Explained with ayahs 99–100
بھائیوں پر حضرت یوسف ؑ نے اپنے آپ کو ظاہر کر کے فرمایا تھا کہ ابا جی کو اور گھر کے سب لوگوں کو یہیں لے آؤ۔ بھائیوں نے یہی کیا، اس بزرگ قافلے نے کنعان سے کوچ کیا جب مصر کے قریب پہنچے تو نبی اللہ حضرت یوسف ؑ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ خود شاہ مصر بھی استقبال کے لئے چلے اور حکم شاہی سے شہر کے تمام امیر امرا اور ارکان دولت بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ مروی ہے کہ خود شاہ مصر بھی استقبال کے لئے شہر سے باہر آیا تھا۔ اس کے بعد جو جگہ دینے وغیرہ کا ذکر ہے اس کی بابت بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کی عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی آپ نے ان سے فرمایا تم مصر میں چلو، انشاء اللہ پر امن اور بےخطر رہو گے…
Read the full tafseer →70۔ اس لفظ " سجدہ " سے بکثرت لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے، حتی کہ ایک گروہ نے تو اسی سے استدلال کر کے بادشاہوں اور پیروں کے لیے سجدہ تحیۃ اور سجدہ تعظیمی کا جواز نکال لیا، دوسرے لوگوں کو اس قباحت سے بچنے کے لیے اس کی یہ توجیہ کرنی پڑی کہ اگلی شریعتوں میں صرف سجدہ غیر اللہ کے لیے حرام تھا، باقی رہا وہ سجدہ جو عبادت کے جذبہ سے خالی ہو تو وہ خدا کے سوا دوسروں کو بھی کیا جاسکتا تھا، البتہ شریعت محمدی میں ہر قسم کا سجدہ غیر اللہ کے لیے حرام کردیا گیا، لیکن ساری غلط فہمیاں دراصل اس وجہ سے پیدا ہوئی ہیں کہ لفظ " سجدہ " کو موجودہ اسلامی اصطلاح کا ہم معنی سمجھ لیا گیا، یعنی ہاتھ، گھٹنے اور پیشانی زمین پر…
Read the full tafseer →وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ یعنی یوسف ؑ نے اپنے والدین کو اپنے تخت شاہی پر بٹھایا،
وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا یعنی والدین اور سب بھائیوں نے یوسف ؑ کے سامنے سجدہ کیا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ سجدہ شکر اللہ تعالیٰ کے لئے کیا گیا تھا یوسف ؑ کو نہیں تھا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ سجدہ عبادت تو ہر پیغمبر کی شریعت میں غیر اللہ کے لئے حرام تھا لیکن تعظیم انبیاء (علیہم السلام) سابقین کی شریعتوں میں جائز تھا جو شریعت اسلام میں ذریعہ شرک ہونے کی بناء پر ممنوع ہوگیا ہے جیسا کہ حدیث صحیحین میں مذکور ہے کہ کسی غیر اللہ کے لئے سجدہ حلال نہیں
وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ…
Read the full tafseer →وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا ۚ وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا ۭ وَقَدْ اَحْسَنَ بِيْٓ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ وَجَاۗءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِيْ وَبَيْنَ اِخْوَتِيْ ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَاۗءُ ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ۔
" عرش " سے مراد یہاں تخت شاہی نہیں بلکہ وہ تخت ہے جس پر حضرت یوسف ؑ فصل مقدمات وغیرہ کے لیے فروکش ہوا کرتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے اس دور میں وزراء اور اعلی حکام تخت ہی پر بیٹھتے تھے۔ " خَرَّ یَخِرُّ " کے معنی اوپر…
Read the full tafseer →10۔ 1 بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ سوتیلی ماں اور سگی خالہ تھیں کیونکہ یوسف ؑ کی حقیقی ماں بنیامین کی ولادت کے بعد فوت ہوگئی تھیں۔ حضرت یعقوب ؑ نے اس کی وفات کے بعد اس کی ہمشیرہ سے نکاح کرلیا تھا یہی خالہ اب حضرت یعقوب ؑ کے ساتھ مصر میں گئی تھیں (فتح القدیر) لیکن امام ابن طبری نے اس کے برعکس یہ کہا ہے کہ یوسف ؑ کی والدہ فوت نہیں ہوئی تھیں اور وہی حقیقی والدہ تھیں۔ (ابن کثیر)
10۔ 2 بعض نے اس کا ترجمہ کیا ہے کہ ادب و تعظیم کے طور پر یوسف ؑ کے سامنے جھک گئے۔ لیکن (وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا) 12۔ یوسف :10) کے الفاظ بتلاتے ہیں کہ وہ زمین پر یوسف ؑ کے سامنے سجدہ ریز ہوئے، یعنی یہ سجدہ، سجدہ ہی کے معنی…
Read the full tafseer →62: حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے اس آیت کی جو تفسیر مروی ہے، اس کے مطابق ان سب حضرات نے یہ سجدہ یوسف ؑ کے سامنے اللہ تعالیٰ کا شکر بجالانے کے لئے کیا تھا، یعنی سجدہ اللہ تعالیٰ ہی کو تھا، البتہ یوسف ؑ کے سامنے اور ان کے مل جانے کی خوشی میں کیا تھا، امام رازی ؒ نے اسی تفسیر کو راجح قرار دیا ہے، البتہ دوسرے مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ عبادت کا نہیں بلکہ تعظیم کا ویسا ہی سجدہ تھا جیسا فرشتوں نے حضرت آدم ؑ کو کیا تھا، اور وہ حضرت یوسف ؑ کی شریعت میں جائز تھا، تاہم آنحضرت ﷺ کی شریعت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو تعظیمی سجدہ کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
63: یعنی اس خواب میں چاند سورج سے مراد حضرت یوسف ؑ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
اب یہاں اس قصے ، کا خاتمہ بھی اس قصے کے دوسرے اچانک مناظر اور معجزانہ واقعات کی طرح اچانک ہوجاتا ہے۔ زمان و مکان کے فاصلوں کو لپیٹ لیا جاتا ہے اور آخری تبصرہ یوں آتا ہے اور اس میں بیشمار موڑ اور جذباتی مناظر ہیں۔
آیت نمبر 99 تا 100
یہ کیا ہی خوب صورت منظر ہے ! ایک عرصہ گزر گیا ہے اور یوسف (علیہ السلام) لا پتہ ہیں۔ ان کے بارے میں مکمل مایوسی پائی جاتی ہے اور لوگ انہیں پوری طرح بھول چکے ہیں۔ رشتہ دار اس کے رنج سہ چکے ہیں ، یوسف (علیہ السلام) پر بھی اور پسماندگان پر بھی عرصہ بیت چکا ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا رنج و الم ، ناقابل کنٹرول پدری محبت کا جوش اور جان کن رنج اور حزن کا طویل عرصہ اور…
Read the full tafseer →7 یوسف نے اپنی طرف سے والدین کی تعظیم کی، تخت پر بٹھلایا لیکن خدا کو یوسف کی جو تعظیم کرانی تھی اسے یوسف کب روک سکتے تھے۔ اس وقت کے دستور کے موافق ماں باپ اور سب بھائی یوسف (علیہ السلام) کے آگے سجدہ میں گرپڑے۔ یہ سجدہ تعظیمی تھا، جو بقول حافظ عماد الدین ابن کثیر آدم کے زمانہ سے مسیح (علیہ السلام) کے عہد تک جائز رہا۔ البتہ شریعت محمدیہ نے ممنوع و حرام قرار دیا۔ جیسا کہ احادیث کثیرہ اس پر شاہد ہیں بلکہ حضرت شاہ عبدالقادر (رح) نے وَاَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰہِ الخ سے حرمت کا اشارہ نکالا ہے۔ بعض مفسرین نے اس جگہ سجدہ کے معنی متبادر مراد نہیں لیے۔ محض جھک جانے کے معنی لیے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
آیت 100 وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا
یہ سجدۂ تعظیمی تھا جو پہلی شریعتوں میں جائز تھا۔ شریعت محمدی میں جہاں دین کی تکمیل ہوگئی وہاں توحید کا معاملہ بھی آخری درجے میں تکمیل کو پہنچا دیا گیا۔ چناچہ یہ سجدۂ تعظیمی اب حرام مطلق ہے۔ جو لوگ اپنے بزرگوں یا قبروں کو سجدہ کرتے ہیں وہ صریح شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ سابقہ انبیاء کرام کے حالات و واقعات سے آج اس کے لیے کوئی دلیل اخذ کرنا قطعاً درست نہیں۔
وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ
حضرت یوسف کے اس خواب کا ذکر آیت 4 میں ہے کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ اس میں گیارہ بھائی…
Read the full tafseer →94 سیدنا یوسف کے خواب کے واقع ہونے کا وقت :۔ دوسرے دن جب سیدنا یوسف شاہی دربار میں پہنچے تو آپ نے اپنے والدین کو تخت شاہی پر اپنے ساتھ بٹھا لیا اور یہ والدہ سیدنا یوسف کی کوئی سوتیلی والدہ ہی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ ان دونوں چھوٹے بھائیوں کی حقیقی والدہ راحیل، بن یمین کی پیدائش کے وقت ہی فوت ہوگئی تھی۔ جب والدین اور برادران یوسف نے سیدنا یوسف کی یہ شان و شوکت دیکھی تو والدین نیچے اترے اور وہ دونوں اور گیارہ بھائی سب کے سب سیدنا یوسف کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے۔ اس سجدہ کے تعظیمی سجدہ ہونے میں تو کسی کو اختلاف نہیں، اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا اس سجدہ کی صورت وہی تھی جس پر شرعاً لفظ سجدہ کا اطلاق ہوتا…
Read the full tafseer →178۔ (جیسا کہ عبرانی آداب وتہذیب میں داخل تھا) (آیت) ” سجدا “۔ سجدہ سے جیسا کہ اوپر بھی کئی موقعوں پر آچکا ہے مراد ہر جگہ یہی اصطلاحی سجدہ نہیں ہوتا جو کسی مخلوق کے لئے اب حرام ہے، بلکہ یہاں مراد محض زمین بوس ہونا ہے جو اکثر قوموں میں ایک متعارف طریقہ اظہار تعظیم کا ہے اور شریعت اسلامی میں یہ بھی ناپسندیدہ ہے۔ قدیسمی التواضع سجودا وکان المراد ھھنا التواضع (کبیر) وکان تحیۃ الناس یومئذ السجود ولم یرد بالسجود وضع الجباہ علی الارض انما ھو الانحناء والتواضع (معالم) سجود انحناء لا وضع جبھۃ وکان تحیتھم فی ذلک الزمان (جلالین) قیل ماکانت الا انحناء ولا تعفیر الجباہ (مدارک) (آیت) ’ خروالہ “۔ میں ل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
آیت نمبر 94 تا 104
ترجمہ : اور جب یہ قافلہ مصر کی آبادی سے باہر نکلا تو ان کے والد نے حاضرین میں سے ان سے جو ان کے بیٹے اور پوتوں میں سے موجود تھے کہا میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں اگر تم مجھے سٹھیایا ہوا قرار نہ دو تو تم میری تصدیق کروگے بادصبا نے باذن خداوندی یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو کو یعقوب تک تین دن کی یا آٹھ دن کی یا اس سے زیادہ کی مسافت سے پہنچا دیا تھا، تو حاضرین نے ان سے کہا واللہ تم تو اپنے پرانے خبط میں مبتلا ہو اس سے بیحد محبت کرنے اور اس سے ملاقات کی (شدید) خواہش کی وجہ سے باوجود عرصہ دراز گذر جانے کے، چناچہ جب خوشخبری دینے والا یہودا کرتہ لے کر آیا اور…
Read the full tafseer →ورفع ابویہ علی العرش اور یوسف نے اپنے ماں باپ کو اٹھا کر تخت پر بٹھا لیا۔ رَفَعَ کا معنی ہے نیچے سے اوپر کو اٹھا لینا۔
وخروا لہ سجدا اور سب (ماں باپ اور بھائی) یوسف کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے گرپڑے۔ سجدہ سے مراد زمین پر پیشانی رکھنا نہیں بلکہ تواضع سے جھک جانا مراد ہے (لیکن خَرُّوْا کا لفظ تو زمین پر گر پڑنے کا مفہوم ظاہر کر رہا ہے۔ خَرُّوْا کا معنی تو جھکنا نہیں ہے۔ مترجم) ۔
بعض نے کہا : زمین پر پیشانی رکھنا ہی مراد ہے مگر یہ سجدۂ عبادت نہ تھا ‘ سجدہ احترام و تعظیم تھا اور اس زمانہ میں احترام و تعظیم کا یہی طریقہ رائج تھا اور گذشتہ امتوں کیلئے بھی غیر اللہ کو سجدۂ تعظیمی کرنا جائز تھا۔ ہماری…
Read the full tafseer →(100) اور وہاں پہنچ کر اپنے والدین کو تخت شاہی پر اونچا بٹھایا اور عظمت کے غلبہ کے باعث والدین اور ان کے بھائی سب سجدہ میں جھک گئے اور اس زمانہ میں یہ سجدہ رکوع کے طریقہ پر ہوتا تھا جو کہ سلام کے قائم مقام تھا کہ کم تر باعزت کے اور نوجوان بوڑھے کے اور چھوٹا بڑے کے سامنے جھکتا جیسا کہ عجمی لوگ کرتے تھے حضرت یوسف ؑ فرمانے لگے اباجان یہ سجدہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے دیکھا تھا میرے پروردگار نے اس کو سچا کردکھایا اور مجھ پر قید سے نکلنے کے وقت بھی احسان فرمایا اور مجھے غلامی سے نجات دی اور اس کے بعد بھی کہ شیطان نے حسد میں میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈلوا دیا تھا پھر اللہ…
Read the full tafseer →وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ۔۔ : مصر پہنچ کر جب مجلس آراستہ ہوئی تو یوسف ؑ نے اپنے والدین کو اپنے تخت پر اونچا بٹھانے کا حکم دیا اور دوسرے تمام اہل مجلس کرسیوں یا قالینوں پر نیچے بیٹھے تھے۔ جب یوسف ؑ مجلس میں آئے تو ساری مجلس نے جن میں ان کے والدین بھی شامل تھے، ان کی تعظیم کے لیے سجدہ کیا۔ بعض حضرات اس کا ترجمہ کرتے ہیں کہ سب لوگ جھک کر تعظیم بجا لائے، مگر ”وَخَرُّوْا“ کا لفظ اس مطلب کا ساتھ نہیں دیتا، کیونکہ ”وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا“ کا معنی ہے ”اور وہ اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے گرپڑے۔“ حقیقت یہ ہے کہ پہلی امتوں میں تعظیم کے لیے سجدہ جائز تھا، جس میں مسجود کو اللہ کے کسی اختیار میں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 100
ورفع ابویہ علی العرش حضرت قتادہ نے کہا : عرش سے مراد چار پائی ہے۔ اس کے محامل پہلے گزر چکے ہیں اور بعض اوقات بادشاہ کو عرش کے ساتھ تعبیر کردیا جاتا ہے اسی سے نابغہ ذبیانی کا قول ہے :
عروش تفانوا بعد عزو أمنۃ
پہلے گزر چکا ہے۔ وخروالہ سجدًا اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ وخروالہ سجدًا میں لہ کی ضمیر کے متعلق ایک قول یہ ہے کہ اس کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے : معنی یہ ہوگا : اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے وہ سجدے میں گر گئے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے خواب کے ثبوت کے لیے قبلہ کی طرح تھے، یہ حضرت حسن سے مروی ہے، جبکہ نقاش نے کہا : یہ غلطی ہے (صحیح بات یہ ہے کہ) ضمیر حضرت یوسف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
مصر میں داخل ہونے کے وقت کے حالات :
1:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) ، یوسف (علیہ السلام) کے ملک مصر میں داخل ہوئے اور وہ 180 سال کے تھے اور یوسف (علیہ السلام) کی بادشاہی میں تیس سال زندہ رہے۔ اور یوسف (علیہ السلام) نے 120 سال کی عمر میں وفات پائی۔ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ ابراہیم خلیل اللہ کی عمر 195 سال کی تھی۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” اوی الیہ ابویہ “ کے بارے میں فرمایا انہوں نے اپنے والد اور اپنی والدہ کو اپنے ساتھ ملالیا (یعنی اپنے ساتھ بٹھایا)
3:۔ ابن ابی حاتم اوبوالشیخ…
Read the full tafseer →[وَرَفَعَ : اور انھوں (علیہ السلام) نے بلند کیا ] [ اَبَوَيْهِ : اپنے والدین کو ] [ عَلَي الْعَرْشِ : تخت پر ] [ وَخَرُّوْا : اور وہ لوگ گرپڑے ] [ لَهٗ : ان (علیہ السلام) کے لئے ] [ سُجَّدًا : سجدہ کرنے والے ہوتے ہوئے ] [ وَقَالَ : اور انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [يٰٓاَبَتِ : اے میرے والد ] [ هٰذَا : یہ ] [ تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ : میرے خواب کی تعبیر ہے ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے (جو میں نے دیکھا)] [ قَدْ جَعَلَهَا : بنادیا ہے اس کو ] [ رَبِيْ : میرے رب نے ] [حَقًّا : سچ ] [وَقَدْ اَحْسَنَ : اور اس نے احسان کیا ہے ] [ بِيْٓ : مجھ پر ] [اِذْ : جب ] [ اَخْرَجَنِيْ : اس نے نکالا مجھ کو ] [ مِنَ…
Read the full tafseer →(اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ ) بلاشبہ میرا رب جو چاہتا ہے اس کی لطیف تدبیر کردیتا ہے۔ (جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل سے نکالنے کے لیے دو قیدیوں کے خواب کی تعبیر کو تدبیر بنا دیا) (اِنَّہٗ ھُوَ الْحَکِیْمُ الْعَلِیْمُ ) (بلاشبہ میرا رب جاننے والا ہے حکمت والا ہے) وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں کو جانتا ہے اور اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ‘ اس کے بعد غیبت سے خطاب کی طرف التفات فرمایا (کما فی سورة الفاتحۃ) اور بارگاہ خدا وندی میں یوں عرض کیا (رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکِ وَعَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ ) (اے میرے رب آپ نے مجھے سلطنت کا ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
بار چہارم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام) مع والدین واہل خود
قال اللہ تعالیٰ فلما دخلوا علی یوسف اوی الیہ ابویہ .... الیٰ .... ھو العلیم الحکیم
(ربط) بعد ازاں یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے سارے کنبے سمیت مصر کو روانہ ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) خبر سن کر مصر سے باہر استقبال کے لیے نکلے پس جب یعقوب (علیہ السلام) مع خاندان کے یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ماں باپ کو اس خیمہ میں جگہ دی جس کو ان کے استقبال کے لیے آراستہ کیا تھا اور پھر ملاقات سے فراغت کے بعد سب سے کہا اب انشاء اللہ امن اور اطمینان کے ساتھ اندرون مصر تشریف لے چلئے اور پھر وہاں پہنچ کر اپنے والدین کو…
Read the full tafseer →83:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے تعظیماً اپنے والدین کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا اور سب یعنی والدین اور بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سجدہ کیا۔ یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کو تھا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) بمنزلہ قبلہ تھے اور لَہٗ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے۔ المعنی خروا شکر اللہ یسجدو ویوسف کالقبلۃ لتحقیق رؤیاہ وروی عن الحسن (رح) (قرطبی ج 9 ص 264) یا سجدہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ہی کو تھا کیونکہ اس کی شریعت میں غیر اللہ کو تعظیمی سجدہ جائز تھا۔ مگر سجدہ عبادت کسی شریعت میں جائز نہیں ہوا۔ دونوں سجدوں میں فرق صرف نیت کا ہے اگر مسجود لہ کو نفع و نقصان کا مالک و مختار اور مافوق الاسباب متصرف و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
ربط آیات
گزشتہ درس میں یہ بیان تھا کہ یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں پر اپنے آپ کو ظاہر کردیا اور پھر اپنی قمیص دے کر ان کو واپس کنعان بھیجا کہ باپ کے چہرے پر ڈال دیتا وہ بینا ہو کر میرے پاس آئے گا اور تم باقی خاندان کے افراد کو بھی یہاں لے آئو حسب الحکم بھائیوں نے ایسا ہی کیا باپ کو یوسف (علیہ السلام) کے مل جانے کی خوشخبری سنائی اور ساتھ اپنی سابقہ کوتاہیوں کی معافی بھی مانگی اور اللہ تعالیٰ سے معافی کے لئے باپ سے دعا کی درخواست کی جسے آپ نے کچھ وقت کے لئے موخر کردیا ، گویا بیٹوں سے مشروط وعدہ کا کہ وہ ان کے لئے عنقریب بخشش کی دعا کریں گے۔
جیسا کہ گزشتہ درس میں عرض کیا تھا یوسف (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →وَرَفَعَ اَبَوَيْہِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَہٗ سُجَّدًا 0ۚ وَقَالَ يٰٓاَبَتِ ہٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ 0ۡقَدْ جَعَلَہَا رَبِّيْ حَقًّا 0ۭ وَقَدْ اَحْسَنَ بِيْٓ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ وَجَاۗءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِيْ وَبَيْنَ اِخْوَتِيْ 0ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَاۗءُ 0ۭ اِنَّہٗ ہُوَالْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ 100
رفع
الرَّفْعُ في الأجسام الموضوعة إذا أعلیتها عن مقرّها، نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] ، قال تعالی: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2]
( رع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–104
2 ؎ تو اور کوئی سامان بنیامین کے روکنے کا کردیتا 12 منہ
Read the full tafseer →وَرَفَعَ اَبَوَیْہِ عَلیَ الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَہٗ سُجَّدًا ج وَقَالَ یٰٓاَبَتِ ھٰذَا تَاْوِیْلُ رُئْ یَایَ مِنْ قَبْلُ ز قَدْ جَعَلَھَا رَبِّیْ حَقًّا ط وَقَدْ اَحْسَنَ بِیْ ٓ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَجَآئَ بِکُمْ مِّنَ الْبَدْوِمِنْ م بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَبَیْنَ اِخْوَتِیْ ط اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآئُ ط اِنَّہٗ ھُوَالْعَلِیْمُ الْحَکِیْمٌ۔ (سورۃ یوسف : 100)
(اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو اوپر تخت پر بٹھایا اور سب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے سجدے میں گرگئے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا، اباجان ! یہ ہے میرے اس خواب کی تعبیر جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ یوسف (علیہ السلام) کی درخواست پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا بمعہ اہل و عیال ملک مصر کی طرف روانہ ہونا۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) منزل بہ منزل سفر کرتے ہوئے اپنے اہل و عیال کے ساتھ مصر شہر کے قریب پہنچے۔ یاد رہے کہ آج سے ہزاروں سال پہلے بھی اس ملک کا نام مصر تھا۔ اس کے سب سے بڑے شہر کا نام بھی مصر ہے جو اس ملک کا قدیم سے دارالخلافہ ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) دن رات اس انتظار میں تھے کہ والد گرامی کس دن تشریف لاتے ہیں۔ جونہی انہیں معلوم ہوا کہ والد گرامی کا قافلہ مصر شہر کی حدود میں داخل ہونے والا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) اپنے عملہ سمیت استقبال کے لیے پہلے…
Read the full tafseer →100: وَرَفَعَ اَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ وَخَرُّوْا لَہٗ سُجَّدًا (اور انہوں نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور وہ تمام ان کے سامنے سجدہ میں گرگئے) ایک قول یہ ہے کہ مصر میں داخلہ کے وقت جب یوسف اپنی مجلس میں درست ہو بیٹھے تو آپ نے اپنے والدین کو بطور آرام تخت پر بٹھایا۔ اور وہ گرپڑے اس کے لئے سجدہ میں گیارہ بھائی اور والدین سُجَّدًا ؔ سجدہ ان کے ہاں بطورسلام و تکریم کے جائز تھا۔ جیسا کہ قیام ومصافحہ اور ہاتھوں کا بوسہ۔ زجاج کہتے ہیں۔ تعظیم کا طریقہ اس وقت عظمت والے کو سجدہ کرنا تھا۔ نمبر 2۔ یہ پھر جھکنا تھا پیشانی کو زمین پر رکھنا مراد نہ تھا مگر خروا لہ سجدًا اس معنی کا انکار کر رہا ہے۔…
Read the full tafseer →100۔” ورفع ابو یہ علی العرش “ یعنی تخت پر ان دونوں کو بٹھایا۔” وخرو الہ سجدا “ یعنی یعقوب (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) کی خالہ اور ان کے بھائی اور اس زمانے میں لوگوں کا سلام سجدہ کرنا ہے۔ یہاں سجود سے پیشانی زمین پر ٹکانا مراد نہیں ہے بلکہ تواضع کے ساتھ جھکنا مراد ہے اور بعض نے کہا ہے کہ پیشانی زمین پر رکھی تھی سلام اور تعظیم کے لیے نہ کہ عبادت کے طور پر ، یہ گزشتہ امتوں میں تو جائز تھا لیکن اس امت میں منسوخ کردیا گیا ہے اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے سامنے اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کیا اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ ” وقال “ یوسف (علیہ السلام) نے اس وقت ” یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
99۔ 100۔ اس آیت میں اللہ پاک نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ملاقات کا حال بیان فرمایا کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا کہ تم کنعان جا کر اپنے کنبہ اور گھر والوں کو یہاں لے آؤ یہ لوگ اپنے سارے رشتہ داروں کو جو مرد و عورت ملا کر 63 آدمیوں کے قریب تھے کنعان سے لے کر چلے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خبر ملی کہ ہمارے والدین آرہے ہیں اور اب ہم بہت نزدیک آگئے ہیں تو آپ تخت پر بیٹھ کر ان کے استقبال کو روانہ ہوئے بادشاہ مصر نے اپنے دربار کے اور دوسرے معزز آدمیوں کو بھی ان کے ہمراہ کردیا۔ بعضے سلف یہ بھی کہتے ہیں کہ خود بادشاہ مصر بھی ان کے استقبال کو…
Read the full tafseer →(آیت) ” اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر “ یعنی انہیں شاہی تخت اور مقام عزت پر بٹھایا (آیت) ” اور سب اس کے آگے سجدے میں گرپڑے۔ “ یعنی یوسف (علیہ السلام) کے والدین اور ان کے بھائی ان کی تعظیم اور عزت و اکرام کے لئے ان کے سامنے سجدے میں گرگئے۔ (آیت) جب یوسف (علیہ السلام) نے انہیں اس حالت میں دیکھا کہ وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں، تو کہنے لگے : (آیت) ” ابا جان ! یہ ہے تعبیر میرے خواب کی جو اس سے پہلے دیکھا تھا “ یعنی جب یوسف (علیہ السلام) نے خواب میں دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند انہیں سجدہ کر رہے ہیں۔ یہ تھی اس خواب کی تعبیر، جو اس مقام پر پہنچ کر پوری ہوئی۔ (آیت) ” میرے رب نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–104
قول باری (ورفع ابویہ علی العرش۔ اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا) کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ حضرت یوسف کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا اور حضرت یعقوب نے ان کی بہن سے نکاح کرلیا تھا۔ سدی سے یہ تفسیر منقول ہے۔ حسن اور ابن اسحاق کا قول ہے کہ ان کی والدہ زندہ تھیں۔ سلیمان اور عبید اللہ بن شداد سے منقول ہے کہ خواب اور اس کی تعبیر کے وقوع پذیر ہونے کی درمیانی مدت چالیس برس تھی۔ حسن سے منقول ہے کہ یہ مدت اسی برس تھی۔ جبکہ ابن اسحاق کا قول ہے کہ یہ مدت اٹھارہ برس تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں تو پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اس بات کی تسلی کیوں حاصل نہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
156۔ حضرت یعقوب کی طرف سے ان کے لیے بخشش کی دعا کا وعدہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے آنجناب سے عرض کیا کہ اے ہمارے اباجان آپ ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی بخشش کی دعاء فرمائیں۔ ہم واقعی بڑے ہی خطاکار تھے۔ تو اس پر آپ نے ان سے فرمایا کہ میں عنقریب ہی تمہارے لیے بخشش کی دعاء کرونگا " یعنی قبولیت کے وقت میں۔ سحری کے وقت یا جمعہ کی رات میں۔ یا یہاں تک کہ یوسف سے بھی تمہارا قصورمعاف کرالوں کہ تمہارا قصوربہت سنگین ہے۔ یہ سب ہی احتمال اواقوال اس ضمن میں موجود ہیں۔ (القرطبی، الجامع ابن کثیر وغیرہ) سو برادران یوسف نے اپنی طلب و درخواست میں (یا ابانا) کہہ کر اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
آیات 94 تا 104
اسرار و معارف
ادھریعقوب (علیہ السلام) بےقراری سے منتظر تھے کہ واپس آنے والے کیا خبر لاتے ہیں لیکن اللہ کی شان کا ظہور عجیب طریقے سے ہوا۔
کشف اور مشاہدہ
کہ جب وہ قافلہ جس میں وہ آدمی بھی شامل تھا جس کے پاس یوسف (علیہ السلام) کی قمیض تھی کنعان پہنچا تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم اسے میری دیوانگی نہ کہو تو آج مجھے یوسف کی خوشبوآرہی ہے تو سننے والوں نے بڑے آرام سے کہہ دیا کہ وہم اب آپ کا مرض بن چکا ہے اور آپ ہمیشہ ہی امید رکھین گے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ایک روز مجھ سے آملیں گے لیکن عجیب بات یہ جو پہلے بھی لکھی جاچکی کہ مصر جو کم وبیش آٹھ دن کی مسافت پر تھا…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ یہ بات ان کی شریعت میں جائز تھی کہ جب کسی بڑے آدمی کو سلام کریں تو اسے سجدہ بھی کریں۔ یہ رواج حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) تک جاری رہا پھر ہماری شریعت میں اسے حرام قرار دے دیا گیا۔ حدیث میں ہے کہ حضرت معاذ ؓ نے شام سے واپس آکر نبی ﷺ کو سجدہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :” معاذ ؓ ! کہ کیا کر رہے ہو ؟ کہنے لگے میں نے شام میں دیکھا کہ لوگ اپنے پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں تو آپ ﷺ زیادہ حقدار ہیں کہ آپ ﷺ کو سجدہ کیا جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ ایک مرتبہ حضرت سلمان فارسی ؓ نے جو ابھی حال ہی میں اسلام لائے تھے نبی ﷺ کو…
Read the full tafseer →(12: 100) خروا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ خر سے ۔ وہ گرپڑے۔
نزغ الشیطن بینی وبین اخوتی۔ میرے درمیان اور میرے بھائیوں کے درمیان شیطان نے ناچاقی ڈال دی تھی۔
النزغ کے معنی کسی کام کو بگاڑنے کے لئے اس میں دخل انداز ہونے کے ہیں۔ البدد۔ صحرا۔
لطیف۔ لطف کرنے والا۔ کرم کرنے والا۔ مہربانی کرنے والا۔ نرمی اور رحمت کرنے والا۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
لغات القرآن آیت نمبر 99 تا 100
اوی اس نے ٹھکانا دیا، بٹھایا ادخلوا داخل ہوجاؤ امنین امن و سکون میں رہنے والے رفع بلند کیا، اونچی جگہ کیا العرش تخت خروا وہ گر پڑے سجد سجدہ کرنا، جک جانا یابت اے میرے ابا جان تاویل تعبیر رویائی میرا خواب، السجن جیل خانہ، قید البدو دیہات، گاؤں نزغ گھس گیا۔ ڈال دیا ، لطیف باریکی سے دیکھنے والا آسان کرنے والا یشآء وہ چاہتا ہے۔
تشریح آیت نمبر 99 تا 100
اصل میں انسان کا اخلاق، برتاؤ اور معاملہ اس وقت زیادہ قیمتی بن جاتا ہے جب اس دنیا کی ساری طاقتیں اور عظمتیں حاصل ہوں اور پھر بھ یاس میں عاجزی و انکساری ہو اور اپنے سے کمزوروں پر ظلم کرنے اور زیادتیوں کا بدلہ لینے کے…
Read the full tafseer →پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد بزرگوار سے کہا کہ : اے والد ماجد ! میں نے جو بچپن میں ایک خواب دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے آسمان سے زمین پر اترے اور ان کے ساتھ چاند سورج بھی ہے اور ان ستاروں نے میرے آگے سجدہ کیا یہ اسی خواب کی تعبیر ہے اور یہی نتیجہ و انجام اس خواب کا تھا۔ ہمارے پروردگار نے اس خواب کو سچ کر دکھایا اور ہم اس کا لاکھ لاکھ شکر کرتے ہیں کہ ہمیں طرح طرح کی نصیحتیں دیں اور مجھے قید سے نکالا اور آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ پھر اس کے بعد شیطان کا ذکر کیا کہ : اس نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان میں جھگڑا ڈالا مگر ہزار ہزار اس کا شکر ہے کہ اس نے اس کا تصفیہ کردیا، اور فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–100
[33] یہ سجدہ تعظیمیہ تھا جو سابقہ شریعتوں میں جائز تھا لیکن شریعت محمدی ﷺ میں ہر قسم کا سجدہ غیر اللہ کے لئے حرام کردیا گیا بلکہ یہ بھی جائز نہیں کہ کوئی انسان کسی دوسری ہستی کے آگے اپنا جسم دوہرا کرے۔
[43] یوسف (علیہ السلام) کی کریم النفسی ملاحظہ ہو کہ ایسے شدید دشمن بھائیوں پر ذرا الزام نہ آنے دیا بلکہ ذمہ داری شیطان کی قرار دے کر اپنی اور اپنے بھائیوں کی حیثیت ایک ہی رکھی۔
Read the full tafseer →(ف 2) خالص اسلام یہ ہے کہ جس طرح دکھ اور تکلیف میں انسان اللہ کو اٹھتے بیٹھتے یاد کرتا ہے ، اور ہر پہلو خدا کا نام لیتا ہے ، اسی طرح مسرت کے وقت بھی اس کے احسانات کو بھول نہ جائے ۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زندگی خدا پرستی کا بہترین نمونہ ہے ۔
آپس نے تارک کنوئیں میں اسے پکارا عزیزہ مصر کے دواین ومحل میں اسے یاد کیا ، اور آج جبکہ وہ سر پر آرائے سلطنت ہیں ، اللہ کا شکریہ ادا کر رہے ہیں ، یقینا خدا پرستی کا یہی وہ بلند مقام ہے جو انبیاء کے لئے مخصوص ہے ۔
حل لغات :
تاویل : انجام ۔ نتیجہ ، لطیف : مہربان ، لطف وکرم والا ۔
Read the full tafseer →100 ۔ شہر میں پہنچ کر یوسف (علیہ السلام) نے تعظیما ً اپنے والدین کو تخت شاہی پر اونچا بٹھایا اور اس وقت سب کے سب یوسف (علیہ السلام) کے سامنے سجدے میں گرے اور یوسف (علیہ السلام) نے کہا اے میرے باپ یہ اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے دیکھا تھا میرے رب نے اس خواب کو سچا کردیا اور اس کی سچائی کو ظاہر کردیا اور اس عزت و شرف کے علاوہ میرے رب نے اس وقت میرے ساتھ بڑا احسان کیا جب مجھ کو قید خانے سے اس نے نکالا اور باوجود اسکے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان جھگڑا اور فساد ڈلوایا تھا پھر تم سب کو اس گائوں سے جہاں تم تھے میرے پاس لے آیا بلا شبہ میرا رب جو چاہتا ہے اس کو عمدہ تدبیر سے کرتا…
Read the full tafseer →ف 8۔ یہ سجدہ بطور تحیت کے تھا جو امم سابقہ میں جائز تھا۔
1۔ وہ اپنے علم و حکمت سے سب امور کی تدبیر درست کرتا ہے۔
Read the full tafseer →یوسف نے اپنے والدین کو تخت شاہی پر جگہ دی اور سب لوگوں نے رسم آداب ادا کی
۔ 116 اس وقت مصر کا دارالسلطنت رعمسیس تھا اور وہ ” جشن کا شہر “ کہلاتا تھا۔ یوسف (علیہ السلام) اپنے والد اور تمام خاندان کو بڑے کرو فر کے ساتھ شاہی سواریوں میں بٹھا کر جاہلی رسومات سے بچتے ہوئے شہر میں لائے اور شاہی محل میں اتارا۔ جب ان تمام باتوں سے فراغت پائی تو اب ارادہ کیا کہ دربار منعقد کریں تاکہ مصریوں کا بھی بزرگ باپ اور دوسرے خاندان سے تعارف ہوجائے اور تمام درباری ان کی عزت و احترام سے آگاہ ہوجائیں۔ دربار منعقد ہوا تمام درباری اپنی مقررہ نشستوں پر بیٹھ گئے یوسف کے حکم سے ان کے والدین کو تخت شاہی پر جگہ دی گئی…
Read the full tafseer →Verse 100 opens with the words: وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ (And he raised his parents up on the throne), that is, Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) had his parents sit with him on the royal throne.
After that it was said: وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا (and they all fell before him in prostration), that is, the parents, and all brothers did sajdah before Sayyidna Yusuf I. Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ has said that this prostration of gratitude was for Allah Ta` ala, and not for Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) . Others have said that a Sajdah or Sujud (prostration) as part of ` Ibadah…
Read the full tafseer →69. According to the Talmud,“when Joseph learned that his father was upon the way, he gathered together his friends and officers, and soldiers of the realm, attired in rich garments,....and formed a great company to meet Prophet Jacob on the way and escort him to Egypt. Music and gladness filled the land, and all the people, the women and the children, assembled on the house tops to view the magnificent display.”(H. Polano, p. 111).
70. The interpretation of this verse has given rise to some serious misunderstandings, which are against the very fundamentals of the divine guidance. So much so…
Read the full tafseer →