جب مخالفت عروج پر ہو
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس کی مدد اس کے رسولوں پر بروقت اترتی ہے۔ دنیا کے جھٹکے جب زوروں پر ہوتے ہیں، مخالفت جب تن جاتی ہے، اختلاف جب بڑھ جاتا ہے، دشمنی جب پوری ہوجاتی ہے، انبیاء اللہ کو جب چاروں طرف سے گھیر لیا جاتا ہے، معا اللہ کی مدد آپہنچتی ہے۔ کذبوا اور کذبوا دونوں قرأتیں ہیں، حضرت عائشہ کی قرأت ذال کی تشدید سے ہے، چناچہ بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عروہ بن زبیر ؓ نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ یہ لفظ کذبوا یا کذبوا ہے ؟ حضرت عائشہ نے فرمایا کذبوا ہے۔ انہوں نے کہا پھر تو یہ معنی ہوئے کہ رسولوں نے گمان کیا کہ وہ جھٹلائے گئے تو یہ گمان کی کون سی بات تھی یہ تو یقینی بات تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
80۔ یعنی ہر اس چیز کی تفصیل جو انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ضروری ہے، بعض لوگ " ہر چیز کی تفصیل " سے مراد خواہ مخواہ دنیا بھر کی چیزوں کی تفصیل لے لیتے ہیں، اور پھر انکو یہ پریشانی پیش آتی ہے کہ قرآن میں جنگلات اور طب اور ریاضی اور دوسرے علوم و فنون کے متعلق کوئی تفصیل نہیں ملتی۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اگر تم کو کفار پر تاخیر عذاب سے شبہ عدم وقوع کا ہوتا ہو تو تمہاری غلطی ہے اس لئے کہ پچھلی امتوں کے کفار کو بھی بڑی بڑی مہلتیں دی گئی تھیں) یہاں تک کہ (مدت مہلت دراز ہونے کی وجہ سے) پیغمبر (بات سے) مایوس ہوگئے (کہ ہم نے اللہ کی طرف سے کفار پر عذاب آنے کے وعدہ کا جو وقت اپنے قیاس اور اندازے سے مقرر کرلیا تھا کہ اس وقت میں کفار پر عذاب آ کر ہمارا غلبہ اور حقانیت واضح ہوجائے گی) اور ان (پیغمبروں) کو گمان غالب ہوگیا کہ (وعدہ الہیہ کا وقت مقرر کرنے میں) ہمارے فہم نے غلطی کی (کی بلا تنصیص محض قرائن یا نصرت الہیہ کے جلد آنے کی خواہش سے قریب کا وقت معین کرلیا حالانکہ وعدہ مطلق ہے ایسی…
Read the full tafseer →ﱑ اِذَا اسْتَيْــــَٔـسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَاۗءَهُمْ نَصْرُنَا ۙ فَنُجِّيَ مَنْ نَّشَاۗءُ ۭ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُـنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِممین۔ عذاب الٰہی کے بارے میں سنت الٰہی : اب یہ کفار کی جلد بازی کے جواب میں کہ اگر پیغمبر ہم کو عذاب سے ڈراتے ہیں تو یہ عذاب آ کیوں نہیں جاتا، اللہ تعالیٰ نے اس باب میں اپنی سنت کی وضاحت فرما دی کہ اللہ عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے رسولوں کے ذریعہ سے لوگوں پر اپنی حجت پوری کرتا ہے۔ عذاب اس وقت آتا ہے جب اللہ کے رسول اپنی قوموں کے ایمان سے مایوس ہوجاتے ہیں اور ان کی قوم کے لوگ عذاب کی تاخیر کے سبب سے یہ گمان…
Read the full tafseer →110۔ 1 یہ مایوسی اپنی قوم کے ایمان لانے سے ہوئی۔
110۔ 2 قرأت کے اعتبار سے اس آیت کے کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ لیکن سب سے مناسب مفہوم یہ ہے کہ ظَنُّوا کا فاعل قوم کفار کو قرار دیا جائے یعنی کفار عذاب کی دھمکی پر پہلے تو ڈرے لیکن جب زیادہ تاخیر ہوئی تو خیال کیا کہ عذاب تو آتا نہیں ہے، (جیسا کہ پیغمبر کی طرف سے دعویٰ ہو رہا ہے) اور نہ آتا نظر ہی آتا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ نبیوں سے بھی یوں ہی جھوٹا وعدہ کیا گیا ہے۔ مطلب نبی کریم ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ آپ کی قوم پر عذاب میں جو تاخیر ہو رہی ہے، اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پچھلی قوموں پر بھی عذاب میں بڑی بڑی تاخیر روا رکھی گئی ہے اور اللہ کی مشیت…
Read the full tafseer →67: اس آیت کا یہ ترجمہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ، حضرت سعید بن جبیر ؒ اور بعض دوسرے تابعین وغیرہ کی تفسیر پر مبنی ہے جسے علامہ آلوسی ؒ نے بھی طویل بحث کے بعد آخر میں راجح قرار دیا ہے۔ آیت کی دوسری تفسیریں بھی ممکن ہیں۔ اور بعض مفسرین نے ان کو بھی اختیار کیا۔ لیکن شاید یہ تفسیر جو ترجمے میں اختیار کی گئی ہے سب سے زیادہ بےغبار ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ پچھلے انبیائے کرام کے دور میں بھی ایسا ہوچکا ہے کہ ان کو جھٹلانے والے کفار کو جب لمبی مہلت دی گئی اور ان پر مدت تک عذاب نہ آیا تو ایک طرف انبیائے کرام ان کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے۔ اور دوسری طرف وہ کافر یہ سمجھ بیٹھے کہ انبیائے کرام نے ان کو عذاب…
Read the full tafseer →آیت نمبر 110
یہ نہایت ہی خوفناک صورت حال ہے۔ یہاں رسولوں کی زندگیوں کے نہایت ہی کربناک ، تنگی اور شدید مشکل حالات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ ایسے حالات کہ ان میں رسول کفر ، انکار ، ہٹ دھرمی اور کھلے اندھے پن کا مقابلہ کرتے رہے ہیں۔ دن یوں ہی گزرتے گئے مگر رسولوں نے کبھی بھی دعوت کو نہیں چھوڑا اور لوگ بھی انکار کرتے رہے۔ روز و شب کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہا اور باطل دندندتا رہا۔ اہل باطل بہت ہی کثرت سے رہے اور اہل ایمان قلیل اور ضعیف رہے۔
کس قدر سخت حالات ہیں ، باطل ہانپ رہا ہے ، سرکشی اور طغیانی کا ارتکاب کر رہا ہے ، اور ظلم وعدوان اس کا شعار ہے۔ رسول ان حالات میں اللہ کے وعدے کا انتظار کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →2 یعنی تاخیر عذاب سے دھوکہ مت کھاؤ۔ پہلی قوموں کو بھی لمبی مہلتیں دی گئیں۔ اور عذاب آنے میں اتنی دیر ہوئی کہ منکرین بالکل بےفکر ہو کر بیش ازبیش شرارتیں کرنے لگے۔ یہ حالات دیکھ کر پیغمبروں کو ان کے ایمان لانے کی کوئی امید نہ رہی، ادھر خدا کی طرف سے ان کو ڈھیل اس قدر دی گئی کہ مدت دراز تک عذاب کے کچھ آثار نظر نہ آتے تھے۔ غرض دونوں طرف کے حالات و آثار پیغمبروں کے لیے یاس انگیز تھے۔ یہ منظر دیکھ کر کفار نے یقینی طور پر خیال کرلیا کہ انبیاء سے جو وعدے ان کی نصرت اور ہماری ہلاکت کے کیے گئے تھے سب جھوٹی باتیں ہیں۔ عذاب وغیرہ کا ڈھکوسلہ صرف ڈرانے کے واسطے تھا۔ کچھ بعید نہیں کہ ایسی مایوس کن اور…
Read the full tafseer →آیت 110 حَتّٰٓي اِذَا اسْتَيْــــَٔـسَ الرُّسُلُ
یعنی متعلقہ قوم میں جس قدر فطرت سلیمہ کی استعداد potential تھی اس لحاظ سے نتائج سامنے آچکے۔ ان میں سے جن لوگوں نے ایمان لانا تھا وہ ایمان لا چکے اور مزید کسی کے ایمان لانے کی توقع نہ رہی۔ بالفاظ دیگر اس چاٹی میں سے جس قدر مکھن نکلنا تھا نکل چکا ‘ اب اسے مزید بلونے کا کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا۔
وَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا
یہاں ظَنُّوْٓا کا فاعل متعلقہ قوم کے لوگ ہیں ‘ یعنی اب تک جو لوگ ایمان نہیں لائے تھے وہ مزید دلیر ہوگئے۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ سب کچھ واقعی جھوٹ تھا۔ کیونکہ اگر سچ ہوتا تو اتنے عرصے سے ہمیں جو عذاب کی دھمکیاں مل رہی…
Read the full tafseer →104 اللہ کی مدد میں تاخیر سے مومنوں پر اثر :۔ اس آخری جملہ کی تشریح کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے :
سیدنا عروہ بن زبیر نے سیدہ عائشہ ؓ سے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبروں کو جن لوگوں نے مانا اور ان کی تصدیق کی۔ جب ایک مدت دراز تک ان پر آفت اور مصیبت آتی رہی اور اللہ کی مدد آنے میں دیر ہوگئی اور پیغمبر جھٹلانے والوں کے ایمان لانے سے ناامید ہوگئے اور یہ گمان کرنے لگے کہ جو لوگ ایمان لاچکے ہیں اب وہ بھی ہمیں جھوٹا سمجھنے لگیں گے۔ اس وقت اللہ کی مدد آن پہنچی۔ (بخاری، کتاب التفسیر)
اس آیت سے اللہ کے قانون امہال (مہلت دینے کے قانون) پر روشنی پڑتی ہے۔ یعنی بسا…
Read the full tafseer →198۔ موجودہ کافروں کو تاخیر عذاب سے خوش ومطمئن نہ ہوجانا چاہیے پچھلی بدکار اور نافرمان قوموں پر آمد عذاب موعود میں بعض دفعہ دوسری مصلحتوں سے اتنی تاخیر ہوئی ہے کہ خود پیغمبروں کو باایں ہمہ استقامت وصبر و سلامت فکر، یہ خیال گزرنے لگا کہ کہیں ہم ہی سے تو وعدہ نزول عذاب کے بھیجنے اور تعین مدت عذاب میں غلطی نہیں ہوئی ہے۔ آیت کی تفسیر اور بھی متعدد طریقوں سے منقول ہے مگر سب سے زیادہ صاف بےتکلف اور بےغبار مفسر تھانوی (رح) کی اختیار کی ہوئی تفسیر ہے۔
199۔ اور نصرت غیبی یہی کفار پر عذاب موعود تھی۔
200۔ یعنی عذاب موعود اپنے وقت مقرر پر آکر رہا اور کفار منکرین معاندین بہرحال اپنے کیفر کردار کو پہنچے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–111
آیت نمبر 105 تا 111
ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں خدا کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی بیشمار نشانیاں ہیں ان کو دیکھتے ہوئے منہ موڑ کر گذر جاتے ہیں ان میں غور و فکر نہیں کرتے اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان رکھنے یعنی اس کو خالق و رازق تسلیم کرنے کے باوجود بتوں کی بندگی کرکے مشرک ہیں اور یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے تلبیہ میں کہا کرتے تھے لبیک لاشریک لک الاشریکا ھو لک تملکہ وما ملک (ترجمہ) ہم تیرے حضور میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے کہ اس کا تو مالک ہے اور اس کا بھی تو مالک ہے جس کا وہ مالک ہے اور وہ الا شریکا سے اصنام مراد لیتے تھے، کیا وہ اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر…
Read the full tafseer →حتی اذا استایئس الرسل وظنوا انھم قد کذبوا جآء ھم نصرنا فنجي من نشآء ولا یرد باسنا عن القوم المجرمین یہاں تک کہ جب پیغمبر (اس بات سے) مایوس ہوگئے اور ان پیغمبروں کو گمان غالب ہوگیا کہ ہمارے فہم نے غلطی کی تو ان کو ہماری مدد پہنچی پھر اس عذاب سے ہم نے جس کو چاہا ‘ وہ بچا لیا گیا اور ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے نہیں لوٹایا جاتا۔
حَتّآی اِذَا اسْتَایْءَسَ الرُّسُلُ کا تعلق سابق آیت وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ الاَّ رِجَالاً سے ہے ‘ یعنی ہم نے آپ سے پہلے آدمیوں کو ہی پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی امتوں نے ان کی تکذیب کی ‘ یہاں تک کہ جب وہ ناامید ہوگئے الخ۔
بیضاوی نے لکھا ہے کہ اس کا تعلق محذوف…
Read the full tafseer →(110) چناچہ جب پیغمبر اپنی قوم کی تصدیق کرنے سے مایوس ہوگئے اور ان پیغمبروں کو گمان غالب ہوگیا کہ انکی قوم جو وہ اللہ کا پیغام اپنی قوم کے پاس لے کر آئے تھے جھٹلانے پر تلی ہوئی ہے اور اب ایمان نہیں لائے گی اور لفظ ”کذبوا“۔ کو تخفیف کے ساتھ پڑھا جائے گا تو مطلب یہ ہوگا کہ قوم کو غالب گمان ہوا کہ رسولوں نے جو وعدہ کیا تھا (نزول عذاب کا) اس کے خلاف کیا تو ایسی مایوسی کی حالت میں ان کی قوم کی ہلاکت کے لیے ہمارا عذاب آپہنچے گا، چناچہ ہم نے اس عذاب سے رسولوں اور انکے ماننے والوں کو بچا لیا اور ہمارا عذاب مشرکین سے نہیں ٹلتا۔
Read the full tafseer →حَتّٰٓي اِذَا اسْتَيْــــَٔـسَ الرُّسُلُ۔۔ :”اسْتَيْــــَٔـسَ“ ”یَءِسَ“ میں مبالغہ ہے، یعنی بالکل مایوس ہوگئے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ”حَتّٰٓي“ (یہاں تک) کا تعلق پیچھے کس سے ہے، جواب یہ ہے کہ اس کا تعلق گزشتہ آیت : (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ) سے ہے، یعنی ہم نے تجھ سے پہلے فرشتے یا جن نہیں بلکہ آدمی بھیجے، وہ مدتوں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر ان کی قومیں ان پر ایمان نہیں لائیں، یہاں تک کہ جب رسول ان کے ایمان لانے سے بالکل ناامید ہوگئے۔ ”ظَنُّوْٓا“ ”ظَنَّ“ کے معنی وسوسہ، گمان اور یقین تینوں آتے ہیں، یعنی انھوں نے گمان کیا کہ ان سے جھوٹ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
آیت نمبر 109 تا 110
قولہ تعالیٰ : ومآ ارسلنا من قبلک الارجالاً نوحی الیھم من اھل القرٰی یہ ان لوگوں کا رد ہے جو یہ کہتے تھے : لولآ انزل علیہ ملک (انعام :8) کیوں نہ اترا اس پر فرشتہ، یعنی ہم نے مردوں کو رسول بنا کر بھیجا ہے، جن میں نہ کوئی عورت ہے نہ جن اور نہ کوئی فرشتہ، یہ اس روایت کی بھی تردید ہے جو نبی اکرم ﷺ سے بیان کی جاتی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” عورتوں میں چار نبی ہیں، حوا، آسیہ، ام موسیٰ اور مریم “۔ اس کے متعلق کچھ آل عمران میں گزر چکا ہے۔ من اھل القرٰی سے مراد مدائن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صحراؤں اور دیہاتوں میں رہنے والے لوگوں سے کوئی نبی مبعوث نہیں فرمایا کیونکہ دیہاتیوں میں جفا اور سختی…
Read the full tafseer →1:۔ ابوعبید البخاری النسائی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے عروہ (رح) کے راستہ سے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” حتی اذا استیئس الرسل وظنوا انہم قد کذبوا “ کے بارے میں پوچھا اور میں نے کہا (بغیر تشدید کے) ہے یا کذبوا (تشدید کے ساتھ) ہے۔ عائشہ ؓ نے فرمایا بلکہ کذبوا تشدید کے ساتھ ہے میں نے کہا اللہ کی قسم انبیاء نے یقین کرلیا کہ انکی قوم نے ان کو جھٹلادیا۔ تو بھی اس آیت میں ظن (یعنی گمان) کے ذکر کا کیا مطلب ہے ؟ عائشہ ؓ نے فرمایا ہاں میری عمر کی قسم انہوں نے ان کو اس بات کا یقین تھا میں نے کہا شاید…
Read the full tafseer →[حَتّٰٓي : یہاں تک کہ ] [اِذَا : جب ] [اسْتَيْــــَٔـسَ : مایوس ہوئے ] [ الرُّسُلُ : رسول (لوگوں سے)] [ وَظَنُّوْٓا : اور لوگوں نے گمان کیا ] [ انهُمْ : کہ ان سے ] [ قَدْ كُذِبُوْا : جھوٹ کہا گیا ہے ] [ جَاۗءَهُمْ : تو آئی ان کے پاس ] [ نَصْرُنَا : ہماری مدد ] [ فَنُجِّيَ : پھر بچا لیا گیا ] [ مَنْ : اس کو جس کو ] [ نَّشَاۗءُ : ہم نے چاہا ] [ وَلَا يُرَدُّ : اور لوٹائی نہیں جاتی ] [ بَاْسُـنَا : ہماری سختی ] [عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ : جرم کرنے والے لوگوں سے ]
ترکیب : (آیت۔ 110) اَلرَّسُلُ کے بعد عنھم محذوف ہے۔ وَظَنُّوْا میں ھُمْ کی ضمیر فاعلی اَھْلِ الْقُرٰی یعنی رسولوں کے امتیوں کے…
Read the full tafseer →ہمارا عذاب مجرموں سے ہٹایا نہیں جاتا
پہلی آیت میں پرانی امتوں کی تکذیب اور ہلاکت کا ذکر تھا اس آیت میں ان کی تکذیب کی کچھ تفصیل بیان فرمائی ‘ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کو یہ یقین تو تھا کہ مکذبین و منکرین کے مقابلہ میں ضرور ہماری مدد ہوگی ‘ لیکن مدد میں دیر لگی ‘ دشمن اپنی دنیا میں منہمک رہے عیش و آرام سے زندگی گزارتے رہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انہیں مہلت دی جاتی رہی اس کو دیکھ کر حضرات انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام نے گمان کرلیا کہ ہم نے جو یہ سمجھا تھا کہ جلد ہی ہماری مدد ہوگی اور دشمن جلد ہلاک ہوں گے ہمارا یہ گمان صحیح نہیں تھا وجہ اس کی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
خاتمہ سورت بر اثبات رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید منکرین وبیان حقانیت کتاب مبین
قال اللہ تعالیٰ ذلک من انبیاء الغیب نوحیہ الیک .... الیٰ .... وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون
(ربط) یہ سورت ان سائلین کے جواب میں نازل ہوئی جنہوں نے آپ ع صلی اللہ علیہ سے بغرض امتحان یوسف (علیہ السلام) کا قصہ دریافت کیا تھا اب خاتمہ سورت پر یہ بتلاتے ہیں کہ یہ قصہ آپ ﷺ کی نبوت کی کس طرح دلیل بنا چناچہ فرماتے ہیں کہ احسن القصص یعنی یوسف (علیہ السلام) کا قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کے علم کا سوائے وحی خداوندی کے کوئی ذریعہ نہیں ہم صرف وحی کے ذریعہ سے آپ ﷺ کو یہ قصہ بتلاتے ہیں اور یہ آپ ﷺ کی نبوت کی دلیل قاطع ہے کیونکہ آپ ﷺ تو امی…
Read the full tafseer →93:۔ یہ چوتھا دعویٰ ہے۔ یعنی انبیاء سابقین (علیہم السلام) کی طرح آپ پر مصائب آئیں گے۔ مگر آخر کامیابی آپ کی ہوگی۔ حَتّٰی، وَمَا اَرْسَلْنَا الخ کے متعلق ہے اور کَذَّبُوْا میں دو قراءتیں ہیں۔ ایک تکذیب سے ماضی مجہول دوم کذب مجرد سے ماضی مجہول پہلی قراءت کے مطابق مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کے پیغمبروں نے اپنی قوموں کو پیغام توحید دیا یہاں تک کہ کچھ لوگ ایمان لے آئے اور ان پر بہت مصیبتیں اور تکلیفیں آئیں اور مدت مدیدہ تک رہیں اور امداد الٰہی میں تاخیر واقع ہوگئی یہاں تک کہ رسل معاندین کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے اور انہیں گمان ہوا کہ اگر تاخیر نصرت الٰہی کا یہی حال رہا تو مومن بھی ہماری تکذیب کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
ربط آیات
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبین ﷺ کی رسالت کی تصدیق فرمائی کہ یہ واقعہ آپ نے نہ تو کسی سے سنا ہے اور نہ کسی کتاب میں پڑھا ہے بلکہ ہم نے وحی کے ذریعے آپ کو بتلایا ہے اور یہی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے نبی ہیں۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ آپ اپنی دعوت الی اللہ کے لئے کسی سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کرتے بلکہ آپ یہ خدمت بےلوث انجام دے رہے ہیں۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی تنزیلی اور تکوینی دونوں قسم کی نشانیاں ظاہر ہوچکی ہیں مگر یہ لوگ انہیں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے بلکہ کفر و شرک میں مبتلا رہتے ہیں۔ بھلا ان کے ایمان لانے میں کون سی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
حَتّٰٓي اِذَا اسْتَيْــــَٔـسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَاۗءَهُمْ نَصْرُنَا ۙ فَنُجِّيَ مَنْ نَّشَاۗءُ ۭ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُـنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ 110
يأس
اليَأْسُ : انتفاءُ الطّمعِ ، يقال : يَئِسَ واسْتَيْأَسَ مثل : عجب واستعجب، وسخر واستسخر . قال تعالی: فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا[يوسف/ 80] ، حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ [يوسف/ 110] ،
( ی ء س ) یأس
( مصدرس ) کے معنی ناامید ہونیکے ہیں اور یئس ( مجرد) واستیئاس ( استفعال ) دونوں ہم معنی ہیں جیسے ۔ عجب فاستعجب وسخرو استسخر۔ قرآن میں ہے : فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
1 ؎ یمرون علیہا کا لفظی ان پر سے گزرنا ہے مگر مراد مشاہدہ کرنا ہے یعنی ہمارے آسمان اور زمین میں بیشمار نشان قدرت ہیں جن کو دیکھ کر ایمان نہیں لاتے بلکہ منہ پھیر لیتے ہیں اور توجہ نہیں کرتے 12 منہ
Read the full tafseer →حَتّٰیٓ اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْ ٓا اَنَّھُمْ قَدْکُذِبُوْا جَآئَ ھُمْ نَصْرُنَا لا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآئُ ط وَلاَ یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 110)
(حتیٰ کے جب رسول ( علیہ السلام) اپنی قوموں سے مایوس ہوگئے اور لوگوں نے یہ گمان کیا کہ ان کو جھوٹ ڈراوے سنائے گئے تو ان کو ہماری مدد آپہنچی۔ پس نجات ملی ان کو جن کو ہم نے نجات دی اور ہمارا عذاب مجرموں سے ٹالا نہیں جاسکتا۔ )
نبی کریم ﷺ قریش مکہ کو ان کی سرکشی اور کفر پر ضد کو دیکھتے ہوئے جب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے تو بجائے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے کے وہ اس کا تمسخر اڑاتے اور جیسے جیسے اس پر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی توحید، انبیاء کی نبوت اور بشریت کے واضح دلائل آنے کے باوجود کفار نے انبیاء کے ساتھ مقابلہ اور مکالمہ جاری رکھا۔ یہ کشمکش اس قدر شدید تھی کہ انبیاء (علیہ السلام) کو یقین ہونے لگا کہ انہیں یکسر طور پر جھٹلا دیا گیا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوئی۔
اس آیت مبارکہ کے ترجمہ اور تفسیر میں اہل علم کو بڑی الجھن پیش آئی ہے۔ تفسیر کے حوالے سے قرآن مجید کا یہ مشکل ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔
(حَتّٰی اِذَا اسْتَیْءَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ قَدْ کُذِبُوْا )[ یوسف : 111]
” یہاں تک کہ رسول مایوس ہوگئے اور انہوں نے گمان کیا کہ وہ جھٹلادیے گئے ہیں۔ “
بعض مترجمین…
Read the full tafseer →110: حَتّٰی اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ (یہاں تک کہ جب پیغمبر (اس بات سے) مایوس ہوگئے) قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے وَظَنُّوْا اَنَّھُمْ قَدْ کُذِبُوْا (اور انہوں نے یقین کرلیا کہ ان کی تکذیب کردی گئی) رسولوں کو یقین ہوگیا کہ ان کی قوم نے ان کو جھٹلادیا ہے۔
قراءت : کوفی نے تخفیف کے ساتھ پڑھا۔ قوموں نے یقین کیا کہ رسل نے واقعی جھوٹ بولا یعنی وعدہ خلافی کی ہے۔ یا نمبر 2۔ قوموں نے گمان کیا کہ رسولوں کی طرف سے ان کے ساتھ جھوٹ بولا گیا۔ یعنی رسولوں نے انہیں یہ جھوٹ کہا کہ وہ ان پر غالب آجائیں گے اور اسمیں وہ سچے نہ نکلے۔ جَآ ئَ ھُمْ نَصْرُنَا (ان کے پاس ہماری مدد آئی) انبیاء (علیہم السلام) اور…
Read the full tafseer →تفسیر 110۔” حتیٰ اذا استیاس الرسل و ظنوا انھم قد کذبوا جاء ھم نصرنا “ قراء کا ” کذبوا “ میں اختلاف ہے۔ اہل کوفہ اور ابو جعفر نے تخفیف کے ساتھ ” کذبوا “ پڑھا ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اس قرأت کا انکار کیا کرتی تھیں۔
اور دیگر حضرات نے شد کے ساتھ پڑھا ہے جنہوں نے شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں ظن یقین کے معنی میں ہوگا اور اس کی ضمیر رسولوں کی طرف راجع ہوگی تو معنی یہ ہے کہ حتی ٰکہ جب رسول اپنی قوم کے ایمان سے ناامید ہوگئے۔ ” ظنوا “ اور یقین ہوگیا رسولوں کو کہ امتوں نے ان کی تکذیب کی ان کے ایمان کی امید نہیں کی جاسکتی ۔ یہاں ظن بمعنی یقین ہے، یہ تفسیر قتادہ (رح) کے قول کا معنی ہے۔
اور بعض نے کہا…
Read the full tafseer →110۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے پچھلی امتوں کا یہ حال عبرت کے طور پر قریش کو یاد دلایا تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے فرعون کے زمانہ تک جن جن امتوں نے انبیاء سے مخالفت کی اور بت پرستی اور اپنی سرکشی سے باز نہ آئے وہ سب لوگ طرح طرح کے عذاب سے ایک دم میں غارت ہوگئے مکہ سے شام کے ملک کا سفر تجارت کے لئے اکثر قریش کو پیش آتا رہتا ہے اس راستہ میں بہت بستیاں اور مکافات ایسے لوگوں کے کھنڈر ہوئے پڑے ہیں ان کو دیکھ کر عبرت پکڑیں اور جان لیں کہ ان کی سرکشی کا بھی یہی انجام ہونے والا ہے۔ اس سے اس وقت کے مسلمانوں کے جی میں یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے رفع فرمایا ہے…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ انبیاء کرام کو مبعوث فرماتا ہے ان کی قوم کے مجرم اور لئیم لوگ انہیں جھٹلا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دیتا ہے کہ وہ حق کی طرف لوٹ آئیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں مہلت پر مہلت دئیے چلا جاتا ہے یہاں تک کہ انبیاء کرام پر ان کی سختیاں انتہا کو پہنچ جاتی ہیں اور انبیاء ومرسلین یقین کامل اور اللہ تعالیٰ کے وعد و وعید کی تصدیق کے باوجود کبھی کبھی ان کے دل میں مایوسی کا کوئی خیال سا گزرتا ہے اور ان کے علم اور یقین میں ایک قسم کا ضعف سا آجاتا ہے۔ جب معاملہ اس حال کو پہنچ جاتا ہے (آیت) ” تو ان کے پاس ہماری مدد پہنچ گئی، پس جن کو ہم نے چاہا، نجات دے دی گئی “ اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
قول باری ہے (حتی اذا ستیئس الرسل و ظنوا انھم قدکذبوا جاء ھم نصرنا۔ یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہوگئے اور لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ ان پر جھوٹ بولا گیا تھا تو یکایک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی) یاس امید کے انقطاع کا نام ہے۔ قول باری (کذبوا) کو حرف ذال کی تخفیف اور تشدید کے ساتھ پڑھا گیا۔ اگر پہلی قرأت لی جائے تو آیت اس معنی پر محمول ہوگی جس کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ ، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ، سعید بن جبیر، مجاہد اور ضحاک سے روایت کی گئی ہے۔ یعنی قوموں نے یہ سمجھ لیا کہ پیغمبروں نے ان سے جو کہا تھا کہ انہیں اللہ کی نصرت حاصل ہے اور ان کے دشمن ہلاک ہوجائیں گے، وہ جھوٹ تھا۔ حماد بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
178۔ منکرین کی مہلت کا ذکر وبیان :
سوان منکروں کو بڑی بڑی مہلتیں دی گئیں یہاں تک کہ جب مایوس ہونے لگے پیغمبر اپنی قوموں اور امتوں کے ایمان اور ان کی تصدیق سے۔ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر تو ان پر عذاب آکر رہا۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان کی قوموں کو اللہ پاک نے اپنی سنت اور دستور کے مطابق ڈھیل دی۔ اور ان کے کفر و انکار کے باوجودان پر دنیاوی رزق اور دولت کے دروازے کھولتا گیا۔ تو وہ لوگ مست اور نڈر ہوگئے کہ کوئی عذاب وغیرہ نہیں ہونے والا۔ اور ہم جو کچھ کررہے ہیں ٹھیک کررہے ہیں۔ سو جب وہ لوگ عناد اور ہٹ دھرمی کی انتہاء کو پہنچ گئے تو ان پر عذاب آکررہا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
اللہ، رسول اور قرآن کی سچائی کا ثبوت
تشریح : سورة یوسف کا قصہ پچھلے گیارہ رکوعوں میں ختم ہوگیا ہے۔ اس سورت کا شان نزول یہی تھا کہ اہل قریش جو آپ پر ایمان نہ لانا چاہتے تھے انہوں نے آپ کو آزمانے کے لیے کہا کہ اچھا اگر آپ رسول ہو تو بتائو کہ بنی اسرائیل کس طرح مصر میں آباد ہوئے ؟ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا پورا قصہ بتا دیا جس میں بیشمار نصیحت کی باتیں ہیں اور اس کا ثبوت اور وجوہات بھی بڑی تفصیل سے بتا دی گئی ہیں کہ بنی اسرائیل کس طرح اور کب مصر میں پہنچے۔ یہ سوال اہل قریش نے اس لیے نہیں کیا تھا کہ معقول جواب ملنے پر وہ سب ایمان لے آئیں گے بلکہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–111
آیات 105 تا 111
اسرار ومعاف
اگریہ لوگ نہیں مان رہیتو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ارض وسما میں بیشمار چیزیں اللہ کی عظمت پہ گواہی دے رہی ہیں اور زمین کا ذرہ ذرہ یا ہر ہر تنکا اور پھول پتہ اس کی عظمت کی دلیل ہے یا پھر پہلے لوگوں کی تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈر بھی کفر اور گناہ کے انجام کی خبر دے رہے ہیں اور ان لوگوں کو شب وروز انہی اشیاء سے واسطہ بھی پڑتا ہے ۔ ایسی ہی جگہوں سے ان کا گزر بھی ہوتا ہے مگر اس بات کی طرف ان کا دھیان ہی نہیں جاتا بلکہ عقلا عاجز ہو کر اللہ کی ذات کا اقرار بھی کرتے ہیں تو ساتھ بہت سے اوصاف میں دوسروں کو شریک کرکے گرفتار بلاہوجاتے ہیں ۔ اور یہ تو ایسے بےفکر ہیں کہ اسی…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ یعنی اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے۔ (روح) ۔
5 ۔ جو انہیں خدا کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ عذاب ہرگز آنے والا نہیں ہے۔ اگر آنا ہوتا تو کبھی کا آچکا ہوتا۔ آیت کا یہ ملطب اس صورت میں ہے جب ” ظنو “ (سجھنے لگے) کا فاعل خود پیغمبروں کو قرار دیا جائے اور اگر اس کا فاعل خود پیغمبروں کو قرار دیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جب پیغمبر مایوس ہوگئے اور ان کے دل میں یہ وسوسہ آنے لگا کہ عذاب یا مدد دنیا میں نہیں آئے گی یعنی لاچاری کے عالم میں۔ (دیکھئے بقرۃ آیت 204) ۔ حضرت عائشہ ؓ کی قرآن میں کذبوا ہے وہ فرمایا کہ تیس کہ بھلا پیغمبر اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ گمان کس طرح کرسکتے تھے کہ ان سے جھوٹا…
Read the full tafseer →(12:110) استیئس۔ استئی اس (استفعال) سے ماضی۔ واحد مذکر غائب (بمعنی جمع) وہ مایوس ہوگئے۔ وہ ناامید ہوگئے۔
حتی اذا الستیئس الرسل وظنوا انہم قد کذبوا جاء ہم نصرنا
اس کے متعلق صاحب ضیاء القرآن نے نہایت مفید بحث کی ہے جو مندرجہ ذیل ہے۔
آیت کا یہ حصہ بڑا غور طلب ہے۔ رسولوں کے مایوس ہونے کا مطلب کیا ہے ؟ ظنوا کا فاعل کون ہیں انہم کا مرجع کون ہیں۔ قد کذبوا کا نائب فاعل کون ہے ؟
پہلی بات کا جواب تو یہ ہے کہ جب انبیاء کرام نے اپنی اپنی قوموں کو عرصہ دراز تک توحید کی دعوت دی۔ اور اس کی صداقت پر دلائل وبراہین پیش کئے اور طرح طرح کے معجزات دکھائے تب بھی ان کے دل میں ایمان کی شمع فروزاں نہ ہوئی۔ تو انبیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
لغات القرآن آیت نمبر 109 تا 110
ما ارسلنا ہم نے نہیں بھیجا رجال (رجل) مرد اھل القریٰ بستیوں والے لم یسیروا وہ نہیں چلے پھرے کیف کان کیسے تھے عاقبۃ انجام قبل پہلے الدارالاخرۃ آخرت کا گھر استیئس مایوس ہوگیا۔ ہوگئے الرسل (رسول) رسول ، پیغمبر ظنوا انہوں نے سمجھ لیا۔ گمان کیا قدکذبوا وہ یقینا جھٹلائے گئے نصرنا ہماری مدد فنجی پس ہم نجات دیتے ہیں لا یرد نہیں ہٹتا، نہیں ٹلتا باسنا ہمارا عذاب المجرمین جرم کرنے والے
تشریح : آیت نمبر 109 تا 110
قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار مشرکین نے آخری بات یہی کی ہے کہ یہ سب کچھ تو ٹھیک ہے لیکن ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ایک ایسا شخص جو ہماری…
Read the full tafseer →مسلمانوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ قریش کی مخالفت قریب قریب پچھلی امتوں کے پہنچ گئی ان پر عذاب کیوں نازل نہیں ہوتا۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے اس خیال کو رفع فرمایا ہے کہ عادت الہی پہلے سے یونہی ہے۔ یکایک ان امتوں کو اللہ تعالیٰ نے غارت نہیں کیا، ان کو بھی مہلت دی گئی کہ اس وقت کے نبی تنگ آگئے اور مایوس ہوگئے۔ مخالف لوگوں نے پورا گمان کرلیا کہ عذاب کا وعدہ جو انبیا نے کیا تھا وہ فقط ڈراوا تھا پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مخالفوں کو پکڑا اور ایک دم میں غارت کردیا، گھبرانا نہیں چاہئے اب بھی ویسا ہی ہونے والا ہے۔ وقت مقررہ کی دیر ہے چناچہ ویسا ہی ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
[37] یعنی لوگوں نے گمان کیا کہ رسولوں نے انھیں جو عذاب کے ڈراوے دئیے تھے وہ جھوٹے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
انبیاء کی ناامیدی :
(ف 1) حق وصداقت کی راہ میں بیشمار آزمائشیں ہیں ، حتی کہ انبیاء (علیہم السلام) کو بھی آزمایا جاتا ہے ، جب وہ اللہ کے پیغام کو اس کے بندوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ، تو مخالفوں کے طوفان بپا ہوتے ہیں ، بغض و فساد کے شعلے خرمن صبر و استقامت پر گرتے ہیں ، اور انسانی بدبختی و محرومی کا وہ مظاہرہ ہوتا ہے ، کہ ہدایت بھی شرم سے اپنا بچہ لیتی ہے ، بڑے بڑے پاکبازوں کے پاؤں لڑکھڑا جاتے ہیں ، عین اس وقت انبیاء (علیہم السلام) دل میں سوچتے ہیں کہ یا اللہ تیری نصرتیں کہاں ہیں ؟ تیری شفقتیں ، اور مہربانیاں کیوں جلوہ گر ہو کر ہم بےکسوں کی دستگیری نہیں کرتیں ؟ کیا ہمیں اذیتوں اور تکلیفوں کے…
Read the full tafseer →110 اگر عذاب آنے میں تاخیر ہو رہی ہے اور باوجود کفر کے تم کو مہلت دی جا رہی ہے تو اس پر دھوکہ نہ کھائو کیونکہ امم سابقہ کو تو اتنی طویل مہلتیں ملتی رہیں اور اصلاح کا اتنا موقع دیا گیا کہ انبیاء (علیہم السلام) مایوس ہونے لگے کہ شاید عذاب جلدی نہ آئے گا اور ان کی قوم کے کافروں نے یقین کرلیا کہ ان پیغمبروں سے عذاب کے وعدے میں جھوٹ بولا گیا اور عذاب آنے والا نہیں آخر کار ہماری مدد آپہنچی پھر ہم نے جس کو چاہا وہ بچا لیا گیا اور ہمارا عذاب آئے پیچھے مجرموں سے واپس نہیں کیا جاتا ۔ یعنی مہلت پر دھوکہ نہ کھائو پہلی امتوں کو اس قدر ملتیں ملتی رہیں یہاں تک کہ انبیاء (علیہم السلام) کو ان کے ایمان لانے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ف 2۔ طویل مدت مہلت کی وجہ سے پیغمبروں نے سمجھ لیا کہ وعدہ الٰہی کا جو اجمالی وقت اپنے اجتہاد سے معین کرکے ہم نے اپنے ذہن میں قرار دے رکھا تھا اس وقت ہم منصور اور کفار مقہور ہوں گے اور گمان غالب ہوگیا کہ وعدہ خداوندی کی تحدید میں ہم سے غلطی ہوئی کہ بلاتنصیص محض قرائن یاحب استعجال نصر سے قریب کا وقت معین کرلیا حالانکہ وعدہ مطلق تھا ایسی حالت میں کفار پر عذاب آپہنچا۔
3۔ مراد اس سے مومنین ہیں۔
4۔ بلکہ ان پر ضرر واقع ہوتا ہے گوبدیر سہی پس یہ کفار مکہ بھی دھوکہ میں نہ رہیں۔
Read the full tafseer →انبیاء کرام کی دعوتوں کو قوموں نے اکثر جھٹلایا کہ وہ قوموں سے مایوس ہو گئے
۔ 128 زیر نظر آیت کا ترجمہ اور تفسیر میں مفسرین نے بہت حد تک اختلاف کیا لیکن اختلاف کے باوجود بہت کم لوگ حقیقت کو سمجھ سکے اور اکثر اس کا مطلب سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ چناچہ اس آیت کے ایک دو ترجمے مزید درج کئے دیتا ہوں تاکہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے۔
” یہاں تک کہ جب ناامید ہوئے پیغمبر اور گمان کیا انہوں نے یہ کہ ان سے لوگوں نے تحقیق جھوٹ بولا ، آئی ان کے پاس مدد ہماری۔ پس نجات دیا گیا جو شخص کہ چاہتے تھے ہم اور نہیں پھیرا جاتا عذاب ہمارا قوم گنہگار سے۔ “ (شاہ رفیع الدین (رح))
” یہاں تک پیغمبر (اس بات سے) مایوس ہوگئے…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned in the previous verses was the sending of prophets who invited people to take the straight path, and also answered there were some doubts about them. Then, people were admonished that they do not take into consideration the sad end they would face as a result of their antagonism towards prophets of Allah. Only if they were to pay some attention and look around and read signs from ruined cities and the history of lost places they pass by, they would find out how harsh has been the sad end of those who had opposed the blessed prophets, and that too, right here in this…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
That is, it gives details of everything that is required for the guidance of man. Some people take details of everything to mean the details of everything in the world. So, when they do not find in it the details of mathematics, physics, medicine etc. etc. they become skeptical. Whereas the Quran claims to give the details of only one subject,“Guidance”, for which it has been sent down, and it does give the details of everything that is essential for it.
Read the full tafseer →