Explained with ayahs 105–107
بیان ہو رہا ہے قدرت کی بہت سی نشانیاں، وحدانیت کی بہت سے گواہیاں، دن رات ان کے سامنے ہیں، پھر بھی اکثر لوگ نہایت بےپرواہی اور سبک سری سے ان میں کبھی غور وفکر نہیں کرتے۔ کیا یہ اتنا وسیع آسمان، کیا یہ اس قدر پھیلی ہوئی، زمین، کیا یہ روشن ستارے یہ گردش والا سورج، چاند، یہ درخت اور یہ پہاڑ، یہ کھیتیاں اور سبزیاں، یہ تلاطم برپا کرنے والے سمندر، یہ بزور چلنے والی ہوائیں، یہ مختلف قسم کے رنگا رنگ میوے، یہ الگ الگ غلے اور قدرت کی بیشمار نشانیاں ایک عقل مند کو اس قدر بھی کام نہیں آسکتیں ؟ کہ وہ ان سے اپنے اللہ کی جو احد ہے، صمد ہے، فرد ہے، واحد ہے، لا شریک ہے، قادر وقیوم ہے، باقی اور کافی ہے اس ذات…
Read the full tafseer →77۔ اس سے مقصود لوگوں کو چونکانا ہے کہ فرصت زندگی کو دراز سمجھ کر اور حال کے امن کو دائم خیال کر کے فکر مآل کو کسی آنے والے وقت پر نہ ٹالو، کسی انسان کے پاس بھی اس امر کے لیے کوئی ضمانت نہیں ہے کہ اس کی مہلت حیات فلاں وقت تک یقینا باقی رہے گی، کوئی نہیں جانتا کہ کب اچانک اس کی گرفتاری ہوجاتی ہے اور کہاں سے کس حال میں وہ پکڑ بلایا جاتا ہے، تمہارا شب و روز کا تجربہ ہے کہ پردہ مستقبل ایک لمحہ پہلے بھی خبر نہیں دیتا کہ اس کے اندر تمہارے لیے کیا چھپا ہوا ہے، لہذا کچھ فکر کرنی ہے تو ابھی کو لر زندگی کی جس راہ پر چلے جارہے ہو اس میں آگے بڑھنے سے پہلے ذرا ٹھہر کر سوچ لو کہ کیا یہ راستہ ٹھیک ہے ؟ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
فرمایا
(آیت) وَمَا يُؤ ْمِنُ اَكْثَرُهُمْ باللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ یعنی ان میں جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان بھی لاتے ہیں تو وہ بھی شرک کے ساتھ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت وغیرہ اوصاف میں دوسروں کو شریک ٹھراتے ہیں جو سراسر ظلم اور جہل ہے
ابن کثیر نے فرمایا کہ اس آیت کے مفہوم میں وہ مسلمان بھی داخل ہیں جو ایمان کے باوجود مختلف قسم کے شرک میں مبتلا ہیں مسند احمد میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تم پر جس چیز کا خطرہ ہے ان میں سب سے زیادہ خطرناک شرک اصغر ہے صحابہ کے دریافت کرنے پر فرمایا کہ ریاء شرک اصغر ہے اسی طرح ایک حدیث میں غیر اللہ کی قسم کھانے کو شرک فرمایا ہے (ابن کثیر…
Read the full tafseer →اَفَاَمِنُوْٓا اَنْ تَاْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۔
یہ سوال انذار و تنبیہ کے لیے ہے کہ کیا وہ اپنے شرکاء اور شفعاء پر اعتماد کر کے اس بات سے نچنت ہو بیٹھے ہیں کہ ان پر عذاب الٰہی کی کوئی ایسی آفت آئے جو ان سب کو اپنے لپیٹ میں لے لے یا قیامت ہی اچانک آدھمکے۔ اور ان کو اس کی کوئی خبر بھی نہ ہو ؟ مطلب یہ کہ اگر یہ چیز ہے تو بس ان کی شامت ہی آئی ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
18۔ 1 یعنی توحید کی راہ ہی میری راہ ہے بلکہ ہر پیغمبر کی راہ رہی ہے اسی کی طرف میں اور میرے پیروکار پورے یقین اور دلائل شرعی کے ساتھ لوگوں کو بلاتے ہیں۔
18۔ 2 یعنی میں اس کی تنزیہ و تقدیس بیان کرتا ہوں اس بات سے کہ اس کا کوئی شریک، نظیر، مثیل یا وزیر ومشیر یا اولاد اور بیوی ہو وہ ان تمام چیزوں سے پاک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–109
66: یہ کافروں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی فرشتہ ہمارے پاس رسول بنا کر کیوں نہیں بھیجا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
آیت نمبر 103 تا 107
رسول اللہ ﷺ بڑی شدت کے ساتھ یہ چاہتے تھے کہ آپ کی قوم ایمان لے آئے۔ آپ چاہتے تھے کہ آپ جو بھلائی لے کر آئے ہیں وہ ان تک پہنچ جائے اور وہ محروم بھی نہ رہیں ، نیز آپ کو اپنی برادری پر ترس آ رہا تھا کہ اگر وہ شرک کی حالت پر ہی رہے تو دنیا میں بھی ان کو روز بد دیکھنا ہوگا اور آخرت میں وہ دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ تو انسانی دلوں کے بہت ہی قریب ہے ، وہ علیم وخبیر ہے۔ وہ انسانوں کے مزاج اور ان کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ کو بتلایا جاتا ہے کہ آپ کی یہ حرص اور یہ شدید خواہش ان کو اسلام کی طرف راغب نہ کرسکے گی ، اور ان میں سے اکثر مشرک ہی…
Read the full tafseer →8 یعنی ایسے بےفکر و بےخوف کیوں ہو رہے ہیں۔ کیا انہوں نے عذاب الٰہی یا قیامت کے ہولناک حوادث سے محفوظ رہنے کا کچھ انتطام کرلیا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
آیت 106 وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ باللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ
یہ آیت ہمارے لیے بہت زیادہ لائق توجہ ہے اور ہم سب کو اس پر بہت غور وخوض کرنے کی ضرورت ہے۔ شرک کا معاملہ ان لوگوں کا تو بالکل واضح ہے جو ایک اللہ کے ساتھ بیشمار دوسرے معبودوں پر ایمان رکھتے ہیں اور مختلف ناموں سے ان کی پوجا کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ خود کو موحد سمجھتے ہیں اور اپنے خیال میں وہ امکانی حد تک موحد ہوتے بھی ہیں ‘ بسا اوقات غیر شعوری طور پر وہ بھی کسی نہ کسی نوع کے شرک میں ملوث ہوجاتے ہیں۔ اس صورت حال کو سمجھنے کے لیے بڑی گہری بصیرت کی ضرورت ہے ‘ اور ایسی بصیرت اور ایسا علم حاصل کرنا ہر صاحب شعور مسلمان پر فرض ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
102 نبی کی دعوت علی وجہ البصیرت :۔ یعنی میں جس راہ پر گامزن ہوں اور اس کی طرف دوسروں کو بلاتا ہوں تو سوچ سمجھ کر اور علی وجہ البصیرت چل رہا ہوں اور میرے پیرو کار بھی ایسے ہی ہیں۔ میں دلائل سے اور تجربہ سے ثابت کرسکتا ہوں کہ اللہ کے سوا دوسرے معبودان باطل نہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں نیز اس بات پر بھی میرا ضمیر پوری طرح مطمئن ہے کہ جو ہستی ہماری خالق ومالک اور رازق ہے۔ و ہی خالصتاً ہماری عبادت کی مستحق ہوسکتی ہے اگر اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک کیا جائے تو یہ انتہائی ناانصافی کی بات ہے۔ لہذا نہ میں مشرکوں کے کام کرنے کو تیار ہوں اور نہ میرے پیروکار۔
Read the full tafseer →191۔ مطلب یہ ہے کہ ہر کفر فی نفسہ سزا و عقوبت کا مستحق ومستوجب ہے، خواہ فورا خواہ بتا خیر لیکن یہ شامت زدہ وآخرت فراموش نفس سزا ہی کی طرف سے غافل اور بےفکر پڑے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–111
آیت نمبر 105 تا 111
ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں خدا کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی بیشمار نشانیاں ہیں ان کو دیکھتے ہوئے منہ موڑ کر گذر جاتے ہیں ان میں غور و فکر نہیں کرتے اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان رکھنے یعنی اس کو خالق و رازق تسلیم کرنے کے باوجود بتوں کی بندگی کرکے مشرک ہیں اور یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے تلبیہ میں کہا کرتے تھے لبیک لاشریک لک الاشریکا ھو لک تملکہ وما ملک (ترجمہ) ہم تیرے حضور میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے کہ اس کا تو مالک ہے اور اس کا بھی تو مالک ہے جس کا وہ مالک ہے اور وہ الا شریکا سے اصنام مراد لیتے تھے، کیا وہ اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر…
Read the full tafseer →افامنوا ان یاتیھم غاشیۃ من عذاب اللہ او تاتیھم الساعۃ بغتۃ وھم لا یشعرون سو کیا پھر بھی ان کو اس بات کا خوف نہیں کہ اللہ کے عذاب کی کوئی آفت ان پر آپڑے جو ان کو گھیر لے یا اچانک ان پر قیامت آجائے اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔ یعنی کیا یہ اپنے رب کو بھول گئے اور مطمئن ہوگئے کہ کوئی چھا جانے والا عذاب خداوندی ان پر آجائے۔ قتادہ نے غاشِیَۃ کا ترجمہ کیا : پڑنے والی آفت اور ضحاک نے کہا : اس سے مراد ہیں : آسمانی بجلیاں اور غیبی حوادث۔ بَغْتَۃً اچانک ‘ جس کی پہلے سے نہ کوئی علامت ہو ‘ نہ علم ‘ نہ وقت معین ہو۔ وَھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ اور وہ بیخبر ہوں ‘ اس کیلئے تیار بھی نہ ہوں۔ اَفَاَمَنُوْا میں استفہام…
Read the full tafseer →(107) کیا پھر بھی مکہ والے اس بات سے مطمئن بیٹھے ہیں کہ بدر کی طرح عذاب الہی میں سے کوئی عذاب ان پر نازل ہو یا ان پر اچانک عذاب قیامت آپڑے اور ان کو اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہو۔
Read the full tafseer →اَفَاَمِنُوْٓا اَنْ تَاْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ۔۔ : ”غَشِیَ یَغْشٰی غَشْیًا وَ غَشَیَانًا“ ہر جانب سے گھیر لینا، ڈھانک لینا، جیسے فرمایا : (وَاِذَا غَشِيَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ) [ لقمان : 32 ] ”اور جب انھیں سائبانوں جیسی عظیم موج ڈھانک لیتی ہے۔“ غاشیہ وہ حادثہ جو چاروں طرف سے گھیر لے۔ عرب ایسے حوادث کو مؤنث ہی استعمال کرتے ہیں، مثلاً ”اَلطَّامَّۃُ ، اَلصَّاخَّۃُ ، اَلدَّاھِیَۃُ ، اَلْمُصِیْبَۃُ ، اَلْکَارِثَۃُ ، اَلْحَادِثَۃُ ، اَلْوَاقِعَۃُ ، اَلْحَآقَّۃُ“ اس آیت میں مشرکین کے لیے سخت وعید ہے کہ کچھ بعید نہیں کہ کسی بھی وقت ان پر ہر طرف سے گھیرنے والا عذاب آجائے، مثلاً زلزلہ، طاعون، سیلاب اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
آیت نمبر 105 تا 108
قولہ تعالیٰ ۔ وکاین من اٰیۃ فی السٰوٰت الارض خلیل اور سیبویہ نے کہا : یہ ای ہے اس پر کاف تشبیہ کا داخل ہوا تو این بن گیا، یہاں یہ کم کے معنی میں ہے سورة آل عمران میں اس کے حوالے سے گفتگو گرزچ کی ہے اور السمٰوٰت والارض کے حوالے سے سورة بقرہ میں بحث گزر چکی ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ آیات گزشتہ امتوں کی سزاؤں کے آثار ہیں، یعنی وہ غافل تھے اور ان میں غور و فکر سے اعراض کرتے تھے۔ عکرمہ اور عمرو بن فائد نے والارض کو مرفوع پڑھا ہے اس صورت میں یہ مبتدا ہوگا اور اس کی خبر یمرون علیھا ہوگی۔ سدی نے فعل کو مضمر مانتے ہوئے والاض پڑھا ہے۔ ان دونوں قرأتوں کے مطابق وقف السمٰوٰت پر ہوگا۔ اور…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” غاشیۃ من عذاب اللہ “ سے مراد ہے کہ اللہ کا عذاب ان کو ڈھانک لے گا۔
2:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” غاشیۃ من عذاب اللہ “ سے مراد ہے عذاب واقع ہونے والا جو ان کو ڈھانک لے گا۔
3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” غاشیۃ “ سے مراد ہے ایسی سزا جو ان پر چھاجائے۔
Read the full tafseer →[اَفَاَمِنُوْٓا : تو کیا وہ لوگ امن میں ہوگئے ] [ ان : (اس سے) کہ ] [تَاْتِيَهُمْ : پہنچے ان کے پاس ] [ غَاشِيَةٌ: کوئی چھا جانے والے (آفت)] [ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ : اللہ کے عذاب میں سے ] [اَوْ : یا ] [تَاْتِيَهُمُ : پہنچے ان کے پاس ] [السَّاعَةُ : وہ گھڑی (یعنی قیامت)] [ بَغْتَةً : ہے گمان ] [وَّ : اس حال میں کہ ] [هُمْ : وہ لوگ ] [ لَا يَشْعُرُوْنَ : شعور نہ رکھتے ہوں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
آپ فرما دیجئے کہ یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں
اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم فرمایا ہے کہ آپ واضح طور پر لوگوں سے کہہ دیں اور کفار اور مشرکین کے سامنے اعلان فرما دیں کہ میں جس راہ پر ہوں یہ میرا راستہ ہے جو توحید کا راستہ ہے ‘ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور میری یہ دعوت پوری بصیرت کے ساتھ ہے اور نہ صرف یہ کہ میں بصیرت پر ہوں بلکہ جن لوگوں نے میرا اتباع کیا وہ بھی بصیرت پر ہیں اس میں یہ بتادیا کہ یہ میری دعوت حق ہے صحیح ہے سمجھ کر ہوش گوش کے ساتھ ہے ‘ میں اس کو چھوڑنے والا نہیں ہوں تم میری کیسی ہی مخالفت کرلو میں بہر حال اپنے عقیدہ اور عمل پر قائم ہوں ‘ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
خاتمہ سورت بر اثبات رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید منکرین وبیان حقانیت کتاب مبین
قال اللہ تعالیٰ ذلک من انبیاء الغیب نوحیہ الیک .... الیٰ .... وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون
(ربط) یہ سورت ان سائلین کے جواب میں نازل ہوئی جنہوں نے آپ ع صلی اللہ علیہ سے بغرض امتحان یوسف (علیہ السلام) کا قصہ دریافت کیا تھا اب خاتمہ سورت پر یہ بتلاتے ہیں کہ یہ قصہ آپ ﷺ کی نبوت کی کس طرح دلیل بنا چناچہ فرماتے ہیں کہ احسن القصص یعنی یوسف (علیہ السلام) کا قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کے علم کا سوائے وحی خداوندی کے کوئی ذریعہ نہیں ہم صرف وحی کے ذریعہ سے آپ ﷺ کو یہ قصہ بتلاتے ہیں اور یہ آپ ﷺ کی نبوت کی دلیل قاطع ہے کیونکہ آپ ﷺ تو امی…
Read the full tafseer →90:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کی توحید سے اس قدر غافل اور معرض ہیں کہ انہیں اس بات کا کوئی اندیشہ ہی نہیں کہ کہیں اچانک ہی اللہ کا عذاب انہیں گھیر لے یا اچانک ہی قیامت برپا ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
یوسف (علیہ السلام) کی تدفین
یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کا ذکر کیا انہوں نے نہایت عجز و انکساری کے ساتھ بارگاہ رب العزت میں درخواست کی کہ ان کی موت اسلام پر آئے وہ نیک لوگوں میں شامل ہوجائیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وفات کے تقریباً ربع صدی بعد یہ دعا کی تھی جبکہ آپ کا دل اس دنیا سے اچاٹ ہو کر آخرت کی طرف زیادہ راغب ہوچکا تھا۔ پھر جب آپ کی وفات ہوگئی تو تاریخی روایات کے مطابق آپ کو تابوت میں بند کر کے دریائے نیل کے بالائی علاقے میں دفن کردیا گیا مگر آپ کی وصیت یہ تھی کہ اگر بنی اسرائیل کو کسی وقت مصر سے نکلنا پڑے تو…
Read the full tafseer →اَفَاَمِنُوْٓا اَنْ تَاْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ 107
غشي
غَشِيَهُ غِشَاوَةً وغِشَاءً : أتاه إتيان ما قد غَشِيَهُ ، أي : ستره . والْغِشَاوَةُ : ما يغطّى به الشیء، قال : وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23]
( غ ش و ) غشیۃ غشاوۃ وغشاء
اس کے پاس اس چیز کی طرح آیا جو اسے چھپائے غشاوۃ ( اسم ) پر دہ جس سے کوئی چیز ڈھانپ دی جائے قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23] اور اس کی آنکھوں پر پر دہ ڈال دیا ۔
عذب
والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
1 ؎ یمرون علیہا کا لفظی ان پر سے گزرنا ہے مگر مراد مشاہدہ کرنا ہے یعنی ہمارے آسمان اور زمین میں بیشمار نشان قدرت ہیں جن کو دیکھ کر ایمان نہیں لاتے بلکہ منہ پھیر لیتے ہیں اور توجہ نہیں کرتے 12 منہ
Read the full tafseer →اَفَاَمِنُوْٓا اَنْ تَاْ تِیَھُمْ غَاشِیَۃٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰہِ اَوْتَاْ تِیَہُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً وَّھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 107)
(کیا یہ مطمئن ہیں کہ خدا کے عذاب کی کوئی آفت انھیں دبوچ نہ لے گی یا قیامت ان پر اچانک نہ آجائے گی اور وہ اس سے بالکل بیخبر ہوں۔ )
کو تاہی فکر انجام سے بےپروائی
اس آیت کریمہ میں معلوم ہوتا ہے کہ دو باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، ایک تو یہ کہ یہ لوگ اپنے شرکاء اور شفعاء پر اس حد تک بھروسہ کرچکے ہیں کہ انھیں اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں کہ اچانک ان پر عذاب آدھمکے یا قیامت آجائے، کوئی سی بھی صورت ہو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جن کے دامن گرفتہ ہیں اور جن سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں نے اہل مکہ کو جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے اس لیے سوال کرنے کو کہا کہ اگر آپ حقیقتاً نبی ہیں تو جواب دے پائیں گے۔ بصورت دیگر جھوٹے ثابت ہوں گے۔ اس واقعہ کا اختتام اس بات پر کیا جارہا ہے کہ یہ واقعہ ہی عبرت کی نشانی نہیں بلکہ زمین و آسمان اور آفاق میں بیشمار نشانیاں ان کے لیے موجود ہیں۔ جنہیں دیکھ کر یہ لوگ رب کی ذات کا اقرار کرتے ہیں۔ مگر رب ماننے کے باوجود اسے ایک الٰہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
نبی اکرم ﷺ کے مخالفین میں بالخصوص مشرکین مکہ کی حالت یہ تھی کہ پہلے وہ آپ ﷺ سے دلیل مانگتے جب انھیں دلیل دی جاتی، پھر اس سے یکسر اعراض کردیتے…
Read the full tafseer →107: اَفَاَمِنُوْا اَنْ تَاْتِیَھُمْ غَاشِیَۃٌ( کیا وہ اس سے بےخوف ہوگئے کہ ان پر آن پہنچے کوئی ڈھانپنے والی) ایسی سز اجو ان کو ڈھانپ لے اور گھیرلے مِّنْ عَذَابِ اللّٰہِ اَوْتَاْتِیَھُمُ السَّاعَۃُ (اللہ تعالیٰ کے عذاب میں سے یا قیامت آجائے ان کے پاس) ساعت سے قیامت مراد ہے۔ بَغْتَۃً (اچانک) یہ حال ہے وَّھُمْ لَایَشْعُرُوْنَ (اس حال میں کہ ان کو شعور بھی نہ ہو) اسکی آمد کا۔
Read the full tafseer →تفسیر 107۔” افامنوا ان تاتیھم غاشیۃ من عذاب اللہ “ یعنی جلدی سزا ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ایسا عذاب جو ان کو ہانپ لے۔ قتادہ نے عاشیہ ترجمہ کیا پڑنے والی آفت ضحاک نے کہا کہ اس سے مراد ہیں آسمانی بجلیاں اور غیبی حوادث اور ” تاتیھم الساعۃ بغتہ “ اچانک جس کی پہلی سے کوئی علامت نہ ہو نہ وقت معین ہو۔ ” وھم لا یشعرون “ اس کے قیام کو ، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ لوگ بازاروں میں مشغول ہوں گے اور ایک سخت چیخ لوگوں کو ہیجان میں ڈالے دے گی ۔
Read the full tafseer →107۔ اس سے پہلے اللہ پاک نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اکثر لوگ ایمان دار ہو کر شرک بھی کرتے ہیں انہیں کے حق میں اب یہ ارشاد ہوا کہ کیا یہ لوگ بالکل اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ خدا کا عذاب آکر اچانک ان کو ڈھانک لے یا قیامت آجائے اور ان کو مطلق خبر بھی نہ ہو اپنے اپنے کاروبار میں لگ رہے ہوں بازاروں اور گلیوں میں پھر رہے ہوں یا رات کو بستر پر آرام سے سو رہے ہوں اور خدا کا طرح طرح کا عذاب جس طرح پہلی امتوں پر آچکا ہے ان پر بھی آجائے اور ان کا کام تمام کر دے اک ذرا بھی دم لینے کی مہلت نہ دے تو پھر یہ لوگ کیا کریں گے پہلے صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) کی قوم سے لے کر فرعون اور اس کی قوم تک کے قصے جو…
Read the full tafseer →بنا بریں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” کیا یہ بےخوف ہیں “ یعنی کیا ان افعال کا ارتکاب کرنے اور آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والے اس بات سے بےخوف ہیں کہ (آیت) ” ان پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہو، جو سب کو ڈھانپ لے “ اور ان کی جڑ کاٹ دے۔ (آیت) ” یا ان پر قیامت کی گھڑی اچانک آجائے “ (آیت) ” اور ان کو خبر نہ ہو۔ “ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق بن چکے ہیں۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ کریں اور ان اسباب کو ترک کردیں جو ان کے لئے عذاب کا باعث ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
قول باری ہے (وما یومن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون۔ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک ٹھہراتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور قتادہ ؓ سے مروی ہے کہ ان میں سے اکثر لالہ کو اس اقرار کے ساتھ مانتے ہیں کہ وہ ان کا خالق اور ارض و سما کا پیدا کرنے والا ہے مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ بت پرستی کے ذریعے دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ آیت کے مصداق اہل کتاب ہیں جن کے اندر ایمان بھی تھا اور شرک بھی تھا۔ ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی عبادت کی تصدیق کرتے اور اسے مانتے ہیں مگر اس طرح کہ عبادت میں بتوں کو بھی شریک کرلیتے ہیں۔ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
172۔ غافلوں کے لیے ایک تنبیہ وتہدید :
سو اللہ کے عذاب سے نڈر اور بےخوف ہوجانے والوں کے لیے اندار اور تنبیہ وتہدید کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا پھر بھی یہ لوگ نڈر اور بےخوف ہوگئے ہیں اس بات سے کہ آدبوچے ان کو اللہ کے عذاب سے کوئی ایسی آفت جو چھا جائے ان سب پر ہر طرف سے۔ یا آپہنچے ان پر قیامت کی وہ گھڑی ایسی اچانک کہ ان کو خبرتک نہ ہو۔ یعنی ان میں سے کوئی بھی صورت وقوع پذیرہوسکتی ہے ؟۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس سے ایسے مشرکوں سے انذاز اور تنبیہ کے طور پر یہ سوال کیا گیا کہ یہ لوگ نڈر اور بےخوف ہوگئے اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت وپکڑ سے ؟ یعنی ایسے لوگ اپنی غفلت و جہالت کی وجہ سے اور اپنے ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
اللہ، رسول اور قرآن کی سچائی کا ثبوت
تشریح : سورة یوسف کا قصہ پچھلے گیارہ رکوعوں میں ختم ہوگیا ہے۔ اس سورت کا شان نزول یہی تھا کہ اہل قریش جو آپ پر ایمان نہ لانا چاہتے تھے انہوں نے آپ کو آزمانے کے لیے کہا کہ اچھا اگر آپ رسول ہو تو بتائو کہ بنی اسرائیل کس طرح مصر میں آباد ہوئے ؟ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا پورا قصہ بتا دیا جس میں بیشمار نصیحت کی باتیں ہیں اور اس کا ثبوت اور وجوہات بھی بڑی تفصیل سے بتا دی گئی ہیں کہ بنی اسرائیل کس طرح اور کب مصر میں پہنچے۔ یہ سوال اہل قریش نے اس لیے نہیں کیا تھا کہ معقول جواب ملنے پر وہ سب ایمان لے آئیں گے بلکہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–111
آیات 105 تا 111
اسرار ومعاف
اگریہ لوگ نہیں مان رہیتو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ارض وسما میں بیشمار چیزیں اللہ کی عظمت پہ گواہی دے رہی ہیں اور زمین کا ذرہ ذرہ یا ہر ہر تنکا اور پھول پتہ اس کی عظمت کی دلیل ہے یا پھر پہلے لوگوں کی تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈر بھی کفر اور گناہ کے انجام کی خبر دے رہے ہیں اور ان لوگوں کو شب وروز انہی اشیاء سے واسطہ بھی پڑتا ہے ۔ ایسی ہی جگہوں سے ان کا گزر بھی ہوتا ہے مگر اس بات کی طرف ان کا دھیان ہی نہیں جاتا بلکہ عقلا عاجز ہو کر اللہ کی ذات کا اقرار بھی کرتے ہیں تو ساتھ بہت سے اوصاف میں دوسروں کو شریک کرکے گرفتار بلاہوجاتے ہیں ۔ اور یہ تو ایسے بےفکر ہیں کہ اسی…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ جیسے زلزلہ، طاعون وغیرہ۔
Read the full tafseer →(12:107) افامنوا۔ ہمزہ استفہامیہ۔ امنوا۔ وہ نڈر ہوگئے۔ وہ بےخوف ہوگئے۔ کیا وہ اپنے آپ کو مطمئن محسوس کرتے ہیں۔ کیا وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ امن سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔
غاشیۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث۔ ہر وہ چیز جو کسی کو ڈھانک لے۔ یا اس پر چاروں طرف سے چھا جائے۔ اس کو غاشیہ کہتے ہیں۔
غشی ۔ یغشی۔ غشی۔ غشایۃ۔ ڈھانکنا ۔ چھپانا۔ غشاوۃ۔ پردہ۔ ڈھکنا۔ غشی۔ بمعنی بیہوشی بھی انہی معنوں میں ہے کہ ہوش و حواس گم ہوجاتے ہیں۔ جیسے کہ ان پر پردہ پڑگیا ہے۔ غ ش و۔ غ ش ی مادہ۔
قرآن حکیم میں پردہ کے معنی میں بھی آیا ہے۔ وعلی ابصارہم غشاوۃ (2:7) اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ اور فغشیہم من الیم ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
لغات القرآن آیت نمبر 105 تا 108
کاین کتنے ہی کتنی ہی، ایۃ نشانی یمرون وہ گذرتے ہیں معرضون وہ منہ پھیرنے والے ہیں ان تاتی یہ کہ آجائے غاشیۃ ڈھانپ لینے والی ، آفت الساعۃ قیامت، گھڑی بغتہ اچانک لایشعرون وہ شعور نہیں رکھتے ہیں سبیلی میرا راستہ ادعوا میں بلاتا ہوا بصیرۃ دیکھ بھال کر، غور و فکر انا میں اتبعنی میری اتباع کی، میرے پیچھے چلے سبحن پاک ذات، بےعیب ذات
تشریح آیت نمبر 105 تا 108
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر ہر انسان کو غور و فکر اور تدبر کرنے پر زور دے کر فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے کائنات میں قدم قدم پر اپنی اتنی نشانیاں بکھیر دی ہیں کہ اگر انسان ان پر ذرا بھی غور کرے تو اللہ کی ذات وصفات…
Read the full tafseer →اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ اکثر لوگ ایماندار ہوکر شرک بھی کرتے ہیں۔ انہیں کے حق میں اب یہ ارشاد ہوا کہ کیا یہ لوگ بالکل اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ خدا کا عذاب آکر اچانک ان کو ڈھانک لے یا قیامت آجائے تو ان کو مطلق خبر بھی نہ ہو۔ اپنے اپنے کاروبار میں لگ رہے ہوں، یا رات کو بستر پر آرام سے سو رہے ہوں اور خدا کا طرح طرح کا عذاب جس طرح پہلی امتوں پر آیا ان پر بھی آجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
[37] یعنی لوگوں نے گمان کیا کہ رسولوں نے انھیں جو عذاب کے ڈراوے دئیے تھے وہ جھوٹے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–108
اہل حق کا مسلک :
(ف 1) علی بصیرۃ سے مراد یہ ہے کہ پیغمبر اور اس کے ماننے والوں کا مسلک دلیل اور برہان پر مبنی ہوتا ہے ، وہ جن چیزوں پر اعتقاد رکھتے ہیں ، ان کو خوب سمجھتے اور جانتے ہیں وہ دنیا میں بصیرت و دانش کی تبلیغ کے لئے تشریف لاتے ہیں ، اور دماغوں سے جہل ونادانی اور تقلید آباء کے زنگاروں کو یک قلم دور کردیتے ہیں ، اس لئے ان سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے ، کہ خود ان کے اپنے پاس دلیل وعقل کی روشنی نہ ہوگی ، اسلام تو نام ہی عقل و فکری بالیدگی کا ہے ، اس کے کشت زار ہدایت میں تقلید وجہل کا زقوم کبھی پیدا نہیں ہوتا ، اور نہ مسلمان بےعقلی کی باتوں کو تسلیم کرتا ہے ۔
حل لغات :
غاشیۃ : ڈھانپ لینے…
Read the full tafseer →107 ۔ پھر کیا ایسے لوگ اس بات سے بےخوف اور مطمئن ہوگئے ہیں کہ ان پر خدائے تعالیٰ کے عذاب کی کوئی ایسی آفت آپڑے جو ان کو چاروں طرف سے ڈھانک لے اور ان کو گھیرلے یا ان پر نا گہاں اور اچانک قیامت آپہنچے اور ان کو پہلے سے خبر بھی نہ ہو ۔ بہرحال کفر کا انجام عذاب ہے خواہ وہ دنیا میں آجائے یا قیامت میں ان پر نازل ہو ان کو بےخوف نہیں ہونا چاہئے۔
Read the full tafseer →ف 6۔ مطلب یہ کہ مقتضا کفر کا عقوبت ہے خواہ دنیا میں نازل ہوجائے یا قیامت کے دن واقع ہوجائے ان کو ڈرنا اور کفر چھوڑ دینا چاہیے۔
Read the full tafseer →کیا یہ لوگ اللہ کا عذاب چاہتے ہیں کہ وہ اچانک ان کو گھیرے میں لے لے
۔ 125 مطلب بالکل واضح ہے کہ جب ہر کفر فی نفسہ سزا و عقوبت کا مستحق و مستوجب ہے خواہ فوراً خواہ بتا خیر لیکن یہ شامت زدہ آخرت فراموش نفس سزا ہی کی طرف سے غافل اور بےفکر پڑے ہوئے ہیں۔ یعنی ان کا عذاب الٰہی سے اس طرح بےخوف ہو کر کفر و شرک اور فسق و فجور میں مشغول رہنا بڑے تعجب اور افسوس کی بات ہے اگر اس بیخبر ی کے عالم میں ان پر عذاب الٰہی آگیا یا قیامت قائم ہوگئی تو پھر ان کا کیا بنے گا۔ یہ کہاں سر چھپائیں گے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
but also associate other things as partners in His Divinity. It was said:
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّـهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ
And most of them do not believe in Allah without associating partners with Him - 106.
It means that those of them who profess a belief in Allah would do so by lacing it with Shirk. They would suggest others as partners in the attributes of knowledge and power which are exclusive for Allah Ta` ala - which is rank injustice, and ignorance.
Ibn Kathir has said that included under the sense of this verse are Muslims who, despite having 'Iman, are involved…
Read the full tafseer →77. This question has been posed to rouse the people from their care free attitude towards life produced by temporary security from dangers, and by a feeling that there is a long life to enjoy: so the problems can be postponed safely to a distant future. This is obviously a wrong attitude, for no man has any guarantee that he will live up to a certain age: for no one knows when, where and how one would die. Therefore the questions meant to ask,“Does not your daily experience tell you that you knew nothing even a minute beforehand what your future was hiding for you? Therefore, wisdom demands…
Read the full tafseer →