Explained with ayahs 102–104
حضرت یوسف ؑ کا تمام و کمال قصہ بیان فرما کر کس طرح بھائیوں نے ان کے ساتھ برائی کی اور کس طرح ان کی جان تلف کرنی چاہی اور اللہ نے انہیں کس طرح بچایا اور کس طرح اوج وترقی پر پہنچایا اب اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ اور اس جیسی اور چیزیں سب ہماری طرف سے تمہیں دی جاتی ہیں تاکہ لوگ ان سے نصیحت حاصل کریں اور آپ کے مخالفین کی بھی آنکھیں کھلیں اور ان پر ہماری حجت قائم ہوجائے تو اس وقت کچھ ان کے پاس تھوڑے ہی تھا۔ جب وہ حضرت یوسف ؑ کے ساتھ کھلا داؤ فریب کر رہے تھے۔ کنویں میں ڈالنے کے لئے سب مستعد ہوگئے تھے۔ صرف ہمارے بتانے سکھانے سے تجھے یہ واقعات معلوم ہوئے۔ جیسے حضرت مریم ؑ کے قصے کو بیان فرماتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
72۔ یعنی ان لوگوں کی ہٹ دھرمی کا عجیب حال ہے، تمہاری نبوت کی آزمائش کے لیے بہت سوچ سمجھ کر اور مشورے کر کے جو مطالبہ انہوں نے کیا تھا اسے تم نے بھری محفل میں برجستہ پورا کردیا، اب شاید تم متوقع ہوگے کہ اس کے بعد تو انہیں یہ تسلیم کرلیتے ہیں کوئی تامل نہ رہے گا کہ تم یہ قرآن خود تصنیف نہیں کرتے ہو بلکہ واقعی تم پر وحی آتی ہے، مگر یقین جانو کہ یہ اب بھی نہ مانیں گے اور اپنے انکار پر جمے رہنے کے لیے کوئی دوسرا بہانہ ڈھونڈ نکالیں گے کیونکہ ان کے نہ ماننے کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ تمہاری صداقت کا اطمینان حاصل کرنے کے لیے یہ کھلے دل سے کوئی معقول دلیل چاہتے تھے اور وہ ابھی تک انہیں نہیں ملی، بلکہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
خلاصہ تفسیر
یہ قصہ (جو اوپر بیان کیا گیا آپ کے اعتبار سے) غیب کی خبروں میں سے ہے (کیونکہ آپ کے پاس کوئی ظاہری ذریعہ اس کے جاننے کا نہیں تھا صرف) ہم (ہی) وحی کے ذریعہ سے آپ کو یہ قصہ بتلاتے ہیں اور (یہ ظاہر ہے کہ) آپ ان (برادران یوسف) کے پاس اس وقت موجود نہ تھے جبکہ انہوں نے اپنا ارادہ (یوسف ؑ کو کنویں میں ڈالنے کا) پختہ کرلیا تھا اور وہ (اس کے متعلق) تدبیریں کر رہے تھے (کہ آپ سے یوں کہیں کہ ان کو یوں لے جائیں وغیر ذٰلک، اور اس طرح یہ امریقینی ہے کہ آپ نے کسی سے یہ قصہ سنا سنایا بھی نہیں پس یہ صاف دلیل ہے نبوت کی اور صاحب وحی ہونے کی) اور (باوجود نبوت پر دلائل قائم ہونے کے) اکثر لوگ ایمان نہیں…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 102 تا 111: خاتمہ سورة : اب یہ خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں نبی ﷺ کو خطاب کر کے آپ کو تسلی دی گئی ہے اور ساتھ ہی قریش کو دھمکی ہے کہ اگر انہوں نے قوموں کی تاریخ سے سبق نہ لیا تو اس انجام سے دوچار ہونے کے لیے تیار رہیں جس سے پچھلی قومیں دوچار ہوچکی ہیں۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۚ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْٓا اَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُوْنَ۔
" ذلک " کا اشارہ اسی سرگزشت کی طرف ہے جو سنائی گئی۔ فرمایا کہ یہ غیب کی خبروں میں سے ہے یعنی یہ تمہارے علم و اطلاع سے بالکل باہر کی چیز ہے، نہ تمہیں اس کا کوئی علم تھا اور…
Read the full tafseer →12۔ 1 یعنی یوسف ؑ کے ساتھ، جب کہ انھیں کنوئیں میں پھینک آئے یا مراد حضرت یعقوب ؑ ہیں یعنی ان کو یہ کہہ کر کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ہے اور یہ اس کی قمیص ہے، جو خون میں لت پت ہے ان کے ساتھ فریب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر بھی اس بات کی نفی فرمائی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو غیب کا علم تھا لیکن یہ نفی مطلق علم کی نہیں ہے کیونکہ اللہ نے وحی کے ذریعے سے آپ کو آگاہ فرمایا دیا۔ یہ نفی مشاہد کی ہے کہ اس وقت آپ وہاں موجود نہیں تھے۔ اسی طرح ایسے لوگوں سے بھی آپ کا رابطہ وتعلق نہیں رہا ہے جن سے آپ نے سنا ہو۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
65: جیسا کہ شروع سورت میں عرض کیا گیا تھا، حضرت یوسف ؑ کا یہ واقعہ اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے جواب میں نازل فرمایا تھا جو آنحضرت ﷺ سے یہ پوچھ رہے تھے کہ بنی اسرائیل کے مصر میں آباد ہونے کی کیا وجہ تھی، ان کو یقین تھا کہ آپ کے پاس بنی اسرائیل کی تاریخ کے اس حصے کا علم نہیں ہے اور نہ کوئی ایسا ذریعہ ہے جس سے آپ کو یہ معلومات حاصل ہوسکیں، اس لئے ان کا خیال یہ تھا کہ آپ اس سوال کا صحیح جواب نہیں دے سکیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ پوری سورت اس واقعے کو بیان فرمانے کے لئے نازل فرمادی، اب آخر میں یہ نتیجہ نکالا جارہا ہے کہ اس واقعے کو معلوم کرنے کا آنحضرت ﷺ کے پاس وحی کے سوا کوئی ذریعہ نہیں تھا، اس…
Read the full tafseer →درس نمبر 111 تشریح آیات
102۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 111
یہاں آکر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اصل قصہ ختم ہوجاتا ہے اور اب اس پر سبق آموز تبصرے کیے جاتے ہیں۔ اس سورة پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم نے ان اغراض ومقاصد کی طرف اشارہ کیا تھا جس کے لئے یہ قصہ تفصیل سے بیان کیا گیا۔ یہاں اب عبرت کے لئے کئی باتوں کی طرف قارئین کو متوجہ کیا جاتا ہے اور ان کے احساسات کو جگایا جاتا ہے۔ اس کائنات کی وسعتوں اور نفس انسانی کی گہرائیوں میں فکر انسانی کو دوڑایا جاتا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے حالات ، موجودہ حالات اور پردۂغیب کے پیچھے مستور حقائق بتائے جاتے ہیں۔ چناچہ اس آخری تبصرے کے اندر بیان کردہ حقائق کو ہم اسی ترتیب سے لیتے ہیں کیونکہ…
Read the full tafseer →3 یعنی برادران یوسف جب ان کو باپ سے جدا کرنے اور کنوئیں میں ڈالنے کے مشورے اور تدبیریں کر رہے تھے آپ ان کے پاس نہیں کھڑے تھے کہ ان کی باتیں سنتے اور حالات کا معائنہ کرتے۔ پھر ایسے صحیح واقعات بجز وحی الٰہی کے آپ کو کس نے بتائے۔ آپ رسمی طور پر پڑھے لکھے نہیں، کسی ظاہری معلم سے استفادہ کی نوبت نہیں آئی پھر یہ حقائق جن کی اس قدر تفصیل بائبل میں بھی نہیں، آپ کو خدا کے سوا کس نے معلوم کرائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
آیت 100 وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا
یہ سجدۂ تعظیمی تھا جو پہلی شریعتوں میں جائز تھا۔ شریعت محمدی میں جہاں دین کی تکمیل ہوگئی وہاں توحید کا معاملہ بھی آخری درجے میں تکمیل کو پہنچا دیا گیا۔ چناچہ یہ سجدۂ تعظیمی اب حرام مطلق ہے۔ جو لوگ اپنے بزرگوں یا قبروں کو سجدہ کرتے ہیں وہ صریح شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ سابقہ انبیاء کرام کے حالات و واقعات سے آج اس کے لیے کوئی دلیل اخذ کرنا قطعاً درست نہیں۔
وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ
حضرت یوسف کے اس خواب کا ذکر آیت 4 میں ہے کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ اس میں گیارہ بھائی…
Read the full tafseer →97 کفار مکہ کے سوال کا جواب دینا آپ کی نبوت کی دلیل ہے :۔ اگرچہ تورات اور دوسری اسرائیلی روایات میں کئی جگہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ مثلاً قرآن میں انبیاء کو ایک پاکیزہ صورت انسان کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ جبکہ اسرائیلی روایات انھیں کئی مقامات پر مورد الزام ٹھہراتی ہیں۔ دوسرے قرآن میں قصہ کے بیان سے زیادہ مواعظ حسنہ اور تذکیربآیاٰت اللہ پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ جبکہ اسرائیلی روایات اس سے خالی ہیں۔ تاہم قصہ کی اصولی باتیں بہت حد تک ملتی جلتی ہیں اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ آپ اس وقت موجود نہیں تھے اور یہ بھی کہ آپ نے نہ اسرائیلیات کو پڑھا ہے اور نہ علمائے یہود سے استفادہ کیا ہے۔ پھر آپ کا اس طرح…
Read the full tafseer →185۔ (اے رسول ! ) یہاں پر زور دے کر ارشاد ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ سارا قصہ محض وحی کے ذریعہ معلوم ہوا ہے ورنہ یوں ساری دنیا کی طرح آپ کے لئے بھی یہ قصہ غیب ہی میں داخل تھا۔
186۔ (یوسف (علیہ السلام) کے کنوئیں میں ڈالنے کا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس آکر باتیں بنا رہے تھے) (آیت) ” لدیھم “۔ یعنی برادران یوسف (علیہ السلام) کے پاس۔ یرید اخوۃ یوسف (روح) مطلب یہ ہوا کہ نہ آپ ﷺ خود ان واقعات کے وقت موجود تھے اور نہ آپ ﷺ کے پاس کوئی دوسرا ذریعہ معلومات صحیح کا بجز وحی الہی کے ہے کوئی دوسرا آپ کا رہنما نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
آیت نمبر 94 تا 104
ترجمہ : اور جب یہ قافلہ مصر کی آبادی سے باہر نکلا تو ان کے والد نے حاضرین میں سے ان سے جو ان کے بیٹے اور پوتوں میں سے موجود تھے کہا میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں اگر تم مجھے سٹھیایا ہوا قرار نہ دو تو تم میری تصدیق کروگے بادصبا نے باذن خداوندی یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو کو یعقوب تک تین دن کی یا آٹھ دن کی یا اس سے زیادہ کی مسافت سے پہنچا دیا تھا، تو حاضرین نے ان سے کہا واللہ تم تو اپنے پرانے خبط میں مبتلا ہو اس سے بیحد محبت کرنے اور اس سے ملاقات کی (شدید) خواہش کی وجہ سے باوجود عرصہ دراز گذر جانے کے، چناچہ جب خوشخبری دینے والا یہودا کرتہ لے کر آیا اور…
Read the full tafseer →ذلک من انبآء الغیب نوحیہ الیک وما کنت لدیھم اذ اجمعوا امرھم وھم یمکرون یہ (قصۂ یوسف) غیب کی خبروں میں سے ہے جو وحی کے ذیعہ سے ہم آپ کو بتا رہے ہیں اور آپ ان (برادران یوسف) کے پاس اس وقت موجود نہ تھے جبکہ انہوں نے اپنا ارادہ پختہ کرلیا تھا اور وہ تدبیریں کر رہے تھے۔
یعنی کنویں کے گڑھے میں حضرت یوسف کو ڈالنے کا پختہ ارادہ کرلیا تھا۔ مقصد یہ ہے کہ قصۂ یوسف کا وحی کے ذریعہ سے آپ کے پاس آنا اور آپ کا بذریعہ وحی اس پر مطلع ہونا ثابت ہو رہا ہے کیونکہ اولاد یعقوب میں سے کسی سے آپ کی ملاقات نہیں ہوئی کہ آپ نے ان کی زبانی سن لیا ہو اور خود وہاں موجود نہ تھے اور نہ آپ کی قوم والوں کو یہ قصہ معلوم تھا کہ…
Read the full tafseer →(102) اے محمد ﷺ آپ سے جو حضرت یوسف ؑ اور ان کے بھائیوں کا قصہ بیان کیا گیا یہ آپ کے اعتبار سے غیب کی خبروں میں سے ہے اور بذریعہ جبریل امین آپ کو یہ قصہ بتلاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ آپ برادران یوسف ؑ کے زمانے میں موجود نہ تھے، جب انہوں نے حضرت یوسف ؑ کو کنوئیں میں ڈالنے کا پختہ ارادہ کرلیا تھا اور وہ یوسف ؑ کی ہلاکت کے بارے میں تدابیر کررہے تھے۔
Read the full tafseer →ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ : یعنی غیب کی یہ خبریں اپنی صحیح تفصیلات کے ساتھ ہم نے آپ کو وحی کے ذریعے سے بتائیں، ہماری وحی کے بغیر آپ کو یہ کیسے معلوم ہوسکتی تھیں۔ اس سے مقصود کفار مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں، اگر سچے پیغمبر نہ ہوتے تو ہزاروں برس پہلے کے یہ واقعات کیسے معلوم کرسکتے تھے اور تمہیں کیسے سنا سکتے تھے۔
وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْٓا۔۔ : یعنی اگر ہم آپ کو نہ بتاتے تو آپ کو کچھ خبر نہ تھی، کیونکہ آپ اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھے۔ قرآن مجید نے ”وما کنت“ کے ساتھ یہ بات کئی جگہ دہرائی ہے اور اپنا احسان جتلایا ہے کہ آپ کو گزشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
آیت نمبر 102 تا 104
قولہ تعالیٰ ۔ ذٰلک من انباء الغیب مبتدا اور خبر ہے نوحیہ الیک خبر ثانی ہے۔ زجاج نے کہا : یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ذٰلک بمعنی الذی ہو اور نوحیہ الیک اس کی خبر ہو، یعنی الذی من انبائ الغیب نوحیہ إلیک یعنی اے محمد ! ﷺ حضرت یوسف کے معاملے میں سے غیب کی خبروں میں سے جو ہم نے آپ کے سامنے بیان کی ہیں۔ نوحیہ الیک یعنی ہم اس وحی کے ذریعے آپ کو سکھاتے ہیں۔ وما کنت لدیھم یعنی بھائی یوسف کے ساتھ آپ ان کے پاس نہیں تھے اذاجمعوا امرھم جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں پھینکنے پر وہ متفق ہوئے وھم یمکرون یعنی کنویں میں پھینکے کے سلسلہ میں وہ یوسف کے ساتھ مکر کررہے تھے یعنی وہ احوال آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–106
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنت لدیھم اذا اجمعوا امرھم وھم یمکرون “ سے مراد یعقوب کے بیٹے ہیں جب انہوں نے یوسف کے ساتھ مکر کررہے تھے۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنت لدیہم “ یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وماکنت لدیھم “ آپ اس وقت دن کے پاس موجود نہیں تھے۔ جب وہ ان کو کنویں کی گہرائی میں ڈال رہے تھے (آیت) ” وھم یمکرون “ اور وہ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ مکر کر رہے تھے۔
3:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وکاین میں ایۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ کتنی…
Read the full tafseer →[ذٰلِكَ : یہ ] [ مِنْ انۢبَاۗءِ الْغَيْبِ : غیب کی خبروں میں سے ہے ] [ نُوْحِيْهِ : ہم وحی کرتے ہیں اس کو ] [اِلَيْكَ : آپ (علیہ السلام) کی طرف ] [ وَمَا كُنْتَ : اور آپ (علیہ السلام) نہیں تھے ] [ لَدَيْهِمْ : ان کے پاس ] [ اِذْ : جب ] [اَجْمَعُوْٓا : ان لوگوں نے اتفاق کیا ] [ اَمْرَهُمْ : اپنے کام پر ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [هُمْ : وہ لوگ ] [يَمْكُرُوْنَ : خفیہ تدبیر کر رہے تھے ]
ترکیب : (آیت۔ 102) تُوْصِیْہِ کی ضمیر مفعولی ذلک کے لئے ہے اگر اَنْبَائِ کے لئے ہوتی تو ھا کی ضمیر آتی۔ اَجْمَعُوْا میں شامل ھُمْ کی ضمیرفاعلی یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے لئے ہے۔ (آیت۔ 105) ۔ اَیٌّ پر حرف جار…
Read the full tafseer →غیب کی خبریں بتانا آنحضرت ﷺ کی رسالت کی دلیل ہے
یہ تو ہر دوست اور ہر دشمن کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی سے نہیں پڑھا تھا اور نہ ایسے لوگوں کی صحبت اٹھائی تھی جو سیدنا حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ آپ کو بتاتے اور سناتے ٗ تفصیل کے ساتھ یہ قصہ بتادینا یہ واضح طریقہ پر آپ کی نبوت کی دلیل ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپ کو یہ قصہ بتایا اور آپ نے لوگوں کو سنایا یہودیوں نے جب یہ قصہ سنا جسے وہ اپنے آباؤ اجداد سے سنتے آئے تھے تو انہیں اسلام قبول کرلینا لازم تھا لیکن انہوں نے پھر بھی اسلام قبول نہیں کیا ‘ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ یہودیوں نے کفار مکہ سے کہا کہ تم محمد رسول اللہ ﷺ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
خاتمہ سورت بر اثبات رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید منکرین وبیان حقانیت کتاب مبین
قال اللہ تعالیٰ ذلک من انبیاء الغیب نوحیہ الیک .... الیٰ .... وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون
(ربط) یہ سورت ان سائلین کے جواب میں نازل ہوئی جنہوں نے آپ ع صلی اللہ علیہ سے بغرض امتحان یوسف (علیہ السلام) کا قصہ دریافت کیا تھا اب خاتمہ سورت پر یہ بتلاتے ہیں کہ یہ قصہ آپ ﷺ کی نبوت کی کس طرح دلیل بنا چناچہ فرماتے ہیں کہ احسن القصص یعنی یوسف (علیہ السلام) کا قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کے علم کا سوائے وحی خداوندی کے کوئی ذریعہ نہیں ہم صرف وحی کے ذریعہ سے آپ ﷺ کو یہ قصہ بتلاتے ہیں اور یہ آپ ﷺ کی نبوت کی دلیل قاطع ہے کیونکہ آپ ﷺ تو امی…
Read the full tafseer →87:۔ یہ تیسرا دعویٰ ہے یعنی آپ سچے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی آپ کو امور غیبیہ پر مطلع فرماتا ہے۔ چناچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ بھی ایک امر غیبی تھا جس کی ہم نے آپ کو بذریعہ وحی اطلاع دی اور سارا قصہ تفصیل سے بیان کردیا حالانکہ جب برادران یوسف (علیہ السلام) اپنا پروگرام بنا رہے تھے اور جب انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں پھینکنے کا فیصلہ کیا تھا اس وقت آپ وہاں موجود نہ تھے۔ ” اَلْمَعنیٰ ان ھذا النبا غیب لم یحصل لک الا من جہۃ الوحی لانک لم تحضر بنی یعقوب حین اتفقوا علی القاء اخیھم فی البئر “ (مدارک ج 2 ص 184) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
ربط آیات
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ اختتام پذیر ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ نے یعقوب (علیہ السلام) اور آپ کے بیٹوں کا تصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ برادران یوسف نے آپ کو نہایت ظالمانہ طریقے سے وطن سے نکالا۔ وہ آپ کو باپ کی نظروں سے اوجھل کر کے حسد کی آگ کو بجھانا چاہتے تھے ، مگر خدا تعالیٰ کی تدبیر اپنا کام کر رہی تھی۔ بھائیوں کا یہ حسد اور بغض ہی یوسف (علیہ السلام) کے بام عروج تک پہنچنے کا سبب بن گیا۔ آپ نے مصر میں نظام حکومت سنبھالا ، قحط سالی میں حسن تدبیر سے نہ صرف مصر کو اس کے اثرات سے بچا لیا بلکہ دوسرے ملکوں کو بھی غلہ فراہم کیا۔ پھر آپ نے آخر میں اپنے والد گرامی اور پورے خاندان کو مصر…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۚ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْٓا اَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُوْنَ 102
نبأ
خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی
يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ،
( ن ب ء ) النبا ء
کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–104
2 ؎ تو اور کوئی سامان بنیامین کے روکنے کا کردیتا 12 منہ
Read the full tafseer →ذٰلِکَ مِنْ اَمنْبَآئِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ ج وَمَا کُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ اَجْمَعُوْ ٓا اَمْرَھُمْ وَھُمْ یَمْکُرُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 102)
(یہ سرگزشت غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم تمہاری طرف وحی کررہے ہیں۔ اور تم تو ان کے پاس اس وقت موجود نہیں تھے جب انھوں نے ایک رائے پر اتفاق کیا اور وہ سازش کررہے تھے۔ )
آپ ( علیہ السلام) کی نبوت کی دلیل
حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے خاندان کی یہ سرگزشت آپ ﷺ سے ہزاروں سال پہلے کی ہے۔ جب برادرانِ یوسف آپ ( علیہ السلام) کیخلاف باہم مشورہ کررہے تھے اور کوئی قتل کا مشورہ دے رہا تھا اور کوئی کنویں میں پھینکنے کا۔ تو بالآخر وہ اپنی ایک رائے پر جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
فہم القرآن
ربط کلام : اس سورة کی آیت : 7 میں اہل مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں جو سوال کیا ہے اگر تم غور کرو تو اس میں تمہارے لیے سامان عبرت ہے۔ پورا قصہ بیان کرکے اس کو مشرکین مکہ پر منطبق کردیا ہے۔
اے پیغمبر ﷺ ! یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان ہوا یہ ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے۔ جو آپ کے لیے غیب تھا۔ یعنی آپ اس واقعہ کو نہیں جانتے تھے، نہ آپ اس وقت موجود تھے جب برادران یوسف (علیہ السلام) نے ایک جگہ جمع ہو کر یہ سازش کی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں مکہ والوں نے آپ سے سوال کیا۔ جس کے جواب میں ہم نے تفصیلی سورت آپ پر نازل فرمائی۔ یاد رکھیں آپ جتنا…
Read the full tafseer →102: ذٰلِکَ (یہ) یوسف (علیہ السلام) کے سابقہ واقعہ کی طرف اس سے اشارہ فرمایا یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو فرمایا یہ مبتداء ہے۔ مِنْ اَنْچبَآ ئِ الْغَیْبِ (غیب کی بعض خبریں ہیں) ۔ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ (جو وحی کر رہے ہیں ہم آپ کی طرف )
نحو : یہ دونوں ذلک کی خبریں ہیں۔ وَمَا کُنْتَ لَدَیْھِمْ (اور آپ ان کے پاس نہ تھے) اولاد یعقوب کے پاس اِذْاَجْمَعُوْااَمْرَھُمْ (جبکہ انہوں نے اپنے معاملہ میں اتفاق کیا) یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈالنے کا پختہ ارادہ وَھُمْ یَمْکُرُوْنَ (اس حال میں کہ وہ تدبیر کر رہے تھے) یوسف (علیہ السلام) کے متعلق اور ان کو دھوکہ سے قتل کرنا چاہتے تھے۔ یہ غیب کی خبریں آپ کو…
Read the full tafseer →تفسیر 102۔” ذلک “ جو میں نے ذکر کیا ” من انباء الغیب نوحیہ الیک وما کنت لدیھم “ اے محمد ﷺ آپ اولاد یعقوب کے پاس نہ تھے۔ ” اذا جمعوا امرھم “ یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں ڈالنے کا پختہ ارادہ کرلیا ۔
” وھم یمکرون “ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
101۔ 102۔ سترہ برس کی عمر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائیوں نے کنوئیں میں ڈالا اور چالیس برس تک پھر باپ سے مصر میں بچھڑے رہے اور چوبیس برس تک پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے ساتھ مل کر مصر میں رہے اور زلیخا سے نکاح ہوا اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے یہ انجام بخیر ہونے کی دعا کی تھوڑے دنوں بعد مصر میں انتقال فرمایا اہل مصر کو حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ایسا اعتقاد ہوگیا تھا کہ ہر ایک محلہ کا سردار اپنے محلہ میں برکت کی نیت سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دفن کرنا چاہتا تھا یہاں تک نوبت پہنچی کہ قریب تھا کہ اس بات پر اہل مصر میں تلوار چل جاوے پھر آخر یہ صلاح ٹھہری کہ نیل کا پانی سب کے کھیتوں…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول مصطفیٰ ﷺ پر یہ قصہ بیان کرنے کے بعد فرمایا : (آیت) یعنی یہ خبر جس سے ہم نے آپ کو آگاہ کیا ہے۔ (آیت) ” غیب کی خبریں، جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں “ اور اگر ہم آپ کی طرف وحی نہ کرتے تو اس جلیل القدر واقعہ کی خبر آپ تک نہ پہنچ سکتی۔ (آیت) ” اور آپ ان کے پاس موجود نہ تھے “ (آیت) ” جب وہ اتفاق کر رہے تھے اپنے کام پر “ یعنی یوسف کے بھائی فریب پر اتفاق کر رہے تھے۔ (آیت) ” اور وہ چال چل رہے تھے۔ “ جب کہ ان کے اور ان کے باپ کے درمیان جدائی ڈالنے کے لئے اس طرح سازش کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اطلاع نہ تھی اور نہ کسی کے لئے یہ ممکن ہی تھا کہ اصل واقعہ معلوم کرسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–104
قول باری (ورفع ابویہ علی العرش۔ اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا) کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ حضرت یوسف کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا اور حضرت یعقوب نے ان کی بہن سے نکاح کرلیا تھا۔ سدی سے یہ تفسیر منقول ہے۔ حسن اور ابن اسحاق کا قول ہے کہ ان کی والدہ زندہ تھیں۔ سلیمان اور عبید اللہ بن شداد سے منقول ہے کہ خواب اور اس کی تعبیر کے وقوع پذیر ہونے کی درمیانی مدت چالیس برس تھی۔ حسن سے منقول ہے کہ یہ مدت اسی برس تھی۔ جبکہ ابن اسحاق کا قول ہے کہ یہ مدت اٹھارہ برس تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں تو پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اس بات کی تسلی کیوں حاصل نہیں کہ…
Read the full tafseer →167۔ پیغمبر کی صداقت و حقانیت کا ایک کھلا ثبوت :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ اے پیغمبران (برادران یوسف) کے پاس موجود نہیں تھے۔ کہ ہر جگہ اور ہر وقت موجود ہونا صرف اللہ جل شانہ ہی کی صفت اور اسی کی شان ہے۔ مگر آج کا کلمہ گو مشرک ہے کہ وہ اس کے باوجود اللہ تبارک و تعالیٰ کی مخلوق میں سے اس کے مختلف بندوں کو ہر جگہ حاضر وناظر مانتا ہے۔ اور ان کو حاجت روا ومشکل کش اقرار دیتا ہے۔ اور اس کے لیے وہ طرح طرح کے ڈھکوسلے گھڑتا اور مفروضے پیش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے لیے وہ قرآن و سنت کی مقدس نصوص تک میں تحریف اور تلبیس سے کام لیتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف یہ قصہ پیغمبر کی صداقت و حقانیت کا ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
اللہ، رسول اور قرآن کی سچائی کا ثبوت
تشریح : سورة یوسف کا قصہ پچھلے گیارہ رکوعوں میں ختم ہوگیا ہے۔ اس سورت کا شان نزول یہی تھا کہ اہل قریش جو آپ پر ایمان نہ لانا چاہتے تھے انہوں نے آپ کو آزمانے کے لیے کہا کہ اچھا اگر آپ رسول ہو تو بتائو کہ بنی اسرائیل کس طرح مصر میں آباد ہوئے ؟ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا پورا قصہ بتا دیا جس میں بیشمار نصیحت کی باتیں ہیں اور اس کا ثبوت اور وجوہات بھی بڑی تفصیل سے بتا دی گئی ہیں کہ بنی اسرائیل کس طرح اور کب مصر میں پہنچے۔ یہ سوال اہل قریش نے اس لیے نہیں کیا تھا کہ معقول جواب ملنے پر وہ سب ایمان لے آئیں گے بلکہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
آیات 94 تا 104
اسرار و معارف
ادھریعقوب (علیہ السلام) بےقراری سے منتظر تھے کہ واپس آنے والے کیا خبر لاتے ہیں لیکن اللہ کی شان کا ظہور عجیب طریقے سے ہوا۔
کشف اور مشاہدہ
کہ جب وہ قافلہ جس میں وہ آدمی بھی شامل تھا جس کے پاس یوسف (علیہ السلام) کی قمیض تھی کنعان پہنچا تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم اسے میری دیوانگی نہ کہو تو آج مجھے یوسف کی خوشبوآرہی ہے تو سننے والوں نے بڑے آرام سے کہہ دیا کہ وہم اب آپ کا مرض بن چکا ہے اور آپ ہمیشہ ہی امید رکھین گے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ایک روز مجھ سے آملیں گے لیکن عجیب بات یہ جو پہلے بھی لکھی جاچکی کہ مصر جو کم وبیش آٹھ دن کی مسافت پر تھا…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ تو پھر یہ خبریں اپنی صحیح تفصیلات کے ساتھ، آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی وحی کے بغیر کیسے معلوم ہوسکتی تھیں۔ اس سے مقصود کفار مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ اگر سچے پیغمبر نہ ہوتے تو یہ واقعات کیونکر معلوم کرسکتے تھے اور تمہیں کیسے سنا سکتے تھے۔ نیز اشارہ ہے کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کا قصہ اہل کتاب سے جن تفصیلات کے ساتھ منقول ہے وہ تمام کی تمام صحیح نہیں ہیں۔ ابن کثیر روح) ۔
Read the full tafseer →(12: 102) ذلککا اشارہ ان واقعات کی طرف ہے جو قصہ یوسف میں اوپر بیان ہوئے ہیں اور یہ خطاب رسول اکرم ﷺ سے ہے۔ انباء الغیب۔ مضاف مضاف الیہ۔ غیب کی خبریں۔
نوحیہ۔ نوحی۔ مضارع جمع متکلم ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ہم اسے وحی کرتے ہیں۔ ہم بذریعہ وحی (آپ پر) نازل فرماتے ہیں۔
لدیہم۔ لدی۔ مضاف ھم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ ان کے پاس۔ لدی بمعنی پاس۔ طرف۔ حقیقت میں یہ لدن (طرف) کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔
اجمعوا۔ وہ جمع ہوئے۔ وہ متفق ہوئے۔ ماضی جمع مذکر غائب۔
امرہم۔ اپنی تجویز ۔ اپنا ارادہ ۔ اپنی بات۔ (کہ حضرت یوسف کو کنویں کی گہرائی میں ڈال دیں)
وہم یمکرون۔ درآں حالیکہ وہ اس بابت اپنی چالیں چل رہے تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
لغات آیت نمبر 101 تا 104
اتیتنی تو نے مجھے دیا الملک سلطن، حکومت علمتنی تو نے مجھے سکھایا الاحادیث باتیں، خواب فاطر پیدا کرنے والا ، بنانے والا ولی میرا مالک، میرا حمایتی توفنی تو نے مجھے وفات دی، اٹھایا الحقنی مجھے ملا دے، مجھے شامل رکھئے گا انباء خبریں لدیھم ان کے پاس اجمعوا انہوں نے جمع کیا یمکرون وہ تدبیریں کرتے ہیں حرصت تو نے لالچ کیا، تو نے خواہش کی ماتسئل تو نہیں مانگتا اجر اجرت، بدلہ ذکر دھیان دینے کی چیزیں
تشریح آیت نمبر 101 تا 104
قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ انبیاء کرم علہیم السلام کو دنیاوی اور علمی اعتابر سے کتنا ہی عروج اور رتبہ میں بلندی نصیب ہوجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
حضرت یعقوب علیہ السلام، ان کے بھائی اور ان کے بیٹے حضرت یوسف (علیہ السلام) تینوں کی وفات کا ذکر
مورخین کا بیان ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) مصر میں چوبیس سال عیش و خوشحالی کے ساتھ رہے۔ قریب وفات آپ نے وصیت کی کہ جنازہ ملک شام میں لے جاکر ارض مقدس میں آپ کو آپ کے والد حضرت اسحٰق (علیہ السلام) کے پاس دفن کیا جائے۔ اس کی تعمیل کی گئی اور اسی وقت آپ کے بھائی غیص کی وفات ہوئی دونوں بھائی ایک ہی جگہ مدفون ہوئے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) والد اور چچا کو دفن کرکے مصر کی طرف واپس ہوئے تو آپ نے یہ دعا کی کہ جو اس آیت میں ہے۔ یعنی انبیا سب معصوم ہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یہ دعا تعلیم امت کے لئے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
[35] مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی آزمائش کے لئے یہود وغیرہ نے اس قصے کی فرمائش کی تھی۔ اب جب کہ آپ ﷺ نے بغیر کسی ظاہری و مادی ماخذ کے جو صحیح قصہ اوّل سے آخر تک سنا دیا تو چاہئے یہ تھا کہ وہ فوراً آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان لے آتے لیکن ان سے اس کی توقع ہی نہیں۔ ان میں سے اکثر اس کا قصد ہی نہ کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
پیغمبر کی آرزو :
(ف 1) یعنی اس میں کچھ شبہ نہیں کہ جہاں تک تمہاری آرزو اور خواہش کا تعلق ہے ، وہ یہی ہے کہ یہ لوگ ایمان وعمل صالح کی دولت سے مالا مال ہوجائیں ، مگر ان کی فطرت کا تقاضا یہ ہے ، کہ رحمت خداوندی سے بہرحال دور رہیں ، اب ہدایت پائیں ، تو کیونکر ؟ تو سبب ونوررحمت اور غایت شفقت کے یہی چاہتا ہے کہ ان میں کوئی شخص بھی جہنم میں نہ جائے مگر انکو ضد ہے کہ جہنم میں ہی جائیں گے ، ایسی حالت میں اصلاح کی کب توقع ہو سکتی ہے ، فرمایا اصل مرض یہ ہے کہ دلوں پر غفلت وبے توجہی کے پردے پڑے ہیں ، ورنہ یہاں آسمان اور زمین کی مخلوق میں ہر چیز بجائے خود ایک آیت اور دلیل ہے ، اگر یہ غور وفکر سے کام لیں…
Read the full tafseer →102 ۔ اپنے پیغمبر ! یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم آپ کو وحی کے ذریعہ سے بتاتے ہیں ورنہ آپ تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے پاس اس وقت موجود نہ تھے جب انہوں نے یوسف کو کنویں میں ڈالنے کا پختہ ارادہ کرلیا تھا اور وہ فریب آمیز تدبیریں کر رہے تھے ۔ یعنی یہ قصہ بھی منجملہ اور واقعات کے غیب میں سے ہے اگر ہم وحی کے ذریعہ نہ بتاتے تو آپ کو معلوم ہی نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ جس وقت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی یوسف (علیہ السلام) کے خلاف نقصان پہنچانے کا عزم کر رہے تھے اس وقت آپ تو وہاں تھے نہیں پھر توریت اور انجیل میں بھی یہ تفصیل یہ تھی پھر تمہارے علم کا ذریعہ بجز ہماری وحی کے اور کیا ہوسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–106
ف 3۔ امر یقینی ہے کہ آپ نے کسی سے یہ قصہ سنا سنایا دلیل ہے نبوت کی اور صاحب وحی ہونے کی۔
Read the full tafseer →یہ غیب کی خبریں ہیں جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہیں ، آپ کو ان کا علم نہیں تھا
۔ 120 فرمایا اے میرے رسول ! یہ ساری خبریں جو اس قصہ کی صورت میں آپ کو سنائی گئیں یہ سب کی سب غیب ہی کی خبریں تو ہیں جن کو نہ تو آپ ہی جانتے تھے اور نہ ہی آپ کی قوم جانتی تھی۔ یہ تو یہود کے اکسانے پر مشرکین مکہ نے آپ سے دریافت فرما لی تھا۔ اب جب کہ ان کی یہ خواہش پوری کردی گئی اور آپ کی زبان مبارک سے ان کو یہ قصہ بتمامہ سنا دیا گیا تو انصاف کا تقاضا تو یہی تھا کہ وہ بےخود ہو کر اس میدان میں کود آتے اور نعرئہ توحید بلند کرتے اور آپ پر اے نبی اعظم و آخر ﷺ ایمان لے آتے لیکن وہ تو اپنے کفر پر بضد رہے آپ کو اے میرے رسول ! ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
Commentary
After a full description of the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) ، first to come in the verses cited above is an address to the Holy Prophet ﷺ : ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ (That is a part of the reports of the unseen We reveal to you), and that ` you were not there with the brothers of Yusuf (علیہ السلام) when they had decided to throw Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) into the well and were making plans for it.
The purpose of choosing to say this is that the very act of the Holy Prophet ﷺ in describing this story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) correctly…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
72. In order to grasp the full significance of the underlying admonition implied in it, we must keep in view the background of the revelation of this story given in the introduction to this Surah. The Quraish themselves had invited the Prophet (peace be upon him) to a meeting that had been arranged for putting him to a test which was to show whether he was a true Prophet or not. When he arrived there, they put this question to him without any previous notice or intimation: why did the Israelites go to Egypt? In answer to this, the Prophet (peace be upon him) recited this Surah then and there.…
Read the full tafseer →