Ar-Ra'd 13:2

Ar-Ra'd · from ayah 2

13:2

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ؕ— كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ— یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ ۟اَللّٰهُ الَّذِىۡ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَهَا‌ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ‌ وَسَخَّرَ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ‌ؕ كُلٌّ يَّجۡرِىۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى‌ؕ يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ يُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ بِلِقَآءِ رَبِّكُمۡ تُوۡقِنُوۡنَ

خدا وہی تو ہے جس نے ستونوں کے بغیر آسمان جیسا کہ تم دیکھتے ہو (اتنے) اونچے بنائے۔ پھر عرش پر جا ٹھہرا اور سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا۔ ہر ایک ایک میعاد معین تک گردش کر رہا ہے۔ وہی (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتا ہے (اس طرح) وہ اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ تم اپنے پروردگار کے روبرو جانے کا یقین کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is Allah who erected the heavens without pillars that you [can] see; then He established Himself above the Throne and made subject the sun and the moon, each running [its course] for a specified term. He arranges [each] matter; He details the signs that you may, of the meeting with your Lord, be certain.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Ra'd

All translations of 13:2

وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو ایسے سہاروں کے بغیر قائم کیا جو تم کو نظر آتے ہو ں، پھر وہ اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا، اور اُس نے آفتاب و ماہتاب کو ایک قانون کا پابند بنایا اِس سارے نظام کی ہر چیز ایک وقت مقرر تک کے لیے چل رہی ہے اور اللہ ہی اِس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے، شاید کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا وہی تو ہے جس نے ستونوں کے بغیر آسمان جیسا کہ تم دیکھتے ہو (اتنے) اونچے بنائے۔ پھر عرش پر جا ٹھہرا اور سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا۔ ہر ایک ایک میعاد معین تک گردش کر رہا ہے۔ وہی (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتا ہے (اس طرح) وہ اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ تم اپنے پروردگار کے روبرو جانے کا یقین کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ وه ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند کر رکھا ہے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔ پھر وه عرش پر قرار پکڑے ہوئے ہے، اسی نے سورج اور چاند کو ماتحتی میں لگا رکھا ہے۔ ہر ایک میعاد معین پر گشت کر رہا ہے، وہی کام کی تدبیر کرتا ہے وه اپنے نشانات کھول کھول کر بیان کر رہا ہے کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کر لو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ وہ ہے جس نے ایسے ستونوں کے بغیر آسمانوں کو بلند کیا جو تمہیں نظر آسکیں، پھر اس نے عرش پر استوا فرمایا اور سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا ہر چیز ایک معین میعاد تک کے لیے رواں دوان ہے۔ وہی تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے، وہی ان انشانیوں کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم اس بات کا یقین کرلو کہ (ایک دن) تمہیں اپنے پروردگار سے جا ملنا ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بے ستونوں کے کہ تم دیکھو پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے اور سورج اور چاند کو مسخر کیا ہر ایک، ایک ٹھہرائے ہوئے وعدہ تک چلتا ہے اللہ کام کی تدبیر فرماتا اور مفصل نشانیاں بتاتا ہے کہیں تم اپنے رب رب کا ملنا یقین کرو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اﷲ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے (خلا میں) بلند فرمایا (جیسا کہ) تم دیکھ رہے ہو پھر (پوری کائنات پر محیط اپنے) تختِ اقتدار پر متمکن ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو نظام کا پابند بنا دیا، ہر ایک اپنی مقررہ میعاد (میں مسافت مکمل کرنے) کے لئے (اپنے اپنے مدار میں) چلتا ہے۔ وہی (ساری کائنات کے) پورے نظام کی تدبیر فرماتا ہے، (سب) نشانیوں (یا قوانینِ فطرت) کو تفصیلاً واضح فرماتا ہے تاکہ تم اپنے رب کے روبرو حاضر ہونے کا یقین کر لو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ستونوں کے، جنھیں تم دیکھتے ہو، پھر وہ عرش پر بلند ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ ہر ایک ایک مقرر وقت کے لیے چل رہا ہے، وہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے، کھول کھول کر آیات بیان کرتا ہے، تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرلو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو ایسے سہاروں کے بغیر بلند کیا جو تمہیں نظر آتے ہوں پھر اس نے عرش پر قرار پکڑا اور سورج اور چاند کو (ایک خاص قانون کا) پابند بنایا (اس نظام کی) ہر چیز ایک مقررہ مدت تک کے لئے چل رہی ہے۔ وہی اس کائنات کے نظام کی تدبیر کرتا ہے اور اپنی نشانیاں تفصیل سے بیان کرتا ہے تاکہ تم لوگ اپنے پروردگار سے ملاقات کا یقین کرو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں۔ پھر وہ اپنے عرش پر متمکن ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ ان میں سے ہر ایک ایک وقت معین کے لیے گردش کرتا ہے۔ وہی کائنات کا انتطام فرماتا ہے اور اپنی نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ ہی ہے جس نے اٹھایا ان (وسیع و عریض) آسمانوں کو بغیر ایسے ستونوں کے جن کو تم لوگ دیکھ سکو، پھر وہ (اپنی اس کائنات پر حکمرانی کے لئے) جلوہ فرما ہوا عرش پر، اور اس نے (اپنی بےپایاں قدرت اور لا محدود رحمت و عنایت سے) کام میں لگا دیا سورج اور چاند (کے ان عظیم الشان کروں کو، (اپنی مخلوق کے بھلے کے لئے اس طور پر کہ ان میں سے) ہر ایک چل رہا ہے ایک مقرر وقت کے لئے، وہی تدبیر فرماتا ہے ہر کام کی وہ کھول کر بیان کرتا ہے اپنی آیتوں کو تاکہ تم لوگ اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرسکو۔

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ وہی تو ہے جس نے آسمانوں کو بلند کر رکھا ہے بغیر ستون کے (جیسا کہ) تم اسے دیکھ رہے ہو۔ پھر قائم ہوا عرش (سلطنت) پر اور آفتاب وماہتاب کو مطیع کیا۔ ہر ایک ایک وقت معین میں چلتا رہتا ہے۔ (اللہ) ہر امر کا انتظام کرتا رہتا ہے نشانیوں کو کھول بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے پروردگار کی ملاقات کا یقین کرلو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ ہی ہے جس نے اٹھایا ہے آسمانوں کو بغیر ایسے ستونوں کے جنہیں تم دیکھتے ہو پھر وہ متمکن ہوا عرش پر اور اس نے (مسلسل) کام میں لگا دیا سورج اور چاند کو ہر ایک چل رہا ہے ایک وقت معین کے لیے وہ تدبیر فرماتا ہے اپنے امر کی اور تفصیل بیان کرتا ہے اپنی آیات کی تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ وہی تو ہے جس نے ستونوں کے بغیر آسمان جیسا کہ تم دیکھتے ہو (اتنے اونچے) بنائے، پھر عرش پر جا ٹھہرا، سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا، ہر ایک ایک معین میعاد تک گردش کر رہا ہے۔ وہی (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتا ہے، اس طرح وہ اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب کے سامنے جانے کا یقین کرو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

It is Allah Who has raised the heavens without any supports that you could see, and then He established Himself on the Throne (of Dominion). And He it is Who has made the sun and the moon subservient (to a law), each running its course till an appointed term. He governs the entire order of the universe and clearly explains the signs that you may be firmly convinced about meeting your Lord.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah is the One who raised the heavens without pillars that you can see them. Then He positioned Himself on the Throne and subjugated the sun and the moon, each one of them running to an appointed time. He manages all matters, elaborating the signs, so that you may be sure of meeting your Lord.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah is the One who raised the heavens without pillars that you can see them. Then He positioned Himself on the Throne and subjugated the sun and the moon, each one of them running to an appointed time. He manages all matters, elaborating the signs, so that you may be sure of meeting your Lord.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah is He Who raised the heavens without any pillars that you can see. Then, He rose above (Istawa) the `Arsh [Throne]. He has subjected the sun and the moon, each running (its course) for a term appointed. He manages and regulates all affairs; He explains the Ayat in detail, that you may believe with certainty in the meeting with your Lord.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah it is Who raised up the heavens without visible supports, then mounted the Throne, and compelled the sun and the moon to be of service, each runneth unto an appointed term; He ordereth the course; He detaileth the revelations, that haply ye may be certain of the meeting with your Lord.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It is Allah who erected the heavens without pillars that you [can] see; then He established Himself above the Throne and made subject the sun and the moon, each running [its course] for a specified term. He arranges [each] matter; He details the signs that you may, of the meeting with your Lord, be certain.

— Saheeh International

God is the One Who raised the heavens without a pillar as you can see. Then He established his control over the realm and made the sun and moon subservient to Him. Each of them will remain in motion for an appointed time. He regulates all affairs and explains the evidence (of His existence) so that perhaps you will be certain of your meeting with your Lord.

— Muhammad Sarwar

Allah is He Who raised the heavens without any pillars that you see, and He is firm in power and He made the sun and the moon subservient (to you); each one pursues its course to an appointed time; He regulates the affair, making clear the signs that you may be certain of meeting your Lord.

— Muhammad Habib Shakir

Allah it is who hath raised the heavens without pillars that ye can see, then He established Himself on the throne, and subjected the sun and the moon, each running unto a period determined. He disposeth the affair, and detaileth the signs, that haply of the meeting with your Lord ye may be convinced.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah is He Who raised the heavens without any pillars that ye can see; is firmly established on the throne (of authority); He has subjected the sun and the moon (to his Law)! Each one runs (its course) for a term appointed. He doth regulate all affairs, explaining the signs in detail, that ye may believe with certainty in the meeting with your Lord.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 13:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

کمال قدرت اور عظمت سلطنت ربانی دیکھو کہ بغیر ستونوں کے آسمان کو اس نے بلند بالا اور قائم کر رکھا ہے۔ زمین سے آسمان کو اللہ نے کیسا اونچا کیا اور صرف اپنے حکم سے اسے ٹھرایا۔ جس کی انتہا کوئی نہیں پاتا۔ آسمان دنیا ساری زمین کو اور جو اس کے ارد گرد ہے پانی ہوا وغیرہ سب کو احاطہ کئے ہوے ہے اور ہر طرف سے برابر اونچا ہے، زمین سے پانچ سو سال کی راہ پر ہے، ہر جگہ سے اتنا ہی اونچا ہے۔ پھر اس کی اپنی موٹائی اور دل بھی پانچ سو سال کے فاصلے کا ہے، پھر دوسرا آسمان اس آسمان کو بھی گھیرے ہوئے ہے اور پہلے سے دوسرے تک کا فاصلہ وہی پانچ سو سال کا ہے۔ اسی طرح تیسرا پھر چوتھا پھر پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں جیسے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الرَّعْد 2 بالفاظ دیگر آسمانوں کو غیر محسوس اور غیر مرئی سہاروں پر قائم کیا۔ بظاہر کوئی چیز فضائے بسیط میں ایسی نہیں ہے جو ان بےحد و حساب اجرام فلکی کو تھامے ہوئے ہو۔ مگر ایک غیر محسوس طاقت ایسی ہے جو ہر ایک کو اس کے مقام و مدار پر روکے ہوئے اور ان عظیم الشان اجسام کو زمین پر یا ایک دوسرے پر گرنے نہیں دیتی۔ سورة الرَّعْد 3 اس کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة اعراف 41۔ مختصرا یہاں اتنا اشارہ کافی ہے کہ عرش (یعنی سلطنت کائنات کے مرکز) پر اللہ تعالیٰ کی جلوہ فرمائی کو جگہ جگہ قرآن میں جس غرض سے بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے اس کائنات کو صرف پیدا ہی نہیں کردیا ہے بلکہ وہ آپ ہی اس سلطنت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ارشاد فرمایااَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا یعنی اللہ ایسا ہے جس نے آسمانوں کے اتنے بڑے وسیع اور بلند رقبہ کو بغیر کسی ستون کے اونچا کھڑا کردیا جیسا کہ تم ان آسمانوں کو اسی حالت میں دیکھ رہے ہو کیا آسمان کا جرم آنکھوں سے نظر آتا ہے عام طور سے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ نیلا رنگ جو ہمیں اوپر نظر آتا ہے آسمان کا رنگ ہے مگر فلاسفہ کہتے ہیں کہ یہ رنگ روشنی اور اندہیری کی آمیزش سے محسوس ہوتا ہے کیونکہ نیچے ستاروں کی روشنی اور اس کی اوپر اندھیرہ ہے تو باہر سے رنگ نیلا محسوس ہوتا ہے جیسے گہرے پانی پر روشنی پڑتی ہے تو وہ نیلا نظر آتا ہے قرآن کریم کی چند آیات ایسی ہیں جن میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۭ كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَاۗءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ۔ خدا کی عظیم قدرت و حکمت کی طرف ایک اشارہ : رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا۔ عمد، عمود کی بھی جمع ہے اور عماد کی بھی اور ترونہا اس کی صفت ہے۔ یعنی خدا نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر کھڑا کیا ہے جو تمہیں نظر آئیں۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس نے یہ عظیم شامیانہ جذب و کش کے ایسے ستونوں پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

2۔ 1 استوا علی العرش کا مفہوم اس سے قبل بیان ہوچکا ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا عرش پر قرار پکڑنا ہے۔ محدثین کا یہی مسلک ہے وہ اس کی تاویل نہیں کرتے، جیسے بعض دوسرے گروہ اس میں اور دیگر صفات الٰہی میں تاویل کرتے ہیں۔ تاہم محدثین کہتے ہیں کہ اس کی کیفیت نہ بیان کی جاسکتی ہے اور نہ اسے کسی چیز سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ (لیس کمثلہ شیء وہو السمیع البصیر) الشوری 2۔ 2 اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ یہ ایک وقت مقرر تک یعنی قیامت تک اللہ کے حکم سے چلتے رہیں گے جیسا کہ فرمایا (والشمس تجری لمستقرلھا ذلک تقدیر العزیز العلیم) یسین۔ اور سورج اپنے ٹھہرنے کے وقت تک چل رہا ہے دوسرے معنی یہ ہیں کہ چاند اور سورج…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

2: یعنی یہ آسمان ایسے ستونوں پر نہیں کھڑے ہیں جو آنکھوں سے نظر آسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ ہی کے سہارے انہیں کھڑا کیا ہوا ہے۔ آیت کی یہ تفسیر حضرت مجاہد سے مروی ہے (روح المعانی 110:13) 3: استواء کے لفظی معنی سیدھا ہونے، قابو پانے اور بیٹھ جانے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مخلوقات کی طرح نہیں ہیں اس لیے ان کا استواء بھی مخلوقات جیسا نہیں۔ اس کی ٹھیک ٹھیک کیفیت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اس لیے ہم نے اس لفظ کا اردو میں ترجمہ کرنے کی بجائے اسی لفظ کو برقرار رکھا ہے کیونکہ ہمارے لیے اتنا ایمان رکھنا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عرش پر اس طرح استواء فرمایا جو ان کی شان کے لائق ہے اس سے زیادہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 2–7

آیت نمبر 2 تا 7 آسمان کیا ہیں اور ان کا مفہوم مختلف ادوار میں لوگ کیا سمجھتے رہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے ، لیکن یہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ ایک عظیم منفر اور عظیم کائنات ہے۔ جب بھی کوئی ان پر غور کرتا ہے اور معلومات حاصل کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی عظمت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ پھر یہ سب نظام کسی ظاہری سہارے کے بغیر قائم ہے۔ جس طرح اس زمین پر کوئی چیز بغیر سہارے کے نہیں ہوتی ، ایسا سہارا جو ہمیں نظر آئے۔ بغیر عمد ترو نہا۔ یہ اس پوری کائنات کی تصویر کشی کے سلسلے میں پہلا ٹچ ہے اور انسانی وجدان اور قوت مدرکہ کے لئے یہ ایک پہلی ضرب ہے ، خصوصاً جبکہ انسان اس عظیم کائنات پر غور کر رہا ہو اور وہ سوچے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی اس دنیا کی ایسی عظیم الشان، بلند اور مضبوط چھت خدا نے بنائی جسے تم دیکھتے ہو۔ اور لطف یہ ہے کہ کوئی ستون یا کھمبہ یا گرڈر دکھائی نہیں دیتا۔ جس پر اتنی بڑی ڈاٹ کھڑی کی گئی بجز اس کے کیا کہا جائے کہ محض قدرت کے غیر مرئی ستون کے سہارے اس کا قیام ہے۔ ( وَيُمْسِكُ السَّمَاۗءَ اَنْ تَقَعَ عَلَي الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ) 22 ۔ الحج :65) کشش اجسام کا نظریہ اگر صحیح ہو تو وہ اس آیت کے منافی نہیں۔ کیونکہ کشش کو عرفاً عمد نہیں کہتے اور اگر عمد کہا جائے تو مرئی نہیں ہے۔ " رُوِیَ عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ وَمُجَاہِدٍ وَالْحَسَنِ وَقَتَادَۃَ وَغَیْرِ وَاحِدٍ اَنَّہُمْ قَالُوْا لَہَا عُمُدٌ وَلٰکِنْ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

آیت 2 اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا اس کائنات کے اندر جو بلندیاں ہیں انہیں ستونوں یا کسی طبعی سہارے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے باہمی کشش کا ایک عظیم الشان نظام وضع کیا گیا ہے جس کے تحت تمام کہکشائیں ستارے اور سیارے اپنے اپنے مقام پر رہ کر اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى یعنی اس کائنات کی ہرچیز متحرک ہے چل رہی ہے یہاں پر سکون اور قیام کا کوئی تصور نہیں۔ دوسرا اہم نکتہ جو یہاں بیان ہوا وہ یہ ہے کہ اس کائنات کی ہر شے کی عمریا مہلت مقرر ہے۔ ہر ستارے ہر سیارے ہر نظام شمسی اور ہر کہکشاں کی مہلت زندگی مقرر و…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 آسما نوں کے ستون یا کشش ثقل ؟۔ یعنی اس بات کا امکان ہے کہ آسمان ستونوں یا سہاروں پر قائم ہوں لیکن وہ ستون یا سہارے غیر مرئی ہوں، انھیں ہم دیکھ نہیں سکتے۔ چناچہ تفسیر ابن کثیر میں سیدنا ابن عباس ؓ ، مجاہد، حسن بصری، قتادہ اور بعض دوسروں سے ایسی ہی روایت کی گئی ہے۔ ان غیر مرئی سہاروں کو ہم آج کل کی زبان میں کشش ثقل کہہ سکتے ہیں۔ 3 اِسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ کی تفسیر کے لیے دیکھئے (7: 54 کا حاشیہ نمبر 54) 4 سیا روں کی گر دش تا قیامت۔ یہ مقررہ مدت قیامت ہے۔ جب یہ سارا نظام کائنات درہم برہم کردیا جائے گا۔ اس آیت میں پہلے سورج اور چاند کا ذکر فرمایا۔ آگے فرمایا : (کُلٌ یَّجْرِیْ لاِجَلٍ مُّسَمًّی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ زمین سے آسمان کا اتنا بلند نظر آنا اور اتنی بلند چیز بغیر کسی ظاہری مادی سہارے کے۔۔۔ یہ بجائے خود ایک دلیل خالق فطرت کی اعلی صناعی وقدرت کی ہے، جمہور مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں نفی عمد کی کی گئی ہے۔ آیت میں ان یونانی ومصری حکماء وفلاسفہ کا رد آگیا، جو آسمان کو قائم بالذات صاحب عقل و ارادہ دیوتا تسلیم کرتے تھے۔ (آیت) ” ترونھا “۔ کے ترجمہ میں ضمیر مونث السماوات کی طرف لی گئی ہے لیکن جائز ہے کہ عمد کی طرف بھی لی جائے اس صورت میں نفی عمد کی نہیں بلکہ رؤیت عمد کی رہے گی یعنی آسمانوں کے لئے ایسے ستون ہیں جو تمہارے لئے غیر مرئی وغیرہ مشاہد ہیں۔ قیل ضمیر النصب فی ترونھا عائد علی عمد ای بغیر عمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–7

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 7 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے، المر، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیتیں قرآن کریم کی آیتیں ہیں اور (آیاتُ الکتاب) میں اضافت بمعنی مِنْ ہے اور جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے اتارا جاتا ہے سب حق ہے (یعنی) اس میں کوئی شک نہیں ہے، (وَالَّذِیْ اُنزلَ اِلیک الخ) مبتداء ہے اور الحقُّ اس کی خبر ہے، لیکن اکثر لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے کہ یہ منجانب اللہ ہے اور وہ اہل مکہ ہیں، اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر بلند فرمایا جو تم کو نظر آتے ہوں، العمد، عمادٌ کی جمع ہے اور وہ ستون ہیں اور عدم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اللہ الذي رفع السموت بغیر عمد ترونھا ثم استوی علی العرش وسخر الشمس والقمر کل یجری لاجل مسمے یدبر الامر یفصل الایت لعلکم بلقاء ربکم توقنون اللہ ایسا (قادر) ہے جس نے بغیر ستونوں کے آسمانوں کو اونچا کھڑا کردیا جو تم کو نظر آ رہے ہیں ‘ پھر وہ عرش پر قائم ہوگیا اور سورج و چاند کو کام پر لگا دیا ‘ ہر ایک ایک وقت معین میں چلتا رہتا ہے۔ وہی ہر کام کی تدبیر کرتا ہے (وہی) صاف صاف طریقے سے دلائل بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب کی پیشی کا یقین کرلو۔ عَمَدٌ ستون۔ یہ عماد یا عمود کی جمع ہے ‘ جیسے اَہَب اہاب کی اور اَدَم ادیم کی جمع ہے۔ تَرَوْنَھَا جملہ علیحدہ ہے (اسی کے مطابق ہم نے ترجمہ کیا ہے ‘ یا عَمََد کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(2) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو پیدا کیا اور بغیر ستون کے ان کو زمین پر کھڑا کردیا، تم ان آسمانوں کو اسی طرح دیکھ رہے ہو یہ ایسے ستون ہیں جن کو تم نہیں دیکھ رہے اور آسمانوں کے اونچا کرنے سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ عرش پر تھا اور پھر عرش پر متمکن ہوا یعنی علم وقدرت کے اعتبار سے قریب وبعید سب اس کے نزدیک برابر ہیں اور چاند وسورج کی روشنی کو انسانوں کے لیے مسخر کردیا ہر ایک اپنے مدار پر ایک وقت مقررہ میں چلتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بندے کے تمام کاموں کی نگرانی کرتے ہیں وہی تنزیل مصیبت کو بذریعہ فرشتوں کے نازل فرماتا ہے یہ قرآن پاک اوامرو نواہی کو صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ تم مرنے کے بعد کی تصدیق کرو،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ : لفظ ”اَللّٰهُ“ اس پاک ہستی کا ذاتی نام ہے جس نے سب کچھ بنایا اور اسے چلا رہا ہے۔ اس ایک لفظ میں اس کی ساری صفات آجاتی ہیں۔ ایمان اس ہستی کی توحید، اس کے رسولوں کی تصدیق اور اس کے سامنے قیامت کو پیش ہونے کے عقیدے کا نام ہے۔ یہاں سے اللہ تعالیٰ نے انسان کے سامنے آسمان و زمین میں اپنی قدرت کی کچھ نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے، تاکہ وہ توحید و رسالت اور قیامت پر ایمان لے آئے۔ سب سے پہلے آسمان کا ذکر فرمایا، سورة نازعات (27) میں فرمایا : ”کیا تمہیں (پہلی بار یا دوبارہ) پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کو ؟“ اپنے وجود اور آسمان کے وجود کا مقابلہ کرکے تو دیکھو،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 2 قولہ تعالیٰ : اللہ الذی رفع السموت بغیر عمد ترونھا جب اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ قرآن حق ہے، تو یہ بھی بیان فرمایا کہ اس کو نازل کرنے والا کمال پر قدرت رکھتا ہے، اس کی کاریگریوں کو دیکھو تاکہ اس کی قدرت کے کمال کو پہچان سکو۔ یہ معنی پہلے گزر چکا ہے۔ بغیر عمد ترونھا کے ارشاد کے متعلق دو قول ہیں : ایک یہ کہ بغیر ستونوں کے بلند ہیں لیکن ہم وہ دکھاتے نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : آسمان کے ستون قاف پہاڑ پر ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس پر یہ بات کی جائے کہ ستون اس کی وہ قدرت ہے جس کے ذریعے وہ آسمان اور زمین کو روکتا ہے۔ اور وہ قدرت ہمیں نظر نہیں آتی، زجاج نے اس بات کو ذکر کیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 2–3

آسمانوں کے ستون کا ذکر : 1:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ فلاں یوں کہتا ہے (آیت) ” انھا علی عمد “ یعنی آسمان پر قائم ہیں پھر فرمایا اس کو یہ آیت پڑھاؤ (آیت ) ” بغیر عمد ترونھا “ یعنی ان ستونوں کو نہیں دیکھتے ہو۔ 2:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” رفع السموت بغیر عمد ترونھا “ کے بارے میں فرمایا تجھے کیا معلوم شاید کہ ایسے ستونوں پر قائم ہو جو تم نہیں دیکھتے ہو۔ 3:۔ عبدالرزاق وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” بغیر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اللّٰهُ : اللہ ] [ الَّذِي : وہ ہے جس نے ] [ رَفَعَ : بلند کیا ] [ السَّمٰوٰتِ : آسمانوں کو ] [ بِغَيْرِ عَمَدٍ : ستونوں کے بغیر ] [ تَرَوْنَهَا : تم لوگ دیکھتے ہو جن کو ] [ ثُمَّ : پھر ] [اسْتَوٰى: وہ متمکن ہوا ] [ عَلَي الْعَرْشِ : عرش پر ] [ وَسَخَّرَ : اور اس نے مطیع کیا ] [ الشَّمْسَ : سورج کو ] [وَالْقَمَرَ : اور چاند کو ] [ كُلٌّ: سب ] [ يَّجْرِيْ : رواں ہیں ] [ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى : ایک معین مدت کے لئے ] [ يُدَبِرُ : وہ تدبیر کرتا ہے ] [ الْاَمْرَ : تمام کاموں کی ] [ يُفَصِّلُ : وہ کھول کھول کر بیان کرتا ہے ] [الْاٰيٰتِ : نشانیوں کو ] [ لَعَلَّكُمْ : شائد تم لوگ ] [ بِلِقَاۗءِ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

آسمانوں کی بلندی ‘ شمس وقمر کی تسخیر اور زمین کے پھیلاؤ ‘ پھلوں کی انواع و اقسام میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت کی نشانیاں ہیں یہاں سے سورة الرعد شروع ہو رہی ہے اس کی ابتداء المر سے ہے جو حروف مقطعات میں سے ہے ان کے معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں ‘ پہلے تو فرمایا (تِلْکَ اٰیَاتُ الْکِتٰبِ ) یہ کتاب کی یعنی قرآن کی آیات ہیں ‘ پھر فرمایا (وَالَّذِیْ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ الْحَقُّ ) اور آپ کے رب کی طرف سے جو آپ کی طرف نازل کیا گیا وہ حق ہے ‘ اس کا حق ہونا امر واقعی ہے کوئی مانے نہ مانے وہ بہر حال حق ہے (وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ذکر دلائل توحید و اثبات مبدأ ومعاد قال اللہ تعالیٰ : اللہ الذی رفع السموت بغیر عمد .... الیٰ .... ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون (ربط) گزشتہ آیت میں قرآن مجید کا منزل من اللہ ہونا اور اسکا حق اور صدق ہونا اور کافروں کا اس پر ایمان نہ لانا بیان کیا گیا اب آئندہ آیات میں دلائل توحید والوہیت اور قرآن کے نازل کرنے والے خدا کی کمال قدرت کا ذکر کرتے ہیں اور آخرت کا اثبات فرماتے ہیں جو اعظم مقاصد قرآن میں سے ہے اور چونکہ اکثر لوگ خدا تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کے منکر ہیں اس لیے اثبات توحید و الوہیت کے لیے آسمانوں کے حالات اور آفتاب و ماہتاب کی حرکات اور زمین کے مختلف قطعات اور زمین کی پیداوار کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ پہلی عقلی دلیل۔ سورة یوسف میں مسئلہ توحید ہر پہلو سے واضح ہوگیا اور سورة یوسف میں دلیل نقلی تفصیلی سے ثابت کردیا گیا کہ کارساز اور عالم لغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ مسئلہ اب بالکل بدیہی ہوچکا ہے۔ اب مسئلہ کو اور زیادہ کھولنے کے لیے سورة رعد میں مزید گیارہ دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ آٹھ عقلی، دو وحی اور ایک نقلی۔ یہ پہلی عقلی دلیل ہے۔ خبر کی تعریف مفید حصر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کائنات دو حصوں میں منقسم ہے علویات اور سفلیات علویات سے وہ عالم مراد ہے جو کر ات عناصر سے ماورا ہے۔ آسمان، سورج اور چاند وغیرہ اور سفلیات سے کرہ ارضی کی مخلوق مراد ہے۔ یہاں ” بِلِقَاءِ رَبِّکُمْ تُوِْقِنُوْنَ “ تک علویات…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–2

تفسیر : (نام اور کوائف) اس سورة کا نام سورة الرعد ہے ، رعد بادل کی گرج کو کہا جاتا ہے چونکہ اس سورة میں بادلوں اور انکی گرج کا ذکر ہے ، اس لیے اس سورة کو رعد کے نام موسوم کیا گیا ہے ، گذشتہ سورة یوسف کی طرح یہ سورة بھی مکی ہے جو کہ مکی دور کے آخری حصے میں نازل ہوئی ، یہ وہی دور ہے جب حضور ﷺ اور آپ کے پیروکار سخت مصائب کا شکار ہو رہے تھے ، اس سورة کی تینتالیس آیات ، 855 کلمات اور 3056 حروف ہیں ، یہ زیادہ لمبی سورة نہیں بلکہ چھ رکوع کی درمیانی سورة ہے ۔ (مضامین سورة ) سورۃ یوسف اور سورة رعد کے زمانہ نزول کی طرح ان کے مضامین بھی آپس میں ملتے جلتے ہیں مکی سورتوں میں عام طور پر بنیادی عقائد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۭ كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَاۗءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ ۝ رفع الرَّفْعُ في الأجسام الموضوعة إذا أعلیتها عن مقرّها، نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] ، قال تعالی: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] ( رع ) الرفع کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں یہ مادی چیز جو اپنی جگہ پر پڑی ہوئی ہو اسے اس کی جگہ سے اٹھا کر بلند کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب : تلک مبتد آیات الکتاب خبر اور ممکن ہے کہ المرا کی خبر ہو اور آیات بدل یا عطف بیان والذی الخ مبتدا الحق خبر اور ممکن ہے کہ والذی الکتاب کی صفت اور واؤ درمیان آیا اور الحق مبتدا محذوف کی خبر ہو۔ بغیر عمد موضح نصب میں حال ہو کر اے حالیۃً عن عمد والعمد بالفتح جمع عماد اور عمود۔ ترونہا ضمیر اگر عمد کی طرف راجع ہے تو موضع جر میں ہے صفت عمد کی اور اگر السموات کی طرف تو اس سے حال ہوگا جیسا کہ یدبر ضمیر سخر سے اور یفصل ضمیر یدبر سے حال ہے۔ قطع مبتدا فی الارض خبر یا قطع ظرف کا فاعل وزرع معطوف ہے قطع پر۔ صنوان جمع صنو جیسا کہ قنوان قنو کی جمع ہے ای النخلات یجمعھا اصل واحد وتنشعب فروعہا فی الاکل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَللّٰہُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰ تِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ وَسَخَّرَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ط کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًی ط یُدَبِّرُالْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰ یٰتِ لَعَلَّکُمْ بِلِقَآئِ رَبِّکُمْ تُوْقِنُوْنَ ۔ (سورۃ الرعد : 2) (اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں، پھر وہ اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ ان میں سے ہر ایک، ایک وقت معین کے لیے گردش کرتا ہے۔ وہی کائنات کا انتظام فرماتا ہے، وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے، شاید کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جس ہستی نے قرآن نازل فرمایا اس کی صفات کا بیان۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق، تدبیر اور حکمتوں کو دیکھنے کے لیے ایک سرسری نظر کا ئنات کی تشکیل اور تدبیر پر ڈالیں۔ کائنات اور اس کا نظام : اب تک جو کائنات معلوم ہوئی ہے اسے اگر مکعب کلو میٹر میں ناپا جائے۔ ایک مکعب کلومیٹر ایک کلومیٹر لمبائی، ایک کلومیٹر چوڑائی اور ایک کلومیٹر اونچائی ہے تو پوری معلوم کائنات کا گھیراؤ نکالنے کے لیے ایک کے آگے 69 صفر لگانے پڑیں گے تب حساب پورا ہوگا۔ اس کے باوجود کائنات لامحدود ہے اس کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ مسلسل انتہائی تیز رفتاری سے مزید پھیل رہی ہے۔ ہماری زمین جس نظام شمسی میں شامل ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قدرت الٰہی کے نمونے : 2: اَللّٰہُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ (اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا) اللہؔ مبتداء ہے اور الذی رفع السٰمٰوت اس کی خبر ہے۔ بِغَیْرِ عَمَدٍ (بغیر ستون کے) یہ عماد یا عمود کی جمع ہے یہ حال ہے تَرَوْنَھَا (جو تم کو نظر آرہے ہیں) ھاؔ ضمیر آسمانوں کی طرف لوٹتی ہے یعنی تم انکو اسی طرح دیکھتے ہو بیان کی ضرورت نہیں نمبر 2۔ ضمیر عمد کی طرف ہے اس صورت میں یہ موضع جر میں ہے اس لئے کہ عمد کی صفت ہے یعنی بغیر عمدمرئیہ نظر آنے والے ستونوں کے بغیر ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ (پھر عرش پر مستوی ہوا) اقتدار و نفوذ سلطنت سے استیلاء کیا وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2۔” اللہ الذی رفع السموات بغیر عمد ترونھا “ اس کا معنی ستون ہے اس کا مفرد عمود آتا ہے۔ جیسے ادیم جمع ہے ادم کی ۔ اسی طرح عمد ہے جیسے رسول کی جمع رسل ہے۔ معنی یہ ہے کہ آسمان بغیر ستونوں کے بنایا گیا ہے۔ یہی صحیح ہے۔ آسمان کے نہ کوئی ستون ہیں جن پر وہ کھڑا ہے اور نہ ہی اس کے اوپر کوئی چیز ہے جس سے باندھ کر اس کو لٹکا یا گیا ہو ۔ ایاس بن معاویہ کا قول ہے ۔ آسمان زمین کو ڈھانپے ہوئے ہے مثل ” قبہ “ کے ، بعض نے کہا کہ ” ترونھا “ راجع ہے عمد کی طرف ۔ اس صورت میں اس کا معنی یہ ہوگا کہ اس کے ستون ہیں لیکن نظر نہیں آ رہے اور بعض لوگوں کا گمان ہے کہ آسمان کے ستون بڑے بڑے پہاڑ ہیں جو پوری دنیا کو احاطہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

2۔ اگرچہ مجاہد اور عکرمہ اور ایک روایت میں عبد اللہ بن عباس ؓ سے بعض تفسیروں میں اس آیت کے معنے یہ بیان کئے گئے ہیں کہ قاف پہاڑ پر ایک ستون ہے اس پر اس طرح آسمان قائم ہے جس طرح ایک چوبہ ڈیرہ چوب پر قائم ہوتا ہے اور وہ ستون اہل دنیا کو نظر نہیں آتا اس لئے یہ فرمایا ہے کہ آسمان بغیر ایسے ستون کے بلند کیا جس کو تم دیکھ نہیں سکتے لیکن صحیح معنے آیت کے یہی ہیں کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ آسمان بلا ستون کے اللہ تعالیٰ نے بلند کیا ہے کیونکہ ستون ہوتا تو آخر تم کو نظر آتا غرض سورة الحج کی آیت { السمآء ان تقع علی الارض } (ص 22: 65) میں اور سورة الفاطر کی آیت { ان اللہ یمسک السموات والارض ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تخلیق و تدبیر اور عظمت و سلطان میں منفرد ہے اس کی یہ وحدانیت دلالت کرتی ہے کہ وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں کرنی چاہیے، چناچہ فرمایا : (اللہ الذی رفع السموت) ” اللہ وہی تو ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا “ آسمانوں کے بہت بڑے اور بہت وسیع ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو بلند کر رکھا ہے۔ (بغیر عمد ترونھا) ” ستونوں کے بغیر جیسا کہ تم دیکھتے ہو “ یعنی آسمانوں کو سہارا دینے کے لئے ان کے نیچے کوئی ستون نہیں اور ان کو ستون نے سہارا دیا ہوتا تو وہ تمہیں ضرور دکھائی دیتے۔ (ثم) ” پھر “ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے بعد (استوی علی العرش) ” وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

1۔ عظیم الشان آیات : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ آیتیں ہیں اس کتاب حکیم کی " جو اس سورة کریمہ میں مذکور ہیں۔ یا اس سے پورے قرآن حکیم کی آیات مراد ہیں۔ (معالم، جامع، فتوحات الہیہ وغیرہ) ۔ سو جب یہ آیتیں اس عظیم الشان کتاب کی ہیں جو کہ ایک بےمظال کتاب اور معجزہ خداوندی ہے تو پھر اس کی ان عظیم الشان آیتوں کی عظمت شان کے کہنے ہی کیا ؟ سو سورة کریمہ کی ابتداء اور اس کا آغاز ہی اس طرح فرمانے سے یہ درس ملتا ہے کہ جیسے یہ کتاب عظیم الشان اور بےمثال ہے اسی طرح اس کی یہ آیات بھی عظیم الشان اور بےمثال ہیں۔ لہذا ان کی تلاوت بھی اسی انداز و اعتبار سے ہونی چاہئے اور ان کو دل وجان سے اپنانا چاہئے کہ اسی میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 2–5

اللہ کی تخلیقات اور آخرت کا انکار کرنیوالوں کا انجام تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رب اور خالق ہونے کے دلائل بیان فرمائے ہیں اس دنیا کا اور تمام کائنات کا خالق اور قادر مطلق اللہ تعالیٰ ہے اس کی بنائی ہوئی تخلیقات انتہائی حیران کن ہیں اور انسان کے لیے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس کو چھت کے طور پر آسمانوں کا سایہ دیا، آسمان کی تخلیق اس قدر حیرت انگیز ہے کہ اس کی تعمیر کے لیے کسی ستون یا کھمبے کی ضرورت نہیں پڑی یہ بیان تو ایک عام، بےعلم انسان کے لیے ہے مگر علم و فضل رکھنے والے انسان کے لیے یہاں بہت بڑی سائنسی اصطلاح اور ایک بہت بڑا اصول بیان کردیا گیا ہے۔ کیونکہ جب آسمان، زمین،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–7

سورة الرعد : رکوع نمبر 1 : اسرارومعارف : (آیت) ” الم ، تلک ایت الکتب۔ 1 تا 7 ۔ یہ سورة مبارکہ بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے اور سورة یوسف کے آخر کا مضمون یعنی توحید باری کا ثبوت اور نبوت کی حقانیت ہی کے دلائل کا تسلسل ہے کہ ارشاد ہوتا ہے کہ یہ مضامین ایک بےمثال کتاب میں ہیں جو اللہ کا ذاتی کلام ہے اور جو بجائے خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے کہ اس کی نظیر پیش کرنا انسانی بس میں نہیں اور جو کچھ اس میں فرمایا گیا ہے ، انسان کبھی اسے غلط ثابت نہیں کرسکتا اگرچہ اس میں دنیاوی امور کے بارے افزائش کے مسائل اور صورتیں سیاسیات ، اخلاقیات اور معاشیات تک بیان کی گئی ہیں واقعات عالم کے بارے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ۔ یعنی تم ان آسمانوں کو دیکھ رہے ہو کہ ان میں کوئی ستون نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مھض اپنی قدرت اور امر سے انہیں تھام رکھا ہے جیسا کہ دوسری آیت میں ہے : ویمسک السماء ان نفع علی ا الرض الا باذنہ۔ اور وہ آسمان کو زمین پر گر پڑنے سے روکے ہوئے ہیں مگر اس کی اجازت سے۔ (حج :56) اس صورت میں ” ترونھا “ میں ھا ضمیر کا مرجع سمٰوٰت ہوں گے اور یہ جملہ مستانفہ ہوگا یا حال مقدرہ۔ اور اگر اسے عمد (ستونوں) کے لئے قرار دیا جائے تو ترجمہ یہ ہوگا “ بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظرآئیں “۔ مطلب یہ ہے کہ ستون تو ہیں مگر تمہیں نظر نہیں آتے علمائے تفسیر نے آیت کے دونوں مفہوم بیان کئے ہیں واللہ اعلم (ابن کثیر۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(13:2) عمد۔ ستون۔ اس کی جمع عمود وعمار ہے۔ ترونہا۔ میں ہا ضمیر کا مرجع السموت بھی ہوسکتا ہے اور اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اللہ وہ (صاحب قدرت و حکمت ) ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں بلند کیا۔ جیسا کہ تم انہیں (سماوات کو) دیکھ رہے ہو۔ یا اس ضمیر کا مرجع عمد ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ایسے ستونوں کے بلند کیا جن کو تم دیکھ سکو۔ (یعنی ستون ہیں تو سہی لیکن تم ان کو دیکھ نہیں سکتے۔ (اس صورت میں کشش ثقل ۔ قدرت ِ الٰہی ۔ امرِ ربی وغیرہ کو غیر مرئی ستون کا نام دیا جاسکتا ہے) ۔ استوی علی العرش ط۔ پھر وہ عرش پر قائم ہوا۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 2: 29 ۔ 7:54 ۔ 10:3) کل۔ ای…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–4

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4: انزل اتارا گیا الحق سچ رفع بلند کیا عمد ستون، سہارا استوی وہ برابر ہوا سخر اس نے مسخر کردیا، تابع کردیا اجل مسمی متعین مدت، مقرر مدت لقاء ملاقات مد اس نے پھیلا دیا رواسی بوجھ زوجین جوڑے ، دو دو یغشی چھا جاتا ہے قطع خطے، قطعات متجورت پاس پاس اعناب (عنب) انگور زرع کھیتی نخیل کھجور صنوان ایک جڑ والی یسقی سینچا جاتا ہے بماء واحد ایک پانی سے نفضل ہم بڑھا دیتے ہیں الاکل پیداوار پھل تشریح آیت نمبر 1 تا 4 اس سورت کے دوسرے رکوع کی ایک آیت میں لفظ رعد آیا ہے اسی مناسبت سے نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے اس سورت کا نام ” الرعد “ رکھا ہے۔ رعد کے معنی بادلوں کی گرج کے آتے ہیں۔ یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اللہ تعالیٰ کی قدرت کا نمونہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے وہ قادر مطلق ہے جس نے آسمانوں کو بےستون قائم کیا اس قادر مختار نے گول گنبد بنایا اور اس میں کسی ستون کی حاجت نہیں رکھی، پھر تخت حکومت پر جلوس فرمایا اور سورج اور چاند کو مسخر کیا بندوں کی مصلحتوں کے واسطے اسے مفید جانا، ان دونوں کو محرک کیا۔ ان میں سے ہر ایک ایک میعاد معین تک حرکت میں رہے گا یعنی قیامت تک سورج اور چاند کو گردش رہے گی۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے جس کا موجود کرنا مصلحت ہوتا ہے اسے موجود کرتا ہے اور جس کا نابود کرنا مناسب ہوتا ہے اسے نابود کرتا ہے۔ وہی ذلت دیتا ہے وہی عزت بخشتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–2

[1] مطلب یہ ہے کہ جو قادر مطلق ہے ایسی ایسی عظیم الشان مخلوقات کے پیدا کرنے پر قادر ہے اس کے لئے انسان کا دوبارہ پیدا کرنا کچھ دشوار نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–3

(ف 1) استواء کا مسئلہ مدتوں اسلامی فرقوں میں نزاع کا باعث رہا ہے ، اہل سنت کا مسئلہ اس باب میں بالکل واضح ہے کہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں مگر اس کی تفصیلات سے پوری طرح آگاہ نہیں یعنی ہم مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے استواء فرمایا ، مگر کیونکر ؟ اس کا جواب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ اپنی عقل کی کمی کا اعتراف کرلیں اجمالا یوں سمجھ لیجئے ، کہ یہ ایک نوع کی تجلی تدبیر تھی یہی وجہ ہے اس کو عین تجلیات تکوین کے درمیان رکھا ہے ۔ اور (آیت) ” یدبر الامر “۔ کی تصریح بھی فرما دی ہے ۔ علوم پڑھو ! (ف 2) قرآن حکیم کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ دلائل میں قانون قدرت کی ہمہ گیری دوست کو پیش کرتا ہے ، وہ کہتا ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

2 ۔ اللہ تعالیٰ ایسا قادر مطلق ہے جس نے آسمانوں کو بغیر کسی ستون کے بلند اور استوار کردیا جیسا کہ تم ان کو دیکھتے ہو پھر وہ عرش پر اپنی نشان کے موافق قائم اور جلوہ گر ہوا اور اس نے سورج و چاند کو کام میں لگا رکھا ہے کہ ہر ایک ان میں سے اپنے مدار پر ایک وقت معین پر چلتا رہتا ہے اور ایک وقت معین یعنی قیامت تک چلتا رہے گا وہ اللہ تعالیٰ تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے اور اپنے دلائل تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے تا کہ تم اپنے پروردگار کی پیشی میں حاضر ہونے اور اس سے ملنے کا یقین کرو۔ یعنی سورة یوسف (علیہ السلام) کے آخر میں رسالت پر بحث تھی اس سورت کی شروع میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل مذکور ہیں اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

ف 6۔ یعنی زمین و آسمان میں احکام جاری کرنے لگا۔ 7۔ چناچہ سورج اپنے مدار کو سال بھی میں قطع کرلیتا ہے اور چاند مہینہ بھر میں۔ 8۔ یعنی بعث ونشر کا یقین کرلو اس کے امکان کا تو اس طرح کہ جب اللہ ایسی عظیم چیزوں کی تخلیق پر قادر ہے تو مردوں کو زندہ کرنے پر کیوں قادر نہیں ہوگا اور اس کے وقوع کا یقین اس طرح کہ مخبر صادق نے ایک امرممکن کے وقوع کی خبر دی لامحالہ وہ واقع ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آسمانوں کو کھڑا کرنے والا اللہ ہے پھر جب آسمان کھا ہے تو کھڑا کرنے والا کیوں موجود نہیں ؟ 3 ؎ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل بیان کئے جا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی حقیقت کا فہم و ادراک تو انسنا کے بس میں نہیں لیکن اس کی صفات کے آئینوں میں اس کی عظمت وکبریائی کے جلوے دیکھے جاسکتے ہیں ذرا آسمان کی طرف نظر اٹھا کر تو دیکھو کیا تم اس کی بلندی کا اندازہ لگا سکتے ہو ؟ کیا اس کی وسعت و فراخی کا تمہاری نظریں احاطہ کرسکتی ہیں ؟ کیا اس کو اتنی بلندی پر تھامنے کیلئے کوئی ستون دکھائی دے رہا ہے ؟ تم تو ایک چھوٹے سے کمرے کی چھت ڈالنا چاہو تو پہلے دیواریں بناتے ہو ‘ پھر شہتیر رکھے ہو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

It was said: اللَّـهُ الَّذِي رَ‌فَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ‌ عَمَدٍ تَرَ‌وْنَهَا Allah is the One who raised the heavens without pillars. You see them. On Seeing the Sky It is generally said that the blue colour we see up is the colour of the sky. But physicists say that we see it so because of the intermingling of light and dark. Below, there is the light from the stars, and above, it is dark. As a result, the onlooker outside sees it as blue, similar to the reflection of light on deep water which appears blue. There are verses of the Qur'an where seeing the sky has been mentioned, as has…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2. In other words,“Allah is He who raised the heavens without (any) pillars that you can see.”Though there is nothing apparent and visible that is supporting these heavens, yet there is an invariable and imperceptible Power which is not only holding but keeping in its place each and every one of these huge heavens and whatever is in between them. 3. For further details of“Then He established upon the Throne,”please refer to (E.N. 41 of Surah Al-Aaraf). Here the purpose will be served if it is understood that this thing has been mentioned in the Quran at many places in order to bring out…

Read the full tafseer →