Yusuf 12:104

Yusuf · from ayah 104

12:104

وَمَا تَسْـَٔلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ ؕ— اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ۟۠وَمَا تَسۡـئَلُهُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ‌ؕ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّـلۡعٰلَمِيۡنَ

اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلا بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ قرآن اور کچھ نہیں تمام عالم کے لیے نصیحت ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And you do not ask of them for it any payment. It is not except a reminder to the worlds.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 11 of surah · Ruku 5 of juzع

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:104

حالانکہ تم اس خدمت پر ان سے کوئی اجرت بھی نہیں مانگتے ہو یہ تو ایک نصیحت ہے جو دنیا والوں کے لیے عام ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلا بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ قرآن اور کچھ نہیں تمام عالم کے لیے نصیحت ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ ان سے اس پر کوئی اجرت طلب نہیں کر رہے ہیں۔ یہ تو تمام دنیا کے لئے نری نصیحت ہی نصیحت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

حالانکہ تم ان سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت نہیں مانگتے۔ یہ تو دنیا جہان کے سب لوگوں کے لیے بس ایک نصیحت کا پیغام ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم اس پر ان سے کچھ اجرت نہ مانگتے یہ تو نہیں مگر سارے جہان کو نصیحت،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ ان سے اس (دعوت و تبلیغ) پر کوئی صلہ تو نہیں مانگتے، یہ قرآن جملہ جہان والوں کے لئے نصیحت ہی تو ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

حالانکہ تو ان سے اس پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا۔ یہ تو جہانوں کے لیے ایک نصیحت کے سوا کچھ نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ اس (تبلیغ) پر ان سے کچھ بھی نہیں مانگتے یہ تو تمام اہل عالم کے لئے نصیحت ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم اس پر ان سے کوئی معاوضہ تو نہیں طلب کر رہے ہو۔ یہ تو بس دنیا والوں کے لیے ایک یاد دہانی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور آپ (تبلیغ حق کے) اس کام پر ان لوگوں سے کسی بھی طرح کا کوئی اجر نہیں مانگتے، یہ تو محض ایک ایسی عظیم الشان نصیحت ہے جو سارے جہانوں کے بھلے کے لئے (بھیجی گئی) ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ ان سے اس (تبلیغ) پر کچھ معاوضہ تو مانگتے نہیں یہ (قرآن) تو بس ایک نصیحت ہے دنیاجہان کے لئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی !) آپ اس پر ان سے کوئی اجر تو نہیں مانگ رہے یہ (قرآن) تو تمام جہان والوں کے لیے ایک یاد دہانی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آپ ان سے اس (خیر خواہی) کا کوئی بدلہ بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ قرآن اور کچھ نہیں مگر تمام عالم کے لیے نصیحت ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

You do not seek from them any recompense for your service. This is merely an admonition to all mankind.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And you do not demand from them any reward against it. It is nothing but a reminder for all the (people of the) worlds.

— Muhammad Taqi Usmani

And you do not demand from them any reward against it. It is nothing but a reminder for all the (people of the) worlds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And no reward you ask of them for it; it (the Qur'an) is no less than a Reminder unto the `Alamin (men and Jinn).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thou askest them no fee for it. It is naught else than a reminder unto the peoples.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And you do not ask of them for it any payment. It is not except a reminder to the worlds.

— Saheeh International

You do not ask any reward for your preaching (of Our guidance to them). This (Quran) is a guide for the people of the world (human beings and jinn).

— Muhammad Sarwar

And you do not ask them for a reward for this; it is nothing but a reminder for all mankind.

— Muhammad Habib Shakir

And thou askest them not any hire therefor; it is but an admonition unto the worlds.

— Abdul Majid Daryabadi

And no reward dost thou ask of them for this: it is no less than a message for all creatures.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:104

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 102–104

حضرت یوسف ؑ کا تمام و کمال قصہ بیان فرما کر کس طرح بھائیوں نے ان کے ساتھ برائی کی اور کس طرح ان کی جان تلف کرنی چاہی اور اللہ نے انہیں کس طرح بچایا اور کس طرح اوج وترقی پر پہنچایا اب اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ اور اس جیسی اور چیزیں سب ہماری طرف سے تمہیں دی جاتی ہیں تاکہ لوگ ان سے نصیحت حاصل کریں اور آپ کے مخالفین کی بھی آنکھیں کھلیں اور ان پر ہماری حجت قائم ہوجائے تو اس وقت کچھ ان کے پاس تھوڑے ہی تھا۔ جب وہ حضرت یوسف ؑ کے ساتھ کھلا داؤ فریب کر رہے تھے۔ کنویں میں ڈالنے کے لئے سب مستعد ہوگئے تھے۔ صرف ہمارے بتانے سکھانے سے تجھے یہ واقعات معلوم ہوئے۔ جیسے حضرت مریم ؑ کے قصے کو بیان فرماتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

73۔ اوپر کی تنبیہ کے بعد یہ دوسری لطیف تر تنبیہ ہے جس میں ملامت کا پہلو کم اور فہمائش کا پہلو زیادہ ہے، اس ارشاد کا خطاب بھی بظاہر نبی ﷺ سے ہے مگر اصل مخاطب کفار کا مجمع ہے اور اس کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اللہ کے بندو غور کرو، تمہاری یہ ہٹ دھرمی کس قدر بےجا ہے، اگھر پیغمبر نے اپنے کسی ذاتی مفاد کے لیے دعوت و تبلیغ کا یہ کام جاری کیا ہوتا یا اس نے اپنی ذات کے لیے کچھ بھی چاہا ہوتا تو بیشک تمہارے لیے یہ کہنے کا موقع تھا کہ ہم اس مطلبی آدمی کی بات کیوں مانی، مگر تم دیکھ رہے ہو کہ یہ شخص بےغرض ہے، تمہاری اور دنیا بھر کی بھلائی کے لیے نصیحت کر رہا ہے اور اس میں اس کا اپنا کوئی مفاد پوشیدہ نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَمَا تَسْــــَٔـلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ ۭ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ یعنی آپ جو کچھ ان کو تبلیغ کرنے اور صحیح راستے پر لانے کے لئے کوشش کرتے ہیں اس پر ان لوگوں سے کوئی معاوضہ تو نہیں مانگتے جس کی وجہ سے ان کو اس کے سننے یا ماننے میں کوئی دشواری ہو بلکہ آپ کا کلام تو خالص خیر خواہی اور نصیحت ہے تمام جہان والوں کے لئے اس میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ جب اس کوشش سے آپ کا مقصد کوئی دنیوی منفعت نہیں بلکہ ثواب آخرت اور قوم کی خیرخواہی ہے تو وہ مقصد آپ کا حاصل ہوچکا پھر آپ کیوں غمگین ہوتے ہیں

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَمَا تَسْــــَٔـلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ ۭ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی : یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو ان کے پیچھے آخر اپنے آپ کو اتنا پریشان کیوں رکھو۔ تم یہ نعمت مفت بانٹ رہے تھے، اس کا کوئی معاوضہ تو ان سے طلب نہیں کر رہے تھے کہ انہوں نے اس کو قبول نہ کیا تو اس سے تمہارے معاوضے میں کوئی کمی ہوجائے گی۔ محرومی ہے تو ان کی نہ کہ تمہاری۔ یہ قرآن تو بس خلق کے لیے ایک یاد دہانی ہے، جس اس کو بقول کرے گا اس کا فائدہ اسی کے لیے ہے، جو نہ قبول کرے گا اس کا خمیازہ وہ خود بھگتے گا، تمہاری ذمہ داری بس لوگوں تک اس کو پہنچا دینے کی ہے۔ اس کے بعد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14۔ 1 کہ جس سے ان کو یہ شبہ ہو کہ یہ دعوائے نبوت تو صرف پیسے جمع کرنے کا بہانہ ہے۔ 14۔ 2 تاکہ لوگ اس سے ہدایت حاصل کریں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار لیں۔ اب دنیا کے لوگ اگر اس سے آنکھیں پھیر رکھیں اور اس سے ہدایت حاصل نہ کریں تو لوگوں کا قصور اور ان کی بدقسمتی ہے، قرآن تو فی الواقع اہل دنیا کی ہدایت اور نصیحت ہی کے لئے آیا ہے۔ گر نہ بیند بروز شپرہ چشم چشمہ آفتاب را چہ گناہ

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 103–109

66: یہ کافروں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی فرشتہ ہمارے پاس رسول بنا کر کیوں نہیں بھیجا ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 103–107

آیت نمبر 103 تا 107 رسول اللہ ﷺ بڑی شدت کے ساتھ یہ چاہتے تھے کہ آپ کی قوم ایمان لے آئے۔ آپ چاہتے تھے کہ آپ جو بھلائی لے کر آئے ہیں وہ ان تک پہنچ جائے اور وہ محروم بھی نہ رہیں ، نیز آپ کو اپنی برادری پر ترس آ رہا تھا کہ اگر وہ شرک کی حالت پر ہی رہے تو دنیا میں بھی ان کو روز بد دیکھنا ہوگا اور آخرت میں وہ دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ تو انسانی دلوں کے بہت ہی قریب ہے ، وہ علیم وخبیر ہے۔ وہ انسانوں کے مزاج اور ان کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ کو بتلایا جاتا ہے کہ آپ کی یہ حرص اور یہ شدید خواہش ان کو اسلام کی طرف راغب نہ کرسکے گی ، اور ان میں سے اکثر مشرک ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی نہیں مانتے نہ مانیں آپ کا کیا نقصان ہے کچھ تبلیغ کی تنخواہ تو آپ ان سے مانگتے نہ تھے کہ وہ بند کرلیں گے نصیحت اور فہمائش تھی سو ہوگئی اور ہو رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 103–104

آیت 103 وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ ان منکرین حق نے اپنی طرف سے ایک سوال کیا تھا ہم نے اس کا مفصل جواب دے دیا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس قدر عمدہ اور خوبصورت جواب پا کر وہ لوگ ایمان بھی لے آئیں گے۔ نہیں ایسا نہیں ہوگا۔ ان میں سے اکثر لوگ آپ کی شدید خواہش کے باوجود بھی ایمان نہیں لائیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

99 کفار کی ہٹ دھرمی :۔ یعنی اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں۔ یہ قرآن صرف ان کے لیے نہیں بلکہ تمام اہل عالم کے لیے نصیحت ہے۔ انھیں نہیں تو کوئی دوسروں کو اس سے ایمان نصیب ہوجائے گا پھر اگر یہ نہیں مانتے تو آپ کا اس میں کچھ نقصان بھی نہیں۔ آپ ان سے کچھ معاوضہ تھوڑے مانگ رہے تھے جو یہ بند کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

188۔ یعنی اس کے اندر تو دنیا بھر کی نفع کی چیزیں جمع ہیں کوئی ذرا طلب کرکے دیکھے تو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 94–104

آیت نمبر 94 تا 104 ترجمہ : اور جب یہ قافلہ مصر کی آبادی سے باہر نکلا تو ان کے والد نے حاضرین میں سے ان سے جو ان کے بیٹے اور پوتوں میں سے موجود تھے کہا میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں اگر تم مجھے سٹھیایا ہوا قرار نہ دو تو تم میری تصدیق کروگے بادصبا نے باذن خداوندی یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو کو یعقوب تک تین دن کی یا آٹھ دن کی یا اس سے زیادہ کی مسافت سے پہنچا دیا تھا، تو حاضرین نے ان سے کہا واللہ تم تو اپنے پرانے خبط میں مبتلا ہو اس سے بیحد محبت کرنے اور اس سے ملاقات کی (شدید) خواہش کی وجہ سے باوجود عرصہ دراز گذر جانے کے، چناچہ جب خوشخبری دینے والا یہودا کرتہ لے کر آیا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما تسئلھم علیہ من اجر ان ھو الا ذکر للعلمین اور آپ ان سے اس کا کچھ معاوضہ تو طلب نہیں کرتے ‘ یہ تو صرف تمام جہان والوں کیلئے ایک نصیحت ہے۔ یعنی آپ کتنی ہی ان کے مؤمن ہونے کی خواہش کریں اور کتنے ہی معجزات کا اظہار کریں لیکن اللہ نے چونکہ ان کے کافر رہنے کا فیصلہ کردیا ہے ‘ اس لئے وہ ایمان نہیں لائیں گے اور آپ ان سے اس قرآن کو پیش کرنے یا خبریں بیان کرنے کی کوئی اجرت بھی تو نہیں مانگتے (کہ ان پر کچھ مالی بوجھ پڑتا ہو) یہ قرآن تو محض ایک عمومی نصیحت نامہ ہے (جس کو ماننے میں پیسے صرف کرنا نہیں پڑتے) جو اس کو نہ مانے گا تو اتمام حجت ہوجائے گا اور جو ایمان لانے والے ہیں ‘ ان کیلئے رحمت و بصیرت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(104) اور محمد ﷺ آپ تبلیغ توحید پر ان سے کچھ معاوضہ تو نہیں لیتے یہ قرآن تو تمام جنات اور انسانوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا تَسْــــَٔـلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ : یعنی ان کے ایمان نہ لانے کی ایک وجہ یہ ہوسکتی تھی کہ آپ ان سے اس تبلیغ پر اجرت مانگ کر ان پر بوجھ بن رہے ہوں، سو یہ بات ہے ہی نہیں۔ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ : اور یہ بھی نہیں کہ یہ نہ مانیں گے تو دین کا کچھ بگاڑ لیں گے، یہ قرآن اور اسلام صرف انھی کے لیے تو نہیں، یہ تو سارے جہانوں کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اور بندے لے آئے گا جو اس کا علم اٹھا لیں گے، باقی رہ گئے یہ لوگ تو اگر مانیں گے تو اپنے آپ کو فائدہ پہنچائیں گے اور نہ مانیں گے تو اپنا نقصان کریں گے، آپ ان کے رویے سے ہرگز رنجیدہ نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 102–104

آیت نمبر 102 تا 104 قولہ تعالیٰ ۔ ذٰلک من انباء الغیب مبتدا اور خبر ہے نوحیہ الیک خبر ثانی ہے۔ زجاج نے کہا : یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ذٰلک بمعنی الذی ہو اور نوحیہ الیک اس کی خبر ہو، یعنی الذی من انبائ الغیب نوحیہ إلیک یعنی اے محمد ! ﷺ حضرت یوسف کے معاملے میں سے غیب کی خبروں میں سے جو ہم نے آپ کے سامنے بیان کی ہیں۔ نوحیہ الیک یعنی ہم اس وحی کے ذریعے آپ کو سکھاتے ہیں۔ وما کنت لدیھم یعنی بھائی یوسف کے ساتھ آپ ان کے پاس نہیں تھے اذاجمعوا امرھم جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں پھینکنے پر وہ متفق ہوئے وھم یمکرون یعنی کنویں میں پھینکے کے سلسلہ میں وہ یوسف کے ساتھ مکر کررہے تھے یعنی وہ احوال آپ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 102–106

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنت لدیھم اذا اجمعوا امرھم وھم یمکرون “ سے مراد یعقوب کے بیٹے ہیں جب انہوں نے یوسف کے ساتھ مکر کررہے تھے۔ 2:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنت لدیہم “ یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وماکنت لدیھم “ آپ اس وقت دن کے پاس موجود نہیں تھے۔ جب وہ ان کو کنویں کی گہرائی میں ڈال رہے تھے (آیت) ” وھم یمکرون “ اور وہ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ مکر کر رہے تھے۔ 3:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وکاین میں ایۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ کتنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَا تَسْــــَٔـلُهُمْ : اور آپ ﷺ نہیں مانگتے ان سے ] [عَلَيْهِ : اس پر ] [ مِنْ اَجْرٍ : کوئی بھی معاوضہ ] [ ان : نہیں ہے ] [ هُوَ : یہ ] [ اِلَّا : مگر ] [ ذِكْرٌ: ایک یاد دہانی ] [ لِلْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے لئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 103–105

یہ لوگ بہت سی آیات تکوینیہ پر گزرتے ہیں مگر ایمان نہیں لاتے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمانے کے بعد (جو آپ کی نبوت پر واضح دلیل ہے) مخاطبین کا حال بیان فرمایا کہ جن لوگوں کو توحید سے اور آپ کی رسالت پر ایمان لانے سے عناد ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے بہت سی تکوینی نشانیاں دیکھتے ہیں لیکن ایمان نہیں لاتے آسمان میں نشانیاں ہیں مثلاً ستارے ہیں اور خود آسمان کا وجود بھی اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کی صفت تخلیق پر دلالت کرتا ہے ‘ جس میں اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کو سب ہی تسلیم کرتے ہیں ‘ اسی طرح زمین اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانی ہے اور اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ‘ ان سب نشانیوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 102–111

خاتمہ سورت بر اثبات رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید منکرین وبیان حقانیت کتاب مبین قال اللہ تعالیٰ ذلک من انبیاء الغیب نوحیہ الیک .... الیٰ .... وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون (ربط) یہ سورت ان سائلین کے جواب میں نازل ہوئی جنہوں نے آپ ع صلی اللہ علیہ سے بغرض امتحان یوسف (علیہ السلام) کا قصہ دریافت کیا تھا اب خاتمہ سورت پر یہ بتلاتے ہیں کہ یہ قصہ آپ ﷺ کی نبوت کی کس طرح دلیل بنا چناچہ فرماتے ہیں کہ احسن القصص یعنی یوسف (علیہ السلام) کا قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کے علم کا سوائے وحی خداوندی کے کوئی ذریعہ نہیں ہم صرف وحی کے ذریعہ سے آپ ﷺ کو یہ قصہ بتلاتے ہیں اور یہ آپ ﷺ کی نبوت کی دلیل قاطع ہے کیونکہ آپ ﷺ تو امی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 103–104

88:۔ آپ کے سچا ہونے اور اللہ تعالیٰ کا رسول برحق ہونے میں تو کوئی شک نہیں لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ محض ضد وعناد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔ آپ لاکھ چاہیں مگر وہ نہیں مانیں گے۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے آپ کا خیال تھا کہ جب مشرکین کے سوال پر میں یہ قصہ تفصیل سے بیان کردوں گا تو وہ ایمان لے آئیں گے مگر ایسا نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے بطور تسلیہ یہ آیت نازل فرمائی۔ ” ظن ان العرب لما سالتہ عن ھذہ القصۃ واخبرھم یومنون فلم یومنوا فنزلت الایۃ تسلیۃ للنبی ﷺ “ (قرطبی ج 9 ص 271) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو ہدایت دینا آپ کے اختیار و تصرف میں نہ تھا ” ای لیس تقدر علی ھدیۃ من اردت ھدایتہ “ (قرطبی) ۔ ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 101–104

ربط آیات حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ اختتام پذیر ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ نے یعقوب (علیہ السلام) اور آپ کے بیٹوں کا تصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ برادران یوسف نے آپ کو نہایت ظالمانہ طریقے سے وطن سے نکالا۔ وہ آپ کو باپ کی نظروں سے اوجھل کر کے حسد کی آگ کو بجھانا چاہتے تھے ، مگر خدا تعالیٰ کی تدبیر اپنا کام کر رہی تھی۔ بھائیوں کا یہ حسد اور بغض ہی یوسف (علیہ السلام) کے بام عروج تک پہنچنے کا سبب بن گیا۔ آپ نے مصر میں نظام حکومت سنبھالا ، قحط سالی میں حسن تدبیر سے نہ صرف مصر کو اس کے اثرات سے بچا لیا بلکہ دوسرے ملکوں کو بھی غلہ فراہم کیا۔ پھر آپ نے آخر میں اپنے والد گرامی اور پورے خاندان کو مصر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا تَسْــــَٔـلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ ۭ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ 104؀ۧ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا تَسْئَلُھُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ ط اِنْ ھُوَ اِلاَّ ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 104) (اور آپ ان سے اس ( تبلیغ و دعوت) پر کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کررہے ہو۔ یہ تو بس دنیا والوں کے لیے ایک یاددہانی ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ ﷺ کے لیے اس میں پریشانی کی کیا بات ہے کیونکہ آپ ﷺ تو ایمان کی نعمت مفت بانٹ رہے ہیں اور ان سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کررہے ہیں۔ وہ اگر اسے قبول نہیں کرتے تو وہ خود اللہ تعالیٰ کے دین سے محروم رہیں گے اور دنیا اور آخرت میں اس کا خمیازہ بھگتیں گے۔ آپ ﷺ کوئی کاروبار تو نہیں کررہے ہیں کہ آپ ﷺ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 102–104

فہم القرآن ربط کلام : اس سورة کی آیت : 7 میں اہل مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں جو سوال کیا ہے اگر تم غور کرو تو اس میں تمہارے لیے سامان عبرت ہے۔ پورا قصہ بیان کرکے اس کو مشرکین مکہ پر منطبق کردیا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان ہوا یہ ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے۔ جو آپ کے لیے غیب تھا۔ یعنی آپ اس واقعہ کو نہیں جانتے تھے، نہ آپ اس وقت موجود تھے جب برادران یوسف (علیہ السلام) نے ایک جگہ جمع ہو کر یہ سازش کی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں مکہ والوں نے آپ سے سوال کیا۔ جس کے جواب میں ہم نے تفصیلی سورت آپ پر نازل فرمائی۔ یاد رکھیں آپ جتنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

104: وَمَا تَسْئَلُھُمْ عَلَیْہِ (اور تم ان سے اس پر نہیں مانگتے) ہٗ سے مراد تبلیغ نمبر 2۔ قرآن پر مِنْ اَجْرٍ (کوئی مزدوری) بدلہ اِنْ ھُوَ اِلَّا ذِکْرٌ (یہ خالص ذکر ہے) یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصیحت ہے۔ لِّلْعٰلَمِیْنَ (جہان والوں کیلئے) اس میں اپنے ایک رسول کی زبان پر سے نجات کو طلب کرنے پر آمادہ کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

104۔” وما تسالھم علیہ “ تبلیغ رسالت اور اللہ کی طرف بلانے پر ” من اجر ان ھو “ نہیں ہے وہ قرآن ” الا ذکر اللعالمین ‘۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

104۔ جب اللہ پاک نے یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ بیان فرما دیا اور یہ بھی فرما دیا کہ یہ ساری باتیں غیب کی ہیں جو ہم نے تم کو بذریعہ وحی کے بتلائی ہیں جن سے تم اس سے پہلے بالکل ناواقف تھے تمہیں ذرا بھی یہ حال معلوم نہیں تھا اور جس وقت یہ قصہ گزرا اس وقت تم موجود نہ تھے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ تم کو یہ پہلی باتیں اس لئے بتلائی ہیں کہ لوگ اس سے عبرت پکڑیں جس سے دین و دنیا میں نجات پائیں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے اگرچہ پیغمبر ان کے ایمان کے لئے حرص بھی کرتے ہیں اب فرمایا کہ محمد ﷺ جو لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں اور بہتر و بھلائی کی طرف ان کو بلاتے ہیں اس کی کوئی مزدوری خلق سے نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

بنا بریں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اور آپ ان سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتے، یہ تو صرف جہانوں کے لئے نصیحت ہے “ اس کے ذریعے سے یہ نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ کون سی چیز فائدہ مند ہے، تاکہ اس پر عمل کریں اور کون سی چیز نقصان دہ ہے تاکہ اسے چھوڑ دیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 100–104

قول باری (ورفع ابویہ علی العرش۔ اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا) کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ حضرت یوسف کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا اور حضرت یعقوب نے ان کی بہن سے نکاح کرلیا تھا۔ سدی سے یہ تفسیر منقول ہے۔ حسن اور ابن اسحاق کا قول ہے کہ ان کی والدہ زندہ تھیں۔ سلیمان اور عبید اللہ بن شداد سے منقول ہے کہ خواب اور اس کی تعبیر کے وقوع پذیر ہونے کی درمیانی مدت چالیس برس تھی۔ حسن سے منقول ہے کہ یہ مدت اسی برس تھی۔ جبکہ ابن اسحاق کا قول ہے کہ یہ مدت اٹھارہ برس تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں تو پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اس بات کی تسلی کیوں حاصل نہیں کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

169۔ قرآن حکیم ایک عظیم الشان نصیحت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ (قرآن) تو ایک عظیم الشان نصیحت ہے سب جہانوں کے لیے سو جس نے اس کو قبول کیا اور مانا اس کا اپنا فائدہ۔ اور جس نے اس سے اعراض کیا اور منہ موڑا، اس نے اپنے ہی آپ کو خسارے میں ڈالا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بس نہ کسی کے ماننے سے اس کی عظمت میں اضافہ ہوجائے گا اور نہ کسی کے انکار اور اعراض سے اس کی شان میں کوئی فرق آسکے گا۔ یہ بہرحال حق و صداقت سراسر ذکر و نصیحت اور عین نور و برکت ہے۔ سو اس میں پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ یہ لوگ اگر نہیں مانتے تو اس میں نہ آپ کا کوئی قصور ہے اور نہ آپ کو اس بارے میں غمگین اور پریشان ہونے کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 102–111

اللہ، رسول اور قرآن کی سچائی کا ثبوت تشریح : سورة یوسف کا قصہ پچھلے گیارہ رکوعوں میں ختم ہوگیا ہے۔ اس سورت کا شان نزول یہی تھا کہ اہل قریش جو آپ پر ایمان نہ لانا چاہتے تھے انہوں نے آپ کو آزمانے کے لیے کہا کہ اچھا اگر آپ رسول ہو تو بتائو کہ بنی اسرائیل کس طرح مصر میں آباد ہوئے ؟ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا پورا قصہ بتا دیا جس میں بیشمار نصیحت کی باتیں ہیں اور اس کا ثبوت اور وجوہات بھی بڑی تفصیل سے بتا دی گئی ہیں کہ بنی اسرائیل کس طرح اور کب مصر میں پہنچے۔ یہ سوال اہل قریش نے اس لیے نہیں کیا تھا کہ معقول جواب ملنے پر وہ سب ایمان لے آئیں گے بلکہ اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 94–104

آیات 94 تا 104 اسرار و معارف ادھریعقوب (علیہ السلام) بےقراری سے منتظر تھے کہ واپس آنے والے کیا خبر لاتے ہیں لیکن اللہ کی شان کا ظہور عجیب طریقے سے ہوا۔ کشف اور مشاہدہ کہ جب وہ قافلہ جس میں وہ آدمی بھی شامل تھا جس کے پاس یوسف (علیہ السلام) کی قمیض تھی کنعان پہنچا تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم اسے میری دیوانگی نہ کہو تو آج مجھے یوسف کی خوشبوآرہی ہے تو سننے والوں نے بڑے آرام سے کہہ دیا کہ وہم اب آپ کا مرض بن چکا ہے اور آپ ہمیشہ ہی امید رکھین گے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ایک روز مجھ سے آملیں گے لیکن عجیب بات یہ جو پہلے بھی لکھی جاچکی کہ مصر جو کم وبیش آٹھ دن کی مسافت پر تھا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 ۔ یعنی مانیں گے تو اپنے آپ کو فائدہ پہنچائیں گے اور نہ مانیں گے تو اپنا نقصان کریں گے آپ ﷺ ان کے رویہ سے رنجیدہ نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:104) علیہ۔ درس ہدایت پر۔ یا قرآن کی تبلیغ پر۔ ان۔ نافیہ ہے۔ ھو۔ ای القرأن۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 101–104

لغات آیت نمبر 101 تا 104 اتیتنی تو نے مجھے دیا الملک سلطن، حکومت علمتنی تو نے مجھے سکھایا الاحادیث باتیں، خواب فاطر پیدا کرنے والا ، بنانے والا ولی میرا مالک، میرا حمایتی توفنی تو نے مجھے وفات دی، اٹھایا الحقنی مجھے ملا دے، مجھے شامل رکھئے گا انباء خبریں لدیھم ان کے پاس اجمعوا انہوں نے جمع کیا یمکرون وہ تدبیریں کرتے ہیں حرصت تو نے لالچ کیا، تو نے خواہش کی ماتسئل تو نہیں مانگتا اجر اجرت، بدلہ ذکر دھیان دینے کی چیزیں تشریح آیت نمبر 101 تا 104 قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ انبیاء کرم علہیم السلام کو دنیاوی اور علمی اعتابر سے کتنا ہی عروج اور رتبہ میں بلندی نصیب ہوجائے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ اے ہمارے حبیب ﷺ تم تبلیغ احکام پر ان سے مزدوری بھی تو نہیں مانگتے اور یہ قرآن مقدس مکہ والوں سے تخصیص نہیں رکھتا بلکہ تمام عالم کی ہدایت کے واسطے ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 104–106

[36] یعنی جو لوگ انکار خدا کے نہیں بلکہ اقرار خدا کے مدعی ہیں ان کا بھی عموماً حال یہ ہے کہ ایک طرف تو خدا کو بھی مانے جاتے ہیں اور دوسری طرف اس کے شریک دیوی اور دیوتا بھی قرار دئیے چلے جاتے ہیں جو صاف الوہیت کے منافی ہے۔ ہمارے ہاں کے '' اہل قبور '' ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ مزارات و مقابر سے بالکل عبادت کا معاملہ رکھنا، ان پر چادریں چڑھانا، ان پر نذریں ماننا، نفع نقصان انھیں سے وابستہ کرنا، کیا یہ سب ان لوگوں کو اس آیت کی زد میں نہیں لے آتا ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 104–108

اہل حق کا مسلک : (ف 1) علی بصیرۃ سے مراد یہ ہے کہ پیغمبر اور اس کے ماننے والوں کا مسلک دلیل اور برہان پر مبنی ہوتا ہے ، وہ جن چیزوں پر اعتقاد رکھتے ہیں ، ان کو خوب سمجھتے اور جانتے ہیں وہ دنیا میں بصیرت و دانش کی تبلیغ کے لئے تشریف لاتے ہیں ، اور دماغوں سے جہل ونادانی اور تقلید آباء کے زنگاروں کو یک قلم دور کردیتے ہیں ، اس لئے ان سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے ، کہ خود ان کے اپنے پاس دلیل وعقل کی روشنی نہ ہوگی ، اسلام تو نام ہی عقل و فکری بالیدگی کا ہے ، اس کے کشت زار ہدایت میں تقلید وجہل کا زقوم کبھی پیدا نہیں ہوتا ، اور نہ مسلمان بےعقلی کی باتوں کو تسلیم کرتا ہے ۔ حل لغات : غاشیۃ : ڈھانپ لینے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

104 ۔ حالانکہ آپ ان سے اس قرآن کی تبلیغ پر کوئی اجرت بھی طلب نہیں کرتے یہ قرآن تو تمام اقوام عالم کے لئے ایک نصیحت ہے یعنی تم اس تبلیغ پر کوئی مزدوری بھی نہیں لیتے پھر بھی ان کو اس سے عناد ہے یا یہ کہ آپ اجرت تو مانگتے ہی آپ کا کام تو تبلیغ ہے آپ تبلیغ کرتے رہیے یہ نہ مانیں تو اس کی فکر آپ کو نہیں ہونی چاہئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 102–106

ف 3۔ امر یقینی ہے کہ آپ نے کسی سے یہ قصہ سنا سنایا دلیل ہے نبوت کی اور صاحب وحی ہونے کی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قرآن کیا ہے ؟ نصیحت ہی تو ہے پھر آپ اس نصیحت پر ان سے کچھ طلب ہی نہیں کر رہے ؟ ۔ 122 اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے سراسر غیب کی باتیں ہی تو ہیں۔ اگر وحی الٰہی کا فیضان نہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ اس واقعہ کی ایک ایک جزئیات پر تم اے پیغمبر اسلام ! مطلع ہوتے اور پھر اس کو دنیا کے سامنے اس طرح پیش کرتے ۔ یہ ظاہر ہے کہ واقعہ آپ سے دو ہزار سال پہلے کا ہے اور دنیا میں گزشتہ واقعات کے علم و سماعت کے جتنے وسائل ہو سکتے ہیں ان میں سے کوئی وسیلہ بھی آپ کے لئے موجود نہیں اور اگر موجود بھی ہو تو یہ قطعی ہے کہ اس باب میں کچھ مفید نہیں ہو سکتا۔ لیکن کیا منکرین حق آپ کی سچائ کی یہ دلیل دیکھ کر ایمان لے آئیں ؟…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

After that it was said: وَمَا تَسْأَلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ‌ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ‌ لِّلْعَالَمِين ، that is, ` your mission is to tell them the truth and call 'them to the straight path. For this you do not ask them to give you something in return - which could have caused them to find it difficult to listen to him or follow him. In fact, what you are telling them is for their own good. It is only an advice to heed to and a lesson to learn from. And it is for everyone. The text here also carries a hint to the effect: When the purpose behind your effort is no worldly gain, in fact it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 102–104

72. In order to grasp the full significance of the underlying admonition implied in it, we must keep in view the background of the revelation of this story given in the introduction to this Surah. The Quraish themselves had invited the Prophet (peace be upon him) to a meeting that had been arranged for putting him to a test which was to show whether he was a true Prophet or not. When he arrived there, they put this question to him without any previous notice or intimation: why did the Israelites go to Egypt? In answer to this, the Prophet (peace be upon him) recited this Surah then and there.…

Read the full tafseer →