نبوت مل چکی، بادشاہت عطا ہوگئی، دکھ کٹ گئے، ماں باپ اور بھائی سب سے ملاقات ہوگئی تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہے کہ جیسے یہ دنیوں نعمتیں تو نے مجھ پر پوری کی ہیں، ان نعمتوں کو آخرت میں پوری فرما، جب بھی موت آئے تو اسلام پر اور تیری فرمانبرداری پر آئے اور میں نیک لوگوں میں ملا دیا جاؤں اور نبیوں اور رسولوں میں صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین بہت ممکن ہے کہ حضرت یوسف ؑ کی یہ دعا بوقت وفات ہو۔ جیسے کہ بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ثابت ہے کہ انتقال کے وقت رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلی اٹھائی اور یہ دعا کی کہ اے اللہ رفیق اعلی میں ملا دے۔ تین مرتبہ آپ نے یہی دعا کی۔ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت…
Read the full tafseer →71۔ یہ چند فقرے جو اس موقع پر حضرت یوسف کی زبان سے نکلے ہیں ہمارے سامنے ایک سچے مومن کی سیرت کا عجیب دلکش نقشہ پیش کرتے ہیں، صحرائی گلہ بانوں کے خاندان کا ایک فرد جس کو خود اس کے بھائیوں نے حسد کے مارے ہلاک کردینا چاہا تھا زندگی کے نشیب و فراز دیکھتا ہوا بالاخر دنیوی عروج کے انتہائی مقام پر پہنچ گیا ہے، اس کے قحط زدہ اہل خاندان اب اس کے دست نگر ہو کر اس کے حضور آئے ہیں اور وہ حاسد بھائی بھی جو اس کو مار ڈالنا چاہتے تھے، اس کے تخت شاہی کے سامنے سرنگوں کھڑے ہیں۔ یہ موقع دنیا کے عام دستور کے مطابق فخر جتانے، ڈینگیں مارنے، گلے اور شکوے کرنے، اور طعن و ملامت کے تیر برسانے کا تھا، مگر ایک سچا خدا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اس کے بعد سب ہنسی خوشی رہتے رہے یہاں تک کہ یعقوب ؑ کی عمر اختتام پر پہنچی اور بعد وفات ان کی وصیت کے مطابق ملک شام میں لے جا کر اپنے بزرگوں کے پاس دفن کئے گئے پھر یوسف ؑ کو بھی آخرت کا اشتیاق ہوا اور دعا کی کہ) اے میرے پروردگار آپ نے مجھ کو (ہر طرح کی نعمتیں دیں، ظاہری بھی باطنی بھی، ظاہری یہ کہ مثلا) سلطنت کا بڑاحصہ دیا، اور (باطنی یہ کہ مثلا) مجھ کو خوابوں کی تعبیر دینا تعلیم فرمایا (جو کہ علم عظیم ہے خصوصاً جب کہ وہ یقینی ہو جو موقوف ہے وحی پر پس اس کا وجود مستلزم ہوگا عطاء نبوت کو) اے خالق آسمانوں اور زمین کے آپ میرے کارساز ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی (پس جس طرح دنیا…
Read the full tafseer →رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِيْ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۣ اَنْتَ وَلِيّٖ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ۔
حضرت یوسف ؑ کا دل یہ منظر دیکھ کر خدا کی حمدوسپاس میں ڈوب جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہیں کہ حکومت بھی تو ہی نے مجھے عطا فرمائی اور خوابوں کی تعبیر کا علم بھی تو ہی نے بخشا، اے آسمانوں اور زمین کے خالق دنیا اور آخرت دونوں میں میرا کارساز اور مددگار تو ہی ہے۔ مجھے اسلام پر وفات دینا اور مجھے صالحین کے زمرے میں داخل کرنا۔
Read the full tafseer →11۔ 1 یعنی ملک مصر کی فرمانروائی عطا فرمائی، جیسا کہ تفصیل گزری۔
11۔ 2 حضرت یوسف ؑ اللہ کے پیغمبر تھے، جن پر اللہ کی طرف سے وحی کا نزول ہوتا اور خاص خاص باتوں کا علم انھیں عطا کیا جاتا۔ چناچہ اس علم نبوت کی روشنی میں پیغمبر خوابوں کی تعبیر بھی صحیح طور پر کرلیتے۔ تھے تاہم معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ کو اس فن تعبیر میں خصوصی ملکہ حاصل تھا جیسا کہ قید کے ساتھیوں کے خواب کی اور سات موٹی گایوں کے خواب کی تعبیر پہلے گزری۔
11۔ 3 اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ پر جو احسانات کیے، انھیں یاد کرکے اور اللہ تعالیٰ کی دیگر صفات کا تذکرہ کرکے دعا فرما رہے ہیں کہ جب مجھے موت آئے تو اسلام کی حالت میں آئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
65: جیسا کہ شروع سورت میں عرض کیا گیا تھا، حضرت یوسف ؑ کا یہ واقعہ اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے جواب میں نازل فرمایا تھا جو آنحضرت ﷺ سے یہ پوچھ رہے تھے کہ بنی اسرائیل کے مصر میں آباد ہونے کی کیا وجہ تھی، ان کو یقین تھا کہ آپ کے پاس بنی اسرائیل کی تاریخ کے اس حصے کا علم نہیں ہے اور نہ کوئی ایسا ذریعہ ہے جس سے آپ کو یہ معلومات حاصل ہوسکیں، اس لئے ان کا خیال یہ تھا کہ آپ اس سوال کا صحیح جواب نہیں دے سکیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ پوری سورت اس واقعے کو بیان فرمانے کے لئے نازل فرمادی، اب آخر میں یہ نتیجہ نکالا جارہا ہے کہ اس واقعے کو معلوم کرنے کا آنحضرت ﷺ کے پاس وحی کے سوا کوئی ذریعہ نہیں تھا، اس…
Read the full tafseer →آیت نمبر 101
اے رب تو نے مجھے بادشاہت بخشی ، اونچا مقام و مرتبہ دیا۔ مال و دولت سے نوازا اور تمام دنیاوی نعمتیں عطا کردیں۔
رب قد اتیتنی من الملک (12 : 101) ” اے رب تو نے مجھے حکومت بخشی “۔ اور پھر تو نے مجھے معاملہ فہمی عطا فرمائی۔
وعلمتنی من تاویل الاحادیث (12 : 101) ” زمین و آسمان بنانے والے “۔ تو نے اس کائنات کو کن فیکون سے تخلیق کیا اور اس کا پورا کنٹرول تیرے ہاتھ میں ہے اور تو ہی اس کائنات پر اور اس کے اندر بسنے والوں پر قدرت رکھتا ہے “۔
انت ولی۔۔۔۔۔ الاخرۃ (12 : 101) ” تو ہی دنیا و آخرت میں میرا سر پرست ہے “۔ تو ہی مددگار اور نصرت کرنے والا ہے۔ اے اللہ یہ ہیں تیرے انعامات اور یہ ہیں…
Read the full tafseer →10 اسی سورت کے پہلے رکوع میں " تَاْوِیْلَ الْاَحَادِیْثِ " کی تفسیر گزر چکی ہے۔
1 یا تو لقاء اللہ کے شوق میں فی الحال موت کی تمنا کی یا یہ مطلب ہے کہ جب کبھی موت آئے اسلام (یعنی کامل تسلیم و رضاء) پر آئے۔ (تنبیہ) حدیث میں آیا ہے کہ کوئی شخص کسی مصیبت اور تکلیف سے گھبرا کر موت کی تمنا نہ کرے۔ اس سے مفہوم ہوتا ہے کہ جب لقاء اللہ یا اور کسی غرض صالح کی وجہ سے موت کی تمنا کرسکتا ہے جیسے ساحرین فرعون نے دعا کی تھی " رَبَّنَا اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبَرًا وَّتَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ " یا حضرت مریم نے کہا تھا (قَالَتْ يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّا) 19 ۔ مریم :23) اور معاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
آیت 100 وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا
یہ سجدۂ تعظیمی تھا جو پہلی شریعتوں میں جائز تھا۔ شریعت محمدی میں جہاں دین کی تکمیل ہوگئی وہاں توحید کا معاملہ بھی آخری درجے میں تکمیل کو پہنچا دیا گیا۔ چناچہ یہ سجدۂ تعظیمی اب حرام مطلق ہے۔ جو لوگ اپنے بزرگوں یا قبروں کو سجدہ کرتے ہیں وہ صریح شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ سابقہ انبیاء کرام کے حالات و واقعات سے آج اس کے لیے کوئی دلیل اخذ کرنا قطعاً درست نہیں۔
وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ
حضرت یوسف کے اس خواب کا ذکر آیت 4 میں ہے کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ اس میں گیارہ بھائی…
Read the full tafseer →96 سیدنا یوسف (علیہ السلام) کی اپنے حق میں دعا :۔ باپ اور بھائیوں سے خطاب کے بعد سیدنا یوسف اسی ہستی کی طرف متوجہ ہوئے جس نے آپ پر یہ سب احسانات فرمائے تھے۔ پہلے ان احسانات کا اعتراف کیا جن کی بنا پر آپ کو ہر طرح کی دنیوی اور دینی بھلائیاں میسر آئی تھیں پھر اس کی حمد و ثنا اور اپنے لیے دعا میں مشغول ہوگئے اور حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی اللہ کا بندہ جس قدر اللہ کا احسان شناس ہوتا ہے۔ اتنا ہی زیادہ وہ اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول ہوجاتا ہے۔ اس کا دل اللہ کی عظمت اور اس کی مہربانیوں پر شکریہ ادا کرنے کے لیے جھک جاتا ہے۔ اپنے پروردگار سے اس کی محبت اور ایمان میں مزید اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ حمد و ثنا کے…
Read the full tafseer →183۔ (اور جو علم بھی کیسا ظنی اور تخمینی نہیں، یقینی، اور یقینیات تک رسائی تو وحی کے بعد ہی ہوسکتی ہے) (آیت) ” من الملک “۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی باقاعدہ بادشاہت وفرمانروائی اگر تاریخ سے ثابت نہیں تو عملا تو آپ اس مرتبہ پر بہرحال پہنچ چکے تھے، توریت میں ہے :۔ ” اور اس نے مصر کی ساری مملکت پر حاکم کیا اور فرعون نے یوسف کو کہا کہ میں فرعون ہوں، اور بغیر تیرے مصر کی ساری زمین میں کوئی انسان اپنا ہاتھ پاؤں نہ اٹھائے گا اور فرعون نے یوسف (علیہ السلام) کا خطاب ” جہاں پناہ “ رکھا۔ (پیدائش 41: 43، 44) اور بعض نے من کو تبعیضیہ قرار دے کر اس سے یہ نکالا ہے کہ آپ (علیہ السلام) ملک کے تمامتر فرمانروا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
آیت نمبر 94 تا 104
ترجمہ : اور جب یہ قافلہ مصر کی آبادی سے باہر نکلا تو ان کے والد نے حاضرین میں سے ان سے جو ان کے بیٹے اور پوتوں میں سے موجود تھے کہا میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں اگر تم مجھے سٹھیایا ہوا قرار نہ دو تو تم میری تصدیق کروگے بادصبا نے باذن خداوندی یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو کو یعقوب تک تین دن کی یا آٹھ دن کی یا اس سے زیادہ کی مسافت سے پہنچا دیا تھا، تو حاضرین نے ان سے کہا واللہ تم تو اپنے پرانے خبط میں مبتلا ہو اس سے بیحد محبت کرنے اور اس سے ملاقات کی (شدید) خواہش کی وجہ سے باوجود عرصہ دراز گذر جانے کے، چناچہ جب خوشخبری دینے والا یہودا کرتہ لے کر آیا اور…
Read the full tafseer →رب قد اتیتنی من الملک وعلمتنی من تاویل الاحادیث فاطر السموت والارض انت ولي فی الدنیا والاخرۃ توفني مسلما والحقنی بالصلحین اے میرے رب ! تو نے مجھے سلطنت کا ایک بڑا حصہ عطا فرمایا اور خوابوں کی تعبیر دینا سکھائی ‘ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ! تو میرا کارساز ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘ مجھ کو پوری فرمانبرداری کی حالت میں دنیا سے اٹھا لے اور نیک بندوں کے ساتھ شامل کر دے۔
مِنَ الْمُلْکِ (میں مِنْ تبعیضیہ ہے) یعنی سلطنت کا حصہ ‘ مراد مصر کی حکومت۔ جس شخص کے ہاتھ میں نظم و نسق ہو ‘ اس کے اقتدار کی ہمہ گیری کو ملک کہتے ہیں۔ مِنْ تَاوِیْلِ (میں بھی مِنْ تبعیضیہ ہے) یعنی کچھ ‘ کسی قدر…
Read the full tafseer →(101) اے میرے پروردگار آپ نے مجھ کو ملک مصر کی سلطنت عطا کی جس کا رقبہ چالیس فرسخ (فاصلے کا ایک ماپ جو اٹھارہ ہزار فٹ ہوتا ہے) اور مجھ کو خوابوں کی تعبیر دنیاکا علم دیا اے آسمانوں اور زمین کے خالق آپ ہی میرے پروردگار خالق رازق ومحافظ ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، مجھے عبادت توحید میں پورے خلوص کے ساتھ دنیا سے اٹھائیے اور میرے آباؤ اجداد مرسلین کے ساتھ جو جنت میں ہیں شامل کردیجیے۔
Read the full tafseer →رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ مِنَ الْمُلْكِ۔۔ : پچھلی آیت میں یوسف ؑ نے اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر کیا ہے، یہاں سے وہ اللہ تعالیٰ کو اس کی صفت ربوبیت کے ساتھ مخاطب کرکے اور مزید نعمتوں کا ذکر کرکے اس چیز کی دعا کرتے ہیں جو ان تمام نعمتوں سے بڑی ہے اور اتنی نعمتوں کے باوجود یوسف ؑ سب سے زیادہ اسی کے متعلق فکر مند ہیں اور فی الواقع اصل فکر اسی کی ہونا لازم ہے۔ عرض کیا اے ہر لمحے میری نگہداشت کر کے، میری ہر ضرورت پوری کر کے مجھے پالنے والے ! تو نے مجھے حکومت میں سے حصہ بھی دیا (”مِنْ“ بمعنی بعض ہے، کیونکہ وہ وزیر خزانہ تھے اور اگر کوئی بادشاہ ہے تو اس کے پاس بھی بادشاہی کا ایک حصہ ہی ہے، کل…
Read the full tafseer →آیت نمبر 101
قولہ تعالیٰ : رب قداٰتیتنی من الملک وعلمتنی من تاویل الاھادیث قتادہ نے کہا : کسی نبی یا غیر نبی نے موت کی تمنا نہیں کی سوائے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے، اور وہ بھی تب جب آپ پر نعمتیں تمام ہوگئیں اور تمام معاملات مکمل ہوگئے تو آپ اپنے پروردگار کی ملاقات کے مشتاق ہوگئے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے موت کی تمنا نہیں کی بلکہ اسلام پر وفات کی تمنا کی ہے، یعنی جب میری موت آئے تو مجھے حالت اسلام میں موت دے، یہ جمہور کا قول ہے۔ سہل بن عبداللہ تستری نے کہا : موت کی تمنا صرف تین آدمی کرتے ہیں، ایسا آدمی جو موت سے بعد کے معاملات سے ناواقف ہوتا ہے یا وہ آدمی جو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →اچھی موت کی دعا :
1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے یہ دعا مانگی (آیت ) ” رب قد اتیتنی من الملک “ سے لے کر ” توفنی مسلما والحقنی بالصلحین “ تک تو اللہ تعالیٰ نے ان کی قدر دانی فرماتے ہوئے۔ ان کی عمر 80 سال زیادہ کی۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن جریج کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا جب یوسف (علیہ السلام) کو ان کا شوق ہوا اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا اور آپ نے اپنے آباء کے ساتھ ملنے کو پسند کیا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ وہ ان کو فوت کردیں اور ان…
Read the full tafseer →[رَبِ : اے میرے رب ] [ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ : تو نے دیا ہے مجھ کو ] [ مِنَ الْمُلْكِ : حکومت میں سے ] [وَعَلَّمْتَنِيْ : اور تو نے علم دیا مجھ کو ] [ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ : خوابوں کی تعبیر میں سے ] [فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : اے زمین اور آسمانوں کو وجود بخشنے والے ] [انتَ : تو ] [ وَلِيّٖ : میرا کارساز ہے ] [ فِي الدُّنْيَا : دنیا میں ] [ وَالْاٰخِرَةِ : اور آخرت میں ] [ تَوَفَّنِيْ : تو وفات دے مجھ کو ] [ مُسْلِمًا : فرمانبردار ہوتے ہوئے ] [وَّاَلْحِقْنِيْ : اور تو ملا دے مجھ کو ] [بِالصّٰلِحِيْنَ : صالح لوگوں کے ساتھ ]
نوٹ۔ 1: بائبل کا بیان ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →اسلام پر مرنے اور صالحین میں شامل ہونے کی دعا :
اس کے بعد حضرت یوسف (رح) نے یوں دعا کی (فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ) (اے زمین و آسمان کے پیدا فرمانے والے آپ ہی دنیا وآخرت میں میرے کار ساز ہیں) ۔ (تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّالْحِقْنِیْ بالصّٰلِحِیْنَ ) (مجھے اس حالت میں موت دیجئے کہ میں فرمانبردار ہوں اور مجھے نیک بندں میں شامل فرما دیجئے) اس سے معلوم ہوا کہ باایمان اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہوتے ہوئے موت آجانا سب سے بڑی سعادت ہے ‘ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جو حضرات مرتبہ کے اعتبار سے اپنے سے زیادہ ہوں ان کے احوال اور اعمال میں اور ان کی طرح اجرو…
Read the full tafseer →خاتمہ بردعائے یوسف (علیہ السلام) برائے خاتمہ بالخیر
قال اللہ تعالیٰ رب قد اتیتنی من الملک .... الیٰ .... والحقنی بالصلحین
(ربط) یوسف (علیہ السلام) باپ کے دفن کے بعد مصر واپس آگئے اور باپ کی وفات کے بعد تئیس 23 سال زندہ رہے اور باپ اور چچا کی وفات کے بعد آخرت کا شوق غالب ہوا اور یہی دعا شروع کی اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو دنیوی، دینی اور ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا ہے تو نے مجھے ملک مصر کی سلطنت عطا کی اور خوابوں کی تعبیر کا علم مجھ کو سکھایا اور نبوت اور صدیقیت عطا کی۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی میرا کارساز ہے دنیا اور آخرت میں پس جس طرح تو نے میری دنیا کو درست کیا اسی…
Read the full tafseer →86:۔ اس سے پہلے حرف نداء محذوف ہے ” ای یارب “۔ اسی طرح ” فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ الخ “ سے پہلے بھی حرف نداء محذوف ہے۔ ” اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ “ یہ مقصود بالنداء ہے۔ یعنی دنیا اور آخرت میں تو ہی کارساز اور یار و مددگار ہے۔ غم واندوہ کو خوشی اور سرور میں تبدیل کرنا اور رنج و تکلیف کو آرام و راحت میں بدل دینا تیری ہی کام ہے۔ ” تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا “: یہ بھی مقصود بالنداء ہے۔ ” اَلصَّالِحِیْنَ “ سے انبیاء (علیہم السلام) مراد ہیں یعنی مجھے بھی درجات و منازل اور ثواب میں ان کے ساتھ ملا دے۔ یہ والدین اور بھائیوں کے سامنے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وہ تقریر ہے جس میں انہوں نے عجیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
ربط آیات
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ اختتام پذیر ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ نے یعقوب (علیہ السلام) اور آپ کے بیٹوں کا تصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ برادران یوسف نے آپ کو نہایت ظالمانہ طریقے سے وطن سے نکالا۔ وہ آپ کو باپ کی نظروں سے اوجھل کر کے حسد کی آگ کو بجھانا چاہتے تھے ، مگر خدا تعالیٰ کی تدبیر اپنا کام کر رہی تھی۔ بھائیوں کا یہ حسد اور بغض ہی یوسف (علیہ السلام) کے بام عروج تک پہنچنے کا سبب بن گیا۔ آپ نے مصر میں نظام حکومت سنبھالا ، قحط سالی میں حسن تدبیر سے نہ صرف مصر کو اس کے اثرات سے بچا لیا بلکہ دوسرے ملکوں کو بھی غلہ فراہم کیا۔ پھر آپ نے آخر میں اپنے والد گرامی اور پورے خاندان کو مصر…
Read the full tafseer →رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِيْ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ 0ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0ۣ اَنْتَ وَلِيّٖ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ 0ۚ تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ 101
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–104
2 ؎ تو اور کوئی سامان بنیامین کے روکنے کا کردیتا 12 منہ
Read the full tafseer →رَبِّ قَدْ اٰ تَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکِ وَعَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ ج فَاطِرَالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ قف اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ج تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 101)
(اے میرے رب تو نے مجھے حکومت بخشی اور باتوں کی تعبیر کے علم میں سے بھی سکھایا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ میرا خاتمہ اسلام پر کر اور مجھے نیکوکاروں کے زمرہ میں شامل فرما۔ )
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ادا شکر اور دعا
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ تمام اہل دربار ان کے سامنے جھکے ہوئے ہیں اور آپ (…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ وا لد محترم کے سامنے خواب کی تعبیر کا تذکرہ کرنے کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے سامنے بھائیوں کا جھکنا دیکھ کر اکڑتے اور اس بات پر اتراتے نہیں بلکہ فوراً اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں میرے رب یہ تیرے کرم کا نتیجہ ہے کہ تو نے مجھے بڑی بڑی مصیبتوں سے نکال کر دنیا کی عظیم مملکت کا حکمران بنایا۔ تو نے ہی مجھے خوابوں کی تعبیر اور معاملات کی فہم عطا فرمائی۔ اے میرے رب میں جو کچھ بھی ہوں تیرے کرم سے ہوں۔ تو میری دنیا اور آخرت کے کاموں کا والی اور مختار ہے۔ جو کچھ مجھے عطا ہوا بغیر مانگے…
Read the full tafseer →دعائے مستجاب :
101: رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکِ (اے میرے رب آپ نے مجھے سلطنت کا ایک حصہ عنایت فرمایا) ملک سے ملک مصر مراد ہے۔ وَعَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ (اور آپ نے مجھے خوابوں کی تعبیر سکھائی) نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کی کتابوں کی تفسیر نمبر 2۔ خوابوں کی تعبیر۔
نحو : مِنْ تبعیضیہ ہے اس لئے کہ ان کو مصر کی بادشاہت ملی نہ کہ پوری دنیا کی اور تاویل بھی بعض باتوں کی نہ کہ تمام کی فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے)
نحو : مناد ٰی ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ (آپ دنیا و آخرت میں میرے کارساز ہیں) آپ…
Read the full tafseer →تفسیر 101۔” رب قد اتیتنی من الملک “ یعنی ملک مصر اور ملک جس کو سیاست اور تدبیر حاصل ہو اس کی قدرت کا وسیع ہونا ۔ ” وعلمتنی من تاویل الاحادیث “ خواب کی تعبیر ” فاطر السموات والارض “ یعنی ان دونوں کا خالق ہے۔ ” انت ولیی فی الدنیا والآخرۃ توفنی مسلما والحقنی بالصالحین “ میرے انبیاء آباء کے ساتھ ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) میں سے یوسف (علیہ السلام) کے سوا کسی نے موت کا سوال نہیں کیا ۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے والدین بھی پہنچ گئے تو آپ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا شوق ہوا تو اس وقت یہ دعا مانگی تھی ۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ اس دعا کے بعد کئی سال زندہ رہے اور دیگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
101۔ 102۔ سترہ برس کی عمر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائیوں نے کنوئیں میں ڈالا اور چالیس برس تک پھر باپ سے مصر میں بچھڑے رہے اور چوبیس برس تک پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے ساتھ مل کر مصر میں رہے اور زلیخا سے نکاح ہوا اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے یہ انجام بخیر ہونے کی دعا کی تھوڑے دنوں بعد مصر میں انتقال فرمایا اہل مصر کو حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ایسا اعتقاد ہوگیا تھا کہ ہر ایک محلہ کا سردار اپنے محلہ میں برکت کی نیت سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دفن کرنا چاہتا تھا یہاں تک نوبت پہنچی کہ قریب تھا کہ اس بات پر اہل مصر میں تلوار چل جاوے پھر آخر یہ صلاح ٹھہری کہ نیل کا پانی سب کے کھیتوں…
Read the full tafseer →جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو زمین میں مکمل اقتدار عطا کردیا اور ان کے والدین اور بھائیوں کی ملاقات کے ذریعے سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کردیں، تو یوسف (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے، اس پر اس کا شکریہ ادا کرتے اور اسلام پر ثبات اور استقامت کی دعا کرتے ہوئے کہا : (آیت) ” اے رب تو نے مجھے بادشاہی سے حصہ دیا “ یہ انہوں نے اس لئے کہا تھا کہ وہ زمین کے خزانوں کے منتظم اور بادشاہ کے بہت بڑے وزیر تھے۔ (آیت) ” اور مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ “ یعنی تو نے مجھے آسمانی کتاب کی تفسیر اور خوابوں کی تعبیر کا علم عطا کیا۔ (آیت) ” اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے !…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–104
قول باری (ورفع ابویہ علی العرش۔ اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا) کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ حضرت یوسف کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا اور حضرت یعقوب نے ان کی بہن سے نکاح کرلیا تھا۔ سدی سے یہ تفسیر منقول ہے۔ حسن اور ابن اسحاق کا قول ہے کہ ان کی والدہ زندہ تھیں۔ سلیمان اور عبید اللہ بن شداد سے منقول ہے کہ خواب اور اس کی تعبیر کے وقوع پذیر ہونے کی درمیانی مدت چالیس برس تھی۔ حسن سے منقول ہے کہ یہ مدت اسی برس تھی۔ جبکہ ابن اسحاق کا قول ہے کہ یہ مدت اٹھارہ برس تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں تو پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اس بات کی تسلی کیوں حاصل نہیں کہ…
Read the full tafseer →164۔ حکومت و فرمانروائی سے نوازنا اللہ ہی کی شان اور اسی کا کام ہے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس موقع پر اللہ پاک کے حضور عرض کیا " اے میرے رب تو نے ہی مجھے حکومت بخشی " کہ حکومت دینے اور چھیننے والا تو ہی تو ہے۔ عزت وذلت سب کچھ تیرے ہی قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ اور خیر کے سب خزانوں کا مالک تو ہی ہے اے میرے خالق ومالک۔ اب دیکھئے کہ ایک طرف تو عبدیت و بندگی اور عجزوانکسار اور للہیت کا یہ نمونہ ہے اور دوسری طرف آج کے جاہل مسلمان کو دیکھئے کہ اس کو جب کسی چھوٹے موٹے الیکشن میں کامیابی نصیب ہوجاتی ہے یا چھوٹا بڑا کوئی عہدہ اسے مل جاتا ہے تو وہ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
آیات 94 تا 104
اسرار و معارف
ادھریعقوب (علیہ السلام) بےقراری سے منتظر تھے کہ واپس آنے والے کیا خبر لاتے ہیں لیکن اللہ کی شان کا ظہور عجیب طریقے سے ہوا۔
کشف اور مشاہدہ
کہ جب وہ قافلہ جس میں وہ آدمی بھی شامل تھا جس کے پاس یوسف (علیہ السلام) کی قمیض تھی کنعان پہنچا تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم اسے میری دیوانگی نہ کہو تو آج مجھے یوسف کی خوشبوآرہی ہے تو سننے والوں نے بڑے آرام سے کہہ دیا کہ وہم اب آپ کا مرض بن چکا ہے اور آپ ہمیشہ ہی امید رکھین گے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ایک روز مجھ سے آملیں گے لیکن عجیب بات یہ جو پہلے بھی لکھی جاچکی کہ مصر جو کم وبیش آٹھ دن کی مسافت پر تھا…
Read the full tafseer →ف 4 مراد یا تو ” تعبیر رویا “ کا علم ہے اور یا کتب الہٰہ کے اسرار و دقائق کا فہم (روح) ۔
5 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے شوق میں جلد موت کی تمنا کی، ہوسکتا ہے یہ ان کی شریعت میں جائز ہو جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے قرب موت کے وقت اس قسم کے اشتیاق کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔ اللھم فی الرقیق الاعلی “ اے اللہ مجھے رفیق اعلیٰ سے ملادے۔ (ابن کثیر) آیت کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب کبھی مجھے موت آئے تو اس حال میں آئے کہ میں مسلمان ہوں۔ اکثر مفسرین نے یہی مفہوم مراد لیا ہے و بین السطور ترجمہ سے پہلے مفہوم مترشح ہوتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ کوئی مصیبت یا تکلیف سے گھبرا کر موت کی تمنا نہ کرے۔ البتہ جب دین میں تفنہ کا…
Read the full tafseer →(12: 101) فاطر السموت۔ فاطر۔ اسم فاعل واحد مذکر فطر (باب نصر۔ ضرب) سے عدم کو پھاڑ کر وجود میں لانے والا۔ نیست سے ہست کرنے والا۔ لغت میں فطر کے معنی پھاڑنا ہیں اللہ تعالیٰ آسمانوں کو عدم سے پھاڑ کر وجود میں لانے والا ہے۔ اس لئے لفظ فاطر استعمال ہوا ہے۔ فاطر السموت۔ مضاف مضاف الیہ۔ فاطر کے نصب کی مندرجہ ذیل وجوہ ہوسکتی ہیں۔
(1) یہ آیت کے شروع میں جو لفظ رب ہے اور بطور مناویٰ واقع ہوا ہے اس کی صفت ہے۔
(2) یہ خود مناوٰی ہے اور اس سے پہلے یاء محذوف ہے اور بوجہ مضاف ہونے کے منصوب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
لغات آیت نمبر 101 تا 104
اتیتنی تو نے مجھے دیا الملک سلطن، حکومت علمتنی تو نے مجھے سکھایا الاحادیث باتیں، خواب فاطر پیدا کرنے والا ، بنانے والا ولی میرا مالک، میرا حمایتی توفنی تو نے مجھے وفات دی، اٹھایا الحقنی مجھے ملا دے، مجھے شامل رکھئے گا انباء خبریں لدیھم ان کے پاس اجمعوا انہوں نے جمع کیا یمکرون وہ تدبیریں کرتے ہیں حرصت تو نے لالچ کیا، تو نے خواہش کی ماتسئل تو نہیں مانگتا اجر اجرت، بدلہ ذکر دھیان دینے کی چیزیں
تشریح آیت نمبر 101 تا 104
قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ انبیاء کرم علہیم السلام کو دنیاوی اور علمی اعتابر سے کتنا ہی عروج اور رتبہ میں بلندی نصیب ہوجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
حضرت یعقوب علیہ السلام، ان کے بھائی اور ان کے بیٹے حضرت یوسف (علیہ السلام) تینوں کی وفات کا ذکر
مورخین کا بیان ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) مصر میں چوبیس سال عیش و خوشحالی کے ساتھ رہے۔ قریب وفات آپ نے وصیت کی کہ جنازہ ملک شام میں لے جاکر ارض مقدس میں آپ کو آپ کے والد حضرت اسحٰق (علیہ السلام) کے پاس دفن کیا جائے۔ اس کی تعمیل کی گئی اور اسی وقت آپ کے بھائی غیص کی وفات ہوئی دونوں بھائی ایک ہی جگہ مدفون ہوئے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) والد اور چچا کو دفن کرکے مصر کی طرف واپس ہوئے تو آپ نے یہ دعا کی کہ جو اس آیت میں ہے۔ یعنی انبیا سب معصوم ہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یہ دعا تعلیم امت کے لئے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
[35] مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی آزمائش کے لئے یہود وغیرہ نے اس قصے کی فرمائش کی تھی۔ اب جب کہ آپ ﷺ نے بغیر کسی ظاہری و مادی ماخذ کے جو صحیح قصہ اوّل سے آخر تک سنا دیا تو چاہئے یہ تھا کہ وہ فوراً آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان لے آتے لیکن ان سے اس کی توقع ہی نہیں۔ ان میں سے اکثر اس کا قصد ہی نہ کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
پیغمبر کی آرزو :
(ف 1) یعنی اس میں کچھ شبہ نہیں کہ جہاں تک تمہاری آرزو اور خواہش کا تعلق ہے ، وہ یہی ہے کہ یہ لوگ ایمان وعمل صالح کی دولت سے مالا مال ہوجائیں ، مگر ان کی فطرت کا تقاضا یہ ہے ، کہ رحمت خداوندی سے بہرحال دور رہیں ، اب ہدایت پائیں ، تو کیونکر ؟ تو سبب ونوررحمت اور غایت شفقت کے یہی چاہتا ہے کہ ان میں کوئی شخص بھی جہنم میں نہ جائے مگر انکو ضد ہے کہ جہنم میں ہی جائیں گے ، ایسی حالت میں اصلاح کی کب توقع ہو سکتی ہے ، فرمایا اصل مرض یہ ہے کہ دلوں پر غفلت وبے توجہی کے پردے پڑے ہیں ، ورنہ یہاں آسمان اور زمین کی مخلوق میں ہر چیز بجائے خود ایک آیت اور دلیل ہے ، اگر یہ غور وفکر سے کام لیں…
Read the full tafseer →101 ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا یہ خاندان مصر میں آباد ہوگیا یہاں تک کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا وصال ہوگیا ۔ اب آگے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی دعا ہے۔ اے میرے پروردگار تو نے مجھے سلطنت میں سے ایک بڑا حصہ عطا فرمایا اور ایک اچھے خاصے حصے کی حکومت دی اور تو نے مجھے خوابوں کی تعبیر بتاتا بھی سکھایا اور خوابوں کی تعبیر کی کل بٹھانے کا علم بھی دیا ۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کار ساز ہے تو مجھ کو فرمانبرداری اور اسلام کی حالت میں وفات دے اور دنیا سے اٹھا اور مجھ کو مرنے کے بعد اپنے نیک بندوں کے ساتھ ملا دے اور نیک لوگوں میں شامل کردے۔ یعنی علم ظاہری…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی جس طرح دنیا میں میرے سب کام بنادیے کہ سلطنت دی علم دیا اسی طرح آخرت کے کام بھی بنادیجیے اور میرے بزرگوں میں جو انبیاء عظام ہوئے ہیں ان میں مجھ کو پہنچا دیجیے۔ فائدہ۔ اشتیاق موت کا اگر شوقا الی لقاء اللہ ہو تو جائز ہے۔
Read the full tafseer →یوسف دست بددعا ہیں اور رب ذوالجلال والا کرام سے پوری طرح ملتجی
۔ 119 یوسف (علیہ السلام) اپنی داستان اور اپنے تذکرہ کا اختتام اس طرح کرتے ہیں کہ اے میرے پروردگار ! اے میرے رزق دینے والے ، اے میرے خلاق ومالک رب ! جن نعمتوں سے تو نے مجھے اس دنیوی زندگی میں نوازا اور سرفراز فرمایا ان میں سے کوئی ایک نعمت بھی میں نے تجھ سے طلب نہیں کی تھی۔ مجھ پر جو جو احسانات و انعامات تو نے کئے وہ سب کے سب مجھ پر بن مانگے اور طلب کئے عنایت کئے اور بلاشبہ بات یہی حق ہے کہ اس نے یوسف (علیہ السلام) کو جو کچھ دیا وہ بن مانگے دیا کیونکہ یہ سب کچھ یوسف مانگ ہی کب سکتا تھا ؟ غور کرو کہ قرآن کریم میں باپ اور بھائی آ کر…
Read the full tafseer →Commentary
The address of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) in the previous verses was to his respected father. Now, after having achieved an important objective by meeting his parents and brothers, he was at peace to devote himself directly to praising Allah Ta` ala and to supplicating before Him. at he said appears immediately above. The ` salihin' or ` the righteous' or morally the most perfect servants of Allah can be the prophets themselves for they are Divinely protected (ma` sum) against all sins. (Mazhari)
Worth noticing in this du a' is the prayer for a good end to life. It presents…
Read the full tafseer →71. The few sentences that were uttered by Prophet Joseph (peace be upon him) at the happiest occasion of his life help depict the most graceful pattern of the virtues of a true believer. There is the man from the desert, whom his own brothers had, out of jealousy, attempted to kill, now sitting on the throne after passing through many vicissitudes of life. All the members of his family have been forced by famine to come before him for help. The same jealous brothers, who had made an attempt on his life, are now standing before him with downcast heads. Had there been a“successful man of the…
Read the full tafseer →