عبرت و نصیحت
نبیوں کے واقعات، مسلمانوں کی نجات، کافروں کی ہلاکت کے قصے، عقلمندوں کے لئے بڑی عبرت و نصیحت والے ہیں۔ یہ قرآن بناوٹی نہیں بلکہ اگلی آسمانی کتابوں کی سچائی کی دلیل ہے۔ ان میں جو حقیقی باتیں اللہ کی ہیں ان کی تصدیق کرتا ہے۔ اور جو تحریف و تبدیلی ہوئی ہے اسے چھانٹ دیتا ہے ان کی دو باتیں باقی رکھنے کی ہیں انہیں باقی رکھتا ہے۔ اور جو احکام منسوخ ہوگئے انہیں بیان کرتا ہے۔ ہر ایک حلال و حرام، محبوب و مکروہ کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ طاعات واجبات، مستحبات، محرمات، مکروہات وغیرہ کو بیان فرماتا ہے اجمالی اور تفصیلی خبریں دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جل وعلا کی صفات بیان فرماتا ہے اور بندوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
80۔ یعنی ہر اس چیز کی تفصیل جو انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ضروری ہے، بعض لوگ " ہر چیز کی تفصیل " سے مراد خواہ مخواہ دنیا بھر کی چیزوں کی تفصیل لے لیتے ہیں، اور پھر انکو یہ پریشانی پیش آتی ہے کہ قرآن میں جنگلات اور طب اور ریاضی اور دوسرے علوم و فنون کے متعلق کوئی تفصیل نہیں ملتی۔
Read the full tafseer →لَقَدْ كَانَ فِيْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِي الْاَلْبَاب یعنی ان حضرات کے قصوں میں عقل والوں کے لئے بڑی عبرت ہے،
اس سے مراد تمام انبیاء (علیہم السلام) کے قصے جو قرآن میں مذکور ہیں وہ بھی ہو سکتے ہیں اور خاص حضرت یوسف ؑ کا قصہ جو اس سورة میں بیان ہوا ہے وہ بھی کیونکہ اس واقعہ میں یہ بات پوری طرح روشن ہو کر سامنے آگئی کہ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندوں کی کس کس طرح سے تائید ونصرت ہوتی ہے کہ کنویں سے نکال کر ایک تخت سلطنت پر اور بدنامی سے نکال کر نیک نامی کی انتہا پر پہنچا دیئے جاتے ہیں اور مکرو فریب کرنے والوں کا انجام ذلت و رسوائی ہوتا ہے
(آیت) مَا كَانَ حَدِيْثًا يُّفْتَرٰى وَلٰكِنْ…
Read the full tafseer →لَقَدْ كَانَ فِيْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ ۭ مَا كَانَ حَدِيْثًا يُّفْتَرٰى وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيْلَ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔
قرآن کی اصلی حقیقت : یعنی پچھلے انبیاء اور ان کی قوموں کی سرگزشتوں میں اہل عقل کے لیے بڑا سامان عبرت موجود ہے بشرطیکہ یہ عقل سے کام لیں اور ان سرگزشتوں کو صرف دوسروں کی حکایت سمجھ کر نہ سنیں بلکہ ان سے خود اپنی زندگی کو درست کرنے کے لیے سبق حاصل کریں، یہ قرآن کوئی من گھڑت کہانی نہیں ہے بلکہ جو پیشینگوئیاں اور جو حقائق آسمانی کتابوں میں پہلے سے موجود ہیں یہ ان کی تصدیق، ہر متعلق چیز کی…
Read the full tafseer →111۔ 1 یعنی قرآن، جس میں قصہ یوسف ؑ اور دیگر قوموں کے واقعات بیان کئے گئے ہیں کوئی گھڑا ہوا نہیں ہے۔ بلکہ یہ پچھلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور اس میں دین کے بارے میں ساری ضروری باتوں کی تفصیل ہے اور ایمان داروں کے لئے ہدایت و رحمت۔
Read the full tafseer →68: ایک طرف تو قرآن کریم یہ فرما رہا ہے کہ اس نے حضرت یوسف ؑ کا واقعہ بیان کر کے پچھلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کی ہے جن میں یہ واقعہ مجموعی طور پر اسی طرح بیان ہوا ہے۔ مگر دوسری طرف ہر بات کی وضاحت فرما کر شاید اس طرف اشارہ ہے کہ اس واقعے کے سلسلے میں ان پچھلی کتابوں میں کچھ کتر بیونت ہوگئی تھی قرآن کریم نے اس کی وضاحت فرما دی ہے۔ چنانچہ اگر حضرت یوسف ؑ کے واقعے کو بائبل کی کتاب پیدائش میں پڑھا جائے۔ تو بعض تفصیلات میں وہ قرآن کریم کے بیان سے مختلف نظر آتا ہے۔ اشارہ غالباً اس طرف ہے کہ قرآن کریم نے ان تفصیلات کی وضاحت فرما دی ہے۔ واللہ سبحانہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 111
ذرا غور کیجئے ، سورة کا آغاز اور اختتام کس قدر ہم آہنگ ہیں۔ اس طرح قصے کا آغاز و اختتام بھی باہم ۔۔۔۔ ہیں۔ قصے کے آغاز میں بھی نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ اس کے درمیان بھی عبرت آموزی کی گئی ہے اور اس کے آخر میں بھی نتائج اخذ کیے گئے ہیں اور مضمون اور موضوع باہم پیوست و ہم آہنگ ہے۔ طرز ادا اور فقرے موزوں ، فنی اعتبار سے قصہ نہایت ہی پرکشش ہے۔ لیکن ان سب خصوصیات کے ساتھ واقعات حقیقت پر مبنی ہیں اور کوئی مبالغہ نہیں ہے۔
یہ قصہ ایک ہی سورة میں پوری طرح بیان ہوجاتا ہے ۔ یک جا پورے کا پورا۔ اس لیے کہ اس قصے کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ یہ یکجا ہو۔ کیونکہ واقعات آہستہ آہستہ رونما ہوتے ہیں۔ ایک دن…
Read the full tafseer →3 یعنی یہ کوئی افسانہ یا ناول نہیں۔ تاریخی حقائق ہیں۔ جن سے عقل مندوں کو سبق لینا چاہیے۔
4 یعنی قرآن کریم جس میں یہ قصص بیان ہوئے کوئی جھوٹی بنائی ہوئی بات نہیں بلکہ تمام پہلی سچائیوں کی تصدیق کرنے والا اور ہر ضروری چیز کو کھول کر بیان کرنے والا ہے۔ چونکہ ایماندار اس سے نفع اٹھاتے ہیں اس لحاظ سے ان کے حق میں خاص طور پر ذریعہ ہدایت و رحمت ہے۔ نَفَعَنَا اللّٰہ بِعُلُوْمِہٖ وَرَزَقَنَا تَلَاوَتَہ ' اٰنَآء اللَّیْلِ وَاٰنَآء النَّہَارِ وَجْعَلْہُ حُجَّۃً لَّنَا لَاعَلَیْنَا آمِیْن۔ تَمَّ سُوْرَۃَ یُوْسُفَ عَلَیْہِ السَّلَام بِعَوْنِ اللّٰہِ تَعَالیٰ ۔
Read the full tafseer →مَا كَانَ حَدِيْثًا يُّفْتَرٰى وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ
یعنی یہ واقعات تورات میں بھی ہیں اور قرآن انہی واقعات کی تصدیق کررہا ہے۔ حضرت یوسف کے قصے کے سلسلے میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے بہت عمدگی کے ساتھ تورات اور قرآن کا تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے ‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے حسن بیان اور اس کے حکیمانہ انداز کا معیار اس قدر بلند ہے کہ تورات میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل تورات تو گم ہوگئی تھی۔ بعد میں حافظے کی مدد سے جو تحریریں مرتب کی گئیں ان میں ظاہر ہے وہ معیار تو پیدا نہیں ہوسکتا تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ تورات میں…
Read the full tafseer →105 قرآن کی تین صفات :۔ قرآن کا موضوع، نوع انسان کی ہدایت ہے۔ لہذا جو بات بھی انسان کی ہدایت سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کی تفصیل اس کتاب میں آگئی ہے۔ تفصیل کُلِّ شَئْیٍ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اس میں سے علم طب یا حساب یا جغرافیہ وغیرہ کی تفصیلات تلاش کرنے لگیں۔ نیز یہ کتاب صرف ان لوگوں کو ہدایت کا کام دیتی ہے جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ پھر ان لوگوں کے لیے رحمت بھی ہے۔ بھلا جس شخص کو بلا کسی معاوضہ اور تکلیف کے زندگی کے ہر پہلو میں بہترین رہنمائی مل جائے اس کے لیے اس سے زیادہ نعمت اور رحمت کیا ہوسکتی ہے ؟ اور اس میں جو اقوام سابقہ کے اور انبیاء و رسل کے قصے بیان ہوئے…
Read the full tafseer →201۔ (اور وہ اہل فہم فورا سمجھ جاتے ہیں کہ طاعت کا انجام کیا ہوتا ہے اور نافرمانی کا انجام کیا) (آیت) ” قصصھم “۔ ضمیر انبیاء سابقین اور ان کی امتوں کی طرف ہے۔ اے قصص الانبیاء واممھم (بیضاوی)
202۔ جب ہی اسی کے ذریعہ سے اہل ایمان دنیا میں ہدایت حاصل کرتے ہیں اور آخرت میں رحمت۔ (آیت) ” تفصیل کل شیء “۔ یعنی ہر ایسی چیز کی تفصیل جس کا تعلق ہدایت سے ہے۔ چناچہ اصل دین کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں جو براہ راست یا بالواسطہ قرآن مجید میں نہ نکل آئے۔ کل شیء یحتاج الیہ فی الدین اذ ما من امر دینی الا ولہ سند من القرآن بوسط او بغیر وسط (بیضاوی) یستند الی القران بذات اوبوسط (روح) تذئیل۔ سورة یوسف جسے قرآن مجید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–111
آیت نمبر 105 تا 111
ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں خدا کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی بیشمار نشانیاں ہیں ان کو دیکھتے ہوئے منہ موڑ کر گذر جاتے ہیں ان میں غور و فکر نہیں کرتے اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان رکھنے یعنی اس کو خالق و رازق تسلیم کرنے کے باوجود بتوں کی بندگی کرکے مشرک ہیں اور یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے تلبیہ میں کہا کرتے تھے لبیک لاشریک لک الاشریکا ھو لک تملکہ وما ملک (ترجمہ) ہم تیرے حضور میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے کہ اس کا تو مالک ہے اور اس کا بھی تو مالک ہے جس کا وہ مالک ہے اور وہ الا شریکا سے اصنام مراد لیتے تھے، کیا وہ اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر…
Read the full tafseer →لقد کان في قصصھم عبرۃ لاولی الالباب ان (انبیاء اور ان کی امتوں کے یا حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں) کے قصے میں عقل والوں کیلئے بڑی عبرت ہے۔ یعنی ان دانش مندوں کیلئے عبرت ہے جن کی عقلیں سلیم اور محسوس پرستی کی طرف میلان سے پاک ہیں۔ قید چاہ سے مرتبۂ شاہ پر فائز کرنا اور بوریا سے اٹھا کر تخت شاہی پر پہنچانا بڑا عبرت آفریں ہے۔ صبر کا انجام سلامتی اور عزت ہے اور فریب کا نتیجہ رسوائی اور ندامت ہے۔
ما کان حدیثا یفتری ولکن تصدیق الذی بین یدیہ و تفصیل کل شيء وھدی ورحمۃ لقوم یومنون یہ (قرآن) نہیں ہے تراشی ہوئی بات (کہ اس سے عبرت و نصیحت نہ ہو) بلکہ اس سے پہلے کی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور…
Read the full tafseer →(111) حضرت یوسف ؑ اور ان کے بھائیوں کے واقعہ میں سمجھدار لوگوں کے لیے بڑی عبرت ہے، یہ قرآن کریم کوئی خود سے بنائی ہوئی بات تو نہیں بلکہ یہ تو ریت انجیل اور تمام آسمانی کتب کی بیان توحید اور بعض دوسرے احکام اور واقعہ حضرت یوسف ؑ کی تصدیق کرنیو الی ہے اور یہ قرآن کریم حلال و حرام میں سے ہر ایک چیز کو تفصیل سے بیان کرنے والا ہے اور ان حضرات کے لیے جو کہ رسول اکرم ﷺ اور اس قرآن کریم پر جو کہ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے ایمان رکھتے ہیں، گمراہی سے ہدایت اور عذاب سے رحمت ہے۔
Read the full tafseer →لَقَدْ كَانَ فِيْ قَصَصِهِمْ۔۔ : یعنی رسولوں اور گزشتہ قوموں خصوصاً یوسف ؑ اور ان سے متعلق تمام لوگوں مثلاً والد، بھائی، قافلے والے، عزیز مصر، اس کی بیوی، زنان مصر، قید کے ساتھی اور شاہ مصر ان سب کے بیان میں عقل مندوں کے لیے بڑی عبرت ہے، یہ کوئی گھڑی ہوئی کہانیاں نہیں، بلکہ پہلی آسمانی کتابوں کی صحیح باتوں کی تصدیق، ان کی کمی بیشی کو کھول کر بیان کرنے والی، ان کے صحیح مضامین کی محافظ اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 111
قولہ تعالیٰ : لقد کان فی قصصھم یعنی حضرت یوسف، آپ کے باپ اور بھائیوں کے قصہ میں یا قوموں کے قصوں میں۔ عبرۃ یعنی فکر، تذکرہ اور نصیحت۔ لاولی الالباب یعنی بہت زیادہ عقلمندوں کے لیے۔ محمد بن اسحاق نے عن زہری عن محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی کہا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ایک سو چھہتر سال زندہ رہے۔ اور آپ کے بھائی عیصو آپ کے ساتھ ایک دن میں فوت ہوئے اور دونوں ایک قبر میں دفن کیے گئے۔ اس وجہ سے اللہ کا ارشاد : لقد کان فی قصصھم عبرۃ لاولی الالباب سورت کے آخر تک ہے۔ ماکان حدیثًا یفترٰی یعنی یہ قرآن ایسی بات نہیں جو گھڑی گئی ہو یا یہ قصہ ایسی بات نہیں جو گھڑا گیا ہو۔ ولٰکنن تصدیق الذی…
Read the full tafseer →قرآنی حکایات عبرت کے لئے ہیں :
ا :۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد کان فی قصصہم عبرۃ “ سے مراد ہے یوسف اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں۔
2:۔ ابن جریروابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد کان فی قصصہم عبرۃ “ سے مراد ہے مغفرت (آیت) ” لاولی الالباب “ یعنی عقل والوں کے لئے۔
3:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما کان حدیثا یفتری “ سے مراد ہے جھوٹ (آیت) ” ولکن تصدیق الذی بین یدیہ “ یعنی یہ قرآن تصدیق کرتا ہے ان کتابوں کی جو ان سے پہلے تھے اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں سے وہ جو اس سے پہلے نازل ہوئیں…
Read the full tafseer →[لَقَدْ كَان : یقینا ہوچکی ہے ] [فِيْ قَصَصِهِمْ : ان لوگوں کا قصہ سنانے میں ] [عِبْرَةٌ: ایک عبرت ] [لِاُولِي الْاَلْبَابِ : خالص (غیر متعصب) عقل والوں کے لئے ] [مَا كَان : یہ نہیں ہے ] [حَدِيْثًا : کوئی ایسی بات جو ] [ يُّفْتَرٰى: گھڑی گئی ] [ وَلٰكِنْ : اور لیکن ] [تَصْدِيْقَ الَّذِي : (یہ ہے) تصدیق کرنا اسی کی جو ] [بَيْنَ يَدَيْهِ : اس سے پہلے ہے ] [وَتَفْصِيْلَ كُلِ شَيْءٍ : اور ہر چیز کی تفصیل بیان کرنا ہے ] [ وَّهُدًى: اور ہدایت ] [ وَّرَحْمَةً : اور رحمت ] [ لِقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لئے جو ] [ يُّؤْمِنُوْنَ : ایمان لاتے ہیں ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 119 سے معلوم ہوا کہ نبوت خواتین میں نہیں…
Read the full tafseer →ان حضرات کے قصوں میں عقل والوں کے لیے عبرت ہے
یہ سورة یوسف کی آخری آیت ہے اس میں چار باتیں بتائی ہیں اول یہ کہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی قوموں کے قصوں میں عقل والوں کے لیے عبرت ہے جو لوگ اپنی عقل کو کام میں لاتے ہیں غورو فکر کرتے ہیں وہ عبرت حاصل کرلیتے ہیں دوسری بات یہ بتائی کہ یہ قرآن جو پڑھا جاتا ہے اور دوست و دشمن سب کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کو رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے تراش لیا ہو ‘ اس میں جو امم سابقہ کے واقعات بیان کئے ہیں وہ بھی تراشے ہوئے نہیں ہیں پھر اس سے دور کیوں بھاگتے ہیں اور تیسری بات یہ ہے کہ یہ قرآن سابقہ آسمانی کتابوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
خاتمہ سورت بر اثبات رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید منکرین وبیان حقانیت کتاب مبین
قال اللہ تعالیٰ ذلک من انبیاء الغیب نوحیہ الیک .... الیٰ .... وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون
(ربط) یہ سورت ان سائلین کے جواب میں نازل ہوئی جنہوں نے آپ ع صلی اللہ علیہ سے بغرض امتحان یوسف (علیہ السلام) کا قصہ دریافت کیا تھا اب خاتمہ سورت پر یہ بتلاتے ہیں کہ یہ قصہ آپ ﷺ کی نبوت کی کس طرح دلیل بنا چناچہ فرماتے ہیں کہ احسن القصص یعنی یوسف (علیہ السلام) کا قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کے علم کا سوائے وحی خداوندی کے کوئی ذریعہ نہیں ہم صرف وحی کے ذریعہ سے آپ ﷺ کو یہ قصہ بتلاتے ہیں اور یہ آپ ﷺ کی نبوت کی دلیل قاطع ہے کیونکہ آپ ﷺ تو امی…
Read the full tafseer →95:۔ کَانَ کا اسم قرآن ہے۔ ” تَفْصِیْلَ کُلِّ شَیءٍ “ : اہل بدعت اس آیت سے آنحضرت ﷺ کے لیے علم غیب کلی ثابت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں لفظ کُلّ استغراق حقیقی کے لیے ہے جب قرآن مجید میں سب کچھ موجود ہے اور آنحضرت ﷺ قرآن مجید کے سب سے بڑے عالم ہیں تو معلوم ہوا کہ آپ کو علم غیب کلی حاصل ہے۔ مگر یہ استدلال باطل ہے کیونکہ اس آیت میں (ل) استغراق حقیقی کے لیے نہیں بلکہ اضافی کے لیے ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں دین سے متعلق تمام امور مذکور ہیں خواہ صراحۃً خواہ بحوالہ لسان رسول ﷺ ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ” وَ مَااٰتٰکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا “ اس کی تفسیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
ربط آیات
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبین ﷺ کی رسالت کی تصدیق فرمائی کہ یہ واقعہ آپ نے نہ تو کسی سے سنا ہے اور نہ کسی کتاب میں پڑھا ہے بلکہ ہم نے وحی کے ذریعے آپ کو بتلایا ہے اور یہی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے نبی ہیں۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ آپ اپنی دعوت الی اللہ کے لئے کسی سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کرتے بلکہ آپ یہ خدمت بےلوث انجام دے رہے ہیں۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی تنزیلی اور تکوینی دونوں قسم کی نشانیاں ظاہر ہوچکی ہیں مگر یہ لوگ انہیں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے بلکہ کفر و شرک میں مبتلا رہتے ہیں۔ بھلا ان کے ایمان لانے میں کون سی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
حَتّٰٓي اِذَا اسْتَيْــــَٔـسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَاۗءَهُمْ نَصْرُنَا ۙ فَنُجِّيَ مَنْ نَّشَاۗءُ ۭ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُـنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ 110
يأس
اليَأْسُ : انتفاءُ الطّمعِ ، يقال : يَئِسَ واسْتَيْأَسَ مثل : عجب واستعجب، وسخر واستسخر . قال تعالی: فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا[يوسف/ 80] ، حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ [يوسف/ 110] ،
( ی ء س ) یأس
( مصدرس ) کے معنی ناامید ہونیکے ہیں اور یئس ( مجرد) واستیئاس ( استفعال ) دونوں ہم معنی ہیں جیسے ۔ عجب فاستعجب وسخرو استسخر۔ قرآن میں ہے : فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا…
Read the full tafseer →2 ؎ یعنی اگلی کتابوں کی جو آسمانی ہیں اصول دین اور دیگر امور میں ان کی تصدیق کرتا ہے 12 منہ
Read the full tafseer →لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِھِمْ عِبْرَۃٌ لِّاُوْلِی الْاَلْبَابِ ط مَا کَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰی وَلٰـکِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ وَتَفْصِیْلَ کُلِّ شَیْ ئٍ وَّھُدًی وَّرَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ۔
(سورۃ یوسف : 111)
(ان کی سرگزشتوں میں بڑا سامانِ عبرت ہے عقل والوں کے لیے یہ قرآن کریم کوئی گھڑی ہوئی چیز نہیں ہے بلکہ تصدیق ہے اس چیز کی جو اس سے پہلے موجود ہے اور تفصیل ہے ہر چیز کی اور ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے۔ )
قرآن کی حقیقت اور اس میں بیان کردہ واقعات کی حیثیت
اس آیت کریمہ میں سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعات دیگر انبیائے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
رسول مکرم ﷺ سے اہل مکہ نے اس ذہن کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں سوال کیا تھا۔ کہ آپ ﷺ اس کا ٹھیک ٹھیک جواب نہیں دے پائیں گے اور ہماری یہ بات سچ ثابت ہوگی کہ یہ نبی اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگاتا ہے۔ اہل مکہ کے اس سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ فرمادیا گیا کہ جن لوگوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے بارے میں سوال اٹھایا ہے۔ اس کے جواب میں ان کے لیے عبرت کی بہت سی باتیں پائی جاتی ہیں۔ (یوسف : 7)
اس سورة مبارکہ کا اختتام بھی اسی بات سے کیا جا رہا ہے۔ جس کا اشارہ ابتدا میں کیا گیا ہے۔ لہٰذا ارشاد ہوتا ہے کہ ان…
Read the full tafseer →111: لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِھِمْ نمبر 1(ان کے واقعات میں) ان انبیاء (علیہم السلام) اور قوموں کے واقعات میں نمبر 2۔ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے واقعہ میں عِبْرَۃٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ (عقل والوں کیلئے عبرت ہے) نمبر 1۔ اس طرح کہ گہری محبت سے گہرے کنوئیں میں ڈال دیئے گئے۔ نمبر 2۔ چٹائی جیل سے تخت پر منتقل ہوئے نمبر 3۔ صبر کے نتیجہ میں سلامتی، کرامت و عزت ملی نمبر 4۔ فریب کاری میں ندامت و شرمندگی سامنے آئی۔ مَاکَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰی (یہ کوئی من گھڑت بات نہ تھی) یہ قرآن کفار کے خیال کے مطابق مفتری نہیں ہے۔ وَلٰکِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ (لیکن یہ تصدیق ہے اس وحی کی…
Read the full tafseer →111۔” لقد کان فی قصصھم “ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں ” عبرۃ “ نصیحت ہے ۔ ” لا ولی الالباب “ ما کان یعنی قرآن میں ہے ” حدیثا ً یفتریٰ من دون اللہ ولکن تصدیق الذی یبین یدیہ “ یعنی توریت اور انجیل ” و تفصیل کل شی “ ہر اس چیز کی تفصیل جس کے بندے محتاج ہیں یعنی حلال و حرام اور امر و نہی و ھدی ورحمۃ بیان اور نعمت ہے ” لقوم یومنون “۔
Read the full tafseer →111۔ اللہ پاک نے اس آیت میں اس بات کا ذکر کیا کہ پہلی امتوں کے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے صاحبزادے یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں عقلمندوں کے واسطے یہ ایک بہت ہی بڑی عبرت ہے کہ وہ ان قصوں کو سن کر یہ سمجھتے ہیں کہ پہلی امتوں میں وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور باوجود ظاہر نشانیوں کے خدائے وحدہ لا شریک کی وحدانیت کو نہیں مانا وہ اس کردار بد کی وجہ سے صفحہ دنیا سے ایسے نیست و نابود کئے گئے کہ جس کا کچھ ٹھکانا نہیں اور جن لوگوں نے رسولوں کی تصدیق کی اور جو احکام خدا کی طرف سے لائے اس کے مان لینے میں ذرا بھی تامل نہیں کیا اور خدائے وحدہ لا شریک کو ایک…
Read the full tafseer →(آیت) ” ان کے قصے میں “ یعنی انبیاء و رسل کے اپنی قوم کے ساتھ قصے میں (آیت) ” عقل والوں کے لئے عبرت ہے “ یعنی وہ اہل خیر اور اہل شر کے بارے میں عبرت لیتے ہیں۔ جو کوئی ان جیسے افعال کا ارتکاب کرے گا تو اپنے فعل کے مطابق کرامت یا اہانت کا مستحق ٹھہرے گا۔ وہ ان قصوں میں سے اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کی عظیم حکمت کا استنباط کرتے ہیں۔ نیز وہ ان قصوں سے اس حقیقت کو اخذ کرتے ہیں کہ اللہ واحد کے سوا عبادت کسی کے لئے مناسب نہیں۔
(آیت) ” یہ ایسی بات نہیں جو بنا لی گئی ہو۔ “ یعنی یہ قرآن جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمہیں غیب کی خبروں سے آگاہ کرتا ہے، گھڑی ہوئی باتوں اور خود ساختہ کہانیوں پر مشتمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
قول باری ہے (حتی اذا ستیئس الرسل و ظنوا انھم قدکذبوا جاء ھم نصرنا۔ یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہوگئے اور لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ ان پر جھوٹ بولا گیا تھا تو یکایک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی) یاس امید کے انقطاع کا نام ہے۔ قول باری (کذبوا) کو حرف ذال کی تخفیف اور تشدید کے ساتھ پڑھا گیا۔ اگر پہلی قرأت لی جائے تو آیت اس معنی پر محمول ہوگی جس کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ ، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ، سعید بن جبیر، مجاہد اور ضحاک سے روایت کی گئی ہے۔ یعنی قوموں نے یہ سمجھ لیا کہ پیغمبروں نے ان سے جو کہا تھا کہ انہیں اللہ کی نصرت حاصل ہے اور ان کے دشمن ہلاک ہوجائیں گے، وہ جھوٹ تھا۔ حماد بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
178۔ منکرین کی مہلت کا ذکر وبیان :
سوان منکروں کو بڑی بڑی مہلتیں دی گئیں یہاں تک کہ جب مایوس ہونے لگے پیغمبر اپنی قوموں اور امتوں کے ایمان اور ان کی تصدیق سے۔ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر تو ان پر عذاب آکر رہا۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان کی قوموں کو اللہ پاک نے اپنی سنت اور دستور کے مطابق ڈھیل دی۔ اور ان کے کفر و انکار کے باوجودان پر دنیاوی رزق اور دولت کے دروازے کھولتا گیا۔ تو وہ لوگ مست اور نڈر ہوگئے کہ کوئی عذاب وغیرہ نہیں ہونے والا۔ اور ہم جو کچھ کررہے ہیں ٹھیک کررہے ہیں۔ سو جب وہ لوگ عناد اور ہٹ دھرمی کی انتہاء کو پہنچ گئے تو ان پر عذاب آکررہا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
اللہ، رسول اور قرآن کی سچائی کا ثبوت
تشریح : سورة یوسف کا قصہ پچھلے گیارہ رکوعوں میں ختم ہوگیا ہے۔ اس سورت کا شان نزول یہی تھا کہ اہل قریش جو آپ پر ایمان نہ لانا چاہتے تھے انہوں نے آپ کو آزمانے کے لیے کہا کہ اچھا اگر آپ رسول ہو تو بتائو کہ بنی اسرائیل کس طرح مصر میں آباد ہوئے ؟ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا پورا قصہ بتا دیا جس میں بیشمار نصیحت کی باتیں ہیں اور اس کا ثبوت اور وجوہات بھی بڑی تفصیل سے بتا دی گئی ہیں کہ بنی اسرائیل کس طرح اور کب مصر میں پہنچے۔ یہ سوال اہل قریش نے اس لیے نہیں کیا تھا کہ معقول جواب ملنے پر وہ سب ایمان لے آئیں گے بلکہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–111
آیات 105 تا 111
اسرار ومعاف
اگریہ لوگ نہیں مان رہیتو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ارض وسما میں بیشمار چیزیں اللہ کی عظمت پہ گواہی دے رہی ہیں اور زمین کا ذرہ ذرہ یا ہر ہر تنکا اور پھول پتہ اس کی عظمت کی دلیل ہے یا پھر پہلے لوگوں کی تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈر بھی کفر اور گناہ کے انجام کی خبر دے رہے ہیں اور ان لوگوں کو شب وروز انہی اشیاء سے واسطہ بھی پڑتا ہے ۔ ایسی ہی جگہوں سے ان کا گزر بھی ہوتا ہے مگر اس بات کی طرف ان کا دھیان ہی نہیں جاتا بلکہ عقلا عاجز ہو کر اللہ کی ذات کا اقرار بھی کرتے ہیں تو ساتھ بہت سے اوصاف میں دوسروں کو شریک کرکے گرفتار بلاہوجاتے ہیں ۔ اور یہ تو ایسے بےفکر ہیں کہ اسی…
Read the full tafseer →ف 8 ۔ یعنی رسولوں اور گذشتہ قوموں کے قصوں سے۔
9 ۔ یعنی ہر اس چیز کو کھول کر بیان کرنے والا ہے جس کا بیان کرنا انسان کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے ضروری ہے۔
Read the full tafseer →(12:111) قصصہم۔ ان کے قصے۔ ان پہلی قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں۔ یا ان پہلے پیغمبروں کے واقعات ۔ یا حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے یہ واقعات (جو بیان ہوئے) ۔
عبرۃ۔ درس ِ نصیحت۔ اولی الالباب۔ اصحاب عقل۔ سمجھ دار لوگ۔
ما کان حدیثا یفتری۔ ای ما کان ھذا القران حدیثا یفتری۔
یہ قرآن کوئی من گھڑت بات نہیں ہے۔
بشری۔ مضارع مجہول ۔ واحد مذکر غائب افتراء (افتعال) سے۔ خود ساختہ ہو مگر خدا کی طرف منسوب کی گئی ہو۔
Read the full tafseer →لغات القرآن آیت نمبر 111
قصص واقعات عبرۃ نصیحت اولی الالباب عقل و سمجھ رکھنے والے یفتری گھڑ لیا گیا، گھڑ لی گئی تصدیق سچ بتانے والا، بتانے والی بین یدی ہاتھوں کے درمیان سامنے، اپنی طرف سے تفصیل تفصیل ، وضاحت ھدی ہدایت رحمۃ رحمت، فضل و کرم
تشریح : آیت نمبر 111
سورة یوسف کو اس مضمون پر مکمل کیا گیا ہے کہ حضرت یوسف کا قصہ یا کوئی بھی واقعہ جو قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے عقل اور سمجھ عطا فرمائی ہے وہ ان واقعات سے عبرت و نصیحت حاصل کریں۔ فرمایا کہ سیدھا راستہ دکھانا انبیاء کرام کا کام ہے۔ اب اگر کوئی نصیحت حاصل کرتا ہے تو اس کے لئے دنیا و…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس بات کا ذکر کیا کہ پہلی امتوں کے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے صحبزادے حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں عقلمندوں کے واسطے ایک بہت بڑی عبرت ہے۔ کہ وہ ان قصوں کو سن کر یہ سمجھتے ہیں کہ صبر کا نتیجہ سلامت و کرامت ہے اور ایذا رسانی و بخواہی کا انجام ندامت۔ اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والا کامیاب ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد قرآن پاک کی نسبت ارشاد ہوتا ہے کہ یہ بات نہیں ہے کہ کسی انسان نے اپنی طرف سے بنا لیا ہو، بلکہ جس طرح اور کتابیں پہلے رسولوں پر توریت، انجیل وغیرہ نازل ہوتی گئیں، اسی طرح یہ قرآن مجید بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول مقبول ﷺ…
Read the full tafseer →[38] قرآن میں اس طرح کا مضمون بہت جگہ آیا ہے اس سے مراد اگلی کتابوں تورات اور انجیل وغیرہ کی اجمالی تصدیق ہے مثلاً موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے اور یہ کہ جیسے قرآن اللہ کا کلام ہے یہ کتابیں بھی اللہ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم مسلمان ان آسمانی کتابوں کو جیسی کہ وہ اب ہیں شروع سے آخر تک بلاکم وکاست صحیح اور محفوظ تسلیم کرلیں کیونکہ قرآن میں جابجا اہل کتاب کو تحریف اور ردوبدل کا الزام بھی دیا گیا ہے۔
[39] یعنی ہر اس چیز کی تفصیل جو انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے ضروری ہے۔
Read the full tafseer →تفصیل کی تفصیل !
(ف 2) ارشاد فرمایا کہ ان قصص میں صاحب عقل وخرد لوگوں کے لئے عبرت وموعظت کے اسرار پہناں ہیں ، یہ افتراء اور جھوٹ نہیں بلکہ کتب سابقہ کے مضامین ہیں ، جن کو ان کی اصلی حالت میں پیش کیا گیا ہے ۔ اس پیغام رشد وہدایت میں دین کی تمام گتھیوں کو سلجھایا گیا ہے ، اور تمام مسائل کو اس طرح بسط و تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔ کہ دلوں میں شکوک و شبہات کے کانٹے اب باقی نہیں رہنا چاہئیں یہ واضح رہے ، کہ یہاں جس تفصیل کا ذکر ہے ، وہ اصول سے تعلق رکھتی ہے ، یعنی ضروریات دین کو استیعاب سے بیان کیا گیا ہے ، اور کسی بنیادی اور ضروری مسئلہ کو تشنہ وضاحت نہیں رہنے دیا گیا یہ مقصد نہیں کہ اس میں وہ…
Read the full tafseer →1 1 1 ۔ بلا شبہ پچھلی امتوں اور پچھلے پیغمبروں کے واقعات میں اہل دانش اور سمجھدار لوگوں کے لئے بڑی عبرت ہے یہ قرآن کریم جس میں یہ واقعات مذکور ہیں کوئی من گھڑت اور بنائی ہوئی بات نہیں ہے بلکہ جو کتب سماوی اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں یہ قرآن کریم ان کی تصدیق کرنیوالا ہے اور ہر ضروری چیز کی تفصیل بیان کرنے والا اور ہدایت و رحمت کا ذریعہ ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں ۔ یعنی مومن جو قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے مزید ہدایت حاصل کرنے اور رحمت سے مستفید ہونے کا ذریعہ ہے واقعات میں ارباب دانش اور اصحاب غور و فکر کے لئے عبرت ہے ، اسلامی احکام ضروریہ کی تفصیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ف 2۔ طویل مدت مہلت کی وجہ سے پیغمبروں نے سمجھ لیا کہ وعدہ الٰہی کا جو اجمالی وقت اپنے اجتہاد سے معین کرکے ہم نے اپنے ذہن میں قرار دے رکھا تھا اس وقت ہم منصور اور کفار مقہور ہوں گے اور گمان غالب ہوگیا کہ وعدہ خداوندی کی تحدید میں ہم سے غلطی ہوئی کہ بلاتنصیص محض قرائن یاحب استعجال نصر سے قریب کا وقت معین کرلیا حالانکہ وعدہ مطلق تھا ایسی حالت میں کفار پر عذاب آپہنچا۔
3۔ مراد اس سے مومنین ہیں۔
4۔ بلکہ ان پر ضرر واقع ہوتا ہے گوبدیر سہی پس یہ کفار مکہ بھی دھوکہ میں نہ رہیں۔
Read the full tafseer →قرآن کریم کسی انسان کی بناوٹ نہیں اللہ کا کلام اور گزشتہ کتب کی تصدیق ہے
۔ 129 زیر نظر آیت کے پہلے حصہ میں یہ بات واضح کردی کہ حضرت یوسف ان کے بھائیوں ان کے وا لدین ، عزیز ، مصر ، امراۃ العزیز اور فرعون وقت اور دوسرا اہل مصر جن کا ذکر اس سورت میں ہے ان سارے واقعات میں ارباب عقل و فکر کے لئے بڑی ہی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں اور آیت کے آخری حصہ میں وضاحت فرما دی کہ قرآن کریم کسی انسان کی بناوٹ نہیں ہے بلکہ وحی الٰہی کی سچائی ہے اور پھر اس کے چار وصف بیان کئے ہیں جو کبھی کذب و افتراء کے اوصاف نہیں ہو سکتے ۔
۔ 1 یہ کہ وہ گزشتہ صداقتوں کی تصدیق ہے اگر بناوٹ ہوتی تو گزشتہ کڑیوں کے ساتھ نہ جڑ جاتی گویا…
Read the full tafseer →In the opening statement of the last verse of the Surah, it was said:
لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ
Surely, in the narratives of these, there is lesson for the people of understanding - 111.
This statement may be pointing to the stories of all prophets (علیہم السلام) in the Qur'an and also to the particular story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) which has been narrated in this Surah - because, through this later event, it has become absolutely clear that the obedient servants of Allah are supported and helped in so many ways when they are taken out from a deep…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
That is, it gives details of everything that is required for the guidance of man. Some people take details of everything to mean the details of everything in the world. So, when they do not find in it the details of mathematics, physics, medicine etc. etc. they become skeptical. Whereas the Quran claims to give the details of only one subject,“Guidance”, for which it has been sent down, and it does give the details of everything that is essential for it.
Read the full tafseer →