Explained with ayahs 3–4
عالم سفلی کے انواع واقسام
اوپر کی آیت میں عالم علوی کا بیان تھا، یہاں علم سفلی کا ذکر ہو رہا ہے، زمین کو طول عرض میں پھیلا کر اللہ ہی نے بچھایا ہے۔ اس میں مضبوط پہاڑ بھی اسی کے گاڑے ہوئے ہیں، اس میں دریاؤں اور چشموں کو بھی اسی نے جاری کیا ہے۔ تاکہ مختلف شکل وصورت، مختلف رنگ، مختلف ذائقوں کے پھل پھول کے درخت اس سے سیراب ہوں۔ جوڑا جوڑا میوے اس نے پیدا کئے، کھٹے میٹھے وغیرہ۔ رات دن ایک دوسرے کے پے در پے برابر آتے جاتے رہتے ہیں، ایک کا آنا دوسرے کا جانا ہے پس مکان سکان اور زمان سب میں تصرف اسی قادر مطلق کا ہے۔ اللہ کی ان نشانیوں، حکمتوں، اور دلائل کو جو غور سے دیکھے وہ ہدایت یافتہ ہوسکتا ہے۔
زمین…
Read the full tafseer →سورة الرَّعْد 8
اجرام فلکی کے بعد عالم ارضی کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے اور یہاں بھی خدا کی قدرت اور حکمت کے نشانات سے انہی دونوں حقیقتوں (توحید اور آخرت) پر استشہاد کیا گیا ہے جن پر پچھلی آیات میں عالم سماوی کے آثار سے استشہاد کیا گیا تھا۔ ان دلائل کا خلاصہ یہ ہے
(1) اجرام فلکی کے ساتھ زمین کا تعلق، زمین کے ساتھ سورج اور چاند کا تعلق، زمین کی بیشمار مخلوقات کی ضرورتوں سے پہاڑوں اور دریاؤں کا تعلق، یہ ساری چیزیں اس بات پر کھلی شہادت دیتی ہیں کہ ان کو نہ تو الگ الگ خداؤں نے بنایا ہے اور نہ مختلف با اختیار خدا ان کا انتظام کر رہے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو ان سب چیزوں میں باہم اتنی مناسبتیں اور ہم…
Read the full tafseer →(آیت) وَهُوَ الَّذِيْ مَدَّ الْاَرْضَ وَجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ وَاَنْهٰرًا اور وہی وہ ذات ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں بوجھل پہاڑ اور نہریں بنائیں
زمین کا پھیلانا اس کے کرہ اور گول ہونے کے منافی نہیں کیونکہ گول چیز جب بہت بڑی ہو تو اس کا ہر ایک حصہ الگ الگ ایک پھیلی ہوئی سطح ہی نظر آتا ہے اور قرآن کریم کا خطاب عام لوگوں سے انہی کی نظروں کے مطابق ہوتا ہے ظاہر دیکھنے والا اس کو ایک پھیلی ہوئی سطح دیکھتا ہے اس لئے اس کو پھیلانے سے تعبیر کردیا گیا پھر اس کا توازن قائم رکھنے کے لئے نیز اور بہت سے دوسرے فوائد کے لئے اس پر اونچے اونچے بھاری پہاڑ قائم فرما دئیے جو ایک طرف زمین کا توازن قائم…
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْ مَدَّ الْاَرْضَ وَجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ وَاَنْهٰرًا ۭ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيْهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۔
آسمان کے بعد زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ : آسمان کی نشانیوں کے بعد یہ زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ جس طرح آسمان کی نشانیوں سے اس کے خلق و تدبیر، اس کی قدرت و حکمت اور اس کی وحدت ویکتائی کی شانیں ظاہر ہوتی ہیں اسی طرح زمین کے چپہ چپہ سے بھی اس کی ان صفات کی شہادت مل رہی ہے بشرطیکہ سوچنے والے دل اور غور کرنے والی عقلیں ہوں۔ دریا اور پہاڑ بظاہر اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک…
Read the full tafseer →3۔ 1 زمین میں طول و عرض کا اندازہ بھی عام لوگوں کے لئے مشکل ہے اور بلند وبالا پہاڑوں کے ذریعے سے زمین میں گویا میخیں گاڑی ہیں، نہروں دریاؤں اور چشموں کا ایسا سلسلہ قائم کیا کہ جس سے انسان خود بھی سیراب ہوتے ہیں اور اپنے کھیتوں کو بھی سیراب کرتے ہیں جن سے انواع و اقسام کے غلے اور پھل پیدا ہوتے ہیں، جن کی شکلیں بھی ایک دوسرے سے مختلف اور ذائقے بھی جداگانہ ہوتے ہیں۔
3۔ 2 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ نر مادہ دونوں بنائے، جیسا کہ موجودہ تحقیقات نے بھی اس کی تصدیق کردی ہے۔ دوسرا مطلب (جوڑے جوڑے کا) یہ ہے میٹھا اور کھٹا، سرد اور گرم، سیاہ اور سفید اور ذائقہ، اس طرح ایک دوسرے سے مختلف اور متضاد قسمیں…
Read the full tafseer →6: نباتات میں نر اور مادہ کے جوڑے ہوتے ہیں۔ کسی زمانے میں یہ حقیقت لوگوں کو معلوم نہیں تھی کہ نر اور مادہ کا یہ نظام ہر درخت اور ہر پودے میں ہوتا ہے، لیکن جدید سائنس کو یہ حقیقت اب دریافت ہوگئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
آیت نمبر 2 تا 7
آسمان کیا ہیں اور ان کا مفہوم مختلف ادوار میں لوگ کیا سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے ، لیکن یہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ ایک عظیم منفر اور عظیم کائنات ہے۔ جب بھی کوئی ان پر غور کرتا ہے اور معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی عظمت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ پھر یہ سب نظام کسی ظاہری سہارے کے بغیر قائم ہے۔ جس طرح اس زمین پر کوئی چیز بغیر سہارے کے نہیں ہوتی ، ایسا سہارا جو ہمیں نظر آئے۔ بغیر عمد ترو نہا۔
یہ اس پوری کائنات کی تصویر کشی کے سلسلے میں پہلا ٹچ ہے اور انسانی وجدان اور قوت مدرکہ کے لئے یہ ایک پہلی ضرب ہے ، خصوصاً جبکہ انسان اس عظیم کائنات پر غور کر رہا ہو اور وہ سوچے کہ…
Read the full tafseer →3 یعنی پہاڑ جو ایک جگہ کھڑے ہیں اور دریا جو ہر وقت چلتے رہتے ہیں۔
4 یعنی چھوٹا، بڑا، کھٹا، میٹھا، سیاہ وسفید، گرم سرد اور جدید تحقیق کے موافق ہر ایک میں نرو مادہ بھی پائے جاتے ہیں۔
5 اس کے معنی سورة اعراف میں آٹھویں پارے کے خاتمہ پر بیان ہوچکے وہاں دیکھ لیا جائے۔
Read the full tafseer →آیت 3 وَهُوَ الَّذِيْ مَدَّ الْاَرْضَ وَجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ وَاَنْهٰرًا
اللہ تعالیٰ نے زمین کا توازن برقرار رکھنے کے لیے اس پر پہاڑوں کے کھونٹے گاڑ دیے ہیں اور پانی کی فراہمی کے لیے دریا اور ندیاں بہا دی ہیں۔
وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيْهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ
جوڑے بنانے کے اس قانون کو اللہ تعالیٰ نے سورة الذاریات آیت 49 میں اس طرح بیان فرمایا ہے : وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ ”اور ہرچیز کے ہم نے جوڑے بنائے“ گویا یہ زوجین نر اور مادہ کی تخلیق اور ان کا قاعدہ و قانون اللہ تعالیٰ نے اس عالم خلق کے اندر ایک باقاعدہ نظام کے طور پر رکھا ہے۔ یہاں پر پھلوں کے حوالے سے اشارہ…
Read the full tafseer →7 اس سے پہلی آیت میں نظام کائنات سے معاد پر دلیل لائی گئی تھی۔ اب ارضی آیات سے توحید اور معاد پر دلائل دیئے جارہے ہیں۔ یعنی اللہ نے زمین کو پھیلایا اور اس کے بعض مخصوص مقامات پر پہاڑ پیدا کردیے۔ پھر ان پہاڑوں سے دریا اور نہریں جاری کیں۔ پھر اس پانی سے ہر طرح کی نباتات پیدا فرمائی۔ اور ہر طرح کے پھلوں میں نر اور مادہ پیدا کردیے۔ پھر ان پھلوں اور نباتات کے بارآور ہونے کے لیے دھوپ کی بھی ضرورت تھی اور ٹھنڈک کی بھی۔ لہذا اللہ نے دن اور رات پیدا کردیے۔ ان تمام باتوں میں ایک خاص قسم کا نظم، اعتدال اور حکمت پائی جاتی ہے جس سے یہ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام چیزوں کا خالق اور مدبر ایک ہی ہستی…
Read the full tafseer →6۔ ایک دوسرے کے مقابل مثلا بڑے اور چھوٹے یا ترش اور شیریں وقس علی ھذا۔ سائنسی تحقیقات سے آج یا آگے چل کر جس جس قسم کا بھی تعلق زوجیت پھلوں کے درمیان منکشف ہو سب آیت کے تحت میں آجائے گا۔ (آیت) ” رواسی وانھرا “۔ یعنی نہ کوئی پہاڑ (نہ گوری شنکر نہ بندھیا چل نہ ننگاپربت) اور نہ کوئی دریا (نہ گنگا نہ نربدانہ سرسوتی) معبود یانیم معبود یا کسی دیوی دیوتا کا مسکن جیسا کہ ہندوستان کے اندر اور ہندوستان کے باہر بھی بہت سی جاہل قوموں کا عقیدہ ہے اور رہ چکا ہے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ (آیت) ” مد الارض “۔ یعنی یہ زمین بھی نہ کوئی دیوی ہے نہ کوئی مائی جی، محض اللہ کا پھیلایا ہوا ایک فرش ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 7
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے، المر، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیتیں قرآن کریم کی آیتیں ہیں اور (آیاتُ الکتاب) میں اضافت بمعنی مِنْ ہے اور جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے اتارا جاتا ہے سب حق ہے (یعنی) اس میں کوئی شک نہیں ہے، (وَالَّذِیْ اُنزلَ اِلیک الخ) مبتداء ہے اور الحقُّ اس کی خبر ہے، لیکن اکثر لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے کہ یہ منجانب اللہ ہے اور وہ اہل مکہ ہیں، اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر بلند فرمایا جو تم کو نظر آتے ہوں، العمد، عمادٌ کی جمع ہے اور وہ ستون ہیں اور عدم…
Read the full tafseer →وھو الذی مد الارض اور وہی تو ہے جس نے زمین کو بچھایا تاکہ اس پر قدم جم سکیں اور جاندار چل پھر سکیں۔
وجعل فیھا رواسی اور زمین میں پہاڑ بنائے۔ رَوَاسِیَ سے مراد پہاڑ ہیں۔ رسی الشَّیْء وہ چیز جم گئی۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : کوہ ابو قبیس زمین پر سب سے پہلے قائم کیا گیا۔
وانھرا اور دریا بنائے۔ پہاڑوں سے دریا نکلتے ہیں ‘ اسلئے ایک ہی فعل (جَعَلَ ) کے تحت دونوں کو ذکر کیا۔
ومن کل الثمرات جعل فیھا زوجین اثنین اور زمین میں ہر طرح کے پھلوں کی دو دو قسمیں پیدا کیں عمدہ اور ردّی (اچھے برے) یا یہ مراد ہے کہ طرح طرح کے پھل پیدا کئے جن کی مختلف قسمیں ہیں اور کم سے کم دو قسمیں تو ضرور ہی ہیں (ممکن ہے کہ…
Read the full tafseer →(3) اور اس نے زمین کو پانی پر پھیلایا اور زمین میں بڑے قائم رہنے والے پہاڑ کو جو کہ زمین کے لیے میخیں ہیں پیدا کیے اور نہریں جاری کیں اور اس میں ہر ایک قسم کے پھلوں سے دو دو قسم کے پھل مثلا کھٹے، میٹھے، سفید سرخ پیدا کیے وہ دن کی روشنی سے رات کو رات کی تاریکی سے دن کی روشنی کو چھپا دیتا ہے یا یہ کہ وہ رات کو لے جاتا ہے دن کو لاتا ہے اور دن کو لے جاتا ہے اور رات کو لے آتا ہے۔
ان مور مذکورہ میں نشانیاں اور دلائل ہیں تاکہ ان میں غور کریں۔
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْ مَدَّ الْاَرْضَ۔۔ : ”مَدَّ“ کا معنی پھیلانا ہے۔ ”رَوَاسِيَ“ ”رَاسِیَۃٌ“ کی جمع ہے، ”رَسَا یَرْسُوْ“ کا معنی زمین میں گڑا ہوا ہونا ہے، لفظی معنی زمین میں گڑے ہوئے، مراد پہاڑ ہیں۔ پہلے اوپر کے جہان کا تذکرہ فرمایا، پھر زمین، آسمان، سورج، چاند وغیرہ کا، اب نیچے کے جہان میں اللہ تعالیٰ کی چند قدرتوں کا ذکر ہے کہ زمین ایک کرہ ہونے کے باوجود اتنی وسیع بنائی کہ طول و عرض میں آدمی کی نگاہ اس کی انتہا کو نہیں پاتی، انسان اور حیوان کسی تکلیف کے بغیر اس پر چلتے پھرتے ہیں، انسان عظیم الشان عمارتیں بناتے ہیں۔ زمین کا توازن قائم رکھنے کے لیے اور ہر وقت زلزلے کی کیفیت سے محفوظ رکھنے کے لیے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 3
قولہ تعالیٰ : وھو الذی مد الارض جب آسمان کی نشانیوں کو بیان فرما دیا تو اب زمین کی نشانیوں کو بیان فرمایا یعنی زمین کو طول و عرض میں پھیلا دیا۔ وجعل فیھا رواسی یعنی ایسے پہاڑ جو بہت زیادہ ثابت ہیں، اس کا واحد واسیۃ ہے کیونکہ زمین ان کے ذریعے ثابت رہتی ہے اور الا رسائ کا معنی الثبوت ہے، عشرہ نے کہا ہے :
فصبرت عارفۃ لذالک حرۃ ترسو اذا نفس الجبان تطلع
جمیل نے کہا :
احبھا والذی ارسی قواعدہ حبا إذا ظھرت ایاتہ بطنا
ان دونوں اشعار میں ترسو اور ارسی کا یہی معنی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ اور عطا نے کہا : زمین پر قائم ہونے والا پہلا پہاڑ ابو قبیس ہے۔
مسئلہ : ان آیات میں ان لوگوں کی تردید ہے جن کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
آسمانوں کے ستون کا ذکر :
1:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ فلاں یوں کہتا ہے (آیت) ” انھا علی عمد “ یعنی آسمان پر قائم ہیں پھر فرمایا اس کو یہ آیت پڑھاؤ (آیت ) ” بغیر عمد ترونھا “ یعنی ان ستونوں کو نہیں دیکھتے ہو۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” رفع السموت بغیر عمد ترونھا “ کے بارے میں فرمایا تجھے کیا معلوم شاید کہ ایسے ستونوں پر قائم ہو جو تم نہیں دیکھتے ہو۔
3:۔ عبدالرزاق وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” بغیر…
Read the full tafseer →[وَهُوَ : اور وہ ] [الَّذِي : وہ ہے جس نے ] [ مَدَّ : پھیلایا ] [ الْاَرْضَ : زمین کو ] [وَجَعَلَ : اور اس نے بنایا ] [فِيْهَا : اس میں ] [رَوَاسِيَ : پہاڑوں کو ] [وَانهٰرًا : اور نہروں کو ] [ وَمِنْ كُلِ الثَّمَرٰتِ : اور سب پھلوں میں سے ] [جَعَلَ : اس نے بنایا ] [فِيْهَا : ان میں ] [زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ : دو جوڑے ] [ يُغْشِي : وہ ڈھانپتا ہے ] [ الَّيْلَ : رات سے ] [ النَّهَارَ : دن کو ] [ ان : بیشک ] [ فِيْ ذٰلِكَ : اس میں ] [ لَاٰيٰتٍ : یقینا نشانیاں ہیں ] [لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے جو ] [ يَّتَفَكَّرُوْنَ : سوچ بچار کرتے ہیں ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 3 میں اس حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اس…
Read the full tafseer →(وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِیْھَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ ) (اور زمین میں ہر طرح کے پھلوں میں سے دو دو قسم کے پھل پیدا فرمائے) مثلاً بعض کھٹے ہیں ‘ بعض میٹھے بعض چھوٹے ہیں اور بعض بڑے کسی کا رنگ مثلاً پیلا ہے اور کسی کا رنگ ہرا ہے ‘ قال صاحب الروح ص 10 ج 13 جعل من کل نوع من انواع الثمرات الموجودۃ فی الدنیا ضربین وصنفین اما فی اللون کالابیض والاسود اوفی الطعم کالحلو والحامض او فی القدر کالصغیر والکبیراو فی الکیفیۃ کالحارو البارد فما اشبہ ذالک ‘ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں : دنیا میں موجود تمام پھلوں کی دو دو قسمیں بنائیں یا تو رنگ کے اعتبار سے جیسا کہ سفید اور سیاہ یا ذائقہ کے لحاظ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
استدلال باحوال عالم سلفی
قال اللہ تعالیٰ وہوالذی مد الارض۔۔۔۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون
(ربط) اوپر کی آیتوں میں عالم علوی کی چیزوں سے اس کی وحدانیت اور الوہیت پر استدلال تھا یعنی آسمانوں اور چاند اور سورج کے احوال سے استدلال کا ذکر تھا ان عالم سفلی کے چیزوں کے احوال سے یعنی زمین سے اور اس کی پیداوار سے اور لیل ونہار کے اختلاف سے استدلال فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور وہ اللہ وہی ہے جس نے زمین کو اتناپھیلایا کہ بیشمار مخلوق اس پر چل سکے اور اتنا وسیع بنایا کہ آج تک اس کے مبداء اور انتہاء کا علم نہ ہوسکا اور اس پر بسنے والی مخلوق کا زرق اور سامان معیشت سب اسی میں ودیعت رکھ دیا…
Read the full tafseer →4:۔ یہ بھی پہلی دلیل ہی کا حصہ ہے اور اس میں عالم سفلی کا ذکر ہے مبتدا کے ساتھ خبر کی تعریف مفید حصر ہے۔ کلام کے بعض اجزا میں حصر ہو تو باقی اجزا بھی حصر پر محمول ہوتے ہیں۔ ” زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ “ اثنین، زوجین سے بدل ہے۔ پھلوں میں زوجین سے ذائقہ، رنگ اور حج کے اعتبار سے اس کی مختل اقسام و اصناف مراد ہیں۔ مثلاً سفید و سیادہ، کھٹا میٹھا، چھوٹا بڑا اور سرد و گرم وغیرہ۔ ” ای جعل من کل نوع من الانواع اثمرات الموجودۃ فی الدنیا ضر بین و صنفین اما فی اللون کالابیض والاسود او فی الطعم کالحلو والحامض او فی القدر کالصغیر و الکبیر او فی الکیفیۃ کالحار والبارد وما اشبہ ذلک (روح ج 13 ص 100) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(ربط آیات)
سورة رعد میں اللہ تعالیٰ نے بنیادی عقائد توحید رسالت ، اور قیامت کا ذکر فرمایا ہے ، البتہ اس سورة کا ایک خصوصی موضوع حق و باطل کی کشمکش ہے ، پہلی آیت میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کو بیان کیا گیا ، اس کے بعد دلائل قدرت میں سے علویات کا ذکر ہوا اور اللہ نے آسمانوں کی تخلیق اور عرش کو بغیر ستونوں کے قائم کرنے کا ذکر کیا ، سورج اور چاند کی تسخیر کا ذکر کرکے اللہ نے پوری کائنات پر اپنے کنڑول اور تسلط کا اظہار فرمایا ، ان بڑی بڑی چیزوں کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت پر دلیل قائم کی اور سمجھایا کہ ہر شخص کو اپنے اپنے اعمال کی جوابدہی کرنا ہوگی ۔
اب آج کے درس میں آیات سفلیہ کو…
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْ مَدَّ الْاَرْضَ وَجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ وَاَنْهٰرًا ۭ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيْهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ
مد
أصل المَدّ : الجرّ ، ومنه : المُدّة للوقت الممتدّ ، ومِدَّةُ الجرحِ ، ومَدَّ النّهرُ ، ومَدَّهُ نهرٌ آخر، ومَدَدْتُ عيني إلى كذا . قال تعالی: وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الآية [ طه/ 131] . ومَدَدْتُهُ في غيّه، ومَدَدْتُ الإبلَ : سقیتها المَدِيدَ ، وهو بزر ودقیق يخلطان بماء، وأَمْدَدْتُ الجیشَ بِمَدَدٍ ، والإنسانَ بطعامٍ. قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : تلک مبتد آیات الکتاب خبر اور ممکن ہے کہ المرا کی خبر ہو اور آیات بدل یا عطف بیان والذی الخ مبتدا الحق خبر اور ممکن ہے کہ والذی الکتاب کی صفت اور واؤ درمیان آیا اور الحق مبتدا محذوف کی خبر ہو۔ بغیر عمد موضح نصب میں حال ہو کر اے حالیۃً عن عمد والعمد بالفتح جمع عماد اور عمود۔ ترونہا ضمیر اگر عمد کی طرف راجع ہے تو موضع جر میں ہے صفت عمد کی اور اگر السموات کی طرف تو اس سے حال ہوگا جیسا کہ یدبر ضمیر سخر سے اور یفصل ضمیر یدبر سے حال ہے۔ قطع مبتدا فی الارض خبر یا قطع ظرف کا فاعل وزرع معطوف ہے قطع پر۔ صنوان جمع صنو جیسا کہ قنوان قنو کی جمع ہے ای النخلات یجمعھا اصل واحد وتنشعب فروعہا فی الاکل…
Read the full tafseer →وَھُوَالَّذِیْ مَدَّالْاَرْضَ وَجَعَلَ فِیْھَا رَوَاسِیَ وَاَنْھٰرًا ط وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرٰ تِ جَعَلَ فِیْھَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَارَ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰ یٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ۔
(سورۃ الرعد : 3)
(اور وہی ہے جس نے زمین کو بچھایا اور اس میں پہاڑ اور دریا بنائے اور ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں اس میں پیدا کیں۔ وہ رات کو دن پر اڑھا دیتا ہے، بیشک ان چیزوں کے اندران لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور کریں) ۔
زمین کی نشانیوں سے استدلال
سابقہ آیت کریمہ میں آسمان کی نشانیوں سے اللہ تعالیٰ نے توحید اور آخرت پر استدلال فرمایا ہے۔ اب زمین کی نشانیوں سے استدلال…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
میخوں کی مانند پہاڑ :
ارضیات میں ” بل پڑنے “ (Folding) کا مظہر حالیہ دریافت شدہ حقیقت ہے۔ قشر ارض (Crust) میں بل پڑنے کی وجہ سے پہاڑی سلسلے وجود میں آئے ہیں۔ قشر ارض جس پر ہم رہتے ہیں، کسی ٹھوس چھلکے کی طرح ہے، جب کہ کرۂ ارض کی اندرونی پرتیں، (Layers) نہایت گرم اور مائع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زمین کا اندرون کسی بھی قسم کی زندگی کے لیے قطعًا غیر موزوں ہے۔ آج ہمیں یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ پہاڑوں کی قیام پذیری (Stability) کا تعلق، قشر ارض میں بل پڑنے کے عمل سے بہت گہرا ہے۔
ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ زمین کا رداس (Radius) یعنی نصف قطر تقریباً 035، 6 کلومیٹر ہے…
Read the full tafseer →3: وَھُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ (وہی ذات ہے جس نے زمین کو بچھایا) وَجَعَلَ فِیْھَا رَوَاسِیَ (اور زمین میں پہاڑ بنائے) زمین پر جم جانے والے پہاڑ وَاَنْھٰرًا (اور نہریں) جاری وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْھَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ (اور زمین میں ہر طرح کے پھلوں کی دو قسمیں پیدا کیں) یعنی سیاہ، سفید، میٹھے، کھٹے، چھوٹے، بڑے اور جو اسکے مشابہ ہیں۔ یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَارَ (ڈھانپ دیتا ہے دن کو رات سے) روشنی سفیدی کو رات پہنا دیتا ہے جس سے وہ سیاہ اندھیر بن جاتی ہے
قراءت : حمزہ، علی، ابوبکر نے یُغشّی پڑھا ہے۔
اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ (بیشک اسمیں البتہ نشانیاں…
Read the full tafseer →تفسیر 3۔” وھو الذین مد الارض “ مد کا معنی ہے بچھانا۔ ” وجعل فیھا رواسی “ ثابت شدہ پہاڑ ( جمے ہوئے پہاڑ) اس کی واحد راسیۃ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ۔ کوہ ابو قبیس زمین پر سب سے پہلے قائم کیا گیا ۔ ” وانھارا “ اور اس زمین میں نہریں جاری کیں ۔ ” ومن کل الثمرات جعل فیھا زوجین اثنین “ دو قسم کے پھل ، ان میں بعض سرخ ہیں اور بعض زرد ہیں اور بعض ان میں کڑوے ہیں اور بعض کٹھے۔ ” یغشی اللیل النھار “ رات کی تاریکی سے دن کی روشنی کو چھپا دیتا ہے اور دن کی روشنی سے رات کے اندھیرے کو زائل کردیتا ہے۔ ” ان فی ذلک لایات لقوم یتفکرون “ تفکر کہا جاتا ہے اشیاء کے مختلف معانی کی وجہ سے دل کو پھیرنا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3۔ 4۔ اس سے اوپر کی آیت میں اللہ جل شانہ نے آسمان کا حال بیان فرمایا تھا اس آیت میں زمین میں اپنی قدرت کا حال بیان فرمایا کہ اللہ نے زمین کو پھیلا دیا۔ لمبائی اور چوڑائی میں پہاڑوں کے بوجھ رکھ دئیے اور اس میں جا بجا نہریں اور ندیاں دریا سمندر جاری کئے تاکہ زمین کی پیداوار کو مناسب موقع پر پانی پہنچتا رہے۔ اور ہر طرح کے پھل میوے الگ الگ رنگ کے علیحدہ ذائقہ کے پیدا ہوں جس میں کوئی سرخ ہے تو کوئی زرد کوئی سیاہ کسی کا مزہ پھیکا ہے کسی کا میٹھا کسی کا کڑوا کسی کا کسیلا پھر رات تمام ہوئی اور دن آن موجود ہوا یہ سب خدا کی ایسی قدرت ہے کہ جو اس میں غور اور فکر کرتا ہے اسے خدا کی ہستی کا یقین ہوجاتا ہے…
Read the full tafseer →(وھو الذی مد الارض) ” وہی ہے جس نے پھیلائی زمین “ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اپنے بندوں کے لئے تخلیق کیا، اس کو وسعت بخشی، اس میں برکت عطا کی، اپنے بندوں کے لئے اس کو پھیلایا اور اس کے اندران کے لئے فوائد و مصالح ودیعت کئے۔ (وجعل فیھا رواسی) ” اور رکھے اس میں پہاڑ “ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیئے تاکہ زمین مخلوق کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ اس لئے اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین اپنے رہنے والوں کے ساتھ ایک طرف جھک جاتی، کیونکہ زمین پانی کی سطح پر تیر رہی ہے جس کو ثبات و استقرار نہیں۔ مضبوطی کے ساتھ جمے ہوئے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں توازن پیدا کیا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین کے لئے میخیں بنایا ہے۔…
Read the full tafseer →10۔ زمین کے لیے عظیم الشان لنگروں کا انتظام :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اسی نے زمین کے لیے پہاڑوں کے عظیم الشان لنگروں کا انتظام کیا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے رکھ دیئے زمین میں پہاڑوں کے عظیم الشان لنگر کہ یہ کرہ ارضی تم کو لے کرڈولنے نہ لگے۔ اور تاکہ اس پر تمہیں پرسکون زندگی میسر آسکے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا (ان تمیدبکم) سوذراسوچو اور غور کروتم لوگ اے عقل مندو کہ کس قدرقادر مطلق اور حکیم مطلق ہے تمہارا وہ رب رحمن ورحیم جس نے تمہارے لیے اس قدر حکمتوں بھرا انتظام فرمایا۔ اور از خود تمہاری طرف سے کسی طرح کی اپیل و درخواست کے بغیر فرمایا۔ سو یہ سب کچھ سوچو اور دل کی اتھاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
اللہ کی تخلیقات اور آخرت کا انکار کرنیوالوں کا انجام
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رب اور خالق ہونے کے دلائل بیان فرمائے ہیں اس دنیا کا اور تمام کائنات کا خالق اور قادر مطلق اللہ تعالیٰ ہے اس کی بنائی ہوئی تخلیقات انتہائی حیران کن ہیں اور انسان کے لیے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس کو چھت کے طور پر آسمانوں کا سایہ دیا، آسمان کی تخلیق اس قدر حیرت انگیز ہے کہ اس کی تعمیر کے لیے کسی ستون یا کھمبے کی ضرورت نہیں پڑی یہ بیان تو ایک عام، بےعلم انسان کے لیے ہے مگر علم و فضل رکھنے والے انسان کے لیے یہاں بہت بڑی سائنسی اصطلاح اور ایک بہت بڑا اصول بیان کردیا گیا ہے۔ کیونکہ جب آسمان، زمین،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الرعد :
رکوع نمبر 1 :
اسرارومعارف :
(آیت) ” الم ، تلک ایت الکتب۔ 1 تا 7 ۔ یہ سورة مبارکہ بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے اور سورة یوسف کے آخر کا مضمون یعنی توحید باری کا ثبوت اور نبوت کی حقانیت ہی کے دلائل کا تسلسل ہے کہ ارشاد ہوتا ہے کہ یہ مضامین ایک بےمثال کتاب میں ہیں جو اللہ کا ذاتی کلام ہے اور جو بجائے خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے کہ اس کی نظیر پیش کرنا انسانی بس میں نہیں اور جو کچھ اس میں فرمایا گیا ہے ، انسان کبھی اسے غلط ثابت نہیں کرسکتا اگرچہ اس میں دنیاوی امور کے بارے افزائش کے مسائل اور صورتیں سیاسیات ، اخلاقیات اور معاشیات تک بیان کی گئی ہیں واقعات عالم کے بارے…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ اوپر عالم علوی کا تذکرہ فرمایا۔ اب یہاں عالم سفلی میں اپنی قدرت و حکمت کے دلائل بیان فرمائے (ابن کثیر) ۔ دریائوں کے بننے اور بہنے کا سبب پہاڑ ہی ہیں اس لئے دونوں کا ایک ساتھ ذکر فرمادیا۔ (روح) ۔
7 ۔ جیسا کہ نباتات سے متعلق جدید تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ ہر قسم کے درختوں میں نر اور مادہ ہوتے ہیں۔ یوں جوڑ بااعتبار کم و کیف اور طعم و لون بھی مراد ہوسکتا ہے مثلا گرم و سرد، چھوٹا و بڑا سیاہ وسفید کٹھا و میٹھا وغیرہ ذالک۔ (روح) ۔
8 ۔ یعنی ایک دوسرے کی جگہ آتے رہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ زمان و مکان پر ہر قسم کا تصرف اللہ تعالیٰ کے قبضۃ قدرت میں ہے۔
9 ۔ موضح میں ہے۔ رنگا رنگ چیزیں بنانا نشان ہے کہ…
Read the full tafseer →(13:3) مـد ۔ ماضی واحد مذکر غائب (نصر) پھیلایا۔ المد کے اصل معنی لمبائی میں کھینچنے اور بڑھانے کے ہیں۔ اسی لئے عرصہ دراز کو مدۃ کہتے ہیں۔ مد الارض۔ اس نے زمین کو بچھایا۔
(زمین اگرچہ گول ہے لیکن یہ کر ّہ اس قدر وسیع و عریض ہے کہ اس کو اس کی اصلی شکل میں مکمل طور پر دیکھنے سے قاصر ہیں۔ اور ہماری محدود وسعت نظر کے لحاظ سے ہمیں یہ چپٹی نظر آتی ہے۔ رازی) ۔
رواسی۔ مادہ۔ رسو۔ رسی۔ رسا الشیٔ۔ (نصر) کے معنی کسی چیز کے کسی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار ہونے کے ہیں۔ قرآن حکیم میں ہے وقدور رسیت (34:13) اور بڑی بڑی بھاری دیگیں جو ایک جگہ پر جمی رہیں۔ رواسی بمعنی پہاڑ بھی بوجہ ان کے اثبات اور استواری کے مستعمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4:
انزل اتارا گیا الحق سچ رفع بلند کیا عمد ستون، سہارا استوی وہ برابر ہوا سخر اس نے مسخر کردیا، تابع کردیا اجل مسمی متعین مدت، مقرر مدت لقاء ملاقات مد اس نے پھیلا دیا رواسی بوجھ زوجین جوڑے ، دو دو یغشی چھا جاتا ہے قطع خطے، قطعات متجورت پاس پاس اعناب (عنب) انگور زرع کھیتی نخیل کھجور صنوان ایک جڑ والی یسقی سینچا جاتا ہے بماء واحد ایک پانی سے نفضل ہم بڑھا دیتے ہیں الاکل پیداوار پھل
تشریح آیت نمبر 1 تا 4
اس سورت کے دوسرے رکوع کی ایک آیت میں لفظ رعد آیا ہے اسی مناسبت سے نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے اس سورت کا نام ” الرعد “ رکھا ہے۔
رعد کے معنی بادلوں کی گرج کے آتے ہیں۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
آنحضرت ﷺ سے معجزہ طلب کرنے کا ذکر
اس آیت میں زمین کی نسبت اپنی قدرت کاملہ کا حال بیان فرمایا کہ اللہ نے زمین کو پھیلا دیا، لمبائی اور چوڑائی میں، پھر پہاڑوں کو میخیں بنا کر جڑ دیا تاکہ ہل جل نہ سکے اور اس میں جا بجا نہریں اور ندیاں دریا سمندر جاری کیے تاکہ زمین کی پیداوار کو مناسب مناسب موقع پر پانی پہنچتا رہے اور ہر طرح کے میوے الگ الگ رنگ اور ہر ذائقہ کے پیدا کیے۔ پھر رات تمام ہوئی دن آموجود ہوا۔ سب خدا کی ایسی قدرت ہے کہ انسان غور کرے تو خدا کی وحدانیت کا یقین ہوجاتا ہے۔ پھر فرمایا کہ زمین کو دیکھو ایک ٹکڑا ایک سے ملا ہوا ہے اس پر بھی کوئی ٹکڑا پتھریلا ہے کوئی شور والا اور کوئی پاکیزہ ہوتا…
Read the full tafseer →[2] اس اعتبار سے بھی کہ تمام پھل دو قسموں کے ضرور ہوتے ہیں۔ مثلاً کھٹے اور میٹھے، خوش ذائقہ اور بد ذائقہ، اچھی قسم کے اور گری ہوئی قسم کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(ف 1) استواء کا مسئلہ مدتوں اسلامی فرقوں میں نزاع کا باعث رہا ہے ، اہل سنت کا مسئلہ اس باب میں بالکل واضح ہے کہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں مگر اس کی تفصیلات سے پوری طرح آگاہ نہیں یعنی ہم مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے استواء فرمایا ، مگر کیونکر ؟ اس کا جواب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ اپنی عقل کی کمی کا اعتراف کرلیں اجمالا یوں سمجھ لیجئے ، کہ یہ ایک نوع کی تجلی تدبیر تھی یہی وجہ ہے اس کو عین تجلیات تکوین کے درمیان رکھا ہے ۔ اور (آیت) ” یدبر الامر “۔ کی تصریح بھی فرما دی ہے ۔
علوم پڑھو !
(ف 2) قرآن حکیم کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ دلائل میں قانون قدرت کی ہمہ گیری دوست کو پیش کرتا ہے ، وہ کہتا ہے…
Read the full tafseer →3 ۔ وہ قادر مطلق ایسا ہے جس نے زمین کو بنایا اور اس زمین پر پہاڑ اور ندیاں پیدا کیں اور اس زمین میں ہر قسم کے پھلوں سے دو دو قسم کے پھل پیدا کئے وہ رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے بلا شبہ ان چیزوں میں ان لوگوں کے لئے دلائل توحید موجود ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں ۔ قسم قسم کی چیزیں پیدا کیں کٹھا ، میٹھا ، چھوٹا ، بڑا ، گرم ، سرد ، نر ، مادہ ، غرض ہر پھل کا جواب موجود ہے۔ رات کو دن پر ڈھانکنا یعنی دن کی روشنی پر رات کی تاریکی چھا جاتی ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر میوے کے جوڑے یعنی ایک قسم کا مل ایک قسم نا قص اور رات دن ایک اندھیرا ایک اجالا رنگا رنگ چیزیں بنائی نشان ہے کہ اپنی خوشی سے…
Read the full tafseer →ف 9۔ مثلا کھٹے میٹھے یاچھوٹے اور بڑے کوئی کسی رنگ کے اور کوئی کسی رنگ کا۔
Read the full tafseer →زمین کی سطح پھیلانے والا ‘ پہاڑ اور نہریں اور پھل اگانے والا بھی وہی ہے
6 ؎ گزشتہ آیت میں عالم سماویہ کا ذکر کیا تھا زیر نظر آیت میں فرمایا کہ زمین وک دیکھو وہ ایک گیند کی طرح مدور اور گول ہے لیکن اس کی سطح کا ہر حصہ ایسا واقع ہوا ہے کہ گولائی محسوس ہی نہیں ہوتی ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے ایک مسطح فرش بچھا ہوا ہو ‘ پھر اس میں پہاڑ پیدا کردیئے گئے جن کی چوٹیوں پر برف جمتی اور پگھلتی رہتی ہے اور اس طرح ان نہروں کی روانی کا سامان ہوتا رہتا ہے جو میدانی زمینوں سے گزرتی ہیں اور انہیں سیراب کرتی رہتی ہیں۔ پھر زمین کی روئیدگی کی کیسی عجیب و غریب قو پیدا کردی کہ اس کی تمام سطح طرح طرح کے خوش ذائقہ…
Read the full tafseer →In the next verse (3), it was said:
وَهُوَ الَّذِي مَدَّ الْأَرْضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْهَارًا
And He is the One who spread out the earth and made mountains and rivers therein.
The expression: 'spread out the earth' is not contradictory of its being round - because each part of something very big and round appears to be, when looked at separately, nothing but a surface spread out - and the Qur’ an addresses common people in terms of their view of things. Since a common onlooker sees it as a spread-out surface, therefore, it was identified as such. Then, to keep it balanced and…
Read the full tafseer →8. After citing some heavenly signs in support of the doctrines of Tauhid and the Hereafter, a few signs are being cited from the earth for the same purpose. Briefly the following are the arguments for Tauhid, Resurrection and Accountability.
(1) Tauhid: The fact that the earth is closely connected with the heavenly bodies (which help create life on it), and the fact that the mountains and the rivers are so interrelated with that life are clear proofs that all these things have not been created by separate and different gods nor are being governed, by gods with independent powers and…
Read the full tafseer →