سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات آتے ہیں ان کی پوری تشریح سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں لکھ آئے ہیں۔ اور یہ بھی ہم کہہ آئے ہیں کہ جس سورت کے اول میں یہ حروف آئے ہیں وہاں عموما یہی بیان ہوتا ہے کہ قرآن کلام اللہ ہے اس میں کوئی شک و شبہ نیہں۔ چناچہ یہاں بھی ان حروف کے بعد فرمایا یہ کتاب کی یعنی قرآن کی آیتیں ہیں۔ بعض نے کہا مراد کتاب سے توراۃ انجیل ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں۔ پہر اسی پر عطف ڈال کر اور صفتیں اس پاک کتاب کی بیان فرمائیں کہ یہ سراسر حق ہے اور اللہ کی طرف سے تجھ پر اتارا گیا ہے۔ الحق خبر ہے اس کا مبتدا پہلے بیان ہوا ہے یعنی الذی انزل الیک لیکن ابن جریر ؒ کا پسندیدہ قول لائے ہیں۔ پھر…
Read the full tafseer →سورة الرَّعْد 1
یہ اس سورة کی تمہید ہے جس میں مقصود کلام کو چند لفظوں میں بیان کردیا گیا ہے۔ روئے سخن نبی ﷺ کی طرف ہے اور آپ کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ ، تمہاری قوم کے اکثر لوگ اس تعلیم کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں، مگر واقعہ یہ ہے کہ اسے ہم نے تم پر نازل کیا ہے اور یہی حق ہے خواہ لوگ اسے مانیں یا نہ مانیں۔ اس مختصر سی تمہید کے بعد اصل تقریر شروع ہوجاتی ہے جس میں منکرین کو یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ تعلیم کیوں حق ہے اور اس کے بارے میں ان کا رویہ کس قدر غلط ہے۔ اس تقریر کو سمجھنے کے لیے ابتدا ہی سے یہ پیش نظر رہنا ضروری ہے کہ نبی ﷺ اس وقت جس چیز کی طرف…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
الۗمّۗرٰ (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ (جو آپ سن رہے ہیں) آیتیں ہیں ایک بڑی کتاب (یعنی قرآن) کی اور جو کچھ آپ ﷺ پر آپ ﷺ کے رب کی طرف سے نازل کیا جاتا ہے یہ بالکل سچ ہے اور (اس کا مقتضا یہ تھا کہ سب ایمان لاتے) لیکن بہت سے آدمی ایمان نہیں لاتے (ربط، اوپر حقیقت قرآن کا مضمون تھا آگے توحید کا مضمون ہے جو کہ اعظم مقاصد قرآن سے ہے) اللہ ایسا (قادر) ہے کہ اس نے آسمانوں کو بدون ستون کے اونچا کھڑا کردیا چناچہ تم ان (آسمانوں) کو (اسی طرح) دیکھ رہے ہو پھر عرش پر (جو مشابہ ہے تخت سلطنت کے اس طرح) قائم (اور جلوہ فرما) ہوا (جو کہ اس کی شان کے لائق ہے) اور آفتاب و ماہتاب کو کام میں…
Read the full tafseer →الۗمّۗرٰ ۣتِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ ۭ وَالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔
حروف مقطعات پر تفصیلی بحث بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ سورتوں کے نام ہیں۔ یہاں مبتدا محذوف ہے یعنی ھذہ المرٰ ، یہ المرٰ ہے۔
اظہار احسان اور اندذار بیک وقت دونوں : تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ ، لفظ الکتٰب پر تفسیلی بحث بقرہ کی پہلی آیات کے تحت گزر چکی ہے۔ اس سے مراد وہ موعود و منتطر کتاب الٰہی ہے جس کو آخری صحیفہ ہدایت کی حیثیت سے اتارنے کا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے وعدہ فرمایا تھا۔ تلک کا اشارہ المرا کی طرف ہے۔ یعنی یہ سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2۔ 1 استوا علی العرش کا مفہوم اس سے قبل بیان ہوچکا ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا عرش پر قرار پکڑنا ہے۔ محدثین کا یہی مسلک ہے وہ اس کی تاویل نہیں کرتے، جیسے بعض دوسرے گروہ اس میں اور دیگر صفات الٰہی میں تاویل کرتے ہیں۔ تاہم محدثین کہتے ہیں کہ اس کی کیفیت نہ بیان کی جاسکتی ہے اور نہ اسے کسی چیز سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ (لیس کمثلہ شیء وہو السمیع البصیر) الشوری
2۔ 2 اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ یہ ایک وقت مقرر تک یعنی قیامت تک اللہ کے حکم سے چلتے رہیں گے جیسا کہ فرمایا (والشمس تجری لمستقرلھا ذلک تقدیر العزیز العلیم) یسین۔ اور سورج اپنے ٹھہرنے کے وقت تک چل رہا ہے دوسرے معنی یہ ہیں کہ چاند اور سورج…
Read the full tafseer →1: جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا گیا ان حروف مقطعات کا صحیح مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Read the full tafseer →درس نمبر 112 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 18
سورة کا آغاز اسلامی نظریہ حیات کے ایک بنیادی مسئلہ سے کیا جاتا ہے۔ یہ کہ یہ کتاب من جانب اللہ نازل ہوئی ہے۔ یہ جن حقائق پر مشتمل ہے ، وہ حق اور سچے ہیں۔ یہ بات اسلامی نظریہ حیات کے اساسیات میں سے ہے۔ باقی تمام نظریات و عقائد اسی نکتے پر تعمیر ہوتے ہیں۔ عقیدۂ توحید ، عقیدۂ بعث بعد الموت ، زندگی میں عمل صالح کی افادیت اور تمام اخلاقی تعلیمات اس بات پر موقوف ہیں کہ یہ سب احکام من جانب اللہ ہیں اور یہ قرآن کی شکل میں جبرائیل (علیہ السلام) خدا کی طرف سے لے کر آئے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ برحق ہیں۔ یہ ہے وہ بنیاد جس پر پورا دین تعمیر ہوا ہے۔
آیت نمبر 1
المر…
Read the full tafseer →5 یعنی جو کچھ اس سورت میں پڑھا جانے والا ہے وہ عظیم الشان کتاب کی آیتیں ہیں۔ یہ کتاب جو آپ پر پروردگار کی طرف سے اتاری گئی۔ یقینا حق و صواب ہے لیکن جائے تعجب ہے کہ ایسی صاف اور واضح حقیقت کے ماننے سے بھی بہت لوگ انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 2 اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا
اس کائنات کے اندر جو بلندیاں ہیں انہیں ستونوں یا کسی طبعی سہارے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے باہمی کشش کا ایک عظیم الشان نظام وضع کیا گیا ہے جس کے تحت تمام کہکشائیں ستارے اور سیارے اپنے اپنے مقام پر رہ کر اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔
كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى
یعنی اس کائنات کی ہرچیز متحرک ہے چل رہی ہے یہاں پر سکون اور قیام کا کوئی تصور نہیں۔ دوسرا اہم نکتہ جو یہاں بیان ہوا وہ یہ ہے کہ اس کائنات کی ہر شے کی عمریا مہلت مقرر ہے۔ ہر ستارے ہر سیارے ہر نظام شمسی اور ہر کہکشاں کی مہلت زندگی مقرر و…
Read the full tafseer →1 یہ عین حق وہی باتیں ہیں جو تمام انبیاء کی شریعتوں میں اصول دین رہی ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ کی اس کائنات کی فرمانروائی میں کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں اور یہ کہ قیامت آکے رہے گی۔ یہ نظام درہم برہم ہوگا۔ دوسرا عالم بنایا جائے گا۔ جس میں تمام اچھے اور برے انسانوں کو ان کے اعمال کا بدلہ ضرور ملے گا اور یہ اللہ کی نازل کردہ آیات ہیں اور آپ کی نبوت برحق ہے اور یہی وہ باتیں ہیں جن پر مشرکین مکہ ایمان نہیں لا رہے تھے۔ اس تمہید کے بعد اب آگے اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے سے متعلق دلائل پیش کیے جارہے ہیں۔
Read the full tafseer →1۔ (حالانکہ اس کلام کی حقانیت وصداقت کا مقتضاء یہ تھا کہ سب کے سب اس پر ایمان لے آتے) (آیت) ” المر “۔ حروف مقطعات پر حاشیہ سورة بقرہ میں گزر چکا۔ یہاں ان حروف کو فقرہ انا اللہ اعلم واری ما تعملون کا بھی مخفف سمجھا گیا ہے اور فقرہ انا اللہ الملک الرحمن (کبیر عن عطاء)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 7
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے، المر، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ آیتیں قرآن کریم کی آیتیں ہیں اور (آیاتُ الکتاب) میں اضافت بمعنی مِنْ ہے اور جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے اتارا جاتا ہے سب حق ہے (یعنی) اس میں کوئی شک نہیں ہے، (وَالَّذِیْ اُنزلَ اِلیک الخ) مبتداء ہے اور الحقُّ اس کی خبر ہے، لیکن اکثر لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے کہ یہ منجانب اللہ ہے اور وہ اہل مکہ ہیں، اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر بلند فرمایا جو تم کو نظر آتے ہوں، العمد، عمادٌ کی جمع ہے اور وہ ستون ہیں اور عدم…
Read the full tafseer →ا آآرٰ تلک آیت الکتب یہ قرآن کی (یا کامل سورت کی) آیات ہیں۔ الْکِتَاب سے مراد ہے : قرآن مجید یا پوری سورت اور تِلْکَ سے آیات کی طرف اشارہ ہے اور آیات الکتاب میں اضافت بتقریر مِن ہے ‘ یعنی یہ آیات قرآن یا سورت کا ایک حصہ ہیں۔
والذی انزل الیک من ربک الحق ولکن اکثر الناس لا یومنون اور جو کچھ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا جاتا ہے ‘ وہ بالکل سچ ہے لیکن بہت سے آدمی ایمان نہیں لاتے۔ (یہ ترجمہ اس صورت میں ہوگا کہ واؤ کو استنافیہ قرار دے کر الَّذِی کو مبتداء اور الْحَقُّ کو خبر مان کر جملہ کو بالکل علیحدہ مستقل تسلیم کیا جائے ‘ لیکن حضرت مفسر نے لکھا ہے کہ) اگر الکتاب سے مراد سورت ہو تو الَّذِی سے…
Read the full tafseer →(1) یعنی جو کچھ تم کرتے اور کہتے ہو اللہ تعالیٰ ان سب باتوں کو خوب جانتا اور دیکھتا ہے، یا یہ کہ یہ ایک قسم ہے۔
یہ سورت (رعد) قرآن کریم کی آیات ہیں اور قرآن کریم جو حکم دیتا ہے یہ آپ کے پروردگار کی طرف سے بالکل سچ ہے لیکن اکثر اہل مکہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →الۗمّۗرٰ : یہ حروف مقطعات ہیں، ان کی تفصیل سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ شعراوی ؓ نے یہاں ایک فائدہ ذکر فرمایا ہے کہ قرآن مجید سارا وصل پر مبنی ہے، یعنی ہر لفظ دوسرے سے ملا ہوا ہے، سوائے اس مقام کے جہاں وقف کرنا ہو، جیسا کہ آیت کا آخر وغیرہ، مثلاً اسی سورت کو لے لیں : (تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ) اس میں ہر لفظ پر اعراب پڑھیں گے، مگر حروف مقطعات ”الۗمّۗرٰ“ کو ملا کر نہیں پڑھیں گے، بلکہ چاروں حرفوں کو الگ الگ پڑھیں گے، کیونکہ جبریل ؑ نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی پڑھایا، پھر آپ نے ایسے ہی پڑھا اور ہم تک تواتر سے ایسے ہی پہنچا۔
تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ : کوئی لفظ جب مطلق بولا جائے تو اس سے کامل فرد…
Read the full tafseer →آیت نمبر 1
قولہ تعالیٰ : الم تلک ایت الکتب اس کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ والذی انزل الیک یعنی یہ قرآن جو آپ پر اتارا گیا ہے۔ من ربک الحق تیرے رب کی جانب سے حق ہے نہ کہ جس طرح مشرک کہتے ہیں کہ آپ اپنی طرف سے اسے پیش کرتے ہیں، سوا سے مضبوطی سے پکڑو اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرو۔ مقاتل نے کہا : یہ آیت تب نازل ہوئی جب مشرکین نے کہا محمد ﷺ قرآن اپنی طرف سے پیش کرتے ہیں۔ والذی، ایت پر عطف کی وجہ سے محل رفع میں ہے یا مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے اور الحق اس کی خبر ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ محل جر میں ہو اور تقدیر عبادت یوں ہو : وآیات الذی انزل الیک اور الحق کا رفع مبتدا کے مضمر ہونے…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الٓر “ سے مراد ہے میں اللہ ہوں میں دیکھ رہا ہوں۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” تلک ایت الکتب “ یعنی توراۃ اور انجیل (آیت ) ” والذی انزل الیک من ربک الحق “ یعنی قرآن مجید۔
3:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” تلک ایت الکتب “ یعنی وہ کتابیں جو قرآن سے پہلے تھیں (آیت) ” والذی انزل الیک من ربک “ یعنی یہ قرآن مجید۔
Read the full tafseer →[الۗمّۗرٰ ۔۔] [تِلْكَ : یہ ] [ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ : کتاب کی آیات ہیں ] [ وَالَّذِيٓ: اور جو ] [ انزِلَ : اتارا گیا ] [ اِلَيْكَ : آپ (علیہ السلام) کی طرف ] [ مِنْ رَّبِكَ : آپ (علیہ السلام) کے رب (کی طرف) سے ] [ الْحَقُّ : (وہ ہی) حق ہے ] [ وَلٰكِنَّ : اور لیکن ] [ اَكْثَرَ النَاسِ : لوگوں کے اکثر ] [ لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایمان نہیں لاتے ]
ترکیب : (آیت۔ 1) ۔ الحق خبر معرفہ ہے۔ اس سے پہلے ھُوَ محذوف ہے۔ (آیت۔ 2) تَرَوَنَھا کی ضمیر مفعولی اَلسَّمٰوٰتِ کے لئے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آسمانوں کی بلندی ‘ شمس وقمر کی تسخیر اور زمین کے پھیلاؤ ‘ پھلوں کی انواع و اقسام میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت کی نشانیاں ہیں
یہاں سے سورة الرعد شروع ہو رہی ہے اس کی ابتداء المر سے ہے جو حروف مقطعات میں سے ہے ان کے معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں ‘ پہلے تو فرمایا (تِلْکَ اٰیَاتُ الْکِتٰبِ ) یہ کتاب کی یعنی قرآن کی آیات ہیں ‘ پھر فرمایا (وَالَّذِیْ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ الْحَقُّ ) اور آپ کے رب کی طرف سے جو آپ کی طرف نازل کیا گیا وہ حق ہے ‘ اس کا حق ہونا امر واقعی ہے کوئی مانے نہ مانے وہ بہر حال حق ہے (وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں…
Read the full tafseer →حقانیت قرآن کریم
قال اللہ تعالیٰ المرٰ تلک ایت الکتاب .... الیٰ .... ولکن اکثر الناس لا یؤمنون
(ربط) سورة یوسف کے اخیر میں قرآن کریم کی صفت میں یہ فرمایا ما کان حدیثا یفتری ولکن تصدیق الذی بین یدیہ و تفصیل کل شیء وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون : اسی مناسبت سے اس سورت کا آغاز قرآن کریم کی حقانیت سے فرمایا المر واللہ اعلم بمراد بذالک یہ آیتیں کتاب الٰہی کی آیتیں ہیں اور اسے اکمل الرسل جو کتاب کامل آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کی گئی سو وہ بالکل حق اور درست ہے لوگوں کو چاہئے کہ بےدغدغہ اس کتاب پر ایمان لائیں لیکن جائے تعجب ہے کہ اکثر لوگ اس جامع اور کامل کتاب کو بھی نہیں مانتے اور جو ایسی صاف اور واضح…
Read the full tafseer →2: حروف مقطعاتمتشابہات میں سے ہیں ان کی اصل مراد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ ” تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبَ الخ “ تمہید مع ترغیب۔ ” تلک “ سے اشارہ اس سورت کی طرف ہے اور اَلْکِتَاب سے قرآن مجید مراد ہے۔ ” وَالَّذِیْ الخ “ موصول مع صلہ مبتدا اور ” اَلْحَقُّ “ اس کی خبر ہے خبر کی تعریف مفید حصر ای ھو الحق (معالم) ۔ یہ سورت قرآن حکیم کی آیتیں ہیں اور وہ اس کتاب حکیم ہی کا ایک حصہ ہے اور جو قرآن ہم نے آپ پر نازل کیا ہے وہ حق ہے اور اس میں بیان کردہ عقائد و احکام اس قدر محکم، واضح اور ظاہر ہیں کہ ان میں شک و شبہہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ ھو الھق الذی لا شک فیہ (خازن ج 4 ص 2) ۔ مگر اس کے باوجود ضدی اور معاند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
تفسیر :
(نام اور کوائف)
اس سورة کا نام سورة الرعد ہے ، رعد بادل کی گرج کو کہا جاتا ہے چونکہ اس سورة میں بادلوں اور انکی گرج کا ذکر ہے ، اس لیے اس سورة کو رعد کے نام موسوم کیا گیا ہے ، گذشتہ سورة یوسف کی طرح یہ سورة بھی مکی ہے جو کہ مکی دور کے آخری حصے میں نازل ہوئی ، یہ وہی دور ہے جب حضور ﷺ اور آپ کے پیروکار سخت مصائب کا شکار ہو رہے تھے ، اس سورة کی تینتالیس آیات ، 855 کلمات اور 3056 حروف ہیں ، یہ زیادہ لمبی سورة نہیں بلکہ چھ رکوع کی درمیانی سورة ہے ۔
(مضامین سورة )
سورۃ یوسف اور سورة رعد کے زمانہ نزول کی طرح ان کے مضامین بھی آپس میں ملتے جلتے ہیں مکی سورتوں میں عام طور پر بنیادی عقائد…
Read the full tafseer →الۗمّۗرٰ ۣتِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ ۭ وَالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع .
الایۃ ۔
اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : تلک مبتد آیات الکتاب خبر اور ممکن ہے کہ المرا کی خبر ہو اور آیات بدل یا عطف بیان والذی الخ مبتدا الحق خبر اور ممکن ہے کہ والذی الکتاب کی صفت اور واؤ درمیان آیا اور الحق مبتدا محذوف کی خبر ہو۔ بغیر عمد موضح نصب میں حال ہو کر اے حالیۃً عن عمد والعمد بالفتح جمع عماد اور عمود۔ ترونہا ضمیر اگر عمد کی طرف راجع ہے تو موضع جر میں ہے صفت عمد کی اور اگر السموات کی طرف تو اس سے حال ہوگا جیسا کہ یدبر ضمیر سخر سے اور یفصل ضمیر یدبر سے حال ہے۔ قطع مبتدا فی الارض خبر یا قطع ظرف کا فاعل وزرع معطوف ہے قطع پر۔ صنوان جمع صنو جیسا کہ قنوان قنو کی جمع ہے ای النخلات یجمعھا اصل واحد وتنشعب فروعہا فی الاکل…
Read the full tafseer →الٓمّـٓرٰ قف تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ ط وَالَّذِیْ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ الْحَقُّ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (سورۃ الرعد : 1)
(ال م ر۔ یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ بالکل حق ہے لیکن اکثر لوگ نہیں مان رہے ہیں۔ )
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا احسان بھی ہے اور وارننگ بھی
ال م ر۔ حروفِ مقطعات ہیں۔ اس کی تفصیلی بحث ہم سورة البقرہ کے آغاز میں کرچکے ہیں۔ اب یاددہانی کے لیے سورة البقرہ کو نکال کر دیکھ لیا جائے۔ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ ۔ ” تِلْکَ “ اسمائے اشارہ میں سے ہے۔ ان کی دو قسمیں ہیں، قریب اور بعید۔ ہم سورة البقرہ کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کا تعارف۔
نبوت سے پہلے لوگوں کو نبی اکرم ﷺ پر نہ صرف مکمل اعتماد تھا کہ آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں بلکہ ان کا یہ بھی اعتقاد تھا کہ آپ سب سے بڑھ کر دیانتدار ہیں۔ اسی لیے وہ آپ کو صادق اور امین کہتے تھے۔ لیکن جونہی آپ پر قرآن مجید نازل ہوا، اس میں ان کے شرک کی نفی کی گئی تو وہ لوگ یکدم کہنے لگے کہ یہ شخص جھوٹ بولتا ہے۔ اس پر کوئی وحی نازل نہیں ہوتی۔ یہ اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ کے ذمہ لگاتا ہے۔ جس سے ان کا منشا یہ تھا کہ قرآن کا انکار کرنے سے یہ شخص خود بخود ناکام ہوجائے گا۔ ان کی اس سازش کو ناکام کرنے اور نبی ﷺ کو سچا ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ بار بار قرآن…
Read the full tafseer →1: الٓمّرٰاللہ تعالیٰ ہی اسکی مراد کو جانتا اور دیکھتا ہیتِلْکَ ٰایٰتُ الْکِتٰبِ ۔ ترجمہ یہ معنی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے تلکؔ سے آیات سورت کی طرف اشارہ ہے الکتابؔ سے سورة مراد ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے تلک الاٰیات اٰیات السورۃ الکاملۃ العجیبۃ فی بابھا۔ یہ آیات اس سورت کی آیات ہیں جو کہ اپنے باب میں کامل وعجیب ہے۔ وَالَّذِیْ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ (اور وہ جو تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اتارا گیا) یعنی تمام قرآن الْحَقُّ (سچا ہے) یہ خبر ہے اور الذی الایۃ یہ مبتداء ہے وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایُؤْمِنُوْنَ (لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے) وہ یہ کہتے ہیں کہ محمد اسکو…
Read the full tafseer →تفسیر : 1۔” المر “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے کہ میں اللہ ہوں جانتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔” تلک “ آیات ” الکتاب “ وہ خبریں جو آپ کے سامنے بیان کی گئی ہیں اور وہ آیات ( نشانیاں) تورات ، انجیل اور ما قبل کتابوں میں گزر چکی ہیں ۔ ” والذین انزل الیک “ یہ قرآن جو آپ پر نازل کیا گیا ۔” من ربک الحق “ یہ حق ہے اس کو مضبوطی سے تھامے رکھو ۔ یہ عبارت اس طرح تھی ۔ ’ ’ وھو الحق فاعتصم بہ “ اس صورت میں یہ محل رفع میں واقع ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے اور ” والحق “ اس کی خبر ہے اور بعض نے کہا کہ یہ حالت نصب میں واقع ہے۔ اس صورت میں عبارت یوں ہوگی ۔ ” تلک “ آیات ” الکتاب وآیات الذین انزل الیک “ اور وہ…
Read the full tafseer →1۔ المر۔ حروف مقطعات میں سے ہے جو متشابہات میں داخل ہیں۔ متشابہات کی تفسیر کے باب میں سلف کا طریقہ سورت بقر اور سورت آل عمران میں گزر چکا ہے جو سورت حروف مقطعات سے شروع کی جاتی ہے اس میں قرآن مجید کی عظمت کا بیان ہوتا ہے۔ اس لئے المر کے بعد اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ اس سورت کی آیتیں المر اس کے سوا جو تمام قرآن کی آیتیں تم پر اتاری گئی ہیں وہ حق ہیں لیکن بہت لوگ اس کو نہیں مانتے اور اس پر ایمان نہیں لاتے۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اور معجزوں کے علاوہ مجھ کو قرآن شریف ہی کا ایک ایسا معجزہ دیا گیا ہے جس کے سبب سے قیامت کے دن میری امت…
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ قرآن، کتاب اللہ کی آیات ہیں جو دین کے اصول و فروع میں ہر اس چیز کی طرف راہنمائی کرتی ہیں جس کے بندے محتاج ہیں اور یہ قرآن جو رسول اللہ ﷺ پر آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا وہ واضح حق ہے، کیونکہ اس کی خبریں صدیق پر مبنی اور اس کے اوامرو نواہی سراسر عدل ہیں اور قطعی دلائل وبراہین ان کی تائید کرتے ہیں۔ جو کوئی اس کے علم کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہی حقیقی اہل علم میں شمار ہوتا ہے اور اس کا علم اس کے لئے عمل کا موجب بنتا ہے۔ (ولکن اکثر الناس لایومنون) ” لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ “ یعنی اکثر لوگ یا تو (قرآن) سے جہالت، اس سے روگردانی اور اس کی طرف عدم توجہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ عظیم الشان آیات :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ آیتیں ہیں اس کتاب حکیم کی " جو اس سورة کریمہ میں مذکور ہیں۔ یا اس سے پورے قرآن حکیم کی آیات مراد ہیں۔ (معالم، جامع، فتوحات الہیہ وغیرہ) ۔ سو جب یہ آیتیں اس عظیم الشان کتاب کی ہیں جو کہ ایک بےمظال کتاب اور معجزہ خداوندی ہے تو پھر اس کی ان عظیم الشان آیتوں کی عظمت شان کے کہنے ہی کیا ؟ سو سورة کریمہ کی ابتداء اور اس کا آغاز ہی اس طرح فرمانے سے یہ درس ملتا ہے کہ جیسے یہ کتاب عظیم الشان اور بےمثال ہے اسی طرح اس کی یہ آیات بھی عظیم الشان اور بےمثال ہیں۔ لہذا ان کی تلاوت بھی اسی انداز و اعتبار سے ہونی چاہئے اور ان کو دل وجان سے اپنانا چاہئے کہ اسی میں…
Read the full tafseer →قرآن کی حقانیت اور منزّل من اللہ ہونے کی دلیل
تشریح : اس سورت کا آغاز حروف مقطعات سے کیا گیا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ آیات مبارکہ اس کتاب کی ہیں جو بالکل سچ اور حق ہے اس میں رشدو ہدایت دنیا و آخرت اور حق و باطل کو ایسے بہترین انداز سے واضح کر کے سمجھا دیا گیا ہے کہ ایسا کلام پیش کرنا کسی بہترین عالم و فاضل اور لائق فائق انسان کے بس کی بات نہیں۔ اس کتاب میں زندگی کے حقائق اس خوبصورتی سے بیان کیے گئے ہیں کہ ایک عام عقل رکھنے والا انسان بھی اس کی حققیت کو سمجھ سکتا ہے اور اگر ایک عالم و فاضل، پڑھا لکھا سائنسدان، انجینئر، محقق اس کو گہری نظر سے سوچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
سورة الرعد :
رکوع نمبر 1 :
اسرارومعارف :
(آیت) ” الم ، تلک ایت الکتب۔ 1 تا 7 ۔ یہ سورة مبارکہ بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے اور سورة یوسف کے آخر کا مضمون یعنی توحید باری کا ثبوت اور نبوت کی حقانیت ہی کے دلائل کا تسلسل ہے کہ ارشاد ہوتا ہے کہ یہ مضامین ایک بےمثال کتاب میں ہیں جو اللہ کا ذاتی کلام ہے اور جو بجائے خود ایک بہت بڑا معجزہ ہے کہ اس کی نظیر پیش کرنا انسانی بس میں نہیں اور جو کچھ اس میں فرمایا گیا ہے ، انسان کبھی اسے غلط ثابت نہیں کرسکتا اگرچہ اس میں دنیاوی امور کے بارے افزائش کے مسائل اور صورتیں سیاسیات ، اخلاقیات اور معاشیات تک بیان کی گئی ہیں واقعات عالم کے بارے…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ یعنی نظر و تامل نہ کرنے کی وجہ سے اس کی حقانیت پر یقین نہیں رکھتے۔ یہ بطور وصف فرمایا ہے نہ کہ بطور خبر۔ (روح)
Read the full tafseer →(13:1) تلک۔ کا اشارہ۔ سورة ہذا کی آیات کی طرف ہے۔ ای تلک الایات۔ اٰیات الکتب۔ یہ آیتیں الکتاب کی آیات ہیں۔ اور الکتاب سے مراد سورة ہذا بھی ہوسکتی ہے اور القرآن بھی۔ مؤخر الذکر کی صورت میں معنی ہوں گے ایات ہذہ السورۃ ایات القران الذی ہو الکتاب اس سورة کی آیات الکتاب (القرآن) کی ہیں۔
الذی اسم موصول انزل الیک من ربک صلہ۔ اور تمام کا تمام قرآن جو تیرے رب کی جانب سے تجھ پر نازل کیا گیا الحق بالکل سچ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4:
انزل اتارا گیا الحق سچ رفع بلند کیا عمد ستون، سہارا استوی وہ برابر ہوا سخر اس نے مسخر کردیا، تابع کردیا اجل مسمی متعین مدت، مقرر مدت لقاء ملاقات مد اس نے پھیلا دیا رواسی بوجھ زوجین جوڑے ، دو دو یغشی چھا جاتا ہے قطع خطے، قطعات متجورت پاس پاس اعناب (عنب) انگور زرع کھیتی نخیل کھجور صنوان ایک جڑ والی یسقی سینچا جاتا ہے بماء واحد ایک پانی سے نفضل ہم بڑھا دیتے ہیں الاکل پیداوار پھل
تشریح آیت نمبر 1 تا 4
اس سورت کے دوسرے رکوع کی ایک آیت میں لفظ رعد آیا ہے اسی مناسبت سے نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے اس سورت کا نام ” الرعد “ رکھا ہے۔
رعد کے معنی بادلوں کی گرج کے آتے ہیں۔ یہ…
Read the full tafseer →المرا۔ حروف مقطعات میں سے ہے جس کا ذکر سورة بقرہ میں آچکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس سورة کی آیتیں اور اس کے سوا جو تمام قرآن پاک کی آیتیں تم پر اتاری گئی ہیں وہ حق ہیں لیکن بہت لوگ اس کو نہیں مانتے اور اس پر ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] مطلب یہ ہے کہ جو قادر مطلق ہے ایسی ایسی عظیم الشان مخلوقات کے پیدا کرنے پر قادر ہے اس کے لئے انسان کا دوبارہ پیدا کرنا کچھ دشوار نہیں۔
Read the full tafseer →1 ۔ الم قف یہ آیتیں کتاب یعنی قرآن کریم کی آیتیں ہیں اور آپ کے رب کی طرف سے جو کچھ آپ کی جانب نازل کیا گیا ہے وہ سچ اور برحق ہے لیکن بہت سے آدمی ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 6۔ یعنی زمین و آسمان میں احکام جاری کرنے لگا۔
7۔ چناچہ سورج اپنے مدار کو سال بھی میں قطع کرلیتا ہے اور چاند مہینہ بھر میں۔
8۔ یعنی بعث ونشر کا یقین کرلو اس کے امکان کا تو اس طرح کہ جب اللہ ایسی عظیم چیزوں کی تخلیق پر قادر ہے تو مردوں کو زندہ کرنے پر کیوں قادر نہیں ہوگا اور اس کے وقوع کا یقین اس طرح کہ مخبر صادق نے ایک امرممکن کے وقوع کی خبر دی لامحالہ وہ واقع ہے۔
Read the full tafseer →٭٭٭
الف۔ لا … م … می … م … را… اے پیغمبر اسلام ! یہ کتاب کی آیتیں ہیں اور جو کچھ تیرے پروردگار کی جانب سے تجھ پر نازل ہوا ہے وہ امر حق ہے۔ مگر اکثر آدمی ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ 1 ؎
یہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو بلند کردیا اور تم دیکھ رہے ہو کہ کوئی ستون حروف مقطعات کے بعد بتایا گیا ہے کہ قرآن جو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا وہ حق ہے۔
1 ؎ الف … لا … م می… م را حروف مقطعات ہیں جو قرآن کریم کی انتیس سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کا مفصل ذکر سورة البقرہ کی آیت اول میں کیا گیا اس لئے وہیں سے ملاحظہ فرمائیں۔ آیات کی نسبت جب اللہ تعالیٰ سے کردی گئی تو پھر اس کلام الٰہی کے محاسن اور خوبیوں کا کوئی…
Read the full tafseer →Commentary
This Surah is Makki and it has a total of forty three verses. Mentioned in this Surah too there are subjects such as the truth and veracity of the Holy Qur'an, Tauhid (Oneness of Allah), Risalah (Prophethood) and answers to doubts raised about them.
The first group of letters: المر (Alif, Lam, Meem, Ra) are isolated Letters (Al-Huruf al-Muqattaat) the meaning of which are known to Allah Ta’ ala alone. The Ummah has not been informed of its meaning. It is not appropriate for the Muslim Ummah at large to indulge in investigations about them.
The first verse says that the Holy…
Read the full tafseer →1. This is the introduction to this Surah, in which its aim and object has been enunciated in a few words. Allah has addressed the Prophet (peace be upon him) to this effect: O Prophet, most of your people are rejecting the teachings of the Quran for one reason or the other, but the fact is that what We are sending down to you is the truth whether people believe it or not.
After this brief introduction, the discourse deals with the main subject of the Surah which consists of three basic things. First, the entire universe belongs to Allah alone, and none besides Him has any right to service…
Read the full tafseer →