13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsسراج البیان

Ayah 13:1

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

الم ۔ یہ کتاب کی آیتیں ہیں ۔ اور جو کچھ تیرے رب سے تیری طرف اترا ہے وہ حق ہے لیکن اکثر آدمی ایمان نہیں لاتے

Ayahs 13:2–3

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے بےستون آسمان اونچے کیے جنہیں تم دیکھتے ہو پھر عرش پر قرار پکڑا (ف 1) ۔ اور سورج اور چاند کو مسخر کیا ہر ایک وقت معین تک چلتا ہے ۔ کام کی تدبیر کرتا ہے ۔ اور آیتوں کو کھول کر بیان کرتا ہے ، شاید تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو (ف 2)

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑوں اور نہروں کو رکھا ۔ اور ہر میوے میں دوہرے جوڑے بنائے ، رات کو دن سے ڈھانپتا ہے ۔ دھیان کرنے والو کے اس میں بہت نشانیاں ہیں

(ف 1) استواء کا مسئلہ مدتوں اسلامی فرقوں میں نزاع کا باعث رہا ہے ، اہل سنت کا مسئلہ اس باب میں بالکل واضح ہے کہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں مگر اس کی تفصیلات سے پوری طرح آگاہ نہیں یعنی ہم مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے استواء فرمایا ، مگر کیونکر ؟ اس کا جواب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ اپنی عقل کی کمی کا اعتراف کرلیں اجمالا یوں سمجھ لیجئے ، کہ یہ ایک نوع کی تجلی تدبیر تھی یہی وجہ ہے اس کو عین تجلیات تکوین کے درمیان رکھا ہے ۔ اور (آیت) ” یدبر الامر “۔ کی تصریح بھی فرما دی ہے ۔ علوم پڑھو ! (ف 2) قرآن حکیم کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ دلائل میں قانون قدرت کی ہمہ گیری دوست کو پیش کرتا ہے ، وہ کہتا ہے اگر تم زمین وآسمان میں پھیلے ہوئے قانونوں کو تلاش کرو ، تو اسلام کی حقیقت کو پالو گے ، آسمانوں کو دیکھو کس حیرت انگیز وسعت کے ساتھ پیدا کئے ہیں ستاروں اور آسمانوں کے لئے بظاہر کوئی عماد وستون نہیں مگر وہ مکمل طور پر فضاء میں سایہ فگن ہیں ، چاند ، سورج مستخر ہیں ، انسان کے فائدے کے لئے بنائے گئے ہیں ، ہر ایک کے لئے طلوع و غروب کا وقت مقرر ہے ، جس میں کبھی خلاف نہیں ہوتا ۔ دنیا کے ہر فقہ سے میں اللہ کی تدبیر و حکمت کار فرما ہے ، کہا یہ سب چیزیں آخرت پر دلالت نہیں کرتیں ؟ اور ان سے یہ نہیں معلوم ہونا کہ کارگاہ حیات کی وسعتیں مقصد سے خالی نہیں ہو سکتیں ۔ ” استوی “ کے معنی اللہ کی شان تدبیری کو بیان کرنا ہے ، اللہ تعالیٰ کے متعلق جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان کی تین قسمیں ہیں ۔ 1۔ صفات توحید وتجرید جن سے اس کی تنزیہہ ہوتی ہے ۔ 2۔ مجازات جو بطور مجازوتجور کے استعمال ہوتی ہیں اور مقصود بالذات نہیں ہوتے ۔ 3۔ شؤن و حالات ، یعنی وہ الفاظ جو اللہ تعالیٰ کے حالات وشؤن سے تعرض کرین ، اور کسی مستقل وصف کو نہ بیان کریں ، استوی اسی قبیل سے ہے تفصیل کے لئے دیکھو ابتدائی حواشی ۔ حل لغات : عمد : ستون ۔
Ayahs 13:4–5

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں کتنے کھیت ہیں پاس پاس ، اور انگور کے باغ ہیں ، اور کھیتیاں ، اور کھجور کے درخت ہیں ، جن میں بعض دو شاخے ہیں اور بعض دو شاخے نہیں ، ایک ہی پانی سے سیراب ہیں ۔ بیشک (ف 1) اس میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اور اگر تو تعجب کرے تو ان کا قول عجیب تر ہے کہ آیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم نئی پیدائش میں آئیں گے ۔ یہی لوگ اپنے رب کے منکر ہیں ۔ اور انہیں کی گردنوں میں طوق پڑیں گے ۔ اور یہی دوزخی ہیں ۔ وہاں ہمیشہ رہیں گے

(ف 1) ان آیات میں بھی دعوت غو وفکر ہے کہ یہ لوگ فکر وعقل سے اگر کام لیں تو یقینا مذہب سب کی پہنائیوں کو پالیں ، یہ غلط ہے کہ فلسفہ وعلوم کے مطالعہ سے انسان ملحد ہوجاتا ہے ، قرآن حکیم اور اسلام کے متعلق تو یہ نظریہ قطعی غلط ہے ، قرآن تو ہر قسم کے لوگوں کو عقل وفکر کی جانب پکار پکار کر مدعو کرتا ہے ، اور کہتا ہے ۔ زمین کے پھیلاؤ کو دیکھو ، پہاڑوں اور نہروں کے فوائد پر نظر دوڑاؤ پھلوں کے اقسام ملاحظہ کرو ، دن اور رات کو مشاہد کرو ، کیونکہ رات کی تاریکی دن کی تابندگی سے بدل جاتی ہے ، زمین کے مختلف قلمات تمہارے سامنے ہیں ، باغات ہیں کھیت ہیں انگوروں کی چھتریاں ہیں ، کھجوریں ہیں پھر اس پر جو کچھ کہ ایک پانی سب کی خوراک ہے مگر کیوں مزے میں سب مختلف ہیں ۔ یہ سب باتیں سوچنے کی ہیں مسلمان کے علم کا تقاضا یہ ہے کہ وہ صرف خشک مسائل ہی تک محدود نہ ہو ، بلکہ سائنس اور علم الحیات کے آخری حدود تک پھیلا ہوا ہو ۔ حل لغات : متجورت : ملے جلے ۔ صنوات : جمع صنو ۔ شاخ فرع ایک جڑ سے کئی درخت نکلے ہوئے ۔
Ayah 13:6

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور بھلائی سے پہلے برائی تجھ سے جلد مانگتے ہیں ۔ اور ان سے پہلے بہت عذاب نازل ہوچکے ہیں ۔ تیرا رب آدمیوں کے لیے باوجود ان کے ظالم ہونے کے صاحب مغفرت ہے اور تیرا رب سخت دکھ دینے والا بھی ہے (ف 1)

شدید العقاب کی تشریح : (ف 1) یعنی کفار مکہ میں یہ عیب ہے کہ وہ اسلام کی برکات سے بہرہ مند نہیں ہونا چاہتے ، بلکہ عذاب طلب کرتے ہیں ، اور یہ نہیں سوچتے کہ عذاب کا آجانا کیا مشکل ہے ، کیا اس سے پہلے نافرمانوں کو ہلاک نہیں کیا گیا ؟ کیا عادوثمود کی بستیاں اب تک ماتم کناں نہیں ، تکنے والے کیوں نہ خیال کرتے ہیں کہ وہ بالکل محفوظ ہیں ، اور انہیں ان کی نافرمانیوں کی سزا نہیں مل سکے گی ۔ جو لوگ خدا کے متعلق اسلامی تخیل کو قابل اعتراض ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو اسلام کا خدا بہت سخت گیر ہے ، انہیں اس آیت پر غور کرنا چاہئے ۔ قرآن کہتا ہے ، وہ صاحب غفران ہے وہ باوجود گناہوں کے اس کا جوش مغفرت ہمیشہ عفر وکشش سے کام لیتا ہے البتہ جب نافرمانی حد سے متجاوز کر جائے اس وقت اللہ تعالیٰ سرکشی کی پوری سزا دیتا ہے ۔
Ayahs 13:7–8

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ محمد ﷺ پر اس کے رب سے کوئی معجزہ کیوں نہ اترا ۔ تو تو ڈرانے والا ہے اور ہر قوم کے لیے ایک ہادی ہے (ف 2)

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

اللہ ہر عورت کے حمل اور ان کے پیٹ سکڑنے اور بڑھنے کو (خوب) جانتا ہے ، اور ہر شئے اس کے یہاں اندازہ پر ہے

(ف 2) یعنی معجزہ طلبی کی عادت اچھی نہیں ہے غور کرنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا حضور ان تمام صفات حسنہ سے متصف ہیں ، ادیان مذاہب کے لئے ضروری ہیں ، اور کیا صحیح معنوں میں آپ قوم کے قائد ونذیر قرار دیئے جاسکے ہیں ؟ معجزات کا اظہار یقینا نبوت کے علائم ظاہری میں سے ہے ، مگر یہ کیا کم معجزہ ہے کہ دلوں کو بدل دیا جائے اور ان میں نور وعرفان بھر دیا جائے ، رسول اللہ ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ یہی دلوں کو تبدیلی ہے ۔ حل لغات : الاغلال : طوق ہائےْ
Ayahs 13:9–10

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ چھپے کھلے سے خبردار ہے اور سب سے عالی رتبہ ہے (ف 1)

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

تم میں سے جو بات کو چھپا کر کرے اور جو ظاہر کرے اور جو شخص رات کو چھپ رہتا اور دن کو گلیوں میں پھرتا ہے اس کے لیے سب برابر ہے

(ف 1) فرض کرو کہ اللہ تمہارے مطالب کو ضرور پورا کرے گا اور کوئی نشان نازل کرے گا جب بھی کون جانتا ہے یہ کب ہوگا غیب کی باتیں تو وہی جانتا ہے ۔
Ayahs 13:11–12

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

بندے کے لیے اس کے آگے اور پیچھے چوکیدار (فرشتے) مقرر ہیں ، خدا کسی قوم کی حالت تبدیل نہیں کرتا جب تک وہ اپنے دلوں کے خیال نہ بدل لیں اور جب کسی قوم کو خدا برائی پہنچانا چاہتا ہے ، تو وہ ہٹ نہیں سکتی ۔ اور اس کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتا (ف 2)

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

وہی ہے کہ خوف اور طمع لانے کے لیے تمہیں بجلی دکھاتا ہے ، اور بھاری بادل اٹھاتا ہے

(ف 2) یعنی اللہ کے فرشتے تمہاری بات کو محفوظ کرلیتے ہیں اس لیے تم یہ نا سمجھو کہ تمہارے اعتراضات اللہ تک نہیں پہنچتے ۔ حتی یغیروا ما بانفسھم “۔ میں ہدایت حکیمانہ اصول بتایا ہے کہ قوموں میں انقلاب و تغیر کب پیدا ہوتا ہے ، صرف ہنگاموں اور مظاہروں سے نہیں ، بلکہ جب قومیں درحقیقت انقلاب پذیر ہوجائیں ، جب دلوں اور دماغوں میں حقیقی وواقعی تبدیلی پیدا ہوجائے دیکھ لیجئے دنیا کے کاروبار میں یہ قانون کس درجہ سچا اور درست ہے وہ قومیں جو تعلیم وتربیت میں آگے ہیں ہر انقلاب کی صلاحیت رکھتی ہیں ، اور جو وقتی وہنگامی طور پر حرکت پذیر ہوجاتی ہیں ، ان میں دوام و استقلال نہیں ہوتا ، ان کی ہر تحریک عارضی ہوتی ہے ۔ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے سب کچھ بتا دیا ہے ، مگر مسلمان ہیں کہ اللہ کے بتائے ہوئے قانونوں سے استفادہ نہیں کرتے ۔ حل لغات : معقبت : آگے پیچھے آنے والے ، فرشتے ۔
Ayah 13:13

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور سب فرشتے بھی اس کے خوف سے ، اور وہ بجلی کے کڑاکنے بھیجتا ہے پھر جس چاہے گراتا ہے اور وہ (اہل مکہ خدا کے بارہ میں جھگڑتے ہیں ۔ حالانکہ وہ سخت عذاب دینے والا ہے (ف 1)

اسرارفطرت کا علم : (ف 1) یعنی فطرت کے رموز و اسرار کو بجز رب فاطر کے اور کون جانتا ہے ؟ بادل گرجنے میں ، بجلی کوندتی ہے ، تو کسان اور زمیندار خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہوگی اور ہمارے سوکھے کھیت لہلہا اٹھیں گے ان کو نہیں معلوم کہ یہ بجلیاں جو کوند رہی ہیں ، عذاب وہلاکت کی بجلیاں ہیں جو کھیتوں پر گریں گی ، اور انہیں راکھ کا ڈھیر کر کے رکھ دیں گی ، یہ عقیدہ لوگ جو اللہ کی قدرتوں میں شک کرتے ہیں یہ نہیں جانتے کہ وہ کس طرح سامان رحمت کو بصورت عذاب بدل دیتا ہے ، (آیت) ” یسبح الرعد “۔ سے غرض برق ورعد کی تسخیر ہے ۔
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

اسی کو (معبود سمجھ کر ) پکارنا حق ہے اور اس کے سوا جن کو وہ پکارتے ہیں ۔ ان کو کچھ جواب نہیں دے سکتے ۔ مگر جسے کوئی پانی کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے کہ اس کے منہ میں آجائے اور وہ کبھی نہ پہنچنے والا ہو اس کو ۔ اور کافروں کی جتنی پکار ہے سب گمراہی ہے (ف 2)

(ف 2) مشرکوں کو بتایا ہے کہ صرف اللہ کا پکارو ، اسی کو یاد کرنا اور اس کے سامنے اپنی ضروریات پیش کرنا چاہئے ، وہی سنتا ہے اور قبول کرتا ہے وہی ہماری تکلیفوں سے ہمیشہ آگاہ اور واقف رہتا ہے ، وہی حقیقی فریاد رس ہے ، وہی درد پنہاں کا جاننے والا ہے ، وہی قریب ہے مجیب ہے ، اس کے سوا تم جس کو پکارو گے ، وہ نہ کچھ سنے گا اور نہ کوئی مدد کرسکے گا یہ دنیا اسباب وذرائع کی دنیا ہے مگر کوئی شخص چاہے کہ وہ ہاتھ نہ ہلائے اور پانی کو یں میں سے اس کے منہ تک خود بخود آجائے تو ناممکن ہے ، اس کی یہ خواہش پوری نہ ہوگی اسی طرح اگر کوئی شخص توحید وتجرید کے باب اجابت کو چھوڑ کر کسی دوسرے ذریعے اور توسل کو دعا کی قبولیت کے لئے استعمال کرتا ہے تو اس کی یہ خواہش پوری نہ ہوگی کیونکہ جس طرح پانی حاصل کرنے کے لئے ہاتھ ہلانا ضروری ہے ، اسی طرح دعاء کے قبول ہونے کا لئے اللہ کو پکارنا ضروری ہے ، یہی وہ ذریعہ اور وسیلہ ہے جس کو قرآن نے بار بار بیان کیا ہے ۔ حل لغات : شدید المحال : محل کے معنی تکلیف دینے کے ہوتے ہیں مکان ماجل تکلیف دہ جگہ بعض کے نزدیک محال حول ومشقت ہے اور جمع زائد ہے اس صورت میں صرف قوت و طاقت کے معنی ہوں گے ۔
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی یا ناخوشی سے اللہ ہی کو سجدہ کرتا ہے اور ان کے سائے بھی صبح و شام اللہ کو سجدہ کرتے ہیں (ف 1)

(ف 1) غرض یہ ہے کہ کائنات کا ہر طوعا وکرہا سجدہ کناں ہے اللہ کا تابع ہے اور مسخر ہے ، ہر چیز کی فطرت کچھ اس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ خدا کو یاد کرے ، اس کے حکموں کا مانے اور اس کے بنائے ہوئے قاعدوں کے ماتحت رہے ۔
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

تو کہہ آسمانوں اور زمین کو رب کون ہے تو کہہ ، اللہ ہے تو کہہ پھر کیا تم نے اس کے سوا اور حمایتی پکڑے ہیں ، جو اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ، تو کہہ کہ اندھا اور بینا برابر ہیں یا تاریکیاں اور روشنیاں برابر ہیں یا انہوں نے اللہ کی شریک ٹھہرائے ہیں ، جنہوں نے اللہ کی پیدائش کی مانند کچھ پیدائش کی ہے اور ان کی نظر میں وہ پیدائش رل مل گئی ہے ؟ تو کہہ اللہ ہی ہر شئے کا خالق ہے ، اور وہی اکیلا غالب ہے (ف 2)

مشرک عقل کا اندھا ہے ! (ف 2) جب یہ حقیقت ہے کہ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں اسی نے سب کچھ پیدا کیا ہے ، وہی خیر کا مالک ہے نفع وضرر اس کے ہاتھ میں ہے ، تو پھر اسے چھوڑ کر دوسروں سے رشتہ جوڑنا کیا ظلمت نہیں ؟ کیا یہ اندھا پن نہیں ؟ کہ کمزور وسائل کی پوجا کی جائے ، اور اللہ کو چھوڑ دیا جائے جو احکم الحاکمین ہے ۔ جس طرح کہ وہ اندھا ہے جس کی آنکھیں نہیں ۔ اسی طرح جس میں توحید کی بصیرت نہیں وہ روحانیت کے لحاظ سے اندھا ہے ، موحد کی آنکھیں ہیں وہ بینا اور ہوشمند ہے ، مشرک غور بین اور حق بین نہیں ، اس لئے وہ اندھا ہے اور سمجھ بوجھ سے دور ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس طرح نور وظلمت میں امتیاز ہے اندھے اور سجا کے میں فرق ہے ، اسی طرح خدا پرستوں اور مشرکوں میں امیتاز ہے ۔ خدا پرست کا دل نور سے معمور ہوتا ہے اور منکر جہالت وتوہم کی اندھیاریوں میں ٹامک ٹویاں مارتا ہے ۔ حل لغات : القھار : غالب ، قہر کے معنی ، غلبہ وتذلیل دونوں کے ہیں ۔ فاما الیتیم فلا تقھر : (یعنی یتیم کو ذلیل نہ کر) یہاں غلبہ وعار مقصود ہے ۔
Ayahs 13:17–18

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اس نے آسمان سے پانی اتارا ، پھر اپنے اندازہ پر نالے بہے ، پھر بہتے ہوئے پانی پھولا ہوا جھاگ اٹھایا ۔ اور اس میں بھی جسے وہ زیور با اسباب کے لیے آگ میں گلاتے ہیں (یعنی دھات میں) پانی کی مانند جھاگ ہے ۔ یوں اللہ حق و باطل کی مثال دیتا ہے ۔ سو وہ جھاگ ہے وہ ناجیز ہو کر گر جاتا رہتا ہے ، اور وہ جو لوگوں کو مفید ہے ۔ زمین میں رہ جاتا ہے ۔ یوں اللہ مثالیں بیان کرتا ہے (ف 1)

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جنہوں نے اپنے رب کی بات مانی ان کے لیے بھلائی ہے ۔ اور جنہوں نے اس کی بات نہ مانی ، اگر ان کے پاس تمام زمین کا سارا مال بھی ہو اور اس کے اتنا ہی اور بھی ہو تو سارا ضرور اپنے فدیہ میں دے دیں ، مگر پھر بھی قبول نہ ہو ، اور وہ برا بچھونا ہے

(ف 1) یعنی قرآن واسلام کے فیوض ، باران رحمت کی طرح ہیں ، جیسے بارش سے ہر قطعہ زمین بقدر استعداد و استفادہ کرتا ہے اسی طرح اس سے ہر شخص بقدر ظرف جرمہ آشام ہوتا ہے ۔ پھر جس طرح ابتداء میں پانی کی کثرت سے جھاگ اٹھتا ہے اور بالآخر نتھر جاتا ہے اسی طرح مسلمان باقی رہ جائے گا اور مخالفت کا یہ جھاگ چھٹ جائے گا ، غرض یہ ہے کہ اسلام سراسر حق وصداقت ہے نفع وسود مندی ہے ، اس لئے اس کا برقرار رہنا ضروری ہے ، قانون فطرت ہے ، کہ کفر جھوٹ ہے ، باطل ہے اور جھاگ ہے ا اس لئے اس کا ضیاع وفقدان لازم ہے ۔ حل لغات : جفآء : ضائع ، بےسود ، یونہی ۔
Ayah 13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تیرے رب سے تیری طرف نازل ہوا حق ہے اس کی مانند ہوجائے گا جو اندھا ہے وہی سمجھتے ہیں جنہیں عقل ہے (ف 1)

قرآن عقلمندوں کے لئے ایک نعمت ہے : (ف 1) قرآن حکیم نے بار بار اس حقیقت کو دہرایا ہے کہ میرے مخاطب عقلمند اور ذی ہوش لوگ ہیں ، اندھے اور بےبصیرت افراد قرآن کی برکات سے استفادہ نہیں کرسکتے یہ وہ نور ہے جسے شپرہ چشم نہیں دیکھ سکتا ، یہ علم ہے ہدایت ہے ، اس کے معارف کی وسعت سے وہی آگاہ ہو سکتا ہے ، جسے مبدا فیاض سے فہم وبصیرت کا حصہ وافر بلاہو ، قرآن حکیم کو ارتقائے عقل سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ اس زمانہ کے لوگ قرآن کی طرف بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور اب قرآن حکیم کے مطالعہ کا عام شغف لوگوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے ، بات یہ ہے کہ قرآن حیم رب دانا و برتر کی کتاب ہے ، اس لئے ضرور ہے کہ اس میں دانش کا ذخیرہ ہو عقل کا خزانہ ہو ۔
Ayah 13:20

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

جو اللہ کا عہد پورا کرتے اور عہد شکنی نہیں کرتے (ف 2)

(ف 2) اسلام چونکہ دین فطرت ہے اور قلب انسانی کی گہرائیوں میں اس کے سوتے اور چشمے بہتے ہیں اس لئے اسلام پر عمل پیرا ہونے کو وہ عہد ومیثاق سے تعبیر کرتا ہے ، اور ہر انسان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسلام کے حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کر دے کیونکہ اس کے بیان کردہ حقائق ، فطرت انسانی کے صحیح ترجمان ہیں ۔
Ayahs 13:21–23

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور جو اللہ نے جوڑنے (صلح رحمی) کو کہا ہے وہ جوڑتے ہیں ، اور اپنے رب سے ڈرتے ، اور نرے حساب سے اندیشہ کرتے ہیں (ف 3)

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور جو اپنے رب کی رضا مندی کے واسطے صبر کرتے اور نماز پڑھتے اور جو ہم نے دیا اس سے پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ، اور بدیوں کو نیکیاں کر کے دفع کرتے ہیں پچھلا گھر انہیں کے لیے ہے

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

رہنے کے باغ ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادوں اور بیویوں اور اولادیں سے بھی جو نیکو کار ہیں اور ہر دروزہ سے ان کے پاس فرشتے آئیں گے

(ف 3) خدا نے صلہ رحمی ورشتوں کے تعلقات کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور اسے جزو ایمان ٹھہرایا ہے ، تاکہ لوگ باہم محبت ومؤدت سے رہیں اسلامی عقائد وعمل میں جس قدر وسعت ہے کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی زنگی کا ہر شبہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے جہاں خدا پرستی اور توحید پر زور دیا گیا ہے ، نمازوں کی تاکید کی گئی ہے اور محبت و اطاعت رسول کی اہمیت واضح کی گئی ہے وہاں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اپنوں سے محبت کرنا حقوق انسانی کی رعایت رکھنا اور محبت ومؤدت سے رہنا بھی اسلام شعائر میں سے ہے ۔
Ayah 13:24

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

(اور کہیں گے) تم پر سل امتی ہو تمہارے صبر کے سبب سے سو خوب ملا پچھلا گھر (ف 1)

(ف 1) جو لوگ نادانی کی وجہ سے اسلام پر معترض ہوتے ہیں اور اسلامی تعلیمات میں انہیں انتقام کی آگ بھڑکتی ہوئی نظر آتی ہے ، انہیں اس آیت کے معارف پر غور کرنا چاہئے قرآن کہتا ہے عاقبت میں ان لوگوں کا حصہ ہے ، جو برائی جواب نیکی سے دیتے ہیں ، مخالف سے درگزر کرتے ہیں ، اور انہیں حسن سلوک سے نادم کرتے ہیں ، کیا اس سے بہتر تعلیم اور پیرایہ بیان آپ کو کہیں اور جگہ مل سکتا ہے ؟ جس میں اس قدر اعلیٰ سلوک کی ترغیب موجود ہو ، حل لغات : المیثاق : مضبوط ۔ یدرء ون : الدر ، الدفع ، دور کرنا ، عقبی الدار : انجام ۔
Ayah 13:25

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جو لوگ بعد پختگی اللہ کا عہد توڑتے ، اور جو اللہ نے جوڑنے کو کہا وہ کاٹتے ، اور زمین میں فساد کرتے ہیں ۔ ایسوں کے لیے لعنت ہے ۔ اور انہیں کے لیے برا گھر ہے (ف 1)

اسلام امن چاہتا ہے ! ۔ (ف 1) اس آیت میں ان لوگوں کا بیان ہے جو دین فطرت کی مخالفت کرتے ہیں اللہ کے عہدوں کو توڑتے اور اس کے حکموں سے تجاوز کرتے ہیں ، اور زمین میں شرک وبدعات کی وجہ سے ابتری پھیلاتے ہیں یہ جہنم کے سزاوار ہیں ، ان کا انجام برا ہے ، یہ اللہ کی نظر رحمت سے دور ہیں ۔ اسلام بحثییت مجموعی امن و طمانیت انسانیت کا علمبردار ہے اس لئے ہر وہ جو ازروئے اسلام باطل ہے ، اسلام کی اصطلاح میں فساد فی الارض کے مترادف ہے ، شرک بھی فساد ہے ، غیر مشروع تحریکات بھی فساد کے ضمن میں آجاتی ہیں ۔ فسق وفجور بھی ایک نوع کا فساد ہے یعنی اسلام سراپا امن ہے سکون ہے ، اور کفر اختلال وتخریف ۔
Ayah 13:26

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اللہ جس کی چاہے روزی فراخ کرتا ہے اور تنگ کرتا ہے ۔ اور وہ حیات دنیا سے خوش ہیں ۔ حالانکہ حیات دنیا آخرت کے مقابلہ میں کچھ نہیں ، مگر تھوڑا فائدہ (ف 2)

(ف 2) عام طور پر حق کی مخالفت اس لئے کی جاتی ہے ، کہ ایثار میں بظاہر خسارہ ہے ، بھوک و افلاس کا خطرہ ہے ، دیندار انسان کے لئے تکلفات کا حصول ناممکن ہے ، قرآن حکیم اس ہمہ گیر مغالطہ کی تردید فرماتا ہے ، ارشاد ہوتا ہے کہ رزق کی کشائش اللہ کے ہاتھ میں ہے ، اس کا تعلق بےدینی اور الحاد سے نہیں ، بہت سے ملحد ایسے ہیں جو بھوکوں مر رہے اور بہت سے مومن ہیں کہ اللہ کی بہت نعمتیں انہیں میسر ہیں ، اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ کے بہت سے بندوں کو گاڑھا اور کزی نہیں ملتا ، کہ تن ڈھانک اور بےدین بدمعاش مخمل وکمخواب کے بستروں پر محو خواب ہیں ، یہ خدا کا دین ہے ، جسے جو چاہے دے اور جسے چاہے محروم رکھے ، البتہ اس نے رزق کے حصول کے کچھ قواعد ضرور ارشاد فرمائے ہیں ، وہ قومیں جو ان اصولوں کو ملحوظ رکھتی ہیں ، اور ان پر عمل پیرا ہوتی ہیں ، مالدار ہیں اور وہ جو ان قواعد سے تغافل کرتی ہیں ، افلاس میں مبتلا ہیں ۔ مومن و کافر میں امتیاز یہ ہے کہ مومن دنیا کو نصب العین نہیں ٹھہراتا اور باوجود تمام آسائشوں کے اسے ضمائے آخرت کے مقابلہ میں متاع قلیل ٹھہراتا ہے ، اور کافر کی تمام جدوجہد دنیا کے لئے ہے غرض یہ ہے کہ دنیا کے لئے دین کو مت ضائع کرو ، اگر دین کی نعمتوں سے تم نے اپنا دامن بھر لیا ، تو دنیا بھی تمہیں حاصل ہوجائے ، اور اگر صرف دنیا چاہو کے تو دین سے محرومی ہی ممکن ہے ، دنیا بھی نہ ملے اور تم (آیت) ” خسرالدنیا والاخرہ “۔ کا مصداق بن جاؤ ۔
Ayahs 13:27–28

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ محمد ﷺ پر اس کے رب سے کوئی معجزہ نازل کیوں نہ ہوا ؟ تو کہہ جسے چاہے اللہ گمراہ کرتا ہے ، اور جو رجوع ہو اسی کو اپنی طرف راہ دکھاتا ہے (ف 3)

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

جو ایمان لائے ۔ اور جن کے خدا کی یاد سے تسلی پاتے ہیں ۔ سنتا ہے ، اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے

(ف 3) یہ انداز بیان ہے مقصود یہ نہیں کہ خدا گمراہی کو پسند کرتا ہے یہی وجہ ہے ، ہدایت کے لئے انابت کی وضاحت کردی ہے ، یعنی جو خدا کی طرف جھکے گا ، اسے ضرور ہدایت ہوگی ، اور جو انابت کی جذبے سے محروم ہے ، وہ ہدایت ونور سے کیونکر استفادہ کرسکتا ہے ۔ حل لغات : سوء الدار : برا انجام ۔ ویقدر : قدر کے معنی اندازہ کرنے کے بھی ہیں اور تنگ کرنے کی بھی ۔
Ayahs 13:29–30

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان کے لیے خوشحالی ہے اور اچھا ٹھکانا ہے (ف 1)

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے تجھے ایک امت (اہل مکہ) میں بھیج دیا ہے کہ ان کے پہلے بہت امتیں گزر چکیں ، تا کہ تو انہیں وہ سنائے جو تیری طرف ہم نے وحی کی ہے ، اور (اہل مکہ) رحمن کو نہیں مانتے (یہ لفظ ان میں مشہور نہیں تھا) تو کہہ وہ میرا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، میں نے اس پر بھروسہ کیا ، اور اس کی طرف میری توبہ ہے

(ف 1) دنیا داروں کے لئے اس میں نہایت عارفانہ درس حکمت ہے ارشاد ہے کہ دل کا اطمینان اور سکون خاطر روپے اور سونے پر موقوف نہیں ، دنیا کی آسائشوں اور تکلفات میں نہیں بلکہ اللہ کے ذکر میں ہے ، اس کے ساتھ محبت وشوق میں ہے خدا پرست انسان جس درجہ روحانی لطف حاصل کرتا ہے دنیا دار باوجود تعیش کی فراوانی کے اس نعمت سے محروم رہتا ہے ، اس لئے مبارک ہیں وہ لوگ جو دل کی مسرتوں کو اللہ کی یاد میں تلاش کرتے ہیں ۔ حل لغات : طوبی : اظہار مسرت و فرحت کے لئے آتا ہے ، یعنی خوشی وخوش طبعی مؤنث طیب کا ہے ، اور طیب کے معنے بوئے خوش اور خوش طبعی کے ہیں متاب ، جائے رجوع ۔
Ayahs 13:31–32

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس سے پہاڑ جلائے جاتے ، یا اس سے زمین شق ہوجاتی ، یا اس کے سبب سے مردوں سے ہمکلامی ہو سکتی تو بھی کیا ہوتا کبھی نہ مانتے ، بلکہ سب کام اللہ کے ہیں ، سو کیا ایمانداروں کو اس میں اس میں تسلی نہیں کہ اگر اللہ چاہے تو سب آدمیوں کو ہدایت کرے ۔ اور کفار (مکہ) پر ان کی کردار کے سبب ہمیشہ ایک آفت اترتی رہے گی ۔ یا ان کے گھروں کے قریب اترے گی ۔ یہاں تک کے کہ خدا کا وعدہ آپہنچے ، بیشک خدا وعدہ خلافی نہیں کرتا (ف 1)

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور تجھ سے پہلے رسولوں سے ٹھٹھے کرچکے ہیں ۔ سو میں نے اول کافروں کو مہلت دی ، پھر ان کو پکڑا ، تو میرا عذاب کیسا تھا

ولو ان قرانا : (ف 1) مکہ والوں کی انتہاء بدبختی یہ ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ اور قرآن کو آخر وقت تک نہ پہچانا ، قرآن گو سراپا روشنی ہے اور نور ہے ، ہدایت نامہ ہے اور پیغام ہے ، اس میں دلوں کو بدل دینے کی صلاحیت اور سعادت انسانی کے مخفی خزائن ہیں نیز انقلاب آفرین گونج ہے ، ہنگامہ خیز آواز ہے مردوں کو جلانے والا سحر ہے ، پہاڑوں کو کاٹ کا رکھ دینے والا جادو ہے ، مگر پھر بھی مکہ والوں کی چشم بصیرت بند ہے ، وہ ظاہری اور مادی کرشمہ سازیوں کے منتظر ہیں ، نہایت متعصب دشمنان اسلام کو اسلام قبول کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ، مگر پھر بھی یہ چاہتے ہیں کہ مکہ کے پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں ، کیا دلوں کی تبدیلی پہاڑوں کو ہلا دینے سے زیادہ مشکل نہیں ؟ وہ ہر آن دیکھتے ہیں کہ خدا کی زمین میں ہدایت وسعادت کے سوتے پھوٹ رہے ہیں اور اسلام کا پیغام ہر جگہ پہنچ رہا ہے ، مگر ان کا تقاضا یہی ہے کہ مادی طور پر یہاں چشمے بہہ نکلیں جب چاہیں ہر وقت مردے زندہ ہوتے رہیں ، کفر وشرک کی حاملین قرآن کے حیات آفرین پیغام کو سن کر نئی روحانی زندگی حاصل کرتے رہتے ہیں ، مگر یہ ہیں کہ گڑے مردے اکھاڑنا چاہتے ہیں ، اور اس وقت تک مطمئن نہیں ، جب تک ان کے آباء و اجداد ان کے سامنے نہ لا کھڑے کئے جائیں ، اللہ فرماتے ہیں ، اگر قرآن میں یہ تاثیر بھی پیدا ہوجائے ، تاہم یہ لوگ نہیں مانیں گے ، کیونکہ ان کے دلوں میں تعصب وعناد کی آگ بھڑک رہی ہے ، ان کے دلوں میں بصیرت کی استعداد باقی نہیں رہی ۔ بات اصل یہ ہے کہ فطرت کا منشاء یہی نہیں کہ سب کے سب ہدایت قبول کرلیں ، گو کہ یہ صلائے عام ہے ، اور توفیق وآسانی کے لئے سب کو یکساں مواقع حاصل ہیں ، مگر ہدایت وہی قبول کریں گے جن کے سینے پہلے سے روشن ہیں اور تعصب کی آلودگیوں سے پاک ہیں ۔ (آیت) ” ان اللہ لا یخلف المیعاد “۔ سے مراد یہ ہے کہ اللہ کا عذاب ان بدبختوں پر آکر رہے گا ، کیونکہ یہی قاعدہ ہے ، اور قاعدے کے خلاف نہیں ہوا کرتا ۔ حل لغات : قارعۃ : سختی ، وحادثہ زمانہ ۔
Ayahs 13:33–34

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

بھلا جو شخص (یعنی اللہ) ہر کسی کے سر پر اس کا کیا لیے کھڑا ہے ، وہ ان کو بغیر سزا دیے چھوڑ دے گا اور انہوں نے اللہ کے شریک ٹھرائے ہیں تو کہہ ان کے نام بتاؤ آیا تم اللہ کو وہ بات بتاتے ہو جو وہ زمین میں نہیں جانتا ۔ یا ظاہری باتیں بناتے ہو ؟ نہیں بلکہ کافروں کے فریب ان کے لیے سجائے گے ہیں اور وہ اللہ کی راہ سے روکے گئے ہیں ، اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کا کوئی ہادی نہیں (ف 1)

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان کے لیے حیات دنیا میں عذاب ہے ، اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے ، اور اللہ سے انہیں کوئی بچا نہیں سکتا

(ف 1) یعنی چونکہ برائیوں سے انہیں نفرت نہیں بلکہ طبیعت کا میلان معصیت کی جانب زیادہ ہے ، اس لئے گمراہ ہیں اور ناقابل ہدایت جب کوئی شخص معصیت کے اس مقام پر پہنچ جائے ، جہاں احساس زیاں اٹھ جائے ، اس وقت ہدایت کا حصول ناممکن ہوجاتا ہے اس آیت میں قرآن حکیم نے اپنے مخصوص انداز میں یہی حقیقت بیان کی ہے ۔
Ayahs 13:35–37

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

جنت کی صفت جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے ۔ یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ اس کا میوہ اور سایہ دائمی ہے ، یہ انجام ڈرنے والوں کا ہے اور کافروں کا انجام آگ ہے (ف 2)

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور جنہیں ہم نے کتاب دی ہے (یعنی اہل کتاب) وہ اس سے جو تجھ پر اترا ہے خوش ہیں اور بعض فرقے اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے ، تو کہہ مجھے یہی حکم ہوا ہے کہ اللہ کی عبادت کروں اور اس کا شریک نہ ٹھہراؤں میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف میرا ٹھکانا ہے

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے قرآن حکیم ، عربی نازل کیا ہے ۔ اور اگر تو بعد اس کے کہ تیرے پاس علم آچکا ہے ان کی خواہشوں پر چلا ، تو اللہ سے تیرا کوئی حمایتی اور بچانے والا نہیں

جنت کا سادہ اور واقعی تخیل : (ف 2) متقی اور پرہیز گار لوگ دنیا میں اپنی خواہشات نفس کو اللہ کے تابع کردیتے ہیں ، ان کا کوئی ارادہ نہیں رہتا ، خواہشیں اور مطالبے سب منشاء ایزدی کے ماتحت ہوجاتے ہیں ، کیونکہ اپنی مستی کو اللہ میں گم کردینے کا نام ہی تو اتقا ہے ، نتیجہ یہ ہے کہ آخرت میں ان لوگوں کے لئے حسرت وابتہاج کے تمام سامان موجود ہیں ، جس طرح دنیا میں کامیابی کا نتیجہ اور نشانی دنیوی آسائشوں کا دفور ہے ، اس طرح آخرت میں جو کہ انسانی زندگی کی تکمیل کا نام ہے ، ضروری ہے کہ تمام مادی مسرتیں جو جائز ہیں موجود ہوں ۔ یہ انسان کی فطرت ہے تمام انسان دل سے چاہتے ہیں کہ انہوں زندگی کے ایسے پرامن لمحات میسر ہوں جن میں مرض وعلالت کا شائبہ نہ ہو ، جس میں کم مائگی و افلاس کا خطرہ نہ ہو ، ظاہر ہے یہ لمحات یہاں میسر نہیں ہیں ، یہاں ہزاروں ارمان ہوتے ہیں ، ارمان ہوتے ہیں ، جو قبر تک ساتھ جاتے ہیں ، کیا یہ فطرت کی آواز نہیں کیا یہ مصنوعی تقاضے ہیں ؟ جواب ملے گا نہیں یہ عین انسانی خواہش ہے ، یہ وہ آرزو ہے جو ہر دل میں موجزن ہے ، پھر اس کی تکمیل کہاں ہوگی ؟ قرآن کہتا ہے تم اگر یہاں خواہشات نفس کے منہ میں لگام دو ، اور اپنی زندگی کو خدا کے تابع بنا دو تو آخرت میں اللہ تمہاری اس آرزو کو پورا کر دے گا کتنا سادہ اور واقعی تخیل ہے ، جنت کا جس کو اسلام پیش کرتا ہے ۔ مگر وہ لوگ جو جاہل ہیں ، اس حقیقت پر معترض ہیں ، دنیا میں ان کی تمام تگ ودو کا مقصد دنیا کی انہیں خواہشوں کی تکمیل ہے ، یہ بات اللہ کو محبوب ہے ، کہ تم مسلمان ہوجاؤ یہ سب کچھ تمہیں دوسری زندگی میں مل جائے گا ۔ حل لغات : السبیل : راہ حق ، اسلام کے نزدیک چونکہ ایک ہی راہ حق ہے ، اس لئے وہ صرف السبیل کے لفظ کے ساتھ اس کو تعبیر کرتا ہے ۔ مثل کے معنی وصف کے بھی آتے ہیں جیسے (آیت) ” مثلھم کمثل الذی استوقد “ ۔ میں ہے ۔
Ayahs 13:38–39

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

اور تجھ سے پہلے ہم نے کتنے رسول بھیجے ۔ اور ان کو ہم نے عورتیں اور اولاد دی اور کوئی رسول بغیر حکم خدا کوئی معجزہ نہیں لاسکا ۔ ہر وعدہ لکھا ہوا ہے (ف 1)

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

اللہ جو چاہے اس میں سے مٹادے اور جو چاہے روکے اور اسکے پاس اصل کتاب ہے (یعنی لوح محفوظ)

ظہور آیات کیلئے ایک وقت مقرر ہے : (ف 1) مکہ والوں کی ذہنیت یہ تھی کہ وہ بات بات پر اظہار عجائب کی خواہش کرتے کبھی کہتے ، یہاں چشمے پھوٹیں ، کبھی کہتے ہمارے اسلاف کو زندہ کر دو کبھی کہتے مکہ کے پہاڑ سونے چاندی کے بن جائیں ، غرضیکہ ، خوائے بدرابہانہ ہابسیار ۔ ان دو آیتوں میں قرآن حکیم نے اصولی جواب دیا ہے ، ارشاد ہے کہ اظہار کو ارق کا تعلق منشاء ایزدی سے ہے ، رسول کے اختیار میں نہیں کہ جب چاہے کوئی کرشمہ کر دکھا دے ، یہ اللہ کی مرضی پر موقوف ہے کہ جب مصلحت جائے انبیاء (علیہم السلام) کے ہاتھوں عجائب وخوارق کا اظہار کر دے ، اس لئے یہ ضرور نہیں کہ رسول تمہاری ہر خواہش کو براہ راست پورا کرے ۔ (آیت) ” لکل اجل کتاب “۔ سے غرض یہ ہے کہ ہر مدت موعود کے لئے جو وقت مقرر ہے ، اسے خدا ہی جانتا ہے ، تم نہیں جانتے یہ غرض نہیں کہ ہر صدی کے بعد رسول کی ضرورت ہے ، یا کتاب شریعت کی حاجت ہے ، یہ مقصود ہے کہ ہر نبوت کے لئے ایک دور ہے جب وہ ختم ہوجائے تو کتاب کا نزول ہوتا ہے یہ سب باتیں ملحدانہ ہیں آیت کے سیاق وسباق کو اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ (آیت) ” یمحوا اللہ ما یشآء ویثبت “ کا بھی یہی مدعا ہے کہ ظہور آیات کے لئے خاص قسم کے حالات وفضا کی ضرورت ہے ، بعض دفعہ وہ گناہوں اور لغزشوں سے درگز کرتا ہے ، اور مہلت دیتا ہے کہ منکرین سنبھل جائیں ، مگر جب توجہ اور رجوع کے تمام درجے ملے ہوجاتے ہیں تو اس وقت وہ عذاب بھیجتا ہے ۔
Ayah 13:40

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور جو وعدے ہم نے ان سے کیے ہیں ان میں سے اگر کوئی وعدہ ہم تجھے دکھلائیں یا تجھے وفات دیں تو تیرا ذمہ صرف پیغام پہنچانا ہے اور ہمارے ذمہ حساب لینا ہے (ف 2)

(ف 2) یعنی آپ بھی ظہور آیات کے منتظر نہ رہیں ، یہ کوئی ضروری نہیں کہ جن جن باتوں کا وعدہ ہے وہ سب آپ کی زندگی میں ہی پوری ہوجائیں آپ کا فرض یہ ہے کہ بلا انتظار ، تبلیغ و اشاعت میں مصروف رہیں ، محاسبہ ہمارے ذمہ ہے ۔