13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة نمبر ١٣ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورۃ الرعد سورة نمبر 13، رکوع 6، آیات 43، الفاظ و کلمات 863 ، حروف 3614، مقام نزول مکہ مکرمہ سورۃ الرعد قیام مکہ کے اس آخری دور میں نازل ہوئی جب کفار و مشرکین مکہ نے اہل ایمان کا اس سر زمین پر رہنا دشوار کردیا تھا اور اپنے ظلم و ستم کی انتہا کردی تھی۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اے اہل ایمان ! تم ان کفار کی پروانہ نہ کرو اور حق وصداقت کی شمع کو روشن کرتے چلے جاؤ۔ اس کائنات کو جس اللہ نے پیدا کیا ہے وہی اس کا خالق، مالک اور رزاق ہے وہ زبردست قوت طاقت کا مالک ہے اسی نے زمین و آسمان، چاند ، سورج، ستارے، پہاڑ، درخت، بادل بجلی کی گھن گھرج اور بہتے دریاؤں کو پیدا کیا ہے وہ اپنے ہر حکم کو عملی شکل دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے وہ کسی قوم کو عذاب دینا چاہے تو اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ وہ کسی کو دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا کرنا چاہے تو کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا اسی اللہ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنا کلام نازل کیا ہے جو سراسر نور اور حق و صداقت کی شمع ہے۔ اسی میں سارے انسانوں کے لئے اطمینان قلب کی دولت موجزن ہے۔ اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ باطل کی قوت و طاقت سے نہ ڈریں نہ دبیں کیونکہ بظاہر باطل ایک قوت نظر آتا ہے درحقیقت اس کی حیثیت اس کوڑے کباڑ سے زیادہ نہیں ہے جو بارش کے پانی سے بہنے والے ندی نالوں کے اوپر نظر آتا ہے یا سونا چاندی تپانے کے وقت جو جھاگ سونے پر آجاتا ہے۔ فرمایا کہ کوڑے کباڑ کے نیچے بہتا رواں دواں صاف شفاف پانی اور سونے چاندی کی قیمت اور حیثیت ہوتی ہے جھاگ اور کوڑے کباڑ کو پھینک دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نصیحت فرمائی ہے کہ وہ ان کفار کی باتوں کی پرواہ نہ کریں۔ کفار کبھی تو کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا بھی ہے پیتا بھی ہے اور بیوی بچے رکھتا ہے۔ اسی طرح وہ بہت سی باتوں کا مذاق اڑاتے ہیں فرمایا کہ کوئی شخص ان بےعقل اور نا سمجھوں سے پوچھے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جتنے رسول اور نبی آئے ہیں کیا ان کے بیوی بچے اور بشری تقاضے نہیں تھے۔ اہل ایمان سے فرمایا کہ کفار و مشرکین مذاق اڑانے سے اور تمہیں جڑ و بنیاد سے اکھڑانے سے باز نہیں آئیں گے۔ تم اس اللہ پر مکمل یقین رکھو جو اس کائنات کا مالک ہے اور اسی نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس قرآن کریم کو نازل کیا ہے جو سرا سر ہدایت اور روشنی ہے جس پر عمل کرنے سے ہی زندگی کے اندھیرے دور ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کو بھی بتایا ہے کہ یہ دنیا دار العمل ہے عمل کرنے کا بہترین موقع ہے یہ وقت نکل گیا تو پھر عمل کرنے کا موقع نصیب نہ ہوگا ۔ دنیا اور آخرت کی کامیابی اسی میں ہے کہ اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لا کر آخرت کی کامیابیاں اور کامرانیاں حاصل کرلی جائیں ورنہ دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو کر رہ جائیں گے۔ ٭… یہ سورت قیام مکہ مکرمہ کے اس آخری دور میں نازل کی گئی ہے جب کفار کے ظلم و ستم کی انتہا ہوچکی تھی۔ ٭… دوسرے رکوع میں لفظ الرعد (بادل کی گرج چمک) آیا ہے۔ اسی سے علامت کے طو پر اس سورت کا نام رکھا گیا ہے۔ ٭… اس سورة میں اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت، وحی، آخرت جزا و سزا جنت و جہنم کا ذکر کیا گیا ہے۔ ٭… جگہ جگہ کفار و مشرکین کے اعتراضات کے جوابات دیئے گئے ہیں۔ ٭… اس سورة میں بتایا گیا ہے کہ انسان دن کے اجالے میں یا رات کی تاریکی میں کھل کر یا چھپ کر کوئی کام کرتا ہے تو اس کی اطلاع اور علم اللہ کو ہے۔ وہ ایسی ذات ہے جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔

Ayahs 13:1–4

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

الف ۔ لام ۔ میم را حروف مقطعات جن کے معنی و مراد کا علم اللہ کو ہے) یہ کتاب کی آیات ہیں جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب نے نازل کیا ہے وہ سچ ہے اور لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون (بغیر سہارے کے ) اونچا کھڑا کردیا ہے جن کو تم دیکھتے ہو۔ پھر وہ عرش پر قائم ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو اپنے حکم کے تابع کردیا۔ ہر چیز اک مقرر وقت تک چل رہی ہے۔ وہ اللہ ہر طرح کی ہر تدبیر کر رہا ہے۔ وہ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب سے ملنے کا یقین کرلو۔

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے زمین کو پھیلا دیا او اس نے ان میں پہاڑ بنائے اور نہریں چلائیں اور ہر قسم کے پھل جس میں دو دو قسم کے (میٹھے کڑوے) پھل پیدا کئے۔ وہی رات کی (تاریکی) کو دن (کی روشنی سے) چھپا دیتا ہے۔ بیشک غور و فکر کرنے والوں کے لئے ان میں بہت سی نشانیاں موجود ہیں

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں الگ الگ خطے تیار کر رکھے ہیں۔ انگوروں کے باغ، کھیتیا اور کھجوریں جن میں بعض تو ایک تنے والے ہیں اور بعض دو تنے والے لیکن ان کو ایک ہی پانی سے سینچا جاتا ہے مگر ہم نے مزے میں کسی کو بہتر بنا دیا کسی کو کم تر۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل و فکر رکھنے والے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4: انزل اتارا گیا الحق سچ رفع بلند کیا عمد ستون، سہارا استوی وہ برابر ہوا سخر اس نے مسخر کردیا، تابع کردیا اجل مسمی متعین مدت، مقرر مدت لقاء ملاقات مد اس نے پھیلا دیا رواسی بوجھ زوجین جوڑے ، دو دو یغشی چھا جاتا ہے قطع خطے، قطعات متجورت پاس پاس اعناب (عنب) انگور زرع کھیتی نخیل کھجور صنوان ایک جڑ والی یسقی سینچا جاتا ہے بماء واحد ایک پانی سے نفضل ہم بڑھا دیتے ہیں الاکل پیداوار پھل تشریح آیت نمبر 1 تا 4 اس سورت کے دوسرے رکوع کی ایک آیت میں لفظ رعد آیا ہے اسی مناسبت سے نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے اس سورت کا نام ” الرعد “ رکھا ہے۔ رعد کے معنی بادلوں کی گرج کے آتے ہیں۔ یہ سورت مکہ کے آخری دور میں نازل ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر جس کتاب (قرآن مجید) کو نازل کیا ہے وہ ایک سچائی اور ہدایت و رہنمائی کی روشنی ہے جو ہر طرح کے شک اور شبہ سے بالاتر ہے اور قیامت تک آنے والے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے بھیجی گئی ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات وصفات، وحدانیتا ور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے ذکر کے ساتھ عظمت قرآن حکیم، دنیا و آخرت میں نیکی، جنت و جہنم اور ملائکہ پر ایمان لانے کو نجات کا ذریعہ فرمایا ہے اس سورت کی ابتداء ” آلمر “ سے کی گئی ہے جن کو حروف مقطعات کہتے ہیں۔ گزشتہ کئی سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بتا دیا گیا ہے کہ ان حروف کے معنی کا علم اللہ رب العالمین کو ہے۔ ممکن ہے کہ ان حروف کے معانی رسول اللہ ﷺ کو بتا دیئے گئے ہوں۔ اس سلسلہ میں صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی سوال نہیں کیا اور نہ آپ نے اس کی وضاحت فرمائی اس لئے ہمارا ایمان ہے کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان حروف سے کیا مراد ہے ؟ اس سورت کی ابتداء ” تلک ایت الکتب “ سے کی گئی ہے یعنی قرآن حکیم وہ کتاب ہدایت ہے جو ہر طرح کے شک و شبہ سے بالاتر ہے جس کو اس اللہ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل کیا ہے جو ایک صاف اور واضح حقیقت ہے جس میں کہیں بھی فلسفیانہ انداز بیان یا منطقی ایچ پیچ نہیں ہے۔ خالق کائنات نے اس قرآن کریم کو نبی کریم ﷺ کے واسطہ سے ساری دنیا تک پہنچایا ہے تاکہ وہ ہدای کی روشنی حاصل کرسکیں۔ اس قرآن کو رسول اللہ ﷺ نے خود سے نہیں گھڑ لیا ہے بلکہ اس کو اللہ نے نازل کیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل اس کائنات کی تخلیق و پیدائش ہے۔ اس نے چاند، سورج، ستارے، فضائیں ہوائیں پیدا کئے جن کے پیدا کرنے میں کوئی اس اللہ کا شریک نہیں ہے۔ جس طر کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ یہ کارخانہ عالم خود بخود نہیں چل رہا ہے بلکہ اس کو چلانے والی ذات اللہ کی ذات ہے وہی اس کا خلاق ومالک ہے اس نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اس قرآن حکیم کو نازل کیا ہے۔ فرمایا کہ اس نے آسمانوں کو اس طرح بنایا ہے کہ اس میں نہ ستون ہیں نہ وہ کسی کے سہارے کھڑے ہیں صرف اسی کی قدرت کا مل سے قائم ہیں۔ اسی نے زمین اور اس کے ذرے ذرے کو پیدا کیا وہی اس کے نظام کو سنبھالے ہوئے ہے۔ جس طرح آسمان، زمین بغیر کسی ہسارے کے قائم ہیں۔ اسی طر وہ اللہ اس نظام کائنات کے چلانے میں کسی سہارے کا محتاج نہیں ہے بلکہ ساری مخلوق ہر آن اسی کی محتاج ہے۔ اس نے اس پوری کائنات کو چھ دن میں مکمل کیا اور پھر وہ تھک کر آرام کرنے نہیں لگ گیا جیسا کہ یہود کا خیال ہے بلکہ وہ آسمان پر ” مستوی “ ہوگیا۔ ” استوی علی العرش “ کا مطلب ہے کہ اس کی سلطنت اور نظم و انتظام ایسا ہے کہ اس کا کوئی حصہ یا گوشہ نہ تو اس کے اقتدار و قوت سے باہر ہے نہ وہ اس کے انتظام کے چلانے میں کسی دوسرے کا محتاج ہے۔ دنیا کے ان بادشاہوں کی طرح نہیں ہے جو صرف اقتدار اور کرسی پر ہوتے ہیں اور سلطنت کے ہزاروں پہلوان سے پوشیدہ ہوتے ہیں بلکہ اس کے اقتدار قوت کا تو یہ عالم ہے کہ کسی درخت کا ایک پتہ بھی زمین پر گرتا ہے تو اس کو معلوم ہے بلکہ اسی کے حکم سے پتہ زمین پر گرتا ہے۔ پھر کائنات کی ہر چیز میں ایسا تو ازن اور مقدار متعین ہے جس میں ہر چیز اپنا کام سرانجام دے رہی ہے۔ یہ تو ازن اور اعتدال خود اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ جس طرح ہر چیز میں تو ازن و اعتدال ہے آخر کار وہ ایک معین مدت کے بعد ختم ہوجائے گا۔ یہاں تک کہ ہر انسان کو بھی ایک مدت کے بعد موت کی نیند سونا ہے اور پھر قیامت میں دوبارہ اٹھ کر میدان حشر میں اپنے تمام اعمال کا حساب کتاب پیش کرنا ہے۔ اس دن اللہ و رسول کے فرمان برداروں اور نیکو کاروں کو ان کے نیک اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان کو جنت کی ابدی اور راحت بھری زندگی عطا کردی جائے گی لیکن جو لوگ جانتے بوجھتے سچائیوں سے منہ موڑ کر چلنے والے ہیں۔ شرک و کفر اور اللہ کی نافرمانی اور گناہوں میں مبتلا رہے ہیں ان کو جہنم میں ہمیشہ کے لئے بھیج دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نظام قدرت کو تفصیل سے ارشاد فرمایا کہ زمین کی ہر چیز کو اس نے انتہائی خوبصورت سے سجایا ہے۔ لہلہاتے ہوئے کھیت، سرسبز و شاداب وادیاں، تنا ور درخت طرح طرح کے پھل پھول اور سبزیاں وغیرہ انسانوں کے لئے پیدا کیں تکاہ وہ اپنی دنیاوی زندگی میں ان کو کام میں لائیں اوف ائدے حاصل کریں۔ اس نے پہاڑوں کو پیدا کیا تاکہ زمین اپنی جگہ جمی رہے اور زمین ایک طرف کو نہ ڈھلک جائے۔ رات اور دن کو پیدا کیا۔ نظام اس طرح بنایا کہ رات کو راحت و آرام کیلئے اور دن کو طلب معاش یعنی روزی حاصل کرنے کے لئے بنایا۔ اس نے ہر چیز کے نر اور مادہ کے جوڑے بنائے اور ان میں ایک ایسا خوبصورت رابطہ اور تعلق پدیا کیا کہ انسان ان پر جتنا بھی غور و فکر کرتا جائے گا وہ حیرت و تعجب میں ڈوبتا چلا جائے گا۔ یہ اسی کی قدرت ہے کہ زمین ایک ہے، پانی، ہوا فضا میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن پھولوں کے رنگ، درختوں کی پھبن، پھلوں کے مزے مختلف ہیں، کوئی میٹھا ہے، کوئی کڑوا ہے، کوئی کسیلا ہے، کوئی سخت، کوئی نرم، کوئی سفید اور کوئی سایہ۔ اسی رط انسان ایک ماں باپ سے پیدا ہوتا ہے ایک ہی گھرانہ ہے ایک ہی ماحول ہے لیکن ہر انسان دوسرے سے مختلف ہے۔ اس طرح ہر انسان کس قدر مختلف صفات رکھتا ہے کوئی مومن ہے کوئی کافر کوئی فرماں بردار ہے کوئی نافرمان کوئی عقلمند ہے کوئی بیوقوف ، کوئی نیک ہے اور کوئی بدکردار، یہ سب اللہ کا نظام ہے، گلہائے رنگا رنگ سے ہے رونق چمن۔ اسی طرح اگر غور کیا جائے تو ہر چیز کے اثرات بھی مختلف ہیں مثلاً قرآن کریم ایک ہے لیکن اس کے اثرات کتنے مختلف ہیں۔ نیک فطری انسان اس سے ہدایت حاصل کرتے ہیں اور بد فطرت انسان اس کی بھلائیوں سے محروم رہتے ہیں۔ غرضیکہ کائنات میں اگر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ دنیا خود بخود نہیں چل رہی ہے بلکہ اس کا چلانے والا کوئی ہے اور قرآن کریم اسی حقیقت کو بتانا چاہتا ہے کہ اس پورے نظام کائنات کو چلانے ولا ایک اللہ ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی نے اس کتاب قرآن مجید کو نازل کیا ہے اس کو پڑھ کر جسکا دل چاہے حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی بن جائے اور جس کا جی چاہے وہ قرآن کی ہدایت سے دور رہ کر ابوجہل، ابولہب، عتبہ اور ولید بن جائے۔ اللہ نے ہدایت اور گمراہی کے راستے کھلے رکھے ہیں لیکن ہر شخص اپنے انجام کو پیش نظر رکھے کیونکہ اللہ نے ہمیشہ دنیا و آخرت میں ان ہی لوگوں کو سرخرو کیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کو مان کر چلنے والے ہیں۔ دنیا بھی ان کی ہے اور آخرت کی ابدی راحتیں بھی ان ہی کا مقدر ہیں۔
Ayahs 13:5–7

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اور اگر تم (کسی بات میں ) تعجب کرسکتے ہو تو ان لوگوں کا قول قابل تعجب ہے جنہوں نے یہ کہا کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم ایک نئی زندگی پائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا۔ ان لوگوں کی گردنوں میں طوق ہوں گے۔ یہی جہنمی ہیں جس جہنم میں لوگ ہمیشہ رہیں گے۔

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ وہ لوگ آپ سے رحمت کے بجائے جلد ہی عذاب مانگ رہے ہیں۔ حالانکہ ان سے پہلے قوموں کی عبرت ناک مثالیں گذر چکی ہیں۔ بیشک آپ کا رب ان کی خطاؤں کے باوجود لوگوں کو معاف کردینے والا ہے۔ اور بیشک آپ کا رب شدید عذاب بھی دینے والا ہے۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور وہ کافر کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی معجزہ کیوں نہیں اتارا گیا۔ (اے نبی ﷺ کہہ دیجیے کہ) آپ محض (اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لئے ہدایت دینے والے آتے رہے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 7 تعجب تو تعجب اور حیرت کرتا ہے ءاذا کیا جب تراب مٹی خلق جدید نئی پیدائش الا غلل طوق۔ گلے کا ہار اعناق (عنق) ۔ گردنیں یستعجلون وہ جلدی مچاتے ہیں السیئۃ برائی الحسنۃ نیکی، بھلائی قدخلت یقینا گذر گئی المثلت (مثل) عبرت کے واقعات ذو مغفرۃ معافی دینے والا شدید العقاب سخت عذاب دینے والا ایۃ نشانی، معجزہ منذر ڈرانیو الا ھاد ہدایت دینے والا۔ رہنمائی کرنے والا تشریح : آیت نمبر 5 تا 7 کفار مکہ ہر روز کوئی نہ کوئی اعتراض کر کے اپنی جہالت، تعصب اور حسد کا اظہار کرتے رہتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام شبہات اور سوالات کے جوابات گزشتہ آیات میں دے کر ایک مرتبہ پھر ان کے چند شبہات اور سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے ہیں۔ ان کے تین سوالات تھے : 1) جب ہم مر کر خاک ہوجائیں گے تو مہارے اجزاء کیسے جمع ہو کر ہم دوبارہ زندہ ہوں گے۔ 2) بجائے خیر اور بھلائی مانگنے کے وہ کہتے تھے کہ وہ جس عذاب کا وعدہ کر رہے ہیں آخر وہ کب آئے گا ؟ 3) اگر یہ سچے نبی ہیں تو کوئی معجزہ کیوں نہیں دکھاتے ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا ہے کہ : 1) کتنے تعجب کی بات ہے کہ وہ ایسی بات کر رہے ہیں جس کی کوئی اصل اور بنیاد نہیں ہے۔ ان کا یہ سوال بڑا ہی حیرتناک ہے کہ وہ اللہ کی قدرت کا انکار کر رہے ہیں حالانکہ جس نے انسانوں کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے دوبارہ پیدا کرنا کونسی مشکل بات ہے۔ کوئی بھی مشین پہلی مرتبہ بناتے ہیں تو دشواری ہوتی ہے لیکن اس کے بن جانے کے بعد دوبارہ بنانا تو ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ پھر یہ کہ ہم تو کس یچیز کے بنانے کے لئے اسباب کے مخاطب ہیں جب کہ اللہ کسی سبب کا محتاج نہیں ہے وہ تو صرف ” کن “ کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ چیز ہوجاتی ہے ، وجود اختیار کرلیتی ہے۔ فرمایا کہ درحقیقت یہ لوگ اللہ کی قدرت کے منکر ہیں ان کا انجام یہ ہوگا۔ کہ ان کے گلے میں طوق پڑا ہوا ہوگا۔ اور ہاتھوں اور پاؤں میں ہتھکڑیاں پہنا کر ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔ 2) کفار و مشرکین کا یہ سوال کہ اللہ کے نبی جس عذاب کا وعدہ کر رہے ہیں آخر وہ کب آئے گا ؟ ہم تو روز روز سن کر عاجز آ چکے ہیں۔ فرمایا کہ اول تو عذاب کالا نایہ نبی ﷺ کے اختیار میں نہیں ہے یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے ممکن ہے اور اللہ کا یہ حکم پہلی قوموں پر بھی آچکا ہے۔ یہ اللہ کا حلم و برداشت اور عفو و کرم ہے کہ وہ ان کی ان گستاخانہ باتوں کے باوجود ان پر عذاب نازل نہیں کرتا لیکن اگر ان کی شرارتوں اور اللہ سے بغاوتوں کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو وہ وقت دور نہیں ہے کہ جب ان پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑے گا اور پھر یہ اس سے کسی حال میں بچ نہ سکیں گے۔ ان کو تو عذاب کے بجائے خیر مانگنی چاہئے تھی لیکن ان کو تو عذاب کی اتنی جلدی پڑی ہوئی ہے کہ اللہ سے خیر اور عافیت مانگنا ہی بھول گئے۔ فرمایا کہ اللہ تو بڑا مغفرت کرنے والا ہے وہ کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کرتا لیکن لوگ خود ہی اپنے پاؤں پر کہلاڑی مارنے کے لئے تیار رہتے ہیں اور انجام پر غور نہیں کرتے ان کا انجام بہت برا ہوتا ہے اور گذری ہوئی قوموں کے برے اعمال کے بدلے میں جو بھی عذاب آیا وہ اتنا سخت اور شدید تھا کہ اپنی اسری قوتوں اور طاقتوں کے باوجود اپنے تہذیب و تمدن اور اپنے وجود کو اللہ کے عذاب سے بچا نہ سکے۔ 3) کفار مکہ کے اس مطالبہ پر کہ اے نبی ﷺ ! اگر آپ سچے نبی ہیں تو آپ پر معجزات کیوں نازل نہیں کئے گئے۔ فرمایا کہ اے نبی ! آپ اللہ کے خوف سے ڈرانے والے اور جس طرح اور امتوں میں اللہ کے نبی آکر ہدایت کرتے رہے ہیں آپ بھی ایک ہادی اور رہبر ہیں معجزات کا دکھا اللہ تعالیٰ کے اختیار ہیں ہے وہ جب چاہے معجزات کو نازل کرسکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس سے پہل یقوموں کے سامنے تو تڑے بڑے معجزات دکھائے گئے کیا وہ ان معجزات کو دیکھ کر ایمان لائے ؟ یقینا جس کو ایمان لانا ہوتا ہے وہ معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا اور جس کو ایمان نہیں لانا ہے وہ معجزات دیکھ کر بھی اپنے کفر و شرک پر قائم رہتا ہے اور دولت ایمان سے محروم رہتا ہے۔
Ayahs 13:8–11

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

اللہ اس حمل سے واقف ہے جو رحم میں ہوتا ہے اور جو کچھ رحم میں سکڑتا اور بڑھتا ہے اور اس کے ہاں ہر چیز ایک مقدار کے مطابق ہے

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ موجود اور غائب کا جاننے والا اور بلندو برتر ہے۔

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

اس کے لئے یکساں ہے کہ بات زور سے کہی جائے یا آہستہ سے اور جو رات میں کہیں چھپ رہا ہے یا دن میں چل رہا ہے

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

ہر ایک کے آگے اور پیچھے اس کے پہرے دار ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ بے شک اللہ لوگوں کے کسی حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت میں تبدیلی پیدا نہ کرلیں اور جب اللہ کسی قوم پر مصیبت ڈالنے کا فیصلہ کرتا ہے تو پھر اس کے ٹلنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی اور ان کے لئے اس کے سوا کوئی مددگار بھی نہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 8 تا 11 یعلم وہ جانتا ہے تحمل اٹھاتی ہے انثی مادہ، عورت تغیض کمی ہوتی ہے تزداد اضافہ ہوتا ہے کل شیء ہر چیز بمقدار اندازے سے الکبیر بڑا بزرگ المتعال برتر۔ زیادہ اونچا سواء یکساں اسر جس نے چھپایا جھر جس نے کھل کر کیا۔ زور سے کیا مستخف اسم فاعل سارب چلنے والا معقبت (مقبت) ایک کے پیچھے دوسرے کا آنا۔ پہرے دار یحفظون حفاظت کرتے ہیں لایغیر وہ تبدیل نہیں کرتا حتی یغیروا جب تک وہ نہ بدلیں لامرد نہیں ہٹانے والا۔ نہیں ٹلانے والا وال حمایتی۔ مددگار تشریح : آیت نمبر 8 تا 11 اللہ تعالیٰ کا علم کتنا وسیع ہے ؟ اس کا انتظام کتنا حسین ہے ؟ اس کی قدرت کائنات کی ہر چیز پر کس طرح محیط ہے ؟ انسان اگر ذرا بھی غور کرلے تو اس کو ذرہ ذرہ میں یہ سچائی جھلکتی نظر آجائے گی کہ اللہ کا علم اس کا انتظام اور قدرت کائنات کے ذرے ذرے پر محیط ہے۔ ماں کے پیٹ میں جس بچے نے اللہ کی قدرت سے وجود اختیار کیا ہے اس کا پوری طرح اللہ کو علم ہے۔ انسانوں کی بنائی ہوئی مشینیں یہ تو معلوم کرسکتی ہیں کہ ماں کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی ہے یا اس کی کیا پوزیشن ہے لیکن دنیا کی کوئی الٹرا ساؤنڈ مشین یہ نہیں بتا سکتی کہ یہ انسانی بچہ جو اس دنیا میں قدم رکھا رہا ہے وہ خوبصورت ہے یا بدصورت۔ وہ کب تک زندہ رہے گا اور کب اس کی موت آجائے گی۔ وہ بچہ والدین کا فرماں بردار ہوگا۔ یا نافرمان، ایمان پر قائم رہے گا یا کفر پر مرے گا، وہ دنیا میں کیسا مقام حاصل کرے گا ان تمام باتوں کا علم اللہ کو ہے وہ ان تمام باتوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ صحیح بخاری میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع ہوتی رہتی ہے چالیس دن کے بعد وہ جما ہوا خون بن جاتا ہے۔ پھر چالیس دن میں گوشت کالوتھڑا بن جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جسے چار باتوں کے لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ 1) رزق کتنا ملے گا ؟ 2) عمر کتنی ہوگی ؟ 3) نیک ہوگا۔ ؟ 4) یا برا آدمی ہوگا۔ ؟ غرضیکہ اللہ تعالیٰ کو اس بچے کی ایک ایک کیفیت کا پوری طرح علم ہوتا ہے اس سے کوئی بات چھی ہوئی نہیں ہے۔ فرمایا کہ وہ اللہ انسان کے دل کی ہر بات کو جانتا ہے وہ انسان اس کی ساری دنیا سے چھپا لے لیکن دلی جذبہ بھی اللہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اللہ نے ہر انسان پر ان فرشتوں کو بٹھا رکھا ہے جو اس کی ایک ایک بات کو ریکارڈ کر رہے ہیں۔ یہ فرشتے تھکتے نہیں ہیں بلکہ اس نے اپنی قدرت سے ایسا انتظام کر رکھا ہے کہ صبح کے فرشتے اور ہوتے ہیں اور شام اور رات کے فرشتے دوسرے ہوتے ہیں وہ ہر اچھی یا بری بات کو لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ باطنی نظام ہے۔ جو کسی کو ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ لیکن اس سچائی سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس پوری کائنات کا پورا نظام اسی طرح چل رہا ہے جس طرح اس کائنات کا مالک اس کو چلا رہا ہے۔ وہ اس کائنات کو چلانے میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ یہ اسی کی قدرت ہے کہ وہ دو متضاد چیزوں کو ایک جگہ رکھ کر ان کی پرورش کر رہا ہے یہ کسی انسان کے بس کی بات نہ تھی۔ آخر میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس علم و معلومات کے باوجود کسی کا ہاتھ پکڑ کر اس کو راہ ہدایت نہیں دکھاتا بلکہ اللہ نے جو نظام بنایا ہے اس پر غور کرنے والے جب اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں تب اللہ کی توفیق ان کے ساتھ ہوتی ہے لیکن اللہ کسی شخص شیا قوم کے حالات کو اس وقت تک تبدیل نہیں کرتا جب تک وہ خود اپنے اندر انقلابی تبدیلیاں پیدا نہیں کرلیتے۔ اللہ اپنے بندوں پر کرم ہی کرم فرماتا ہے لیکن اگر وہ کسی کو کسی طرح کا نقصان پہنچائے یا اس پر عذاب نازل کرے تو ساری دنیا مل کر بھی اس کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ اس کی مدد کے لئے کوئی بھی نہیں آسکتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات میں اللہ ہی کی ذات کو تمام کمالات حاصل ہیں اور اس کو ہر طرح کا علم ہے جو لوگ اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کر کے اللہ کو راضی کرلیتے ہیں وہی خوش نصیب ہیں اور جو لوگ اس سعادت سے محروم رہتے ہیں وہ اللہ کے عذاب کو دعوت دیتے ہیں اور پھر کسی طرح اس سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتے۔
Ayahs 13:12–15

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے جس میں امید اور خوف اندیشے دونوں ہوتے ہیں اور وہ ان بادلوں کو بلند کرتا ہے جو پانی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور بادلوں کی گرج چمک اور فرشتے اس کے خوف سے اس کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور وہی گرجنے والی بجلیاں بھیجتا ہے۔ پھر انہیں جس پر چاہتا ہے گراتا ہے اور وہ (کافر) اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ حالانکہ وہ اللہ گرفت کرنے میں سخت ہے۔

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

اس کو ہی پکارنا سچ ہے اور وہ جن لوگوں کو اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کے کچھ بھی کام نہیں آتے مگر جیسے کسی نے دونوں ہاتھ پانی کی طرف بڑھائے کہ اس کے منہ تک آپہنچے اور وہ اس کے (منہ تک) کبھی نہ پہنچے گا اور کفار کی پکار سوائے گمراہی کے کچھ بھی نہیں ہے

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور جو بھی زمین میں اور آسمانوں میں ہے وہ خوشی سے یا مجبوری سے اسی کو سجدہ کرتا ہے اور صبح و شام کے سائے بھی (اس کو سجدہ کرتے ہیں)

لغات القرآن آیت نمبر 12 تا 15 البرق بجلی ۔ چمک طمع امید ینشئی وہ اٹھاتا ہے السحاب بادل الثقال بھاری یسبح تسبیح کرتا ہے الرعد کڑک خیفۃ (اس کے ) خوف (سے) یرسل وہ بھیجتا ہے الصواعق بجلیاں۔ کڑک یصیب وہ پہنچاتا ہے۔ گراتا ہے یجادلون وہ جھگڑتے ہیں شدید المحال سخت پکڑنے والا دعوۃ الحق سچائی کی پکار لایستجیبون وہ جواب نہیں دیتے ہیں باسط پھیلانے والا لیبلغ تاکہ وہ پہنچے فاہ منہ بالغ پہنچنے والا طوع خوشی کرہ مجبوری بےبسی ظلل (ظل) ۔ سائے الغدو صبح الاصال شام تشریح : آیت نمبر 12 تا 15 یہ کائنات اور اس کا نظام کیا ہے ؟ اس کی حقیقت کا تو ہمیں علم نہیں ہے اس کا علم صرف اللہ کو ہے البتہ اپنی معلومات اور تحقیق سے ہمیں جو بھی نظر آتا ہے ہم اس کا اظہار کردیتے ہیں۔ لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں یا سوچ رہے ہیں وہ واقعی سچ ہے۔ دنیا کے سائنسدان، فلاسفر اور دانش و ریہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے جو نظر یہ پیش کیا ہے وہ اتنا صحیح ہے کہ اس میں تبدیلی ناممکن ہے مثلاً دو ہزار سال تک دنیا بھر کے سائنسدان اور فلاسفرز کا یہ خیال تھا کہ زمین ساکن ہے، آسمان اس کے گرد گھوم رہا ہے اور چاند، سورج اور ستارے آسمان پر جڑے ہوئے ہیں۔ صرف ایک دوربین کی ایجاد نے دو ہزار سال کے اس فلسفے کو تلپٹ کر کے رکھ دیا اور یہ ثابت کردیا کہ زمین تو خود گردش میں ہے وہ اپنے سورج کے گرد گھوم کر دن، رات، ہفتے، مہینے اور سال بنا رہی ہے۔ اس طرح ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ روزانہ سورج نکل رہا ہے، چاند چمک رہا ہے، ستارے ٹمٹا رہے ہی، اونچے اونچے پہاڑ میخوں کی طرح زمین میں گڑے ہوئے ہیں، دریا، ندیاں بہہ رہی ہیں اور سمندر موجیں مار رہا ہے، ہواؤں کے دوش پر بادل اڑ رہے ہیں، گرج چمک کے ساتھ آنکھوں کو چکا چوند کرنے والی بجلی چمک رہی ہے، بارشیں برس رہی ہیں، زمین میں ایک نئی زندگی کروٹیں لے رہی ہے۔ لیکن اتنے بڑے نظام کو کون چلا رہا ہے، جب ایک مشین بھی خود بخود بن کر اپنے آپ کام نہیں کرسکتی تو کیا اس پوری کائنات کو پیدا کرنے والا اور چلانے والا کوئی نہیں ہے۔ ہر انسان کی فطرت چلا اٹھے گی کہ اس کائنات کو پیدا کر کے اس کو چلانے والی ذات کوئی ہے اور صرف اللہ ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کا ایک نظام تو وہ ہے جو ہمیں نظر آتا ہے اور دن رات اس تجربے سے ہم گذرتے ہیں۔ لیکن اس نظام کے پیچھے ایک اور روحانی نظام کارفرما ہے جو ہمیں نظر نہیں آتا مثلاً یہ یہ دیکھتے ہیں کہ گرمی پڑی، سمندر سے مان سون اٹھا، بادل بنے اور کڑک چمک کے ساتھ کسی جگہ جا کر برس گئے اور مردہ زمین میں ایک نئی زندگی پیدا ہوگئی۔ لیکن قرآن کریم اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پورے نظام پر اللہ نے فرشتے مقرر کئے ہوئے ہیں حدیث میں آتا ہے کہ ” رعد “ ایک فرشتہ کا نام ہے جو بجلی کے کوڑے سے بادلوں کو ہانکتا ہے یہ فرشتہ اللہ کی تسبیح کرتا رہتا ہے، انسان اور حیوان ان کی اس تسبیح کی آواز تو نہیں سنتے البتہ بادلوں کی ہیبت ناک آواز کو سب سنتے ہیں۔ مشرکین اور کفار کا عقیدہ یہ ہے کہ جب ان کا معبود ان سے ناراض ہوجاتا ہے تو یہ گرجچ چمک اور کڑک پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ جس بجلی کو تم اس امید کے ساتھ دیکھتے ہو کہ وہ برس کر تمہارے کھیتوں کو سیراب کر دے گی اور اس کڑک اور گرج اور بجلی سے تم خوف زدہ ہوجاتے ہو جو چمکتی رہتی ہے اور دلوں کو ہلا ڈالتی ہے۔ یہ سب کچھ تمہیں کون دکھاتا ہے ؟ جواب یہ ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جو پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔ بادلوں کی اس گرج چمک سے اس کے فرشتے بھی خوف سے اس کی تسبیح کرنے لگتے ہیں اور اس کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں۔ پھر اللہ جس پر چاہتا ہے اس بجلی کو گراتا ہے۔ اس وقت وہ کفار اللہ کو پکارنے کے بجائے اپنے جھوٹے معبودوں کو پکارنے لگتے ہیں۔ حالانکہ وہ لوگ جن جھوٹے معبودوں کو پکارتے ہیں اس کائنات کے نظام میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے وہ ایک بےحقیقت اور بےجان چیزیں ہیں۔ پھر بھی وہ اپنے ان معبودوں سے مانگتے ہیں ۔ ایسا ہی ہے جیسے کوئی پیاسا آدمی پانی کی طرف ہاتھ بڑھائے تاکہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے اور وہ پانی اس کے منہ تک نہ پہنچے۔ یعنی جیسے یہ کوشش لا حاصل اور فضول ہے اسی طرح غیر اللہ کو پکارنا اس کو سجدے کرنا انتہائی احمقانہ حرکت ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ فرمایا کہ کیا تم نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ اس کائنات کی ہر چیز خوشی سے یا مجبوری سے اسی کے سامنے سجدہ کررہی ہے۔ اس کے حکم کی تعمیل کر رہی ہے اور صبح و شام کے سائے بھی در حقیقت اسی معبود حقیقی کو سجدے کر رہے ہیں۔
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ان سے پوچھئے) کہ آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے ؟ آپ کہہ دیجیے کہ اللہ ہے۔ آپ کہیے کیا تم اس کے سوا دوسروں کو حمایتی بناتے ہو جو اپنے نفع اور نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہا اندھا اور آنکھوں والا کیا برابر ہیں ؟ اور کیا اندھیرا اور روشنی یکساں ہیں کیا انہوں نے اللہ کے لئے ایسے شریک قرار دے رکھے ہیں جنہوں نے کچھ پیدا کیا ہے جیسا کہ اللہ نے پیدا کیا ہے کہ اس کی وجہ سے ان پر تخلیق کا معاملہ مشتبہ ہوگیا ہے۔ آپ کہہ دیجیے کہ اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ وہ یکتا ہے اور غلبہ و قوت رکھتا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 16 من کون ؟ افاتخذتم کیا پھر تم نے بنا لیا ہے تستوی برابر ہوتا ہے الاعمی اندھا البصیر دیکھنے والا الظلمت اندھیرے النور روشنی تشابہ شبہ پڑگیا القھار (اللہ کی صفت) زبردست غلبہ والا تشریح : آیت نمبر 16 عرب کے کفار اور مشرکین غیر اللہ کو سجدے کرتے تھے۔ بتوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوتے اور اپنی تمناؤں کی تکمیل کے لئے دعائیں کرتے تھے لیکن اس کیس اتھ ساتھ وہ اس بات کے بھی قائل تھے کہ اس کائنات کو اور اس کے ذرے ذرے کو اللہ نے پیدا کیا ہے وہ ساری کائنات کا خلاق ومالک ہے جب ان سے یہ پوچھا جاتا تھا کہ پھر تم اس ایک اللہ کی عبادت و بندگی کیوں نہیں کرتے اور بتوں کے وسیلے سے کیوں مانگتے ہو ؟ ان کا جواب یہی ہوتا تھا کہ ہم اللہ ہی کو مانتے ہیں وہی سب کچھ کرنے والا ہے۔ لیکن ہم ان بتوں کو اللہ کی بارگاہ میں سفارشی سمجھتے ہیں یعنی جب تک یہ ہماری دعائیں اللہ تک نہ پہنچا دیں اس وقت تک اللہ ہماری نہیں سنے گا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ اللہ تو ایسا ہے کہ انسان کی رگ جاں سے بھی زیادہ قریب ہے وہ اتنا قریب ہے کہ جب کوئی مومن سجدہ کرتا ہے تو اس کا سر زمین پر نہیں بلکہ اللہ کے قدموں میں ہوتا ہے۔ وہ رات کی تنہائیوں میں چھپ کر مانگے یا دن کی روشنی میں کھلم کھلا مانگے وہ اپنے بندوں کی سنتا ہے۔ اس تک بات پہنچنے کے لئے کسی واسطے یا وسیلے کی ضرورت نہیں ہے۔ انسان جب بھی مانگے صرف اللہ ہی سے مانگے وہ اس کی ہر مراد کو پورا فرمائے گا۔ آج کل بعض لوگ کہتے ہیں کہ اللہ براہ راست کسی کی نہیں سنتا بلکہ اس کے لئے وسیلہ کی ضرورت ہے جس طرح کسی آفیسر کے پاس جانے کے لئے پہلے سیکریٹری کے پاس جانا پڑتا ہے پھر آفیسر تک پہنچتا ہے۔ میں جب بھی ایسی بات سنتا ہوں تو ایسے لوگوں کی عقل پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے مثال بھی دی تو انگریزی نظام حکومت کی جس میں آفیسر تک پہنچنے کے لئے سیکریٹریوں کی لائن ہوتی ہے۔ اگر یہ لوگ خلفاء راشدین کی مثال دیتے تو بات سمجھ میں آتی کیونکہ خلفاء راشدین تو وہ تھے جن کے گھروں میں یا ان گورنروں کے ہاں کوئی سیکریٹری نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ براہ راست ہر شخص سے ہر وقت ملتے تھے۔ یہ سیکریٹریوں کی بیماری تو انگریزی بہادر کے نظام کا حصہ ہے اسلامی نظام کا حصہ نہیں ہے۔ بہرحال یہ لوگ جاہلوں کو سمجھانے کے لئے ایسی جاہلانہ مثالیں دیتے ہیں جس کی کوئی تک نہیں ہے خلاصہ یہ ہے کہ کفار مکہ بھی بتوں کو معبود نہیں بلکہ اللہ کے پاس سفارشی مانتے تھے اللہ نے اس آیت میں یہی سوال کیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے پوچھئے آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے کون ان کا رب ہے ؟ فرمایا کہ اے نبی ! ان سے کہہ دیجیے اللہ ہی ان تمام چیزوں کو پیدا کرنے والا پروردگار ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! ان سے پوچھئے کہ پھر تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت و بندگی کیوں کرتے ہو جو اپنے نفع اور نقصان کے مالک بھی نہیں ہیں یہ تمہیں کیا نفع اور نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہئے کہ کیا ایک اندھا اور آنکھوں والا برابر ہو سکتا ہے۔ کیا اندھیرا اور روشنی یکساں ہو سکتے ہیں۔ یقینا نہیں ۔ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو توحید کے منکر ہیں اور اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ان کو آنکھوں کے نور اور روشنی سے محروم شخص بتایا لیکن جو لوگ اللہ کو ماننے والے اسی کی عبادت و بندگی کرنے والے ہیں اللہ کے نور سے آراستہ آنکھوں والے ہیں۔ فرمایا کہ ان کو یہ نظر نہیں آتا جن کو وہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں کہ وہ خود اپنے وجود میں دوسروں کے ہاتھوں کے محتاج ہیں جنہوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ انسانی ہاتھوں سے پیدا کئے گئے ہیں۔ فرمایا کہ اس قدر واضح اور روشن بات کو سمجھنے میں آخر کس شک و شبہ کی گنجائش ہے ؟ فرمایا کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق اور مالک ہے وہ اپنی ذات میں ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے وہ کائنات کی ساری قوتوں کا تنہا مالک ہے یعنی صرف ایک اللہ ہی تمام تر عبادتوں اور بندگیوں کا مستحق ہے۔
Ayahs 13:17–18

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اس نے بلندی سے پانی اتارا۔ پھر ندی نالے اپنی مقدار کے مطابق چلنے لگے۔ پھر وہ پانی اپنے ساتھ جھاگ لے آیا اور جو لوگ زیور کو آگ میں تپاتے ہیں تو اس میں بھی ایسا ہی میل کچیل اوپر آجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حق و باطل کی مثال اس طرح بیان کرتا ہے تو جو میل کچیل ہوتا ہے اس کو پھینک دیا جاتا ہے اور جو چیز لوگوں کو نفع دینے والی ہے وہ زمین میں باقی رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس طرح کی مثالیں (وضاحت کے لئے) بیان کرتا ہے۔

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مان لیا ان کے لئے بھلائی ہے اور جن لوگوں نے اسکا کہا نہیں مانا اگر وہ زمین میں جو کچھ بھی ہے اور اس جیسا اور بھی فدیہ میں دے کر (جان چھڑانا چاہیں گے تو) جان نہ چھوٹے گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا حساب سخت ہوگا۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 18 سالت بہہ نکلے اودیۃ ندی۔ نالے احتمل اٹھایا السیل ندی کا بہاؤ زبد جھاگ رابی جمع ہونے والا یوقدون جلاتے ہیں۔ دھونکاتے ہیں ابتغاء حاصل کرنا حلیۃ زیور متاع سامان یذھب جاتا ہے جفاء سوکھنا یمکت رک جاتا ہے یضرب وہ مارتا ہے۔ چلاتا ہے الحسنی بھلائی افتدوا انہوں نے فدیہ دیا۔ بدلہ دیا سوء الحساب برا حساب ماویٰ ٹھکانا المھاد بستر۔ ٹھکانا تشریح : آیت نمبر 17 تا 18 گزشتہ آیات میں توحید کا بیان فرمایا گیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اگر کفار سے یہ پوچھا جائے کہ اس کائنات کو اور اس کے ہر ذرے کو کس نے پیدا کیا تو ان کا جواب یہی ہوگا۔ کہ اللہ نے ہی ہر چیز کو اپنی قدرت سے پیدا کیا ہے۔ وہی حق ہے بقیہ سب کچھ باطل ہے۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ ہر شخص کو بتا دیجیے کہ حق آگیا ہے اور باطل مٹ رہا ہے اور باطل مٹنے کے لئے ہی ہے۔ یعنی حق اور سچائی کی یہ طاقت ہے کہ جب بھی حق کو نکھار کر سامنے لایا جائے گا تو وہاں باطل ٹھہر نہیں سکتا۔ کیونکہ باطل کے اندر کوئی طاقت نہیں ہوتی۔ اصل طاقت حق اور سچائی کی ہے۔ حق و باطل کے درمیان فرق واضح کرنے کی دو بہت خوبصورت مثالیں بیان کی گئی ہیں۔ فرمایا گیا کہ : 1) تم دیکھتے ہو کہ جب بادلوں سے پانی برستا ہے جو ندی نالوں کے ذریعہ ان کی گنجائش کے مطابق بہنے لگتا ہے۔ اس بہتے ہوئے پانی پر کوڑا کباڑ اور گھاس، پھوس بھی پانی کے ریلے کے ساتھ چلا آتا ہے۔ فرمایا کہ پانی کے اوپر جھاگ اور کوڑے کباڑ کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ اگر اس پانی کو استعمال کیا جائے تو پانی پیا جائے گا اور کوڑے کباڑ کو بےحقیقت سمجھ کر پھینک دیا جائے گا۔ یہی مثال حق و باطل کی ہے۔ جب بھی حق نکھر کر سامنے آتا ہے تو باطل کی حیثیت کوڑے کباڑ سے زیادہ نہیں رہ جاتی، ویسے پانی کے اوپر چھایا ہوا کوڑا کباڑ ایسے لگتا ہے جیسے پانی سے زیادہ کوڑا کباڑ ہے۔ لیکن اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہوتی۔ 2) اللہ تعالیٰ نے دوسری مثال یہ ارشاد فرمائی ہے کہ جب تیز آنچ پر سونا، چاندی، پیتل ، تانبا یا کوئی دھات پگھلائی جاتی ہے تاکہ اس سے زیور اور مختلف چیزیں تیار کی جائیں تو اس میں ایک خاص میل کچیل اس دھات پر ابھر آتا ہے۔ فرمایا کہ دنیا میں یہی ایک طریقہ ہے کہ دھات پر ابھرنے والا میل کچیل اتار کر پھینک دیا جاتا ہے اور سونا، چاندی اور دھات سے بہترین زیور اور برتن بنا لئے جاتے ہیں، سونے کے مقابلے میں جو حیثیت میل کچیل اور جھاگ کی ہے وہی مثال حق اور باطل کی ہے کہ جو آگ کی تیز سلگتی بھٹی سے گذر کر اصل سونا، چاندی اور دھات نکھر جاتی ہے اور اسی کی قیمت ہوتی ہے۔ فرمایا کہ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے تو وہ قلوب جن میں سچائی کی تڑپ موجود ہوتی ہے ان کی یہ سعادت ہے کہ وہحی کے انوارات سے اپنے دلوں کو روشن ومنور کرلیتے ہیں اور اعمال کے جھاگ اور کوڑے کباڑ کو نکال پھینکتے ہیں۔ ان آیات میں مکہ کے ان کفار سے جو اپنے آپ کو غرور وتکبر کا پیکر بنا کر یہ سمجھ رہے تھے کہ سب کچھ ہم ہی ہیں ان کو بتایا جا رہا ہے کہ تمہاری حیثیت بہتے پانی پر گھاس پھونس اور کوڑے کباڑ اور سونے چاندی اور دھاتوں پر چھائے ہوئے جھاگ سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر تم نے اللہ کے دین کو قبول کرلیا تو پھر تمہاری کوئی حیثیت ہوگی لیکن اگر حق وسچائی کو قبول نہیں کیا تو تمہاری زندگی اور زندگی کا یہ سامان جس پر تم اترا رہے ہو اس قدر بےحقیقت بن کر رہ جائے گا کہ جب قیامت کے دن اللہ کا عذاب تمہارے سامنے ہوگا۔ اور اپنی ملکیت کی ہر چیز اس کے بدلے میں دے کر عذاب سے جان چھڑانے کی کوشش کی جائے گی تو اس مال و دولت کو اللہ کے ہاں دے کر جان چھڑانا مشکل ہوجائے گا۔ عذاب سے نجات کے بجائے انتہائی ذلت کے ساتھ حساب کتاب لیا جائے گا اور جہنم جیسا بدترین مقام تمہارا ٹھکانا ہوگا۔ اور اگر ایمان و عمل صالح کا راستہ اختیار کرلیا گیا تو ہر شخص آخرت میں اس طرح پیش ہوگا۔ کہ جیسے نکھرا ہوا سونا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ایسے حق کے پرستاروں کو دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیاں عطا فرمائے گا۔
Ayahs 13:19–26

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

کیا پھر وہ شخص جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے وہ برحق ہے کیا ایسا شخص اس کے برابر ہو سکتا ہے جو (سچائی کو) دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا ہے (اندھا ہوتا ہے) ۔ حقیقت یہ ہے کہ نصیحت تو سمجھ دار لوگ ہی قبول کیا کرتے ہیں۔

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

(یہ سمجھ دار لوگ) وہ ہیں جو اللہ سے کئے ہوئے وعدوں کو پورا کرتے ہیں اور ان وعدوں کو (کسی حال میں) توڑتے نہیں ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے جن (رشتوں کو) جوڑ کر رکھنے کا حکم دیا ہے ان کو جوڑ کر رکھتے ہیں۔ وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب (کے انجام) سے خوف رکھتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے صبر کرتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے وہ چھپ کر اور کھل کر خرچ کرتے ہیں اور برائی کو نیکی سے ٹال دیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت کا گھر ہے

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

ان کے لئے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بھی داخل ہوں گے جو ان کے باپ دادے۔ ان کی بیویاں اور نیک اولادیں ہونگی اور ان پر ہر دروازے سے

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

فرشتے یہ کہتے ہوئے داخل ہوں گے کہ تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا پس تمہارے لئے آخرت کا بہترین گھر ہے

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو پکا عہد کرنے کے بعد اس کو توڑ دیتے ہیں اور اور ان (رشتوں کو) کاٹتے ہیں جن کو ملانے کا حکم دیا ہے اور زمین میں تباہی مچاتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر لعنت ہے اور ان کے لئے بدترین گھر ہے۔

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اللہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق (کے دروازے) کھول دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے اور وہ جس دنیاوی زندگی پر خوش ہو رہے ہیں (وہ یاد رکھیں کہ ) دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں متاع قلیل ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 26 افمن کیا پھر وہ شخص اعمی اندھا یتذکر دھیان دیتا ہے اولوالالباب عقل و فکر رکھنے والے یوفون پورا کرتے ہیں لا ینقضون وہ نہیں توڑتے ہیں المیثاق وہ پختہ عہد جس کو توڑا نہ جاسکے یصلون وہ ملاتے ہیں یخشون وہ ڈرتے ہیں یخشون وہ ڈرتے ہیں سوء الحساب بدترین حساب ابتغاء تلاش کرنا اقاموا انہوں نے قائم کیا انفقوا انہوں نے خرچ کیا سر چھپ کر علانیۃ کھلم کھلا یدرؤن وہ رد کرتے ہیں عقبی الدار آخرت کا گھر عدن راحت بھری جنت۔ رہنے کے باغات صلح درست کیا۔ اصلاح کرلی ازواج (زوج) ، بیویاں ، جوڑے ذریت (ذریتۃ) اولاد نعم بہترین یقطعون وہ کاٹتے ہیں ان یوصل یہ کہ وہ ملائیں یفسدون وہ فساد مچاتے ہیں۔ برباد کرتے ہیں یبسط وہ کھولتا ہے یقدر تنگ کردیتا ہے ۔ تشریح : آیت نمبر 19 تا 26 دنیا کا دستور یہ بن گیا ہے کہ جو شخص جتنی دولت اور دنیاوی مال و اسباب کمانے کی اہلیت رکھتا ہے اس کو معاشرہ میں انتہائی صاحب عقل و دانش سمجھ کر عزت کے مقام پر بٹھایا اجتا ہے۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس کے ذرائع آمدنی کیسے ہیں۔ یہ مال و دولت اس کو جنت میں لے کر جائیں گے یا اس کہ جہنم کا ایندھن بنا دیں گے۔ اس کے برخلاف وہ شخص جو انتہائی پرہیزگاری کی زندگی گذار رہا ہے حرام سے بچ رہا ہے وہ اعمال سر انجام دے رہا ہے جو اس کو اور اس کے گھر والوں کو جنت کی ابدی راحتوں سے ہم کنار کردیں گے، لیکن اس کے پاس مال و دولت کی کمی ہے دنیا والے اس کو ناعاقبت اندیش اور بےوقوفی کے القاب سے یاد کرتے ہیں۔ قرآن کریم کی ان آیات میں اہل عقل و دانش اور بیوقوفوں کی تفصیل بتائی گئی ہے اللہ کے نزدیک کون عقل والا ہے اور کون بےعقل ہے ؟ فرمایا کہ وہ شخص جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے کلام نازل کیا گیا ہے وہ بالکل برحق اور سچ ہے لیکن اگر دوسرا وہ شخص جو ان سچائیوں سے آنکھیں بند کئے اندھوں کی طرح زندگی گذار رہا ہے اور اللہ کے کلام پر یقین بھی نہیں رکھتا ہے۔ اگر ان دونوں کا مقابلہ کیا جائے تو یہ دونوں برابر نہیں ہوس کتے۔ فرمایا کہ اہل عقل و دانش لوگ وہ ہیں : 1) جو اللہ سے کئے ہوئے ہر عہد اور وعدہ کو پورا کرتے ہیں۔ اللہ کے ان تمام احکامات کو دل و جان سے قبول کرلے اطاعت و فرماں برداری کرتے ہیں اور ہر اس چیز سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے اللہ کو پسند نہی ہے۔ وہ اللہ سے اور اس کے بندوں سے جو وعدہ کرتے ہیں اس پر پوری دیانت داری سے عمل کرتے ہیں۔ وہ ان منافقوں کی طرح نہیں ہوتے جو اپنے عہد و معاہدہ کا لحاظ نہی کرتے۔ کیونکہ منافق کی ایک علامت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ جب کسی سے وعدہ کرتا ہے تو اس کو پورا نہیں کرتا۔ اس لئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” وہ صاحب ایمان نہیں ہو سکتا جو اپنے وعدے کو پورا نہیں کرتا “ قرآن کریم میں بھی بیس سے زیادہ مقامات پر عہد شکنی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ 2) دوسری صفت یہ ہے کہ وہ ہر ایک کے ساتھ بہترین سلوک اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ کرتا ہے یعنی اس کے نزدیک دوسروں سے بھلائی کرنا ہی اس کا مزاج بن جاتا ہے خواہ وہ دوست ہو یا دشمن، کافر ہو یا مسلم دور کا رشتہ دار ہو یا قریب کا ہر ایک سے حسن سلوک کرتا ہے۔ 3) تیسری صفت یہ ہے کہ وہ ہر وقت اپنے پروردگار سے اور اس بات سے ڈرتا رہتا ہے کہ قیامت کے دن اس سے جب پوری زندگی کا حساب کتاب لیا جائے گا تو کہیں اس کا انجام خراب نہ ہوجائے۔ 4) چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ حق و صداقت کی زندگی کو اختیار کرتا ہے اور پھر راہ حق میں اس کو جو بھی تکلیفیں پہنچتی ہیں انہیں وہ اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے برداشت کرتا ہے اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔ نہ وہ جذبات کی رو میں بہتا ہے اور نہ بڑے سے بڑا لالچ اس کے قدموں میں لرزش و لغزش پیدا کرتا ہے اس کا ہر کام صرف اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہوتا ہے۔ 5) پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ نمازوں کو قائم کرتا ہے۔ اقامت صلوۃ یہ ہے کہ جس طرح رسول اللہ ﷺ نے اقامت صلوۃ کا طریقہ ارشاد فرمایا ہے جس پر آپ کے صحابہ کرام اور امت چلتی آئی ہے اسی طرز پر نمازوں کو قائم کرتا ہے اور تمام نمازوں کو نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتا ہے اور مسجدوں میں نماز با جماعت کا اہتمام کرتا ہے اور ہر نماز کو اس کے وقت کے اندر پابندی سے ادا کرتا ہے۔ 6) چھٹی صفت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو جو کچھ عطا فرما رکھا ہے اس کو وہ محض اپنے آپ اور اپنے بال بچوں کی حد تک محدود نہیں رکھتا بلکہ عام مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر بھی خرچ کرتا ہے۔ یہاں یہی ہے کہ اللہ نے جو مال و دولت عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کیا جائے تو اس کا بےانتہا ثواب ہے لیکن اس کو اسی حد تک محدود نہ سمجھا جائے بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس انسان کو جو بھی صلاحیت اور ہنر عطا فرمایا ہے وہ اس کو ہر شخص تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسروں کی کسی طرح کی امداد و اعانت سے پیچھے نہیں رہتے۔ کھل کر یا چھپ کر جیسے ان سے بن پڑے وہ خرچ کرتے ہیں۔ 7) ساتویں صفت یہ ہے کہ اگر زندگی کے کسی مرحلے پر یا حق و صداقت کے راستے میں اس کیساتھ کوئی شخص بدسلوکی یا بےعزتی کرتا ہے تو وہ اس کا جواب کسی برائی سے نہیں دیتا بلکہ ہر برائی ظلم و ستم اور سختی کا بدلہ نیکیوں، معافی اور نرمی کے رویئے سے ادا کرتا ہے۔ فرمایا کہ جن لوگوں میں مذکورہ باتیں ہوں گی اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں، راحت و آرام اور سکون عطا فرمائے گا۔ وہ اس جنت کے مستحق بن جائیں گے جس میں راحتیں ہوں گی ایک نعمت یہ بھی ہوگی کہ والدین، اولاد اور بیویاں رشتہ دار سب اکٹھے ایک جگہ رہیں گے۔ ان کو عزت کا یہ مقام نصیب ہوگا۔ کہ ہر دروازے سے فرشتے ان کا استقلال سلام سے کریں گے اور کہیں گے کہ تمہارے اوپر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں کہ تم نے صبر اور برداشت سے کام لیا اس کے بدلے میں تمہیں وہ گھر دیا جا رہا ہے جس میں سلامتی، خوشی، مسرت اور دائمی راحت و آرام ہے۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جن کا مزاج یہ بن چکا تھا کہ انہوں نے اللہ سے جو بھی وعدے کئے تھے ان کو انہوں نے توڑ دیا تھا جن رشتوں کو ملانے کا حکم دیا تھا ان کو کاٹ دیا تھا اور زمین میں سوائے فساد ، تباہی اور برباد کے انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔ فرشتے کہیں گے کہ ایسے لوگوں پر اللہ کی لعنت ہو اور ان کو بدترین ٹھکانا دیا جائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ کوئی اس گمان میں نہ رہے کہ نیکی کا راستہ اختیار کرنے والوں کو تنگ حالی اور فقر و فاقہ ہی ملتا ہے۔ فرمایا تو اللہ کا نظام قدرت ہے کہ وہ کسی پر رزق کے دروازے کھول دیتا ہے، خوشحالیاں اس کے قدم چومتی ہیں لیکن بعض لوگ وہ ہوتے ہیں کہ ان پر حالات کی سختی ہوتی ہے۔ فرمایا کہ رزق کی کمی بیشی، تنگی اور فراخی یہ اللہ کے نظام کا حصہ ہے وہ جس طرح چاہتا ہے دنوں کو لوگوں کے درمیان گھماتا رہتا ہے کبھی کی راتیں بڑی اور کبھی کے دن بڑے ہوتے ہیں۔ کوئی چیز کسی ایک حال پر نہیں رہتی۔ لیکن ایک بات ہر شخص کے ذہن میں رہنی چاہئے کہ دنیا کی زندگی میں کتنی بھی راحتیں آرام و سکون اور دولت کی فراوانی مل جائے وہ بالآخر کسی موڑ پر ختم ہوجانے والی ہیں لیکن جنہوں نے آخرت کی دولت جمع کی ہے وہ کبھی نہ ختم ہونے والی دولت ہے۔ دنیا کی دولت تو صرف وقتی گذارہ کی چیز ہے دائمی زندگی اور اس کی راحتیں آخرت ہی میں نصیب ہوں گی۔
Ayahs 13:27–30

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور وہ کافر کہتے ہیں کہ ان پر (نبی ﷺ پر) اس کے رب کی طرف سے کوئی معجزہ کیوں نازل نہیں کیا گیا۔ آپ کہہ دیجیے کہ بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے وہ اس کو اپنی طرف ہدایت دے دیتا ہے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

وہ لوگ جو ایمان لائے اور جن کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان و سکون حاصل کرتے ہیں۔ سنو ! کہ دل کا اطمینان و سکون اللہ کے ذکر سے حاصل ہوتا ہے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے وہ خوش نصیب ہیں اور ان کا انجام بھی بہتر ہے۔

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے آپ ﷺ کو ایک ایسی امت کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے جن سے پہلے بہت سی امتیں گذر چکی ہیں تاکہ آپ ان کو وہ کتاب پڑھ کر سنائیں جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے حالانکہ وہ کفار اس اللہ کی نافرمانی کر رہے ہیں جو بہت رحم کرنے والا ہے۔ (اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ میرا رب تو وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اسی پر میں بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کی طرف لوٹنے کا ٹھکانہ ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 27 تا 30 لولا انزل کیوں نازل نہیں کیا گیا ایۃ نشانی۔ معجزہ یضل وہ گمراہ کرتا ہے۔ بھٹکا دیتا ہے یھدی وہ ہدایت دیتا ہے۔ راہ پر لگا دیتا ہے اناب رجوع کیا۔ لوٹا تطمئن مطمئن ہوتے ہیں بذکر اللہ اللہ کی یاد سے طوبی خوش حالی ہے۔ خوش خبری ہے ماب ٹھکانا امم امتیں لتتلوا تاکہ تو پڑھے او حینا ہم نے وحی کی یکفرون وہ انکار کرتے ہیں۔ کفر کرتے ہیں متاب لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانا تشریح :- آیت نمبر 27 تا 30 جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو لاتعداد معجزات عطا فرمائے ہیں البتہ سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے جس کی موجودگی میں کسی دوسرے معجزے کا مطالبہ کرنا بڑی احمقانہ بات تھی لیکن کفار مکہ نبی کریم ﷺ سے کبھی آ کر یہ کہتے کہ : آپ کیسے نبی ہیں آپ کے ساتھ اللہ کے فرشتے کیوں نہیں ہیں جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے کبھی اس بات کا مطالبہ کرتے کہ اے محمد ﷺ ! اگر آپ سچے نبی ہیں تو مکہ کے چاروں طرف جو پہاڑ ہیں ان کو ہٹوا کر کھلا میدان بنوا دیجیے تاکہ ہم اس میدان میں کھیتی باڑی کرسکیں۔ کبھی کہتے کہ زمین کو پھاڑ کر اس میں چشمے اور نہریں جاری کرا دیجیے تاکہ ہمیں جو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے وہ دور ہو سکے۔ کبھی اپنے ان مردوں کو زندہ کرنے کی فرمائش کرتے جو مر کر مٹی ہوچکے ہیں اور کہتے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ان مردوں سے ہم باتیں کر کے سارے حالات معلوم کرسکیں۔ اسی طرح وہ ہر روز کوئی نہ کوئی فرمائش کرتے رہتے تھے۔ ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ ان کو ایمان لانا تھا بلکہ وہ نبی کریم ﷺ کو پریشان کرنے کے لئے یہ سب کچھ کہتے تھے کیونکہ جس کو ایمان لانا ہے وہ معجزات دیکھنے کا محتاج نہیں ہوتا۔ قرآن کریم حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے معجزات کا ذکر کر کے کہتا ہے کہ ان انبیاء کرام نے ایسے ایسے معجزات دکھائے جن کے سامنے ہر شخص عاجز ہو کر رہ گیا تھا۔ وہ کھلی آنکھوں سے معجزات کو دیکھ رہے تھے۔ لیکن ان میں سے کتنے لوگ ایمان لائے ؟ جس کو ایمان لانا تھا اور ایمان لے آیا اور جس نے گم راہی اختیار کرنی تھی وہ معجزات دیکھ کر بھی گم راہ ہی رہا۔ ان آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کفار کے اسی مطالبہ کا ذکر کیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ اے نبی ﷺ ایسا کیوں نہ ہوا کہ آپ کا رب آپ پر کوئی معجزہ نازل کرتا تاکہ ہم اس کو دیکھ کر آپ پر ایمان لاتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ ارشاد فرمایا کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گم راہ کردیتا ہے۔ معجزہ ہونے یا نہ ہونے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ اللہ ان ہی لوگوں کو ہدایت عطا فرماتا ہے جو اس کے سامنے جھکے رہتے ہیں جو ایمان کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں اور اپنے دلوں کو اللہ کے ذکر سے مطمئن کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اطمینان، سکون اور چین اللہ کی یاد ہی میں ہے۔ فرمایا کہ وہ لوگ بہت ہی خوش نصیب ہیں جو ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرتے ہیں اور اپنے لئے بہتر انجام حاصل کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے ہمارے نبی ﷺ ! جس طرح آپ اللہ کے رسول ہیں اسی طرح آپ سے پہلے بہت سے رسول اور ان کی امتیں گذر چکی ہیں ان سے بھی اسی طرح کے سوالات کئے گئے۔ ان کا مذاق اڑایا گیا اور ان کی نافرمانی کر کیا انہوں نے اپنی دنیا و آخرت کو خراب کرلیا۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان کفار کو اللہ کا کلام جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے پڑھ کر سنائیے۔ آپ اپنے اللہ کی طرف متوجہ رہئے اسی پر بھروسہ کیجیے اگر یہ رحمٰن اور اس کے کرم کا انکار کرتے ہیں تو کرنے دیجیے۔ آپ اپنی زبان مبارک سے پیہ پیغام ساری دنیا تک پہنچا دیجیے کہ ایک اللہ کے سوا دوسرا کوئی معبود نہیں ہے اسی پر میں بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کی طرف میں متوجہ ہوتا ہوں۔
Ayah 13:31

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر قرآن ایسا ہوتا کہ اس سے پہاڑ چلنے لگتے، یا زمین کے فاصلے جلدی جلدی طے ہوجاتے یا مردے بات کرنے لگتے (تب بھی یہ ایمان نہ لاتے) تمام کاموں کا اختیار تو اللہ ہی کا ہے۔ کیا مومنوں کو اس سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت دے دیتا ۔ اور کافروں کو ان کیا عمال کی وجہ سے ہمیشہ مصیبت پہنچتی رہے گی یا ان کے قریب پہنچتی رہے گی۔ یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آجائے گا اور بیشک اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔

لغات القرآن آیت نمبر 31 سیرت چلائے جائیں ۔ (چلائی گئی) الجبال (جبل) ۔ پہاڑ قطعت کاٹی گئی کلم (بات کی گئی۔ کلام کیا گیا) الموتی مردے لم یا یئس اطمینان نہیں ہوا لایزال ہمیشہ صنعوا انہوں نے بنایا۔ انہوں نے کیا قارعۃ سخت مصیبت تشریح آیت نمبر 31 جیسا کہ گزشتہ آیتوں میں اس بات کو فرمایا گیا ہے کہ کفار مکہ نبی اکرم ﷺ پر ایمان لانے کی یہ شرط رکھتے تھے کہ اے نبی ﷺ جس طرح اور انبیاء کرام کو معجزات دیئے گئے ہیں آپ بھی کوئی معجزہ دکھائیے۔ ان کے اس سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ اللہ کا دین پھیلاتے رہئیے اور ان لوگوں کی ان باتوں کی پرواہ نہ کیجیے کیونکہ اگر پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں، یا زمین کے فاصلے جلدی جلدی طے ہوجائیں یا مردے بھی اپنی قبروں سے اٹھ کر ان سے باتیں کر کے ان کو آخرت کا یقین دلا دیں تب بھی یہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا ڈالیں گے اور ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ سارا اختیار تو اللہ ہی کو حاصل ہے وہ جب چاہے کسی کو ہدایت دے یا راستے سے بھٹکا دے لیکن ان کفار کے مطالبے کا مقصد سوائے باتیں بنانے کے اور کچھ نہیں ہے۔ ہدایت چونکہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اگر وہ چاہتا تو ہر شخص کو صاحب ایمان بنا دیتا لیکن اللہ کسی پر جبر نہیں کرتا بلکہ اس کو مختصر زندگی کے لمحات میں اس بات کا اختیار دیتا ہے کہ وہ جس راستے کو چاہے منتخب کرلے۔ جنت کا راستہ یا جہنم کا راستہ انجام دونوں کا واضح ہے۔ لہٰذا اہل ایمان کو اس بات سے مایوس نہیں ہونا چاہئے کہ اتنا کچھ سمجھانے کے بعد بھی وہ نعمت ایمان سے کیوں محرم ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ قرآن کریم جیسے معجزہ کی موجودگی میں آخر کونسا معجزہ مانگتے ہیں جس کو دیکھ کر یہ ایمان لائیں گے۔ اس آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کو اللہ نے کوئی اور دوسرا معجزہ عطا نہیں کیا بلکہ سینکڑوں صحیح احادیث گواہ ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے ایک دو نہیں سینکڑوں معجزات ظاہر ہوئے ہیں جن کو ہزاروں صحابہ کرام نے دیکھا ہے۔ منکرین حدیث یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو صرف قرآن کریم بطور معجزہ عطا کیا ہے اس کے علاوہ اور کوئی معجزہ نہیں دیا۔ یہ بالکل غلط ہے۔ یہاں قرآن کریم کے کہنے کا منشا یہ ہے کہ یوں تو حضور اکرم ﷺ سے بہت سے معجزات ظاہر ہوں گے اور ہو رہے ہیں لیکن ان عقل کے اندھوں کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ سارے عرب اور دشمنان اسلام مل کر بھی قرآن کریم جیسی ایک سورت بنا کر نہیں لاسکتے تو اصول کی بات یہ ہے کہ اس معجزہ کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ نبوت کے ثبوت کیلئے کسی معجزہ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اگر اللہ نے گزشتہ قوموں کو اپنے نبی کے ذریعے معجزات دکھائے ہیں تو ان لوگوں کو یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ جب پچھلی قوموں نے معجزات دیکھ کر بھی ایمان قبول نہیں کیا تو ان کا کس قدر بھیانک انجام ہوا ہے۔ کیا یہ کفار مکہ بھی ہر طرح کے عذاب جھیلنے کے لئے تیار ہوں۔ یوں تو اللہ کا قہر ان پر نازل ہوگا۔ ان کو طرح طرح کی مصیبتیں آئیں گی اور ان کا سلسلہ جاری رہے گا لیکن یہ اللہ کا کرم ہے کہ نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں وہ عذاب نہیں آئیں گے جو عذاب گزشتہ قوموں پر آئے ہیں لیکن طرح طرح کی تکلیفیں ان کفار پر آ کر رہیں گی جن سے دامن بچانا ممکن نہ ہوگا۔ اور وہ اللہ کا وعدہ بھی ان سے دور نہیں ہے کیونکہ نہ اللہ کی سنت اور طریقہ تبدیل ہوتا ہے اور نہ وہ اپنے وعدے کے خلاف کرتا ہے۔ لہٰذا کفار مکہ ایمان لے آئیں ورنہ اللہ کے وعدہ میں دیر نہیں لگے گی۔