اور پورے کا پورا حق اور صدق ہے۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) سو اللہ پاک کے اس احسان عظیم کو اپنانا اور قبول کرنا جہاں اس کا حق ہے وہاں اس سے منہ موڑنا ہلاکت دارین کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس میں پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ منکر اور ہٹ دھرم لوگ اگر اس نسخہ کیمیا سے منہ موڑے ہوئے ہیں تو یہ ان کی اپنی ہٹ دھرمی اور محرومی کا نتیجہ ہے ورنہ یہ کتاب سراسر حق وصدق ہے۔ اس کی ہر بات سچی، مدلل اور مبرہن اور عقل ونقل اور فطرت سلیمہ کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اس کا ہر دعوی سچا وثابت اور مدلل ومبرہن ہے اور اس شان کی کتاب یہی اور صرف یہی ہے۔ والحمد للہ جل وعلا۔ الذی شرفنا بھذا الکتاب وبالایمان بہ والاشتغال۔ 4۔ ہٹ دھرمی محرومی کی جڑ بنیاد۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ کتاب تو سراسر حق وصدق ہے اس میں کوئی بات ایسی نہیں جس سے اختلاف کیا جاس کے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے اپنی ہٹ دھرمی اور محرومی و بدبختی کی بناء پر۔ والعیاذ باللہ۔ پس قصور اس کتاب حکیم کا نہیں بلکہ ان کی اپنی طبیعتوں کا ہے کہ وہ " ہدی " کی بجائے " ہوی " پر چلنا چاہتے ہیں اور حق و ہدایت کی بجائے نفس و شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ ورنہ قرآن حکیم کی صداقت و حقانیت پوری طرح واضح ہے۔ معلوم ہوا کہ اکثریت ہمیشہ بےایمانوں ہی کی رہی ہے کل بھی یہ تھا اور آج بھی یہی ہے۔ پس اہل بدعت وغیرہ جہلاء کا اور موجودہ نام نہاد مغربی جمہوریت کے علمبرداروں اور پرستاروں کا عوام کالانعام کی اکثریتی رائے کو حق و صداقت کا معیار قرار دینا باطل و مردود ہے کہ عوام کی اکثریت بےایمانوں اور غلط کاروں کی ہی رہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور یہاں پر فعل کو ارادہ فعل کے معنی میں بھی لیا جاسکتا ہے۔ یعنی اکژلوگ ایمان لانا چاہتے ہی نہیں اپنے عناد اور ہٹ دھرمی سے۔ اور اسی بناء پر وہ نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر طرح طرح کے اندھیروں میں بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ کیونکہ عنادوہٹ دھرمی اور " میں نہ مانوں " کا کوئی علاج نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ من کل زیغ وضلال، وسوء وانحراف، بکل حال من الاحوال۔
Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہ وہی ہے جس نے بچھا دیا زمین (کے اس عظیم الشان کرے) کو، اور رکھ دیے اس میں (پہاڑوں کے) عظیم الشان لنگر، اور چلا دیے اس میں طرح طرح کے دریا، اور پیدا کردیے اس میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے اور وہی ہے جو ڈھانک دیتا ہے رات کو دن پر، بیشک اس سب میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں،

10۔ زمین کے لیے عظیم الشان لنگروں کا انتظام : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اسی نے زمین کے لیے پہاڑوں کے عظیم الشان لنگروں کا انتظام کیا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے رکھ دیئے زمین میں پہاڑوں کے عظیم الشان لنگر کہ یہ کرہ ارضی تم کو لے کرڈولنے نہ لگے۔ اور تاکہ اس پر تمہیں پرسکون زندگی میسر آسکے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا (ان تمیدبکم) سوذراسوچو اور غور کروتم لوگ اے عقل مندو کہ کس قدرقادر مطلق اور حکیم مطلق ہے تمہارا وہ رب رحمن ورحیم جس نے تمہارے لیے اس قدر حکمتوں بھرا انتظام فرمایا۔ اور از خود تمہاری طرف سے کسی طرح کی اپیل و درخواست کے بغیر فرمایا۔ سو یہ سب کچھ سوچو اور دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اس کے حضور جھک جاؤ۔ اور اس طرح دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور ہوجاؤ۔ وباللہ التوفیق۔ اور یہیں سے یہ بھی سوچو کہ کتنے ظالم اور کس قدر بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس سب کے باوجود اس واہب مطلق کی ان عنایات کو بھول کر اس کے ساتھ کفروانکار کرتے ہیں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ ان دوسری فانی اور بےحقیقت چیزوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں جن کا اس کی اس بخشش وعطاء میں کسی بھی طرح کا کوئی حصہ اور عمل واشتراک نہیں۔ لیکن اس کے باوجودوہ ان کو ڈھیل پر ڈھیل دیے جارہا ہے۔ سو اس سے اندازہ کرلو کہ کس قدر غفور ورحیم اور ستاروکریم ذات ہے وہ۔ سو اس سے منہ موڑنا اور اس بارے غفلت برتنا کس قدرمحرومی اور بدبختی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ 11۔ پھلوں اور پیداواروں میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے چلادیے طرح طرح کے دریا اور اس میں پیدا فرمائے ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے، نرومادہ تاکہ ان میں توالد وتناسل کا سلسلہ جاری ہوسکے۔ (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) نیز ان کو کئی قسموں کا بنایا، جیسے کالے گورے، نیلے پیلے، چھوٹے بڑے، کھٹے میٹھے، اور ٹھنڈے وگرم، وغیرہ وغیرہ (روح، ابوالسعود، جامع البیان وغیرہ) سو یہ اس کی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ اور عنایت فائقہ کے کس قدر عظیم الشان نمونے اور مظہر ہیں جو تمہاری آنکھوں کے سامنے اور تمہارے ہاتھوں کے درمیان موجود ہیں۔ مگر تم لوگ غور و فکر سے کام نہیں لیتے۔ سو تضاد اور توافق کا یہ حکمتوں بھرا اور حیرت انگیزقانون جس طرح سلسلہ روزوشب میں کارفرما ہے، اسی طرح یہ ہر قسم کی پیداوار ایک ایک پھل اور ایک ایک دانے کے اندر کارفرما ہے۔ خواہ انسان کو اس کا علم ہو یا نہ ہو، تم گندم کے ایک دانے کو دیکھوگے تمہیں وہ دو حصوں میں منقسم نظرآئے گا۔ سو کائنات کے ہر گوشے میں پائے جانے والی زوجیت کی یہ شہادت گواہی دے رہی ہے کہ یہ دنیا بھی تنہا نہیں بلکہ اس کا بھی ایک جوڑا ہے۔ اور یہ ہے آخرت۔ اور اپنے لیے اسی جوڑے کے ساتھ مل کر یہ دنیا اپنی غایت کو پہنچتی ہے۔ ورنہ اس کا وجود بالکل بےکار اور بےمقصد ہوکر رہ جائیگا۔ سو دنیا کا وجودبذات خودآخرت کا تقاضا کرتا ہے۔ فسبحان اللہ من خالق قادرحکیم۔ سو قسما قسم کے ان پھلوں اور پیدواروں میں بڑا سامان غور و فکر ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر سے کام لینا چاہتے ہیں۔ وباللہ التوفیق۔ 12۔ رات اور دن کے نظام میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ہے جو رات کو ڈھانک دیتا ہے دن پر۔ بلاشبہ اس سب میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں " اس وحدہ لاشریک کی قدرت کاملہ۔ حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کی۔ اور اس کی وحدانیت مطلقہ کی کہ جب ان تمام چیزوں کے پیدا کرنے میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کیونکر ہوسکتا ہے ؟۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے۔ سو یہ نشانیاں اپنی زبان حال سے پکار پکار کر دنیا کو غور و فکر کی دعوت دے رہی ہیں۔ لیکن غفلت شعار دنیا ان کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتی۔ الا ماشاء اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف رات اور دن کے ادلتے بدلتے اس پر حکمت نظام میں بھی بڑا سامان غور و فکر ہے۔ بھلا سوچو تو سہی کہ آخریہ کس کی قدرت وحکمت اور رحمت و عنایت کا نتیجہ ہے کہ رات کی اس عظیم الشان اور بےمثال سیاہ چادرکواس قدر پابندی اور حکمت و عنایت کے ساتھ اس دنیا پر تن دیا جاتا ہے۔ جس سے مخلوق کو آرام کے لیے ایسا پرکیف سناٹاملتا ہے۔ ؟ سو یہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کی قدرت وحکمت اور اس کی رحمت و عنایت کا نتیجہ وثمرہ ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 13:4

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور (اسی طرح یہ بھی قابل غورو فکر ہے کہ) اس زمین میں قسما قسم کے ٹکڑے ہیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور باغات انگوروں کے اور قسما قسم کی کھیتیاں، اور طرح طرح کی کھجوروں کے درخت جن میں سے کچھ کھڑے ہوتے ہیں اور کچھ دوہرے اور جڑواں، سب کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے مگر (اس کے باوجود) ہم ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت دے دیتے ہیں مزے میں بیشک ان سب چیزوں میں بھی بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں3

13۔ غور و فکر کی عظمت و اہمیت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان چیزوں کے اندر بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان کے لیے جو غوروفکر سے کام لیتے ہیں " اور وہ سوچتے ہیں کہ یہ سب کچھ اس پر حکمت طریقے سے کس نے پیدا کیا اور اس کا ہم پر کیا حق ہے ؟ اور اس کا یہ حق ہمیں کس طرح ادا کرنا چاہئے ؟ تو اس ارشادربانی میں ایک طرف تو غوروفکر کی دعوت اور اس کی تحریک ہے اور دوسری طرف اس میں یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ غور و فکر کا موقع ومحل کیا ہے ؟ یعنی مخلوق نہ کہ حضرت خالق۔ جل وعلا۔ کہ وہ ہمارے دائرہ غور و فکر سے بالا اور وراء الوراء ہے۔ پس صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کی مخلوق اور اس کائنات میں چہارسو پھیلی بکھری ان نشانیوں میں غور و فکر سے کام لیکر اس وحدہ لاشریک کی معرفت حاصل کرو۔ وباللہ التوفیق۔ اور پھر اس کی وحی و ہدایت کے مطابق اس کی اطاعت و بندگی سے سرشارہوکر اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرو۔ سو اس سے خلق خدا میں غور و فکر کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ سو اس سے انسانی عقل وفکر کو جلاملتی ہے اور اس کا باطن روشن ومنور ہوتا ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید وعلی مایحب ویرید۔ 14۔ زمین سے متعلق کچھ اور نشانیوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ زمین میں ساتھ ساتھ پائے جانے والے مختلف ٹکڑے ہیں خبیث وطیب، زرخیز وبنجر، کوئی کلروالی بیکارزمین جس میں کچھ اگتا اور پیدا نہیں ہوتا۔ اور کوئی عمدہ زرخیر جس میں سب کچھ پیدا ہوتا ہے۔ اور اس میں طرح طرح کی عمدہ چیزیں برگ وبارلاسکتی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ سب کچھ حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی قدرت مطلقہ، حکمت کاملہ، عنایت بالغہ اور رحمت شاملہ کا عظیم الشان مظہر ہے۔ پس بڑے ظالم اور بےانصاف ہیں وہ لوگ جو چہارسو پھیلی بکھری اس کی رحمت و عنایت کے ان عظیم الشان مظاہر کو دیکھنے اور ان سے طرح طرح سے مستفید ہونے کے باوجود اس سے منہ موڑیں یا اس کی خدائی میں اوروں کو اس کا شریک جانیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ وہ ایسے تمام شرکاء اور شائبہ شرک سے پاک اور بری ہے۔ پھر اس میں حضرت قادرمطلق۔ جل جلالہ۔ کی قدرت وحکمت، وحدانیت ویکتائی کے مزید نمونوں کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس میں باغات ہیں انگوروں کے۔ قسما قسم کی کھیتیاں، طرح طرح کی کھجوروں کے درخت جن میں سے کچھ اکہرے ہوتے ہیں اور کچھ دوہرے اور جڑواں۔ سو یہ رحمت و عنایت اور تنوع وبوقلمونی آخرکس کے کرم بےپایاں اور قدرت بےنہایت کا نتیجہ وثمرہ ہے ؟ سو وہی ہے اللہ وحدہ لاشریک جس کی قدرت وحکمت اور رحمت و عنایت کے یہ عظیم الشان مظاہر ہر طرف پھیلے بکھرے ہیں۔ پس وہی وحدہ لاشریک معبود برحق ہے اور اسی کا حق ہے ہر قسم کی عبادت و بندگی۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 15۔ پھلوں میں بعض کو بعض پر فوقیت و فضیلت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت دیتے ہیں مزے میں " کوئی کھٹا کوئی میٹھا، کوئی لذیذ کوئی ترش، کوئی کم میٹھا کوئی زیادہ، کوئی تھوڑا کھٹا، کوئی اس سے زیادہ وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ زمین بھی ایک اور پانی بھی ایک۔ مگر اس کے باوجود یہ تنوع اور اختلاف قدرت کا ایک عظیم الشان مظہر اور شاہکار ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہ سب چیزیں اپنی زبان حال سے پکار پکار کر دعوت غور و فکر دے رہی ہیں کہ تم لوگ اسی رب قدیروحکیم کے آگے دل وجان سے جھک جاؤجس کی قدرت وحکمت اور رحمت و عنایت کے یہ مظاہر تم لوگ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔ سو زمین کے ان مختلف ٹکڑوں میں جو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ واقع ہیں ان میں سے کسی میں انگوروں کے عظیم الشان باغات ہیں اور کسی میں ہری بھری لہلہاتی کھیتیاں۔ اور کسی میں کھجوروں کے اونچے درخت۔ جن میں سے بعض کے تنے اکہرے ہوتے ہیں اور بعض کے دوہرے۔ سو ایک ہی زمین، ایک ہی پانی اور ایک ہی ہوا کے باوجود یہ تنوع اور اختلاف آخر کس کی کارستانی اور کس کی رحمت و عنایت اور قدرت وحکمت کا نتیجہ ہے۔ سو وہی ہے جو کہ خالق کل اور مالک مطلق ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ ہر قسم کی عبادت و بندگی صرف اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ 16۔ عقل سے کام لینے کی تحریک و ترغیب : سوعقل وفکر سے کام لینے کی تحریک و ترغیب کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اس سب میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ اور مخلوق کے ان عجائب وغرائب میں غور کرکے وہ اپنے خالق ومالک کی معرفت اور اس تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اور اس کی وحدانیت اور اس کی عظمتوں کے علم و ادراک سے اپنے ایمان و یقین میں اضافے کا سامان کرتے ہیں۔ اس طرح یہ اشیاء ان کے لیے صرف جسمانی اور مادی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان بن کر ہی نہیں رہ جاتیں۔ جس طرح کہ مادہ پرستوں اور پیٹ کے پجاریوں کا حال ہوتا ہے۔ بلکہ یہ چیزیں صحیح غور و فکر کے نتیجے میں ایک مومن صادق کے لیے ایمان و یقین کی ترقی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ گھڑی بھر کا صحیح غور و فکر ستربرس کی عبادت سے بھی بڑھ کر ہے " فکرساعۃ خیرمن عبادۃ سبعین سنۃ " بہرکیف ان چیزوں کے اندر بڑی بھاری نشانیاں ہیں اللہ کی وحدانیت وقدرت مطلقہ اور اس کی حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کی۔ نیز بعث بعد الموت کی کہ جس نے پہلی مرتبہ پیدا فرمایا وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ اور وہ پیدا کرے گا تاکہ حساب کتاب ہو۔ ہر کوئی اپنے کیے کرائے کا پھل پائے اور اس طرح عدل وانصاف کے تقاضے اپنی کامل اور آخری شکل میں پورے ہوں۔ ورنہ اس ساری کائنات کو وجود عبث اور بیکار قرار پائے گا۔ والعیاذ باللہ۔
Ayahs 13:5–6

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اور اگر آپ تعجب کریں تو (واقعی) تعجب کے قابل ہے ان لوگوں کا یہ کہنا کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو کیا واقعی ہم نئے سرے سے پیدا کئے جائیں گے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا ہے (بےپایاں قدرت و رحمت والے اس) رب کے ساتھ، ان کی گردنوں میں طوق پڑے ہیں، اور یہ یار ہیں دوزخ کے، جہاں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا،1

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور یہ لوگ جلدی مچا رہے ہیں آپ سے برائی کے لئے بھلائی سے پہلے، حالانکہ گزر چکی ہیں ان سے پہلے (کے لوگوں میں طرح طرح کے عذابوں کی) عبرتناک مثالیں، اور بیشک تمہارا رب بڑا ہی بخشنے والا ہے لوگوں کو ان کے ظلم پر، اور بیشک تمہارا رب یقینی طور پر عذاب دینے میں بھی بڑا سخت ہے،2

17۔ کفار و منکرین کا حال قابل تعجب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر آپ ان لوگوں کے حال پر تعجب کریں تو واقعی ان کا حال قابل تعجب ہے۔ یعنی ان کا یہ کہنا تعجب کے لائق ہے کہ کیا جب ہم لوگ مر کرمٹی ہوجائیں گے تو واقعی ہمیں از سرنو پھر پیدا کیا جائے گا ؟ کیونکہ جو خدا وندقدوس ایسی ایسی قدرتوں اور عظمتوں کا مالک ہے۔ اور جس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی اس تمام عجیب و غریب مخلوق کو خلعت وجود سے نوازا، اس کے لیے بھلا اس انسان ضعیف البنیان کو دوبارہ وجود بخش دینا اور اس کو نیست کے بعد ہست کردینا آخرکیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ جبکہ آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کا پیدا کرنا انسان کے پیدا کرنے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (لخلق السموات والارض اکبرمن خلق الناس ولکن اکثرالناس لایعلمون) (المومن : 57) نیزدوسرے مقام پر یہ ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کا پیدا کرنا ؟ (أانتم اشد خلقا ام السمآء بناھا) (النازعات : 27) سو اس سب کے باوجود ان کافروں کا حال بڑا قابل تعجب ہے جو یہ کہتے ہیں کہ " کیا ہم جب مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہمیں دوبارہ پیدا کیا جائے گا ؟ " مگر کفر وانکار اور عنادوہٹ دھرمی نے ان کی مت ایسی ماردی کہ ان کو یہ سیدھی سادی اور واضح حقیقت سمجھ نہیں آتی۔۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ من کل زیغ وضلال۔ 18۔ کافروں کی گردنوں میں طوق : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنے رب کے ساتھ کفر کرنے والوں کی گردنوں میں طوق پڑے ہیں۔ ایسے طوق جو اگرچہ ظاہر میں نظر نہیں آتے لیکن وہ ظاہری اور حسی طوقوں سے بھی کہیں بڑھ کر سخت ہیں۔ جن کی بناء پر یہ لوگ اپنے رب رحمن ورحیم کے ساتھ کفر کرتے ہیں جس کی بےپایاں قدرت، بےمثال ربوبیت اور لامحدود رحمت وحکمت کے آثار و شواہد یہ لوگ ہر لمحہ ہر جگہ اور ہر طرف دیکھتے ہیں۔ پس اس کے ساتھ کفر کر کے یہ پکے کافر، ناشکرے اور نمک حرام بن گئے۔ جس سے حق باب ان کے اندراثرہی نہیں کرپاتی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ان لوگوں کی گردنوں میں ان کے اپنے اختیار کردہ کفروانکار، کبروغرور، انانیت وخود پرستی، اندھی بہری تقلید وجمہود اور خود ساختہ عادات وتقالید کے ایسے بھاری بھر کم طوق پڑے ہوئے ہیں جو ان کو حق اور اہل حق کی طرف مڑنے اور حق بات کو سننے اور ماننے ہی نہیں دیتے۔ جس کے نتیجے میں آخرکار ان کو انہی کے ذریعے گھسیٹ کر دوزخ کی آتش سوزاں میں ڈالا جائے گا اور یہ ہمیشہ فی النار والسقر ہو کر رہ جائیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا۔ (اذ الاغلال فی اعناقہم والسلاسل یسحبون، فی الحمیم ثم فی النار یسجرون) (المومن : 71۔ 72) یعنی " جبکہ طوق ان کے گلوں میں پڑے ہوں گے اور بیڑیاں ان کے پاؤں میں، ان کو ان کے ذریعے گھسیٹا جائے گا کھولتے پانی میں۔ پھر ان کو جھونکا جائے گا دوزخ میں "۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 13:7

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور کہتے ہیں وہ لوگ جو اڑے ہوئے ہیں، اپنے کفر (و باطل) پر، کہ کیوں نہیں اتاری گئی اس شخص پر کوئی نشانی (یعنی ان کی فرمائش کے مطابق) ، سوائے اس کے نہیں کہ آپ کا کام تو خبردار کردینا ہے، اور بس، اور (آپ کوئی انوکھے نبی نہیں ہیں بلکہ) ہر قوم کے لیے ایک راہنما ہوتا چلا آیا ہے،3

23۔ منکرین کی طرف سے نشانی کا مطالبہ اور اس کا جواب : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ کافر لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں اتاری گئی ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے۔ یعنی اس طرح کے معجزات آپ کو کیوں نہیں دئے گئے جو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دئے گئے تھے۔ یا یہ کہ ہماری فرمائش کے مطابق صفا کی پہاڑی کو سونے کا بنادیا جائے اور مکہ مکرمہ کی پہاڑیوں کو اپنی جگہ سے ہٹا کریہاں پر سرسبز و شاداب باغات کا سلسلہ قائم کردیا جائے وغیرہ وغیرہ (جامع البیان، صفوۃ التفاسیر اور مراغی وغیرہ وغیرہ) سو یہ ان لوگوں کے عناد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے ورنہ پیغمبر کو اتنے اور ایسے ایسے معجزات دیئے گئے ہیں جو ایک سے بڑھ کر ایک کا مصداق ہیں اور ان میں سب سے بڑا اور سب سے واضح معجزہ قرآن حکیم کا یہ معجزہ خالدہ ہے جو کہ معجزہ کا معجزہ اور قیامت تک باقی رہنے والا معجزہ ہے۔ مگر عناد اور ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ کافر لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں اتاری گئی اس پیغمبر پر کوئی نشانی یعنی ان کی فرمائش کے مطابق۔ سو اس کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کا کام تو اے پیغمبر معجزے اور نشانیاں دکھانا نہیں بلکہ انذار وتبشیر اور تبلیغ حق ہے اور بس۔ اس کے بعد آپ کا ذمہ فارغ۔ ان علیک الا البلاغ وعلینا الحساب۔ 24۔ پیغمبر کا کام انذار وتبشیر اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کا کام معجزے دکھانا نہیں بلکہ آپ کا کام تو صرف خبردار کردینا ہے اور بس۔ پس اس طرح کے فرمائشی معجزات کو پورا کرنا نہ آپ ﷺ کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ آپ ﷺ کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی آپ ﷺ نے کبھی اس طرح کا کوئی دعوی ہی کیا ہے۔ پس ان لوگوں کا اس طرح کی فرمائشین کرنا بجائے خود ان کی ضد، عناد اور ہٹ دھرمی کا ثبوت ہے۔ رہ گئی آپ کی تصدیق کے لیے مطلق معجزات کی بات تو وہ آپ کو بیشمار دئے گئے ہیں۔ حسی معجزات بھی اور قرآن حکیم کا وہ عظیم الشان اور بےمثال علمی اور معنوی معجزہ بھی جو کہ سب سے بڑھ کر بھی ہے اور وہ بذات خود بیشمار معجزات کا مجموعہ بھی۔ اور جس نے اپنی اسی آب وتاب کے ساتھ قیامت تک باقی اور قائم رہنا ہے۔ مگر ان لوگوں کی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے جب یہ سب کچھ بھی ان کے لئے کافی نہ ہوا تو پھر ان کا کوئی فرمائشی معجزہ ان کے لیے کیونکر کافی ہوسکتا ہے ؟ پس یہ محض ان کی ضد بازی اور ہٹ دھرمی ہے۔ سو اس سے ایک تو یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ ضد اور ہٹ دھرمی انسان کے لیے محرومی کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور نورحق سے سرفرازی و بہرہ وری کے لیے سب سے اہم اولین اور بنیادی شرط ہے طلب صادق اور صدق نیت اور دوسری حقیقت یہاں اس سے یہ واضح ہوگئی کہ پیغمبر کا منصب ومقام دراصل انذاروتبشیر ہوتا ہے کہ لوگوں کو ان کے ہولناک انجام سے خبردار کیا جائے اور ماننے والوں کو ان کی حقیقی سعادت اور ابدی فوز و فلاح کی خوشخبری سنا دی جائے اور بس۔ معاندین کے فرمائشی معجزوں کی تعمیل نہ پیغمبر کے ذمے ہوتی ہے اور نہ ان کے اختیار میں۔ پس پیغمبر کا اصل کام اور حقیقی ذمہ داری دعوت حق ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر حق کو منوا لینا اور لوگوں کو راہ حق پر ڈال دینا ان کی ذمہ داری نہیں۔ یہ حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کا کام اور اسی کی شان ہے کہ وہی جانتا ہے کہ کس کے باطن کی کیفیت کیا ہے ؟ کون کس لائق ہے اور کون نورہدایت سے مشرف ہونے کا اہل ہے اور کون نہیں ؟ کس کے اندرطلب صادق پائی جاتی ہے اور کس کے اندر نہیں ؟ اسی کے مطابق وہ بندوں کو نوازتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (لیس علیک ھداہم ولکن اللہ یھدی من یشآئ) ۔ (البقرۃ : 272) یعنی ان کی ہدایت آپ کے ذمے نہیں بلکہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے، ہدایت دیتا ہے۔ 25۔ ہر قوم کے لیے ایک ہادی ہوا ہے : جس نے ان کو راہ حق کی دعوت دی اور پیغام حق پہنچایا۔ اور ہر نبی کو وہی معجزہ دیا گیا جو اس زمانے کے مناسب تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے زمانے کے مناسب اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے زمانے کے مطابق۔ اور جب خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی نبوت کو قیامت تک رہنا ہے تو آپ کو قرآن حکیم کا وہ عظیم الشان علمی اور معنوی زندہ جاوید معجزہ عطا فرمایا گیا جو قیامت تک باقی رہے گا۔ اور رہ حق و ہدایت کو روشن کرتا ایک دنیا جہاں کو حق کا قائل اور اپنا گرویدہ بناتا رہے گا۔ بہرکیف اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کی اس سنت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عذاب دینے سے پہلے اس کو انذار اور تنبیہ فرماتا ہے۔ سو اسی کے مطابق اب آپ کو اے پیغمبر ہادی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اب اگر ان لوگوں نے آپ کی ہدایت و راہنمائی کو قبول نہ کیا تو اب ان کے لیے اس کے بعد عذاب الہی کا مرحلہ باقی رہ جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو پیغمبر کا کام ہدایت دینا اور رہنمائی کرنا ہوتا ہے نہ کہ عذاب دینا اور معجزے دکھانا۔
Ayah 13:8

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

اللہ خوب جانتا ہے اس حمل کو جو کہ ہر مادہ کو رہتا ہے، اور وہی پوری طرح باخبر ہے اس کمی بیشی سے جو کہ رحموں کے اندر ہوتی رہتی ہے، اور ہر چیز اس کے یہاں ایک خاص اندازہ پر ہے،

26۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا ایک مظہر : سوارشاد فرمایا گیا کہ اللہ خوب جانتا ہے اس حمل کو جو ہر مادہ کو رہتا ہے۔ کہ وہ نر ہے یا مادہ۔ ناقص ہے یا کامل۔ سعید ہے یا شقی۔ کالا ہے یا گورا وغیرہ وغیرہ۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، جامع البیان وغیرہ) کہ وہی وحدہ لاشریک جو اپنی مخلوق کی ہر حالت اور اس کی ہر سٹیج کو جانتا اور پوری طرح جانتا ہے۔ اور اس کے آغاز سے لیکر انجام اور ابتداء سے لیکر انتہاء تک کوئی بھی حالت ایسی نہیں جو اس خالق ومالک سے مخفی ہو۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (ھواعلم بکم اذانشأکم من الارض واذا انتم اجنۃ فی بطون امھاتکم) (النجم : 32) یعنی وہ تم لوگوں کو اس وقت بھی پوری طرح جانتا ہے جب کہ اس نے تم کو زمین سے پیدا فرمایا اور اس وقت بھی جب کہ تم اپنی ماؤں کے رحموں کے اندر جنین کی شکل میں ہوتے ہو۔ اور یہ شان جب اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کی نہیں ہوسکتی تو معبود برحق بھی اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ اور جب اس نے پہلی مرتبہ انسان کو پیدا فرمادیا اور اس طرح پیدا فرما دیا تو پھر وہ اس کو دوبارہ کیوں نہیں پیدا کرسکتا۔ 27۔ اللہ تعالیٰ رحموں کے اندر کی کمی بیشی کو بھی پوری طرح جانتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور وہ پوری طرح باخبر ہے اس کمی بیشی سے جو رحموں کے اندر ہوتی رہتی ہے بچوں کی تعداد میں " کہ وہ ایک ہے یا دو یا زیادہ۔ نیز مدت حمل میں کہ وہ چھ ماہ ہے یا سات ماہ یا آٹھ ماہ۔ یا اس سے کم یا زیادہ۔ نیز بچوں کی غذا کے بارے میں جو کہ حیض کا خون ہے کہ وہ کم ہے یا زیادہ۔ سو کلمہ " ما " کا عموم ان سب ہی صورتوں کو عام اور ان کو شامل ہے سو ان سب امور پر اس وحدہ لاشریک کا علم ہی حاوی اور محیط ہے۔ (محاسن، مدارک، مراغی اور جامع وغیرہ) سو ایسی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کا مالک رب ہی معبود برحق ہے۔ اور عبادت کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کا حق ہے۔ سو اس کے علم سے کوئی بھی چیز مخفی نہیں رہ سکتی۔ اور ماں کے رحم کے اندر بچے چار تک بھی ہوسکتے ہیں چناچہ روایت ہے کہ حضرت شریک (رح) اپنی ماں کے پیٹ کے اندر چوتھے تھے۔ (محاسن التاویل وغیرہ) اور یہ بات صرف شریک ہی کی حد تک محدود نہیں بلکہ آج بھی ایسے ہی ہوتا ہے، اگرچہ کم اور کبھی کبھار ہوتا ہے۔ لیکن قدرت کے ایسے عجوبے اور معجزات ظاہر ہوتے رہتے ہیں چناچہ آج سے کچھ ہی عرصہ قبل اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ ملایئشیا میں ایک خاتون نے چار بچوں کو جنم دیا اور چاروں کے نام خلفاء راشدین کے ناموں پر ابوبکر، عمر، عثمان، اور علی رکھے گئے۔ وہ چاروں صحتمند تھے اور ان چاروں کی تصویریں بھی اخبارات میں شائع ہوئی تھیں۔ 28۔ ہر چیز ایک مقدار اور خاص اندازے پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور ہر چیز اس کے یہاں ایک خاص اندازے پر ہے " نہ اس سے کم ہوسکتی ہے نہ زیادہ جو کہ مبنی ہے نہایت علم اور حد درجہ حکمت پر ہے۔ جس کا احاطہ اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی نہیں کرسکتا (انا کل شئی خلقناہ بقدر) (القمر : 49) سو یہ بھی اس کے کمال قدرت اور کمال حکمت و عنایت کا ایک اور ثبوت ہے۔ سو اس سے ہر چیز کے وجود میں آنے کے لیے ایک خاص وقت مقرر فرما رکھا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس نے ہر چیز کو پیدا فرما کر ایک خاص وقت اور خاص حال کے ساتھ مقید فرمایا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا) (الفرقان : 3) یعنی اس قادر مطلق نے ہر چیز کو پیدا فرمایا اور اس کو ایک خاص اندازے پر رکھا۔ سو اسی طرح ہر قوم کے عذاب کے لیے بھی ایک وقت مقرر ہے۔ وہ اپنے وقت پر بہرحال آکر رہے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس نہ تو کسی کو اس کے لیے جلدی کرنی چاہئے اور نہ اس کی تاخیر سے دھوکے میں پڑنا چاہئے۔
Ayah 13:9

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہی ہے (ایک برابر) جاننے والا پوشیدہ اور ظاہر کو، سب سے بڑا نہایت ہی عالی شان،

29۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کا حوالہ وذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ہے ایک برابر جاننے والا پوشیدہ اور ظاہر کو، سب سے بڑا نہایت ہی عالی شان "۔ اور اتنا عالی شان کے اس کی عظمتوں کا کوئی کنارہ نہیں۔ اور اتنا کہ عظمت وکبریائی سزا وار ہی اس کو ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ اور وہ پاک ومنزہ ہے ہر اس چیز سے جو اس کی شان اقدس کے لائق نہیں۔ (محاسن التاویل) سو وہ قادر مطلق انسان کو دوبارہ پیدا کرسکتا ہے اور پیدا کرے گا۔ مگر اپنے وقت مقررہ پر۔ اور وہی قیامت کو لاسکتا ہے اور اپنے وقت پر ضرور لائے گا کہ یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو بڑی غلطی اور گمراہی پر ہیں وہ لوگ جو اس وحدہ لاشریک کی باتوں، اس کے علم اور اس کے منصوبوں کو اپنے محدود پیمانوں سے ناپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا علم حاضر و غائب اور نہاں وعیاں سب پر حاوی اور محیط ہے۔ وہ بڑی ہی بزرگی اور کبرائی والا ہے۔ اس کی بارگہ بہت ہی بلند ہے۔ وہ اپنی سکیموں اور اپنے بھیدوں کو خود ہی جانتا ہے۔ دوسرے اس میں سے اتنا ہی جان سکتے ہیں جتنا کہ وہ خود ظاہر کردے اور بس پس نہ کوئی اس کا شریک ہے اور نہ مثیل اور ہمسر۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 13:10

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

ایک برابر ہے اس کے یہاں تم میں سے ہر وہ شخص جو چپکے سے کوئی بات کرے یا پکار کر کہے اور جو کہیں چھپا ہو رات (کے اندھیروں) میں، یا چل پھر رہا ہو دن (کے اجالے) میں،

30۔ اللہ سے کوئی چھپ نہیں سکتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے یہاں ایک برابر ہے جو چپکے سے کوئی بات کرے اور جو پکار کرک ہے " سو اس سے کوئی بھی کسی بھی حال میں چھپ نہیں سکتا۔ کیونکہ جو بھی کوئی چھپنے والا ہوگا وہ اس کے علم سے غائب اور پوشیدہ نہیں رہ سکتا خواہ وہ اپنے مکان کے کسی تہ خانے یا بند کمرے میں چھپا ہو۔ یا کسی غار اور رات کے اندھیروں میں کہیں چھپاہو۔ کسی بھی طرح اس سے مخفی نہیں رہ سکتا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو جو کوئی اپنی بات چھپائے اور اس کو زبان پر لائے ہی نہ، یا اس کو ظاہر نہ کرے، اللہ تعالیٰ اس سب کو ایک برابر جانتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (وان تجھر بالقول فانہ یعلم السرواخفی) نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (ویعلم ماتخفون وما تعلنون) ۔ یعنی وہ ایک برابر جانتا ہے وہ سب جسے تم لوگ چھپاتے ہو اور جس کو تم ظاہر کرتے ہو۔ 31۔ اللہ کے یہاں نہاں وعیاں سب ایک برابر۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے یہاں ایک برابر ہے جو کہیں چھپا ہو رات کے اندھیروں میں اور جو چل پھر رہا ہو دن کے اجالے میں " پس رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے اس کے یہاں ایک برابر ہیں۔ کوئی بھی چیز کسی بھی حال میں اس سے مخفی نہیں رہ سکتی۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب اس کی ان اور ان شؤن وصفات میں اس کا کوئی شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کیونکر ہوسکتا ہے ؟ جل جلالہ۔ پس عالم الغیب بھی وہی وحدہ لاشریک ہے اور قادرمطلق بھی وہی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ لہذا اہل بدعت کا اس کی مخلوق میں سے بعض ہستیوں کو عالم الغیب ماننا شرک ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔ اور ان کا یہ کہنا کہ " ساڈا عبد القادر ہے سانوں ہور کسے دی لوڑ نہیں " ایک کھلا گستاخانہ اور شرکیہ قول ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے اور اس کے لیے مرنے کے بعد لوگوں کو دوبارہ زندہ کرنا اور قیامت برپا کردینا کچھ بھی مشکل نہیں۔ اور ایسا کرنا اس کی حکمت کے تقاضے پورے ہوں۔
Ayah 13:11

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

ہر شخص کی حفاظت کے لئے اس کے آگے پیچھے ایسے فرشتے مقرر ہیں، جن کی بدلی ہوتی رہتی ہے، جو اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں (ہر موذی چیز سے) ، اللہ کے حکم سے، بیشک اللہ تعالیٰ کسی قوم کی (نعمت و عافیت) حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ (شکر نعمت اور اعمال کی صالحہ کی) اپنی حالت کو نہ بدل دے، اور جب اللہ کسی قوم پر کوئی شامت لانے کا فیصلہ کرے تو پھر وہ کسی سے ٹالے ٹل نہیں سکتی، نہ ہی ایسے لوگوں کے لئے اللہ کے مقابلے میں کوئی حامی و مددگار ہوسکتا ہے،1

32۔ نگران فرشتوں کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ ہر کسی کے لئے بدلتے رہنے والے فرشتے مقرر ہیں " جو کہ رات کے الگ ہوتے ہیں اور دن کے الگ۔ اور وہ دونوں صحیح احادیث کی رو سے فجر اور عصر کی نمازوں میں باہم ملتے ہیں (صحیح بخاری، کتاب مواقیت الصلوۃ) اور " معقبات "۔ ادلی بدلی ہونے والے " یہ وہ فرشتے ہیں جو انسانی خدمت و حفاظت کے کام پر مامور ہوتے ہیں۔ اور یہ ان دو فرشتوں کے علاوہ ہوتے ہیں جو کہ انسانی اعمال لکھنے پر مقرر ہیں۔ اور جن کو " کراما کا تیبن " کہا جاتا ہے۔ اور جو ادلتے بدلتے نہیں۔ اور ان " معقبات " کی تعداد میں علمائے کرام کے مختلف اقوال ہیں (روح، خازن، اور مدارک وغیرہ) سو اس سے اہل بدعت کے اس خیال کی بھی تردید ہوجاتی ہے جو وہ نوری مخلوق کو انسان پر ترجیح دینے کے سلسلے میں رکھتے ہیں۔ اور اسی بناء پر وہ انبیائے کرام کی بشریت کا انکار کرکے ان کے نور ہونے کا من گھڑت عقیدہ رکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ نوری حضرات بحکم خداوندی اس خاکی انسان کے لئے محافظ اور اس کے باڈی گارڈ کے طور پر مقرر و مامور خدمت ہیں۔ جس سے بشر خاکی کی عظمت شان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ بہرکیف ہر انسان کے ساتھ دن رات میں چار فرشتے رہتے ہیں۔ دو اعمال لکھنے والے اور دو حفاظت کرنے والے۔ اعمال لکھنے والے اس کے دائیں اور بائیں ہوتے ہیں۔ دائیں والا نیکیاں لکھتا ہے اور بائیں والا اس کی برائیاں۔ العیاذ باللہ العظیم۔ جبکہ حفاظت کرنے والے دو فرشتے اس کے آگے اور پیچھے ہوتے ہیں۔ اور دن رات کے ان فرشتوں کا اجتماع صبح اور عصر کی نمازوں میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے۔ (بخاری، کتاب مواقیت الصلوۃ۔ باب صلوہ العصر، مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ، باب فضل صلوتی الصبح والعصر والمحافظۃ علیہما (محاسن التاویل، المراغی، ابن کثیر وغیرہ) والحمد للہ جل وعلا بکل حال من الا حوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ 33۔ نگران فرشتوں کی حفاظت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کی حفاظت کے لئے فرشتے مقرر ہیں جو انسان کی حفاظت کرتے ہیں اللہ کے حکم سے یعنی (من امر اللہ) میں " من " سییہ ہے۔ اور روایات کے مطابق جب لوگوں میں سے کسی کو اس کے مقدر کے مطابق کوئی گزند پہنچنا ہوتی ہے تو اس خاص وقت کے لیے اس کے یہ محافظ فرشتے اس سے الگ ہوجاتے ہیں۔ (طبری، ابن کثیر، معارف للکاندہلوی وغیرہ) چناچہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی بناء پر اور اسی کے اذن سے انسان کی حفاظت کرتے ہیں۔ کیونکہ کسی کے بس میں نہیں کہ وہ اللہ کے حکم کے برعکس اور اس کی قصاوقدر کے مقابلے میں کسی مدد کرسکے۔ چناچہ جب اللہ کی طرف سے کسی کے نقصان یا تکلیف کا کوئی فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ العیاذ باللہ۔ تو یہ اس سے الگ ہوجاتے ہیں (المراغی وغیرہ) نیز من امر اللہ کے کلمات کریمہ کا دوسرا مطلب بعض حضرات اہل علم کی طرف سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ فرشتے اللہ کے امر میں سے ہیں جیسا کہ (قل الروح من امر ربی) وغیرہ بعض دوسری آیات کریمہ میں وارد ہے۔ بہرکیف اس سے اس اہم حقیقت کو واضح فرما دیا گیا ہے کہ ہر انسان پر باری باری آنے والے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت و نگرانی کرتے ہیں۔ سو اس طرح اس آیت کریمہ سے اوپر والی آیت کریمہ کے مضمون کی توضیح و تائید فرما دی گئی۔ پس اللہ تعالیٰ ہر شخص کے ظاہر وباطن اور اس کے شب وروز سے پوری طرح واقف وآگاہ ہے اور اس نے ہر شخص پر اپنے فرشتے نگران اور پہرہ دار کے طور پر مقرر کر رکھے ہیں۔ تو پھر اس کے کسی حال کے مخفی رہ جانے کا کیا سوال ؟ سبحانہ وتعالیٰ پس ہمیشہ اسی کے رضا و خوشنودی کو اپنا مقصود بنانا چاہئے۔ وباللہ التوفیق۔ 34۔ عذاب کے بارے میں دستور خداوندی کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت یعنی اس کی نعمت و عنایت۔ کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت خود نہ بدل دے۔ کہ کریم کرم کرنے کے بعد اپنے کرم کو چھینتا نہیں کہ یہ اس کی شان کرم کے خلاف ہوتا ہے۔ تو پھر جس کی شان کرم کی کوئی حد وانتہاء ہی نہیں اس سے یہ کس طرح متصور ہوسکتا ہے کہ وہ کسی قوم کو کوئی نعمت عطاء فرمانے کے بعد اس سے اس کو یونہی چھین لے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہاں پر (مابقوم) سے مراد اس قوم کی وہ اچھی حالت اور عافیت ونعمت ہے جس سے اللہ تعالیٰ کسی قوم کو نوازتا اور سرفراز فرماتا ہے " ای من العافیۃ والنعمۃ " (محاسن التاویل للقاسمی) سو اس کا وہ مطلب جو بعض لیڈر ٹائپ لوگ لیتے رہتے ہیں کہ اللہ کسی قوم کو نعمت سے اس وقت تک نہیں نوازتاجب تک کہ وہ اپنی حالت کو خود نہ بدلے وہ صحیح نہیں۔ کیونکہ اللہ پاک اپنی نعمتوں سے از خود نوازتا ہے نہ کہ ہماری محنت پر۔ آخر ہمارا وجود ہمارے کس عمل کا نتیجہ ہے ؟ اور وجود کے اندر اور اس کے باہر جو بیشمار نعمتیں ہیں آخروہ ہماری کس محنت ومشقت یالیاقت و قابلیت پر ہمیں ملیں ؟ سو اس ارشاد ربانی میں نعمت سے نوازنے کے بارے میں نہیں بلکہ اس کے چھیننے کے بارے میں اس سنت الہی اور دستور خداوندی کا ذکر وبیان ہے جو قوموں کے عذاب سے متعلق قدرت کی طرف سے مقرر ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ اپنی رحمت و عنایت کا معاملہ اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنی روش میں تبدیلی نہ کرلے۔ سو جب وہ اپنی روش بدل دیتی ہے اور تنبیہ و انذار کے باوجود وہ نہ سنبھلے اور اپنی روش کی اصلاح نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس پر وہ عذاب بھیج دیتا ہے جس کو کوئی طاقت ٹال نہیں سکتی۔ العیاذ باللہ العظیم۔ 35۔ کسی قوم کی بدعملی اس کی محرومی کا باعث۔ العیاذ باللہ : سو جب وہ اپنی حالت بدل دے اور شکر نعمت کی بجائے کفران نعمت پر اتر آئے۔ العیاذ باللہ۔ کہ اس طرح وہ لوگ اپنے آپ کو نعمت کے استحقاق اور اس کی اہلیت سے خود محروم کردیتے ہیں۔ یہی مفہوم ہے اس آیت کریمہ کا جو کہ تمام معتبر تفاسیر میں موجود ہے۔ پس اس کا وہ مطلب جو عام طورپ لیڈر ان قوم اور اس طرح کے دوسرے لوگ بیان کرتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی بری حالت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو خود نہ بدلے، غلط ہے یہ مطلب اپنے طور پر کسی حدتک اگرچہ صحیح بھی ہو، تاہم اس آیت کریمہ کا مطلب و مصداق بہرحال نہیں ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی عطاء وبخشش ہمارے کسی عمل کی محتاج یا اس پر موقوف نہیں۔ آخر ہمارا یہ وجود اور اس کے اندروباہر کی یہ بیشمار نعمتیں جو قدرت نے ہمیں عطاء فرمائی ہیں اور ہمارے کسی مطالبہ وسوال کے بغیر ہمیں ان سے نوازا گیا ہے، آخر یہ سب ہمارے کس عمل کا ثمرہ وبدلہ قرار دی جاسکتی ہیں ؟ یہ سب کچھ تو محض کرم وعطاء ہے اس اکرم الاکرمین، وحدہ لاشریک کی طرف سے، جس کی شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے سو یہ اس کا کرم ہے نہ کہ ہماری کسی جدوجہد کا نتیجہ وثمرہ۔ سو آیت کریمہ کا مفہوم وہ نہیں جو ایسے لوگ بیان کرتے ہیں۔ 36۔ اللہ کے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکتا : سو اللہ جب کسی قوم کے عذاب کا ارادہ فرما لیتا ہے تو پھر کوئی اس کو ٹال نہیں سکتا۔ العیاذ باللہ۔ کہ مالک و مختار اور متصرف وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اس لیے وہ جب کسی قوم کے عذاب کا ارادہ فرما لے تو اس کے ٹالنے، بدلنے اور روکنے کا یارا کسی کو نہیں ہوسکتا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اہل بدعت اور دوسرے اہل زیغ وضلال کا اس کی مخلوق میں سے بعض ہستیوں کو حاجت رورا ومشکل کشا سمجھنا اور ان کو دافع البلاء قرار دینا سراسر باطل ہے۔ یہاں تک کہ ان غالیوں نے حضرت شیخ عبد القادر جیلانی (رح) کے بارے میں اس حد تک غلو کیا اور یہاں تک کہا کہ۔ ذی تصرف بھی ہے، مختار بھی ہے ماذون بھی ہے، کار عالم کا مدبر بھی ہے غوث الاعظم دستگیر۔ سو اس سے بڑھ کر ظلم، کھلا شرک اور آیت کریمہ کا صریح معارضہ اور کیا ہوگا ؟ اور پھر بھی دعوی ہے توحید کا۔ العیاذ باللہ الذین لآالہ الا ھو۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ جب کوئی قوم انذار و تنبیہ کے باوجود اپنی روش نہیں بدلتی اور اپنی اصلاح کے لیے تیار نہیں ہوتی تو پھر وہ اللہ کے عذاب کا مورد بن کر رہتی ہے۔ اور جب اللہ پاک اپنے عذاب کا فیصلہ فرما دیتا ہے تو پھر وہ کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتا۔ اور کسی کے بس میں نہیں ہوتا کہ وہ اس کی راہ میں رکاوٹ بن سکے۔ العیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین۔
Ayah 13:12

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

وہ وہی ہے جو تمہیں دکھاتا ہے (کڑکتی چمکتی) بجلی، جس سے تمہیں (اس کے گرنے کا) خوف بھی لاحق ہوتا ہے اور (باران رحمت کی) امید بھی بندھتی ہے، اور وہی اٹھاتا ہے پانی سے بھرے بادلوں کو،

37۔ اور وہی اٹھاتا ہے پانی سے بھرے بادلوں کو : جوکہ ہزاروں لاکھوں ٹن پانی کو گرم سمندروں سے اٹھا کر کہیں سے کہیں لے جاکربرساتے ہیں۔ کیا مجال کہ کوئی قطرہ بھی راستے میں کہیں گرجائے یا زبردستی کوئی اس سے کچھ چھین لے۔ سو یہ ایسا محیرالعقول نظام ہے جو روئے زمین کی کسی بڑی سے بڑی ترقی یافتہ حکومت سے بھی ممکن نہیں۔ بلکہ روئے زمین کی تمام حکومتیں مل کر بھی اس کا کوئی عشر عشیر تک نمونہ بھی پیش نہیں کرسکتیں۔ فسبحانہ من الہ حی قادر قیوم ورحمن ورحیم بعبادہ جل وعلا۔ سو یہ اس وحدہ لاشریک کی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کا ایک عظیم الشان نمونہ ومظہر ہے جو اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اس کی وحدانیت مطلقہ کی دعوت دے رہا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس میں اس کی قدرت وحکمت اور رحمت و عنایت کے عظیم الشان دلائل و مظاہر ہیں جن میں اگر انسان غور و فکر سے کام لے تو دل وجان سے اس خالق ومالک کے حضور جھک جھک جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ وعلی مایحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 13:13

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور اسی کی پاکی بیان کرتی ہے، اس کی تعریف کے ساتھ بادلوں کی گرج بھی، اور سب فرشتے بھی اس کے خوف (اور ہیبت) سے لرزتے ہوئے، اور وہی بھیجتا ہے کڑکتی ہوئی بجلیاں، پھر وہ (جب چاہتا ہے) ان کو جس پر چاہتا ہے گرا دیتا ہے، جبکہ وہ لوگ جھگڑ رہے ہوتے ہیں، اللہ کے بارے میں اور وہ بڑی ہی سخت قوت والا ہے،2

38۔ اسی کی پاکی بیان کرتی ہے اس کی حمد کے ساتھ بادلوں کی گرج : اپنی زبان حال سے۔ اس کی عظمت وحدانیت کا ثبوت دے کر۔ نیز اس طرح بھی کہ اس گرج کی آواز سن کر اس کے بندے بھی اس کا پکار اٹھتے ہیں اور اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ سبحان اللہ وبحمدہ۔ (تفسیر القاسمی ) ۔ سو کیسے محروم اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اس سب کے باوجود اس وحدہ لاشریک کی عظمت شان اور اس کے حق عبادت سے غافل وبے خبر ہیں۔ العیاذ باللہ۔ اور کیسے اندھے اور اوندھے ہیں وہ لوگ جو قدرت کی چہار سو پھیلی بکھری اور چمکتی کڑکتی ان نشانیوں اور ایسے عظیم الشان مظاہر قدرت کو دیکھنے کے باوجود آنکھیں نہیں کھولتے اور خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوتے۔ اور وہ نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیا یہ نشانیوں تھوڑی ہیں اور یہ ان کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی نہیں ہیں ؟ تو پھر یہ لوگ ان کے اندر غوروفکر سے کام کیوں نہیں لیتے ؟ 39۔ اور اسی کے خوف اور ہیبت سے کانپتے ہیں فرشتے : کہ وہ ہیں ہی اس کے خوف سے ڈرنے والے اور اس کی فرمانبردار مخلوق۔ پس بڑے احمق اور محروم و بدبخت ہیں وہ لوگ جو ان کو اس کی خدائی میں شریک مانتے ہیں۔ (فتعالی اللہ عما یقولون علوا کبیرا) ۔ سو فرشتے اس کے خوف اور اس کی ہیبت سے کانپتے اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ہر شائبہ شرک سے۔ اور اس بات سے کہ اس کی کوئی اولاد یا کوئی بیوی ہو۔ (المراغی وغیرہ) مگر جاہل اور بگڑا ہوا انسان انہی کو خدا کا شریک ٹھہراتا ہے۔ اور ان کو اس وحدہ لاشریک کی بیٹیاں قرار دیتا ہے۔ ان کے نام کی مورتیاں گھڑتا اور ان کی پوجا کرتا ہے اور اس طرح وہ خود " احسن التقویم " " بہترین ساخت " کے تقاضوں سے محروم ہو کر اور " اشرف الخلائق " کے شرف و مرتبہ سے گر کر " ارذل الخلائق " کے درجے میں جاپہنچتا ہے۔ اور " خیرالبریہ " " بہترین خلائق " کی جگہ " شرالبریہ " " بدترین مخلوق " بن کر رہتا ہے اور اس کو اس کا احساس وشعور نہیں کہ وہ ہلاکت و تباہی کے کس عمیق اور ہولناک گڑھے میں گر رہا ہے جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ العیاذ باللہ العظیم۔ من کل زیغ وضلال وسوء وانحراف۔ 40۔ اور وہی بھیجتا ہے کڑکتی ہوئی بجلیاں : پھر وہ ان کو ڈال دیتا ہے جس پر چاہتا ہے۔ جو اس کو ہلاکت و تباہی کے گھاٹ اتار دیتی ہیں۔ اور اس طرح یہ بجلیاں اس کے حق میں نقمت اور عذاب بن جاتی ہیں۔ العیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ سب اس قادر مطلق کی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کی گواہی دے رہے ہیں اور اپنی زبان ودل سے پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور عبادت کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کا حق ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ مگر غافل انسان اور غفلت شعار دنیا کی آنکھیں پھر بھی نہیں کھلتی او وہ اہواء اغراض کی ظلمتوں میں ہی بھٹکتی جارہی ہیں۔ العیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی غفلت و لاپرواہی سے ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ 41۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی بےپناہی کا ایک نمونہ : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ بجلیاں بھیجتا ہے، پھر وہ ان کو گرا دیتا ہے۔ جبکہ یہ لوگ جھگڑ رہے ہوتے ہی اللہ کے بارے میں یعنی جس پر چاہتا ہے۔ اس کی وحدانیت مطلقہ اور قدرت کاملہ کے بارے میں۔ توعین غفلت اور بےخوفی کے اس عالم میں ان کو دھر لیا جاتا ہے۔ اور یہ اپنے اس آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں جس سے واپسی کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں رہتی۔ سو یہ ایک طبعی امر ہے کہ انسان جب خداوند قدوس کی یاد دلشاد سے غافل اور محروم ہوجاتا ہے تو وہ بےفکر اور لاپرواہ ہوجاتا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ لایعنی بحثوں اور بیکار باتوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ خود حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی ذات وصفات، اس کے حقوق واختیارات اور اس کے فرامین وارشادات کے بارے میں جھگڑنے اور کٹ حجتیوں سے کام لینے لگتا ہے۔ سو خدا فراموشی کا نتیجہ خود فراموشی اور اس کا اتمام دائمی ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اسی لیے ارشاد فرمایا گیا (ولا تکونوا کالذین نسوا اللہ فانساھم انفسہم الئک ہم الفاسقون) یعنی تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا، جس کے نتیجے میں یہ اپنی جانوں سے غافل ہوگئے۔ یہی لوگ ہیں فاسق اور بدکار۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

اسی کو پکارنا برحق ہے، اور جن ہستیوں کو یہ لوگ پکارتے ہیں اس کے سوا وہ ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکتیں، مگر جیسے کوئی اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے کہ وہ خودبخود اس کے منہ میں آجائے، حالانکہ (اس طرح) وہ کبھی بھی اس کے منہ تک پہنچنے والا نہیں، اور کافروں کا پکارنا محض گمراہی میں (اور سراسر اکارت) ہے،3

42۔ اللہ ہی کو پکارنا برحق ہے : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا اور حصروقصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ معبود برحق بہرحال وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سو ان سب دلائل وبراہین سے ثابت اور واضح ہوگیا کہ حاجت رواومشکل کشا وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ نیز ہدایت وارشاد کی جس راہ کی طرف وہ اپنے بندوں کو بلاتاپکارتا ہے، وہی راہ راہ حق اور طریق صدق وصواب ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا (ان ھدی اللہ ھو الھدی) الفاظ کا عموم اگرچہ ان دونوں مفہوموں کو شامل ہے لیکن سیاق کلام کے لائق پہلا مفہوم ہی ہے کہ حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے اسی کو پکارنا برحق ہے۔ وہی ہر کسی کو پکارکوسنتا اور اس کی حاجت کو پورا فرماتا ہے۔ اسی لئے اس دعوت حق کی تفسیر کلمہ توحید " لا الہ الا اللہ " سے کی گئی ہے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان اور مدارک التنزیل وغیرہ ) ۔ سو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارنا حق۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 43۔ معبودان من دون اللہ کی بےحقیقی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن ہستیوں کو یہ لوگ پکارتے ہیں اللہ کے سوا وہ ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکتیں کہ لکڑی، پتھر کے بت تو ہیں ہی جمادلایعقل، جن میں سننے سمجھنے کی سرے سے کوئی صلاحیت ہی نہیں، اس لیے ان کے کام آنے کا تو سرے سے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ رہ گئیں دوسری نیک ہستیاں اور اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے۔ تو وہ بھی محض اسباب کے دائرے کے اندر اور اپنی زندگی ہی میں سن اور سمجھ سکتے ہیں۔ اور کسی کے کچھ کام آسکتے ہیں۔ اسباب سے ماوراء اور دوردراز مسافت سے غائبانہ طور پر یا مرنے کے بعد سننا اور کسی کے کام آنا ان کے بس میں بھی نہیں ہے۔ کہ اسباب و وسائل کے ماوراء ایسا سننا اور قبول کرنا صرف خداوند قدوس ہی کی شان اور اسی کے ساتھ خاص ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ان کو پکار کر اور ان کی پکار اور حاجت روائی ومشکل کشائی پر بھروسہ کرکے اللہ تعالیٰ سے منہ موڑنے اور غفلت برتنے والے سخت دھوکے اور کھلے خسارے میں ہیں۔ 44۔ رد شرک کے لیے ایک واضح اور عمدہ مثال : سو اس مثال سے واضح فرما دیا گیا کہ سو جس طرح پکارنے سے پانی پیاسے کے منہ تک نہیں پہنچ سکتا اسی طرح غیر اللہ کی طرف سے اس کے پکارنے پر اس کی کوئی حاجت روائی کے لیے پکارے جانے والے غیر اللہ بھی اپنے پکارنے والے کی دعاء وپکار سے بیخبر ہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا (وہم عن دعائہم غفلون) یعنی وہ ان لوگوں کی دعاء وپکار سے بالکل غافل اور بیخبر ہیں (الاحقاف : 5) سو ان کو پتہ نہیں کہ کون ان کو پکاررہا ہے اور ان سے وہ کیا مطالبہ کررہا ہے کہ ان کے اندر بھی سننے سمجھنے کی کوئی اہلیت اور صلاحیت ہی نہیں۔ افسوس کہ اس طرح کی تصریحات کے باوجود کلمہ گو مشرک جگہ جگہ غیر اللہ کو پکارتا اور طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتا ہے۔ 45۔ کافروں کا پکارنا محض گمراہی اور سراسراکارت : کہ جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں ان میں کسی کی دعاء وپکار کو سننے اور قبول کرنے کی کوئی صلاحیت سرے سے ہے ہی نہیں۔ مگر کفر و شرک نے ان لوگوں کی مت ایسی مار کر رکھ دی ہے کہ ان کو یہ واضح حقیقت بھی سمجھ نہیں آرہی اور ان کو یہ خیال بھی نہیں آتا کہ ایسی بےحقیقت چیزوں کو پکار کر یہ اپنے لیے کیسی بڑی ہلاکت اور تباہی کا سامان کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور جس کی پکار برحق اور جس کو پکارنا برحق ہے (لہ دعوۃ الحق) اس کو پکارنے کی توفیق وسعادت سے تو ایسے بدبخت محروم ہیں تو پھر ان کی بےجا اور بےمحل پکار کا کوئی نتیجہ آخر کس طرح نکل سکتا ہے ؟ اور ان کی پکار کے صدا بصھرا ہونے میں کیا شک وشبہ ہوسکتا ہے ؟ سو ان کی حالت اس پیاسے ہی کی طرح ہے جو پیاس کی شدت اور اس کی بےقراری میں اپنے دونوں ہاتھ ایسے پانی کی طرف بڑھائے اور پھیلائے ہوئے ہو جو اس کی پہنچ سے باہر ہو۔ سو جس طرح وہ پیاس سے تڑپتا اور پانی سے محروم ہی رہتا ہے اسی طرح ان کافروں اور منکروں کی دعاء وپکار بھی محض اکارت اور بیکار ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔