Explained with ayahs 96–98
کہتے ہیں کہ پیراہن یوسف ؑ حضرت یعقوب ؑ کے بڑے صاحبزادے یہودا لائے تھے۔ اس لئے کہ انہوں نے ہی پہلے جھوٹ موٹ وہ کرتا پیش کیا تھا۔ جسے خون آلود کر کے لائے تھے اور باپ کو یہ سمجھایا تھا کہ یوسف کا خون ہے، اب بدلے کے لئے یہ کرتہ بھی یہی لائے کہ برائی کے بدلے بھلائی ہوجائے بری خبر کے بدلے خوشخبری ہوجائے۔ آتے ہی باپ کے منہ پر ڈالا۔ اسی وقت حضرت یعقوب ؑ کی آنکھیں کھل گئیں اور بچوں سے کہنے لگے دیکھو میں تو ہمیشہ تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ کی بعض وہ باتیں میں جانتا ہوں جن سے تم محض بیخبر ہو۔ میں تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے یوسف کو ضرور مجھ سے ملائے گا، ابھی تھوڑے دنوں کا ذکر ہے کہ میں نے تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
68۔ بائیبل کا بیان ہے کہ سب افراد خانہ جو اس موقع پر مصر گئے 67 تھے۔ اس تعداد میں دوسرے گھرانوں کی ان لڑکیوں کو شمار نہیں کیا گیا ہے جو حضرت یعقوب کے ہاں بیاہی ہوئی آئی تھیں، اس وقت حضرت یعقوب کی عمر 130 سال تھی اور اس کے بعد وہ مصر میں 17 سال زندہ رہے۔
اس موقع پر ایک طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر میں داخل ہوئے تو حضرت یوسف سمیت ان کی تعداد 68 تھے، اور جب تقریبا 5 سو سال کے بعد وہ مصر سے نکلے تو وہ لاکھوں کی تعداد میں تھے، بائیبل کی روایت ہے کہ خروج کے بعد دوسرے سال بیابان سینا میں حضرت موسیٰ نے ان کی جو مردم شماری کرائی تھی اس میں صرف قابل جنگ مردوں کی تعداد…
Read the full tafseer →(آیت) فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ یعنی جب یہ بشارت دینے والا کنعان پہنچا اور قمیص یوسف ؑ کو یعقوب ؑ کے چہرے پر ڈال دیا تو فورا ان کی بنیائی عود کر آئی بشارت دینے والا وہی حضرت یوسف ؑ کا بھائی یہودا تھا جو ان کا کرتہ مصر سے لایا تھا،
قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ ڌ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ یعنی کیا میں نہ کہہ رہا تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ علم حاصل ہے جس کی آپ لوگوں کو خبر نہیں کہ یوسف ؑ زندہ ہیں اور وہ پھر ملیں گے
Read the full tafseer →فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰي وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِيْرًا ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ ڌ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔
فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ میں " اَنْ " سے پہلے ایک فعل محذوف ہے۔ یعنی یہ بات واقع ہوئی کہ خوشخبری دینے والا پہنچا تو یوسف کا کرتا اس نے حضرت یعقوب کے چہرے پر ڈال دیا اور ان کی آنکھیں روشن ہوگئیں۔ انہوں نے فرمایا " کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جن کو تم نہیں جانتے۔ یہ اس بات کا حوالہ ہے جو پیچھے آیت 86 میں گزرچکی ہے۔ جو بات انہوں نے فرمائی تھی جب وہ واقعہ کی شکل میں ظہور میں آگئی تو…
Read the full tafseer →96۔ 1 یعنی جب وہ خوشخبری دینے والا آگیا اور آکر وہ قمیص حضرت یعقوب ؑ کے چہرے پر ڈال دی تو اس سے معجزانہ طور پر ان کی بینائی بحال ہوگئی۔
96۔ 2 کیونکہ میرے پاس ایک ذریعہ علم وحی بھی ہے، جو تم میں سے کسی کے پاس نہیں ہے۔ اس وحی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو حالات سے مشیت و مصلحت آگاہ کرتا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →60: خوشخبری دینے والے حضرت یوسف ؑ کے سب سے بڑے بھائی تھے جن کا نام بعض روایات میں یہوداہ اور بعض میں روبن آیا ہے، اور خوشخبری دینے سے مراد یہ خوشخبری ہے کہ حضرت یوسف ؑ ابھی زندہ ہیں اور انہوں نے سب گھر والوں کو اپنے پاس بلایا ہے، یہ بھی ایک معجزہ تھا کہ حضرت یوسف ؑ کی قمیص چہرے پر ڈالنے سے حضرت یعقوب ؑ کی بینائی واپس آگئی، مفسرین نے فرمایا ہے کہ حضرت یوسف ؑ کے قمیص سے کئی اہم واقعات ظاہر ہوئے انہی کے قمیص کو ان کے بھائی خون لگا کر لائے تھے، اور اس کو صحیح سالم دیکھ کر حضرت یعقوب ؑ یہ سمجھ گئے تھے کہ حضرت یوسف ؑ کو بھیڑئے نے نہیں کھایا اور انہی کا قمیص تھا جو زلیخا نے پیچھے سے پھاڑا اور اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
اچانک ان کے چہرے پر قمیض ڈال دی جاتی ہے ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ ملاقات اب بہت ہی قریب ہے ۔ اچانک معجزانہ طور پر بینائی لوٹ آتی ہے۔ یہاں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے حاشیہ نشینوں کو بتاتے ہیں کہ یہ ہے وہ چیز جس کا علم ان کو تھا ۔ اور رب کی طرف سے تھا اور اسی علم کا میں نے تم نے تذکرہ کیا تھا۔
آیت نمبر 96 تا 97
یہاں یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹوں سے ناراض تھے لیکن انہوں نے اس کا تذکرہ نہیں کیا۔ بلکہ وہ ان کے ساتھ یہ وعدہ فرماتے ہیں کہ میں تمہارے لیے اللہ سے عفو و درگزر کی درخواست کروں گا۔ ذرا سستا لینے دو ، ذرا دل کی کدورتوں کو صاف…
Read the full tafseer →2 یعنی بینائی واپس آگئی، دوبارہ حسب سابق نظر آنے لگا۔
3 یعنی میں نے کہا تھا یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ آخر سچ ہوا۔ یا بیٹوں کو کہا تھا کہ یوسف کو تلاش کرو۔ اللہ کی رحمت سے کیا بعید ہے کہ ہم سب کو پھر اکٹھا کر دے۔ دیکھ لو وہ ہی صورت ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
آیت 96 فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰي وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِيْرًا
یوسف کی قمیص چہرے پر ڈالتے ہی حضرت یعقوب کی بصارت لوٹ آئی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت یعقوب کے سامنے زندگی کا سب سے اندوہناک غم بھی حضرت یوسف کے کرتے ہی کی صورت میں سامنے آیا تھا جب برادران یوسف نے اس پر خون لگا کر ان کے سامنے پیش کردیا تھا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا اور اب زندگی کی سب سے بڑی خوشی بھی یوسف کے کرتے ہی کی صورت میں نمودار ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
92 یعقوب کی بینائی کی واپسی :۔ یہ خوشخبری دینے والا ان کا بڑا بھائی یہودا تھا۔ یہودا ہی تھا جس نے سیدنا یوسف کو قتل کرنے سے بھائیوں کو روکا تھا اور کہا تھا کہ قتل کے بجائے اسے کسی گمنام کنویں میں ڈال دیا جائے نیز وہ یہودا ہی تھا جس نے کہا تھا کہ میں اب واپس جاکر کیسے اپنا منہ اپنے باپ کو دکھاؤں۔ لہذا میں اب یہاں مصر میں رہوں گا اور یہ یہودا ہی تھا جو قافلہ سے پہلے سیدنا یوسف کی قمیص لے کر اپنے باپ کے پاس پہنچ گیا اور انھیں یوسف اور بن یمین کے مل جانے کی خوشخبری سنائی۔ پھر قمیص آپ کے چہرہ پر ڈالی تو دفعتًا آپ کی بینائی لوٹ آئی، آنکھیں درست ہوگئیں اور سب کچھ نظر آنے لگا۔ پھر اسی نے بتایا کہ…
Read the full tafseer →173۔ خوشبو اور خوشی کے اثر سے ضعف بصر کے دور ہوجانے اور نور نظر کے عود کر آنے میں کوئی بات ” خلاف عقل “ اور ” خلاف فطرت “ نہیں۔ البتہ یہ واقعہ ہی چونکہ معمول عام کے خلاف ہے یہاں اعجازی ہی حیثیت سے بیان ہوا ہے۔ توریت میں اس موقع پر ہے :۔” جب اس نے گاڑیاں جو یوسف نے اس کے لانے کو بھیجی تھیں دیکھیں تو ان کے باپ یعقوب (علیہ السلام) کی زندگی دوبارہ ہوئی اور اسرائیل بولا یہ بس ہے کہ میرا بیٹا یوسف اب تک جیتا ہے میں جاؤں گا اور پیشتر اس سے کہ میں مروں اسے دیکھوں گا۔ (پیدائش 45: 27، 28) (آیت) ” البشیر “۔ بشیر جو خبر دینے کو قافلہ کے آگے آگے چلے، یہاں مراد یہود ابن یعقوب (علیہ السلام) سے لی گئی۔ قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
آیت نمبر 94 تا 104
ترجمہ : اور جب یہ قافلہ مصر کی آبادی سے باہر نکلا تو ان کے والد نے حاضرین میں سے ان سے جو ان کے بیٹے اور پوتوں میں سے موجود تھے کہا میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں اگر تم مجھے سٹھیایا ہوا قرار نہ دو تو تم میری تصدیق کروگے بادصبا نے باذن خداوندی یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو کو یعقوب تک تین دن کی یا آٹھ دن کی یا اس سے زیادہ کی مسافت سے پہنچا دیا تھا، تو حاضرین نے ان سے کہا واللہ تم تو اپنے پرانے خبط میں مبتلا ہو اس سے بیحد محبت کرنے اور اس سے ملاقات کی (شدید) خواہش کی وجہ سے باوجود عرصہ دراز گذر جانے کے، چناچہ جب خوشخبری دینے والا یہودا کرتہ لے کر آیا اور…
Read the full tafseer →فلما ان جآء البشیر القٰہ علی وجھہ فارتد بصیرا پھر جب بشارت دینے والا (حضرت یوسف کے پاس سے) یعقوب کے پاس پہنچا تو کرتہ یعقوب کے چہرے پر ڈال دیا جس سے فوراً یعقوب لوٹ کر بینا ہوگئے۔
حضرت ابن مسعود نے فرمایا : قافلے کے پہنچنے سے پہلے بشارت دہندہ پہنچا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : وہ یہودا تھا۔ سدی کا بیان ہے : یہودا نے کہا : جب میں خون آلودہ کرتہ لے کر باپ کے پاس گیا تھا اور ان کو اطلاع دی تھی کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا تو اب میں ہی یہ کرتہ لے کر جاؤں گا اور اطلاع دوں گا کہ یوسف زندہ ہیں۔ جیسے ان کو غم دیا تھا ‘ ویسے ہی ان کو خوش بھی کروں گا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : کرتہ لے کر یہودا ننگے سر دوڑتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
(96۔ 97) چناچہ جب یہودا حضرت یوسف ؑ کی قمیص لے کر انکی سلامتی کی خوشخبری لے کر آیا آپہنچا تو اس نے وہ کرتہ ان کے پر پر لا کر ڈال دیا، فورا ہی ان کی آنکھیں کھل گئیں تو آپ نے اپنے بیٹوں اور پوتوں سے فرمایا کیوں میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے وہ یہ کہ حضرت یوسف ؑ زندہ ہیں۔ مرے نہیں تو ان کے بیٹوں اور پوتوں نے کہا کہ اے ہمارے باپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے دعا کیجیے ہم بیشک گناہ گار اور اللہ تعالیٰ کے نافرمان تھے۔
Read the full tafseer →”فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ“ اور ”فَلَمَّا جَاءَ الْبَشِیْرُ“ کے ترجمے کے فرق کی تفصیل کے لیے دیکھیے اسی مترجم قرآن کے عرض مترجم میں سے فائدہ (8) خوش خبری لانے والے نے آتے ہی چہرے پر قمیص ڈالی اور یوسف ؑ کے زندہ ہونے کی خوش خبری دی تو اسی وقت آنکھیں دوبارہ روشن ہوگئیں۔
مَا لَا تَعْلَمُوْنَ : یوسف ؑ کی قمیص سے آنکھیں روشن ہونے اور ان کے زندہ ہونے کی خوش خبری آنے پر فرمایا کہ میں نے تمہیں کہا نہ تھا : (اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ) یعنی مجھے وحی الٰہی سے وہ باتیں معلوم ہوتی ہیں جو تم نہیں جانتے۔ مراد اپنے بچوں کو ملامت کرنا نہ تھا بلکہ تربیت کرنا تھا، تاکہ وہ نبوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
آیت نمبر 94 تا 99
قولہ تعالیٰ : ولما فصلت العیر یعنی جب قافلہ مصر سے شام کی طرف نکلا، کہا جاتا ہے : فصل فصولا، وفصلا، یہ لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ قال ابوھم یعنی آپ نے فریبیوں میں سے جو آپ کے پاس تھا اور مصر نہیں گیا تھا اسے کہا اور وہ آپ کے پوتے تھے انی لاجدریح یوسف یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کے کچھ بیٹے گئے ہوں اور باقیوں کو آپ نے فرمایا ہو : انی لاجد ریح یوسف لولآ ان یفندون حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ہوا چلی اور وہ حضرت یوسف کے پیراہن کی خوشبو آپ تک اٹھالائی حالانکہ دونوں کے درمیان آٹھ راتوں کی مسافت تھی۔ حضرت حسن نے کہا : دس راتوں کی مسافت تھی۔ انہیں سے ایک ماہ کی مسافت بھی مروی…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلما ان جآء البشیرالقہ علی وجہہ “ میں بشیر سے مراد ہے قاصد۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن جریر اور ابو الشیخ رحمہما اللہ نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا کہ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلما ان جآء البشیر “ میں بشیر سے مراد ہے یہودا ابن یعقوب علیہ السلام۔
3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ بشیر وہ یہودا تھا اور ابن مسعود ؓ اس کو یوں پڑھا کرتے تھے (آیت) ” ان جآء البشیرمن بین یدی العیر “۔
4:۔ ابوالشیخ (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب خوشخبری…
Read the full tafseer →[فَلَمَآ ان : پھر جیسے ہی ] [ جَاۗءَ : آیا ] [ الْبَشِيْرُ : بشارت دینے ول ] [ اَلْقٰىهُ : تو اس نے ڈالا اس کو ] [عَلٰي وَجْهِهٖ : ان کے چہرے پر ] [ فَارْتَدَّ : تو وہ لوٹے ] [بَصِيْرًا : دیکھنے والے ہوتے ہوئے ] [ قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ اَ : کیا ] [ لَمْ اَقُلْ : میں نے نہیں کہا تھا ] [ لَكُمْ : تم لوگوں سے ] [انىٓ : کہ میں ] [اَعْلَمُ : جانتا ہوں ] [ مِنَ اللّٰهِ : اللہ (کی طرف) سے ] [ مَا : اس کو جو ] [ لَا تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ نہیں جانتے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
پورے خاندان کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس مصر پہنچنا ‘ ان کے والدین اور بھائیوں کا ان کو سجدہ کرنا ‘ اور خواب کی تعبیر پوری ہونا
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے تیسری بار جب اپنے بھائیوں کو مصر سے رخصت کیا تھا اور اپنا کرتہ دیا تھا کہ اسے میرے والدین کے چہرہ پر ڈال دینا اس وقت یہ بھی فرماتا تھا کہ تم اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آنا ‘ جب یہ لوگ واپس کنعان پہنچے اور اپنے والد ماجد کے چہرہ انور پر پیراہن یوسف کو ڈال دیا جس سے ان کی بینائی واپس آگئی اور پھر اپنے والد سے دعائے مغفرت کی درخواست کی اور انہوں نے دعا کردی تو اب مصر کی روانگی کا ارادہ کیا حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اہلیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
باز گشتن برادران یوسف (علیہ السلام) از سفر سوم و بشارت بردن
قال اللہ تعالیٰ علما فصلت العیر قال ابوہم .... الیٰ .... انہ ھو الغفور الرحیم
(ربط) جب یوسف (علیہ السلام) نے باپ کی بینائی کے لیے قمیص عطا کی اور کہا کہ سب اہل و عیال کو لے کر آؤ تو سب بھائی پیراہن یوسفی لے کر شاداں وفرحاں مصر سے کنعان کی طرف روانہ ہوئے اور جب قافلہ مصر سے کنعان روانہ ہوا یعنی مصر کی آبادی سے باہر نکل گیا تو یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا جو اس وقت ان کے پاس تھے تحقیق میں یوسف (علیہ السلام) کی بو محسوس کرتا ہوں اگر تم مجھ کو مخبوط الحواس نہ کہو کہ بڑھاپے کی وجہ سے بہک گیا اور بہکی ہوئی باتیں کر رہا ہے۔…
Read the full tafseer →80:۔ ” اَلْبَشِیْرُ “ خوشخبری دینے والا۔ مراد یہودا ہے کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قمیص انہی کے پاس تھی۔ اس نے کہا تھا یوسف کی خون آلود قمیص بھی میں ہی لے کر والد کے پا گیا تھا لہذا آج بشارت کی قمیص بھی میں ہی لے کر جاؤں گا تاکہ پہلی غلطی کی تلافی ہوجائے۔ قال یہودا انا احمل قمیص الشفاء کما ذھبت بقمیص الجفاء (مدارک ج 2 ص 182) ۔ جب قمیص آپ کے چہرہ مبارک پر ڈالی گئی تو آپ کی بینائی بحال ہوگئی اور آپ نے فرمایا دیکھا تم نے میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ علم رکھتا ہوں جو تمہیں حاصل نہیں۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے خوشخبری لانے سے سب سے پہلے یہ سوال کیا کہ تو نے یوسف کو کس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
ربط آیات
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ مصر کے تیسرے چکر میں برادران یوسف نے (علیہ السلام) کے روبرو نہایت عز و انکساری کا اظہار کیا اور اس بات کا اقرار کیا کہ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو ان پر فضیلت بخشی ہے اور غلطی پر وہی تھے ۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے کریمانہ اخلقا کی بنا پر اعلان کیا کہ آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری غلطیوں کو معاف فرمائے۔ نیز فرمایا کہ میں تو بوجوہ فوری طور پو الد کے پاس نہیں جاسکتا تم میری یہ قمیص لے جائو اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دینا۔ وہ بینا ہو کر میرے پسا چلے آئیں گے اور تم باقی خاندان کو بھی لے کر مصر میں آ جائو۔
ان حالات میں برادران…
Read the full tafseer →فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰي وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِيْرًا ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ ڌ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ
بشیر
ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64]
والبشیر : المُبَشِّر، قال تعالی: فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ أَلْقاهُ عَلى وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيراً [يوسف/ 96]
( ب ش ر ) البشر
اور خوش کن خبر کو بشارۃ اور بشرٰی کہا جاتا چناچہ فرمایا : هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–104
2 ؎ تو اور کوئی سامان بنیامین کے روکنے کا کردیتا 12 منہ
Read the full tafseer →فَلَمَّآ اَنْ جَآئَ الْبَشِیْرُاَلْقٰہُ عَلٰی وَجْھِہٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا ج قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ ج لا اِنِّیٓ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَالاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 96)
(پس جب یوں ہوا کہ خوشخبری دینے والا آیا اور اس نے کرتا آپ ( علیہ السلام) کے چہرے پر ڈال دیا تو آپ ( علیہ السلام) دوبارہ بینا ہوگئے تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ )
حضرت یعقوب (علیہ السلام) بیٹے کی خوشبو پا کر سرتاپا انتظار تھے کہ کب یوسف ( علیہ السلام) کی اطلاع ملتی ہے یا یوسف ( علیہ السلام) خود آتے ہیں اور اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اپنے بھائیوں کو الوداع کہتے ہوئے اپنی قمیص حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی خدمت میں پیش کرنے کا حکم۔
نہ معلوم حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کتنے دنوں تک اپنے بھائیوں کو اپنے ہاں عزت و تکریم کے ساتھ ٹھہرایا۔ برادران جب اپنے وطن واپس جانے لگے تو انہیں الوداع کرتے ہوئے یوسف (علیہ السلام) نے اپنی قمیص دیتے ہوئے فرمایا کہ اسے والد گرامی کے چہرہ اقدس پر رکھنا۔ جس سے ان کی بنائی لوٹ آئے گی۔ کیونکہ بنیامین انہیں گھریلو حالات اور والد محترم کی صحت کے بارے میں بتلا چکا تھا کہ آپ کے غم میں والد گرامی کی بینائی جاتی رہی ہے۔ حضرت یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →بصارتِ یعقوب کی واپسی :
96: فَلَمَّآ اَنْ جَآئَ الْبَشِیْرُ (جب خوشخبری دینے والا آیا) یعنی یہودا اَلْقٰہُ عَلٰی وَجْھِہٖ ( اس کو ان کے چہرہ پر ڈال دیا) خوشخبری والے نے قمیص کو یعقوب کے چہرے پر ڈال دیا نمبر 2۔ یعقوب (علیہ السلام) نے خود ڈال لیا۔ فَارْتَدَّ (پس لوٹ آئے) بَصِیْرًا (بینا ہوکر) جیسا کہا جاتا ہے ردّہ ٗفارتدّ اس کو لوٹایا وہ لوٹ گیا اور ارتدہ اذا ارتجعہ جب لوٹایاجائے۔ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ (کہا کیا میں نے تمہیں کہا نہیں) یہ بات مراد ہے انی لاجد ریح یوسفیا یہ قول ولا تایئسوامن روح اللّٰہ اور یہ قول اِنِّیْ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَالَا تَعْلَمُوْنَ (بیشک میں اللہ تعالیٰ کی طرف…
Read the full tafseer →تفسیر 96۔” فلما ان جاء البشیر ‘ ‘ یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے خوشخبری لانے والا ۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں بشر قالہ کے آگے آیا ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ یہودا تھا۔ اس نے کہا میں خون میں لت پت قمیص یعقوب (علیہ السلام) کے پاس لے گیا تھا اور میں نے ان کو خبر دی تھی کہ یوسف (علیہ السلام) کو بھیڑیا کھا گیا ہے ۔ آج میں یہ قمیص لے کر جائوں گا اور ان کو خبر دوں گا کہ ان کا بیٹا زندہ ہے تو جیسے میں نے ان کو غمگین کیا تھا آج خوش کروں گا ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہودا نے قمیص اٹھائی اور ننگے پائوں سر دوڑتا ہوا چل پڑا اور اس کے پاس سات روٹیاں تھیں ، اپنے والد تک پہنچنے تک ان کو ختم نہیں کرسکا اور مسافت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
96۔ 98۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ بشیر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائی تھے جن کا نام یہودا تھا پہلے بھی یہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خون کا بھرا ہوا کرتہ لائے تھے اور اب بھی یہی کرتہ لے کر آئے تاکہ پہلی بدنامی کا دھبہ جاتا رہے الغرض جس وقت یہ بشیر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ لایا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چہرہ مبارک پر ڈالا آپ کی آنکھوں میں روشنی آگئی اور صحیح و تندرست ہوگئے اور بشیر سے پوچھا تو نے یوسف (علیہ السلام) کو کس دین پر چھوڑا ہے کہا اسلام پر آپ نے بہت خوشی ظاہر کی اور خدا کی نعمت کا شکر ادا کیا اور فرمایا الان تمت النعمتہ اور پاس والوں اور بیٹیوں سے فرمایا کہ کہو میں…
Read the full tafseer →(آیت) ” پس جب خوشخبری دینے والا آپہنچا “ یعنی جب ایلچی حضرت یوسف (علیہ السلام) ، ان کے بھائیوں اور ان کے باپ کے اجتماع کی خوشخبری لے کر آیا (آیت) ” تو ڈال دیا اس کو “ یعنی قمیص کو (آیت) ” ان کے چہرے پر، جس سے وہ دوبارہ دیکھنے والے ہوگئے “ یعنی یعقوب (علیہ السلام) اپنی پہلی سی بصارت والی حالت میں آگئے حالانکہ غم واندوہ کی وجہ سے ان کی آنکھیں سفید ہوگئی تھیں۔ یعقوب (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے۔۔۔ جو وہاں موجود تھے اور جو ان کی رائے کو جھٹلاتے رہے تھے اور ان پر تعجب کر رہے تھے۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی نعمت پر خوش ہو کر فاتحانہ انداز میں کہا : (آیت) ” کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں اللہ سے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–96
اشیاء کا ناپ تول کر، لینا دینا
قول باری (فاوف لنا الکیل۔ آپ ہمیں بھرپور غلہ عنایت فرمائیں) اس پر دلالت کرتا ہے کہ غلہ ناپنے والے کی اجرت فروخت کنندہ کے ذمہ عائد ہوگی اس لئے کہ فروخت کنندہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خریدار کیلئے فروخت شدہ چیز کی تعیین کرے اور ناپ یعنی کیل کے بغیر اس کا تعین نہیں ہوسکتا۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے عرض کیا تھا کہ (فاوف لنا الکیل) یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ غلہ ناپنے کی ذمہ داری حضرت یوسف (علیہ السلام) پر تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور ﷺ نے طعام یعنی خوردنی شے کو فروخت کرنے سے اس وقت تک کے لئے منع کردیا ہے جب تک یہ شے دو پیمانوں سے گزر نہ جائے یعنی فروخت کنندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
155۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بینائی کے لوٹ آنے کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب پہنچ گیا وہ خوشخبری لانے والا اور اس نے ڈال دیا وہ کرتا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چہرے پر تو فورا لوٹ آئی آنجناب کی کھوئی ہوئی بصارت اور آپ نے فرمایا کہ کیا میں نے تم لوگوں سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور روایات کے مطابق یہ یہودا تھا جس نے کہا کہ چونکہ میں ہی باپ کے سامنے یوسف کا وہ کرتاجھوٹ موٹ کا خون لگا کرلے گیا تھا۔ اب میں ہی خوشخبری والے اس کرتے کو لیکر جاؤں گا تاکہ اس قصوروغلطی کا ازالہ وتدارک ہوسکے۔ (روح، ابن جریر، قرطبی وغیرہ) کہتے ہیں خوشی کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
آیات 94 تا 104
اسرار و معارف
ادھریعقوب (علیہ السلام) بےقراری سے منتظر تھے کہ واپس آنے والے کیا خبر لاتے ہیں لیکن اللہ کی شان کا ظہور عجیب طریقے سے ہوا۔
کشف اور مشاہدہ
کہ جب وہ قافلہ جس میں وہ آدمی بھی شامل تھا جس کے پاس یوسف (علیہ السلام) کی قمیض تھی کنعان پہنچا تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم اسے میری دیوانگی نہ کہو تو آج مجھے یوسف کی خوشبوآرہی ہے تو سننے والوں نے بڑے آرام سے کہہ دیا کہ وہم اب آپ کا مرض بن چکا ہے اور آپ ہمیشہ ہی امید رکھین گے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ایک روز مجھ سے آملیں گے لیکن عجیب بات یہ جو پہلے بھی لکھی جاچکی کہ مصر جو کم وبیش آٹھ دن کی مسافت پر تھا…
Read the full tafseer →ف 10 ۔ مفسرین (رح) کا بیان ہے کہ جب قافلہ کنعان کے قریب پہنچا، تو سب سے بڑے بھائی یہودا نے کہا ” میں ہی ابا جان کے پاس یوسف ( علیہ السلام) کا خون سے بھرا ہوا کرتا لے کر گیا تھا۔ لہٰذا آج تم مجھی کو یہ کرتا لے کر آگے جانے دو ، تاکہ انہیں اسی طرح خوش کروں جس طرح اس دن رنجیدہ کیا تھا۔ (فتح القدیر) موضح میں ہے کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے کرتا بھیجا اپنے غلام کے ہاتھ اس نے آکر کرتا منہ پر ڈالا اور خوشخبیر دی اس وقت آنکھیں کھل گئیں۔
11 ۔ مثلاً یہ کہ یوسف ( علیہ السلام) زندہ ہے اور اللہ تعالیٰ اسے جرور واپس لائے گا، یا یہ کہ مجھے یوسف ( علیہ السلام) کی خوشبو آرہی ہے۔ (ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(12: 96) فلما ان جاء البشیر۔ فلما ان میں ان زائدہ ہے اور لما کی تاکید کیلئے استعمال ہوا ہے۔ جب خوشخبری دینے والا آن پہنچا
القہ۔ میں ہُ ضمیرواحد مذکر غائب قمیص کے لئے ہے۔ اس نے اس کو ڈالا۔ اس نے قمیص کو (حضرت یعقوب کے چہرہ پر) ڈالا۔
ارتد۔ ارتداد (افتعال) سے جس کے معنی ہیں اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹنا۔
مرتد وہ شخص جو کفر سے اسلام میں داخل ہوکر واپس کفر کی طرف لوٹ جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–98
لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 98
فصلت جدائی ہوئی، جدا ہوا العیر قافلہ اجد میں پاتا ہوں تفندون تم مجھے بہکا ہوا نہ سمجھو ضلل بہکنا القدیم پرانا البشیر خوش خبری دینے والا القہ اس نے ڈالا وجھ چہرہ ارتد لوٹ آیا بصیر دیکھنا، بینائی لم اقل میں نے نہیں کہا استغفر بخشش مانگ لے ذنوب گناہ خطیئین خطا کرنے والے، گناہ کرنے والے سوف بہت جلد، عنقریب
تشریح آیت نمبر 94 تا 98
گزشتہ آیات میں حضرت یوسف کا یہ جملہ نقل کیا گیا ہے کہ تم میری قمیص لے کر جاؤ اور ان کے (حضرت یعقوب کے) چہرے پر ڈالو تو ان کی بصارتو اپس آجائے گی اور اس کے بعد تم سب یہیں مصر میں آجانا، چناچہ یہ قمیص مصر سے روانہ ہوئی ادھر حضرت یعقوب کو حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
ارشاد ہوتا ہے کہ جب خوشخبری دینے والا یعنی یہودا اپنے باپ کے پاس پہنچا تو اس نے یوسف (علیہ السلام) کے کرتے کو اپنے باپ کے منہ پر ڈال دیا پس وہ بینا ہوگئے۔ لکھا ہے کہ یہودا بھائیوں کے ساتھ راہ میں نہیں ٹھرے اور ننگے پاؤں برہنہ سر دوڑتے ہوئے کنعان میں پہنچے۔ تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کیوں جی میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ مجھے اللہ کی وحی کے ذریعہ سے وہ بات معلوم جو تم کو نہیں معلوم، یعنی یوسف (علیہ السلام) کے خواب کا ظہور ضرور ہوگا، پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادوں نے باپ سے معذرت کی اور اپنی خطا کا اقرار کیا :'' بیشک ہم قصور وار ہیں۔ آپ ہمیں معاف فرمائیں اور درگاہ الہی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–100
[33] یہ سجدہ تعظیمیہ تھا جو سابقہ شریعتوں میں جائز تھا لیکن شریعت محمدی ﷺ میں ہر قسم کا سجدہ غیر اللہ کے لئے حرام کردیا گیا بلکہ یہ بھی جائز نہیں کہ کوئی انسان کسی دوسری ہستی کے آگے اپنا جسم دوہرا کرے۔
[43] یوسف (علیہ السلام) کی کریم النفسی ملاحظہ ہو کہ ایسے شدید دشمن بھائیوں پر ذرا الزام نہ آنے دیا بلکہ ذمہ داری شیطان کی قرار دے کر اپنی اور اپنے بھائیوں کی حیثیت ایک ہی رکھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
والدین کی عزت افزائی :
(ف 1) حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ نے اقتدار بخشا ہے ، اور وہ اس وقت عرش عزت پر متمکن ہیں ، بھائیوں کو معلوم ہوگیا ہے کہ ہمارا بھائی مسند حکومت پر فائز ہے ، باپ تک اطلاع پہنچ چکی ہے کہ تیرا بیٹا مصر میں برسراقتدار ہے ۔
سب یوسف (علیہ السلام) کی ملاقات کے لئے جمع ہیں ، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے سب کو شرف باریابی بخشا ، والدین کی انتہائی عزت کی ، اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا ، اور وہ خواب پورا ہوا ، بھائی اس وقت اعتراف فضیلت کے طور پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے جھک گئے اور کنعانی آداب وتعظیم کو ملحوظ رکھتے ہوئے اظہار فضیلت کیا ۔
ممکن ہے اس وقت تعظیم کے لئے سجدہ روا ہو…
Read the full tafseer →96 ۔ پھر جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جانب سے بشارت دینے والا آپہنچا اور اس نے یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ یعقوب (علیہ السلام) کے منہ پر ڈالا تو اسی وقت بینا ہوگیا اور اس کی آنکھیں روشن ہوگئیں اور اس نے اس وقت بیٹوں سے کہا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اللہ کی طرف سے جو باتیں میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ یعنی اگر بالکل نابینا ہوگئے تھے تو بینائی واپس آگئی اور اگر بینائی کمزور ہوگئی تھی تو بینائی درست ہوگئی اور آنکھیں روشن ہوتے ہی بیٹوں سے فرمایا میں نے تلاش کرنے کا حکم اسی لئے دیا کہ جو کچھ مجھے خدا کی طرف سے معلوم تھا اس سے تم واقف نہ تھے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
ف 5۔ یہ معجزہ تھا یعقوب (علیہ السلام) کا اس کرتہ میں جو یوسف (علیہ السلام) کے بدن کا اثر تھا وہ محسوس ہوگیا اور چونکہ معجزہ اختیاری نہیں ہوتا اس سے پہلے یہ ادراک نہ ہوا۔
Read the full tafseer →انجام کار وہ وقت آگیا ، قمیص لانے والا قافلہ کنعان پہنچ گیا اور قمیص آپ کے چہرہ پر ڈلا دی گئی۔
۔ 112 خوشبو اور خوشی کے اثر نے اپنا اثر دکھایا جس سے یعقوب (علیہ السلام) کی ضعف بصر ہی کیا دور ہوئی کہ بصیرت مکمل طور پر کھل گئی اور کنعان سے مصر تک کے سارے رساتے روشن نظر آنے لگے پر دئہ بصیرت ایسا ہٹا دیا گیا کہ کوئی بات آپ پر مبہم نہ رہ گئی اور قمیص نے سارا حال کہہ سنایا اور سارے دکھ اور درد کا خود مداوا ہوگئی اس میں نہ کوئی ” خلاف عقل “ بات ہے اور نہ ” خلاف فطرت “ ہے ہاں ! یہ پورا واقعہ اپنے اندر اتنی عبر و بصائر رکھتا ہے کہ اگر کہ اگر ان کو گنوانا شروع کردیا جائے تو عروۃ الوثقی کی یہ جلد سورة…
Read the full tafseer →Said in verse 96 is: فَلَمَّا أَن جَاءَ الْبَشِير that is, ` when this man with the good news reached Canaan' and put the shirt of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) over the face of his father, his eyesight returned and he became a sighted man. The man who came with the good news was Yahuda, the same brother of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) who had brought his shirt from Egypt.
The last sentence of the verse is: قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ مِنَ اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (He [ Ya` qub ] said, 'Did I not tell you that I know from Allah what you do not know?' - 96) - that Yusuf is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
68. It is worthwhile to take notice of the total number of Prophet Jacob’s family members that migrated to Egypt with him, for it is closely connected with the problem that is raised concerning the total number of the Israelites who emigrated from there some five hundred years after this. According to the Bible, the total number of the family members was 70, including Prophet Joseph and his two sons, and excluding those daughters-in-law who did not belong to the family of Prophet Jacob. But according to the census figures given in Numbers, their number was about two million when they were…
Read the full tafseer →