Explained with ayahs 102–104
حضرت یوسف ؑ کا تمام و کمال قصہ بیان فرما کر کس طرح بھائیوں نے ان کے ساتھ برائی کی اور کس طرح ان کی جان تلف کرنی چاہی اور اللہ نے انہیں کس طرح بچایا اور کس طرح اوج وترقی پر پہنچایا اب اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ اور اس جیسی اور چیزیں سب ہماری طرف سے تمہیں دی جاتی ہیں تاکہ لوگ ان سے نصیحت حاصل کریں اور آپ کے مخالفین کی بھی آنکھیں کھلیں اور ان پر ہماری حجت قائم ہوجائے تو اس وقت کچھ ان کے پاس تھوڑے ہی تھا۔ جب وہ حضرت یوسف ؑ کے ساتھ کھلا داؤ فریب کر رہے تھے۔ کنویں میں ڈالنے کے لئے سب مستعد ہوگئے تھے۔ صرف ہمارے بتانے سکھانے سے تجھے یہ واقعات معلوم ہوئے۔ جیسے حضرت مریم ؑ کے قصے کو بیان فرماتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
72۔ یعنی ان لوگوں کی ہٹ دھرمی کا عجیب حال ہے، تمہاری نبوت کی آزمائش کے لیے بہت سوچ سمجھ کر اور مشورے کر کے جو مطالبہ انہوں نے کیا تھا اسے تم نے بھری محفل میں برجستہ پورا کردیا، اب شاید تم متوقع ہوگے کہ اس کے بعد تو انہیں یہ تسلیم کرلیتے ہیں کوئی تامل نہ رہے گا کہ تم یہ قرآن خود تصنیف نہیں کرتے ہو بلکہ واقعی تم پر وحی آتی ہے، مگر یقین جانو کہ یہ اب بھی نہ مانیں گے اور اپنے انکار پر جمے رہنے کے لیے کوئی دوسرا بہانہ ڈھونڈ نکالیں گے کیونکہ ان کے نہ ماننے کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ تمہاری صداقت کا اطمینان حاصل کرنے کے لیے یہ کھلے دل سے کوئی معقول دلیل چاہتے تھے اور وہ ابھی تک انہیں نہیں ملی، بلکہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
خلاصہ تفسیر
یہ قصہ (جو اوپر بیان کیا گیا آپ کے اعتبار سے) غیب کی خبروں میں سے ہے (کیونکہ آپ کے پاس کوئی ظاہری ذریعہ اس کے جاننے کا نہیں تھا صرف) ہم (ہی) وحی کے ذریعہ سے آپ کو یہ قصہ بتلاتے ہیں اور (یہ ظاہر ہے کہ) آپ ان (برادران یوسف) کے پاس اس وقت موجود نہ تھے جبکہ انہوں نے اپنا ارادہ (یوسف ؑ کو کنویں میں ڈالنے کا) پختہ کرلیا تھا اور وہ (اس کے متعلق) تدبیریں کر رہے تھے (کہ آپ سے یوں کہیں کہ ان کو یوں لے جائیں وغیر ذٰلک، اور اس طرح یہ امریقینی ہے کہ آپ نے کسی سے یہ قصہ سنا سنایا بھی نہیں پس یہ صاف دلیل ہے نبوت کی اور صاحب وحی ہونے کی) اور (باوجود نبوت پر دلائل قائم ہونے کے) اکثر لوگ ایمان نہیں…
Read the full tafseer →وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ۔ منکرین کے اعراض کی اصل علت : یعنی طبیعتوں میں اگر حق کو قبول کرنے کی رغبت اور صلاحیت ہو تو قرآن کے وحی الٰہی ثابت کردینے کے لی یہی ایک چیز کافی ہے۔ یہود و نصاری کے لیے بھی اس میں حجت ہے اور قریش کے لیے بھی، لیکن ان لوگوں کے دلوں میں حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہ گئی ہے۔ اس وجہ سے خواہ ت ان کے ایمان و ہدایت کی طمع میں کچھ ہی کر ڈالو ان کی اکثریت ایمان سے محروم ہی رہے گی۔ ان کے ایمان نہ لانے کا سبب یہ نہیں ہے کہ ان کے سامنے قرآن کا کتاب الٰہی ہونا واضح نہیں ہے بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ ان کے اندر حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی…
Read the full tafseer →13۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو پچھلے واقعات سے آگاہ فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان سے عبرت پکڑیں اور اللہ کے پیغمبروں کا راستہ اختیار کر کے نجات ابدی کے مستحق بن جائیں۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں ہے کیونکہ وہ گذشتہ قوموں کے واقعات سنتے ہیں لیکن عبرت پذیری کے لئے نہیں، صرف دلچسپی اور لذت کے لئے، اس لئے وہ ایمان سے، محروم ہی رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–109
66: یہ کافروں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی فرشتہ ہمارے پاس رسول بنا کر کیوں نہیں بھیجا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
آیت نمبر 103 تا 107
رسول اللہ ﷺ بڑی شدت کے ساتھ یہ چاہتے تھے کہ آپ کی قوم ایمان لے آئے۔ آپ چاہتے تھے کہ آپ جو بھلائی لے کر آئے ہیں وہ ان تک پہنچ جائے اور وہ محروم بھی نہ رہیں ، نیز آپ کو اپنی برادری پر ترس آ رہا تھا کہ اگر وہ شرک کی حالت پر ہی رہے تو دنیا میں بھی ان کو روز بد دیکھنا ہوگا اور آخرت میں وہ دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ تو انسانی دلوں کے بہت ہی قریب ہے ، وہ علیم وخبیر ہے۔ وہ انسانوں کے مزاج اور ان کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ کو بتلایا جاتا ہے کہ آپ کی یہ حرص اور یہ شدید خواہش ان کو اسلام کی طرف راغب نہ کرسکے گی ، اور ان میں سے اکثر مشرک ہی…
Read the full tafseer →4 باوجودیکہ آپ کی صداقت پر ایسی واضح دلائل موجود ہیں، پھر بھی اکثر لوگ وہ ہیں جو کسی طرح ایمان لانے والے نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
آیت 103 وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ
ان منکرین حق نے اپنی طرف سے ایک سوال کیا تھا ہم نے اس کا مفصل جواب دے دیا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس قدر عمدہ اور خوبصورت جواب پا کر وہ لوگ ایمان بھی لے آئیں گے۔ نہیں ایسا نہیں ہوگا۔ ان میں سے اکثر لوگ آپ کی شدید خواہش کے باوجود بھی ایمان نہیں لائیں گے۔
Read the full tafseer →98 کفار مکہ نے سوال یہ کیا تھا کہ بنی اسرائیل تو شام کے ملک میں آباد تھے وہ مصر میں کیسے جا پہنچے، اس سوال کا مفصل جواب اس قصہ میں آگیا ہے۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ وہ ایمان لے آتے مگر انہوں نے سوال اس لیے نہیں کیا تھا کہ اگر درست جواب مل جائے تو فوراً ایمان لے آئیں گے بلکہ وہ سوال اس لیے کرتے ہیں کہ کوئی ایسی بات ہاتھ لگ جائے جو ان کے عدم اعتماد اور بےایمانی پر مزید اضافہ کا سبب بن سکے اور اس سے وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرسکیں۔ لہذا محض آپ کی خواہش کی وجہ سے یہ لوگ کبھی ایمان لانے والے نہیں۔
Read the full tafseer →187۔ (اس لئے آپ توقع ہی نہ رکھیے کہ ان تمامتر صحیح اخبار بالغیب کے بعد بھی یہ لوگ ایمان لے آویں گے) مراد یہ ہے کہ یہود وغیرہ تو آپ ﷺ کے امتحان کے لئے آپ سے اس قصہ کی فرمایش کررہے تھے اب آپ ﷺ نے بغیر کسی ظاہری ومادی ماخذ کے جو صحیح ومستند قصہ اول سے آخر تک انہیں سنا دیا ! تو چاہیے تو یہ تھا کہ یہ فورا آپ ﷺ کے صاحب وحی ہونے پر ایمان لے آتے اور آپ ﷺ کے دل سے لگی ہوئی بھی یہی تھی، لیکن اس کی توقع نہ رکھیے ان میں سے اکثر اس کا قصد ہی نہ کریں گے۔ (آیت) ’ ’ ولو حرصت “۔ حرص کے لئے اردو محاورہ میں دل سے لگی ہونا ہی آئے گا۔ ومعنی الحرص طلب الشیء باقصی مایمکن من الاجتھاد (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
آیت نمبر 94 تا 104
ترجمہ : اور جب یہ قافلہ مصر کی آبادی سے باہر نکلا تو ان کے والد نے حاضرین میں سے ان سے جو ان کے بیٹے اور پوتوں میں سے موجود تھے کہا میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں اگر تم مجھے سٹھیایا ہوا قرار نہ دو تو تم میری تصدیق کروگے بادصبا نے باذن خداوندی یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو کو یعقوب تک تین دن کی یا آٹھ دن کی یا اس سے زیادہ کی مسافت سے پہنچا دیا تھا، تو حاضرین نے ان سے کہا واللہ تم تو اپنے پرانے خبط میں مبتلا ہو اس سے بیحد محبت کرنے اور اس سے ملاقات کی (شدید) خواہش کی وجہ سے باوجود عرصہ دراز گذر جانے کے، چناچہ جب خوشخبری دینے والا یہودا کرتہ لے کر آیا اور…
Read the full tafseer →وما اکثر الناس ولو حرصت بمؤمنین : اور اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے گو آپ کی کتنی ہی زیادہ خواہش ہو
Read the full tafseer →(103) اور خواہ آپ کیسی ہی کیوں نہ کوشش کریں اہل مکہ میں سے اکثر آسمانی کتابوں اور اللہ کے رسولوں پر ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ۔۔ : سورة یوسف کے نزول کے بعد، جو آپ کی نبوت کی واضح دلیل تھی، جب آپ کی یہ خواہش اور توقع پوری نہ ہوئی کہ اسے سننے والے ایمان لے آئیں گے تو اس پر آپ کا غم زدہ ہونا فطری بات تھی، اللہ تعالیٰ نے اس پر تسلی دی کہ آپ کی خواہش کے باوجود اکثر لوگ شیطان کے غلبے اور اپنی نفسانی خواہشات، حرص، حسد وغیرہ کی وجہ سے ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اس کی حکمتیں پوری طرح وہی جانتا ہے۔ اس سے جمہوریت، یعنی اکثریت کے نمائندوں کو قانون سازی کا حق دینے کی حیثیت بھی خوب واضح ہوتی ہے، خصوصاً جب وہ صاف اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے خلاف قانون بناتے اور چلاتے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
آیت نمبر 102 تا 104
قولہ تعالیٰ ۔ ذٰلک من انباء الغیب مبتدا اور خبر ہے نوحیہ الیک خبر ثانی ہے۔ زجاج نے کہا : یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ذٰلک بمعنی الذی ہو اور نوحیہ الیک اس کی خبر ہو، یعنی الذی من انبائ الغیب نوحیہ إلیک یعنی اے محمد ! ﷺ حضرت یوسف کے معاملے میں سے غیب کی خبروں میں سے جو ہم نے آپ کے سامنے بیان کی ہیں۔ نوحیہ الیک یعنی ہم اس وحی کے ذریعے آپ کو سکھاتے ہیں۔ وما کنت لدیھم یعنی بھائی یوسف کے ساتھ آپ ان کے پاس نہیں تھے اذاجمعوا امرھم جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں پھینکنے پر وہ متفق ہوئے وھم یمکرون یعنی کنویں میں پھینکے کے سلسلہ میں وہ یوسف کے ساتھ مکر کررہے تھے یعنی وہ احوال آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–106
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنت لدیھم اذا اجمعوا امرھم وھم یمکرون “ سے مراد یعقوب کے بیٹے ہیں جب انہوں نے یوسف کے ساتھ مکر کررہے تھے۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنت لدیہم “ یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وماکنت لدیھم “ آپ اس وقت دن کے پاس موجود نہیں تھے۔ جب وہ ان کو کنویں کی گہرائی میں ڈال رہے تھے (آیت) ” وھم یمکرون “ اور وہ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ مکر کر رہے تھے۔
3:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وکاین میں ایۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ کتنی…
Read the full tafseer →[وَمَآ اَكْثَرُ النَاسِ : اور نہیں ہے لوگوں کی اکثریت ] [وَلَوْ حَرَصْتَ : اور اگرچہ آپ ﷺ شدید خواہش کریں ] [ بِمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
یہ لوگ بہت سی آیات تکوینیہ پر گزرتے ہیں مگر ایمان نہیں لاتے
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمانے کے بعد (جو آپ کی نبوت پر واضح دلیل ہے) مخاطبین کا حال بیان فرمایا کہ جن لوگوں کو توحید سے اور آپ کی رسالت پر ایمان لانے سے عناد ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے بہت سی تکوینی نشانیاں دیکھتے ہیں لیکن ایمان نہیں لاتے آسمان میں نشانیاں ہیں مثلاً ستارے ہیں اور خود آسمان کا وجود بھی اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کی صفت تخلیق پر دلالت کرتا ہے ‘ جس میں اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کو سب ہی تسلیم کرتے ہیں ‘ اسی طرح زمین اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانی ہے اور اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ‘ ان سب نشانیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
خاتمہ سورت بر اثبات رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید منکرین وبیان حقانیت کتاب مبین
قال اللہ تعالیٰ ذلک من انبیاء الغیب نوحیہ الیک .... الیٰ .... وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون
(ربط) یہ سورت ان سائلین کے جواب میں نازل ہوئی جنہوں نے آپ ع صلی اللہ علیہ سے بغرض امتحان یوسف (علیہ السلام) کا قصہ دریافت کیا تھا اب خاتمہ سورت پر یہ بتلاتے ہیں کہ یہ قصہ آپ ﷺ کی نبوت کی کس طرح دلیل بنا چناچہ فرماتے ہیں کہ احسن القصص یعنی یوسف (علیہ السلام) کا قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کے علم کا سوائے وحی خداوندی کے کوئی ذریعہ نہیں ہم صرف وحی کے ذریعہ سے آپ ﷺ کو یہ قصہ بتلاتے ہیں اور یہ آپ ﷺ کی نبوت کی دلیل قاطع ہے کیونکہ آپ ﷺ تو امی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
88:۔ آپ کے سچا ہونے اور اللہ تعالیٰ کا رسول برحق ہونے میں تو کوئی شک نہیں لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ محض ضد وعناد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔ آپ لاکھ چاہیں مگر وہ نہیں مانیں گے۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے آپ کا خیال تھا کہ جب مشرکین کے سوال پر میں یہ قصہ تفصیل سے بیان کردوں گا تو وہ ایمان لے آئیں گے مگر ایسا نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے بطور تسلیہ یہ آیت نازل فرمائی۔ ” ظن ان العرب لما سالتہ عن ھذہ القصۃ واخبرھم یومنون فلم یومنوا فنزلت الایۃ تسلیۃ للنبی ﷺ “ (قرطبی ج 9 ص 271) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو ہدایت دینا آپ کے اختیار و تصرف میں نہ تھا ” ای لیس تقدر علی ھدیۃ من اردت ھدایتہ “ (قرطبی) ۔ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
ربط آیات
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ اختتام پذیر ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ نے یعقوب (علیہ السلام) اور آپ کے بیٹوں کا تصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ برادران یوسف نے آپ کو نہایت ظالمانہ طریقے سے وطن سے نکالا۔ وہ آپ کو باپ کی نظروں سے اوجھل کر کے حسد کی آگ کو بجھانا چاہتے تھے ، مگر خدا تعالیٰ کی تدبیر اپنا کام کر رہی تھی۔ بھائیوں کا یہ حسد اور بغض ہی یوسف (علیہ السلام) کے بام عروج تک پہنچنے کا سبب بن گیا۔ آپ نے مصر میں نظام حکومت سنبھالا ، قحط سالی میں حسن تدبیر سے نہ صرف مصر کو اس کے اثرات سے بچا لیا بلکہ دوسرے ملکوں کو بھی غلہ فراہم کیا۔ پھر آپ نے آخر میں اپنے والد گرامی اور پورے خاندان کو مصر…
Read the full tafseer →وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ 103
حرص
الحِرْص : فرط الشّره، وفرط الإرادة . قال عزّ وجلّ : إِنْ تَحْرِصْ عَلى هُداهُمْ
[ النحل/ 37] ، أي : إن تفرط إرادتک في هدایتهم، وقال تعالی: وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلى حَياةٍ [ البقرة/ 96] ،
( ح ر ص ) الحرص
شدت آزیا شرط ارادہ ۔ قرآن میں ہے ۔ إِنْ تَحْرِصْ عَلى هُداهُمْ [ النحل/ 37] یعنی ان کی ہدایت کے لئے تمہارے دل میں شدید آزر اور خواہش ہو وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلى حَياةٍ [ البقرة/ 96] بلکہ ان کو تم اور لوگوں سے زندگی پر کہیں زیادہ حریص دیکھو گے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–104
2 ؎ تو اور کوئی سامان بنیامین کے روکنے کا کردیتا 12 منہ
Read the full tafseer →وَمَآ اَکْثَرُالنَّاسِ وَلَوْحَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 103)
(اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں، اگرچہ آپ ان کے ایمان کی کتنی ہی حرص کریں۔ )
گزشتہ آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب جبکہ قریش کو اپنے سوال کا مسکت جواب مل گیا ہے تو اب ان کے ایمان لانے میں کیا تاخیر ہوسکتی ہے۔ لیکن اس آیت کریمہ میں صاف فرمایا جارہا ہے اور یہ بجائے خود آپ ﷺ کی نبوت کی دلیل ہے کہ اس صورتحال کے تقاضے کچھ بھی ہوں لیکن ہم آپ ﷺ کو بتاتے ہیں کہ ان لوگوں کی اکثریت اب بھی ایمان نہیں لائے گی۔ سورة یوسف ( علیہ السلام) کا ایک ایک لفظ ان کے ایمان کا تقاضا کرتا ہے اور آپ کی نبوت کے لیے حجت ہے۔ اور خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
فہم القرآن
ربط کلام : اس سورة کی آیت : 7 میں اہل مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں جو سوال کیا ہے اگر تم غور کرو تو اس میں تمہارے لیے سامان عبرت ہے۔ پورا قصہ بیان کرکے اس کو مشرکین مکہ پر منطبق کردیا ہے۔
اے پیغمبر ﷺ ! یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان ہوا یہ ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے۔ جو آپ کے لیے غیب تھا۔ یعنی آپ اس واقعہ کو نہیں جانتے تھے، نہ آپ اس وقت موجود تھے جب برادران یوسف (علیہ السلام) نے ایک جگہ جمع ہو کر یہ سازش کی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں مکہ والوں نے آپ سے سوال کیا۔ جس کے جواب میں ہم نے تفصیلی سورت آپ پر نازل فرمائی۔ یاد رکھیں آپ جتنا…
Read the full tafseer →103: وَمَآ اَکْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ ( اور لوگوں کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں خواہ آپ کو کتنی خواہش ہو) عام لوگ مراد ہیں۔ نمبر 2۔ اہل مکہ یعنی اہل مکہ ایمان لانے والے نہیں خواہ ان کے ایمان کیلئے آپ پوری کوشش صرف کردیں۔
Read the full tafseer →103۔” وما اکثر الناس “ اے محمد !” ولوحرصت بمؤمنین “ ان کے ایمان پر حریص ہیں ۔ روایت کیا گیا ہے کہ یہود اور قریش نے رسول اللہ ﷺ سے یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ پوچھا تھا جب نبی کریم ﷺ نے ان کو توریت کے موافق واقعہ بتایا تو پھر بھی ایمان نہ لائے تو اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ بہت غمگین ہوئے۔ اس لیے اس آیت میں آپ (علیہ السلام) کو کہا گیا ہے کہ اگرچہ آپ (علیہ السلام) ان کے ایمان پر حریص ہیں لیکن وہ ایمان نہ لائیں گے۔
Read the full tafseer →103۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کا رنج دفع کرنے کے لئے آپ کی تسلی فرمائی ہے آپ کے رنج کا سبب یہ تھا کہ یہود کے بہکانے سے قریش نے آپ سے یہ دریافت کیا تھا کہ حضرت یعقوب جن کی اولاد یہود کہلاتے ہیں ملک شام کے رہنے والے تھے اگر تم نبی ہو تو یہ بتلاؤ کہ یہود جن کا لقب بنی اسرائیل ہے مصر میں کیوں کر چلے گئے تھے اور ملک شام ان سے کیوں کر چھوٹ گیا تھا۔ چناچہ اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے غرض اس سوال کے جواب میں جب اللہ تعالیٰ نے ابتداء سے انتہا تک حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مصر میں آنے کا قصہ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سبب سے پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور اولاد یعقوب (علیہ السلام) کی مصر…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (آیت) ” اور نہیں ہیں اکثر لوگ، اگرچہ آپ ان کے ایمان کی شدید خواہش رکھتے ہوں “ (آیت) ” ایمان لانے والے “۔ کیونکہ ان کے مدارک و مقاسد فاسد ہوچکے ہیں اس لئے خیر خواہوں کی خر خواہی انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گی اگرچہ موانع معدوم ہی کیوں نہ ہوں، یعنی اگرچہ یہ خیر خواہ انہیں تعلیم دیتے رہیں انہیں ان امور کی طرف بلاتے رہیں جن میں ان کے لئے بھلائی اور ان سے شرکا دفعیہ ہے، خواہ یہ خیر خواہی اپنی صداقت پر شواہد، آیات اور دلائل ہی کیوں نہ پیش کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–104
قول باری (ورفع ابویہ علی العرش۔ اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا) کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ حضرت یوسف کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا اور حضرت یعقوب نے ان کی بہن سے نکاح کرلیا تھا۔ سدی سے یہ تفسیر منقول ہے۔ حسن اور ابن اسحاق کا قول ہے کہ ان کی والدہ زندہ تھیں۔ سلیمان اور عبید اللہ بن شداد سے منقول ہے کہ خواب اور اس کی تعبیر کے وقوع پذیر ہونے کی درمیانی مدت چالیس برس تھی۔ حسن سے منقول ہے کہ یہ مدت اسی برس تھی۔ جبکہ ابن اسحاق کا قول ہے کہ یہ مدت اٹھارہ برس تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں تو پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اس بات کی تسلی کیوں حاصل نہیں کہ…
Read the full tafseer →168۔ لوگوں کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں :
سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ خواہ کتناہی چاہیں لوگوں کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں " بلکہ ان کی اکثریت بےایمانوں اور نافرمانوں ہی کی رہے گی۔ والعیاذ باللہ۔ پس آپ افسردہ و غمگین نہ ہوں ان کی اس بےرخی اور قدر ناشناسی پر کہ آپ کا کام تو صرف پیغام حق پہنچادینا ہے اور بس۔ اور وہ آپ کرچکے۔ آگے منوا لینا اور حق کو ان کے دلوں میں اتاردینانہ آپ کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی یہ آپ کے بس اور اختیار میں ہے۔ (فلاتذھب نفسک علیہم حسرات) یہاں سے ایک مرتبہ پھر یہ بات واضح ہوگئی کہ اکثریت ہمیشہ غلط کار، بےایمان اور فاسق وفاجرلوگوں کی رہی ہے۔ امرواقعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
اللہ، رسول اور قرآن کی سچائی کا ثبوت
تشریح : سورة یوسف کا قصہ پچھلے گیارہ رکوعوں میں ختم ہوگیا ہے۔ اس سورت کا شان نزول یہی تھا کہ اہل قریش جو آپ پر ایمان نہ لانا چاہتے تھے انہوں نے آپ کو آزمانے کے لیے کہا کہ اچھا اگر آپ رسول ہو تو بتائو کہ بنی اسرائیل کس طرح مصر میں آباد ہوئے ؟ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا پورا قصہ بتا دیا جس میں بیشمار نصیحت کی باتیں ہیں اور اس کا ثبوت اور وجوہات بھی بڑی تفصیل سے بتا دی گئی ہیں کہ بنی اسرائیل کس طرح اور کب مصر میں پہنچے۔ یہ سوال اہل قریش نے اس لیے نہیں کیا تھا کہ معقول جواب ملنے پر وہ سب ایمان لے آئیں گے بلکہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
آیات 94 تا 104
اسرار و معارف
ادھریعقوب (علیہ السلام) بےقراری سے منتظر تھے کہ واپس آنے والے کیا خبر لاتے ہیں لیکن اللہ کی شان کا ظہور عجیب طریقے سے ہوا۔
کشف اور مشاہدہ
کہ جب وہ قافلہ جس میں وہ آدمی بھی شامل تھا جس کے پاس یوسف (علیہ السلام) کی قمیض تھی کنعان پہنچا تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم اسے میری دیوانگی نہ کہو تو آج مجھے یوسف کی خوشبوآرہی ہے تو سننے والوں نے بڑے آرام سے کہہ دیا کہ وہم اب آپ کا مرض بن چکا ہے اور آپ ہمیشہ ہی امید رکھین گے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ایک روز مجھ سے آملیں گے لیکن عجیب بات یہ جو پہلے بھی لکھی جاچکی کہ مصر جو کم وبیش آٹھ دن کی مسافت پر تھا…
Read the full tafseer →ف 7 ۔ مگر ان کفار کی ہٹ دھرمی کا یہ حال ہے کہ آپ ﷺ کی صداقت پر اتنے واضح دلائل دیکھنے کے بعد بھی ایمان لانے کو تیار نہیں ہیں۔ (کذافی الروح) ۔
Read the full tafseer →(12:103) حرصت۔ تو نے حرص کی۔ تو نے چاہا۔ حرص سے مذکر حاضر ماضی معروف۔
ولو حرصت۔ جملہ معترضہ ہے۔ مبتدا اور خبر کے درمیان۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
لغات آیت نمبر 101 تا 104
اتیتنی تو نے مجھے دیا الملک سلطن، حکومت علمتنی تو نے مجھے سکھایا الاحادیث باتیں، خواب فاطر پیدا کرنے والا ، بنانے والا ولی میرا مالک، میرا حمایتی توفنی تو نے مجھے وفات دی، اٹھایا الحقنی مجھے ملا دے، مجھے شامل رکھئے گا انباء خبریں لدیھم ان کے پاس اجمعوا انہوں نے جمع کیا یمکرون وہ تدبیریں کرتے ہیں حرصت تو نے لالچ کیا، تو نے خواہش کی ماتسئل تو نہیں مانگتا اجر اجرت، بدلہ ذکر دھیان دینے کی چیزیں
تشریح آیت نمبر 101 تا 104
قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ انبیاء کرم علہیم السلام کو دنیاوی اور علمی اعتابر سے کتنا ہی عروج اور رتبہ میں بلندی نصیب ہوجائے…
Read the full tafseer →اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کا رنج دفع کرنے لئے آپ کی تسلی فرمائی ہے۔ آپ کے رنج کا سبب یہ تھا کہ یہود کے بہکانے سے قریش نے آپ سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بابت دریافت کیا تھا کہ یعقوب (علیہ السلام) جن کی اولاد یہود کہلاتے تھے۔ یہ بتاؤ کہ یہود جن لا لقب بنی اسرائیل ہے مصر میں کیونکر چلے گئے تھے اور ملک شام ان سے کیونکر چھوٹ گیا تھا۔ چناچہ اس کا ذکر اوپر گزرچکا ہے جب اس قصہ کو قریش کے روبرو سورة یوسف کے نازل ہوتے ہی بیان فرمایا تو آپ کو توقع ہوئی کہ اس امر کی تائید غیبی سمجھ کر اکثر یہود آپ کے سچے نبی ہونے کی شہادت دیویں گے اور ایمان لاویں گے مگر وہ ایمان نہ لائے۔ اس سبب سے آنحضرت ﷺ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
[35] مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی آزمائش کے لئے یہود وغیرہ نے اس قصے کی فرمائش کی تھی۔ اب جب کہ آپ ﷺ نے بغیر کسی ظاہری و مادی ماخذ کے جو صحیح قصہ اوّل سے آخر تک سنا دیا تو چاہئے یہ تھا کہ وہ فوراً آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان لے آتے لیکن ان سے اس کی توقع ہی نہیں۔ ان میں سے اکثر اس کا قصد ہی نہ کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
پیغمبر کی آرزو :
(ف 1) یعنی اس میں کچھ شبہ نہیں کہ جہاں تک تمہاری آرزو اور خواہش کا تعلق ہے ، وہ یہی ہے کہ یہ لوگ ایمان وعمل صالح کی دولت سے مالا مال ہوجائیں ، مگر ان کی فطرت کا تقاضا یہ ہے ، کہ رحمت خداوندی سے بہرحال دور رہیں ، اب ہدایت پائیں ، تو کیونکر ؟ تو سبب ونوررحمت اور غایت شفقت کے یہی چاہتا ہے کہ ان میں کوئی شخص بھی جہنم میں نہ جائے مگر انکو ضد ہے کہ جہنم میں ہی جائیں گے ، ایسی حالت میں اصلاح کی کب توقع ہو سکتی ہے ، فرمایا اصل مرض یہ ہے کہ دلوں پر غفلت وبے توجہی کے پردے پڑے ہیں ، ورنہ یہاں آسمان اور زمین کی مخلوق میں ہر چیز بجائے خود ایک آیت اور دلیل ہے ، اگر یہ غور وفکر سے کام لیں…
Read the full tafseer →103 ۔ اور باوجود نبوت پر مختلف دلائل قائم ہوجانے کے پھر بھی اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں خواہ ان کے ایمان لانے کی آپ کتنی ہی خواہش کریں اور آپ کا کتنا ہی جی چاہے۔ یعنی ان کے ایمان پر آپ کتنے ہی حریص کیوں نہ ہوں مگر اکثر لوگ دلائل کے باوجود ایمان لانے والے نہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–106
ف 3۔ امر یقینی ہے کہ آپ نے کسی سے یہ قصہ سنا سنایا دلیل ہے نبوت کی اور صاحب وحی ہونے کی۔
Read the full tafseer →آپ کتنا بھی چاہیں لیکن سنت اللہ یہی ہے کہ اکثر ماننے کی نہیں ، یہی ہوا اور یہی ہو گا
۔ 121 اے میرے رسول ! یاد رکھو کہ ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں چاہے آپ کتنی بھی ان کیا یمان لانے کی حرص رکھتے ہوں اس لئے بہتر یہی ہے کہ آپ توقع ہی نہ رکھئے کہ ان تمامتر صحیح اخبار بالغیب کے بعد بھی یہ لوگ ایمان لے آئیں گے مطلب یہ ہے کہ یہود وغیرہ تو آپ کے امتحان کے لئے آپ سے اس قصہ کی فرمائش کر رہے تھے اب آپ نے بغیر کسی ظاہری و مادی ماخذ کے جو صحیح و مستند قصہ اول سے آخر تک انہیں سنا دیا ! تو چاہئے تو یہ تھا کہ یہ فوراً آپ کے صاحب وحی ہونے پر ایمان لے آتے اور اس بات کا اعلان کردیتے کہ ہم ان باتوں کو سن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
Commentary
After a full description of the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) ، first to come in the verses cited above is an address to the Holy Prophet ﷺ : ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ (That is a part of the reports of the unseen We reveal to you), and that ` you were not there with the brothers of Yusuf (علیہ السلام) when they had decided to throw Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) into the well and were making plans for it.
The purpose of choosing to say this is that the very act of the Holy Prophet ﷺ in describing this story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) correctly…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
72. In order to grasp the full significance of the underlying admonition implied in it, we must keep in view the background of the revelation of this story given in the introduction to this Surah. The Quraish themselves had invited the Prophet (peace be upon him) to a meeting that had been arranged for putting him to a test which was to show whether he was a true Prophet or not. When he arrived there, they put this question to him without any previous notice or intimation: why did the Israelites go to Egypt? In answer to this, the Prophet (peace be upon him) recited this Surah then and there.…
Read the full tafseer →