رسول اور نبی صرف مرد ہی ہوئے ہیں
بیان فرماتا ہے کہ رسول اور نبی مرد ہی بنتے رہے نہ کہ عورتیں۔ جمہور اہل اسلام کا یہی قول ہے کہ نبوت عورتوں کو کبھی نہیں ملی۔ اس آیت کریمہ کا سیاق بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔ لیکن بعض کا قول ہے کہ خلیل اللہ ؑ کی بیوی حضرت سارہ، موسیٰ ؑ کی والدہ مریم بھی نبیہ تھیں۔ ملائیکہ نے حضرت سارہ کو ان کے لڑکے اسحاق اور پوتے یعقوب کی بشارت دی۔ موسیٰ کی ماں کی طرف انہیں دودھ پلانے کی وحی ہوئی۔ مریم کو حضرت عیسیٰ کی بشارت فرشتے نے دی۔ فرشتوں نے مریم سے کہا کہ اللہ نے تجھے پسندیدہ پاک اور برگزیدہ کرلیا ہے تمام جہان کی عورتوں پر۔ اے مریم اپنے رب کی فرماں برداری کرتی رہو، اس کے…
Read the full tafseer →79۔ یہاں ایک بہت بڑے مضمون کو دو تین جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے، اس کو اگر کسی تفصیلی عبارت میں بیان کیا جائے تو یوں کہا جاسکتا ہے یہ لوگ تمہاری بات کی طرف اس لیے توجہ نہیں کرتے کہ جو شخص کل ان کے شہر میں پیدا ہوا اور انہی کے درمیان بچے سے جوان اور جوان سے بوڑھا ہوا اس کے متعلق یہ کیسے مان لیں کہ یکایک ایک روز خدا نے اسے اپنا سفیر مقرر کردیا، لیکن یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے جس سے آج دنیا میں پہلی مرتبہ انہی کو سابقہ پیش آیا ہو، اس سے پہلے بھی خدا اپنے نبی بھیج چکا ہتے اور وہ سب بھی انسان ہی تھے، پھر یہ بھی کبھی نہیں ہوا کہ اچانک ایک اجنبی شخص کسی شہر میں نمودار ہوگیا ہو اور اس نے کہا ہو کہ میں…
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى یعنی ان کا یہ خیال بےبنیاد اور لغو ہے کہ اللہ کا رسول اور پیغمبر فرشتہ ہونا چاہئے انسان نہیں ہوسکتا بلکہ معاملہ برعکس ہے کہ انسانوں کے لئے اللہ کا رسول ہمیشہ انسان ہی ہوتا چلا آیا ہے البتہ عام انسانوں سے اس کو یہ امتیاز حاصل ہوتا ہے کہ اس کی طرف براہ راست حق تعالیٰ کی وحی اور پیغام آتا ہے اور وہ کسی کی سعی و عمل کا نتیجہ نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ خود ہی اپنے بندوں میں سے جس کو مناسب سمجھتے ہیں اس کام کے لئے انتخاب فرما لیتے ہیں اور یہ انتخاب ایسی خاص صفات کمال کی بناء پر ہوتا ہے جو عام انسانوں میں نہیں…
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى ۭ اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّـلَّذِيْنَ اتَّقَوْا ۭاَفَلَا تَعْقِلُوْن۔
آدمیوں میں سے رسول بنانے پر اعتراض : یہ ان کے ایک اور اعتراض کو، جو وہ ایمان نہ لانے کے بہانے کے طور پر پیش کیا کرتے تھے، رفع فرمایا ان کا اعتراض یہ تھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم اپنے ہی اندر کے ایک آدمی کو، جو ہمارے ہی اندر پیدا ہوا، ہمارے ہی اندر رہا سہا اور جوان ہوا، اللہ کا رسول مان لیں۔ اگر اللہ کو کوئی رسول ہی بھیجنا…
Read the full tafseer →19۔ 1 یہ آیت اس بات پر قطعی حکم ہے کہ تمام نبی مرد ہی ہوئے ہیں، عورتوں میں سے کسی کو نبوت کا مقام نہیں ملا، اسی طرح ان کا تعلق قریہ سے تھا، جو قصبہ دیہات اور شہر سب شامل ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اہل بادیہ (صحرا نشینوں) میں سے نہیں تھا کیونکہ اہل بادیہ نسبتاً طبعیت کے سخت اور اخلاق کے کھردرے ہوتے ہیں اور شہری ان کی نسبت نرم، دھیمے اور با اخلاق ہوتے ہیں اور یہ خوبیاں نبوت کے لئے ضروری ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–109
66: یہ کافروں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی فرشتہ ہمارے پاس رسول بنا کر کیوں نہیں بھیجا ؟
Read the full tafseer →آیت نمبر 109
سابقہ اقوام کی تاریخ میں بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ اس لئے بعد میں آنے والوں کو چاہئے کہ وہ سابقین کی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ اس سے دل نرم ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ بڑے بڑے ڈکٹیٹروں کے دلوں میں خوف پیدا ہوجاتا ہے۔ جب اقوام سابقہ کی سرگرمیوں اور ان کی چلت پھرت کو اپنے تخیل میں زندہ کیا جاتا ہے۔ یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ لوگ اپنی اپنی شان و شوکت ہے اور پھر پردۂ خیال پر یہ دور آتا ہے کہ وہ دیکھو یہ لوگ تو نیست و نابود ہوگئے اور مرمٹ گئے ، بغیر حس و حرکت پڑے ہیں اور مٹی میں مل گئے ہیں۔ ان کے وہ شہر اور بستیاں کھنڈرات کی شکل اختیار کر گئیں اور ان کے ساتھ ان کا علم و ثقافت اور ان کی…
Read the full tafseer →1 یعنی پہلے بھی ہم نے آسمان کے فرشتوں کو نبی بنا کر نہیں بھیجا انبیائے سابقین ان ہی انسانی بستیوں کے رہنے والے مرد تھے۔ پھر دیکھ لو ان کے جھٹلانے والوں کا دنیا میں کیا حشر ہوا۔ حالانکہ دنیا میں کافروں کو بھی بسا اوقات عیش نصیب ہوجاتا ہے اور آخرت کی بہتری تو خالص ان کے لیے ہے جو شرک و کفر سے پرہیز کرتے ہیں۔ یہ تنبیہ ہے کفار مکہ کو کہ اگلوں کے احوال سے عبرت حاصل کریں۔ (تنبیہ) اس آیت سے نکلتا ہے کہ کوئی عورت نبی نہیں بنائی گئی۔ حضرت مریم کو بھی قرآن نے صدیقہ کا مرتبہ دیا ہے۔ نیز آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہل بوادی (جنگلی گنواروں) میں سے کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا۔
Read the full tafseer →آیت 109 وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى
یعنی آپ سے پہلے مختلف ادوار میں اور مختلف علاقوں میں جو انبیاء و رسل آئے وہ سب آدمی ہی تھے اور ان ہی بستیوں کے رہنے والوں میں سے تھے۔
اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ
یہ انہی اقوام کے انجام کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر انباء الرسل کے تحت قرآن میں بار بار آیا ہے۔
وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّـلَّذِيْنَ اتَّقَوْا ۭاَفَلَا تَعْقِلُوْنَ
اگلی آیت مشکلات القرآن میں سے ہے اور اس کے بارے میں بہت سی آراء ہیں۔ میرے نزدیک جو رائے صحیح تر ہے…
Read the full tafseer →103 رسول کا اسی قوم سے اور بشر ہونا کیوں ضروری ہے ؟:۔ یہ دراصل ہر دور کے منکرین رسالت اور اسی طرح کفار مکہ کے ایک اعتراض کا جواب ہے کہ ہم اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی نبوت اور رسالت پر ایمان کیسے لائیں جسے ہماری طرح تمام بشری احتیاجات اور کمزرویاں لاحق ہیں۔ یہ اعتراض ذکر کیے بغیر اس آیت میں اس کا جواب دیا جارہا ہے۔ یعنی تمام انبیاء نے اپنی قوم کے سامنے اپنا بچپن اور جوانی گزاری، تاکہ ان کی نبوت سے پہلے کی زندگی ان کی دعوت پر گواہی کی حیثیت سے پیش کی جاسکے اور ان کی قوم ان کی دعوت کو اچھی طرح سمجھ سکے اور اگر ہم باہر سے کوئی اجنبی آدمی نبی بنا کر بھیج دیتے تو کیا وہ ان کی دعوت کو سمجھ سکتے تھے،…
Read the full tafseer →195۔ یعنی پیغمبر بنا کر تو ہمیشہ بشر ہی کو بھیجا گیا ہے، بشریت پیغمبری کے منافی ہونا کیا معنی عین اس کا جزء لازم ہے اتنی موٹی حقیقت بھی دیوتا پرست، اوتار پرست مشرکوں کے ذہن میں نہیں آتی، فقہاء مفسرین نے کہا ہے کہ آیت سے بہ اشارۃ النص دو اور مسئلہ بھی روشنی میں آجاتے ہیں :۔ (1) ایک یہ کہ پیغمبر ہمیشہ آبادی والی بستیوں میں سے ہوئے ہیں نہ کہ بےتعلق خانہ بدوش جرگوں قبیلوں میں سے۔ من اھل القری لم یبعث رسولا من اھل البادیۃ (کبیر) یعنی من اھل الامصار دون اھل البداوی (ابن جریر) (2) دوسرے یہ کہ پیغمبری ہمیشہ مردوں ہی میں رہی ہے کوئی عورت کبھی اس مرتبہ پر فائز نہیں کی گئی۔ (آیت) ” الا رجالا “۔ والایۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–111
آیت نمبر 105 تا 111
ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں خدا کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی بیشمار نشانیاں ہیں ان کو دیکھتے ہوئے منہ موڑ کر گذر جاتے ہیں ان میں غور و فکر نہیں کرتے اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان رکھنے یعنی اس کو خالق و رازق تسلیم کرنے کے باوجود بتوں کی بندگی کرکے مشرک ہیں اور یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے تلبیہ میں کہا کرتے تھے لبیک لاشریک لک الاشریکا ھو لک تملکہ وما ملک (ترجمہ) ہم تیرے حضور میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے کہ اس کا تو مالک ہے اور اس کا بھی تو مالک ہے جس کا وہ مالک ہے اور وہ الا شریکا سے اصنام مراد لیتے تھے، کیا وہ اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر…
Read the full tafseer →وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحي الیھم من اھل القری اور آپ سے پہلے ہم نے مختلف بستیوں والوں میں جتنے رسول بھیجے (اور) جن کو وحی بھیجتے رہے ‘ وہ سب آدمی ہی تھے (فرشتے نہیں تھے) یہ تردید ہے کافروں کے اس قول کی کہ ہمارا رب چاہتا تو ملائکہ کو ہدایت کیلئے اتار دیتا۔
نُوْحِيْٓ اِلَیْھِمْ یعنی جس طرح آپ کے پاس وحی بھیجی ‘ اسی طرح ان پیغمبروں کے پاس بھی وحی بھیجتے رہے جس کی وجہ سے وہ دوسروں سے ممتاز ہوگئے۔ مِنْ اَھْلِ الْقُرٰی یعنی وہ قصبوں اور بستیوں کے رہنے والے تھے ‘ صحرائی خانہ بدوش نہ تھے۔ صحرائی لوگ بدخلق ‘ اکھڑ اور درشت خو ہوتے ہیں اور بستیوں ‘ شہروں والے دانش مند ‘ ذی علم اور حلیم الطبع ہوتے…
Read the full tafseer →(109) اے محمد ﷺ ہم نے آپ نے آپ سے پہلے مختلف بستی والوں میں جتنے رسول بنا کر بھیجے سب آدمی ہی تھے جس طرح اب ہم آپ کے پاس بذریعہ جبریل امین وحی بھیجتے ہیں اسی طرح ان کے پاس وحی بھیجتے تھے کیا مکہ والے کہیں چلے پھرے نہیں کہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر غور کرلیتے کہ ان سے پہلے جو کافر تھے ان کا کیسا برا انجام ہوا۔
البتہ جنت ان حضرات کے لیے جو کفر وشرک اور فواحش سے بچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں نہایت بھلائی کی چیز ہے۔
کیا تمہارے پاس انسانوں والا دماغ نہیں کہ سوچو آخرت دنیا سے بہتر ہے یا یہ کی دنیا فانی اور آخرت باقی رہنے والی ہے یا یہ کہ کیا اس بات کو نہیں…
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ۔۔ : اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو آپ ﷺ کو انسان ہونے کی وجہ سے نبی ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اترے۔ (دیکھیے فرقان : 21) یہ رسول تو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ (دیکھیے فرقان : 7) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے آپ سے پہلے تمام رسول ”رِجَالٌ“ (مرد) ہی بھیجے۔ دوسرے مردوں سے ان کا فرق یہ تھا کہ ہم ان کی طرف وحی کرتے تھے جس سے دوسرے لوگ محروم تھے۔
اِلَّا رِجَالًا : اس میں ان لوگوں کا بھی رد ہے جو کہتے ہیں کہ کچھ عورتیں بھی پیغمبر ہوئی ہیں، مثلاً حوا، آسیہ، سارہ، ام موسیٰ اور مریم علیھن السلام۔ حافظ ابن کثیر ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
آیت نمبر 109 تا 110
قولہ تعالیٰ : ومآ ارسلنا من قبلک الارجالاً نوحی الیھم من اھل القرٰی یہ ان لوگوں کا رد ہے جو یہ کہتے تھے : لولآ انزل علیہ ملک (انعام :8) کیوں نہ اترا اس پر فرشتہ، یعنی ہم نے مردوں کو رسول بنا کر بھیجا ہے، جن میں نہ کوئی عورت ہے نہ جن اور نہ کوئی فرشتہ، یہ اس روایت کی بھی تردید ہے جو نبی اکرم ﷺ سے بیان کی جاتی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” عورتوں میں چار نبی ہیں، حوا، آسیہ، ام موسیٰ اور مریم “۔ اس کے متعلق کچھ آل عمران میں گزر چکا ہے۔ من اھل القرٰی سے مراد مدائن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صحراؤں اور دیہاتوں میں رہنے والے لوگوں سے کوئی نبی مبعوث نہیں فرمایا کیونکہ دیہاتیوں میں جفا اور سختی…
Read the full tafseer →نبوت صرف مردوں کو ملی :
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم من اھل القری “ کہ پہلے انبیاء کرام بھی آسمان والوں میں سے نہیں تھے جیسے تم نے کہا تھا۔
2:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے کہا (آیت) ” ماانزل اللہ علی بشر من شیء “ (کہ اللہ تعالیٰ نے کس بشر پر کچھ نہیں اتارا) ابن جریج نے فرمایا (آیت) ” وما اکثرالناس ولو حرصت بمومنین “ (اور) ” وما تسئلہم علیہ من اجر “ اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت) ” وکاین من ایۃ فی السموت…
Read the full tafseer →[وَمَآ اَرْسَلْنَا : اور نہیں بھیجا ہم نے ] [ مِنْ قَبْلِكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ اِلَّا : مگر ] [ رِجَالًا : کچھ ایسے مرد ] [ نُّوْحِيْٓ: ہم وحی کرتے تھے ] [ اِلَيْهِمْ : جن کی طرف [مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى : بستیوں والوں میں سے ] [ اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا : تو کیا ان لوگوں نے سیر نہیں کی ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ فَيَنْظُرُوْا : تاکہ وہ دیکھتے ] [ كَيْفَ : کیسا ] [ كَان : تھا ] [عَاقِبَةُ الَّذِينَ : ان لوگوں کا انجام جو ] [ مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے تھے ] [ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ : اور یقینا آخرت کا گھر ] [ خَيْرٌ: بہترین ہے ] [ لِـلَّذِيْنَ : ان کے لئے جنھوں نے ] [ اتَّقَوْا : تقوٰی کیا ]…
Read the full tafseer →آپ سے پہلے جو رسول بھیجے وہ انسان ہی تھے
مشرکین مکہ اور دوسرے کفار کے سامنے جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعوت پیش کی اور فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں تو ان لوگوں نے کٹ حجتی کی اور طرح طرح کے بےت کے سوالات کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بات بھی تھی کہ آپ تو ہمارے جیسے آدمی ہیں رسول کوئی فرشتہ ہونا چاہئے اللہ تعالیٰ شانہ نے ان کا جواب دیا کہ ہم نے جتنے بھی رسول پہلے بھیجے ہیں وہ سب انسان ہی تھے جو مختلف بستیوں کے رہنے والے تھے ‘ یہ حضرات اپنی اپنی امتوں کی طرف بھیجے گئے اور ان کو حق کی دعوت دی اور اس میں بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ ہم جنس ہی ہم جنس کو صحیح طریقہ پر ہدایت دے سکتا ہے قولاً بھی اور فعلاً بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
خاتمہ سورت بر اثبات رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید منکرین وبیان حقانیت کتاب مبین
قال اللہ تعالیٰ ذلک من انبیاء الغیب نوحیہ الیک .... الیٰ .... وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون
(ربط) یہ سورت ان سائلین کے جواب میں نازل ہوئی جنہوں نے آپ ع صلی اللہ علیہ سے بغرض امتحان یوسف (علیہ السلام) کا قصہ دریافت کیا تھا اب خاتمہ سورت پر یہ بتلاتے ہیں کہ یہ قصہ آپ ﷺ کی نبوت کی کس طرح دلیل بنا چناچہ فرماتے ہیں کہ احسن القصص یعنی یوسف (علیہ السلام) کا قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کے علم کا سوائے وحی خداوندی کے کوئی ذریعہ نہیں ہم صرف وحی کے ذریعہ سے آپ ﷺ کو یہ قصہ بتلاتے ہیں اور یہ آپ ﷺ کی نبوت کی دلیل قاطع ہے کیونکہ آپ ﷺ تو امی…
Read the full tafseer →92:۔ جواب سوال مقدر۔ یعنی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ کا پیغمبر ہو اور پھر بشر ہو ؟ فرمایا ہمارا دستور ہی یہی ہے کہ ہم نے ہمیشہ انسانوں کی طرف انسانوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور ہمارے بشر پیغمبروں کو جن قوموں نے نہیں مانا ہم نے دنیا میں دردناک عذابوں سے ان کو ہلاک اور تباہ و برباد کیا۔ ان برباد شدہ قوموں کے آثار قدیمہ دیکھ لو اس سے تمہیں ان کے انجام کا علم ہوجائے گا۔ ” اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا الخ “ تخویف دنیوی ہے۔ ” وَلَدَارُ الْاٰخِرۃِ الخ “ ماننے والوں کے لیے بشارت اخروی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
ربط آیات
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبین ﷺ کی رسالت کی تصدیق فرمائی کہ یہ واقعہ آپ نے نہ تو کسی سے سنا ہے اور نہ کسی کتاب میں پڑھا ہے بلکہ ہم نے وحی کے ذریعے آپ کو بتلایا ہے اور یہی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے نبی ہیں۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ آپ اپنی دعوت الی اللہ کے لئے کسی سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کرتے بلکہ آپ یہ خدمت بےلوث انجام دے رہے ہیں۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی تنزیلی اور تکوینی دونوں قسم کی نشانیاں ظاہر ہوچکی ہیں مگر یہ لوگ انہیں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے بلکہ کفر و شرک میں مبتلا رہتے ہیں۔ بھلا ان کے ایمان لانے میں کون سی…
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى ۭ اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّـلَّذِيْنَ اتَّقَوْا ۭاَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 109
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ،
( ر س ل ) الرسل
اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
1 ؎ یمرون علیہا کا لفظی ان پر سے گزرنا ہے مگر مراد مشاہدہ کرنا ہے یعنی ہمارے آسمان اور زمین میں بیشمار نشان قدرت ہیں جن کو دیکھ کر ایمان نہیں لاتے بلکہ منہ پھیر لیتے ہیں اور توجہ نہیں کرتے 12 منہ
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلاَّ رِجَالاً نُّوْحِیْ ٓ اِلَیْھِمْ مِّن اَھْلِ الْقُرٰی ط اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط وَلَدَارُالْاٰخِرَۃِ خَیْرٌلِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا ط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 109)
(ہم نے تم سے پہلے بھی آدمی ہی بھیجے انھیں بستیوں والوں میں سے، ہم ان کی طرف وحی کرتے تھے، کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے اور دارآخرت ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا تو تم سمجھتے نہیں۔ )
دو اعتراضات اور ان کے جواب
اس آیت کریمہ میں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین، نہ صرف اللہ کو ایک الٰہ نہیں ماننے تھے بلکہ وہ نبی اکرم ﷺ کو بشر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ نبی انسان ہونے کی بجائے مافوق البشر ہستی ہونا چاہیے۔ جس کا جواب یہ دیا ہے کہ توحید اور بشریت کے بہانے نبوت کا انکار کرنے والوں کا انجام دیکھنا چاہو تو زمین پر چل پھر کر دیکھو کہ توحید و رسالت کا انکار کرنے والوں کا کیا انجام ہوا ہے۔ اگر تم بھی انکار کی روش اختیار کیے رکھو گے تو تمہارا انجام بھی پہلے لوگوں سے مختلف نہیں ہوگا۔
اے رسول ﷺ ! آپ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی رسول بھیجے وہ سب کے سب انسان تھے۔ اور انہی علاقوں اور قوموں سے تعلق رکھتے تھے جن…
Read the full tafseer →109: وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالًا (اور ہم نے آپ سے پہلے مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا) نہ کہ فرشتوں کو کیونکہ کفار یہ کہا کرتے تھے۔ ولو شاء اللّٰہ لانزل ملائکۃ (اگر اللہ تعالیٰ رسول بھیجنا چاہتا تو ضرور فرشتے اتارتا۔ نمبر 2۔ ان میں کوئی عورت نہ تھی (تمام مرد تھے) نُّوْحِیْ اِلَیْھِمْ مِّنْ اَھْلِ الْقُرٰی (جنکی طرف ہم وحی کرتے رہے شہروں کے رہنے والوں میں سے)
قراءت : حفص نے نون سے پڑھا ہے اہل قر ٰی اس لئے کہا کیونکہ وہ علم و حلم والے ہوتے ہیں اور جنگلی لوگوں میں جہل و جفا کثرت سے ہوتی ہے۔ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ…
Read the full tafseer →109۔” وما ارسلنا من قبلک “ اے محمد ” الا رجالا ً “ فرشتے ” نو حی الیھم “ ابو جعفر اور حفص نے ( نوحی) نون اور حاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے یاء اور حاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” من اھل القری “ شہر والوں میں سے نہ کہ بستی والوں میں سے ۔ اس لیے کہ شہر والے دیہات والوں سے زیادہ عقل مند ہوتے ہیں کیونکہ دیہات کے لوگ سخت مزاج ہوتے ہیں ۔ ” افلم یسیروا فی الارض “ یہ تکذیب کرنے والے مشرکین ” فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم “ یعنی وہ امتیں جنہوں نے تکذیب کی تو وہ عبرت حاصل کریں۔” ولدار الآخرۃ خیر للذین اتقوا “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو ہماری اطاعت کرتے ہیں ان سے ہمار معاملہ یہ…
Read the full tafseer →109۔ اس آیت میں اللہ پاک نے ان لوگوں کو قائل کیا ہے جو یہ کہتے تھے کہ آسمان سے کوئی فرشتہ رسول بنا کر کیوں نہیں بھیجا گیا۔ اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ عادت الٰہی یوں ہی جاری رہی ہے کہ ہمیشہ انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اس میں جو کچھ حکمت ہے وہ اللہ خوب جانتا ہے۔ جمہور علما کا اس پر اتفاق ہے کہ اللہ جل جلالہ نے جتنے پیغمبر ہدایت عالم کے لئے بھیجے وہ سب کے سب اول سے آخر تک مرد ہی ہوتے آئے کوئی عورت کسی زمانہ میں نبی یارسول نہیں ہوئی بعض لوگوں کا اعتقاد یہ جو ہے کہ چار عورتیں پیغمبر ہوئیں ہیں حضرت آسیہ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ اور حضرت مریم والدہ حضرت عیسیٰ…
Read the full tafseer →(آیت) ” اور ہم نے آپ سے پہلے صرف مرد ہی رسول بنا کر بھیجے “ یعنی ہم انسانوں کی ہدایت کے لئے فرشتے یا کوئی اور مخلوق نہیں بھیجتے۔ تب آپ ﷺ کی قوم کو آپ کی رسالت میں کون سی چیز انوکھی نظر آرہی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس کو ان پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ پس آپ کے لئے انبیائے سابقین میں اسوہ حسنہ ہے۔ (آیت) ” ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، (وہ) بستیوں کے رہنے والے ہیں “ یعنی یہ انبیائے کرام صحراؤں میں رہنے والے نہیں تھے، بلکہ بستیوں میں رہنے والے تھے جو سب سے زیادہ کامل عقل اور سب سے زیادہ صحیح رائے کے حامل تھے، تاکہ ان کا معاملہ نہایت واضح اور ان کی شان نمایاں ہو۔ (آیت) ” کیا پس انہوں نے زمین کی سیر نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
قول باری ہے (قل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہ علی بصیرۃ انا و من اتبعنی تم ان سے صاف کہہ دو کہ ” میرا راستہ تو یہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی) آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کی بعثت لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کے لئے ہوئی ہے نیز آپ خود بھی اس راستے پر پوری بصیرت کے ساتھ چل رہے ہیں کہ گویا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں نیز آپ کے متبعین بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہے ہیں اللہ کی طرف لوگوں کو بلانے کے لئے آپ کا یہی طریق کار ہے۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ اہل ایمان پر لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کی اسی طرح ذمہ داری…
Read the full tafseer →174۔ رسول ہمیشہ مردوں ہی سے آئے :
اسی لیے یہاں پر کلمات حصر کے ساتھ فرمایا گیا کہ ہم نے آپ سے پہلے اے پیغمبر مردوں کے سوا کسی کو بھی رسول بناکر نہیں بھیجا۔ یعنی آپ ہی کی طرح۔ تو پھر یہ لوگ آپ کی بشریت پر اچنبھا اور اعتراض کیوں کرتے ہیں اور نبوت اور بشریت میں منافات کیوں سمجھتے ہیں ؟ افسوس کہ قرآن پاک کے طرح طرح سے سمجھانے کے باوجود دور حاضر کے بہت سے جاہل مسلمان بھی اسی غلط فہمی کا شکار ہیں کہ بشریت اور نبوت دونوں جمع نہیں ہوسکتیں۔ اور اسی بناء پر ایسے لوگ بشریت نبوی کا کھلم کھلا انکار کرتے ہیں اور اس کے لیے وہ قرآن وسنت کی نصوص میں طرح طرح کی تحریفات وتاویلات سے کام لیتے ہے۔ والیعاذ باللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
اللہ، رسول اور قرآن کی سچائی کا ثبوت
تشریح : سورة یوسف کا قصہ پچھلے گیارہ رکوعوں میں ختم ہوگیا ہے۔ اس سورت کا شان نزول یہی تھا کہ اہل قریش جو آپ پر ایمان نہ لانا چاہتے تھے انہوں نے آپ کو آزمانے کے لیے کہا کہ اچھا اگر آپ رسول ہو تو بتائو کہ بنی اسرائیل کس طرح مصر میں آباد ہوئے ؟ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا پورا قصہ بتا دیا جس میں بیشمار نصیحت کی باتیں ہیں اور اس کا ثبوت اور وجوہات بھی بڑی تفصیل سے بتا دی گئی ہیں کہ بنی اسرائیل کس طرح اور کب مصر میں پہنچے۔ یہ سوال اہل قریش نے اس لیے نہیں کیا تھا کہ معقول جواب ملنے پر وہ سب ایمان لے آئیں گے بلکہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–111
آیات 105 تا 111
اسرار ومعاف
اگریہ لوگ نہیں مان رہیتو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ارض وسما میں بیشمار چیزیں اللہ کی عظمت پہ گواہی دے رہی ہیں اور زمین کا ذرہ ذرہ یا ہر ہر تنکا اور پھول پتہ اس کی عظمت کی دلیل ہے یا پھر پہلے لوگوں کی تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈر بھی کفر اور گناہ کے انجام کی خبر دے رہے ہیں اور ان لوگوں کو شب وروز انہی اشیاء سے واسطہ بھی پڑتا ہے ۔ ایسی ہی جگہوں سے ان کا گزر بھی ہوتا ہے مگر اس بات کی طرف ان کا دھیان ہی نہیں جاتا بلکہ عقلا عاجز ہو کر اللہ کی ذات کا اقرار بھی کرتے ہیں تو ساتھ بہت سے اوصاف میں دوسروں کو شریک کرکے گرفتار بلاہوجاتے ہیں ۔ اور یہ تو ایسے بےفکر ہیں کہ اسی…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ یعنی شہروں کے رہنے والے مہذب، سنجیدہ اور بااخلاق نہ کہ جنگلی یادیہاتی قسم کے اجڈ، سنگدل۔ اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو کہا کرتے تھے۔ لولا انزل علیہ ملک۔ اس۔ رسول ( علیہ السلام) ۔ پر فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ اب تک جتنے لوگ بھیجے ہیں وہ سب شہری لوگ تھے اور وہ بھی مرد۔ اس آیت میں ان لوگوں کا بھی رد ہے۔ جو کہتے ہیں کہ چار عورتیں پیغمبر ہوئی ہیں۔ حوا، آسیہ، ام موسیٰ اور حضرت مریم ( علیہ السلام) ۔ حافظ بن کثیر لکھتے ہیں کہ ان عورتوں کو فرشتے کے ذریعہ وحی یا بشارت تو ضرور ملی ہے مگر یہ نبوت کو مستلزم نہیں (عرفا) نبی کی طرف وحی تشریعی کا ہونا لازم ہے اور اس قسم کی وحی (تشریعی) کسی…
Read the full tafseer →(12:109) وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم من اہل القری۔ یعنی ہم نے تجھ سے قبل بھی بستیوں کے باسیوں میں سے ہی انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا۔ اور انہی کی طرف وحی بھیجتے رہے۔ یعنی یہ سب انسان (بشر) تھے اور شہروں کے بسنے والے تھے جنہیں ہر ایک جانتا تھا۔
افلم یسیروا۔ (کیا وہ چلے پھرے نہیں) میں ضمیر کا مرجع نبوت کے منکر اور کافر لوگ ہیں۔
من قبلہم۔ جو ان سے پہلے تھے۔ یعنی جو انہی کی طرح اپنے وقت کے نبیوں اور رسولوں کے منکر تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
لغات القرآن آیت نمبر 109 تا 110
ما ارسلنا ہم نے نہیں بھیجا رجال (رجل) مرد اھل القریٰ بستیوں والے لم یسیروا وہ نہیں چلے پھرے کیف کان کیسے تھے عاقبۃ انجام قبل پہلے الدارالاخرۃ آخرت کا گھر استیئس مایوس ہوگیا۔ ہوگئے الرسل (رسول) رسول ، پیغمبر ظنوا انہوں نے سمجھ لیا۔ گمان کیا قدکذبوا وہ یقینا جھٹلائے گئے نصرنا ہماری مدد فنجی پس ہم نجات دیتے ہیں لا یرد نہیں ہٹتا، نہیں ٹلتا باسنا ہمارا عذاب المجرمین جرم کرنے والے
تشریح : آیت نمبر 109 تا 110
قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار مشرکین نے آخری بات یہی کی ہے کہ یہ سب کچھ تو ٹھیک ہے لیکن ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ایک ایسا شخص جو ہماری…
Read the full tafseer →مشرکین کے اعتراض کا جواب، آسمان و زمین کی ہیئت : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو قائل کیا ہے جو کہتے تھے کہ آسمان سے کوئی فرشتہ رسول بناکر کیوں نہیں بھیجا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عادت الہی یوں ہی جاری رہی ہے کہ ہمیشہ انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اس میں جو حکمت ہے وہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ جتنے پیغمبر ہدایت عالم کے لئے پہنچے وہ سب کے سب اول سے آخر تک مرد ہی ہوتے آئے۔ کوئی عورت کسی زمانہ میں نبی یا رسول نہیں ہوئی اور کبھی کوئی فرشتہ رسول نہیں بنایا گیا۔ پھر فرمایا کہ لوگ جھٹلانے والے جو ہمارے رسول کو جھٹلاتے ہیں کیا یہ لوگ روئے زمین کی سیر نہیں کرتے یا پہلے لوگوں کا حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
[37] یعنی لوگوں نے گمان کیا کہ رسولوں نے انھیں جو عذاب کے ڈراوے دئیے تھے وہ جھوٹے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
انبیاء کی ناامیدی :
(ف 1) حق وصداقت کی راہ میں بیشمار آزمائشیں ہیں ، حتی کہ انبیاء (علیہم السلام) کو بھی آزمایا جاتا ہے ، جب وہ اللہ کے پیغام کو اس کے بندوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ، تو مخالفوں کے طوفان بپا ہوتے ہیں ، بغض و فساد کے شعلے خرمن صبر و استقامت پر گرتے ہیں ، اور انسانی بدبختی و محرومی کا وہ مظاہرہ ہوتا ہے ، کہ ہدایت بھی شرم سے اپنا بچہ لیتی ہے ، بڑے بڑے پاکبازوں کے پاؤں لڑکھڑا جاتے ہیں ، عین اس وقت انبیاء (علیہم السلام) دل میں سوچتے ہیں کہ یا اللہ تیری نصرتیں کہاں ہیں ؟ تیری شفقتیں ، اور مہربانیاں کیوں جلوہ گر ہو کر ہم بےکسوں کی دستگیری نہیں کرتیں ؟ کیا ہمیں اذیتوں اور تکلیفوں کے…
Read the full tafseer →109 ۔ اور ہم نے آپ سے پہلے مختلف بستیوں کے رہنے والوں میں سے جس قدر پیغمبر بھیجے وہ سب آدمی ہی ہوتے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے سو یہ لوگ زمین میں کہیں چلے پھرے نہیں جو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کو جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں انجام کیسا ہو اور البتہ آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے بدرجہا بہتر ہے جو پرہیز گار اور صاحب تقویٰ ہیں سو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے ۔ یہ کفار کے اس اعراض کا جواب ہے کہ بشر کو کیوں رسول بنا کر بھیجا فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا ۔
مطلب یہ ہے کہ تمام بستیوں میں جو نبی اور صاحب وحی ہم نے بھیجے وہ سب کے سب مرد ہوتے تھے اور آدمیوں کی ہدایت کے لئے آدمیوں ہی کا…
Read the full tafseer →ف 8۔ خلاصہ یہ ہوا کہ میرا مقصود دعوی نبوت سے اپنا بندہ بنانا ہے لیکن اس کا طریق بذریعہ داعی من اللہ کے بتلایا جاتا ہے اس لیے میرا داعی ماننا جبکہ میرے پاس اس کی دلیل بھی ہے واجب ہے۔
1۔ کہ فانی کا اختیار کرنا بہتر ہے یا باقی کا اگر تم کو تاخیر عذاب ہے شبہ عدم وقوع کا ہوتا ہے تو تمہاری غلطی ہے اس لیے کفار امم سابقہ کو بھی بڑی بڑی مہلتیں دی گئی۔
Read the full tafseer →جب کوئی رسول آیا تو وہ انسان ہی تھا اور اسی قوم ہی میں سے تھا
۔ 127 نبی و رسول بنا کر سج کو بھی بھیجا گیا وہ بشر اور انسان ہی تھا۔ بشریت پیغمبری کے منافی ہو کیسے ممکن ہے ؟ بلکہ پیغمبر و رسول جو انسانوں کی راہنمائی کے لئے بھیجے گئے سارے کے سارے انسان ہی تو تھے اگر وہ انسان نہ ہوتے تو انسانوں کی طرف سے بالکل سیدھا اعتراض ہوتا کہ جو پابندیاں ہم پر لگائی جا رہی ہیں وہ محض اس لئے ہیں کہ ہمارا رسول اور پیغام دینے والا ان پابندیوں میں جکڑا ہوا نہیں ہے اور اگر وہ بھی کھاتا پیتا اور اس کے بھی بال بچے ہوتے اس کو بھی کما کر کھانا پڑتا اس کے ساتھ بھی دکھ سکھ اور مصائب و محن ہوتے تو وہ ہم کو ان پابندیوں…
Read the full tafseer →where it was said: وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ : It means that their thinking that it is an angel who should be the messenger and prophet of Allah and that a human being cannot occupy this station is baseless and ineffectual. Quite contrary to this, the case is just the reverse - that is, for human beings, a prophet of Allah has always been a human being. Nevertheless, he is distinct from human beings in general in that the Wahy and message of Allah Ta’ ala comes to him directly. It is never the outcome of an individual effort or…
Read the full tafseer →79. A very comprehensive subject has been condensed here into a couple of sentences, which may be expanded like this:“O Muhammad! these people do not listen to you because it is not an easy thing for them to believe you to be a Messenger of Allah just because you are a mere human being who was born in their own city among them and brought up like other people. But there is nothing strange in this. For this is not the first instance of its kind. All the Prophets, whom We sent before you, were also human beings and lived in the same habitations to which they were sent. It never happened that a…
Read the full tafseer →