دعوت وحدانیت
اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو جنہیں تمام جن و انس کی طرف بھیجا ہے، حکم دیتا ہے کہ لوگوں کو خبر کر دوں کہ میرا مسلک، میرا طریق، میری سنت یہ ہے کہ اللہ کی وحدانیت کی دعوت عام کر دوں۔ پورے یقین دلیل اور بصیرت کے ساتھ۔ میں اس طرف سب کو بلا رہا ہوں میرے جتنے پیرو ہیں، وہ بھی اسی طرف سب کو بلا رہے ہیں، شرعی، نقلی اور عقلی دلیلوں کے ساتھ اس طرف دعوت دیتے ہیں ہم اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں، اس کی تعظیم تقدیس، تسبیح تہلیل بیان کرتے ہیں، اسے شریک سے، نظیر سے، عدیل سے، وزیر سے، مشیر سے اور ہر طرح کی کمی اور کمزوری سے پاک مانتے ہیں، نہ اس کی اولاد مانیں، نہ بیوی، نہ ساتھی، نہ ہم جنس۔ وہ ان تمام…
Read the full tafseer →78۔ یعنی ان باتوں سے پاک جو اس کی طرف منسوب کی جارہی ہیں، ان نقائص اور کمزوریوں سے پاک جو ہر مشرکانہ عقیدے کی بنا پر لازما اس کی طرف منسوب ہوتی ہیں، ان عیوب اور خطاؤں اور برائیوں سے پاک جن کا اس کی طرف منسوب ہونا شرک کا منقطی نتیجہ ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ یعنی آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کہ (تم مانو یا نہ مانو) میرا تو یہی طریقہ اور مسلک ہے کہ لوگوں کو بصیرت اور یقین کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دیتا رہوں میں بھی اور وہ لوگ بھی جو میرا اتباع کرنے والے ہیں
مطلب یہ ہے کہ میری یہ دعوت کسی سرسری نظر پر مبنی نہیں بلکہ پوری بصیرت اور عقل و حکمت پر کا ثمرہ ہے اس دعوت و بصیرت میں رسول کریم ﷺ نے اپنے متبعین اور پیروؤں کو بھی شامل فرمایا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے مراد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم…
Read the full tafseer →قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ 7 عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۔
شرک سے اعلان براءت : ان کی تمام بیماریوں کی جڑ یہ شرک ہی تھا اس وجہ سے جب اس کا ذکر آگیا تو پیغمبر کی زبان سے پوری وضاحت کے ساتھ اس سے براءت کا اعلان کرادیا گیا۔ فرمایا ان سے کہہ دو کہ میری راہ یہ ہے۔ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت کے ساتھ، میں بھی اور وہ لوگ بھی جنہوں نے میری پیروی کی ہے یعنی جس طرح میں اللہ ہی کی طرف بلاتا ہوں اسی طرح میرے پیرو بھی اللہ ہی کی طرف بلاتے ہیں اور ہم سب اس بات میں حجت و بصیرت اور دلیل وبرہان کی پوری روشنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
18۔ 1 یعنی توحید کی راہ ہی میری راہ ہے بلکہ ہر پیغمبر کی راہ رہی ہے اسی کی طرف میں اور میرے پیروکار پورے یقین اور دلائل شرعی کے ساتھ لوگوں کو بلاتے ہیں۔
18۔ 2 یعنی میں اس کی تنزیہ و تقدیس بیان کرتا ہوں اس بات سے کہ اس کا کوئی شریک، نظیر، مثیل یا وزیر ومشیر یا اولاد اور بیوی ہو وہ ان تمام چیزوں سے پاک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–109
66: یہ کافروں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی فرشتہ ہمارے پاس رسول بنا کر کیوں نہیں بھیجا ؟
Read the full tafseer →آیت نمبر 108
ھذہ سبیلی ، “ یہ ہے میرا راستہ ”۔ یہ ایک راستہ ہے ، یہ سیدھا راستہ ہے ، اس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے ، اور اس کے احکام و قوانین میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔
ادعوا الی ۔۔۔۔۔۔ ومن اتبعنی “ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں ، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھ بھی ”۔ یعنی ہمیں اللہ کی راہنمائی حاصل ہے اور ہمیں اس کی طرف سے روشنی دی گئی ہے۔ ہمیں اپنا راستہ اچھی طرح معلوم ہے اور ہم بصیرت و بصارت کے ساتھ اس پر چل رہے ہیں۔ ہمیں بھٹکنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اور نہ کسی سے پوچھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہی راستہ ہے اسے ہم روشنی میں دیکھ بھی رہے ہیں۔ ہم اللہ کو ان…
Read the full tafseer →9 یعنی میرا راستہ یہ ہی خالص توحید کا راستہ ہے میں تمام دنیا کو دعوت دیتا ہوں کہ سب خیالات و اوہام کو چھوڑ کر ایک خدا کی طرف آئیں، اس کی توحید، اس کی صفات و کمالات اور اس کے احکام وغیرہ کی صحیح معرفت صحیح راستہ سے حاصل کریں۔ میں اور میرے ساتھی اس سیدھے راستہ پر، حجت وبرہان اور بصیرت و وجدان کی روشنی میں چل رہے ہیں۔ خدا نے مجھ کو ایک نور دیا جس سے سب ہمراہیوں کے دماغ روشن ہوگئے۔ یہاں کسی کی اندھی تقلید نہیں۔ خالص توحید کا راہرو ہر قدم پر اپنے باطن میں معرفت و بصیرت کی خاص روشنی اور عبودیت محضہ کی خاص لذت محسوس کر کے بےساختہ پکار اٹھتا ہے۔ (وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ )…
Read the full tafseer →آیت 108 قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ 7 عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ
یعنی میرا اس راستے کو اختیار کرنا اور پھر اس کی طرف لوگوں کو دعوت دینا یونہی کوئی اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے مترادف نہیں ہے بلکہ میں اپنی بصیرت باطنی کے ساتھ پوری سوجھ بوجھ اور پورے شعور کے ساتھ اس راستے پر خود بھی چل رہا ہوں اور اس راستے کی طرف دوسروں کو بھی بلا رہا ہوں۔ اسی طرح میرے پیروکار بھی کوئی اندھے بہرے مقلد نہیں ہیں بلکہ پورے شعور کے ساتھ میری پیروی کر رہے ہیں۔
آج کے دور میں اس شعوری ایمان کی بہت ضرورت ہے۔ اگرچہ blind faith بھی اپنی جگہ بہت قیمتی چیز ہے اور یہ بھی انسان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
102 نبی کی دعوت علی وجہ البصیرت :۔ یعنی میں جس راہ پر گامزن ہوں اور اس کی طرف دوسروں کو بلاتا ہوں تو سوچ سمجھ کر اور علی وجہ البصیرت چل رہا ہوں اور میرے پیرو کار بھی ایسے ہی ہیں۔ میں دلائل سے اور تجربہ سے ثابت کرسکتا ہوں کہ اللہ کے سوا دوسرے معبودان باطل نہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں نیز اس بات پر بھی میرا ضمیر پوری طرح مطمئن ہے کہ جو ہستی ہماری خالق ومالک اور رازق ہے۔ و ہی خالصتاً ہماری عبادت کی مستحق ہوسکتی ہے اگر اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک کیا جائے تو یہ انتہائی ناانصافی کی بات ہے۔ لہذا نہ میں مشرکوں کے کام کرنے کو تیار ہوں اور نہ میرے پیروکار۔
Read the full tafseer →192۔ اتنے سے فقرہ میں توحید و رسالت دونوں کا اثبات ہوگیا، (آیت) ” ھذہ “۔ یعنی یہی اثبات توحیدورسالت ویوم آخرت جن کا ذکر اوپر آچکا۔ یعنی الدعوۃ الی التوحید والا عداء للمعاد (بیضاوی) ھذہ الدعوۃ التی اعوا الیھا والطریقۃ التی انا علیھا (کبیر)
193۔ یعنی میں تو اصالۃ اور بالذات اور میرے پیرو میرے واسطہ سے اور میرے طفیل میں۔ (آیت) ” علی بصیرۃ “۔ سے اشارہ ہوگیا کہ اسلام کو رانہ تقلید کا نام نہیں بلکہ دین حق ایک ثابت شدہ مدلل حقیقت ہے، محققین نے لکھا ہے کہ آیت اس پر ناطق ہے کہ علم کلام اور علم اصول خاص پیغمبرانہ علم ہیں اور ان حضرات کی بعثت خلق کی جانب انہی علوم سے کام لینے کے لئے ہوتی ہے۔ وھذہ الایۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–111
آیت نمبر 105 تا 111
ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں خدا کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی بیشمار نشانیاں ہیں ان کو دیکھتے ہوئے منہ موڑ کر گذر جاتے ہیں ان میں غور و فکر نہیں کرتے اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان رکھنے یعنی اس کو خالق و رازق تسلیم کرنے کے باوجود بتوں کی بندگی کرکے مشرک ہیں اور یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے تلبیہ میں کہا کرتے تھے لبیک لاشریک لک الاشریکا ھو لک تملکہ وما ملک (ترجمہ) ہم تیرے حضور میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے کہ اس کا تو مالک ہے اور اس کا بھی تو مالک ہے جس کا وہ مالک ہے اور وہ الا شریکا سے اصنام مراد لیتے تھے، کیا وہ اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر…
Read the full tafseer →قل ھذہ سبیلی ادعو الی اللہ علی بصیرۃ انا ومن اتبعني وسبحن اللہ وما انا من المشرکین (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ یہ (توحید اور آخرت کی تیاری کی دعوت) میرا راستہ ہے میں (لوگوں کو) اللہ کی طرف بلاتا ہوں ‘ میں بھی دلیل پر قائم ہوں اور وہ لوگ بھی جو میرے پیرو ہیں اور اللہ (ہر طرح کے نقص اور) شرک سے پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔
سَبِیْلِیْ میرا طریقہ ‘ میرا راستہ۔ اَدًعُوْٓ اِلَی اللّٰہِ یہ سبیلی کی تشریح ہے ‘ یعنی میں اللہ کی ہستی اور اس کی توحید پر ایمان لانے اور ہر نامناسب وصف سے اس کو پاک سمجھنے اور اسی کے قرب کی طلب کرنے کی طرف لوگوں کو بلاتا ہوں۔ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ بصیرت سے مراد ہے :…
Read the full tafseer →(108) محمد ﷺ آپ ان اہل مکہ سے فرما دیجیے کہ ملت ابراہیمی ہی میرا طریق ہے میں لوگوں کو اللہ کی طرف اس طور پر بلاتا ہوں کہ میں دلیل اور دین خداوندی پر قائم ہوں، میں بھی اور میرے اوپر جو ایمان لائے وہ بھی اللہ کی طرف اس طور پر دعوت دیتے ہیں کہ وہ بھی دلیل اور دین خداوندی پر قائم ہیں اور اللہ تعالیٰ شریک اور اولاد سے پاک ہے اور میں مشرکین کے ساتھ نہیں ہوں۔
Read the full tafseer →قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ : لفظ ”سَبِیْلٌ“ مؤنث بھی آتا ہے، جیسا کہ یہاں ہے اور مذکر بھی، جیسا کہ فرمایا : (ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا) [ الأعراف : 146 ] معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کا راستہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت ہے، یعنی صرف اللہ کی عبادت اور اسی کے احکام کی اطاعت جو بذریعہ وحی رسول اللہ ﷺ پر اترے، اگر کوئی شخص اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کی دعوت دے، یا رسول اللہ ﷺ پر اللہ کی طرف سے اترنے والے احکام و مسائل کے بجائے کسی اور کی پیروی، مثلاً کسی امام یا پیر وغیرہ کی تقلید کی دعوت دے تو وہ نہ اللہ کی طرف دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
آیت نمبر 105 تا 108
قولہ تعالیٰ ۔ وکاین من اٰیۃ فی السٰوٰت الارض خلیل اور سیبویہ نے کہا : یہ ای ہے اس پر کاف تشبیہ کا داخل ہوا تو این بن گیا، یہاں یہ کم کے معنی میں ہے سورة آل عمران میں اس کے حوالے سے گفتگو گرزچ کی ہے اور السمٰوٰت والارض کے حوالے سے سورة بقرہ میں بحث گزر چکی ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ آیات گزشتہ امتوں کی سزاؤں کے آثار ہیں، یعنی وہ غافل تھے اور ان میں غور و فکر سے اعراض کرتے تھے۔ عکرمہ اور عمرو بن فائد نے والارض کو مرفوع پڑھا ہے اس صورت میں یہ مبتدا ہوگا اور اس کی خبر یمرون علیھا ہوگی۔ سدی نے فعل کو مضمر مانتے ہوئے والاض پڑھا ہے۔ ان دونوں قرأتوں کے مطابق وقف السمٰوٰت پر ہوگا۔ اور…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل ھذہ سبیلی “ یعنی میری دعوت ہے۔
2:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابن جریر اور ابوالشیخ (رح) سے روایت کیا کہ انس ؓ سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ (آیت ) ” قل ھذہ سبیلی “ یعنی میری نماز۔
3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن زیادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل ھذہ سبیلی “ سے مراد ہے کہ میرا حکم میرا طریقہ اور میرا راستہ۔
4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے راویت کیا کہ (آیت) ” علی بصیرۃ “ یعنی میں ہدایت پر ہوں (آیت) ” انا ومن اتبعنی “ (اور وہ بھی ہدایت پر ہے جو میری پیروی کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →[قُلْ : آپ (علیہ السلام) کہہ دیجئے ] [هٰذِهٖ : یہ ] [ سَبِيْلِيْٓ: میرا راستہ ہے [ اَدْعُوْٓا : میں بلاتا ہوں ] [ اِلَى اللّٰهِ : اللہ کی طرف ] [ عَلٰي بَصِيْرَةٍ : عام فہم دلیل (کی بنیاد) پر ] [ انا : میں (بھی)] [ وَمَنِ : اور وہ (بھی) جس نے ] [ اتَّبَعَنِيْ : پیروی کی میری ] [ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ : اور پاکی اللہ کی ہے ] [ وَمَآ انا : اور میں نہیں ہوں ] [ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ : شرک کرنے والوں میں سے ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 108 میں ومن اتبعنی میں صحابۂ کرام ؓ بھی شامل ہیں اور ہر وہ شخص شامل ہے جو قیامت تک رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو لوگوں تک پہنچانے کی خدمت میں مشغول ہو۔ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی پیروی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
آپ فرما دیجئے کہ یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں
اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم فرمایا ہے کہ آپ واضح طور پر لوگوں سے کہہ دیں اور کفار اور مشرکین کے سامنے اعلان فرما دیں کہ میں جس راہ پر ہوں یہ میرا راستہ ہے جو توحید کا راستہ ہے ‘ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور میری یہ دعوت پوری بصیرت کے ساتھ ہے اور نہ صرف یہ کہ میں بصیرت پر ہوں بلکہ جن لوگوں نے میرا اتباع کیا وہ بھی بصیرت پر ہیں اس میں یہ بتادیا کہ یہ میری دعوت حق ہے صحیح ہے سمجھ کر ہوش گوش کے ساتھ ہے ‘ میں اس کو چھوڑنے والا نہیں ہوں تم میری کیسی ہی مخالفت کرلو میں بہر حال اپنے عقیدہ اور عمل پر قائم ہوں ‘ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
خاتمہ سورت بر اثبات رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید منکرین وبیان حقانیت کتاب مبین
قال اللہ تعالیٰ ذلک من انبیاء الغیب نوحیہ الیک .... الیٰ .... وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون
(ربط) یہ سورت ان سائلین کے جواب میں نازل ہوئی جنہوں نے آپ ع صلی اللہ علیہ سے بغرض امتحان یوسف (علیہ السلام) کا قصہ دریافت کیا تھا اب خاتمہ سورت پر یہ بتلاتے ہیں کہ یہ قصہ آپ ﷺ کی نبوت کی کس طرح دلیل بنا چناچہ فرماتے ہیں کہ احسن القصص یعنی یوسف (علیہ السلام) کا قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کے علم کا سوائے وحی خداوندی کے کوئی ذریعہ نہیں ہم صرف وحی کے ذریعہ سے آپ ﷺ کو یہ قصہ بتلاتے ہیں اور یہ آپ ﷺ کی نبوت کی دلیل قاطع ہے کیونکہ آپ ﷺ تو امی…
Read the full tafseer →91:۔ یہ طریق تبلیغ ہے۔ ” ھٰذِہٖ “ یعنی دعوت توحید۔ ” اِدْعُوْا اِلَی اللہِ “” سَبِیْلِیْ “ کا بیان ہے۔ ” بَصِیْرَۃٍ “ دلیل و حجت یا یقین و اذعان یعنی یہ دعوت توحید ہی میری اصل راہ ہے۔ میں اور میرے تمام متبعین پورے شرح صدر کے ساتھ اور دلائل وبراہین کی روشنی میں اللہ کی توحید کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ ” وَ سُبْحٰنَ اللہِ “ ای واقول الخ۔ اور میں اعلان کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے پاد ہے اس لیے میں اس کے ساتھ ہرگز شرک کرنے کو تیار نہیں۔ ” ھذہ سبیلیھی توحید اللہ عز وجل و دین الاسلام۔ (اِلَی اللہِ ) یعنی الی توحید اللہ والایمان بہ (عَلَی بَصِیرَۃٍ ) یعنی علی یقین و معرفۃ “ (خازن ج 3 ص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
یوسف (علیہ السلام) کی تدفین
یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کا ذکر کیا انہوں نے نہایت عجز و انکساری کے ساتھ بارگاہ رب العزت میں درخواست کی کہ ان کی موت اسلام پر آئے وہ نیک لوگوں میں شامل ہوجائیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وفات کے تقریباً ربع صدی بعد یہ دعا کی تھی جبکہ آپ کا دل اس دنیا سے اچاٹ ہو کر آخرت کی طرف زیادہ راغب ہوچکا تھا۔ پھر جب آپ کی وفات ہوگئی تو تاریخی روایات کے مطابق آپ کو تابوت میں بند کر کے دریائے نیل کے بالائی علاقے میں دفن کردیا گیا مگر آپ کی وصیت یہ تھی کہ اگر بنی اسرائیل کو کسی وقت مصر سے نکلنا پڑے تو…
Read the full tafseer →قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ 7 عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ 108
سبل
السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15]
( س ب ل ) السبیل
۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
1 ؎ یمرون علیہا کا لفظی ان پر سے گزرنا ہے مگر مراد مشاہدہ کرنا ہے یعنی ہمارے آسمان اور زمین میں بیشمار نشان قدرت ہیں جن کو دیکھ کر ایمان نہیں لاتے بلکہ منہ پھیر لیتے ہیں اور توجہ نہیں کرتے 12 منہ
Read the full tafseer →قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِیْ ٓ اَدْعُوْ ٓا اِلَی اللّٰہِ قف عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ ط وَسُبْحٰنَ اللّٰہِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 108)
(کہہ دیجیے ! یہ ہے میری راہ، میں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں پوری بصیرت کے ساتھ۔ میں بھی اور وہ لوگ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے اور اللہ تعالیٰ پاک ہے اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں۔ )
میرا راستہ دعوت الی اللہ ہے، شرک نہیں
شرک کی مکمل تردید کے بعد آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ ﷺ اعلان کردیجیے کہ یہ ہے میرا راستہ جس میں شرک کی کوئی گنجائش نہیں۔ تم نے نہ جانے عقیدت کے رشتے کس کس سے باندھ رکھے ہیں لیکن میں صرف…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کے ایمان کی نفی کرنے کے بعد نبی اکرم ﷺ کی دعوت کی وضاحت اور آپ کے طریقہ دعوت کی تشریح پیش کی جاتی ہے۔
اے نبی ! آپ وضاحت فرمائیں کہ میرا راستہ اور میری دعوت لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا ہے۔ نہایت دانائی اور خدا دادبصیرت کے ساتھ یہی میرے متبعین کا راستہ اور دعوت ہے۔ ان کو بتادیں کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات کے حوالے سے ہر قسم کے شرک سے مبرا ہے اور ہم کسی طرح بھی مشرکین سے نہیں ہیں۔ اس آیت میں نبی اکرم ﷺ کی زبان اطہر سے کہلوایا گیا ہے کہ آپ خود یہ اعلان فرمائیں کہ میرا راستہ اور میری دعوت یہ ہے کہ میں لوگوں کو نہایت دانائی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →عقیدئہ توحید کا اعلان :
108: قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِیْ (کہہ دیں کہ یہ میرا راستہ ہے) یہ وہی راستہ ہے جس میں ایمان و توحید کی دعوت ہے۔ یہی میرا راستہ ہے۔ : السبیل اور الطریق یہ دونوں لفظ مذکر ومؤنث استعمال ہوتے ہیں۔ پھر سبیل کی تفسیر اس طرح فرمائی۔ اَدْعُوْا اِلَی اللّٰہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ (میں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہوں بصیرت کے ساتھ) واضح دلیل کے ساتھ میں اس کے دین کی طرف دعوت دیتا ہوں اندھے پن کے ساتھ نہیں۔
اَنَا (میں) یہ ادعوا کی ضمیر مستتر کی تاکید ہے۔ وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ (اور جس نے میری پیروی کی) اس کا عطف انا پر ہے) تقدیر عبارت یہ ہے ادعوا الی سبیل اللّٰہ اناوید عوا الیہ من اتبعنی کہ…
Read the full tafseer →108۔” قال ھذہ سبیلی “ میری سنت اور میراطریقہ ۔” ادعوا الی اللہ علی بصیرہ “ یقین پر ۔ بصیرت ایسی معرفت جس کے ذریعے حق اور باطل کی تمیز ہوجائے۔ ” انا ومن اتبغی “ جو مجھ پر ایمان لایا اور میری تصدیق کی وہ بھی اللہ کی طرف بلاتا ہے۔ یہ کلبی اور ابن زید رحمہما اللہ کا قول ہے۔ فرمایا کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کی اتباع کرتا ہے اس پر حق ہے کہ اس کی طرف بلائے جس طرف نبی کریم ﷺ نے بلایا اور بعض نے کہا ہے کہ ” کلام ادعوا الی اللہ “ پر مکمل ہوچکی ہے۔” علی بصیرۃ انا ومن اتبعنی “ یہ نئی کلام ہے۔
میں اپنے رب کی طرف سے بصیرت پر ہوں اور میرے متبعین بھی ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ…
Read the full tafseer →108۔ اس آیت میں اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ آپ لوگوں سے کہہ دیں ہمارا طریقہ اور جس راہ پر ہم ہیں وہ یہ ہے کہ ہم مخلوق خدا کو اس بات کی نصیحت کردیں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے دونوں جہان میں اسی کی خدائی ہے سارے آسمان اور تمام روئے زمین دریا سمندر پر اسی کا قبضہ و دخل ہے کوئی اس کے کسی صنعت میں ذرہ برابر شریک نہیں ہے۔ عبادت بھی اسی کو زیبا ہے اور میں جو کسی کو اس راہ پر بلاتا ہوں تو یقین اور سند کی راہ سے میرا بلانا اس راہ کی طرف ہے۔ بےدلیل نہیں مجھے خدا نے اس کی سوجھ عطا کی ہے اور اس بات کی ہدایت دی ہے اور جو شخص ہمارا پیرو ہو وہ بھی جس کسی کو اس راہ کی طرف بلاتا ہے تو دلیل…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (آیت) ’‘(لوگوں سے) کہہ دیجیے ! “ (آیت) ” یہ میرا راستہ ہے “ جس کی طرف میں دعوت دیتا ہوں، یہ راستہ اللہ تعالیٰ اور اس کے کرامت کے گھر تک پہنچاتا ہے جو علم حق، اس پر عمل کرنے، اس کو ترجیح دینے اور اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص دین کو متضمن ہے۔ (آیت) ” میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں “ یعنی میں تمام مخلوق اور تمام بندوں کو اپنے رب کے پاس پہنچنے پر آمادہ کرتا ہوں اور انہیں اس کی ترغیب دیتا ہوں اور انہیں ان تمام امور سے ڈراتا ہوں جو انہیں اللہ تعالیٰ سے دور کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ (آیت) ” سمجھ بوجھ کر “ یعنی میں اپنے دین کے بارے میں بغیر کسی شک و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
قول باری ہے (قل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہ علی بصیرۃ انا و من اتبعنی تم ان سے صاف کہہ دو کہ ” میرا راستہ تو یہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی) آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کی بعثت لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کے لئے ہوئی ہے نیز آپ خود بھی اس راستے پر پوری بصیرت کے ساتھ چل رہے ہیں کہ گویا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں نیز آپ کے متبعین بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہے ہیں اللہ کی طرف لوگوں کو بلانے کے لئے آپ کا یہی طریق کار ہے۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ اہل ایمان پر لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کی اسی طرح ذمہ داری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
172۔ غافلوں کے لیے ایک تنبیہ وتہدید :
سو اللہ کے عذاب سے نڈر اور بےخوف ہوجانے والوں کے لیے اندار اور تنبیہ وتہدید کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا پھر بھی یہ لوگ نڈر اور بےخوف ہوگئے ہیں اس بات سے کہ آدبوچے ان کو اللہ کے عذاب سے کوئی ایسی آفت جو چھا جائے ان سب پر ہر طرف سے۔ یا آپہنچے ان پر قیامت کی وہ گھڑی ایسی اچانک کہ ان کو خبرتک نہ ہو۔ یعنی ان میں سے کوئی بھی صورت وقوع پذیرہوسکتی ہے ؟۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس سے ایسے مشرکوں سے انذاز اور تنبیہ کے طور پر یہ سوال کیا گیا کہ یہ لوگ نڈر اور بےخوف ہوگئے اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت وپکڑ سے ؟ یعنی ایسے لوگ اپنی غفلت و جہالت کی وجہ سے اور اپنے ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
اللہ، رسول اور قرآن کی سچائی کا ثبوت
تشریح : سورة یوسف کا قصہ پچھلے گیارہ رکوعوں میں ختم ہوگیا ہے۔ اس سورت کا شان نزول یہی تھا کہ اہل قریش جو آپ پر ایمان نہ لانا چاہتے تھے انہوں نے آپ کو آزمانے کے لیے کہا کہ اچھا اگر آپ رسول ہو تو بتائو کہ بنی اسرائیل کس طرح مصر میں آباد ہوئے ؟ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا پورا قصہ بتا دیا جس میں بیشمار نصیحت کی باتیں ہیں اور اس کا ثبوت اور وجوہات بھی بڑی تفصیل سے بتا دی گئی ہیں کہ بنی اسرائیل کس طرح اور کب مصر میں پہنچے۔ یہ سوال اہل قریش نے اس لیے نہیں کیا تھا کہ معقول جواب ملنے پر وہ سب ایمان لے آئیں گے بلکہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–111
آیات 105 تا 111
اسرار ومعاف
اگریہ لوگ نہیں مان رہیتو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ارض وسما میں بیشمار چیزیں اللہ کی عظمت پہ گواہی دے رہی ہیں اور زمین کا ذرہ ذرہ یا ہر ہر تنکا اور پھول پتہ اس کی عظمت کی دلیل ہے یا پھر پہلے لوگوں کی تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈر بھی کفر اور گناہ کے انجام کی خبر دے رہے ہیں اور ان لوگوں کو شب وروز انہی اشیاء سے واسطہ بھی پڑتا ہے ۔ ایسی ہی جگہوں سے ان کا گزر بھی ہوتا ہے مگر اس بات کی طرف ان کا دھیان ہی نہیں جاتا بلکہ عقلا عاجز ہو کر اللہ کی ذات کا اقرار بھی کرتے ہیں تو ساتھ بہت سے اوصاف میں دوسروں کو شریک کرکے گرفتار بلاہوجاتے ہیں ۔ اور یہ تو ایسے بےفکر ہیں کہ اسی…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ یعنی وہ بھی لوگوں کو دیل کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ معلوم ہوا کہ جو شخص نبی ﷺ کی پیروی کرتا ہے اسے چاہیے کہ دعوت توحید و اصلاح میں آنحضرت کے نقش قدم پر چلے۔
Read the full tafseer →(12:108) ھذہ سبیلی ۔ میرا طریق یہی ہے۔ ای الدعوۃ الی التوحید۔ توحید کی دعوت ۔
ادعوا۔ مضارع واحد متکلم ۔ دعوۃ سے۔ میں بلاتا ہوں۔
بصیرۃ۔ دلیل۔ سمجھ۔ بینائی۔ یہاں بمعنی دلیل ہے۔
ادعوا الی اللہ علی بصیرۃ انا ومن اتبعنی ۔ میں علی بصیرۃ۔ جار مجرور مل کر حال ہے۔ ادعوا کی ضمیر واحد متکلم کا۔ انا ضمیر واحد متکلم کی تاکید میں ہے اور ومن اتبعنی۔ ذوالحال پر عطف ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور میں اور وہ جو میری پیروی کرنے والا ہے ایک واضح دلیل پر ہیں۔ یعنی اس راہ پر علیٰ وجہ البصیرت قائم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
لغات القرآن آیت نمبر 105 تا 108
کاین کتنے ہی کتنی ہی، ایۃ نشانی یمرون وہ گذرتے ہیں معرضون وہ منہ پھیرنے والے ہیں ان تاتی یہ کہ آجائے غاشیۃ ڈھانپ لینے والی ، آفت الساعۃ قیامت، گھڑی بغتہ اچانک لایشعرون وہ شعور نہیں رکھتے ہیں سبیلی میرا راستہ ادعوا میں بلاتا ہوا بصیرۃ دیکھ بھال کر، غور و فکر انا میں اتبعنی میری اتباع کی، میرے پیچھے چلے سبحن پاک ذات، بےعیب ذات
تشریح آیت نمبر 105 تا 108
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر ہر انسان کو غور و فکر اور تدبر کرنے پر زور دے کر فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے کائنات میں قدم قدم پر اپنی اتنی نشانیاں بکھیر دی ہیں کہ اگر انسان ان پر ذرا بھی غور کرے تو اللہ کی ذات وصفات…
Read the full tafseer →اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ آپ لوگوں سے کہ دیں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے دونوں جہان میں اس کی خدائی ہے عبادت بھی اسی کی زیبا ہے میں جو کسی کو اس راہ پر بلاتا ہوں تو یقین اور سند کی راہ سے اور بےدلیل نہیں ہے۔ مجھے خدا نے اس بات کی ہدایت دی ہے اور جو شخص ہمارا پیرو ہو وہ بھی جس کسی کو اس راہ کی طرف بلاتا ہے تو دلیل سے قائل کرکے بلاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
[37] یعنی لوگوں نے گمان کیا کہ رسولوں نے انھیں جو عذاب کے ڈراوے دئیے تھے وہ جھوٹے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–108
اہل حق کا مسلک :
(ف 1) علی بصیرۃ سے مراد یہ ہے کہ پیغمبر اور اس کے ماننے والوں کا مسلک دلیل اور برہان پر مبنی ہوتا ہے ، وہ جن چیزوں پر اعتقاد رکھتے ہیں ، ان کو خوب سمجھتے اور جانتے ہیں وہ دنیا میں بصیرت و دانش کی تبلیغ کے لئے تشریف لاتے ہیں ، اور دماغوں سے جہل ونادانی اور تقلید آباء کے زنگاروں کو یک قلم دور کردیتے ہیں ، اس لئے ان سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے ، کہ خود ان کے اپنے پاس دلیل وعقل کی روشنی نہ ہوگی ، اسلام تو نام ہی عقل و فکری بالیدگی کا ہے ، اس کے کشت زار ہدایت میں تقلید وجہل کا زقوم کبھی پیدا نہیں ہوتا ، اور نہ مسلمان بےعقلی کی باتوں کو تسلیم کرتا ہے ۔
حل لغات :
غاشیۃ : ڈھانپ لینے…
Read the full tafseer →108 ۔ اے پیغمبر آپ ان سے کہہ دیجئے میری راہ تو یہی ہے کہ میں پوری بصیرت اور سمجھ بوجھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسکی طرف دعوت دیتا ہوں اور اس کی طرف سب کو بلاتا ہوں میں بھی یہ دعوت دیتا ہوں اور میرے پیرو بھی اور اللہ تعالیٰ پاک اور ہر عیب سے منزہ ہے اور میں شرک کرنیوالوں میں سے نہیں ہوں ۔ میرا طریق یہی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اپنے داعی اور رسول ہونے پر پوری حجت وبراہین اور بصیرت وجدان کے ساتھ قائم ہوں تمام دنیا کو میں اور میری پیروی کرنے والے اس صحیح راستے کی دعوت دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر عیب سے منزہ اور مبرا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی میرے پاس بھی دلیل ہے توحید و رسالت کی اور میرے ساتھ والے بھی استدلال کے ساتھ مجھ پر ایمان لائے ہیں میں بےدلیل بات کی طرف کسی کو نہیں بلاتا لہذا دلیل سنو اور سمجھو۔ حاصل طریق یہ ہوا کہ خدا واحد ہے اور میں داعی ہوں۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! اپنی راہ کی وضاحت فرما دو کہ میری دعوت خالصتاً توحید کی دعوت ہے
۔ 126 زیر نظر آیت میں فرمایا گیا کہ اے پیغمبر اسلام ! تم اعلان کر دو میری راہ یہ ہے کہ میں علم و یقین کی بنا پر خدا پرستی کی دعوت دیتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ میری راہ شرک کرنے والوں کی راہ نہیں ہے۔ برخلاف اس کے تمہارا حال یہ ہے کہ شرک کے داعی ہو اور بنیاد دعوت علم و یقین پر نہیں ہے۔ جہل و ظن پر ہے اب فیصلہ اللہ کے ہاتھ ہے اور ایسے ہی فیصلے پچھلی قوموں کے لئے بھی ہوچکے ہیں۔
یہاں ” بصیرۃ “ کا لفظ فرمایا بصیرۃ کے معنی علم ، معرفت اور یقین کے ہیں اور اسی لئے دلیل و حجت پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے پس قرآن کریم کہتا…
Read the full tafseer →In verse 108, the Holy Prophet has been asked to state his position before these people:
قُلْ هَـٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّـهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ۖ وَسُبْحَانَ اللَّـهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ
"Say, (you believe it or not) 'This is my way. I call (people) to Allah with full cognition - myself and my followers. And pure is Allah. And I am not among the associators - 108."
It means that the da'wah of the Holy Prophet ﷺ is not based on some summary view of things, instead, it is the outcome of insight, reason and wisdom. In this act of ` full…
Read the full tafseer →78. That is, Allah is absolutely free from such things that are ascribed to Him: He is free from the weaknesses and shortcomings which every believer in shirk ascribes to Him; He is free from all defects, evils and errors that must necessarily be ascribed to Him as a logical result of the conception of God hold by mushriks.
Read the full tafseer →