Yusuf 12:95

Yusuf · from ayah 95

12:95

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ ۟قَالُوۡا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِىۡ ضَلٰلِكَ الۡقَدِيۡمِ‏

وہ بولے کہ والله آپ اسی قدیم غلطی میں (مبتلا) ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "By Allah, indeed you are in your [same] old error."

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 11 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:95

گھر کے لوگ بولے "خدا کی قسم آپ ابھی تک اپنے اسی پرانے خبط میں پڑے ہوئے ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ بولے کہ والله آپ اسی قدیم غلطی میں (مبتلا) ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه کہنے لگے کہ واللہ آپ اپنے اسی پرانے خبط میں مبتلا ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

لوگوں نے کہا : اللہ کی قسم ! آپ ابھی تک اپنی پرانی غلط فہمی میں پڑے ہوئے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیٹے بولے خدا کی قسم! آپ اپنی اسی پرانی خود رفتگی میں ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ بولے: اﷲ کی قسم یقیناً آپ اپنی (اسی) پرانی محبت کی خود رفتگی میں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا اللہ کی قسم ! بلاشبہ یقینا تو اپنی پرانی بھول ہی میں ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : اللہ کی قسم ! آپ تو اسی پرانی محبت کے خبط میں پڑے ہوئے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

لوگ بولے کہ خدا کی قسم آپ ابھی تک اپنے پرانے خبط ہی میں مبتلا ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

انہوں نے کہا اللہ کی قسم، آپ تو ابھی تک اپنے اسی پرانے خبط میں پڑے ہوئے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

(لوگوں نے) کہا بخدا ! آپ تو اپنے اسی قدیم وہم میں (مبتلا) ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں (گھر والوں) نے کہا : اللہ کی قسم ! آپ تو اپنے اسی پرانے خبط ہی میں مبتلا ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ بولے کہ واللہ آپ اسی پرانی غلطی میں مبتلا ہیں۔)

— محترمہ رفعت اعجاز

They said: "Surely you are still in your same old craze."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :By God, you are still in your old fallacy!

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :By God, you are still in your old fallacy!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "By Allah! Certainly, you are in your old Dalal (error)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Those around him) said: By Allah, lo! thou art in thine old aberration.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "By Allah, indeed you are in your [same] old error."

— Saheeh International

His people said, "By God, you are still making the same old error".

— Muhammad Sarwar

They said: By Allah, you are most surely in your old error.

— Muhammad Habib Shakir

They said: by Allah! verily thou art in thine old-time error.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "By Allah! truly thou art in thine old wandering mind."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:95

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 93–95

چونکہ اللہ کے رسول حضرت یعقوب ؑ اپنے رنج وغم میں روتے روتے نابینا ہوگئے تھے، اس لئے حضرت یوسف ؑ اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ میرا یہ کرتہ لے کر تم ابا کے پاس جاؤ، اسے ان کے منہ پر ڈالتے ہی انشاء اللہ ان کی نگاہ روشن ہوجائے گی۔ پھر انہیں اور اپنے گھرانے کے تمام اور لوگوں کو یہیں میرے پاس لے آؤ۔ ادھر یہ قافلہ مصر سے نکلا، ادھر اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب ؑ کو حضرت یوسف کی خوشبو بہنچا دی تو آپ نے اپنے ان بچوں سے جو آپ کے پاس تھے فرمایا کہ مجھے تو میرے پیارے فرزند یوسف کی خوشبو آرہی ہے لیکن تم تو مجھے سترا بہترا کم عقل بڈھا کہہ کر میری اس بات کو باور نہیں کرنے کے۔ ابھی قافلہ کنعان سے آٹھ دن کے فاصلے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

67۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پورے خاندان میں حضرت یوسف کے سوا کوئی اپنے باپ کا قدر شناس نہ تھا اور حضرت یعقوب خود بھی ان لوگوں کی ذہنی و اخلاقی پستی سے مایوس تھے، گھر کے چراغ کی روشنی باہر پھیل رہی تھی، مگر خود گھر والے اندھیرے میں تھے اور ان کی نگاہ میں وہ ایک ٹھیکرے سے زیادہ کچھ نہ تھا، فطرت کی اس ستم ظریفی سے تاریخ کی اکثر و بیشتر بڑی شخصیتوں کو سابقہ پیش آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيْ ضَلٰلِكَ الْقَدِيْمِ یعنی حاضرین مجلس نے یعقوب ؑ کی بات سن کر کہا کہ بخدا آپ تو اپنے اسی پرانے غلط خیال میں مبتلا ہیں کہ یوسف زندہ ہیں اور وہ پھر ملیں گے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيْ ضَلٰلِكَ الْقَدِيْمِ۔ اس پر سننے والوں نے وہی کہا جس کا حضرت یعقوب نے اندیشہ ظاہر کیا تھا۔ وہ بولے کہ آپ اب تک اپنے اسی خبط میں مبتلا ہیں جس میں پہلے مبتلا تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

95۔ 1 ضَلَال سے مراد والہانہ محبت کی وہ وارفتگی ہے جو حضرت یعقوب ؑ کو اپنے بیٹے یوسف ؑ کے ساتھ تھی۔ بیٹے کہنے لگے، ابھی تک آپ اسی پرانی غلطی یعنی یوسف ؑ کی محبت میں گرفتار ہیں۔ اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود یوسف ؑ کی محبت دل سے نہیں گئی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

59: یعنی یہ غلط فہمی کہ حضرت یوسف ؑ ابھی زندہ ہیں اور ان سے ملاقات ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 94–95

اب دوسری جانب کنعان کے منظر میں بھی غیر متوقع انکشافات ہو رہے ہیں اور کنعان کے مناظر اب یوسف (علیہ السلام) کے اس خواب کی آخری تعبیر پر ختم ہوتے ہیں جو انہوں نے بچپن میں دیکھا تھا۔ آیت نمبر 94 تا 95 یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو ! یہ کیا کہہ رہے ہیں ، کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ اس قدر طویل عرصہ کے بعد بھی یوسف (علیہ السلام) زندہ ہوگا اور یہ بوڑھا اس کی بو سونگھ رہا ہوگا !۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتا ہے میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو پارہا ہوں اگر تم میرا مذاق نہ اڑاؤ، درحقیقت میں یہ خوشبو پا رہا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ ادھر مصر سے قافلہ چلا ، ادھر کنعان میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بو پا رہے ہیں۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی یوسف کی محبت اس کے زندہ ہونے اور دوبارہ ملنے کا یقین تیرے دل میں جاگزیں ہے۔ وہ ہی پرانے خیالات ہیں جو یوسف کی خوشبو بن کر دماغ میں آتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 95 قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيْ ضَلٰلِكَ الْقَدِيْمِ آپ کو شروع ہی سے یہ وہم ہے کہ یوسف زندہ ہے اور آپ کو اس کے دوبارہ ملنے کا یقین ہے۔ یہ آپ کے ذہن پر اسی وہم کے غلبے کا اثر ہے جو آپ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ وہی پرانے خیالات یوسف کی خوشبو بن کر آپ کے دماغ میں آ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 95–96

92 یعقوب کی بینائی کی واپسی :۔ یہ خوشخبری دینے والا ان کا بڑا بھائی یہودا تھا۔ یہودا ہی تھا جس نے سیدنا یوسف کو قتل کرنے سے بھائیوں کو روکا تھا اور کہا تھا کہ قتل کے بجائے اسے کسی گمنام کنویں میں ڈال دیا جائے نیز وہ یہودا ہی تھا جس نے کہا تھا کہ میں اب واپس جاکر کیسے اپنا منہ اپنے باپ کو دکھاؤں۔ لہذا میں اب یہاں مصر میں رہوں گا اور یہ یہودا ہی تھا جو قافلہ سے پہلے سیدنا یوسف کی قمیص لے کر اپنے باپ کے پاس پہنچ گیا اور انھیں یوسف اور بن یمین کے مل جانے کی خوشخبری سنائی۔ پھر قمیص آپ کے چہرہ پر ڈالی تو دفعتًا آپ کی بینائی لوٹ آئی، آنکھیں درست ہوگئیں اور سب کچھ نظر آنے لگا۔ پھر اسی نے بتایا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

172۔ وہی ہوا جو آپ کا خیال تھا، لوگوں نے آپ کے کہے کا یقین نہ کیا اور آپ (علیہ السلام) کو سچا اور نیک سمجھنے کے باوجود آپ (علیہ السلام) کے اس ” وہم “ کو غلوئے محبت یوسفی پر محمول کرنے لگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 94–104

آیت نمبر 94 تا 104 ترجمہ : اور جب یہ قافلہ مصر کی آبادی سے باہر نکلا تو ان کے والد نے حاضرین میں سے ان سے جو ان کے بیٹے اور پوتوں میں سے موجود تھے کہا میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں اگر تم مجھے سٹھیایا ہوا قرار نہ دو تو تم میری تصدیق کروگے بادصبا نے باذن خداوندی یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو کو یعقوب تک تین دن کی یا آٹھ دن کی یا اس سے زیادہ کی مسافت سے پہنچا دیا تھا، تو حاضرین نے ان سے کہا واللہ تم تو اپنے پرانے خبط میں مبتلا ہو اس سے بیحد محبت کرنے اور اس سے ملاقات کی (شدید) خواہش کی وجہ سے باوجود عرصہ دراز گذر جانے کے، چناچہ جب خوشخبری دینے والا یہودا کرتہ لے کر آیا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا تا اللہ انک لفي ضللک القدیم وہ کہنے لگے : آپ تو اپنے اسی پرانے غلط خیال میں مبتلا ہیں۔ ضلال سے مراد یہ ہے کہ حضرت یوسف کی محبت ‘ اس کی یاد کی کثرت اور امید وصال رکھنے کی وجہ سے آپ کی عقل صحیح راستہ سے ہٹ گئی ہے (اور آپ پرانی غلطی میں مبتلا ہیں) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 94–95

(94۔ 95) چناچہ جب قافلہ مقام عریش سے جو کہ مصر اور کنعان کے درمیان ایک بستی تھی قمیص لے کر چل پڑا تو حضرت یعقوب ؑ نے ارد گرد کے لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ اگر تم مجھ کو بہکی باتیں کرنے والا نہ سمجھو اور میری بات کو جھوٹ نہ سمجھو تو ایک بات کہتا ہوں کہ مجھے یوسف ؑ کی خوشبو آرہی ہے انکے پاس جو انکے پوتے پڑپوتے موجود تھے وہ کہنے لگے بخدا آپ تو حضرت یوسف ؑ کے بارے میں اپنی اسی خام خیالی پر قائم ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ۔۔ : یعقوب ؑ کے پاس اس وقت بیٹوں میں سے کوئی بھی موجود نہ تھا، پوتوں نے بھی باپوں والا رویہ اختیار کیا۔ اب ان الفاط کو ان کی طرف سے بابا کے لیے تسلی کہا جائے یا ملامت ؟ واللہ ! ان کا حق نہ تھا کہ دادا کو جو اللہ کے پیغمبر بھی تھے، یہ لفظ کہتے۔ ہاں ان کی طرف سے ایک عذر ہوسکتا ہے کہ بادیہ کے معاشرے میں باہمی بےتکلفی حتیٰ کہ والدین اور اولاد کے درمیان بھی بےتکلفی نے ان کے منہ سے یہ الفاظ نکلوا دیے ہوں اور وہ اپنے خیال میں تسلی دے رہے ہوں کہ بابا ! پرانی بات بھول بھی جاؤ، مگر جو اتنے سال بھلایا نہیں جاسکا اب ایسی باتوں سے کیسے بھلایا جاسکے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 94–99

آیت نمبر 94 تا 99 قولہ تعالیٰ : ولما فصلت العیر یعنی جب قافلہ مصر سے شام کی طرف نکلا، کہا جاتا ہے : فصل فصولا، وفصلا، یہ لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ قال ابوھم یعنی آپ نے فریبیوں میں سے جو آپ کے پاس تھا اور مصر نہیں گیا تھا اسے کہا اور وہ آپ کے پوتے تھے انی لاجدریح یوسف یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کے کچھ بیٹے گئے ہوں اور باقیوں کو آپ نے فرمایا ہو : انی لاجد ریح یوسف لولآ ان یفندون حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ہوا چلی اور وہ حضرت یوسف کے پیراہن کی خوشبو آپ تک اٹھالائی حالانکہ دونوں کے درمیان آٹھ راتوں کی مسافت تھی۔ حضرت حسن نے کہا : دس راتوں کی مسافت تھی۔ انہیں سے ایک ماہ کی مسافت بھی مروی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 94–95

حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو مہکنا : 1:۔ عبدالرزاق والفریابی واحمد (رح) نے الزہد میں وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” ولما فصلت العیر “ کے بارے میں فرمایا کہ قافلہ نکلا اور ہوا چلی اور وہ تو یوسف (علیہ السلام) کی قمیض کی خوشبو یعقوب (علیہ السلام) کو محسوس ہوئی۔ اسی کو فرمایا (آیت) ” انی لا جد ریح یوسف لولا ان تفندون “ میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو سونگھ رہا ہوں اگر تم مجھ کو بیوقوف نہ بتاؤ فرمایا کہ انہوں نے اس کو خوشبو کو سونگھ لیا آٹھ آدمیوں کے فاصلے سے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ تَاللّٰهِ : اللہ کی قسم ] [ انكَ : بیشک آپ ] [ لَفِيْ ضَلٰلِكَ الْقَدِيْمِ : اپنی پرانی گمراہی میں ہی ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 94–99

پورے خاندان کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس مصر پہنچنا ‘ ان کے والدین اور بھائیوں کا ان کو سجدہ کرنا ‘ اور خواب کی تعبیر پوری ہونا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے تیسری بار جب اپنے بھائیوں کو مصر سے رخصت کیا تھا اور اپنا کرتہ دیا تھا کہ اسے میرے والدین کے چہرہ پر ڈال دینا اس وقت یہ بھی فرماتا تھا کہ تم اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آنا ‘ جب یہ لوگ واپس کنعان پہنچے اور اپنے والد ماجد کے چہرہ انور پر پیراہن یوسف کو ڈال دیا جس سے ان کی بینائی واپس آگئی اور پھر اپنے والد سے دعائے مغفرت کی درخواست کی اور انہوں نے دعا کردی تو اب مصر کی روانگی کا ارادہ کیا حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اہلیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 94–98

باز گشتن برادران یوسف (علیہ السلام) از سفر سوم و بشارت بردن قال اللہ تعالیٰ علما فصلت العیر قال ابوہم .... الیٰ .... انہ ھو الغفور الرحیم (ربط) جب یوسف (علیہ السلام) نے باپ کی بینائی کے لیے قمیص عطا کی اور کہا کہ سب اہل و عیال کو لے کر آؤ تو سب بھائی پیراہن یوسفی لے کر شاداں وفرحاں مصر سے کنعان کی طرف روانہ ہوئے اور جب قافلہ مصر سے کنعان روانہ ہوا یعنی مصر کی آبادی سے باہر نکل گیا تو یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا جو اس وقت ان کے پاس تھے تحقیق میں یوسف (علیہ السلام) کی بو محسوس کرتا ہوں اگر تم مجھ کو مخبوط الحواس نہ کہو کہ بڑھاپے کی وجہ سے بہک گیا اور بہکی ہوئی باتیں کر رہا ہے۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 94–95

79: فرزندان یعقوب (علیہ السلام) کا قافلہ جب مصر سے روانہ تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے پوتوں اور دیگر اہل قرابت سے فرمایا آج مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے اگر تم مجھے بےعقل نہ کہو اور میری بات مان لو تو تمہیں میری بات کی سچائی عنقریب معلوم ہوجائے گی۔ لَوْلَا کا جواب محذوف ہے ای لتعلمون ذلک۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو حضرت یعقوب (علیہ السلام) تک کس طرح پہنچی اس کے بارے میں امام رازی فرماتے ہیں کہ یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بطور معجزہ پہنچائی تھی۔ والتحقیق ان یقال انہ تعالیٰ اوصل تلک الرائحۃ الیہ علی سبیل اظھار المعجزات لان وصول الرائحۃ الیہ من ھذہ المسافۃ البعیدۃ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 94–98

ربط آیات گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ مصر کے تیسرے چکر میں برادران یوسف نے (علیہ السلام) کے روبرو نہایت عز و انکساری کا اظہار کیا اور اس بات کا اقرار کیا کہ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو ان پر فضیلت بخشی ہے اور غلطی پر وہی تھے ۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے کریمانہ اخلقا کی بنا پر اعلان کیا کہ آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری غلطیوں کو معاف فرمائے۔ نیز فرمایا کہ میں تو بوجوہ فوری طور پو الد کے پاس نہیں جاسکتا تم میری یہ قمیص لے جائو اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دینا۔ وہ بینا ہو کر میرے پسا چلے آئیں گے اور تم باقی خاندان کو بھی لے کر مصر میں آ جائو۔ ان حالات میں برادران…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيْ ضَلٰلِكَ الْقَدِيْمِ 95؀ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالُوْا تَاللّٰہِ اِنَّکَ لَفِیْ ضَلٰلِکَ الْقَدِیْمِ ۔ (سورۃ یوسف : 95) (اہل خانہ) کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کی قسم آپ ابھی تک پرانے خبط ہی میں مبتلا ہیں۔ ) اہل خانہ کی بےبصیرتی اہل خانہ نے وہی کہا جس کا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اندیشہ تھا کیونکہ ان کے لیے یہ بات بعیدازعقل تھی کہ کوئی شخص اتنی دور سے اپنے بیٹے کی خوشبو سونگھ محسوس کرسکتا ہے۔ اس لیے انھوں نے کہا کہ آپ برسوں سے اسی خبط میں مبتلا ہیں کہ یوسف ( علیہ السلام) ضرور آئیں گے۔ ربع صدی کا زمانہ گزر گیا، کہیں اس کی بھنک نہیں پڑ سکی، اگر وہ زندہ ہوتا تو آج تک اس کی کوئی خبر تو ملتی، لیکن آپ ان باتوں کی طرف دھیان دینے کے لیے تیار نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 93–96

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اپنے بھائیوں کو الوداع کہتے ہوئے اپنی قمیص حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی خدمت میں پیش کرنے کا حکم۔ نہ معلوم حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کتنے دنوں تک اپنے بھائیوں کو اپنے ہاں عزت و تکریم کے ساتھ ٹھہرایا۔ برادران جب اپنے وطن واپس جانے لگے تو انہیں الوداع کرتے ہوئے یوسف (علیہ السلام) نے اپنی قمیص دیتے ہوئے فرمایا کہ اسے والد گرامی کے چہرہ اقدس پر رکھنا۔ جس سے ان کی بنائی لوٹ آئے گی۔ کیونکہ بنیامین انہیں گھریلو حالات اور والد محترم کی صحت کے بارے میں بتلا چکا تھا کہ آپ کے غم میں والد گرامی کی بینائی جاتی رہی ہے۔ حضرت یوسف (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

95: قَالُوْا (انہوں نے کہا) پوتوں نیتا للّٰہِ اِنَّکَ لَفِیْ ضَلٰلِکَ الْقَدِیْمِ (اللہ کی قسم بیشک تو اپنی پرانی گمراہی میں ہے) عرصہ سے یوسف کی محبت میں افراط کی وجہ سے درست راستہ سے ہٹ چکا ہے۔ نمبر 2۔ یوسف کی محبت والی پرانی غلطی میں مبتلا ہے۔ ان کے ہاں وہ مرچکے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

95۔” قالوا “ یعنی یعقوب (علیہ السلام) کے پوتے کہنے لگے ” تا اللہ انک لفی ضلالک القدیم “ اپنی پرانی غلطی میں ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کی یاد نہیں بھولتے ۔ ضلال سے مراد ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی محبت اس کی یاد کی کثرت اور امید ووصال رکھنے کی وجہ سے آپ کی عقل صحیح راستے سے ہٹ گئی ہے، کیونکہ ان کے نزدیک یوسف (علیہ السلام) مرچکے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 94–95

94۔ 95۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو کرتہ دے کر مصر سے کنعان کی طرف روانہ کیا اور کہا کہ اس کرتہ کو لے جاؤ اور والد بزرگوار کے منہ پر ڈالو ان کی آنکھیں اچھی ہوجاویں گی پھر تم اپنے سارے گھر کو لے کر میرے پاس چلے آؤ اور یہ قافلہ مصر سے جس وقت روانہ ہوا تو آٹھ دن کے فاصلہ کی راہ سے خداوند عالم کے حکم سے ہوا اس کرتے کی بو لے کر اڑی اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) تک اس کو پہنچایا اوپر ذکر ہوچکا ہے کہ عبد اللہ بن عباس ؓ کے ایک قول کے موافق یہ کرتہ وہی کرتہ تھا جو حضرت جبرئیل نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جنت سے لا کردیا تھا اور جس کی برکت سے آگ ان پر گلزار بن گئی تھی اور یہ کرتہ حضرت اسحاق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پس وہی کچھ ہوا جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) سمجھتے تھے، چناچہ وہ کہنے لگے : (آیت) ” اللہ کی قسم ! آپ تو اسی پرانی غلطی میں ہیں “ یعنی آپ تو ہمیشہ محبت کے سمندر میں سرگرداں رہیں گے، آپ نہیں جانتے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 88–96

اشیاء کا ناپ تول کر، لینا دینا قول باری (فاوف لنا الکیل۔ آپ ہمیں بھرپور غلہ عنایت فرمائیں) اس پر دلالت کرتا ہے کہ غلہ ناپنے والے کی اجرت فروخت کنندہ کے ذمہ عائد ہوگی اس لئے کہ فروخت کنندہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خریدار کیلئے فروخت شدہ چیز کی تعیین کرے اور ناپ یعنی کیل کے بغیر اس کا تعین نہیں ہوسکتا۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے عرض کیا تھا کہ (فاوف لنا الکیل) یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ غلہ ناپنے کی ذمہ داری حضرت یوسف (علیہ السلام) پر تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور ﷺ نے طعام یعنی خوردنی شے کو فروخت کرنے سے اس وقت تک کے لئے منع کردیا ہے جب تک یہ شے دو پیمانوں سے گزر نہ جائے یعنی فروخت کنندہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

154۔ برادران یوسف کی بدتمیزی کا ایک اور نمونہ ومظہر : سو اس سے برادران یوسف کی بدتمیزی اور بےقدری کا ایک اور نمونہ سامنے آتا ہے کہ انہوں نے اپنے والد ماجد کو جو کہ ایسی عظیم الشان اور جلیل القدرشخصیت کے مالک تھے، ان کو ان کے منہ پر خبطی قرار دیا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جب قافلہ مصر سے روانہ ہوا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی آل واولاد میں سے ان لوگوں سے جو وہاں ان کے پاس موجود تھے کہا کہ اگر تم لوگ مجھے دیوانہ نہ قراردو تو میں تمہیں بتائے دیتا ہوں کہ مجھے یوسف کی خوشبو محسوس ہورہی ہے مگر انہوں نے وہی بات کی جس کے خدشے کا اظہارحضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کیا تھا۔ سو انہوں نے جواب میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–101

یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔ 1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 94–104

آیات 94 تا 104 اسرار و معارف ادھریعقوب (علیہ السلام) بےقراری سے منتظر تھے کہ واپس آنے والے کیا خبر لاتے ہیں لیکن اللہ کی شان کا ظہور عجیب طریقے سے ہوا۔ کشف اور مشاہدہ کہ جب وہ قافلہ جس میں وہ آدمی بھی شامل تھا جس کے پاس یوسف (علیہ السلام) کی قمیض تھی کنعان پہنچا تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم اسے میری دیوانگی نہ کہو تو آج مجھے یوسف کی خوشبوآرہی ہے تو سننے والوں نے بڑے آرام سے کہہ دیا کہ وہم اب آپ کا مرض بن چکا ہے اور آپ ہمیشہ ہی امید رکھین گے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ایک روز مجھ سے آملیں گے لیکن عجیب بات یہ جو پہلے بھی لکھی جاچکی کہ مصر جو کم وبیش آٹھ دن کی مسافت پر تھا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:95) ضلک۔ مضاف۔ مضاف الیہ۔ تیرا بہکا پن۔ تیرا وہم۔ غلطی۔ تیرا افراطِ محبت ِ یوسف سے بہک جانا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 94–98

لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 98 فصلت جدائی ہوئی، جدا ہوا العیر قافلہ اجد میں پاتا ہوں تفندون تم مجھے بہکا ہوا نہ سمجھو ضلل بہکنا القدیم پرانا البشیر خوش خبری دینے والا القہ اس نے ڈالا وجھ چہرہ ارتد لوٹ آیا بصیر دیکھنا، بینائی لم اقل میں نے نہیں کہا استغفر بخشش مانگ لے ذنوب گناہ خطیئین خطا کرنے والے، گناہ کرنے والے سوف بہت جلد، عنقریب تشریح آیت نمبر 94 تا 98 گزشتہ آیات میں حضرت یوسف کا یہ جملہ نقل کیا گیا ہے کہ تم میری قمیص لے کر جاؤ اور ان کے (حضرت یعقوب کے) چہرے پر ڈالو تو ان کی بصارتو اپس آجائے گی اور اس کے بعد تم سب یہیں مصر میں آجانا، چناچہ یہ قمیص مصر سے روانہ ہوئی ادھر حضرت یعقوب کو حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 94–95

ارشاد ہوتا ہے کہ جب قافلہ مصر کی آبادی سے میدان میں آیا تو باد صبا نے حق تعالیٰ سے اذن لے کر یوسف (علیہ السلام) کے کرتے کی خوشبو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے دماغ میں پہنچادی۔ وہ خوشبو سونگھ کر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ : مجھے یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آرہی ہے۔ اگر تم بیوقوف نہ بناؤ اور فتور عقل نہ سمجھو تو بات یہی ہے جو میں کہ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا : '' واہ یہ خوب سوچے '' اللہ کی قسم ! آپ بیشک قدیمی حیرت میں گرفتا ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) کے غلبہ محبت اور ان کے ذکر کی کثرت سے ان سے ملاقات کی توقع آپ کو چالیس برس بعد بھی باقی ہے ''۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 93–100

[33] یہ سجدہ تعظیمیہ تھا جو سابقہ شریعتوں میں جائز تھا لیکن شریعت محمدی ﷺ میں ہر قسم کا سجدہ غیر اللہ کے لئے حرام کردیا گیا بلکہ یہ بھی جائز نہیں کہ کوئی انسان کسی دوسری ہستی کے آگے اپنا جسم دوہرا کرے۔ [43] یوسف (علیہ السلام) کی کریم النفسی ملاحظہ ہو کہ ایسے شدید دشمن بھائیوں پر ذرا الزام نہ آنے دیا بلکہ ذمہ داری شیطان کی قرار دے کر اپنی اور اپنے بھائیوں کی حیثیت ایک ہی رکھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 94–95

(ف 1) ادھر یہ قافلہ یوسف (علیہ السلام) کا پیراہن لے کر چلتا ہے ادھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو القاء ہوتا ہے کہ ارض مصر سے خوشخبری لے کر قاصد آ رہا ہے ، فرماتے ہیں کہ میں یوسف (علیہ السلام) کی بو سونگھ رہا ہوں ، مجھے معلوم ہو رہا ہے کہ وہ زندہ ہے اور وہ آرہا ہے ، آس باس بیٹھے ہوئے لوگ جن کی بصیرت کو تاء ہے کہتے ہیں ، یہ آپ کا جنون ہے اب یوسف (علیہ السلام) کہاں ؟ اتنے میں قاصد آپہنچتا ہے ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) فرط مسرت میں کہہ اٹھتے ہیں کیا میں نے پہلے سے تمہیں نہیں بتا دیا تھا کہ میرے مولا نگاہ کرم کرتے والے ہیں ، بیٹے معافی مانگتے ہیں اور شفیق باپ ان کو معاف کردیتا ہے ، اور بھول جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

95 ۔ ان لوگوں نے جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس رہتے تھے جواب دیا خدا کی قسم آپ تو اپنی اسی پرانی غلط خیالی میں مبتلا ہیں ۔ یعنی یوسف (علیہ السلام) کی محبت میں مبتلا ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 94–96

ف 5۔ یہ معجزہ تھا یعقوب (علیہ السلام) کا اس کرتہ میں جو یوسف (علیہ السلام) کے بدن کا اثر تھا وہ محسوس ہوگیا اور چونکہ معجزہ اختیاری نہیں ہوتا اس سے پہلے یہ ادراک نہ ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یعقوب (علیہ السلام) کی بات سن کر جواب دیا گیا کہ یہ خبط تو تمارا پرانا ہے ۔ 111 سننے والوں نے بھی بابا کو بےدھڑک جواب سنایا کہ بابا جی ! رہنے بھی دو آپ کو تو ہر وقت یوسف ہی کے خواب آتے رہتے ہیں جس خوشبو کا آپ ذکر کر رہے ہیں بھلا اب بھی اس کی کوئی حقیقت ہے ؟ یہ تو اس محبت اور وارفتگی کی فسوں کاری ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In verse 95, it was said: قَالُوا تَاللَّـهِ إِنَّكَ لَفِي ضَلَالِكَ الْقَدِيمِ (They said, 'By God, you are still in your old fallacy!' ). It means that those around Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) commented on what he had said by wondering that he still seemed to be engrossed into his old fallacy, that is: 'Yusuf is alive and we shall meet again.'

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

67. This remark shows that no member of his family except Prophet Joseph appreciated the true worth of Prophet Jacob. He himself was aware of the low state of their mental and moral condition. And it is one of the ironies of fate that the majority of the great personalities who made history got very little appreciation at home.

Read the full tafseer →