Explained with ayahs 105–107
بیان ہو رہا ہے قدرت کی بہت سی نشانیاں، وحدانیت کی بہت سے گواہیاں، دن رات ان کے سامنے ہیں، پھر بھی اکثر لوگ نہایت بےپرواہی اور سبک سری سے ان میں کبھی غور وفکر نہیں کرتے۔ کیا یہ اتنا وسیع آسمان، کیا یہ اس قدر پھیلی ہوئی، زمین، کیا یہ روشن ستارے یہ گردش والا سورج، چاند، یہ درخت اور یہ پہاڑ، یہ کھیتیاں اور سبزیاں، یہ تلاطم برپا کرنے والے سمندر، یہ بزور چلنے والی ہوائیں، یہ مختلف قسم کے رنگا رنگ میوے، یہ الگ الگ غلے اور قدرت کی بیشمار نشانیاں ایک عقل مند کو اس قدر بھی کام نہیں آسکتیں ؟ کہ وہ ان سے اپنے اللہ کی جو احد ہے، صمد ہے، فرد ہے، واحد ہے، لا شریک ہے، قادر وقیوم ہے، باقی اور کافی ہے اس ذات…
Read the full tafseer →74۔ اوپرے کے گیارہ رکوعوں میں حضرت یوسف کا قصہ ختم ہوگیا، اگر وحی الہی کا مقصد محض قصہ گوئی ہوتا تو اسی جگہ تقریر ختم ہوجانی چاہیے تھی، مگر یہاں تو قصہ کسی مقصد کی خاطر کہا جاتا ہے، اور اس مقصد کی تبلیغ کے لیے جو موقع بھی مل جائے اس سے فائدہ اٹھانے میں دریغ نہیں کیا جاتا، اب چونکہ لوگوں نے خود نبی کو بلایا تھا اور قصہ سننے کے لیے کان متوجہ تھے اس لیے ان کے مطلب کی بات ختم کرتے ہی چند جملے اپنے مطلب کے بھی کہہ دیے گئے اور غایت درجہ اختصار کے ساتھ ان چند جملوں ہی میں نصیحت اور دعوت کا سارا مضمون سمیٹ دیا گیا۔
75۔ اس سے مقصد لوگوں کو ان کی غفلت پر متنبہ کرنا ہے، زمین اور آسمان کی ہر چیز بجائے…
Read the full tafseer →وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ یعنی یہ لوگ صرف یہی نہیں کہ کسی ناصح کی نصیحت ضد اور ہٹ دھرمی سے نہیں سنتے بلکہ ان کا تو حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی جو کھلی کھلی نشانیاں آسمان و زمین میں ہر وقت سامنے رہتی ہیں ان پر بھی یہ غفلت و اعراض سے گذرے چلے جاتے ہیں ذرا دھیان نہیں دیتے کہ یہ کس کی قدرت و عظمت کی نشانیاں ہیں آسمان و زمین میں حق تعالیٰ شانہ کی خدائی و حکمت وقدرت کی نشانیاں بیشمار ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ پچھلی قوموں پر جو عذاب آئے اور ان کی الٹی ہوئی یا برباد کی ہوئی بستیاں ان کی نظروں سے گذرتی مگر ان…
Read the full tafseer →وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ۔ نشانیوں کے مطالبہ کا جواب : یعنی ان کے ایمان نہ لانے میں اس چیز کو بھی کوئی دخل نہیں ہے کہ ان کے طلب کے مطابق ان کو کوئی نشانی نہیں دکھائی جای۔ اصل یہ ہے کہ نشانیوں کو دیکھنے اور ان سے عبرت حاصل کرنے والی آنکھیں ہی ان کے پاس موجود نہیں ہیں، ورنہ آسمان و زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ گزرتے ہیں، اگر ان کے پاس آنکھیں ہوتیں تو یہ ان کو دیکھتے اور ان سے عبرت حاصل کرتے۔ مطلب یہ ہے کہ اس پہلو سے بھی نہ قصور تمہارا ہے اور نہ قرآن کا بلکہ اصل بیماری خود ان کے اپنے اندر ہے کہ وہ آنکھیں…
Read the full tafseer →15۔ 1 آسمان اور زمین کی پیدائش اور ان میں بیشمار چیزوں کا وجود، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایک خالق و صانع ہے جس نے ان چیزوں کو وجود بخشا ہے اور ایک مدبر ہے جو ان کا ایسا انتظام کر رہا ہے کہ صدیوں سے یہ نظام چل رہا ہے اور ان میں کبھی آپس میں ٹکراؤ اور تصادم نہیں ہوا لیکن لوگ ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے یوں ہی گزر جاتے ہیں ان پر غو و فکر کرتے ہیں اور نہ ان سے ان کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–109
66: یہ کافروں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی فرشتہ ہمارے پاس رسول بنا کر کیوں نہیں بھیجا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
آیت نمبر 103 تا 107
رسول اللہ ﷺ بڑی شدت کے ساتھ یہ چاہتے تھے کہ آپ کی قوم ایمان لے آئے۔ آپ چاہتے تھے کہ آپ جو بھلائی لے کر آئے ہیں وہ ان تک پہنچ جائے اور وہ محروم بھی نہ رہیں ، نیز آپ کو اپنی برادری پر ترس آ رہا تھا کہ اگر وہ شرک کی حالت پر ہی رہے تو دنیا میں بھی ان کو روز بد دیکھنا ہوگا اور آخرت میں وہ دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ تو انسانی دلوں کے بہت ہی قریب ہے ، وہ علیم وخبیر ہے۔ وہ انسانوں کے مزاج اور ان کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ کو بتلایا جاتا ہے کہ آپ کی یہ حرص اور یہ شدید خواہش ان کو اسلام کی طرف راغب نہ کرسکے گی ، اور ان میں سے اکثر مشرک ہی…
Read the full tafseer →6 یعنی جس طرح آیات تنزیلیہ سن کر آپ پر ایمان نہیں لاتے۔ ایسے ہی آیات تکوینیہ دیکھ کر خدا کی توحید کا سبق حاصل نہیں کرتے اصل یہ ہے کہ ان کا سننا اور دیکھنا محض سرسری ہے۔ آیات اللہ میں غور وفکر کرتے تو کچھ فائدہ پہنچتا۔ جب دھیان نہیں تو ایمان کہاں سے ہو۔
Read the full tafseer →آیت 105 وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ
یہ لوگ زمین و آسمان کی وسعتوں میں اللہ تعالیٰ کی بیشمار نشانیوں کو بار بار دیکھتے ہیں مگر کبھی ان پر غور کرکے سبق حاصل نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →100 یعنی اگر قرآن کی آیات میں غور نہیں کرتے تو کائنات کی نشانیوں میں غور کرلیں تب بھی انھیں اللہ کی معرفت حاصل ہوسکتی ہے کائنات میں بکھری ہوئی لاتعداد نشانیاں ان کے سامنے موجود ہیں مگر یہ ادھر توجہ ہی نہیں کرتے جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ اللہ کی معرفت یا ہدایت کے طالب ہی نہیں۔
Read the full tafseer →189۔ یعنی نہ ان پر یہ توجہ کرتے ہیں۔ اور نہ ان سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ اے لایعتبرون بھا (کشاف) ولا یلتفتوا الیھا (کشاف) (آیت) ” یمرون “۔ ھم کی ضمیریں کافروں اور منکروں کے لئے ہیں۔ (آیت) ” وکاین من ایۃ “۔ نشانیوں سے مراد توحید وقدرت الہی پر دلالت کرنے والے واقعات و حوادث کائنات ہیں۔ (آیت) ” یمرون علیھا “۔ یعنی وہ واقعات و حوادث ان منکرین آخرت کے علم ومشاہدہ میں آتے رہتے ہیں۔ ای یشاھد ونھا (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–111
آیت نمبر 105 تا 111
ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں خدا کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی بیشمار نشانیاں ہیں ان کو دیکھتے ہوئے منہ موڑ کر گذر جاتے ہیں ان میں غور و فکر نہیں کرتے اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان رکھنے یعنی اس کو خالق و رازق تسلیم کرنے کے باوجود بتوں کی بندگی کرکے مشرک ہیں اور یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے تلبیہ میں کہا کرتے تھے لبیک لاشریک لک الاشریکا ھو لک تملکہ وما ملک (ترجمہ) ہم تیرے حضور میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے کہ اس کا تو مالک ہے اور اس کا بھی تو مالک ہے جس کا وہ مالک ہے اور وہ الا شریکا سے اصنام مراد لیتے تھے، کیا وہ اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر…
Read the full tafseer →وکاین من ایۃ فی السموت والارض یمرون علیھا وھم عنھا معرضون : اور بہت سی نشانیاں آسمانوں اور زمین میں ہیں جن پر ان کا گذر ہوتا رہتا ہے اور وہ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے
Read the full tafseer →(105) اور بہت سی نشانیاں ہیں، آسمانوں میں جیسا کہ چاند، سورج، ستارے وغیرہ اور زمین میں جیسا کہ پہاڑ، دریا، درخت، جانور، وغیرہ جن پر اہل مکہ کا گزر ہوتا رہتا ہے اور وہ ان کی طرف توجہ اور غور نہیں کرتے، بلکہ الٹا جھٹلاتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ۔۔ : ”وَكَاَيِّنْ“ کاف تشبیہ اور ”اَیٌّ“ کا مرکب ہے، معنی اس کا ہے کتنی ہی، مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد ذکر ہونے والی چیز اتنی زیادہ ہے کہ اس کا شمار نہیں ہوسکتا۔ ”اٰیَةٍ“ نشانی سے مراد ایسی عجیب چیز ہے جو توجہ کو اپنی طرف کھینچ لے، اس طرح کہ وہ بھولنے نہ پائے، جیسے کہتے ہیں : ”فَلَانٌ آیَۃٌ فِي الذَّکَاءِ“ یعنی فلاں شخص ذہانت میں آیت ہے، یعنی اتنا ذہین ہے کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے۔ توحید کی کچھ آیات تنزیلیہ ہیں جو نبی ﷺ پر اتریں اور بیشمار کونیہ ہیں جو کائنات کے ذرے ذرے میں بکھری پڑی ہیں۔ ”یَمُرُّوْنَ“ گزرنے سے مراد صرف یہی نہیں کہ چلتے ہوئے گزرتے ہیں، کیونکہ آسمان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
آیت نمبر 105 تا 108
قولہ تعالیٰ ۔ وکاین من اٰیۃ فی السٰوٰت الارض خلیل اور سیبویہ نے کہا : یہ ای ہے اس پر کاف تشبیہ کا داخل ہوا تو این بن گیا، یہاں یہ کم کے معنی میں ہے سورة آل عمران میں اس کے حوالے سے گفتگو گرزچ کی ہے اور السمٰوٰت والارض کے حوالے سے سورة بقرہ میں بحث گزر چکی ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ آیات گزشتہ امتوں کی سزاؤں کے آثار ہیں، یعنی وہ غافل تھے اور ان میں غور و فکر سے اعراض کرتے تھے۔ عکرمہ اور عمرو بن فائد نے والارض کو مرفوع پڑھا ہے اس صورت میں یہ مبتدا ہوگا اور اس کی خبر یمرون علیھا ہوگی۔ سدی نے فعل کو مضمر مانتے ہوئے والاض پڑھا ہے۔ ان دونوں قرأتوں کے مطابق وقف السمٰوٰت پر ہوگا۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–106
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنت لدیھم اذا اجمعوا امرھم وھم یمکرون “ سے مراد یعقوب کے بیٹے ہیں جب انہوں نے یوسف کے ساتھ مکر کررہے تھے۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنت لدیہم “ یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وماکنت لدیھم “ آپ اس وقت دن کے پاس موجود نہیں تھے۔ جب وہ ان کو کنویں کی گہرائی میں ڈال رہے تھے (آیت) ” وھم یمکرون “ اور وہ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ مکر کر رہے تھے۔
3:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وکاین میں ایۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ کتنی…
Read the full tafseer →[وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ : اور کتنی ہی نشانیاں ] [ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : آسمانوں اور زمین میں ہیں ] [ يَمُرُّوْنَ : یہ لوگ گزرتے ہیں ] [ عَلَيْهَا : جن پر سے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [هُمْ : وہ لوگ ] [ عَنْهَا : ان سے ] [ مُعْرِضُوْنَ : اعراض کرنے والے ہوتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
یہ لوگ بہت سی آیات تکوینیہ پر گزرتے ہیں مگر ایمان نہیں لاتے
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمانے کے بعد (جو آپ کی نبوت پر واضح دلیل ہے) مخاطبین کا حال بیان فرمایا کہ جن لوگوں کو توحید سے اور آپ کی رسالت پر ایمان لانے سے عناد ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے بہت سی تکوینی نشانیاں دیکھتے ہیں لیکن ایمان نہیں لاتے آسمان میں نشانیاں ہیں مثلاً ستارے ہیں اور خود آسمان کا وجود بھی اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کی صفت تخلیق پر دلالت کرتا ہے ‘ جس میں اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کو سب ہی تسلیم کرتے ہیں ‘ اسی طرح زمین اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانی ہے اور اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ‘ ان سب نشانیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
خاتمہ سورت بر اثبات رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید منکرین وبیان حقانیت کتاب مبین
قال اللہ تعالیٰ ذلک من انبیاء الغیب نوحیہ الیک .... الیٰ .... وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون
(ربط) یہ سورت ان سائلین کے جواب میں نازل ہوئی جنہوں نے آپ ع صلی اللہ علیہ سے بغرض امتحان یوسف (علیہ السلام) کا قصہ دریافت کیا تھا اب خاتمہ سورت پر یہ بتلاتے ہیں کہ یہ قصہ آپ ﷺ کی نبوت کی کس طرح دلیل بنا چناچہ فرماتے ہیں کہ احسن القصص یعنی یوسف (علیہ السلام) کا قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کے علم کا سوائے وحی خداوندی کے کوئی ذریعہ نہیں ہم صرف وحی کے ذریعہ سے آپ ﷺ کو یہ قصہ بتلاتے ہیں اور یہ آپ ﷺ کی نبوت کی دلیل قاطع ہے کیونکہ آپ ﷺ تو امی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
89:۔ اس تفصیلی عقلی دلیل کے علاوہ زمین و آسمان کے عجائب مخلوقات اور غرائب احوال میں توحید کے بیشمار دلائل موجود ہیں جو ہر وقت ان کے سامنے رہتے ہیں مگر وہ ان میں تدبر و تفکر نہیں کرتے۔ ” وَ مَا یُؤْمِنُ الخ “: اور ان میں اکثر لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کو مانتے ہیں مگر اس کے باوجود اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ شرک یہ نہیں کہ اللہ کو یا اس کی بعض صفات کو نہ مانا جائے بلکہ شرک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کو مانتے ہوئے غیر اللہ کو اس کی صفتوں میں شریک مانا جائے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے علاوہ اللہ کے نیک بندوں (انبیاء و ملائکہ (علیہم السلام) اور اولیاء کرام) کو بھی عالم الغیب، حاضر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
یوسف (علیہ السلام) کی تدفین
یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کا ذکر کیا انہوں نے نہایت عجز و انکساری کے ساتھ بارگاہ رب العزت میں درخواست کی کہ ان کی موت اسلام پر آئے وہ نیک لوگوں میں شامل ہوجائیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وفات کے تقریباً ربع صدی بعد یہ دعا کی تھی جبکہ آپ کا دل اس دنیا سے اچاٹ ہو کر آخرت کی طرف زیادہ راغب ہوچکا تھا۔ پھر جب آپ کی وفات ہوگئی تو تاریخی روایات کے مطابق آپ کو تابوت میں بند کر کے دریائے نیل کے بالائی علاقے میں دفن کردیا گیا مگر آپ کی وصیت یہ تھی کہ اگر بنی اسرائیل کو کسی وقت مصر سے نکلنا پڑے تو…
Read the full tafseer →وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ 105
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع .
الایۃ ۔
اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
1 ؎ یمرون علیہا کا لفظی ان پر سے گزرنا ہے مگر مراد مشاہدہ کرنا ہے یعنی ہمارے آسمان اور زمین میں بیشمار نشان قدرت ہیں جن کو دیکھ کر ایمان نہیں لاتے بلکہ منہ پھیر لیتے ہیں اور توجہ نہیں کرتے 12 منہ
Read the full tafseer →وَکَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْھَا وَھُمْ عَنْہَا مُعْرِضُوْنَ ۔
(سورۃ یوسف : 105)
(آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اس حال میں کہ ان سے اعراض کررہے ہوتے ہیں۔ )
مشرکین کے ایمان نہ لانے کا حقیقی سبب
گزشتہ رکوع کے اختتام پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعات بھی اختتام کو پہنچ گئے۔ سوال بنی اسرائیل اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں تھا۔ اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ اسی رکوع کے اختتام پر سورة یوسف ( علیہ السلام) ختم کردی جاتی لیکن مزید ایک رکوع کا اضافہ ہمیں یہ بتلاتا ہے کہ قرآن کریم انبیائے کرام کے واقعات یا تاریخی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں نے اہل مکہ کو جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے اس لیے سوال کرنے کو کہا کہ اگر آپ حقیقتاً نبی ہیں تو جواب دے پائیں گے۔ بصورت دیگر جھوٹے ثابت ہوں گے۔ اس واقعہ کا اختتام اس بات پر کیا جارہا ہے کہ یہ واقعہ ہی عبرت کی نشانی نہیں بلکہ زمین و آسمان اور آفاق میں بیشمار نشانیاں ان کے لیے موجود ہیں۔ جنہیں دیکھ کر یہ لوگ رب کی ذات کا اقرار کرتے ہیں۔ مگر رب ماننے کے باوجود اسے ایک الٰہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
نبی اکرم ﷺ کے مخالفین میں بالخصوص مشرکین مکہ کی حالت یہ تھی کہ پہلے وہ آپ ﷺ سے دلیل مانگتے جب انھیں دلیل دی جاتی، پھر اس سے یکسر اعراض کردیتے…
Read the full tafseer →نشانہائے عبرت تو بہت ہیں مگر عبرت حاصل کرنے والے کم ہیں :
105: وَکَاَ یِّنْ مِّنْ اٰیَۃٍ (کتنی ہی نشانیاں ہیں) علامتیں ہیں جو خالق کی خالقیت اور صفات و توحید پر دلالت کرنے والی ہیں۔ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْھَا (آسمانوں اور زمین میں جن پر ان کا گزر ہوتا ہے) ان نشانات پر نمبر 2۔ زمین پر (جنکے پاس ان کا گزر ہوتا ہے۔ وہ ان کا آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ وَھُمْ عَنْھَا ( اور وہ ان آیات سے) مُعْرِضُوْنَ (اعراض کرنے والے ہیں) ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔ اس سے مراد ہلاک ہونے والی امتوں کے آثار اور عبرتناک مقامات جن کو وہ آتے جاتے دیکھتے تھے۔
Read the full tafseer →105۔” وکابن “ اور کتنی ” من ایۃ “ عبرت اور دلالت ” فی السموات والارض یمرون علیھا وھم عنھا معرضون “ نہ ان میں غور کرتے ہیں اور نہ ان سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →105۔ اس آیت میں اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ آسمان و زمین میں بیشمار نشانیاں ہیں جو اللہ جل جلالہ کی وحدانیت پر دلیل ہیں جس سے خداوند عالم کا خالق رزاق ہونا ثابت ہوتا ہے ضحاک کہتے ہیں کہ آسمان کی نشانیاں سورج، چاند، تارے، بادل ہیں اور زمین کی نشانیاں ساری مخلوق خداوند جل جلالہ کی ہے اور دریا، نہریں، ندیاں، پہاڑ، ملک، قصبے، گاؤں، جھیل، ٹاپور اور دوسری بہت سی نشانیاں ہیں جن پر انسان کا گزر ہوتا ہے اور دن میں بارہا انسان انہیں دیکھتا ہے مگر اس میں ذرا بھی غور نہیں کرتا بلکہ اسے غافل رہتا ہے۔ مصحف عبد اللہ بن مسعود میں یمرون علیھا کی جگہ یمشون علیھا ہے مراد اس سے یہ ہے کہ پہلی امتوں کے آثار اور ان…
Read the full tafseer →(آیت) ” اور کتنی ہی “ (آیت) ” نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں، جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے “ جو توحید الٰہی پر دلالت کرتی ہیں (آیت) ” اور یہ ان سے روگردانی کرتے ہیں۔ “
Read the full tafseer →کائنات میں تفکر کی دعوت
قول باری ہے (وکاین من ایۃ فی السموت والارض یمرون علیھا وھم عنھا معرضون، زمین اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے) یعنی زمین و آسمان میں کتنی نشانیاں موجود ہیں جن کے بارے میں یہ لوگ غور و فکر نہیں کرتے اور نہ ہی ان سے توحید باری پر استدلال کرتے ہیں۔ آیت میں اللہ کی آیات اور اس کے دلائل سے اس کی ذات پر استدلال کرنے پر ابھارا گیا ہے۔ نیز کائنات کے نظام پر غور و فکر کرنے اور اس پر اس زاویے سے نظر ڈالنے کی ترغیب دی گئی ہے کہ اس نظام کو ایک مدبر ذات چلا رہی ہے جسے اس کائنات پر پوری قدرت حاصل ہے اور جو اس کے ایک ایک ذرے کا…
Read the full tafseer →170۔ نشانیوں کے مطالبے کا جواب :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ایسی ہیں جن پر ان لوگوں کا گزر ہوتا رہتا ہے مگر یہ ان کے بارے میں غور و فکر سے کام نہیں لیتے۔ سو نشانیوں سے تو یہ کائنات بھری پڑی ہے مگر فقدان غور و فکر کا ہے۔ پس اس ارشاد میں دراصل زمین و آسمان کی اس کائنات میں پھیلی بکھری گوناگوں نشانیوں میں غور و فکر کی دعوت ہے۔ مگر یہ لوگ ان سے اور کوئی سبق نہیں لیتے۔ جس طرح کہ آج کل بھی آثار قدیمہ کی حفاظت کے لیے کروڑوں کے خرچے تو کئے جارہے ہیں اور کتنے کتنے سیاح اور عام لوگ ان کو دیکھنے آتے جاتے ہیں مگر عبرت گیری اور پندپذیری کا جو اصل مقصد تھا اس کی طرف کسی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
اللہ، رسول اور قرآن کی سچائی کا ثبوت
تشریح : سورة یوسف کا قصہ پچھلے گیارہ رکوعوں میں ختم ہوگیا ہے۔ اس سورت کا شان نزول یہی تھا کہ اہل قریش جو آپ پر ایمان نہ لانا چاہتے تھے انہوں نے آپ کو آزمانے کے لیے کہا کہ اچھا اگر آپ رسول ہو تو بتائو کہ بنی اسرائیل کس طرح مصر میں آباد ہوئے ؟ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا پورا قصہ بتا دیا جس میں بیشمار نصیحت کی باتیں ہیں اور اس کا ثبوت اور وجوہات بھی بڑی تفصیل سے بتا دی گئی ہیں کہ بنی اسرائیل کس طرح اور کب مصر میں پہنچے۔ یہ سوال اہل قریش نے اس لیے نہیں کیا تھا کہ معقول جواب ملنے پر وہ سب ایمان لے آئیں گے بلکہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–111
آیات 105 تا 111
اسرار ومعاف
اگریہ لوگ نہیں مان رہیتو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ارض وسما میں بیشمار چیزیں اللہ کی عظمت پہ گواہی دے رہی ہیں اور زمین کا ذرہ ذرہ یا ہر ہر تنکا اور پھول پتہ اس کی عظمت کی دلیل ہے یا پھر پہلے لوگوں کی تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈر بھی کفر اور گناہ کے انجام کی خبر دے رہے ہیں اور ان لوگوں کو شب وروز انہی اشیاء سے واسطہ بھی پڑتا ہے ۔ ایسی ہی جگہوں سے ان کا گزر بھی ہوتا ہے مگر اس بات کی طرف ان کا دھیان ہی نہیں جاتا بلکہ عقلا عاجز ہو کر اللہ کی ذات کا اقرار بھی کرتے ہیں تو ساتھ بہت سے اوصاف میں دوسروں کو شریک کرکے گرفتار بلاہوجاتے ہیں ۔ اور یہ تو ایسے بےفکر ہیں کہ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
ف 9 ۔ اس آیت کے مفہوم میں ہر وہ شخص داخل ہے جو زبان سے اللہ تعالیٰ کے خالق، مالک اور رازق ہونے کا اقرار کرے مگر اس کے باوجود مشرک کا مرتکب ہو جیسے قبر پرستی، تعزیہ پرستی وغیرہ ریاکار مسلمان بھی اس میں داخل ہیں۔ حدیث میں ہے کہ ریاکاری شرک خفی ہے۔ (روح) ۔ افسوس کہ ہمارے زمانے میں بھی بہت سے نام کے مسلمان شرک میں مبتلا ہوگئے ہیں جو تعویز گنڈے پر اعتقاد رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بس ان میں شفا ہے۔ (از سلفیہ) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
(12:105) کاین۔ کتنی ہی، بہت سی۔ کثیر تعداد۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو۔ 3:146 ۔
یمرون علیھا۔ جن پر یہ گذرتے ہیں۔ (کثیر التعداد نشانیاں جو سفر زندگی میں ان کے راستہ میں پڑتی ہیں۔ اور یہ ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں)
معرضون۔ روگردانی کرنے والے۔ منہ موڑ لینے والے۔ اعراض کرنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
لغات القرآن آیت نمبر 105 تا 108
کاین کتنے ہی کتنی ہی، ایۃ نشانی یمرون وہ گذرتے ہیں معرضون وہ منہ پھیرنے والے ہیں ان تاتی یہ کہ آجائے غاشیۃ ڈھانپ لینے والی ، آفت الساعۃ قیامت، گھڑی بغتہ اچانک لایشعرون وہ شعور نہیں رکھتے ہیں سبیلی میرا راستہ ادعوا میں بلاتا ہوا بصیرۃ دیکھ بھال کر، غور و فکر انا میں اتبعنی میری اتباع کی، میرے پیچھے چلے سبحن پاک ذات، بےعیب ذات
تشریح آیت نمبر 105 تا 108
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر ہر انسان کو غور و فکر اور تدبر کرنے پر زور دے کر فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے کائنات میں قدم قدم پر اپنی اتنی نشانیاں بکھیر دی ہیں کہ اگر انسان ان پر ذرا بھی غور کرے تو اللہ کی ذات وصفات…
Read the full tafseer →اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں اور اس کی وحدانیت کے دلائل اور اس کی حکمت کی علامات اور اس وجود کے گواہ بہت سے آسمان و زمین میں موجود ہیں، اور یہ کفار ان سب کو دیکھتے ہیں اور پھر اعتراض کرتے ہیں نہ اس میں غور کرتے ہیں نہ ان سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
[36] یعنی جو لوگ انکار خدا کے نہیں بلکہ اقرار خدا کے مدعی ہیں ان کا بھی عموماً حال یہ ہے کہ ایک طرف تو خدا کو بھی مانے جاتے ہیں اور دوسری طرف اس کے شریک دیوی اور دیوتا بھی قرار دئیے چلے جاتے ہیں جو صاف الوہیت کے منافی ہے۔ ہمارے ہاں کے '' اہل قبور '' ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ مزارات و مقابر سے بالکل عبادت کا معاملہ رکھنا، ان پر چادریں چڑھانا، ان پر نذریں ماننا، نفع نقصان انھیں سے وابستہ کرنا، کیا یہ سب ان لوگوں کو اس آیت کی زد میں نہیں لے آتا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–108
اہل حق کا مسلک :
(ف 1) علی بصیرۃ سے مراد یہ ہے کہ پیغمبر اور اس کے ماننے والوں کا مسلک دلیل اور برہان پر مبنی ہوتا ہے ، وہ جن چیزوں پر اعتقاد رکھتے ہیں ، ان کو خوب سمجھتے اور جانتے ہیں وہ دنیا میں بصیرت و دانش کی تبلیغ کے لئے تشریف لاتے ہیں ، اور دماغوں سے جہل ونادانی اور تقلید آباء کے زنگاروں کو یک قلم دور کردیتے ہیں ، اس لئے ان سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے ، کہ خود ان کے اپنے پاس دلیل وعقل کی روشنی نہ ہوگی ، اسلام تو نام ہی عقل و فکری بالیدگی کا ہے ، اس کے کشت زار ہدایت میں تقلید وجہل کا زقوم کبھی پیدا نہیں ہوتا ، اور نہ مسلمان بےعقلی کی باتوں کو تسلیم کرتا ہے ۔
حل لغات :
غاشیۃ : ڈھانپ لینے…
Read the full tafseer →105 ۔ نبوت اور قرآن کے بعد توحید کا ذکر فرمایا اور آسمان اور زمین میں خدا کی قدرت کی بہت سی ایسی نشانیاں ہیں کہ جن پر یہ لوگ گزرتے ہیں اور توجہ نہیں کرتے ، یعنی زمین و آسمان میں قدرت کے بیشمار دلائل توحید موجود ہیں جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے اور یہ ان کو دیکھتے ہیں مگر ان پر ذرا توجہ نہیں کرتے ، آسمان میں چاند ، سورج ، ستارے ، بارش وغیرہ۔ زمین میں حیوانات ، جمادات ، نباتات ہر چیز ان میں سے خدا کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی ہے لیکن جب کوئی غور و فکر سے کام لے تب ہدایت ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–106
ف 3۔ امر یقینی ہے کہ آپ نے کسی سے یہ قصہ سنا سنایا دلیل ہے نبوت کی اور صاحب وحی ہونے کی۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! آسمان و زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جو دیکھ کر لوگ گزر جاتے ہیں
۔ 123 کائنات کیا ہے ؟ سراسر حقیقت کی نشانی ہی تو ہے غور کرو کہ آسمان و زمین کا کونسا گوشہ ہے جو اس کی نشانیوں سے خالی ہے لیکن ان پر یہ لوگ کبھی توجہ نہیں کرتے اور نہ ہی ان سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ ان نشانیوں سے مراد کیا ہے ؟ مراد توحید الٰہی پر اور قدرت الٰہی پر دلالت کرنے والے واقعات و حوادث کائنات ہیں کہ وہ واقعات ، حوادث ان منکرین آخرت کے علم و مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں اور شب و روز انسان کو دعوت فکر و عبرت دے رہے ہیں لیکن بایں ہمہ بندگان غفلت کا کیا حال ہے ؟ یہ ہے کہ بس ان پر سے گزر جاتے ہیں اور نگاہ اٹھا کر…
Read the full tafseer →Then, in verse 105, the attitude of the disbelievers is portrayed by saying:
وَكَأَيِّن مِّنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ
How many a sign there is in the heavens and the Earth which they pass by and they are heedless to it.
The sense is that these people are not of the kind who would simply not listen to a well-wisher out of their obstinacy. They are worse. They would not even learn from the very open signs of the perfect power of Allah Ta` ala visible to them all the time, yet keep passing by them with-out paying any attention and…
Read the full tafseer →74. Now that the story of Prophet Joseph (peace be upon him) has come to an end, the Quran has made use of the opportunity for conveying its basic message, for it does not tell stories merely for the sake of storytelling. As they themselves had invited the Prophet and were attentively listening to the story, the essence of the message was presented in a few concise sentences (Ayats 105-111).
75. This is to arouse people from their apathy towards the signs of Allah that lie scattered all over the earth and the heavens and to urge them to make a search for the reality by making right…
Read the full tafseer →