Explained with ayahs 105–107
بیان ہو رہا ہے قدرت کی بہت سی نشانیاں، وحدانیت کی بہت سے گواہیاں، دن رات ان کے سامنے ہیں، پھر بھی اکثر لوگ نہایت بےپرواہی اور سبک سری سے ان میں کبھی غور وفکر نہیں کرتے۔ کیا یہ اتنا وسیع آسمان، کیا یہ اس قدر پھیلی ہوئی، زمین، کیا یہ روشن ستارے یہ گردش والا سورج، چاند، یہ درخت اور یہ پہاڑ، یہ کھیتیاں اور سبزیاں، یہ تلاطم برپا کرنے والے سمندر، یہ بزور چلنے والی ہوائیں، یہ مختلف قسم کے رنگا رنگ میوے، یہ الگ الگ غلے اور قدرت کی بیشمار نشانیاں ایک عقل مند کو اس قدر بھی کام نہیں آسکتیں ؟ کہ وہ ان سے اپنے اللہ کی جو احد ہے، صمد ہے، فرد ہے، واحد ہے، لا شریک ہے، قادر وقیوم ہے، باقی اور کافی ہے اس ذات…
Read the full tafseer →76۔ یہ فطری نتیجہ ہے اس غفلت کا جس کی طرف اوپر کے فقرے میں اشارہ کیا گیا ہے جب لوگوں نے نشان راہ سے آنکھیں بند کیں تو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور اطراف کی جھاڑیوں میں پھنس کر رہ گئے، اس پر بھی کم انسان ایسے ہیں جو منزل کو بالکل ہی گم کرچکے ہوں اور جنہیں اس بات سے قطعی انکار ہو کہ خدا ان کا خالق و رازق ہے، پیشتر انسان جس گمراہی میں مبتلا ہیں وہ انکار خدا کی گمراہی نہیں بلکہ شرک کی گمراہی ہے، یعنی وہ یہ نہیں کہتے کہ خدا نہیں ہے، بلکہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ خدا کی ذات اس کی صفاتت، اختیارات اور حقوق میں دوسرے بھی کسی نہ کسی طرح شریک ہیں، یہ غلط فہمی ہرگز نہ پیدا ہوتی اگر زمین و آسمان کی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
فرمایا
(آیت) وَمَا يُؤ ْمِنُ اَكْثَرُهُمْ باللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ یعنی ان میں جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان بھی لاتے ہیں تو وہ بھی شرک کے ساتھ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت وغیرہ اوصاف میں دوسروں کو شریک ٹھراتے ہیں جو سراسر ظلم اور جہل ہے
ابن کثیر نے فرمایا کہ اس آیت کے مفہوم میں وہ مسلمان بھی داخل ہیں جو ایمان کے باوجود مختلف قسم کے شرک میں مبتلا ہیں مسند احمد میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تم پر جس چیز کا خطرہ ہے ان میں سب سے زیادہ خطرناک شرک اصغر ہے صحابہ کے دریافت کرنے پر فرمایا کہ ریاء شرک اصغر ہے اسی طرح ایک حدیث میں غیر اللہ کی قسم کھانے کو شرک فرمایا ہے (ابن کثیر…
Read the full tafseer →وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ۔ ایمان نہ لانے کی ایک اور وجہ : یہ ان کے قرآن پر ایمان نہ لانے کی ایک اور بڑی وجہ واضح کی گئی ہے کہ ان میں جو اللہ کو مانتے بھی ہیں وہ اللہ کے ساتھ بہت سے شکاء اور شفعاء کو بھی مانتے ہیں اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ اگر اللہ ان کی کسی بات پر گرفت کرنا چاہے گا بھی تو یہ شرکاء اور شفعاء ان کو خدا سے بچا لیں گے۔ اس ضلالت کی موجودگی میں قرآن کے ڈراوے ان پر کیا اثر کرسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →16۔ 1 یہ وہ حقیقت ہے جسے قرآن نے بڑی وضاحت کے ساتھ متعدد جگہ بیان فرمایا ہے کہ یہ مشرک یہ تو مانتے ہیں کہ آسمان اور زمین کا خالق، مالک، رازق اور مدبر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک ٹھرا لیتے ہیں۔ اور یوں اکثر لوگ مشرک ہیں یعنی ہر دور میں لوگ توحید ربوبیت کے تو قائل رہے ہیں لیکن توحید الوہیت ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے آج کے قبر پرستوں کا شرک بھی یہی ہے کہ وہ قبروں میں مدفون بزرگوں کو صفات الوہیت کا حامل سمجھ کر انھیں مدد کے لیے پکارتے بھی ہیں اور عبادت کے کئی مراسم بھی ان کے لیے بجا لاتے ہیں اعاذنا اللہ منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–109
66: یہ کافروں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی فرشتہ ہمارے پاس رسول بنا کر کیوں نہیں بھیجا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
آیت نمبر 103 تا 107
رسول اللہ ﷺ بڑی شدت کے ساتھ یہ چاہتے تھے کہ آپ کی قوم ایمان لے آئے۔ آپ چاہتے تھے کہ آپ جو بھلائی لے کر آئے ہیں وہ ان تک پہنچ جائے اور وہ محروم بھی نہ رہیں ، نیز آپ کو اپنی برادری پر ترس آ رہا تھا کہ اگر وہ شرک کی حالت پر ہی رہے تو دنیا میں بھی ان کو روز بد دیکھنا ہوگا اور آخرت میں وہ دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ تو انسانی دلوں کے بہت ہی قریب ہے ، وہ علیم وخبیر ہے۔ وہ انسانوں کے مزاج اور ان کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ کو بتلایا جاتا ہے کہ آپ کی یہ حرص اور یہ شدید خواہش ان کو اسلام کی طرف راغب نہ کرسکے گی ، اور ان میں سے اکثر مشرک ہی…
Read the full tafseer →7 یعنی زبان سے سب کہتے ہیں کہ خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے مگر اس کے باوجود کوئی بتوں کو خدائی کا حصہ دار بنا رہا ہے چناچہ مشرکین عرب " تلبیہ " میں یہ لفظ کہتے تھے " لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًا ہُوَلَکَ تَمْلِکُہ، وَمَا مَلَکَ " کوئی اس کے لیے بیٹے بیٹیاں تجویز کرتا ہے۔ کوئی اسے روح و مادہ کا محتاج بتاتا ہے کسی نے احبارو رہبان کو خدائی کے اختیارات دے دیے ہیں بہت سے تعزیہ پرستی، قبر پرستی پیر پرستی کے خس و خاشاک سے توحید کے صاف چشمہ کو مکدر کر رہے ہیں۔ ریا اور ہوا پرستی سے تو کتنے موحدین ہیں جو پاک ہوں گے۔ غرض ایمان کا زبانی دعویٰ کر کے بہت کم ہیں جو عقیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
آیت 106 وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ باللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ
یہ آیت ہمارے لیے بہت زیادہ لائق توجہ ہے اور ہم سب کو اس پر بہت غور وخوض کرنے کی ضرورت ہے۔ شرک کا معاملہ ان لوگوں کا تو بالکل واضح ہے جو ایک اللہ کے ساتھ بیشمار دوسرے معبودوں پر ایمان رکھتے ہیں اور مختلف ناموں سے ان کی پوجا کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ خود کو موحد سمجھتے ہیں اور اپنے خیال میں وہ امکانی حد تک موحد ہوتے بھی ہیں ‘ بسا اوقات غیر شعوری طور پر وہ بھی کسی نہ کسی نوع کے شرک میں ملوث ہوجاتے ہیں۔ اس صورت حال کو سمجھنے کے لیے بڑی گہری بصیرت کی ضرورت ہے ‘ اور ایسی بصیرت اور ایسا علم حاصل کرنا ہر صاحب شعور مسلمان پر فرض ہے…
Read the full tafseer →101 مذہبی طبقہ کی اکثریت بھی ہمیشہ مشرک ہی ہوتی ہے :۔ اگرچہ اس دنیا میں ایک طبقہ ایسا بھی موجود رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کے وجود کا بھی منکر ہے اور وہ اس کائنات کے وجود اور اس کے نظام کو محض اتفاقات کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ تاہم اکثریت اسی بات کی قائل رہی ہے کہ اس کائنات کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے اور وہی اس کا انتظام چلا رہا ہے۔ پھر اس مذہبی طبقہ میں بھی ایک قلیل طبقہ ایسا ہے جو اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی صفات میں کسی دوسرے کو شریک نہیں بناتے اور یہی طبقہ فی الحقیقت راہ مستقیم پر ہے۔ اس مذہبی طبقہ میں بھی اکثریت ایسے ہی لوگوں کی رہی ہے جو اللہ کے خالق ومالک ہونے کا اقرار بھی کرتے جاتے…
Read the full tafseer →190۔ (جس سے ان کا دعوائے ایمان باللہ ہی باطل ہوا جاتا ہے) مطلب یہ ہوا کہ آخرت کے منکر تو کثرت سے ہیں ہی، باقی جو لوگ انکار خدا نہیں بلکہ اقرار خدا کے مدعی ہیں ان کا بھی عموما حال یہ ہے کہ ایک طرف تو خدا کو بھی مانے جاتے ہیں، اور دوسری طرف اس کے شریک دیوی اور دیوتا بھی، قرار دیئے چلے جاتے ہیں، جو صاف الوہیت کے منافی ہے، مشرکوں اور جاہل مشرکوں کا جو انجام ہوتا ہے اسے چھوڑئیے، خود ہماری قوم کے ” اہل قبو ر “ ٹھنڈے دل سے غور کریں، کہ مزارات ومقابر “ سے بالکل تعبد کا معاملہ رکھنا ان پر چادریں چڑھانا ان پر نذریں ماننا، نفع ونقصان انہیں سے وابستہ جاننا یہ سب کہیں ان کو اس آیت کی زد میں تو نہیں لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–111
آیت نمبر 105 تا 111
ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں خدا کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی بیشمار نشانیاں ہیں ان کو دیکھتے ہوئے منہ موڑ کر گذر جاتے ہیں ان میں غور و فکر نہیں کرتے اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان رکھنے یعنی اس کو خالق و رازق تسلیم کرنے کے باوجود بتوں کی بندگی کرکے مشرک ہیں اور یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے تلبیہ میں کہا کرتے تھے لبیک لاشریک لک الاشریکا ھو لک تملکہ وما ملک (ترجمہ) ہم تیرے حضور میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے کہ اس کا تو مالک ہے اور اس کا بھی تو مالک ہے جس کا وہ مالک ہے اور وہ الا شریکا سے اصنام مراد لیتے تھے، کیا وہ اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر…
Read the full tafseer →وما یؤمن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون اور جو لوگ اللہ کو مانتے بھی ہیں تو اس طرح کہ ان میں سے اکثر شرک بھی کرتے جاتے ہیں۔ کَاَیِّنْ کے معنی ہیں : کثیر۔ یعنی اللہ کی صنعت ‘ حکمت اور کمال قدرت و توحید کی کتنی ہی دلیلیں ہیں جو ان کی نظر کے سامنے آتی ہیں اور یہ ان کا مشاہدہ کرتے ہیں مگر ان کی طرف توجہ نہیں کرتے ‘ منہ پھیر لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بہت سی آیات عبرت ان کے سامنے آتی ہیں اوراقوام پارینہ کے آثار کا مشاہدہ کرتے ہیں مگر غور و فکر نہیں کرتے اور عبرت اندوز نہیں ہوتے اور اگر اللہ کے وجود و خالقیت کا اقرار کرتے بھی ہیں تو اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک بنا لیتے ہیں ‘ اللہ کی عبادت کے ساتھ…
Read the full tafseer →(106) اور اکثر اہل مکہ جو دل میں اللہ کی عبودیت کو مانتے بھی ہیں مگر علانیہ وحدانیت خداوندی میں شرک کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ باللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ۔۔ : اللہ پر ایمان کے دعوے کے ساتھ شرک کرنے والوں کی پہلی مثال کفار قریش ہیں جو آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے، خود ان مشرکین کو پیدا کرنے والے اور ہر چیز کی مکمل ملکیت رکھنے والے اللہ تعالیٰ کو جانتے اور مانتے تھے، جیسا کہ فرمایا : (وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ) [ الزخرف : 87 ] ”اور یقیناً اگر تو ان سے پوچھے کہ انھیں کس نے پیدا کیا تو بلاشبہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔“ اور فرمایا : (وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ) [ لقمان : 25 ] ”اور بلاشبہ اگر تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
آیت نمبر 105 تا 108
قولہ تعالیٰ ۔ وکاین من اٰیۃ فی السٰوٰت الارض خلیل اور سیبویہ نے کہا : یہ ای ہے اس پر کاف تشبیہ کا داخل ہوا تو این بن گیا، یہاں یہ کم کے معنی میں ہے سورة آل عمران میں اس کے حوالے سے گفتگو گرزچ کی ہے اور السمٰوٰت والارض کے حوالے سے سورة بقرہ میں بحث گزر چکی ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ آیات گزشتہ امتوں کی سزاؤں کے آثار ہیں، یعنی وہ غافل تھے اور ان میں غور و فکر سے اعراض کرتے تھے۔ عکرمہ اور عمرو بن فائد نے والارض کو مرفوع پڑھا ہے اس صورت میں یہ مبتدا ہوگا اور اس کی خبر یمرون علیھا ہوگی۔ سدی نے فعل کو مضمر مانتے ہوئے والاض پڑھا ہے۔ ان دونوں قرأتوں کے مطابق وقف السمٰوٰت پر ہوگا۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–106
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنت لدیھم اذا اجمعوا امرھم وھم یمکرون “ سے مراد یعقوب کے بیٹے ہیں جب انہوں نے یوسف کے ساتھ مکر کررہے تھے۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنت لدیہم “ یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وماکنت لدیھم “ آپ اس وقت دن کے پاس موجود نہیں تھے۔ جب وہ ان کو کنویں کی گہرائی میں ڈال رہے تھے (آیت) ” وھم یمکرون “ اور وہ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ مکر کر رہے تھے۔
3:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وکاین میں ایۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ کتنی…
Read the full tafseer →[وَمَا يُؤْمِنُ : اور ایمان نہیں لاتے ] [اَكْثَرُهُمْ : ان کے اکثر ] [ بِاللّٰهِ : اللہ پر ] [اِلَّا : مگر ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [هُمْ : وہ لوگ ] [ مُّشْرِكُوْنَ : شرک کرنے والے ہوتے ہیں ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 106 میں ہے کہ اکثر لوگ اللہ پر ایمان تو رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بھی کرتے ہیں۔ ابن کثیر (رح) نے فرمایا کہ اس آیت کے مفہوم میں وہ مسلمان بھی داخل ہیں جو ایمان کے باوجود مختلف قسم کے شرک میں مبتلا ہیں۔ ایک حدیث میں غیر اللہ کی قسم کھانے کو شرک فرمایا (بحوالہ ترمذی) ۔ ریاء کو بھی شرک اصغر فرمایا (بحوالہ مسند احمد) ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کے نام کی منت اور نیاز ماننا بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
آپ فرما دیجئے کہ یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں
اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم فرمایا ہے کہ آپ واضح طور پر لوگوں سے کہہ دیں اور کفار اور مشرکین کے سامنے اعلان فرما دیں کہ میں جس راہ پر ہوں یہ میرا راستہ ہے جو توحید کا راستہ ہے ‘ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور میری یہ دعوت پوری بصیرت کے ساتھ ہے اور نہ صرف یہ کہ میں بصیرت پر ہوں بلکہ جن لوگوں نے میرا اتباع کیا وہ بھی بصیرت پر ہیں اس میں یہ بتادیا کہ یہ میری دعوت حق ہے صحیح ہے سمجھ کر ہوش گوش کے ساتھ ہے ‘ میں اس کو چھوڑنے والا نہیں ہوں تم میری کیسی ہی مخالفت کرلو میں بہر حال اپنے عقیدہ اور عمل پر قائم ہوں ‘ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
خاتمہ سورت بر اثبات رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید منکرین وبیان حقانیت کتاب مبین
قال اللہ تعالیٰ ذلک من انبیاء الغیب نوحیہ الیک .... الیٰ .... وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون
(ربط) یہ سورت ان سائلین کے جواب میں نازل ہوئی جنہوں نے آپ ع صلی اللہ علیہ سے بغرض امتحان یوسف (علیہ السلام) کا قصہ دریافت کیا تھا اب خاتمہ سورت پر یہ بتلاتے ہیں کہ یہ قصہ آپ ﷺ کی نبوت کی کس طرح دلیل بنا چناچہ فرماتے ہیں کہ احسن القصص یعنی یوسف (علیہ السلام) کا قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کے علم کا سوائے وحی خداوندی کے کوئی ذریعہ نہیں ہم صرف وحی کے ذریعہ سے آپ ﷺ کو یہ قصہ بتلاتے ہیں اور یہ آپ ﷺ کی نبوت کی دلیل قاطع ہے کیونکہ آپ ﷺ تو امی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
89:۔ اس تفصیلی عقلی دلیل کے علاوہ زمین و آسمان کے عجائب مخلوقات اور غرائب احوال میں توحید کے بیشمار دلائل موجود ہیں جو ہر وقت ان کے سامنے رہتے ہیں مگر وہ ان میں تدبر و تفکر نہیں کرتے۔ ” وَ مَا یُؤْمِنُ الخ “: اور ان میں اکثر لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کو مانتے ہیں مگر اس کے باوجود اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ شرک یہ نہیں کہ اللہ کو یا اس کی بعض صفات کو نہ مانا جائے بلکہ شرک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کو مانتے ہوئے غیر اللہ کو اس کی صفتوں میں شریک مانا جائے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے علاوہ اللہ کے نیک بندوں (انبیاء و ملائکہ (علیہم السلام) اور اولیاء کرام) کو بھی عالم الغیب، حاضر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
یوسف (علیہ السلام) کی تدفین
یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کا ذکر کیا انہوں نے نہایت عجز و انکساری کے ساتھ بارگاہ رب العزت میں درخواست کی کہ ان کی موت اسلام پر آئے وہ نیک لوگوں میں شامل ہوجائیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وفات کے تقریباً ربع صدی بعد یہ دعا کی تھی جبکہ آپ کا دل اس دنیا سے اچاٹ ہو کر آخرت کی طرف زیادہ راغب ہوچکا تھا۔ پھر جب آپ کی وفات ہوگئی تو تاریخی روایات کے مطابق آپ کو تابوت میں بند کر کے دریائے نیل کے بالائی علاقے میں دفن کردیا گیا مگر آپ کی وصیت یہ تھی کہ اگر بنی اسرائیل کو کسی وقت مصر سے نکلنا پڑے تو…
Read the full tafseer →وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ 106
أمن
والإِيمان
يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
1 ؎ یمرون علیہا کا لفظی ان پر سے گزرنا ہے مگر مراد مشاہدہ کرنا ہے یعنی ہمارے آسمان اور زمین میں بیشمار نشان قدرت ہیں جن کو دیکھ کر ایمان نہیں لاتے بلکہ منہ پھیر لیتے ہیں اور توجہ نہیں کرتے 12 منہ
Read the full tafseer →وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُھُمْ بِاللّٰہِ اِلاَّ وَھُمْ مُّشْرِکُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 106)
(اور ان میں سے اکثر اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے مگر اس طرح کہ ساتھ ہی اس کے شریک بھی ٹھہرائے ہوئے ہیں۔ )
آیت کے دو مفہوم : دیدہ عبرت سے محرومی، شفعاء پر تکیہ
حقیقت تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے لیکن بظاہر اس آیت کریمہ کے دو مطلب ذہن میں آتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ انسان کی بدنصیبی کا حال یہ ہے کہ اگر وہ مخلوقات کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کو بطور خالق تسلیم بھی کرلیتا ہے اور مان لیتا ہے کہ واقعی ایک اللہ تعالیٰ ہے جو اس کائنات کا خالق ومالک ہے، لیکن ساتھ ہی وہ بہت سی قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بھی ٹھہراتا ہے۔ کسی نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں نے اہل مکہ کو جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے اس لیے سوال کرنے کو کہا کہ اگر آپ حقیقتاً نبی ہیں تو جواب دے پائیں گے۔ بصورت دیگر جھوٹے ثابت ہوں گے۔ اس واقعہ کا اختتام اس بات پر کیا جارہا ہے کہ یہ واقعہ ہی عبرت کی نشانی نہیں بلکہ زمین و آسمان اور آفاق میں بیشمار نشانیاں ان کے لیے موجود ہیں۔ جنہیں دیکھ کر یہ لوگ رب کی ذات کا اقرار کرتے ہیں۔ مگر رب ماننے کے باوجود اسے ایک الٰہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
نبی اکرم ﷺ کے مخالفین میں بالخصوص مشرکین مکہ کی حالت یہ تھی کہ پہلے وہ آپ ﷺ سے دلیل مانگتے جب انھیں دلیل دی جاتی، پھر اس سے یکسر اعراض کردیتے…
Read the full tafseer →106: وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُھُمْ بِاللّٰہِ اِلَّا وَھُمْ مُّشْرِکُوْنَ (اور ان کی اکثریت اللہ پر ایمان نہیں لاتی مگر کہ وہ شرک بھی کرتے ہیں) یعنی ان کی اکثریت اللہ تعالیٰ کے متعلق اقراری ایمان تو لاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اور آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ مگر بتوں کی عبادت کر کے شرک کرنے والے ہیں جمہور کہتے ہیں یہ مشرکین کے متعلق اتری کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رازق و خالق مانتے تھے اور جب ان کو کوئی سخت معاملہ پیش آتا تو اللہ تعالیٰ کو مخلصانہ پکارتے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے۔ شرک کی باتوں میں سے قدر یہ کی یہ بات بھی ہے کہ بندے کیلئے قدرت تخلیق…
Read the full tafseer →106۔” وما یومن اکثر ھم باللہ الا وھم مشرکون “ ان کا ایمان یہ ہے کہ جب ان سے پوچھا جائے کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اور جب ان سے سوال کیا جائے کہ بارش کون برساتا ہے ؟ تو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ پھر اس کے ساتھ بتوں کی عبادت بھی کرتے ہیں۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت مشرکین کے تلبیہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ اپنے تلبیہ میں کہتے تھے ” اللھم لبیک لبیک لا شریک لک الا شریک ھو لک تملکہ وما ملک “ اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ خوشحالی میں اپنے رب کو بھول جاتے تھے جب مصیبت ہوتی تو خالص اللہ کے لیے دعا…
Read the full tafseer →106۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت سب سے بڑا گناہ دنیا میں کونسا ہے آپ نے فرمایا کہ اللہ نے آدمی کو پیدا کیا ہے پھر آدمی سوا اللہ کے مخلوقات میں سے کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرا دے تو اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ نہیں۔ 1 ؎ اب ایک تو اللہ کی ذات کے ساتھ جو باتیں خاص ہیں مثلاً عبادت حاجت روائی ان باتوں کا برتاؤ سوا اللہ کے کسی دوسرے سے کرنا جس طرح بت پرست بتوں کو سجدہ کرتے ہیں اور ان سے اپنی حاجتیں مانگتے ہیں اسی کو بڑا شرک کہتے ہیں سوا اس بڑے شرک کے بعضی صورتیں شرک کی بہتی چھپی ہوئی ہیں جن کے چھپے رہنے کی مثال مسند امام احمد کی…
Read the full tafseer →(آیت) ” اور “ ان میں سے کچھ لوگوں میں کچھ ایمان پایا جاتا ہے، تو (آیت) ” ان اللہ کے ماننے والوں کی اکثریت مشرک ہے۔ “ یعنی وہ اگرچہ توحید ربوبیت کا اقرار کرتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے مگر وہ توحید الوہیت میں شرک کرتے ہیں۔ پس یہ لوگ اب اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ ان پر نزول عذاب کے سوا کوئی بات باقی نہیں رہی اور یہ کہ ان کے پاس اچانک عذاب آجائے اور وہ اپنے آپ کو محفوظ اور مامون سمجھتے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
قول باری ہے (وما یومن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون۔ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک ٹھہراتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور قتادہ ؓ سے مروی ہے کہ ان میں سے اکثر لالہ کو اس اقرار کے ساتھ مانتے ہیں کہ وہ ان کا خالق اور ارض و سما کا پیدا کرنے والا ہے مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ بت پرستی کے ذریعے دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ آیت کے مصداق اہل کتاب ہیں جن کے اندر ایمان بھی تھا اور شرک بھی تھا۔ ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی عبادت کی تصدیق کرتے اور اسے مانتے ہیں مگر اس طرح کہ عبادت میں بتوں کو بھی شریک کرلیتے ہیں۔ آیت…
Read the full tafseer →171۔ اکثر لوگ ایمان کے باوجود مشرک۔ والعیاذ باللہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اکثر لوگ خدا کو مانتے ہیں تو بھی شرک کرتے ہوئے "۔ سبحان اللہ۔ کیا کہنے قرآنی صداقتوں کے کہ کس قدر سچا اور مطابق واقعہ ہے اللہ پاک کا یہ ارشاد کہ انسانوں کی اکثریت اللہ پر ایمان رکھتی بھی ہے تو بھی شرک کی آمیزش کے ساتھ۔ چناچہ امرواقعہ ہمیشہ یہی رہا ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ شرک جلی کے اعتبار سے بھی اور شرک خفی کے لحاظ سے بھی چناچہ شرک جلی کے مرتکب مشرکین کا حال کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ اللہ پاک کو خالق، مالک، رازق اور مدبر سب کچھ ماننے کے باوجود اپنے بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو از خود وسیلے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
اللہ، رسول اور قرآن کی سچائی کا ثبوت
تشریح : سورة یوسف کا قصہ پچھلے گیارہ رکوعوں میں ختم ہوگیا ہے۔ اس سورت کا شان نزول یہی تھا کہ اہل قریش جو آپ پر ایمان نہ لانا چاہتے تھے انہوں نے آپ کو آزمانے کے لیے کہا کہ اچھا اگر آپ رسول ہو تو بتائو کہ بنی اسرائیل کس طرح مصر میں آباد ہوئے ؟ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا پورا قصہ بتا دیا جس میں بیشمار نصیحت کی باتیں ہیں اور اس کا ثبوت اور وجوہات بھی بڑی تفصیل سے بتا دی گئی ہیں کہ بنی اسرائیل کس طرح اور کب مصر میں پہنچے۔ یہ سوال اہل قریش نے اس لیے نہیں کیا تھا کہ معقول جواب ملنے پر وہ سب ایمان لے آئیں گے بلکہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–111
آیات 105 تا 111
اسرار ومعاف
اگریہ لوگ نہیں مان رہیتو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ارض وسما میں بیشمار چیزیں اللہ کی عظمت پہ گواہی دے رہی ہیں اور زمین کا ذرہ ذرہ یا ہر ہر تنکا اور پھول پتہ اس کی عظمت کی دلیل ہے یا پھر پہلے لوگوں کی تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈر بھی کفر اور گناہ کے انجام کی خبر دے رہے ہیں اور ان لوگوں کو شب وروز انہی اشیاء سے واسطہ بھی پڑتا ہے ۔ ایسی ہی جگہوں سے ان کا گزر بھی ہوتا ہے مگر اس بات کی طرف ان کا دھیان ہی نہیں جاتا بلکہ عقلا عاجز ہو کر اللہ کی ذات کا اقرار بھی کرتے ہیں تو ساتھ بہت سے اوصاف میں دوسروں کو شریک کرکے گرفتار بلاہوجاتے ہیں ۔ اور یہ تو ایسے بےفکر ہیں کہ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
ف 9 ۔ اس آیت کے مفہوم میں ہر وہ شخص داخل ہے جو زبان سے اللہ تعالیٰ کے خالق، مالک اور رازق ہونے کا اقرار کرے مگر اس کے باوجود مشرک کا مرتکب ہو جیسے قبر پرستی، تعزیہ پرستی وغیرہ ریاکار مسلمان بھی اس میں داخل ہیں۔ حدیث میں ہے کہ ریاکاری شرک خفی ہے۔ (روح) ۔ افسوس کہ ہمارے زمانے میں بھی بہت سے نام کے مسلمان شرک میں مبتلا ہوگئے ہیں جو تعویز گنڈے پر اعتقاد رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بس ان میں شفا ہے۔ (از سلفیہ) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
(12:105) کاین۔ کتنی ہی، بہت سی۔ کثیر تعداد۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو۔ 3:146 ۔
یمرون علیھا۔ جن پر یہ گذرتے ہیں۔ (کثیر التعداد نشانیاں جو سفر زندگی میں ان کے راستہ میں پڑتی ہیں۔ اور یہ ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں)
معرضون۔ روگردانی کرنے والے۔ منہ موڑ لینے والے۔ اعراض کرنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
لغات القرآن آیت نمبر 105 تا 108
کاین کتنے ہی کتنی ہی، ایۃ نشانی یمرون وہ گذرتے ہیں معرضون وہ منہ پھیرنے والے ہیں ان تاتی یہ کہ آجائے غاشیۃ ڈھانپ لینے والی ، آفت الساعۃ قیامت، گھڑی بغتہ اچانک لایشعرون وہ شعور نہیں رکھتے ہیں سبیلی میرا راستہ ادعوا میں بلاتا ہوا بصیرۃ دیکھ بھال کر، غور و فکر انا میں اتبعنی میری اتباع کی، میرے پیچھے چلے سبحن پاک ذات، بےعیب ذات
تشریح آیت نمبر 105 تا 108
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر ہر انسان کو غور و فکر اور تدبر کرنے پر زور دے کر فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے کائنات میں قدم قدم پر اپنی اتنی نشانیاں بکھیر دی ہیں کہ اگر انسان ان پر ذرا بھی غور کرے تو اللہ کی ذات وصفات…
Read the full tafseer →مشرکین مکہ کا ذکر : حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ مکہ کے مشرک لوگ اللہ کی عبادت میں بتوں کو شریک کرتے تھے، یہی بڑا شرک ہے اور اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ بغیر خالص دل کی توبہ کے اس شرک کی معافی نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح دعا مانگا کرو : اللھم انی اعوذ بک من ان اشرک بک شیئا و ان اعلم بہ و استغفرک لما لا اعلم بہ۔ حاصل معنی اس دعا کے یہ ہیں کہ '' یا اللہ ! کھلے چھپے سب طرح کے شرک سے پناہ دے اور کسی قسم کا شرک دانستہ یا نادانستہ ہوگیا تو معاف فرما '' ہر مسلمان کو یہ دعا پڑھنی چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
[36] یعنی جو لوگ انکار خدا کے نہیں بلکہ اقرار خدا کے مدعی ہیں ان کا بھی عموماً حال یہ ہے کہ ایک طرف تو خدا کو بھی مانے جاتے ہیں اور دوسری طرف اس کے شریک دیوی اور دیوتا بھی قرار دئیے چلے جاتے ہیں جو صاف الوہیت کے منافی ہے۔ ہمارے ہاں کے '' اہل قبور '' ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ مزارات و مقابر سے بالکل عبادت کا معاملہ رکھنا، ان پر چادریں چڑھانا، ان پر نذریں ماننا، نفع نقصان انھیں سے وابستہ کرنا، کیا یہ سب ان لوگوں کو اس آیت کی زد میں نہیں لے آتا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–108
اہل حق کا مسلک :
(ف 1) علی بصیرۃ سے مراد یہ ہے کہ پیغمبر اور اس کے ماننے والوں کا مسلک دلیل اور برہان پر مبنی ہوتا ہے ، وہ جن چیزوں پر اعتقاد رکھتے ہیں ، ان کو خوب سمجھتے اور جانتے ہیں وہ دنیا میں بصیرت و دانش کی تبلیغ کے لئے تشریف لاتے ہیں ، اور دماغوں سے جہل ونادانی اور تقلید آباء کے زنگاروں کو یک قلم دور کردیتے ہیں ، اس لئے ان سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے ، کہ خود ان کے اپنے پاس دلیل وعقل کی روشنی نہ ہوگی ، اسلام تو نام ہی عقل و فکری بالیدگی کا ہے ، اس کے کشت زار ہدایت میں تقلید وجہل کا زقوم کبھی پیدا نہیں ہوتا ، اور نہ مسلمان بےعقلی کی باتوں کو تسلیم کرتا ہے ۔
حل لغات :
غاشیۃ : ڈھانپ لینے…
Read the full tafseer →106 ۔ اور ان میں کے اکثر لوگ خدا تعالیٰ کو مانتے بھی ہیں تو اس طرح کہ شرک بھی کرتے رہتے ہیں یعنی بظاہر اللہ تعالیٰ کے ماننے کا اقرار بھی کرتے ہیں تو شرک آمیز غیروں کو اس کی عبادت میں شریک کرتے رہتے ہیں اور زبان سے خدا کا اقرار کرتے ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی منہ سے سب کہتے ہیں کہ خالق مالک سب کا وہی ہے پھر اوروں کو پکڑتے ہیں ۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–106
ف 3۔ امر یقینی ہے کہ آپ نے کسی سے یہ قصہ سنا سنایا دلیل ہے نبوت کی اور صاحب وحی ہونے کی۔
Read the full tafseer →ان میں کتنے ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں لیکن پھر بھی شرک کرتے ہیں
۔ 124 دعوائے ایمان اور شرک باللہ ! چہ معنی دارد ؟ مطلب یہ ہے کہ آخرت کے منکر تو کثرت سے ہیں ہی لیکن باقی جو لوگ انکار خدا نہیں بلکہ اقرار خدا کے مدعی ہیں ان کا بھی عموماً حال یہ ہے کہ ایک طرف تو خدا کو بھی مانے جاتے ہیں اور دوسری طرف سے اس کے شریک اس کے بندوں میں سے بھی قرار دیتے چلے جاتے ہیں حالانکہ یہی بات ہے جو صاف صاف الوہیت کے منافی ہے مشرکوں اور جاہل مشرکوں کا جو انجام ہوتا ہے اسے چھوڑیئے خود ہماری قوم کے ” اہل قبور “ ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ مزارات و مقابر سے بالکل اسی عقیدت کا معاملہ رکھنا ، ان پر چادریں چڑھانا ، ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
but also associate other things as partners in His Divinity. It was said:
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللَّـهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ
And most of them do not believe in Allah without associating partners with Him - 106.
It means that those of them who profess a belief in Allah would do so by lacing it with Shirk. They would suggest others as partners in the attributes of knowledge and power which are exclusive for Allah Ta` ala - which is rank injustice, and ignorance.
Ibn Kathir has said that included under the sense of this verse are Muslims who, despite having 'Iman, are involved…
Read the full tafseer →76. They associate other deities with Allah because they do not pay heed to His signs, which serve as pointers to the right way. So they go astray from it and get lost in thorny bushes. Nevertheless, many of them do not lose sight of the reality entirely, and do not disbelieve in Allah as their Creator and Sustainer, but they get involved in shirk. That is, they do not deny the existence of God, but they believe that there are other deities who are also partners in His being, His attributes, His powers, and His rights. They should never have been involved in shirk, had they considered these…
Read the full tafseer →