Yusuf 12:97

Yusuf · from ayah 97

12:97

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِـِٕیْنَ ۟قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا اسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰـطِـئِيۡنَ

بیٹوں نے کہا کہ ابا ہمارے لیے ہمارے گناہ کی مغفرت مانگیئے۔ بےشک ہم خطاکار تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "O our father, ask for us forgiveness of our sins; indeed, we have been sinners."

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 11 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:97

سب بول اٹھے "ابا جان، آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے دعا کریں، واقعی ہم خطا کار تھے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بیٹوں نے کہا کہ ابا ہمارے لیے ہمارے گناہ کی مغفرت مانگیئے۔ بےشک ہم خطاکار تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے کہا ابا جی! آپ ہمارے لئے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے بیشک ہم قصور وار ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ کہنے لگے : ابا جان ! آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کی دعا فرماییے۔ ہم یقینا بڑے خطا کار تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے اے ہمارے باپ! ہمارے گناہوں کی معافی مانگئے بیشک ہم خطاوار ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ بولے: اے ہمارے باپ! ہمارے لئے (اﷲ سے) ہمارے گناہوں کی مغفرت طلب کیجئے، بیشک ہم ہی خطاکار تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا اے ہمارے باپ ! ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی بخشش کی دعا کر، یقینا ہم خطا کار تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : ابا جان ! ہمارے لئے ہمارے گناہوں کی معافی مانگئے واقعی ہم ہی خطاکار تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے درخواست کی کہ ہمارے باپ ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے دعا کیجیے۔ بیشک ہم ہی قصوروار ہوئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اس پر وہ سب کھسیانے ہو کر) کہنے لگے اے ہمارے ابا جان ہمارے گناہوں کی بخشش کے لئے دعا فرمائیے، واقعی ہم بڑے ہی خطاکار تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

(بیٹے) بولے اے ہمارے باپ ہمارے گناہوں کی مغفرت کی دعا کیجئے بیشک ہم ہی خطا وار رہے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا : ابا جان ! ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی مغفرت طلب کیجئے یقیناً ہم ہی خطاکار تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(بیٹوں نے) کہا ابا ہمارے لیے گناہ کی مغفرت مانگیے بیشک ہم خطاکار تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They said: "Father! Pray for the forgiveness of our sins; we were truly guilty."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :Our father, pray to Allah to forgive us our sins. Surely, we have been guilty.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :Our father, pray to Allah to forgive us our sins. Surely, we have been guilty.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "O our father! Ask forgiveness (from Allah) for our sins, indeed we have been sinners."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: O our father! Ask forgiveness of our sins for us, for lo! we were sinful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "O our father, ask for us forgiveness of our sins; indeed, we have been sinners."

— Saheeh International

They said, "Father, ask God to forgive our sins; we have certainly sinned".

— Muhammad Sarwar

They said: O our father! ask forgiveness of our faults for us, surely we were sinners.

— Muhammad Habib Shakir

They said: our father! pray for forgiveness of our sins for us; verily we have been sinners.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "O our father! ask for us forgiveness for our sins, for we were truly at fault."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:97

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 96–98

کہتے ہیں کہ پیراہن یوسف ؑ حضرت یعقوب ؑ کے بڑے صاحبزادے یہودا لائے تھے۔ اس لئے کہ انہوں نے ہی پہلے جھوٹ موٹ وہ کرتا پیش کیا تھا۔ جسے خون آلود کر کے لائے تھے اور باپ کو یہ سمجھایا تھا کہ یوسف کا خون ہے، اب بدلے کے لئے یہ کرتہ بھی یہی لائے کہ برائی کے بدلے بھلائی ہوجائے بری خبر کے بدلے خوشخبری ہوجائے۔ آتے ہی باپ کے منہ پر ڈالا۔ اسی وقت حضرت یعقوب ؑ کی آنکھیں کھل گئیں اور بچوں سے کہنے لگے دیکھو میں تو ہمیشہ تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ کی بعض وہ باتیں میں جانتا ہوں جن سے تم محض بیخبر ہو۔ میں تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے یوسف کو ضرور مجھ سے ملائے گا، ابھی تھوڑے دنوں کا ذکر ہے کہ میں نے تم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 96–99

68۔ بائیبل کا بیان ہے کہ سب افراد خانہ جو اس موقع پر مصر گئے 67 تھے۔ اس تعداد میں دوسرے گھرانوں کی ان لڑکیوں کو شمار نہیں کیا گیا ہے جو حضرت یعقوب کے ہاں بیاہی ہوئی آئی تھیں، اس وقت حضرت یعقوب کی عمر 130 سال تھی اور اس کے بعد وہ مصر میں 17 سال زندہ رہے۔ اس موقع پر ایک طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر میں داخل ہوئے تو حضرت یوسف سمیت ان کی تعداد 68 تھے، اور جب تقریبا 5 سو سال کے بعد وہ مصر سے نکلے تو وہ لاکھوں کی تعداد میں تھے، بائیبل کی روایت ہے کہ خروج کے بعد دوسرے سال بیابان سینا میں حضرت موسیٰ نے ان کی جو مردم شماری کرائی تھی اس میں صرف قابل جنگ مردوں کی تعداد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) قَالُوْا يٰٓاَبَانَا اسْـتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَآ اِنَّا كُنَّا خٰطِـــِٕـيْنَ اب جبکہ حقیقت حال واضح ہو کر سامنے آگئی تو برادران یوسف نے والد سے اپنی خطاؤں کی معافی اس شان سے مانگی کہ والد سے درخواست کی کہ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعاء کریں اور یہ ظاہر ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ان کی خطا معاف کرنے کی دعا کرے گا وہ خود بھی انکی خطا معاف کر دے گا

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالُوْا يٰٓاَبَانَا اسْـتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَآ اِنَّا كُنَّا خٰطِـــِٕـيْنَ۔ باپ سے استغفار کی درخواست : یہ سب کچھ دیکھ لینے کے بعد بیٹوں کو اپنی نادانیوں کا احساس ہوا اور انہوں نے جس طرح حضرت یوسف کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کیا، جس کا ذکر آیت 91 میں گزر چکا ہے، اسی طرح باپ کے سامنے بھی غلطی کا اعتراف کیا اور ان سے درخواست کی کہ آپ ہمارے گناہوں کی معافی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 97–98

98۔ 1 فی الفور مغفرت کی دعا کرنے کی بجائے دعا کرنے کا وعدہ فرمایا، مقصد یہ تھا کہ رات کے پچھلے پہر میں، جو اللہ کے خاص بندوں کا اللہ کی عبادت کرنے کا خاص وقت ہوتا ہے، اللہ سے ان کی مغفرت کی دعا کروں گا، دوسری بات یہ کہ بھائیوں کی زیادتی یوسف ؑ پر تھی، ان سے مشورہ لینا ضروری تھا اس لئے انہوں نے تاخیر کی اور فوراً مغفرت کی دعا نہیں کی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 97–99

61: حضرت یوسف ؑ اپنے والدین، بھائیوں اور دوسرے گھر والوں کے استقبال کے لئے شہر سے باہر تشریف لائے تھے، اور جب والدین سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے انکا خاص اکرام کرکے انہیں اپنے پاس بٹھایا اور ابتدائی باتوں کے بعد سارے آنے والوں سے کہا کہ اب سب لوگ شہر میں اطمینان کے ساتھ چل کر رہیں، اس معاملے میں روایات مختلف ہیں کہ حضرت یوسف ؑ کی حقیقی والدہ اس وقت زندہ تھیں یا نہیں اگر زندہ تھیں تب تو والدین سے مراد حقیقی والدین ہیں اور اگر وفات پاچکی تھیں تو سوتیلی والدہ کو بھی چونکہ ماں ہی کی طرح سمجھا جاتا ہے اس لئے ان کو بھی والدین میں شامل کرلیا گیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 96–97

اچانک ان کے چہرے پر قمیض ڈال دی جاتی ہے ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ ملاقات اب بہت ہی قریب ہے ۔ اچانک معجزانہ طور پر بینائی لوٹ آتی ہے۔ یہاں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے حاشیہ نشینوں کو بتاتے ہیں کہ یہ ہے وہ چیز جس کا علم ان کو تھا ۔ اور رب کی طرف سے تھا اور اسی علم کا میں نے تم نے تذکرہ کیا تھا۔ آیت نمبر 96 تا 97 یہاں یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹوں سے ناراض تھے لیکن انہوں نے اس کا تذکرہ نہیں کیا۔ بلکہ وہ ان کے ساتھ یہ وعدہ فرماتے ہیں کہ میں تمہارے لیے اللہ سے عفو و درگزر کی درخواست کروں گا۔ ذرا سستا لینے دو ، ذرا دل کی کدورتوں کو صاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی توجہ اور دعا کر کے خدا سے ہمارے گناہ معاف کرائیے ہم سے بڑی بھاری خطائیں ہوئی ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ پہلے آپ معاف کردیں۔ پھر صاف دل ہو کر بارگاہ رب العزت سے معافی دلوائیں کیونکہ جو خود نہ بخشے وہ خدا سے کہاں بخشوائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 96–97

آیت 96 فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰي وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِيْرًا یوسف کی قمیص چہرے پر ڈالتے ہی حضرت یعقوب کی بصارت لوٹ آئی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت یعقوب کے سامنے زندگی کا سب سے اندوہناک غم بھی حضرت یوسف کے کرتے ہی کی صورت میں سامنے آیا تھا جب برادران یوسف نے اس پر خون لگا کر ان کے سامنے پیش کردیا تھا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا اور اب زندگی کی سب سے بڑی خوشی بھی یوسف کے کرتے ہی کی صورت میں نمودار ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 97–99

93 خاندان یعقوب کا مصر پہنچنا :۔ جب سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا سارا خاندان کنعان سے روانہ ہو کر مصر پہنچا تو سیدنا یوسف بڑے بڑے اعیان سلطنت اور فوجی افسران کو ساتھ لے کر اپنے باپ اور اہل خانہ کے استقبال کے لیے نکلے اور پورے تزک و احتشام کے ساتھ انھیں دارالسلطنت میں لائے اور یہ دن جشن کا دن تھا، عورتیں، مرد، بچے سب اس جلوس کو دیکھنے کے لیے اکٹھے ہوگئے تھے اور سارے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس وقت سیدنا یوسف نے اپنے والدین سے کہا کہ یہاں مصر میں اقامت فرمایئے اور پوری دلجمعی سے رہئے، انشاء اللہ قحط وغیرہ کا بھی کوئی خطرہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

175۔ (کہ اپنی نالائقی سے آپ کو کیسی کیسی تکلیفیں پہنچائیں، اب آپ خود بھی معاف فرمادیں اور حق تعالیٰ سے بھی ہمارے حق میں دعا فرمادیں) برادران یوسف (علیہ السلام) آخر نبی زادے تھے اور اسحاق (علیہ السلام) نبی کے پوتے اور ابراہیم (علیہ السلام) خلیل کے پر پوتے اتنی اعلی خاندانی شرافت اور پھر صالح ترین ماحول اپنا اثر آخر کب تک نہ دکھاتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 94–104

آیت نمبر 94 تا 104 ترجمہ : اور جب یہ قافلہ مصر کی آبادی سے باہر نکلا تو ان کے والد نے حاضرین میں سے ان سے جو ان کے بیٹے اور پوتوں میں سے موجود تھے کہا میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں اگر تم مجھے سٹھیایا ہوا قرار نہ دو تو تم میری تصدیق کروگے بادصبا نے باذن خداوندی یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو کو یعقوب تک تین دن کی یا آٹھ دن کی یا اس سے زیادہ کی مسافت سے پہنچا دیا تھا، تو حاضرین نے ان سے کہا واللہ تم تو اپنے پرانے خبط میں مبتلا ہو اس سے بیحد محبت کرنے اور اس سے ملاقات کی (شدید) خواہش کی وجہ سے باوجود عرصہ دراز گذر جانے کے، چناچہ جب خوشخبری دینے والا یہودا کرتہ لے کر آیا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا یابانا استغفر لنا ذنوبنا انا کنا خطئین بیٹوں نے کہا : ابا ! ہمارے گناہوں کو معاف کردینے کی اللہ سے دعا کر دیجئے ‘ کوئی شک نہیں کہ ہم خطاوار تھے۔ یعنی ہم اپنی خطا کا اقرار کرتے ہیں۔ آپ کے اور حضرت یوسف کے حق میں ہم نے جو قصور کیا ‘ اس کی معافی کی دعا اللہ سے کر دیجئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 96–97

(96۔ 97) چناچہ جب یہودا حضرت یوسف ؑ کی قمیص لے کر انکی سلامتی کی خوشخبری لے کر آیا آپہنچا تو اس نے وہ کرتہ ان کے پر پر لا کر ڈال دیا، فورا ہی ان کی آنکھیں کھل گئیں تو آپ نے اپنے بیٹوں اور پوتوں سے فرمایا کیوں میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے وہ یہ کہ حضرت یوسف ؑ زندہ ہیں۔ مرے نہیں تو ان کے بیٹوں اور پوتوں نے کہا کہ اے ہمارے باپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے دعا کیجیے ہم بیشک گناہ گار اور اللہ تعالیٰ کے نافرمان تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْا يٰٓاَبَانَا اسْـتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَآ۔۔ : یہ کہنے والے بیٹے بھی تھے اور پوتے بھی، انھوں نے صاف لفظوں میں اپنے دانستہ اور عمداً خطا وار ہونے کا اقرار کرکے درخواست کی کہ آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کریں، کیونکہ آپ معاف کر بھی دیں اگر اس نے نہ بخشا تو ہمارا کہاں ٹھکانا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 94–99

آیت نمبر 94 تا 99 قولہ تعالیٰ : ولما فصلت العیر یعنی جب قافلہ مصر سے شام کی طرف نکلا، کہا جاتا ہے : فصل فصولا، وفصلا، یہ لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ قال ابوھم یعنی آپ نے فریبیوں میں سے جو آپ کے پاس تھا اور مصر نہیں گیا تھا اسے کہا اور وہ آپ کے پوتے تھے انی لاجدریح یوسف یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کے کچھ بیٹے گئے ہوں اور باقیوں کو آپ نے فرمایا ہو : انی لاجد ریح یوسف لولآ ان یفندون حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ہوا چلی اور وہ حضرت یوسف کے پیراہن کی خوشبو آپ تک اٹھالائی حالانکہ دونوں کے درمیان آٹھ راتوں کی مسافت تھی۔ حضرت حسن نے کہا : دس راتوں کی مسافت تھی۔ انہیں سے ایک ماہ کی مسافت بھی مروی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 97–98

اپنی اولاد کے حق میں استغفار : 1:۔ ابوعبید و سعید بن منصور وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والطبرانی رحمہم اللہ نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” سوف استغفرلکم ربی “ کے بارے میں فرمایا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کے لئے دعا کو موخر فرمایا سحری کے وقت تک۔ 2:۔ ابن منذر وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سوف استغفرلکم ربی “ کے بارے میں فرمایا کہ آپ نے اپنے بیٹوں کو سحری کے وقت تک اور آپ صبح کی نماز سحری کے وقت میں پڑھتے تھے۔ 3:۔ ابوالشیخ وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ یعقوب (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ يٰٓاَبَانا : اے ہمارے والد ] [ اسْـتَغْفِرْ : آپ (علیہ السلام) مغفرت مانگیں ] [ لَنَا : ہمارے لئے ] [ ذُنُوْبَنَآ : ہمارے گناہوں کی ] [ انا كُنَا : بیشک ہم تھے ] [ خٰطِـــِٕـيْنَ : غلطی کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 94–99

پورے خاندان کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس مصر پہنچنا ‘ ان کے والدین اور بھائیوں کا ان کو سجدہ کرنا ‘ اور خواب کی تعبیر پوری ہونا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے تیسری بار جب اپنے بھائیوں کو مصر سے رخصت کیا تھا اور اپنا کرتہ دیا تھا کہ اسے میرے والدین کے چہرہ پر ڈال دینا اس وقت یہ بھی فرماتا تھا کہ تم اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آنا ‘ جب یہ لوگ واپس کنعان پہنچے اور اپنے والد ماجد کے چہرہ انور پر پیراہن یوسف کو ڈال دیا جس سے ان کی بینائی واپس آگئی اور پھر اپنے والد سے دعائے مغفرت کی درخواست کی اور انہوں نے دعا کردی تو اب مصر کی روانگی کا ارادہ کیا حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اہلیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 94–98

باز گشتن برادران یوسف (علیہ السلام) از سفر سوم و بشارت بردن قال اللہ تعالیٰ علما فصلت العیر قال ابوہم .... الیٰ .... انہ ھو الغفور الرحیم (ربط) جب یوسف (علیہ السلام) نے باپ کی بینائی کے لیے قمیص عطا کی اور کہا کہ سب اہل و عیال کو لے کر آؤ تو سب بھائی پیراہن یوسفی لے کر شاداں وفرحاں مصر سے کنعان کی طرف روانہ ہوئے اور جب قافلہ مصر سے کنعان روانہ ہوا یعنی مصر کی آبادی سے باہر نکل گیا تو یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا جو اس وقت ان کے پاس تھے تحقیق میں یوسف (علیہ السلام) کی بو محسوس کرتا ہوں اگر تم مجھ کو مخبوط الحواس نہ کہو کہ بڑھاپے کی وجہ سے بہک گیا اور بہکی ہوئی باتیں کر رہا ہے۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 97–98

81:۔ اب بیٹوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ سے معافی مانگیں کیونکہ ہم سے بہت بڑا گناہ سر زد ہوا ہوم نے بلا وجہ آپ کو گم و الم میں اتنا طویل عرصہ مبتلا رکھا۔ ” قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ “۔ فرمایا عنقریب تمہارے لیے استغفار کروں گا۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس سے وقت سحر تک تاخیر مراد ہے کیونکہ وہو قت قبولیت دعاء کے لیے خاص اثر رکھتا ہے۔ (قرطبی وغیرہ) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 94–98

ربط آیات گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ مصر کے تیسرے چکر میں برادران یوسف نے (علیہ السلام) کے روبرو نہایت عز و انکساری کا اظہار کیا اور اس بات کا اقرار کیا کہ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو ان پر فضیلت بخشی ہے اور غلطی پر وہی تھے ۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے کریمانہ اخلقا کی بنا پر اعلان کیا کہ آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری غلطیوں کو معاف فرمائے۔ نیز فرمایا کہ میں تو بوجوہ فوری طور پو الد کے پاس نہیں جاسکتا تم میری یہ قمیص لے جائو اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دینا۔ وہ بینا ہو کر میرے پسا چلے آئیں گے اور تم باقی خاندان کو بھی لے کر مصر میں آ جائو۔ ان حالات میں برادران…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا يٰٓاَبَانَا اسْـتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَآ اِنَّا كُنَّا خٰطِـــِٕـيْنَ 97؀ استغفار الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، والاسْتِغْفَارُ : طلب ذلک بالمقال والفعال، وقوله : اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] ( غر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اور استغفار کے معنی قول اور عمل سے مغفرت طلب کرنے کے ہیں لہذا آیت کریمہ : ۔ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ بڑا معاف کر نیوالا ہے ۔ ذنب والذَّنْبُ في الأصل : الأخذ بذنب الشیء، يقال : ذَنَبْتُهُ : أصبت ذنبه،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 97–98

قَالُوْا یٰٓاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَآ اِنَّا کُنَّا خٰطِئِیْنَ ۔ قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّیْ ط اِنَّہٗ ھُوَالْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ ۔ (سورۃ یوسف : 97، 98) (انھوں نے کہا کہ اے ہمارے والد گرامی ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے دعا فرمایئے، بیشک ہم ہی خطاکار تھے۔ والد نے کہا کہ میں عنقریب تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت کی دعا کروں گا۔ بیشک وہی بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ) باپ سے استغفار کی درخواست برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) نے جب اپنی آنکھوں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا مقام و مرتبہ دیکھا تو انھیں اپنے غلطیوں کا احساس ہوا۔ وہ یہ سمجھ گئے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 97–98

فہم القرآن ربط کلام : برادران یوسف کا گھر واپس جانا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے معافی کا خواستگار ہونا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے واپس آئے تو کیا دیکھتے ہیں باپ انتہائی خوش وخرم ‘ ہشاش بشاش ہے اور ان کی بینائی بھی صحیح ہوچکی ہے۔ والد گرامی کو سلام عرض کرنے کے بعد سب مل کر اپنے گناہ کا اعتراف کرکے درخواست کرتے ہیں کہ اباجان ! ہم نے یوسف (علیہ السلام) پر بہت زیادتی کی جس سے آپ کو طویل عرصہ تک دکھ اٹھانا پڑا۔ ہم اس پر سچے دل کے ساتھ آپ سے معافی مانگتے ہیں۔ آپ ہمارے عظیم باپ ہیں اور ہم اپنے کیے پر انتہائی شرمندہ ہیں۔ ہماری عاجزانہ درخواست ہے کہ آپ ہمیں معاف کردیں۔ حضرت یعقوب (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بیٹوں کا معافی طلب کرنا : 97: قَالُوْا یٰٓاَ بَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَآ اِنَّا کُنَّا خٰطِئِیْنَ (انہوں نے کہا اے ابا جی ! آپ ہمارے گناہوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے استغفار فرما دیں۔ بیشک ہم خطا کار ہیں) یعنی ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں ان غلطیوں سے جو ہم نے تمہارے حق میں کی ہیں اور آپ کے بیٹے کے متعلق ہم توبہ کرتے ہیں ہمیں اپنی غلطیوں کا اعتراف ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 96–98

96۔ 98۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ بشیر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائی تھے جن کا نام یہودا تھا پہلے بھی یہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خون کا بھرا ہوا کرتہ لائے تھے اور اب بھی یہی کرتہ لے کر آئے تاکہ پہلی بدنامی کا دھبہ جاتا رہے الغرض جس وقت یہ بشیر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ لایا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چہرہ مبارک پر ڈالا آپ کی آنکھوں میں روشنی آگئی اور صحیح و تندرست ہوگئے اور بشیر سے پوچھا تو نے یوسف (علیہ السلام) کو کس دین پر چھوڑا ہے کہا اسلام پر آپ نے بہت خوشی ظاہر کی اور خدا کی نعمت کا شکر ادا کیا اور فرمایا الان تمت النعمتہ اور پاس والوں اور بیٹیوں سے فرمایا کہ کہو میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 97–98

97-98: جب یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہوئے کہا : (آیت) ” ابا جان ! ہمارے لئے ہمارے گناہوں کی بخشش طلب کریں بیشک ہم گناہ گار تھے “ کیونکہ ہم نے آپ کے ساتھ جو سلوک کیا اس کی بنا پر ہم خطا کار ہیں۔ (آیت) یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے جواب دیا : (آیت) ” میں ضرور تمہارے لئے اپنے رب سے بخشش مانگوں گا، بلا شبہ وہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ “ اور مجھے امید ہے کہ وہ تمہیں بخش دے گا، تم پر رحم کرے گا اور تمہیں اپنی رحمت سے ڈھانپ دے گا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت یعقوب نے ان کے لئے استغفار کو فضیلت والے وقت سحر تک موخر کردیا تاکہ استغفار کامل ترین اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری (یا ابانا استغفر لنا ذنوبنا) میں انہوں نے اپنے والد سے ان کے لئے بخشش کی دعا مانگنے کی درخواست کی ہے حالانکہ ان کی توبہ قبول ہوچکی تھی۔ اس درخواست کا جواز اس بنا پر ہے کہ مظلوم پر ڈھائے گئے ظلم کی معافی اس کی طرف سے ظالم کو معاف کردینے کے ساتھ معلق ہوتی ہے۔ نیز یہ کہ رب سے یہ درخواست کی جائے کہ وہ اس ظلم پر اس کا مواخذہ نہ کرے۔ یہاں اس بات کی بھی گنجائش ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے یہ درخواست کی ہو کہ وہ اپنی دعا کے ذریعے انہیں ان لوگوں کے درجے پر پہنچا دیں جنہوں نے کبھی کسی قسم کا جرم نہ کیا ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 96–97

155۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بینائی کے لوٹ آنے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب پہنچ گیا وہ خوشخبری لانے والا اور اس نے ڈال دیا وہ کرتا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چہرے پر تو فورا لوٹ آئی آنجناب کی کھوئی ہوئی بصارت اور آپ نے فرمایا کہ کیا میں نے تم لوگوں سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور روایات کے مطابق یہ یہودا تھا جس نے کہا کہ چونکہ میں ہی باپ کے سامنے یوسف کا وہ کرتاجھوٹ موٹ کا خون لگا کرلے گیا تھا۔ اب میں ہی خوشخبری والے اس کرتے کو لیکر جاؤں گا تاکہ اس قصوروغلطی کا ازالہ وتدارک ہوسکے۔ (روح، ابن جریر، قرطبی وغیرہ) کہتے ہیں خوشی کے اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–101

یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔ 1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 94–104

آیات 94 تا 104 اسرار و معارف ادھریعقوب (علیہ السلام) بےقراری سے منتظر تھے کہ واپس آنے والے کیا خبر لاتے ہیں لیکن اللہ کی شان کا ظہور عجیب طریقے سے ہوا۔ کشف اور مشاہدہ کہ جب وہ قافلہ جس میں وہ آدمی بھی شامل تھا جس کے پاس یوسف (علیہ السلام) کی قمیض تھی کنعان پہنچا تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم اسے میری دیوانگی نہ کہو تو آج مجھے یوسف کی خوشبوآرہی ہے تو سننے والوں نے بڑے آرام سے کہہ دیا کہ وہم اب آپ کا مرض بن چکا ہے اور آپ ہمیشہ ہی امید رکھین گے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ایک روز مجھ سے آملیں گے لیکن عجیب بات یہ جو پہلے بھی لکھی جاچکی کہ مصر جو کم وبیش آٹھ دن کی مسافت پر تھا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 97–98

ف 12 ۔ یعنی دعا قبول ہونے کی گھڑی آنے دو ، میں تمہارے لئے استغفار کروں گا۔ بعض صحابہ ؓ کہتے ہیں کہ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کو تہجد کے وقت کا انتظار تھا اور بعض کہتے ہیں کہ جمع کی شب کا۔ (ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 97–98

(12:97) استغفرلنا۔ استغفر۔ امرواحد مذکر حاضر۔ تو بخشش مانگ۔ تو مغفرت مانگ۔ تو معافی مانگ۔ لنا ہمارے لئے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 94–98

لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 98 فصلت جدائی ہوئی، جدا ہوا العیر قافلہ اجد میں پاتا ہوں تفندون تم مجھے بہکا ہوا نہ سمجھو ضلل بہکنا القدیم پرانا البشیر خوش خبری دینے والا القہ اس نے ڈالا وجھ چہرہ ارتد لوٹ آیا بصیر دیکھنا، بینائی لم اقل میں نے نہیں کہا استغفر بخشش مانگ لے ذنوب گناہ خطیئین خطا کرنے والے، گناہ کرنے والے سوف بہت جلد، عنقریب تشریح آیت نمبر 94 تا 98 گزشتہ آیات میں حضرت یوسف کا یہ جملہ نقل کیا گیا ہے کہ تم میری قمیص لے کر جاؤ اور ان کے (حضرت یعقوب کے) چہرے پر ڈالو تو ان کی بصارتو اپس آجائے گی اور اس کے بعد تم سب یہیں مصر میں آجانا، چناچہ یہ قمیص مصر سے روانہ ہوئی ادھر حضرت یعقوب کو حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 96–98

ارشاد ہوتا ہے کہ جب خوشخبری دینے والا یعنی یہودا اپنے باپ کے پاس پہنچا تو اس نے یوسف (علیہ السلام) کے کرتے کو اپنے باپ کے منہ پر ڈال دیا پس وہ بینا ہوگئے۔ لکھا ہے کہ یہودا بھائیوں کے ساتھ راہ میں نہیں ٹھرے اور ننگے پاؤں برہنہ سر دوڑتے ہوئے کنعان میں پہنچے۔ تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کیوں جی میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ مجھے اللہ کی وحی کے ذریعہ سے وہ بات معلوم جو تم کو نہیں معلوم، یعنی یوسف (علیہ السلام) کے خواب کا ظہور ضرور ہوگا، پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادوں نے باپ سے معذرت کی اور اپنی خطا کا اقرار کیا :'' بیشک ہم قصور وار ہیں۔ آپ ہمیں معاف فرمائیں اور درگاہ الہی میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 93–100

[33] یہ سجدہ تعظیمیہ تھا جو سابقہ شریعتوں میں جائز تھا لیکن شریعت محمدی ﷺ میں ہر قسم کا سجدہ غیر اللہ کے لئے حرام کردیا گیا بلکہ یہ بھی جائز نہیں کہ کوئی انسان کسی دوسری ہستی کے آگے اپنا جسم دوہرا کرے۔ [43] یوسف (علیہ السلام) کی کریم النفسی ملاحظہ ہو کہ ایسے شدید دشمن بھائیوں پر ذرا الزام نہ آنے دیا بلکہ ذمہ داری شیطان کی قرار دے کر اپنی اور اپنے بھائیوں کی حیثیت ایک ہی رکھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 96–99

والدین کی عزت افزائی : (ف 1) حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ نے اقتدار بخشا ہے ، اور وہ اس وقت عرش عزت پر متمکن ہیں ، بھائیوں کو معلوم ہوگیا ہے کہ ہمارا بھائی مسند حکومت پر فائز ہے ، باپ تک اطلاع پہنچ چکی ہے کہ تیرا بیٹا مصر میں برسراقتدار ہے ۔ سب یوسف (علیہ السلام) کی ملاقات کے لئے جمع ہیں ، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے سب کو شرف باریابی بخشا ، والدین کی انتہائی عزت کی ، اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا ، اور وہ خواب پورا ہوا ، بھائی اس وقت اعتراف فضیلت کے طور پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے جھک گئے اور کنعانی آداب وتعظیم کو ملحوظ رکھتے ہوئے اظہار فضیلت کیا ۔ ممکن ہے اس وقت تعظیم کے لئے سجدہ روا ہو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

97 ۔ بیٹوں نے کہا اے ہمارے باپ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے ہمارے گناہوں کی بخشش کے لئے دعا کر دیجئے بیشک ہم ہی قصوروار تھے ۔ یعنی آپ کو جو تکلیف ہم نے پہنچائی ہے۔ اس کو آپ معاف کر دیجئے اور حقوق اللہ کی معافی کے لئے دعا کردیجئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ مطلب یہ کہ آپ بھی معاف کردیجیے کیونکہ عادتا کسی کے لیے استغفار وہی کرتا ہے جو خود بھی مواخذہ کرنا نہیں چاہتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے کہا اے ابو جان ! ہمارے گناہوں کی بخشش اللہ سے طلب کریں ۔ 113 بیٹوں نے یعقوب (علیہ السلام) سے عرض کی کہ اے ابو جان ! ہم نے اپنی نالائقی سے آپ کو کیا کیا تکلیفیں پہنچائیں اور اس طرح ہم نے اللہ کی بھی نافرمانی کی۔ آپ ہمارے گناہوں کے لئے اللہ سے بخشش طلب کریں اور آپ خود بھی معاف فرما دیں۔ برادران یوسف آخر نبی زادے تھے اور اب راز بھی پوری طرح کھل گیا تھا اس لئے انہوں نے وہی راستہ اختیار کیا جو ایسے حالات میں عقل و فکر رکھنے والوں کو اختیار کرنا چاہئے اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے خود گناہوں کی مغفرت طلب نہیں بلکہ باپ سے کہا ، تو مطلب یہ ہوا کہ باپ کی طلب شدہ مغفرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Now, when the truth of the matter became clear, the brothers of Yusuf asked for the forgiveness of their father in a spiritually endearing style by saying: قَالُوا يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ‌ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ : 'Our father, pray to Allah to forgive us our sins. Surely, we have been wrong - 97.' Thus, it is obvious that a person who prays to Allah Ta` ala for the forgiveness of their sins would do that himself too.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 96–99

68. It is worthwhile to take notice of the total number of Prophet Jacob’s family members that migrated to Egypt with him, for it is closely connected with the problem that is raised concerning the total number of the Israelites who emigrated from there some five hundred years after this. According to the Bible, the total number of the family members was 70, including Prophet Joseph and his two sons, and excluding those daughters-in-law who did not belong to the family of Prophet Jacob. But according to the census figures given in Numbers, their number was about two million when they were…

Read the full tafseer →