Yusuf 12:98

Yusuf · from ayah 98

12:98

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ ؕ— اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ۟قَالَ سَوۡفَ اَسۡتَغۡفِرُ لَـكُمۡ رَبِّىۡؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ

انہوں نے کہا کہ میں اپنے پروردگار سے تمہارے لیے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "I will ask forgiveness for you from my Lord. Indeed, it is He who is the Forgiving, the Merciful."

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 11 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:98

اُس نے کہا "میں اپنے رب سے تمہارے لیے معافی کی درخواست کروں گا، وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے کہا کہ میں اپنے پروردگار سے تمہارے لیے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہا اچھا میں جلد ہی تمہارے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا، وه بہت بڑا بخشنے واﻻ اور نہایت مہربانی کرنے وﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یعقوب نے کہا : میں عنقریب اپنے پروردگار سے تمہاری بخشش کی دعا کروں گا۔ بیشک وہی ہے جو بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا جلد میں تمہاری بخشش اپنے رب سے چاہو ں گا، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یعقوب ؑ نے فرمایا: میں عنقریب تمہارے لئے اپنے رب سے بخشش طلب کروں گا، بیشک وہی بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا میں عنقریب تمہارے لیے اپنے رب سے بخشش کی دعا کروں گا۔ بیشک وہی بےحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یعقوب نے کہا : میں عنقریب اپنے پروردگار سے تمہارے لیے معافی مانگوں گا وہ یقینا معاف کردینے والا اور رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا میں جلد اپنے رب سے تمہارے لیے مغفرت کی دعا کروں گا، بیشک وہی بخشنے وال اور رحم فرمانے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آپ نے فرمایا میں عنقریب ہی تمہارے لئے اپنے رب سے معافی کی درخواست کروں گا، بیشک وہی ہے جو سب سے بڑا بخشنے والا، انتہائی مہربان ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

فرمایا (اچھا) میں عنقریب تمہارے لئے اپنے پروردگار سے دعائے مغفرت کروں کروں گا بیشک وہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ نے فرمایا : عنقریب میں مغفرت طلب کروں گا تمہارے لیے اپنے رب سے یقیناً وہی ہے بخشش والا بہت رحم کرنے والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے کہا کہ میں اپنے رب سے تمہارے لیے بخشش مانگوں گا، بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He said: "I shall pray to my Lord for your forgiveness, for He, and indeed He alone, is Ever Forgiving, Most Merciful."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :I shall pray to my Lord to forgive you. Surely, He is the Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :I shall pray to my Lord to forgive you. Surely, He is the Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "I will ask my Lord for forgiveness for you, verily, He! Only He is the Oft-Forgiving, the Most Merciful."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: I shall ask forgiveness for you of my Lord. Lo! He is the Forgiving, the Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "I will ask forgiveness for you from my Lord. Indeed, it is He who is the Forgiving, the Merciful."

— Saheeh International

He said, "I shall ask my Lord to forgive you; He is All-forgiving and All-merciful."

— Muhammad Sarwar

He said: I will ask for you forgiveness from my Lord; surely He is the Forgiving, the Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

He said: presently I shall pray for forgiveness for you of my Lord; verily He! only He is the Forgiving, the Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "Soon will I ask my Lord for forgiveness for you: for he is indeed Oft-Forgiving, Most Merciful."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:98

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 96–98

کہتے ہیں کہ پیراہن یوسف ؑ حضرت یعقوب ؑ کے بڑے صاحبزادے یہودا لائے تھے۔ اس لئے کہ انہوں نے ہی پہلے جھوٹ موٹ وہ کرتا پیش کیا تھا۔ جسے خون آلود کر کے لائے تھے اور باپ کو یہ سمجھایا تھا کہ یوسف کا خون ہے، اب بدلے کے لئے یہ کرتہ بھی یہی لائے کہ برائی کے بدلے بھلائی ہوجائے بری خبر کے بدلے خوشخبری ہوجائے۔ آتے ہی باپ کے منہ پر ڈالا۔ اسی وقت حضرت یعقوب ؑ کی آنکھیں کھل گئیں اور بچوں سے کہنے لگے دیکھو میں تو ہمیشہ تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ کی بعض وہ باتیں میں جانتا ہوں جن سے تم محض بیخبر ہو۔ میں تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے یوسف کو ضرور مجھ سے ملائے گا، ابھی تھوڑے دنوں کا ذکر ہے کہ میں نے تم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 96–99

68۔ بائیبل کا بیان ہے کہ سب افراد خانہ جو اس موقع پر مصر گئے 67 تھے۔ اس تعداد میں دوسرے گھرانوں کی ان لڑکیوں کو شمار نہیں کیا گیا ہے جو حضرت یعقوب کے ہاں بیاہی ہوئی آئی تھیں، اس وقت حضرت یعقوب کی عمر 130 سال تھی اور اس کے بعد وہ مصر میں 17 سال زندہ رہے۔ اس موقع پر ایک طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر میں داخل ہوئے تو حضرت یوسف سمیت ان کی تعداد 68 تھے، اور جب تقریبا 5 سو سال کے بعد وہ مصر سے نکلے تو وہ لاکھوں کی تعداد میں تھے، بائیبل کی روایت ہے کہ خروج کے بعد دوسرے سال بیابان سینا میں حضرت موسیٰ نے ان کی جو مردم شماری کرائی تھی اس میں صرف قابل جنگ مردوں کی تعداد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ یعنی یعقوب ؑ نے فرمایا کہ میں عنقریب تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے معافی کی دعاء کروں گا یہاں حضرت یعقوب ؑ نے فوراً ہی دعاء کرنے کے بجائے وعدہ کیا کہ عن قریب دعاء کروں گا اس کی وجہ عام مفسرین نے یہ لکھی ہے کہ مقصود اس سے یہ تھا کہ اہتمام کے ساتھ آخر شب کے وقت میں دعاء کریں کیونکہ اس وقت کی دعاء خصوصیت سے قبول کی جاتی ہے جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر رات کے آخری تہائی حصہ میں زمین سے قریب تر آسمان پر نزول اجلال فرماتے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے تو میں اس کو قبول کرلوں کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۔ حضرت یعقوب نے ان کی یہ استدعا قبول فرمائی اور ان سے وعدہ کیا کہ میں عنقریب تمہارے لیے اپنے رب سے گناہوں کی معافی کے لیے دعا کروں گا۔ " سوف " کا لفظ یہاں اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ حضرت یعقوب نے ان کے لیے خاص اہتمام کے ساتھ، خاص وقت میں، دعا کا وعدہ فرمایا۔ یہ کہہ کر ان کو ٹالنے کی کوشش نہیں کی کہ جاؤ، اللہ تمہیں معاف فرمائے۔ اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ آدمی کا دل اگر خود اپنے گناہوں پر پشیمان ہو تو اس کو صالحین سے دعا کی درخواست بھی کرنی چاہیے اور اس کے حق میں صالحین کی دعا قبول بھی ہوتی ہے۔ دوسری بات…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 97–98

98۔ 1 فی الفور مغفرت کی دعا کرنے کی بجائے دعا کرنے کا وعدہ فرمایا، مقصد یہ تھا کہ رات کے پچھلے پہر میں، جو اللہ کے خاص بندوں کا اللہ کی عبادت کرنے کا خاص وقت ہوتا ہے، اللہ سے ان کی مغفرت کی دعا کروں گا، دوسری بات یہ کہ بھائیوں کی زیادتی یوسف ؑ پر تھی، ان سے مشورہ لینا ضروری تھا اس لئے انہوں نے تاخیر کی اور فوراً مغفرت کی دعا نہیں کی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 97–99

61: حضرت یوسف ؑ اپنے والدین، بھائیوں اور دوسرے گھر والوں کے استقبال کے لئے شہر سے باہر تشریف لائے تھے، اور جب والدین سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے انکا خاص اکرام کرکے انہیں اپنے پاس بٹھایا اور ابتدائی باتوں کے بعد سارے آنے والوں سے کہا کہ اب سب لوگ شہر میں اطمینان کے ساتھ چل کر رہیں، اس معاملے میں روایات مختلف ہیں کہ حضرت یوسف ؑ کی حقیقی والدہ اس وقت زندہ تھیں یا نہیں اگر زندہ تھیں تب تو والدین سے مراد حقیقی والدین ہیں اور اگر وفات پاچکی تھیں تو سوتیلی والدہ کو بھی چونکہ ماں ہی کی طرح سمجھا جاتا ہے اس لئے ان کو بھی والدین میں شامل کرلیا گیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 98 لفظ سوف کے ساتھ وعدہ دعا سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کے زخمی دل سے کدورت نکلتے نکلتے وقت لگتا ہے۔ دلوں کی کدورت جلدی صاف نہیں ہوتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی قبول کی گھڑی آنے دو ، اس وقت اپنے مہربان خدا کے آگے تمہارے لئے ہاتھ اٹھاؤں گا ' کہتے ہیں جمعہ کی شب یا تہجد کے وقت کا انتظار تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 98 قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ یہاں پر ”سَوْفَ“ کا لفظ بہت اہم ہے۔ یعنی آپ نے فوری طور پر ان کے لیے استغفار نہیں کیا بلکہ وعدہ کیا کہ میں عنقریب تم لوگوں کے لیے اپنے رب سے استغفار کروں گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی اپنے بیٹوں کے بارے میں آپ کے دل میں رنج اور غصہ برقرار تھا۔ شاید آپ کا خیال ہو کہ میں یوسف سے مل کر ساری تفصیلات معلوم کروں گا ‘ اس کے بعد جب تمام معاملات کی صفائی ہوجائے گی تو پھر میں اپنے رب سے ان کے لیے معافی کی درخواست کروں گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 97–99

93 خاندان یعقوب کا مصر پہنچنا :۔ جب سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا سارا خاندان کنعان سے روانہ ہو کر مصر پہنچا تو سیدنا یوسف بڑے بڑے اعیان سلطنت اور فوجی افسران کو ساتھ لے کر اپنے باپ اور اہل خانہ کے استقبال کے لیے نکلے اور پورے تزک و احتشام کے ساتھ انھیں دارالسلطنت میں لائے اور یہ دن جشن کا دن تھا، عورتیں، مرد، بچے سب اس جلوس کو دیکھنے کے لیے اکٹھے ہوگئے تھے اور سارے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس وقت سیدنا یوسف نے اپنے والدین سے کہا کہ یہاں مصر میں اقامت فرمایئے اور پوری دلجمعی سے رہئے، انشاء اللہ قحط وغیرہ کا بھی کوئی خطرہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

176۔ چناچہ پچھلی تقصیریں بھی معاف کردیتا ہے اور آئندہ ترقی و مراتب کے رستے برابر کھلے رکھتا ہے۔ (آیت) ” سوف “۔ یعنی عنقریب ہی قبول دعاء کے موزوں ترین وقت پر :۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 94–104

آیت نمبر 94 تا 104 ترجمہ : اور جب یہ قافلہ مصر کی آبادی سے باہر نکلا تو ان کے والد نے حاضرین میں سے ان سے جو ان کے بیٹے اور پوتوں میں سے موجود تھے کہا میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں اگر تم مجھے سٹھیایا ہوا قرار نہ دو تو تم میری تصدیق کروگے بادصبا نے باذن خداوندی یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو کو یعقوب تک تین دن کی یا آٹھ دن کی یا اس سے زیادہ کی مسافت سے پہنچا دیا تھا، تو حاضرین نے ان سے کہا واللہ تم تو اپنے پرانے خبط میں مبتلا ہو اس سے بیحد محبت کرنے اور اس سے ملاقات کی (شدید) خواہش کی وجہ سے باوجود عرصہ دراز گذر جانے کے، چناچہ جب خوشخبری دینے والا یہودا کرتہ لے کر آیا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال سوف استغفر لکم ربي ان ھو الغفور الرحیم یعقوب نے کہا : میں اپنے رب سے تمہارے قصور کے معاف کردینے کی ضرور درخواست کروں گا۔ وہی بلاشبہ بڑا غفور و رحیم ہے (معاف فرما دے گا) ۔ اکثر اہل تفسیر کا قول ہے کہ حضرت یعقوب نے سحر پر دعا کو موقوف رکھا کیونکہ ہر رات کو تہائی رات رہے ہمارا رب دنیوی آسمان پر خصوصی نزول تجلی فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے : کون ہے جو مجھے پکارے اور میں اس کی دعا قبول کروں ‘ کون ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اس کو عطا کروں اور کون ہے جو مجھ سے عفو گناہ کی درخواست کرے اور میں اسے معاف کروں۔ رواہ البخاری ومسلم عن ابی ہریرۃ فی صحیحہما۔ غرض جب مقررہ وقت آیا تو حضرت یعقوب سحر کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(98) حضرت یعقوب ؑ نے ان سے فرمایا تمہارے لیے جمعہ کی رات میں تہجد کے وقت مغفرت کی دعا کروں گا بیشک وہ غفور الرحیم اور توبہ کرنے والوں پر مہربان ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ۔۔ : یعقوب ؑ نے یوسف ؑ کی طرح درخواست کے بغیر فوراً استغفار کے بجائے صرف وعدہ کیا کہ میں تمہارے لیے استغفار کروں گا جو یقیناً انھوں نے پورا کیا ہوگا۔ اہل علم نے اس کی کئی وجہیں بیان فرمائی ہیں، ایک تو یہ کہ بھائی کا حق بھائی پر اتنا نہیں ہوتا جتنا باپ کا بیٹے پر ہوتا ہے، اس لیے والد کو ناراضگی زیادہ تھی۔ دوسری یہ کہ بیشک یوسف ؑ پر بےپناہ آزمائشیں آئیں مگر غم اور صدمے کا اثر والد پر زیادہ تھا۔ تیسری یہ کہ والد معلوم کرنا چاہتے تھے کہ یوسف نے انھیں معاف کیا ہے یا نہیں، کیونکہ مظلوم کے معاف کرنے کے بعد ہی ظالم کے لیے استغفار ہوسکتا ہے۔ بعض مفسرین نے بعض…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 94–99

آیت نمبر 94 تا 99 قولہ تعالیٰ : ولما فصلت العیر یعنی جب قافلہ مصر سے شام کی طرف نکلا، کہا جاتا ہے : فصل فصولا، وفصلا، یہ لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ قال ابوھم یعنی آپ نے فریبیوں میں سے جو آپ کے پاس تھا اور مصر نہیں گیا تھا اسے کہا اور وہ آپ کے پوتے تھے انی لاجدریح یوسف یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کے کچھ بیٹے گئے ہوں اور باقیوں کو آپ نے فرمایا ہو : انی لاجد ریح یوسف لولآ ان یفندون حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ہوا چلی اور وہ حضرت یوسف کے پیراہن کی خوشبو آپ تک اٹھالائی حالانکہ دونوں کے درمیان آٹھ راتوں کی مسافت تھی۔ حضرت حسن نے کہا : دس راتوں کی مسافت تھی۔ انہیں سے ایک ماہ کی مسافت بھی مروی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 97–98

اپنی اولاد کے حق میں استغفار : 1:۔ ابوعبید و سعید بن منصور وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والطبرانی رحمہم اللہ نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” سوف استغفرلکم ربی “ کے بارے میں فرمایا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کے لئے دعا کو موخر فرمایا سحری کے وقت تک۔ 2:۔ ابن منذر وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سوف استغفرلکم ربی “ کے بارے میں فرمایا کہ آپ نے اپنے بیٹوں کو سحری کے وقت تک اور آپ صبح کی نماز سحری کے وقت میں پڑھتے تھے۔ 3:۔ ابوالشیخ وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ یعقوب (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [سَوْفَ : عنقریب ] [ اَسْتَغْفِرُ : میں مغفرت مانگوں گا ] [ لَكُمْ : تم لوگوں کے لئے ] [رَبِيْ : اپنے رب سے ] [ انهٗ : بیشک وہ ] [ هُوَ الْغَفُوْرُ : ہی بخشنے والا ہے ] [ الرَّحِيْمُ : رحم کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 94–99

پورے خاندان کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس مصر پہنچنا ‘ ان کے والدین اور بھائیوں کا ان کو سجدہ کرنا ‘ اور خواب کی تعبیر پوری ہونا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے تیسری بار جب اپنے بھائیوں کو مصر سے رخصت کیا تھا اور اپنا کرتہ دیا تھا کہ اسے میرے والدین کے چہرہ پر ڈال دینا اس وقت یہ بھی فرماتا تھا کہ تم اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آنا ‘ جب یہ لوگ واپس کنعان پہنچے اور اپنے والد ماجد کے چہرہ انور پر پیراہن یوسف کو ڈال دیا جس سے ان کی بینائی واپس آگئی اور پھر اپنے والد سے دعائے مغفرت کی درخواست کی اور انہوں نے دعا کردی تو اب مصر کی روانگی کا ارادہ کیا حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اہلیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 94–98

باز گشتن برادران یوسف (علیہ السلام) از سفر سوم و بشارت بردن قال اللہ تعالیٰ علما فصلت العیر قال ابوہم .... الیٰ .... انہ ھو الغفور الرحیم (ربط) جب یوسف (علیہ السلام) نے باپ کی بینائی کے لیے قمیص عطا کی اور کہا کہ سب اہل و عیال کو لے کر آؤ تو سب بھائی پیراہن یوسفی لے کر شاداں وفرحاں مصر سے کنعان کی طرف روانہ ہوئے اور جب قافلہ مصر سے کنعان روانہ ہوا یعنی مصر کی آبادی سے باہر نکل گیا تو یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا جو اس وقت ان کے پاس تھے تحقیق میں یوسف (علیہ السلام) کی بو محسوس کرتا ہوں اگر تم مجھ کو مخبوط الحواس نہ کہو کہ بڑھاپے کی وجہ سے بہک گیا اور بہکی ہوئی باتیں کر رہا ہے۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 97–98

81:۔ اب بیٹوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ سے معافی مانگیں کیونکہ ہم سے بہت بڑا گناہ سر زد ہوا ہوم نے بلا وجہ آپ کو گم و الم میں اتنا طویل عرصہ مبتلا رکھا۔ ” قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ “۔ فرمایا عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس سے وقت سحر تک تاخیر مراد ہے کیونکہ وہو قت قبولیت دعاء کے لیے خاص اثر رکھتا ہے۔ (قرطبی وغیرہ) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 94–98

ربط آیات گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ مصر کے تیسرے چکر میں برادران یوسف نے (علیہ السلام) کے روبرو نہایت عز و انکساری کا اظہار کیا اور اس بات کا اقرار کیا کہ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو ان پر فضیلت بخشی ہے اور غلطی پر وہی تھے ۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے کریمانہ اخلقا کی بنا پر اعلان کیا کہ آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری غلطیوں کو معاف فرمائے۔ نیز فرمایا کہ میں تو بوجوہ فوری طور پو الد کے پاس نہیں جاسکتا تم میری یہ قمیص لے جائو اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دینا۔ وہ بینا ہو کر میرے پسا چلے آئیں گے اور تم باقی خاندان کو بھی لے کر مصر میں آ جائو۔ ان حالات میں برادران…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 98؀ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 97–98

قَالُوْا یٰٓاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَآ اِنَّا کُنَّا خٰطِئِیْنَ ۔ قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّیْ ط اِنَّہٗ ھُوَالْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ ۔ (سورۃ یوسف : 97، 98) (انھوں نے کہا کہ اے ہمارے والد گرامی ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے دعا فرمایئے، بیشک ہم ہی خطاکار تھے۔ والد نے کہا کہ میں عنقریب تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت کی دعا کروں گا۔ بیشک وہی بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ) باپ سے استغفار کی درخواست برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) نے جب اپنی آنکھوں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا مقام و مرتبہ دیکھا تو انھیں اپنے غلطیوں کا احساس ہوا۔ وہ یہ سمجھ گئے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 97–98

فہم القرآن ربط کلام : برادران یوسف کا گھر واپس جانا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے معافی کا خواستگار ہونا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے واپس آئے تو کیا دیکھتے ہیں باپ انتہائی خوش وخرم ‘ ہشاش بشاش ہے اور ان کی بینائی بھی صحیح ہوچکی ہے۔ والد گرامی کو سلام عرض کرنے کے بعد سب مل کر اپنے گناہ کا اعتراف کرکے درخواست کرتے ہیں کہ اباجان ! ہم نے یوسف (علیہ السلام) پر بہت زیادتی کی جس سے آپ کو طویل عرصہ تک دکھ اٹھانا پڑا۔ ہم اس پر سچے دل کے ساتھ آپ سے معافی مانگتے ہیں۔ آپ ہمارے عظیم باپ ہیں اور ہم اپنے کیے پر انتہائی شرمندہ ہیں۔ ہماری عاجزانہ درخواست ہے کہ آپ ہمیں معاف کردیں۔ حضرت یعقوب (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

98: قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّیْط اِنَّہٗ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (اس نے کہا میں عنقریب تمہارے لئے اپنے رب سے استغفار کرونگا بیشک وہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے) انہوں نے استغفار کو سحر تک مؤخر کیا نمبر 2۔ لیلہ جمعہ تک نمبر 3۔ توبہ کی سچائی میں ان کی حالت معلوم ہونے تک۔ نمبر 4۔ یوسف (علیہ السلام) سے دریافت تک کہ آیا انہوں نے معاف کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

98۔” قال سوف استغفرلکم ربی “ اکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یعقوب (علیہ السلام) نے دعا کو سحر کے وقت تک مؤخر کردیا کیونکہ یہ ایسا وقت ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبو ل کروں ۔ جب وعدہ کا وقت آیا تو سحر کی نماز کے لیے یعقوب (علیہ السلام) کھڑے ہوئے۔ نماز سے فارغ ہو کر دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی اے اللہ ! میرے یوسف (علیہ السلام) کے فراق پر جزع و فزع کرنے پر میری مغفرت کر دے اور میرے کم صبر کرنے پر مغفرت کردے اور میری اولاد نے جو یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ کیا اس کو بخش دے تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی کہ میں نے آپ (علیہ السلام) اور آپ (علیہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 96–98

96۔ 98۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ بشیر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائی تھے جن کا نام یہودا تھا پہلے بھی یہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خون کا بھرا ہوا کرتہ لائے تھے اور اب بھی یہی کرتہ لے کر آئے تاکہ پہلی بدنامی کا دھبہ جاتا رہے الغرض جس وقت یہ بشیر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ لایا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چہرہ مبارک پر ڈالا آپ کی آنکھوں میں روشنی آگئی اور صحیح و تندرست ہوگئے اور بشیر سے پوچھا تو نے یوسف (علیہ السلام) کو کس دین پر چھوڑا ہے کہا اسلام پر آپ نے بہت خوشی ظاہر کی اور خدا کی نعمت کا شکر ادا کیا اور فرمایا الان تمت النعمتہ اور پاس والوں اور بیٹیوں سے فرمایا کہ کہو میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 97–98

97-98: جب یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہوئے کہا : (آیت) ” ابا جان ! ہمارے لئے ہمارے گناہوں کی بخشش طلب کریں بیشک ہم گناہ گار تھے “ کیونکہ ہم نے آپ کے ساتھ جو سلوک کیا اس کی بنا پر ہم خطا کار ہیں۔ (آیت) یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے جواب دیا : (آیت) ” میں ضرور تمہارے لئے اپنے رب سے بخشش مانگوں گا، بلا شبہ وہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ “ اور مجھے امید ہے کہ وہ تمہیں بخش دے گا، تم پر رحم کرے گا اور تمہیں اپنی رحمت سے ڈھانپ دے گا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت یعقوب نے ان کے لئے استغفار کو فضیلت والے وقت سحر تک موخر کردیا تاکہ استغفار کامل ترین اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 98–99

قول باری ہے (سوف استغفر لکم ربی۔ میں اپنے رب سے تمہارے لئے معافی کی درخواست کروں گا) حضرت ابن مسعود ؓ ، ابراہیم التیمی، ابن جریج اور عمرو بن قیس سے مروی ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کے لئے معافی کی درخواست کو صبح تک کے لئے موخر کردیا تھا اس لئے کہ وقت سحر اجابت دعا کے لئے موزوں ترین وقت ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جمعہ کی رات تک دعائے استغفار کو ملتوی کردیا تھا۔ ایک قول کے مطابق بیٹوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ اپنی دعائوں میں ہمیشہ ان کے لئے معافی کی دعا مانگتے رہیں۔ قول باری ہے (و خرولہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 98–100

156۔ حضرت یعقوب کی طرف سے ان کے لیے بخشش کی دعا کا وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے آنجناب سے عرض کیا کہ اے ہمارے اباجان آپ ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی بخشش کی دعاء فرمائیں۔ ہم واقعی بڑے ہی خطاکار تھے۔ تو اس پر آپ نے ان سے فرمایا کہ میں عنقریب ہی تمہارے لیے بخشش کی دعاء کرونگا " یعنی قبولیت کے وقت میں۔ سحری کے وقت یا جمعہ کی رات میں۔ یا یہاں تک کہ یوسف سے بھی تمہارا قصورمعاف کرالوں کہ تمہارا قصوربہت سنگین ہے۔ یہ سب ہی احتمال اواقوال اس ضمن میں موجود ہیں۔ (القرطبی، الجامع ابن کثیر وغیرہ) سو برادران یوسف نے اپنی طلب و درخواست میں (یا ابانا) کہہ کر اپنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–101

یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔ 1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 94–104

آیات 94 تا 104 اسرار و معارف ادھریعقوب (علیہ السلام) بےقراری سے منتظر تھے کہ واپس آنے والے کیا خبر لاتے ہیں لیکن اللہ کی شان کا ظہور عجیب طریقے سے ہوا۔ کشف اور مشاہدہ کہ جب وہ قافلہ جس میں وہ آدمی بھی شامل تھا جس کے پاس یوسف (علیہ السلام) کی قمیض تھی کنعان پہنچا تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم اسے میری دیوانگی نہ کہو تو آج مجھے یوسف کی خوشبوآرہی ہے تو سننے والوں نے بڑے آرام سے کہہ دیا کہ وہم اب آپ کا مرض بن چکا ہے اور آپ ہمیشہ ہی امید رکھین گے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ایک روز مجھ سے آملیں گے لیکن عجیب بات یہ جو پہلے بھی لکھی جاچکی کہ مصر جو کم وبیش آٹھ دن کی مسافت پر تھا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 97–98

ف 12 ۔ یعنی دعا قبول ہونے کی گھڑی آنے دو ، میں تمہارے لئے استغفار کروں گا۔ بعض صحابہ ؓ کہتے ہیں کہ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کو تہجد کے وقت کا انتظار تھا اور بعض کہتے ہیں کہ جمع کی شب کا۔ (ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 97–98

(12:97) استغفرلنا۔ استغفر۔ امرواحد مذکر حاضر۔ تو بخشش مانگ۔ تو مغفرت مانگ۔ تو معافی مانگ۔ لنا ہمارے لئے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 94–98

لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 98 فصلت جدائی ہوئی، جدا ہوا العیر قافلہ اجد میں پاتا ہوں تفندون تم مجھے بہکا ہوا نہ سمجھو ضلل بہکنا القدیم پرانا البشیر خوش خبری دینے والا القہ اس نے ڈالا وجھ چہرہ ارتد لوٹ آیا بصیر دیکھنا، بینائی لم اقل میں نے نہیں کہا استغفر بخشش مانگ لے ذنوب گناہ خطیئین خطا کرنے والے، گناہ کرنے والے سوف بہت جلد، عنقریب تشریح آیت نمبر 94 تا 98 گزشتہ آیات میں حضرت یوسف کا یہ جملہ نقل کیا گیا ہے کہ تم میری قمیص لے کر جاؤ اور ان کے (حضرت یعقوب کے) چہرے پر ڈالو تو ان کی بصارتو اپس آجائے گی اور اس کے بعد تم سب یہیں مصر میں آجانا، چناچہ یہ قمیص مصر سے روانہ ہوئی ادھر حضرت یعقوب کو حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 96–98

ارشاد ہوتا ہے کہ جب خوشخبری دینے والا یعنی یہودا اپنے باپ کے پاس پہنچا تو اس نے یوسف (علیہ السلام) کے کرتے کو اپنے باپ کے منہ پر ڈال دیا پس وہ بینا ہوگئے۔ لکھا ہے کہ یہودا بھائیوں کے ساتھ راہ میں نہیں ٹھرے اور ننگے پاؤں برہنہ سر دوڑتے ہوئے کنعان میں پہنچے۔ تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کیوں جی میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ مجھے اللہ کی وحی کے ذریعہ سے وہ بات معلوم جو تم کو نہیں معلوم، یعنی یوسف (علیہ السلام) کے خواب کا ظہور ضرور ہوگا، پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادوں نے باپ سے معذرت کی اور اپنی خطا کا اقرار کیا :'' بیشک ہم قصور وار ہیں۔ آپ ہمیں معاف فرمائیں اور درگاہ الہی میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 93–100

[33] یہ سجدہ تعظیمیہ تھا جو سابقہ شریعتوں میں جائز تھا لیکن شریعت محمدی ﷺ میں ہر قسم کا سجدہ غیر اللہ کے لئے حرام کردیا گیا بلکہ یہ بھی جائز نہیں کہ کوئی انسان کسی دوسری ہستی کے آگے اپنا جسم دوہرا کرے۔ [43] یوسف (علیہ السلام) کی کریم النفسی ملاحظہ ہو کہ ایسے شدید دشمن بھائیوں پر ذرا الزام نہ آنے دیا بلکہ ذمہ داری شیطان کی قرار دے کر اپنی اور اپنے بھائیوں کی حیثیت ایک ہی رکھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 96–99

والدین کی عزت افزائی : (ف 1) حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ نے اقتدار بخشا ہے ، اور وہ اس وقت عرش عزت پر متمکن ہیں ، بھائیوں کو معلوم ہوگیا ہے کہ ہمارا بھائی مسند حکومت پر فائز ہے ، باپ تک اطلاع پہنچ چکی ہے کہ تیرا بیٹا مصر میں برسراقتدار ہے ۔ سب یوسف (علیہ السلام) کی ملاقات کے لئے جمع ہیں ، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے سب کو شرف باریابی بخشا ، والدین کی انتہائی عزت کی ، اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا ، اور وہ خواب پورا ہوا ، بھائی اس وقت اعتراف فضیلت کے طور پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے جھک گئے اور کنعانی آداب وتعظیم کو ملحوظ رکھتے ہوئے اظہار فضیلت کیا ۔ ممکن ہے اس وقت تعظیم کے لئے سجدہ روا ہو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

98 ۔ باپ نے کہا میں عنقریب اپنے پروردگار سے تمہارے لئے بخشش کی دعا کروں گا بلا شبہ وہ بڑی مغفرت کرنیوالا نہایت مہربان ہے۔ معلوم ہوا باپ نے اپنا حق معاف کردیا ورنہ وہ دعا کا وعدہ نہ کرتے کہتے ہیں کہ جمعہ کی شب یا تہجد کے وقت کا انتظار تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اپنے رب سے تمہارے لئے معافی طلب کروں گا ۔ 114 یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو یقین دلایا کہ میں بھی آپ لوگوں کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کروں گا اس طرح برادران یوسف نے مصر میں اپنی خطا کا اعتراف کرتے ہوئے یوسف (علیہ السلام) سے بھی مغفرت کی دعا کی استدعا کی تھی اور کنعان میں اپنے والد یعقوب (علیہ السلام) سے بھی یہی درخواست کی۔ یوسف (علیہ السلام) نے تو اسی وقت ان کی بات منظور فرماتے ہوئے کہہ دیا کہ ” اللہ تعالیٰ تم کو معاف کر دے “ لیکن یعقوب (علیہ السلام) نے اس کی بجائے فرمایا کہ ” سوف استغفرلکم “ یعنی صرف توقع دلائی اس کا فرق کیا ہے ؟ اس سوال کے دو جواب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The reply given by Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) was: قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ‌ لَكُمْ رَ‌بِّي shall pray to my Lord to forgive you ... - 98). Here, Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) has, instead of praying for them instantly, made a promise that he would pray for them soon. Commentators have generally given a reason for this. According to them, his purpose was to pray for them particularly, in peace and with concentration, towards the later part of the night - because the prayer made at that hour is answered specially. This is as it appears in a Hadith in the Sahib of Al-Bukhari and Muslim…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 96–99

68. It is worthwhile to take notice of the total number of Prophet Jacob’s family members that migrated to Egypt with him, for it is closely connected with the problem that is raised concerning the total number of the Israelites who emigrated from there some five hundred years after this. According to the Bible, the total number of the family members was 70, including Prophet Joseph and his two sons, and excluding those daughters-in-law who did not belong to the family of Prophet Jacob. But according to the census figures given in Numbers, their number was about two million when they were…

Read the full tafseer →