Explained with ayahs 3–4
عالم سفلی کے انواع واقسام
اوپر کی آیت میں عالم علوی کا بیان تھا، یہاں علم سفلی کا ذکر ہو رہا ہے، زمین کو طول عرض میں پھیلا کر اللہ ہی نے بچھایا ہے۔ اس میں مضبوط پہاڑ بھی اسی کے گاڑے ہوئے ہیں، اس میں دریاؤں اور چشموں کو بھی اسی نے جاری کیا ہے۔ تاکہ مختلف شکل وصورت، مختلف رنگ، مختلف ذائقوں کے پھل پھول کے درخت اس سے سیراب ہوں۔ جوڑا جوڑا میوے اس نے پیدا کئے، کھٹے میٹھے وغیرہ۔ رات دن ایک دوسرے کے پے در پے برابر آتے جاتے رہتے ہیں، ایک کا آنا دوسرے کا جانا ہے پس مکان سکان اور زمان سب میں تصرف اسی قادر مطلق کا ہے۔ اللہ کی ان نشانیوں، حکمتوں، اور دلائل کو جو غور سے دیکھے وہ ہدایت یافتہ ہوسکتا ہے۔
زمین…
Read the full tafseer →سورة الرَّعْد 9
یعنی ساری زمین کو اس نے یکساں بنا کر نہیں رکھ دیا ہے بلکہ اس میں بیشمار خطے پیدا کردیے ہیں جو متصل ہونے کے باوجود شکل میں، رنگ میں، مادہ ترکیب میں، خاصیتوں میں، قوتوں اور صلاحیتوں میں، پیداوار اور کیمیاوی یا معدنی خزانوں میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ان مختلف خطوں کی پیدائش اور ان کے اندر طرح طرح کے اختلافات کی موجودگی اپنے اندر اتنی حکمتیں اور مصلحتیں رکھتی ہے کہ ان کا شمار نہیں ہو سکتا۔ دوسری مخلوقات سے قطع نظر، صرف ایک انسان ہی کے مفاد کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انسان کی مختلف اغراض و مصالح اور زمین کے ان خطوں کی گونا گونی کے درمیان جو…
Read the full tafseer →وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاۗءٍ وَّاحِدٍ ۣ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ یعنی پھر زمین میں بہت سے قطعے آپس میں ملے ہوئے ہونے کے باوجود مزاج اور خاصیت میں مختلف ہیں کوئی اچھی زمین میں مختلف ہیں کوئی اچھی زمین ہے کوئی کھاری کوئی نرم کوئی سخت کوئی کھیتی کے قابل کوئی باغ کے قابل اور ان قطعات میں باغات ہیں انگور کے اور کھیتی ہے اور کھجور کے درخت ہیں جن میں بعض ایسے ہیں کہ ایک تنے سے اوپر جا کردو تنے ہوجاتے ہیں اور بعض میں ایک ہی تنہ رہتا ہے۔
اور یہ سارے پھل اگرچہ ایک ہی زمین سے…
Read the full tafseer →وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاۗءٍ وَّاحِدٍ ۣ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۔
زمین کی نشانیوں کے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ : یہ زمین کی نشانیوں کے ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلائی کہ دیکھتے ہو کہ زمین کے بالکل پاس پاس کے قطعے ہیں، بعض میں انگور کے باغ ہیں، بعض میں کھیتیاں ہیں، بعض میں کھجور ہیں، جن میں بعض کے تنے اکہرے ہیں، بعض کے دوہرے، ٹکڑے پاس پاس کے ہیں، سیراب سب ایک ہی پانی سے ہوتے ہیں، لیکن پیداوار کی مقدار میں فرق ہوجاتا…
Read the full tafseer →4۔ 1 متجورات۔ ایک دوسرے کے قریب اور متصل یعنی زمین کا ایک حصہ شاداب اور زرخیز ہے۔ خوب پیداوار دیتا ہے اس کے ساتھ ہی زمین شور ہے، جس میں کسی قسم کی بھی پیدا نہیں ہوتی۔
4۔ 2 صنوان۔ کے ایک معنی ملے ہوئے اور غیر صنوان۔ کے جداجدا کیے گئے ہیں دوسرا معنی صنوان، ایک درخت، جس کی کئی شاخیں اور تنے ہوں، جیسے انار، انجیر اور بعض کھجوریں۔
4۔ 3 یعنی زمین بھی ایک، پانی، ہوا بھی ایک۔ لیکن پھل اور غلہ مختلف قسم اور ان کے ذائقے اور شکلیں بھی ایک دوسرے سے مختلف۔
Read the full tafseer →7: یعنی پاس پاس ہونے کے باوجود زمین کے مختلف حصوں کی خصوصیات میں فرق ہوتا ہے زمین کا ایک قطعہ کاشت کے لائق ہے، مگر اس کے بالکل برابر والا کاشت کے لائق نہیں۔ ایک حصے سے میٹھا پانی نکل رہا ہے۔ مگر اس کے قریب ہی دوسرے حصے سے کھارا پانی بر آمد ہوتا ہے۔ ایک قطعہ نرم ہے اور دوسرا سنگلاخ۔
8: یعنی کسی درخت سے زیادہ پھل نکلتے ہیں کسی سے کم، کسی کا ذائقہ بہت اچھا ہوتا ہے، اور کسی کا اتنا اچھا نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
آیت نمبر 2 تا 7
آسمان کیا ہیں اور ان کا مفہوم مختلف ادوار میں لوگ کیا سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے ، لیکن یہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ ایک عظیم منفر اور عظیم کائنات ہے۔ جب بھی کوئی ان پر غور کرتا ہے اور معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی عظمت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ پھر یہ سب نظام کسی ظاہری سہارے کے بغیر قائم ہے۔ جس طرح اس زمین پر کوئی چیز بغیر سہارے کے نہیں ہوتی ، ایسا سہارا جو ہمیں نظر آئے۔ بغیر عمد ترو نہا۔
یہ اس پوری کائنات کی تصویر کشی کے سلسلے میں پہلا ٹچ ہے اور انسانی وجدان اور قوت مدرکہ کے لئے یہ ایک پہلی ضرب ہے ، خصوصاً جبکہ انسان اس عظیم کائنات پر غور کر رہا ہو اور وہ سوچے کہ…
Read the full tafseer →6 بلند آسمانوں کے مقابل پست زمین کا ذکر کیا۔ آسمان کے ساتھ چاند سورج کا بیان ہوا تھا کہ ہر ایک کی رفتار الگ ہے اور ہر ایک کا کام جداگانہ ہے۔ ایک کی گرم و تیز شعاعیں جو کام کرتی ہیں دوسرے کی ٹھنڈی اور دھیمی چاندنی سے وہ بن نہیں پڑتا۔ اسی طرح یہاں زمین کے مختلف احوال اور اس سے تعلق رکھنے والی مختلف چیزوں کا ذکر فرمایا۔ کہیں پہاڑ کھڑے ہیں کہیں دریا رواں ہیں، جو میوے اور پھل پیدا ہوتے ہیں ان میں بھی شکل، صورت، رنگ، مزہ، چھوٹے بڑے بلکہ نر و مادہ کا اختلاف ہے۔ کبھی زمین دن کے اجالے سے روشن ہوجاتی ہے کبھی رات کی سیاہ نقاب منہ پر ڈال لیتی ہے پھر طرفہ تماشا یہ ہے کہ چند قطعات زمین جو ایک دوسرے سے متصل…
Read the full tafseer →وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ
ایک ہی زمین میں ایک ہی جڑ سے کھجور کے دو درخت اگتے ہیں ‘ دونوں کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے لیکن دونوں کے پھلوں کا اپنا اپنا ذائقہ ہوتا ہے۔
اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ
یہ التذکیر بالآء اللّٰہ کا انداز ہے جس میں بار بار اللہ کی قدرتوں نشانیوں اور نعمتوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →8 نباتات میں بیشمار مماثلتوں کے باوجود اختلاف۔ اللہ تعالیٰ کی حیران کن قدرتوں میں سے ایک یہ ہے کہ کھیت ایک ہی جگہ واقع ہوتے ہیں۔ ان میں بیج ایک جیساڈالا جاتا ہے۔ پانی اسپر ایک ہی برستا ہے یا ایک ہی طرح کے پانی سے آبپاشی کی جاتی ہے۔ مگر ایک کھیت میں فصل اعلیٰ درجہ کی پیدا ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ملے ہوئے کھیت میں فصل بھی کم ہوتی ہے اور ناقص بھی۔ اسی طرح مثلاً کھجور کے دو درخت ہیں مگر ان کی جڑ ایک ہی ہے، اوپر سے دو ہوگئے۔ اب ایک ہی جڑ زمین سے پانی کھینچ کر دونوں درختوں کو تر و تازہ رکھ رہی ہے اور انھیں بارآور ہونے میں تقویت پہنچا رہی ہے۔ مگر ایک درخت کے پھل کا ذائقہ الگ ہے اور دوسرے کا الگ۔…
Read the full tafseer →8۔ (آیت) ” قطع متجورت “۔ یعنی زمین کے یہ قطعے ہوتے تو پاس ہی پاس ہیں لیکن اثرات کے لحاظ سے مختلف۔ حاصل ان سب مثالوں کا یہ ہے کہ مؤثر ات مادی ایک ہی ہوتے ہیں، اور پھر بھی اثرات مختلف ہوتے ہیں طبیعت ایک اور حکم مختلف یہ سب اس لیے کہ فاعل حقیقی کوئی اور ہی ہے، اس میں رد آگیا ان ” نیچری “ مذاہب کا جو کائنات کو محض قوانین طبعی کا (بغیر کسی قانون گروقانون ساز کے) مقیدہ محکوم سمجھتے ہیں۔ (آیت) ” لایت لقوم یعقلون “۔ ان سب واقعات میں جو روزانہ مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں رد شرک اور اثبات توحید کے پورے پورے دلائل موجود ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 7
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے، المر، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیتیں قرآن کریم کی آیتیں ہیں اور (آیاتُ الکتاب) میں اضافت بمعنی مِنْ ہے اور جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے اتارا جاتا ہے سب حق ہے (یعنی) اس میں کوئی شک نہیں ہے، (وَالَّذِیْ اُنزلَ اِلیک الخ) مبتداء ہے اور الحقُّ اس کی خبر ہے، لیکن اکثر لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے کہ یہ منجانب اللہ ہے اور وہ اہل مکہ ہیں، اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر بلند فرمایا جو تم کو نظر آتے ہوں، العمد، عمادٌ کی جمع ہے اور وہ ستون ہیں اور عدم…
Read the full tafseer →وفی الارض قطع متجورات اور زمین میں پاس پاس ملے ہوئے (مختلف) قطعات ہیں۔ کوئی عمدہ (اور پیداواری) ہے اور کوئی شوریلا نمکین ‘ کوئی نرم ‘ کوئی سخت ‘ کوئی کھیتی کرنے کے قابل ہے مگر درخت بونے کے قابل نہیں اور کوئی درختوں کی سرزمین ہے ‘ کھیتی کے ناقابل۔ کسی میں سبزہ کم ہے (یا بنجر ہے) اور کوئی سبزہ زار ہے۔ اگر یہ فعل قادر مختار اور صانع حکیم کا نہیں تو پھر یہ اختلاف کیوں ہے اور کیوں خواص میں تفاوت ہے ؟ زمین کی طبیعت ایک ہی ہے ‘ لوازم طبیعت بھی یکساں ہیں ‘ سماوی اسباب کی تاثیر بھی ایک ہی جیسی ہے ‘ وضع اور نسبت میں بھی کوئی فرق نہیں ‘ پھر سوائے اس کے کہ ایک قادر مختار کی مشیّت کی کارفرمائی قرار دی…
Read the full tafseer →(4) اور زمین میں پاس پاس مختلف قطعے ہیں کہ کھاری اور خراب زمین کا حصہ ہے اور اسی کے ساتھ صاف شیریں اور ٹھنڈی زمین کا حصہ ہے کہ یہ حصے ایک دوسرے سے ملحق ہیں اور انگوروں کے باغ ہیں اور مختلف کھیتیاں ہیں اور کھجور کے درخت ہیں کہ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ نیچے سے ایک ہی جڑ ہے اور اوپر جا کر دس اور اس سے زیادہ اور کم جڑیں ہوجاتی ہیں اور بعض میں جڑیں جدا جدا نہیں ہوتیں بلکہ ایک ہی جڑ رہتی ہے، سب کو بارش یا نہر ہی کا پانی دیا جاتا ہے، اس کے باوجود ہم ایک کو دوسرے پر وزن اور لذت میں فوقیت دیتے ہیں اور ان مزوں اور رنگوں کے اختلافات ہیں ان حضرات کے لیے دلائل ہیں جو ان تمام چیزوں کی منجانب اللہ ہونے…
Read the full tafseer →وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ۔۔ : ”قِطَعٌ“ ”قِطْعَۃٌ“ کی جمع ہے، بمعنی ٹکڑے۔”مُّتَجٰوِرٰتٌ“ ”جِوَارٌ“ (ہمسائیگی) سے باب تفاعل کا اسم فاعل ہے، یعنی ساری زمین ایک جیسی نہیں، کوئی ٹکڑا زرخیز زمین کا ہے کوئی شور کا، کوئی نرم زمین ہے کوئی پتھریلی اور یہ سب قطعے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں، اب اسی زمین میں کسی علاقے میں کوئی کھیتی اور پھل پیدا ہوتا ہے کسی میں کوئی، اور اسی میں انگوروں (اور دوسرے پھلوں) کے باغات ہیں (قرآن کا اختصار دیکھیے کہ صرف انگوروں کا ذکر کرکے باقی باغات سننے والے کی سمجھ پر چھوڑ دیے) اور کھیتی ہے (اس میں ہر کھیتی آگئی) اور کھجوروں کے درخت دو قسم کے ہیں (”صِنْوَانٌ“…
Read the full tafseer →آیت نمبر 4
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : وفی الارض قطع متجورت کلام میں فرق ہے : معنی ہوگا : وفی الارض قطع متجا ورات وغیر متجاورت جس طرح فرمایا : سرابیل تقیکم الحر (النحل :81) جبکہ مطلب ہے سرابیل تقیکم الخروتقیکم البرد پھر وغیرہ متجاورات کو سامع کے علم کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے۔ المتج اور ات سے مراد شہر اور وہ علاقے ہیں جو آباد ہوں اور غیر متجاورات سے مراد صحراء اور غیر آباد علاقے ہیں۔
مسئلہ نمبر 2: قولہ تعالیٰ : متجورات سے مراد قریب قریب کے شہر ہیں، ان کی مٹی ایک ہے، ان کا پانی ایک ہے، ان میں کھیتیاں اور باغات ہیں لیکن پھلوں اور کھجوروں میں واضح فرق ہے۔ بعض پھل میٹھے…
Read the full tafseer →قدرت کی نشانیاں :
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وفی الارض قطع متجورت “ سے مراد ہے کہ اچھی اور عمدہ زمین اللہ تعالیٰ کے حکم سے فصل اگاتی ہے جبکہ اس کے پڑوس میں ایسی زمین ہے جو شور والی ہے اس پر کوئی فصل نہیں اگتی حالانکہ یہ دونوں ایک ہی زمین ہیں اور ان دونوں کا پانی بھی ایک ہی ہے جو نمکین ہے۔ اور میٹھا ہے لیکن ایک کو دوسری پر فضیلت دی گئی ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ زمین میں پانی نہیں ہے مگر جو نازل ہوتا آسمان سے لیکن زمین کی تہیں اسے تبدیل کردیتی ہیں۔ جو شخص ارادہ کرے کہ نمکین بدل جائے میٹھے میں تو…
Read the full tafseer →[وَفِي الْاَرْضِ : اور زمین میں ] [ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ: باہم متصل قطعات ہیں ] [ وَّجَنّٰتٌ: اور باغات ہیں ] [ مِّنْ اَعْنَابٍ : انگوروں میں سے ] [وَّزَرْعٌ: اور کھیتی ہے ] [ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَان : اور ایک جڑے کئی شاخوں والے کھجور ہیں ] [ وَّغَيْرُ صِنْوَان : اور کئی بغیر شاخوں والے ہیں ] [ يُّسْقٰى: ان کو پلایا جاتا ہے ] [ بِمَاۗءٍ وَّاحِدٍ : ایک (ہی) پانی ] [وَنُفَضِّلُ : اور (پھر) ہم فضیلت دیتے ہیں ] [ بَعْضَهَا : ان کے بعض کو ] [عَلٰي بَعْضٍ : بعض پر ] [ فِي الْاُكُلِ : پھلوں (کے ذائقے) میں ] [ ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [لَاٰيٰتٍ : یقینا نشانیاں ہیں ] [ لِقَوْمٍ : اپنے لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
منکرین بعث کا انکار لائق تعجب ہے ‘ ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ اگر آپ کو مخاطبین کے انکار قیامت سے تعجب ہے تو آپ کا تعجب واقعی برمحل ہے ‘ ان کا یہ قول تعجب کے لائق ہے کہ جب ہم مر کر خاک ہوجائیں گے تو کیا پھر نئے سرے سے ہماری پیدائش ہوگی ‘ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہرے ان کے سامنے ہیں ان کے ہوتے ہوئے پھر تعجب کر رہے ہیں کہ ہم کیسے زندہ ہوں گے ‘ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ہم خود اور ہمارے آباؤ اجداد موجود نہیں تھے سب کو خالق جل مجدہ نے پیدا فرمایا ہے نطفہ سے ‘ نطفہ بھی بےجان ہے جس نے نطفہ میں جان ڈال دی وہ اس پر بھی قادر ہے کہ مٹی سے دوبارہ پیدا فرما دے اور مٹی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
استدلال باحوال عالم سلفی
قال اللہ تعالیٰ وہوالذی مد الارض۔۔۔۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون
(ربط) اوپر کی آیتوں میں عالم علوی کی چیزوں سے اس کی وحدانیت اور الوہیت پر استدلال تھا یعنی آسمانوں اور چاند اور سورج کے احوال سے استدلال کا ذکر تھا ان عالم سفلی کے چیزوں کے احوال سے یعنی زمین سے اور اس کی پیداوار سے اور لیل ونہار کے اختلاف سے استدلال فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور وہ اللہ وہی ہے جس نے زمین کو اتناپھیلایا کہ بیشمار مخلوق اس پر چل سکے اور اتنا وسیع بنایا کہ آج تک اس کے مبداء اور انتہاء کا علم نہ ہوسکا اور اس پر بسنے والی مخلوق کا زرق اور سامان معیشت سب اسی میں ودیعت رکھ دیا…
Read the full tafseer →5:۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ایک بین اور واضح ثبوت ہے کہ زمین کے ساتھ ساتھ واقع ٹکڑوں میں اس نے مختلف خاصیتیں ودیعت فرما دی ہیں کوئی زخریز ہے کوئی بجر، کوئی سخت ہے اور کوئی نرم۔ ” صنوان “ صنوٌ کی جمع ہے جس سے مراد وہ درخت ہے جس کی جڑ ایک ہو اور اس سے بہت سی شاخیں پھوٹ نکلیں۔ یہ بھی قدرت الٰہی کا کرشمہ ہے کہ ایک ہی زمین میں پیدا ہونے والے کھجور کے درخت بعض شاخدار ہوتے ہیں اور بعض غیر شاخدار پھر سب کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے مگر ان کا پھل کم و بیش ہوتا ہے اور بو اور ذائقہ وغیرہ میں بھی مختلف ہوتا پہلی عقلی دلیل ختم ہوئی۔ دلیل کے تمام اجزاء میں حصر ہے یعنی یہ تمام امور صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(ربط آیات)
سورة رعد میں اللہ تعالیٰ نے بنیادی عقائد توحید رسالت ، اور قیامت کا ذکر فرمایا ہے ، البتہ اس سورة کا ایک خصوصی موضوع حق و باطل کی کشمکش ہے ، پہلی آیت میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کو بیان کیا گیا ، اس کے بعد دلائل قدرت میں سے علویات کا ذکر ہوا اور اللہ نے آسمانوں کی تخلیق اور عرش کو بغیر ستونوں کے قائم کرنے کا ذکر کیا ، سورج اور چاند کی تسخیر کا ذکر کرکے اللہ نے پوری کائنات پر اپنے کنڑول اور تسلط کا اظہار فرمایا ، ان بڑی بڑی چیزوں کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت پر دلیل قائم کی اور سمجھایا کہ ہر شخص کو اپنے اپنے اعمال کی جوابدہی کرنا ہوگی ۔
اب آج کے درس میں آیات سفلیہ کو…
Read the full tafseer →وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاۗءٍ وَّاحِدٍ ۣ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ
قطع
القَطْعُ : فصل الشیء مدرکا بالبصر کالأجسام، أو مدرکا بالبصیرة كالأشياء المعقولة، فمن ذلک قَطْعُ الأعضاء نحو قوله : لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] ،
( ق ط ع ) القطع
کے معنی کسی چیز کو علیحدہ کردینے کے ہیں خواہ اس کا تعلق حاسہ بصر سے ہو جیسے اجسام اسی سے اعضاء کا قطع کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَأُقَطِّعَنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : تلک مبتد آیات الکتاب خبر اور ممکن ہے کہ المرا کی خبر ہو اور آیات بدل یا عطف بیان والذی الخ مبتدا الحق خبر اور ممکن ہے کہ والذی الکتاب کی صفت اور واؤ درمیان آیا اور الحق مبتدا محذوف کی خبر ہو۔ بغیر عمد موضح نصب میں حال ہو کر اے حالیۃً عن عمد والعمد بالفتح جمع عماد اور عمود۔ ترونہا ضمیر اگر عمد کی طرف راجع ہے تو موضع جر میں ہے صفت عمد کی اور اگر السموات کی طرف تو اس سے حال ہوگا جیسا کہ یدبر ضمیر سخر سے اور یفصل ضمیر یدبر سے حال ہے۔ قطع مبتدا فی الارض خبر یا قطع ظرف کا فاعل وزرع معطوف ہے قطع پر۔ صنوان جمع صنو جیسا کہ قنوان قنو کی جمع ہے ای النخلات یجمعھا اصل واحد وتنشعب فروعہا فی الاکل…
Read the full tafseer →وَفِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰ تٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰی بِمَآئٍ وَّاحِدٍ قف وَنُفَضِّلُ بَعْضَھَا عَلٰی بَعْضٍ فِی الْاُکُلِ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰ یٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۔ (سورۃ الرعد : 4)
(اور زمین میں پاس پاس زمین کے خطے ہیں، انگوروں کے باغات ہیں، کھیتی ہے اور کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ جڑواں ہیں اور کچھ اکہرے۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب کیے جاتے ہیں لیکن ہم پیداوار میں ایک کو دوسرے پر ترجیح دے دیتے ہیں۔ بیشک اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں) ۔
زمین کی نشانیوں کے ایک اور پہلو کی طرف…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پہاڑوں کے بعد نباتات کا بیان جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر ہونے کے ساتھ لوگوں کے لیے خوراک اور بیشمار فوائد کی حامل ہے۔
قرآن مجید نے پہلی دفعہ لوگوں کے سامنے یہ حقیقت پیش کی کہ جس طرح جاندار چیزوں کے جوڑے ہیں ویسے ہی پودوں، درختوں اور پوری نباتات کے جوڑے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے پھولوں کے بھی جوڑے پیدا کیے گئے ہیں۔ ایک ہی قسم کا پھل ہونے کے باوجود کوئی میٹھا ہے، کوئی کڑوا، کوئی ترش اور کوئی پھیکا ہے۔ ایک ناقص ہے اور ایک اعلیٰ قسم کا اور نہایت قیمتی اور مفید ہے۔
پرانے زمانے کے انسان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ پودوں میں بھی جانوروں کی طرح نر اور مادہ ہوتے ہیں۔ البتہ جدید…
Read the full tafseer →4: وَفِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ (اور زمین میں پاس پاس ملے ہوئے زمین کے ٹکڑے ہیں) زمین کے قطعات مختلف ہیں حالانکہ وہ بالکل قریب قریب ملے ہوئے ہیں۔ کوئی عمدہ پیدا وار والے اور شوریلے کوئی عمدہ اور کوئی کم پانی والے کوئی سخت اور کوئی نرم۔ یہ اس بات پر دلیل ہے کہ اسکی تدبیر کرنے والا قدرت و ارادہ والا ہے۔ وہ افعال کو اپنی مرضی سے ایک سے دوسرے انداز میں ڈھال دینے والا ہے اور وَجَنّٰتٌ (اور باغات) جَنّٰتٌ کا عطف قِطَعٌ ؔ پر ہے۔ یعنی زمین میں باغات ہیں الاٰیۃ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ (انگوروں کے اور کھیتیاں اور کھجوریں دو شاخ والی اور ایک تنے…
Read the full tafseer →4۔” و فی الارض قطع متجاورات “ یعنی وہ بعض بعض کے ساتھ قریب قریب ہیں ۔ بعض زمین اگانے کے قابل ہے اور بعض زمین بنجر ہے جو کوئی چیز اگا نہیں سکتی اور کسی زمین میں سزہ کم ہے اور کسی زمین میں سبزہ زیادہ ہوتا ہے۔ ” وجنات “ اور اس میں باغات بھی ہیں ۔ ” من اعناب وزرع و نخیل صنوان “ ابن کثیر ابو عمر حفص یعقوب کے نزدیک یہ مرفوع ہیں اور جنات پر عطف ہے اور بعض حضرات نے ان کو مجرور پڑھا ہے۔ اس صورت میں اعناب پر عطف نسق ہوگا ۔ صنوان جمع ہے صنو کی ۔ اس کھجور کو کہا جاتا ہے جن کی جڑیں تو ایک ہوں اور اوپر شاخیں مختلف ہوں۔ ” وغیر صنوان “ اس سے مراد وہ اکیل کھجور جو ایک ہی تنے پر کھڑی ہو ۔ اہل تفسیر کا قول ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3۔ 4۔ اس سے اوپر کی آیت میں اللہ جل شانہ نے آسمان کا حال بیان فرمایا تھا اس آیت میں زمین میں اپنی قدرت کا حال بیان فرمایا کہ اللہ نے زمین کو پھیلا دیا۔ لمبائی اور چوڑائی میں پہاڑوں کے بوجھ رکھ دئیے اور اس میں جا بجا نہریں اور ندیاں دریا سمندر جاری کئے تاکہ زمین کی پیداوار کو مناسب موقع پر پانی پہنچتا رہے۔ اور ہر طرح کے پھل میوے الگ الگ رنگ کے علیحدہ ذائقہ کے پیدا ہوں جس میں کوئی سرخ ہے تو کوئی زرد کوئی سیاہ کسی کا مزہ پھیکا ہے کسی کا میٹھا کسی کا کڑوا کسی کا کسیلا پھر رات تمام ہوئی اور دن آن موجود ہوا یہ سب خدا کی ایسی قدرت ہے کہ جو اس میں غور اور فکر کرتا ہے اسے خدا کی ہستی کا یقین ہوجاتا ہے…
Read the full tafseer →(وفی الارض قطع متجورت وجنت) ” اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور باغات “ اس کے کمال قدرت اور انوکھی صنعت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ زمین میں الگ الگ مگر ایک دوسرے سے متصل خطے پائے جاتے ہیں اور اس کے اندر باغات ہیں جن میں انواع و قاسام کے درخت ہیں (من اعناب وزرع ونخیل) ” انگور کے باغ “ کھیتیاں اور کھجور کے باغ ہیں “ اور یدگر پھل، اور کھجور کے باغات جن میں سے بعض (صنوان) ” ایک کی جڑ دوسری سے ملی ہوئی “ یعنی متعدد درخت ایک ہی جڑ سے پھوٹے ہیں (وغیر صنوان یسقی بمآء واحد) ” اور بعض بن ملی، ان کو پانی بھی ایک ہی دیا جاتا ہے “ یعنی تمام درخت ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
زمین کے خطے مختلف اقسام کے ہوتے ہیں
قول باری ہے (وفی الارض قطع متجاورات، اور دیکھو زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور ضحاک کا قول ہے کہ اس سے زمین شورا اور زمین شیریں مراد ہے۔ قول باری ہے (ونخیل صہنوان۔ کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ اکہرے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ حضرت براء بن عازب ؓ ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ کھجور کے ایسے درخت جن کی جڑیں اکہری ہوں۔ قول باری ہے (یسقی بماء واحد و نفضل بعضھا علی بعض فی الاکل۔ سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کمتر) آیت میں ان لوگوں کے قول کے بطلان کی واضح ترین دلالت موجود ہے جو کہتے…
Read the full tafseer →13۔ غور و فکر کی عظمت و اہمیت کا ذکر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان چیزوں کے اندر بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان کے لیے جو غوروفکر سے کام لیتے ہیں " اور وہ سوچتے ہیں کہ یہ سب کچھ اس پر حکمت طریقے سے کس نے پیدا کیا اور اس کا ہم پر کیا حق ہے ؟ اور اس کا یہ حق ہمیں کس طرح ادا کرنا چاہئے ؟ تو اس ارشادربانی میں ایک طرف تو غوروفکر کی دعوت اور اس کی تحریک ہے اور دوسری طرف اس میں یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ غور و فکر کا موقع ومحل کیا ہے ؟ یعنی مخلوق نہ کہ حضرت خالق۔ جل وعلا۔ کہ وہ ہمارے دائرہ غور و فکر سے بالا اور وراء الوراء ہے۔ پس صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کی مخلوق اور اس کائنات میں چہارسو پھیلی بکھری ان نشانیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
اللہ کی تخلیقات اور آخرت کا انکار کرنیوالوں کا انجام
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رب اور خالق ہونے کے دلائل بیان فرمائے ہیں اس دنیا کا اور تمام کائنات کا خالق اور قادر مطلق اللہ تعالیٰ ہے اس کی بنائی ہوئی تخلیقات انتہائی حیران کن ہیں اور انسان کے لیے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس کو چھت کے طور پر آسمانوں کا سایہ دیا، آسمان کی تخلیق اس قدر حیرت انگیز ہے کہ اس کی تعمیر کے لیے کسی ستون یا کھمبے کی ضرورت نہیں پڑی یہ بیان تو ایک عام، بےعلم انسان کے لیے ہے مگر علم و فضل رکھنے والے انسان کے لیے یہاں بہت بڑی سائنسی اصطلاح اور ایک بہت بڑا اصول بیان کردیا گیا ہے۔ کیونکہ جب آسمان، زمین،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الرعد :
رکوع نمبر 1 :
اسرارومعارف :
(آیت) ” الم ، تلک ایت الکتب۔ 1 تا 7 ۔ یہ سورة مبارکہ بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے اور سورة یوسف کے آخر کا مضمون یعنی توحید باری کا ثبوت اور نبوت کی حقانیت ہی کے دلائل کا تسلسل ہے کہ ارشاد ہوتا ہے کہ یہ مضامین ایک بےمثال کتاب میں ہیں جو اللہ کا ذاتی کلام ہے اور جو بجائے خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے کہ اس کی نظیر پیش کرنا انسانی بس میں نہیں اور جو کچھ اس میں فرمایا گیا ہے ، انسان کبھی اسے غلط ثابت نہیں کرسکتا اگرچہ اس میں دنیاوی امور کے بارے افزائش کے مسائل اور صورتیں سیاسیات ، اخلاقیات اور معاشیات تک بیان کی گئی ہیں واقعات عالم کے بارے…
Read the full tafseer →ف 10 ۔ یعنی وہ پانی تاثیر کے اعتبار سے ایک ہی قسم کا ہے۔
11 ۔ معلوم ہوا کوئی صانع حکیم اور قادر مدبر ہے جس کے تصر سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ قرآن نے ان دلائل کا ذکر مختل مقامات پر کیا ہے۔ (از روح) ۔
12 ۔ یعنی جو عقل سے کام لیتے ہیں اور جو عقل سے کام نہیں لیتے ان کے لئے کوئی نشانی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(13:4) قطع۔ قطعۃ۔ کی جمع۔ ٹکڑے۔
متجورت۔ اسم فاعل جمع مؤنث ۔ متجاورۃ واحد۔ تج اور (تفاعل) مصدر ۔ برابر۔ برابر باہم ملے ہوئے۔ اس کا مادہ جور ہے لیکن مختلف ابواب سے مختلف ابواب سے مختلف صلہ کے سبب ہر جگہ معنی میں اختلاف ہوجاتا ہے۔ مثلاً جار ہمسایہ۔ مددگار۔ شریک تجارت۔ پناہ دینے والا۔ پناہ پانے والا۔ پناہ چاہنے والا۔
جوار۔ ہمسائیگی۔ پناہ ۔ مکان کے آس پاس کا صحن۔
جور۔ راستی سے پھرجانا۔ راستہ سے مڑجانا۔ بشرطیکہ اس کے بعد عن آئے۔ اگر علی مذکور ہوگا جیسے جار علیہ تو ظلم کرنے کے معنی میں ہوگا۔
مجاورۃ۔ (مفاعلۃ) ہمسایہ ہونا۔ کسی کی پناہ میں ہوجانا۔
جوار۔ پناہ۔ امان۔ کسی کو پناہ دینا۔ قطع متجورت مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4:
انزل اتارا گیا الحق سچ رفع بلند کیا عمد ستون، سہارا استوی وہ برابر ہوا سخر اس نے مسخر کردیا، تابع کردیا اجل مسمی متعین مدت، مقرر مدت لقاء ملاقات مد اس نے پھیلا دیا رواسی بوجھ زوجین جوڑے ، دو دو یغشی چھا جاتا ہے قطع خطے، قطعات متجورت پاس پاس اعناب (عنب) انگور زرع کھیتی نخیل کھجور صنوان ایک جڑ والی یسقی سینچا جاتا ہے بماء واحد ایک پانی سے نفضل ہم بڑھا دیتے ہیں الاکل پیداوار پھل
تشریح آیت نمبر 1 تا 4
اس سورت کے دوسرے رکوع کی ایک آیت میں لفظ رعد آیا ہے اسی مناسبت سے نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے اس سورت کا نام ” الرعد “ رکھا ہے۔
رعد کے معنی بادلوں کی گرج کے آتے ہیں۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
آنحضرت ﷺ سے معجزہ طلب کرنے کا ذکر
اس آیت میں زمین کی نسبت اپنی قدرت کاملہ کا حال بیان فرمایا کہ اللہ نے زمین کو پھیلا دیا، لمبائی اور چوڑائی میں، پھر پہاڑوں کو میخیں بنا کر جڑ دیا تاکہ ہل جل نہ سکے اور اس میں جا بجا نہریں اور ندیاں دریا سمندر جاری کیے تاکہ زمین کی پیداوار کو مناسب مناسب موقع پر پانی پہنچتا رہے اور ہر طرح کے میوے الگ الگ رنگ اور ہر ذائقہ کے پیدا کیے۔ پھر رات تمام ہوئی دن آموجود ہوا۔ سب خدا کی ایسی قدرت ہے کہ انسان غور کرے تو خدا کی وحدانیت کا یقین ہوجاتا ہے۔ پھر فرمایا کہ زمین کو دیکھو ایک ٹکڑا ایک سے ملا ہوا ہے اس پر بھی کوئی ٹکڑا پتھریلا ہے کوئی شور والا اور کوئی پاکیزہ ہوتا…
Read the full tafseer →[3] یعنی ایک جڑ سے دو شاخیں یا دو درخت نکلے ہوئے۔
[4] یعنی کائنات ہستی کے ان تمام کارخانوں کا اس عجیب و غریب کارفرمائی کے ساتھ انتظام پانا کیا اس حقیقت کا اعلان نہیں ہے کہ یہاں ایک پرورش کنندہ اور مدبر ہستی موجود ہے اور یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ ہے ؟ اس میں رد آگیا ان '' نیچری '' مذاہب کا جو کائنات کو محض قوانین طبعی کا نتیجہ (بغیر کسی قانون ساز کے) سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(ف 1) ان آیات میں بھی دعوت غو وفکر ہے کہ یہ لوگ فکر وعقل سے اگر کام لیں تو یقینا مذہب سب کی پہنائیوں کو پالیں ، یہ غلط ہے کہ فلسفہ وعلوم کے مطالعہ سے انسان ملحد ہوجاتا ہے ، قرآن حکیم اور اسلام کے متعلق تو یہ نظریہ قطعی غلط ہے ، قرآن تو ہر قسم کے لوگوں کو عقل وفکر کی جانب پکار پکار کر مدعو کرتا ہے ، اور کہتا ہے ۔ زمین کے پھیلاؤ کو دیکھو ، پہاڑوں اور نہروں کے فوائد پر نظر دوڑاؤ پھلوں کے اقسام ملاحظہ کرو ، دن اور رات کو مشاہد کرو ، کیونکہ رات کی تاریکی دن کی تابندگی سے بدل جاتی ہے ، زمین کے مختلف قلمات تمہارے سامنے ہیں ، باغات ہیں کھیت ہیں انگوروں کی چھتریاں ہیں ، کھجوریں ہیں پھر اس پر جو کچھ…
Read the full tafseer →4 ۔ اور زمین میں مختلف کھیت اور قطعات ہیں جو ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور انگوروں کے باغ ہیں اور کھیتیاں ہیں اور کھجوروں کے درخت ہیں جن میں سے بعض دو شاخیں ہوتے ہیں اور بعض دو شاخے نہیں ہوتے۔
ان مذکورہ بالا نباتات کو ایک ہی قسم کا پانی دیا جاتا ہے اور ان میں سے ہم ایک دوسرے پر پھلوں میں برتری دیتے ہیں ان باتوں میں بھی ان لوگوں کے لئے توحید کے دلائل موجود ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں ۔ یعنی بعض درختوں میں زمین سے پھوٹتے ہی کتنی شاخیں ہوجاتی ہیں یا ایک تنے میں سے دوسرا تنا نکل آتا ہے اور بعض ایسے نہیں ہوتے بلکہ ایک ہی تنا چلا جاتا ہے ۔ بعض برابر دو درخت اگ جاتے ہیں نیچے سے جڑ ملی ہوتی ہے جیسے…
Read the full tafseer →ف 1۔ اوپر توحید کا اثبات تھا آگے جواب ہے کفار کے شبہات کے جو نبوت کے متعلق تھے مع وعید کے اور وہ تین شبہ تھے اول بعثت ونشر کو وہ لوگ محال سمجھتے تھے اور اس سے نفی نبوت پر استدلال کرتے تھے دوسرا شبہہ یہ تھا کہ اگر آپ نبی ہیں تو انکار نبوت پر جس عذاب کی آپ وعید سناتے ہیں وہ کیوں نہیں آتا تیسرا شبہہ یہ تھا کہ جن معجزات کی ہم فرمایش کرتے ہیں وہ کیوں نے ظاہر کیے جاتے۔ آیت وان تعجب میں اول شبہ کا رد ہے اور آیت ویستعجلونک میں دوسرے شبہ جواب اور آیت یقول الذین کفرا میں تیسرے شبہ کا جواب ہے۔
Read the full tafseer →زمین کے ٹکڑے بالکل ملے ہوئے لیکن فصلوں ‘ میووں اور پھلوں کا واضح فرق
8 ؎ ربوہیت الٰہی کی یہ کا فرمائی کہ زمین کی سطح ایک ہے مگر اس کے مختلف قطعات یکساں نہیں۔ سب ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں لیکن اپنی روئیدگی اور پیداوار کی مختلف خدمتیں انجام دے رہے ہیں۔ ایک قطع میں باغ ہیں ‘ ایک میں کھیت ہیں ‘ ایک میں نخلستان ہیں پھر اگر زمین ایک ہے اور ایک ہی پانی سے ہر قطع سیراب ہوتا ہے لیکن ہر درخت کا پھل یکساں نہیں کسی جگہ ایک ہی پھل اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے ‘ کسی جگہ ادنیٰ درجہ کا ‘ کسی کا مزہ کچھ ہوتا ہے کسی کا مزہ کچھ کائنات ہستی کے ان تمام کارخانوں کا اس نگرانی اور دقیقہ سیخی کے ساتھ نافع و کارآمد ہونا اور…
Read the full tafseer →In the fourth verse it was said:
وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِّنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَىٰ بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ
And in the earth there are tracts of land neighboring each other and gardens of grapes and farms and date-palms, having twin or single trunks, watered with one water. And We make some better than others in taste. Surely, in that there are signs for a people who understand.
Being pointed out here is that many tracts of land, despite being joined together, are different…
Read the full tafseer →9. That is, If you observe carefully, you will find divine wisdom, design and purpose in the diversity of the structure of the earth. Though it has countless regions adjoining one another, they are different from one another in their shapes, colors, component parts, characteristics, potentialities, productive capacity and source of minerals. This diversity has countless points of wisdom and advantage. Let alone other creatures, if we consider the diversity of regions from the point of the good it has done to mankind, we shall have to acknowledge that this is the result of the well thought and…
Read the full tafseer →