Explained with ayahs 99–100
بھائیوں پر حضرت یوسف ؑ نے اپنے آپ کو ظاہر کر کے فرمایا تھا کہ ابا جی کو اور گھر کے سب لوگوں کو یہیں لے آؤ۔ بھائیوں نے یہی کیا، اس بزرگ قافلے نے کنعان سے کوچ کیا جب مصر کے قریب پہنچے تو نبی اللہ حضرت یوسف ؑ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ خود شاہ مصر بھی استقبال کے لئے چلے اور حکم شاہی سے شہر کے تمام امیر امرا اور ارکان دولت بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ مروی ہے کہ خود شاہ مصر بھی استقبال کے لئے شہر سے باہر آیا تھا۔ اس کے بعد جو جگہ دینے وغیرہ کا ذکر ہے اس کی بابت بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کی عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی آپ نے ان سے فرمایا تم مصر میں چلو، انشاء اللہ پر امن اور بےخطر رہو گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
68۔ بائیبل کا بیان ہے کہ سب افراد خانہ جو اس موقع پر مصر گئے 67 تھے۔ اس تعداد میں دوسرے گھرانوں کی ان لڑکیوں کو شمار نہیں کیا گیا ہے جو حضرت یعقوب کے ہاں بیاہی ہوئی آئی تھیں، اس وقت حضرت یعقوب کی عمر 130 سال تھی اور اس کے بعد وہ مصر میں 17 سال زندہ رہے۔
اس موقع پر ایک طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر میں داخل ہوئے تو حضرت یوسف سمیت ان کی تعداد 68 تھے، اور جب تقریبا 5 سو سال کے بعد وہ مصر سے نکلے تو وہ لاکھوں کی تعداد میں تھے، بائیبل کی روایت ہے کہ خروج کے بعد دوسرے سال بیابان سینا میں حضرت موسیٰ نے ان کی جو مردم شماری کرائی تھی اس میں صرف قابل جنگ مردوں کی تعداد…
Read the full tafseer →فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیہ بعض روایات میں ہے کہ یوسف ؑ نے اس مرتبہ اپنے بھائیوں کے ساتھ دو سو اونٹوں پر لدا ہوا بہت سا سامان کپڑوں اور دوسری ضروریات کا بھیجا تھا تاکہ پورا خاندان مصر آنے کے لئے عمدہ تیاری کرسکے اس کے مطابق یعقوب ؑ اور ان کی اولاد اور تمام متعلقین مصر کے لئے تیار ہو کر نکلے تو ایک روایت میں ان کی تعداد بہتر اور دوسری میں ترانوے 93 نفوس مرد و عورت پر مشتمل تھی
دوسری طرف جب مصر پہنچنے کا وقت قریب آیا تو حضرت یوسف ؑ اور ملک مصر کے لوگ استقبال کے لئے شہر سے باہر تشریف لائے اور چار ہزار سپاہی ان کے ساتھ سلامی دینے کے لئے نکلے جب یہ حضرات مصر میں یوسف ؑ کے مکان میں داخل ہوئے تو انہوں…
Read the full tafseer →فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ۔
حضرت یوسف ؑ کی خدمت میں حاضر : یہاں قرینہ کی موجودگی کے سبب سے اتنی بات محذوف ہے کہ یہ لوگ حضرت یوسف کے ارشاد کی تعمیل میں اپنے والدین اور اہل و عیال سمیت مصر پہنچے۔ مصر پہنچ کر جب حضرت یوسف کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنے والدین کو خاص اپنے پاس جگہ دی اور ان سب لوگوں کا خیر مقدم کیا۔ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ۔ ، خیر مقدم کا جملہ ہے یعنی مصر میں داخل ہوجیے، یہ داخلہ انشاء اللہ امن و اطمینان کا موج ہوگا۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف نے شہر…
Read the full tafseer →99۔ 1 یعنی عزت و احترام کے ساتھ انھیں اپنے پاس جگہ دی اور ان کا خوب اکرام کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
61: حضرت یوسف ؑ اپنے والدین، بھائیوں اور دوسرے گھر والوں کے استقبال کے لئے شہر سے باہر تشریف لائے تھے، اور جب والدین سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے انکا خاص اکرام کرکے انہیں اپنے پاس بٹھایا اور ابتدائی باتوں کے بعد سارے آنے والوں سے کہا کہ اب سب لوگ شہر میں اطمینان کے ساتھ چل کر رہیں، اس معاملے میں روایات مختلف ہیں کہ حضرت یوسف ؑ کی حقیقی والدہ اس وقت زندہ تھیں یا نہیں اگر زندہ تھیں تب تو والدین سے مراد حقیقی والدین ہیں اور اگر وفات پاچکی تھیں تو سوتیلی والدہ کو بھی چونکہ ماں ہی کی طرح سمجھا جاتا ہے اس لئے ان کو بھی والدین میں شامل کرلیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
اب یہاں اس قصے ، کا خاتمہ بھی اس قصے کے دوسرے اچانک مناظر اور معجزانہ واقعات کی طرح اچانک ہوجاتا ہے۔ زمان و مکان کے فاصلوں کو لپیٹ لیا جاتا ہے اور آخری تبصرہ یوں آتا ہے اور اس میں بیشمار موڑ اور جذباتی مناظر ہیں۔
آیت نمبر 99 تا 100
یہ کیا ہی خوب صورت منظر ہے ! ایک عرصہ گزر گیا ہے اور یوسف (علیہ السلام) لا پتہ ہیں۔ ان کے بارے میں مکمل مایوسی پائی جاتی ہے اور لوگ انہیں پوری طرح بھول چکے ہیں۔ رشتہ دار اس کے رنج سہ چکے ہیں ، یوسف (علیہ السلام) پر بھی اور پسماندگان پر بھی عرصہ بیت چکا ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا رنج و الم ، ناقابل کنٹرول پدری محبت کا جوش اور جان کن رنج اور حزن کا طویل عرصہ اور…
Read the full tafseer →6 شہر سے باہر استقبال کو نکلے۔ ماں باپ کو اپنے قریب جگہ دی (اس میں مفسرین کا اختلاف ہے بعض کا قول ہے کہ حضرت یوسف کی والدہ پیشتر وفات پاچکی تھیں۔ جیسا کہ سابق فوائد میں گزر چکا یہاں خالہ کا ذکر ہے اور بعض کہتے ہیں کہ والدہ حیات تھیں۔ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے ساتھ مصر تشریف لائی تھیں) سب کو فرمایا شہر میں چلو، قحط وغیرہ کا اب کچھ اندیشہ مت کرو۔ انشاء اللہ بالکل دل جمعی اور راحت و اطمینان سے رہو گے بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ الفاظ شہر میں پہنچ کر کہے۔ گویا ( وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ ) 12 ۔ یوسف :99) کے معنی ہوئے مصر میں قیام کرو بےکھٹکے۔
Read the full tafseer →آیت 99 فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ
کنعان سے چل کر بنی اسرائیل کا یہ پورا خاندان جب حضرت یوسف کے پاس مصر پہنچا تو آپ نے خصوصی اعزاز کے ساتھ ان کا استقبال کیا اور اپنے والدین کو اپنے پاس امتیازی نشستیں پیش کیں۔
وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ
اب آپ لوگوں کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ اگر اللہ نے چاہا تو یہاں آپ کے لیے امن وچین اور سکون و راحت ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
93 خاندان یعقوب کا مصر پہنچنا :۔ جب سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا سارا خاندان کنعان سے روانہ ہو کر مصر پہنچا تو سیدنا یوسف بڑے بڑے اعیان سلطنت اور فوجی افسران کو ساتھ لے کر اپنے باپ اور اہل خانہ کے استقبال کے لیے نکلے اور پورے تزک و احتشام کے ساتھ انھیں دارالسلطنت میں لائے اور یہ دن جشن کا دن تھا، عورتیں، مرد، بچے سب اس جلوس کو دیکھنے کے لیے اکٹھے ہوگئے تھے اور سارے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس وقت سیدنا یوسف نے اپنے والدین سے کہا کہ یہاں مصر میں اقامت فرمایئے اور پوری دلجمعی سے رہئے، انشاء اللہ قحط وغیرہ کا بھی کوئی خطرہ نہیں۔
Read the full tafseer →177۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس مبارک قافلے کا اسقبال پایہ تخت سے نکل کر سرحد مصر پر کیا تھا اور اب خاص شہر میں چلنے اور رہنے کا التماس کررہے ہیں۔ توریت میں ہے :۔ ” اور یوسف نے اپنی گاڑی تیار کی اور اپنے باپ کے استقبال کے لئے جشن کو چلا اور اپنے تئیں اس پاس حاضر کیا اور اس کے گلے لپٹا اور دیر تک رویا۔ “ (پیدائش 46، 28، 29) (آیت) ” اوی الیہ “۔ یعنی اپنے پاس تعظیم واکرام کے ساتھ بٹھایا اور ہر طرح خاطر مدارات بزر گداشت کی، (آیت) ” ابویہ “۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی والدہ کا تو انتقال ہوچکا تھا، پرورش سوتیلی ماں اور حقیقی خالہ نے کی تھی، یہاں مجازا انہی کو والدہ کہا گیا۔ (آیت) ” علی العرش “۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
آیت نمبر 94 تا 104
ترجمہ : اور جب یہ قافلہ مصر کی آبادی سے باہر نکلا تو ان کے والد نے حاضرین میں سے ان سے جو ان کے بیٹے اور پوتوں میں سے موجود تھے کہا میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں اگر تم مجھے سٹھیایا ہوا قرار نہ دو تو تم میری تصدیق کروگے بادصبا نے باذن خداوندی یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو کو یعقوب تک تین دن کی یا آٹھ دن کی یا اس سے زیادہ کی مسافت سے پہنچا دیا تھا، تو حاضرین نے ان سے کہا واللہ تم تو اپنے پرانے خبط میں مبتلا ہو اس سے بیحد محبت کرنے اور اس سے ملاقات کی (شدید) خواہش کی وجہ سے باوجود عرصہ دراز گذر جانے کے، چناچہ جب خوشخبری دینے والا یہودا کرتہ لے کر آیا اور…
Read the full tafseer →فلما دخلوا علی یوسف اوی الیہ ابویہ جب یعقوب اور ان کے گھر والے یوسف کے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی۔
میں کہتا ہوں : شاید حضرت یوسف مصر سے روانہ ہو کر کسی خاص مقام تک پہلے پہنچ گئے اور وہاں کسی خیمہ یا محل میں اتر کر رک گئے تاکہ قافلہ وہاں پہنچ جائے تو اس کا استقبال کریں اور حضرت یعقوب اپنے متعلقین کے ساتھ اسی مقام پر پہنچ کر حضرت یوسف کے پاس (قصر یا خیمہ کے اندر) داخل ہوئے ہوں۔
بغوی نے لکھا ہے : جب حضرت یوسف اور حضرت یعقوب ایک دوسرے کے قریب پہنچ گئے تو حضرت یوسف نے سلام کرنا چاہا لیکن حضرت جبرئیل نے روک دیا اور فرمایا : پہلے وہ سلام کریں ‘ پھر آپ کرنا۔
میں کہتا ہوں :…
Read the full tafseer →(99) چناچہ جب یہ سب حضرت یوسف ؑ کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے باپ اور اپنی خالہ کو کیوں کہ ان کی والدہ پہلے ہی انتقال کرگئی تھیں اپنے پاس جگہ دی اور فرمایا کہ سب مصر چلیے اور وہاں انشاء اللہ دشمن اور تکلیف سے امن میں رہیے۔
Read the full tafseer →فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ۔۔ : یعنی یعقوب ؑ کنعان سے سارے اہل خانہ سمیت روانہ ہو کر مصر پہنچے۔ آیت کے الفاظ ”مصر میں داخل ہوجاؤ“ سے معلوم ہوتا ہے کہ یوسف ؑ نے شہر سے باہر نکل کر عمائدین حکومت اور عوام سے مل کر اپنے والدین اور افراد خانہ کا شان و شوکت سے استقبال کیا، والدین کو خصوصاً دوسرے خیموں سے جو استقبال کے لیے لگائے گئے تھے، الگ اپنے خیمے میں رکھا اور فرمایا، اب آپ لوگ مصر میں داخل ہوجائیں۔ آپ ان شاء اللہ یہاں نہایت امن سے رہیں گے۔ قحط، غربت، دشمن، غرض کسی چیز کی فکر مت کریں۔ بعض نے لکھا ہے کہ یوسف ؑ نے یہ الفاظ مصر میں داخل ہونے کے بعد کہے۔ ”اَبَوَیْهِ“ سے مراد ماں باپ ہیں، کئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
آیت نمبر 94 تا 99
قولہ تعالیٰ : ولما فصلت العیر یعنی جب قافلہ مصر سے شام کی طرف نکلا، کہا جاتا ہے : فصل فصولا، وفصلا، یہ لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ قال ابوھم یعنی آپ نے فریبیوں میں سے جو آپ کے پاس تھا اور مصر نہیں گیا تھا اسے کہا اور وہ آپ کے پوتے تھے انی لاجدریح یوسف یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کے کچھ بیٹے گئے ہوں اور باقیوں کو آپ نے فرمایا ہو : انی لاجد ریح یوسف لولآ ان یفندون حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ہوا چلی اور وہ حضرت یوسف کے پیراہن کی خوشبو آپ تک اٹھالائی حالانکہ دونوں کے درمیان آٹھ راتوں کی مسافت تھی۔ حضرت حسن نے کہا : دس راتوں کی مسافت تھی۔ انہیں سے ایک ماہ کی مسافت بھی مروی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
مصر میں داخل ہونے کے وقت کے حالات :
1:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) ، یوسف (علیہ السلام) کے ملک مصر میں داخل ہوئے اور وہ 180 سال کے تھے اور یوسف (علیہ السلام) کی بادشاہی میں تیس سال زندہ رہے۔ اور یوسف (علیہ السلام) نے 120 سال کی عمر میں وفات پائی۔ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ ابراہیم خلیل اللہ کی عمر 195 سال کی تھی۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” اوی الیہ ابویہ “ کے بارے میں فرمایا انہوں نے اپنے والد اور اپنی والدہ کو اپنے ساتھ ملالیا (یعنی اپنے ساتھ بٹھایا)
3:۔ ابن ابی حاتم اوبوالشیخ…
Read the full tafseer →[فَلَمَا : پھر جب ] [ دَخَلُوْا : وہ لوگ داخل (حاضر) ہوئے ] [ عَلٰي يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) پر ] [ اٰوٰٓى: تو انھوں (علیہ السلام) نے جگہ دی ] [ اِلَيْهِ : اپنے پاس ] [ اَبَوَيْهِ : اپنے والدین کو ] [وَقَالَ : اور انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ادْخُلُوْا : آپ لوگ داخل ہوں ] [مِصْرَ : ملکِ مصر میں ] [ان : اگر ] [ شَاۗءَ : چاہا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے (تو)] [اٰمِنِيْنَ : امن میں ہونے والے ہوتے ہوئے ]
ترکیب : (آیت۔ 99) مِصْرَ غیر منصرف آیا ہے اس لئے اس سے مراد ملک مصر ہے۔ دیکھیں آیت نمبر 2:61 مادہ ” م ص ر “۔ (آیت۔ 100) مِنْ قَبْلُ کے آگے رَئَ یْتُھَا محذوف ہے۔ (آیت۔ 101) فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
پورے خاندان کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس مصر پہنچنا ‘ ان کے والدین اور بھائیوں کا ان کو سجدہ کرنا ‘ اور خواب کی تعبیر پوری ہونا
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے تیسری بار جب اپنے بھائیوں کو مصر سے رخصت کیا تھا اور اپنا کرتہ دیا تھا کہ اسے میرے والدین کے چہرہ پر ڈال دینا اس وقت یہ بھی فرماتا تھا کہ تم اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آنا ‘ جب یہ لوگ واپس کنعان پہنچے اور اپنے والد ماجد کے چہرہ انور پر پیراہن یوسف کو ڈال دیا جس سے ان کی بینائی واپس آگئی اور پھر اپنے والد سے دعائے مغفرت کی درخواست کی اور انہوں نے دعا کردی تو اب مصر کی روانگی کا ارادہ کیا حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اہلیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
بار چہارم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام) مع والدین واہل خود
قال اللہ تعالیٰ فلما دخلوا علی یوسف اوی الیہ ابویہ .... الیٰ .... ھو العلیم الحکیم
(ربط) بعد ازاں یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے سارے کنبے سمیت مصر کو روانہ ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) خبر سن کر مصر سے باہر استقبال کے لیے نکلے پس جب یعقوب (علیہ السلام) مع خاندان کے یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ماں باپ کو اس خیمہ میں جگہ دی جس کو ان کے استقبال کے لیے آراستہ کیا تھا اور پھر ملاقات سے فراغت کے بعد سب سے کہا اب انشاء اللہ امن اور اطمینان کے ساتھ اندرون مصر تشریف لے چلئے اور پھر وہاں پہنچ کر اپنے والدین کو…
Read the full tafseer →82:۔ یہ پندرہواں حال ہے جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے تمام اہل و عیال کو لے کر مصر میں حضرت یوسف علیہ السالام کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے والدین یعنی والد اور خالہ کو بڑے اعزازو اکرام کے ساتھ اپنے محل میں اتارا۔ کیونکہ آپ کی حقیقی والدہ کا انتقال ہوچکا تھا۔ ” قَالَ ادْخُلُوْا الخ “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) والدین اور دیگر افراد خاندان کے استقبال کی خاطر شہر سے باہر تشریف لے آئے تھے۔ ” اٰمِنِیْنَ “۔ تکلیف و مصیبت کا جو دور آپ پر گذرا ہے اور بیٹوں کی جدائی اور قحط سالی کی وجہ سے جو تکلیفیں آپ نے اٹھائیں ان سے اب امن میں آچکے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
ربط آیات
گزشتہ درس میں یہ بیان تھا کہ یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں پر اپنے آپ کو ظاہر کردیا اور پھر اپنی قمیص دے کر ان کو واپس کنعان بھیجا کہ باپ کے چہرے پر ڈال دیتا وہ بینا ہو کر میرے پاس آئے گا اور تم باقی خاندان کے افراد کو بھی یہاں لے آئو حسب الحکم بھائیوں نے ایسا ہی کیا باپ کو یوسف (علیہ السلام) کے مل جانے کی خوشخبری سنائی اور ساتھ اپنی سابقہ کوتاہیوں کی معافی بھی مانگی اور اللہ تعالیٰ سے معافی کے لئے باپ سے دعا کی درخواست کی جسے آپ نے کچھ وقت کے لئے موخر کردیا ، گویا بیٹوں سے مشروط وعدہ کا کہ وہ ان کے لئے عنقریب بخشش کی دعا کریں گے۔
جیسا کہ گزشتہ درس میں عرض کیا تھا یوسف (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99ۭ
أوى) ملانا)
المَأْوَى مصدر أَوَى يَأْوِي أَوِيّاً ومَأْوًى، تقول : أوى إلى كذا : انضمّ إليه يأوي أويّا ومأوى، وآوَاهُ غيره يُؤْوِيهِ إِيوَاءً. قال عزّ وجلّ : إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ [ الكهف/ 10] ، وقال : سَآوِي إِلى جَبَلٍ [هود/ 43] ، وقال تعالی: آوی إِلَيْهِ أَخاهُ [يوسف/ 69] آوی إِلَيْهِ أَخاهُ [يوسف/ 69] أي : ضمّه إلى نفسه .
( ا و ی ) الماویٰ ۔
( یہ اوی ٰ ( ض) اویا و ماوی کا مصدر ہے ( جس کے معنی کسی جگہ پر نزول کرنے یا پناہ حاصل کرنا کے ہیں اور اویٰ الیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–104
2 ؎ تو اور کوئی سامان بنیامین کے روکنے کا کردیتا 12 منہ
Read the full tafseer →فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰی یُوْسُفَ اٰوٰٓی اِلَیْہِ اَبَوَیْہِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ اٰمِنِیْنَ ۔
(سورۃ یوسف : 99)
(پھر جب یہ لوگ یوسف ( علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو خاص اپنے پاس جگہ دی اور ( اپنے سب کنبے والوں سے) کہا، آپ سب مصر میں داخل ہوجائیں، اللہ تعالیٰ نے چاہا تو امن و چین سے رہو گے۔ )
حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ملاقات
قرآن کریم نے اپنے اسلوب کے مطابق ایسی باتیں حذف کردی ہیں جو سیاق کلام سے خودبخود سمجھ میں آسکتی ہیں۔ یہ بات اپنے تئیں بالکل واضح ہے کہ برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) کا قافلہ جب اپنے گھر پہنچا اور والدین کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ یوسف (علیہ السلام) کی درخواست پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا بمعہ اہل و عیال ملک مصر کی طرف روانہ ہونا۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) منزل بہ منزل سفر کرتے ہوئے اپنے اہل و عیال کے ساتھ مصر شہر کے قریب پہنچے۔ یاد رہے کہ آج سے ہزاروں سال پہلے بھی اس ملک کا نام مصر تھا۔ اس کے سب سے بڑے شہر کا نام بھی مصر ہے جو اس ملک کا قدیم سے دارالخلافہ ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) دن رات اس انتظار میں تھے کہ والد گرامی کس دن تشریف لاتے ہیں۔ جونہی انہیں معلوم ہوا کہ والد گرامی کا قافلہ مصر شہر کی حدود میں داخل ہونے والا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) اپنے عملہ سمیت استقبال کے لیے پہلے…
Read the full tafseer →99: پھر یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد کی طرف سامان اور دو سواریاں بھیجیں تاکہ ان پر سوار ہو کر ان کے ہاں آجائیں۔ جب مصر کے قریب پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) اور بادشاہ چار ہزار فوج اور سردار ان ملک اور بہت سے اہل مصر کے ساتھ یعقوب (علیہ السلام) کے استقبال کرنے کیلئے نکلے۔ یعقوب (علیہ السلام) سے اس حال میں ملاقات ہوئی کہ یہودا پر ٹیک لگا کر آپ چل رہے تھے۔
تعبیر خواب کی تکمیل :
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰی یُوْسُفَ اٰوٰٓی اِلَیْہِ (جب وہ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی) اپنے جسم سے ملایا اَبَوَ یْہِ (اپنے والدین کو) اور ان سے معانقہ کیا۔ ایک قول یہ ہے…
Read the full tafseer →تفسیر 99۔” فلما دخلوا علی یوسف آویٰ الیہ ابویہ “ اکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ ابو یہ سے یوسف (علیہ السلام) کے والد اور خالہ لیا مراد ہیں ان کی والدہ بنیا مین کے پیدا ہونے کے کچھ دن بعد وفات پا گئی تھیں اور بعض نے کہا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے والد اور حقیقی والد ہ مراد ہیں وہ زندہ تھیں ۔ امور بعض تفاسیر میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلا م کی والدہ کو زندہ کردیا اور وہ یعقوب (علیہ السلام) کے ساتھ مصر آئیں ۔ ” وقال ادخلوا مصر ان شاء اللہ آمنین “ اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اور استثناء اس استغفار کی طرف لوٹ رہا ہے جو یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو کہا تھا ” سوف استغفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
99۔ 100۔ اس آیت میں اللہ پاک نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ملاقات کا حال بیان فرمایا کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا کہ تم کنعان جا کر اپنے کنبہ اور گھر والوں کو یہاں لے آؤ یہ لوگ اپنے سارے رشتہ داروں کو جو مرد و عورت ملا کر 63 آدمیوں کے قریب تھے کنعان سے لے کر چلے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خبر ملی کہ ہمارے والدین آرہے ہیں اور اب ہم بہت نزدیک آگئے ہیں تو آپ تخت پر بیٹھ کر ان کے استقبال کو روانہ ہوئے بادشاہ مصر نے اپنے دربار کے اور دوسرے معزز آدمیوں کو بھی ان کے ہمراہ کردیا۔ بعضے سلف یہ بھی کہتے ہیں کہ خود بادشاہ مصر بھی ان کے استقبال کو…
Read the full tafseer →(آیت) جب یعقوب علیہ السلام، ان کے بیٹے اور گھر والے تیار ہو کر اپنے ملک فلسطین روانہ ہوئے، ان کا مقصد مصر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچ کر وہاں آباد ہونا تھا، پس جب وہ مصر پہنچ گئے (آیت) ” وہ یوسف کے پاس پہنچے، تو یوسف نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی “ یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ماں باپ کو اپنے ساتھ بٹھایا ان کو اپنا قرب عطا کیا اور ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک نہایت تعظیم و تکریم سے پیش آئے۔ (آیت) اور اپنے تمام گھر والوں سے کہا : (آیت) ” داخل ہو مصر میں، اگر اللہ نے چاہا، بےخوف ہو کر “ ہر قسم کے خطرناک حالات اور سختیوں سے محفوظ ہو۔ وہ اسی حالت میں مصر میں داخل ہوئے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
قول باری ہے (سوف استغفر لکم ربی۔ میں اپنے رب سے تمہارے لئے معافی کی درخواست کروں گا) حضرت ابن مسعود ؓ ، ابراہیم التیمی، ابن جریج اور عمرو بن قیس سے مروی ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کے لئے معافی کی درخواست کو صبح تک کے لئے موخر کردیا تھا اس لئے کہ وقت سحر اجابت دعا کے لئے موزوں ترین وقت ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جمعہ کی رات تک دعائے استغفار کو ملتوی کردیا تھا۔ ایک قول کے مطابق بیٹوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ اپنی دعائوں میں ہمیشہ ان کے لئے معافی کی دعا مانگتے رہیں۔ قول باری ہے (و خرولہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
156۔ حضرت یعقوب کی طرف سے ان کے لیے بخشش کی دعا کا وعدہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے آنجناب سے عرض کیا کہ اے ہمارے اباجان آپ ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی بخشش کی دعاء فرمائیں۔ ہم واقعی بڑے ہی خطاکار تھے۔ تو اس پر آپ نے ان سے فرمایا کہ میں عنقریب ہی تمہارے لیے بخشش کی دعاء کرونگا " یعنی قبولیت کے وقت میں۔ سحری کے وقت یا جمعہ کی رات میں۔ یا یہاں تک کہ یوسف سے بھی تمہارا قصورمعاف کرالوں کہ تمہارا قصوربہت سنگین ہے۔ یہ سب ہی احتمال اواقوال اس ضمن میں موجود ہیں۔ (القرطبی، الجامع ابن کثیر وغیرہ) سو برادران یوسف نے اپنی طلب و درخواست میں (یا ابانا) کہہ کر اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
آیات 94 تا 104
اسرار و معارف
ادھریعقوب (علیہ السلام) بےقراری سے منتظر تھے کہ واپس آنے والے کیا خبر لاتے ہیں لیکن اللہ کی شان کا ظہور عجیب طریقے سے ہوا۔
کشف اور مشاہدہ
کہ جب وہ قافلہ جس میں وہ آدمی بھی شامل تھا جس کے پاس یوسف (علیہ السلام) کی قمیض تھی کنعان پہنچا تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم اسے میری دیوانگی نہ کہو تو آج مجھے یوسف کی خوشبوآرہی ہے تو سننے والوں نے بڑے آرام سے کہہ دیا کہ وہم اب آپ کا مرض بن چکا ہے اور آپ ہمیشہ ہی امید رکھین گے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ایک روز مجھ سے آملیں گے لیکن عجیب بات یہ جو پہلے بھی لکھی جاچکی کہ مصر جو کم وبیش آٹھ دن کی مسافت پر تھا…
Read the full tafseer →ف 13 ۔ یعنی کنعان سے روانہ ہو کر مصر پہنچے اور حضرت یوسف ( علیہ السلام) سے ملے، کہتی ہیں کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے شہر سے باہر نکل کر ان کا استقبال کیا۔ (ابن کثیر) ۔ موضح میں ہے کہ وہیں کہا : ادخلو امصر انشاء اللہ امنین۔
14 ۔ یعنی اپنے خیمہ میں ماں سے مراد اکثر مفسرین (رح) حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی سوتیلی والدہ ( جو ان کی خالہ تھیں) لیتے ہیں کیونکہ ان کی والدہ کا بنیامین کی ولادت کے وقت انتقال ہوگیا تھا اور بعض کہتے ہیں کہ ان کی والدہ زندہ تھیں اور وہی حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کے ساتھ مصر پہنچی تھیں۔ (معالم) ۔ ابن جریر نے اس دوسرے قول کو ترجیح دی ہے اور ابن کثیر نے اس کی تائید کی ہے۔…
Read the full tafseer →(12:99) اوی الیہ۔ ماضی ۔ واحد مذکر غائب ۔ اوی۔ اس نے اتارا۔ اس نے جگہ دی۔ ایواء (افعال) سے۔ اوی الیہ۔ اپنے پاس جگہ دی۔ ادخلوا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ تم داخل ہوجائے (یہ خطاب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے سب سے کیا تھا والدین وبرادران سے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
لغات القرآن آیت نمبر 99 تا 100
اوی اس نے ٹھکانا دیا، بٹھایا ادخلوا داخل ہوجاؤ امنین امن و سکون میں رہنے والے رفع بلند کیا، اونچی جگہ کیا العرش تخت خروا وہ گر پڑے سجد سجدہ کرنا، جک جانا یابت اے میرے ابا جان تاویل تعبیر رویائی میرا خواب، السجن جیل خانہ، قید البدو دیہات، گاؤں نزغ گھس گیا۔ ڈال دیا ، لطیف باریکی سے دیکھنے والا آسان کرنے والا یشآء وہ چاہتا ہے۔
تشریح آیت نمبر 99 تا 100
اصل میں انسان کا اخلاق، برتاؤ اور معاملہ اس وقت زیادہ قیمتی بن جاتا ہے جب اس دنیا کی ساری طاقتیں اور عظمتیں حاصل ہوں اور پھر بھ یاس میں عاجزی و انکساری ہو اور اپنے سے کمزوروں پر ظلم کرنے اور زیادتیوں کا بدلہ لینے کے…
Read the full tafseer →یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی مع رشتہ دار سب کا ایک جگہ ہونا، یوسف (علیہ السلام) کو سجدہ کرنا
حضرت یعقوب (علیہ السلام) مع رشتہ داروں کے جو مرد عورت ملا کر 63 آدمیوں کے قریب تھے کنعان سے لے کر چلے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خبر ملی کہ ہمارے والدین آرہے ہیں۔ اور اب بہت نزدیک آگئے ہیں تو آپ تخت پر بیٹھ کر ان کے استقبال کو روانہ ہوئے۔ بادشاہ مصر نے اپنے دربار کے اور اور دوسرے معزز آدمیوں کو بھی ان کے ہمراہ کردیا جب باپ کے پاس پہنچے تو ماں باپ کو اپنے تخت پر جگہ دی۔ پھر جب یوسف (علیہ السلام) نے عین شہر میں آکر باپ اور ماں کو تخت پر بٹھایا تو ان کے گیارہ بھائیوں نے براہ تعظیم ان کے آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–100
[33] یہ سجدہ تعظیمیہ تھا جو سابقہ شریعتوں میں جائز تھا لیکن شریعت محمدی ﷺ میں ہر قسم کا سجدہ غیر اللہ کے لئے حرام کردیا گیا بلکہ یہ بھی جائز نہیں کہ کوئی انسان کسی دوسری ہستی کے آگے اپنا جسم دوہرا کرے۔
[43] یوسف (علیہ السلام) کی کریم النفسی ملاحظہ ہو کہ ایسے شدید دشمن بھائیوں پر ذرا الزام نہ آنے دیا بلکہ ذمہ داری شیطان کی قرار دے کر اپنی اور اپنے بھائیوں کی حیثیت ایک ہی رکھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
والدین کی عزت افزائی :
(ف 1) حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ نے اقتدار بخشا ہے ، اور وہ اس وقت عرش عزت پر متمکن ہیں ، بھائیوں کو معلوم ہوگیا ہے کہ ہمارا بھائی مسند حکومت پر فائز ہے ، باپ تک اطلاع پہنچ چکی ہے کہ تیرا بیٹا مصر میں برسراقتدار ہے ۔
سب یوسف (علیہ السلام) کی ملاقات کے لئے جمع ہیں ، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے سب کو شرف باریابی بخشا ، والدین کی انتہائی عزت کی ، اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا ، اور وہ خواب پورا ہوا ، بھائی اس وقت اعتراف فضیلت کے طور پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے جھک گئے اور کنعانی آداب وتعظیم کو ملحوظ رکھتے ہوئے اظہار فضیلت کیا ۔
ممکن ہے اس وقت تعظیم کے لئے سجدہ روا ہو…
Read the full tafseer →99 ۔ یہ سب لوگ کنعان سے مصر کے لئے روانہ ہوئے اور ادھر حضرت یوسف (علیہ السلام) مصر سے استقبال کے لئے نکلے اور شہر سے باہر استقبال کا انتظام کیا گیا پھر یہ سب جب یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو اپنے پاس عزت و تعظیم کے ساتھ جگہ دی اور استقبال و ملاقات کے بعد کہا اب آپ سب شہر میں چلئے ۔ انشاء اللہ تعالیٰ وہاں آپ ہر طرح امن وامان سے رہیں گے۔ یعنی دل جمعی اور خاطر جمعی کے ساتھ شہر میں چلئے ماں باپ کو جگہ دی ماں سے مراد ان کی خالہ ہیں جو سوتیلی ماں تھیں اور ہوسکتا ہے کہ حقیقی والدہ بھی زندہ ہوں ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ الفاظ شہر میں داخل ہونے کے بعد کہے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
ف 7۔ اس سے ان کا معاف کردینا بھی معلوم ہوگیا۔
Read the full tafseer →کنعانیوں کا مصر میں آباد ہونا اس واقعہ کا اختتام ہے کیونکہ اس کا تعلق قریش کے سوال سے ہے
۔ 115 اس طرح حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے سارے خاندان کو لے کر کنعان سے مصر کی طرف روانہ ہوگئے اور تاریخ نے یہ مہر ثبت کردی کہ آج بنی اسرائیل کنعان سے آ کر مصر میں آباد ہوگئے چناچہ تورات میں بھی اس کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے :
” اور یہی ذکر فرعون کے گھر بھی سنا گیا کہ یوسف کے بھائی آئے اور اس سے فرعون اور اس کے چاکر بہت خوش ہوگئے اور فرعون نے یوسف سے کہا کہ اپنے بھائیوں کو کہو تم یہ کام کرو اپنے جانور لاد کر ملک کنعان کی سر زمین میں جا پہنچو اور اپنے باپ اور اپنے گھرانے کو میرے پاس لائو میں تم کو مصرف کی…
Read the full tafseer →About what has been said in the next verse: فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ (Later, when they came to Yusuf ... - 88), it appears in some narrations that Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) had sent with his brothers this time a large supply of clothes and other articles of need all loaded on some two hundred camels, so that the whole family could make good preparations in anticipation of their visit to Egypt. Thus, all set for the trip, when Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) and his entire family set out for Egypt, their number, according to one narration, was seventy two and, according to the other, it…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
68. It is worthwhile to take notice of the total number of Prophet Jacob’s family members that migrated to Egypt with him, for it is closely connected with the problem that is raised concerning the total number of the Israelites who emigrated from there some five hundred years after this. According to the Bible, the total number of the family members was 70, including Prophet Joseph and his two sons, and excluding those daughters-in-law who did not belong to the family of Prophet Jacob. But according to the census figures given in Numbers, their number was about two million when they were…
Read the full tafseer →