Explained with ayahs 10–11
سب پہ محیط علم
اللہ کا علم تمام مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔ کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں، پست اور بلند ہر آواز وہ سنتا ہے چھپا کھلا سب جانتا ہے۔ تم چھپاؤ یا کھولو اس سے مخفی نہیں۔ حضرت صدیقہ ؓ فرماتی ہیں وہ اللہ پاک ہے جس کے سننے نے تمام آوازوں کو گھیرا ہوا ہے قسم اللہ کی اپنے خاوند کی شکایت لے کر آنے والی عورت نے رسول اللہ ﷺ سے اس طرح کانا پھوسی کی کہ میں پاس ہی گھر میں بیٹھی ہوئی تھی لیکن میں پوری طرح نہ سن سکی لیکن اللہ تعالیٰ نے آیتیں (قد سمع اللہ) الخ اتاریں یعنی اس عورت کی یہ تمام سرگوشی اللہ تعالیٰ سن رہا تھا۔ وہ سمیع وبصیر ہے، جو اپنے گھر کے تہ خانے میں راتوں کے اندھیرے میں چھپا ہوا ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
سورة الرَّعْد 17
اس سے مراد یہ ہے کہ ماؤں کے رحم میں بچے کے اعضاء اس کی قوتوں اور قابلیتوں، اور اس کی صلاحیتوں اور استعدادوں میں جو کچھ کمی یا زیادتی ہوتی ہے، اللہ براہ راست نگرانی میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ
اَسَرَّ الْقَوْلَ
اسرار سے بنا ہے جس کے معنی خفیہ کلام اور جہر کے معنی علانیہ کلام کے ہیں جو کلام انسان کسی دوسرے کو سنانے کے لئے کرتا ہے اسے جہر کہتے ہیں اور جو خود اپنے آپ کو سنانے کے لئے کرتا ہے اس کو سر کہا جاتا ہے مستخف کے معنی چھپنے والا سارب کے معنی آزادی اور بےفکری سے راستہ پر چلنے والا
معنی آٰیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط کی وجہ سے اس کے نزدیک خفیہ کلام کرنے والا اور بلند آواز سے کلام کرنے والا دونوں برابر ہیں وہ دونوں کے کلام کو یکساں طور پر سنتا…
Read the full tafseer →سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَار۔ مطلب یہ کہ دیر سویر کی فکر تو اس کو ہو جس کو اندیشہ ہو کہ ذرا تاخیر ہوئی تو وقت نکل جائے گا اور پھر حریف قابو میں نہ آسکے گا۔ جس کا علم اور جس کی قدرت ہر چیز اور ہر شخص کا اس طرح احاطہ کیے ہوئے ہو کہ اس کا " سرا وعلانیۃ " سب اس کے علم میں ہو اور اس کی شب اور اس کے روز کی ہر نقل و حرکت پر اس کو پورا اختیار حاصل ہو وہ پکڑنے میں جلد بازی کیوں کرے ؟ وہ جب چاہے گا اور جہاں سے چاہے گا ہر ایک کو پکڑے گا۔ کس کی طاقت ہے کہ اس کے قابو سے باہر نکل سکے یا کہیں اس سے چھپ سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
11۔ 1 معقبات، ، معقبۃ۔ کی جمع ہے ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے، مراد فرشتے ہیں جو باری باری ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں۔ دن کے فرشتے جاتے ہیں تو شام کے آجاتے ہیں شام کے جاتے ہیں تو دن کے آجاتے ہیں۔
11۔ 2 اس کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة انفال آیت 53 کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
14: یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ کس ماں کے پیٹ میں کیسا بچہ ہے۔ اور رحم میں رہتے ہوئے حمل بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
یہ تھی ایک اچٹتی سی نظر آفاق کائنات پر۔ اس پر تبصرے تھے ، اب کائنات کی بعض مخصوص وادیوں میں آپ کو لے جایا جائے گا۔ مثلاً نفس انسانی ، انسانی شعور و ادراک اور اس کرۂ ارض پر حیات انسانی اور دوسری زندہ اشیاء پر غور۔
آیت نمبر 8 تا 11
جب حیات انسانی کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ مناظر پیش کیے جاتے ہیں تو انسانی حس اور شعور ششدرزہ جاتا ہے۔ خصوصاً قرآن کے اس ترنم آمیز انداز بیان پر۔ اللہ کے علم اور اللہ کی حکمتوں کی کرشمہ سازیاں دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ وہ علوم جو جنین کے بارے میں انسان پر ظاہر ہوچکے ہیں ، پھر وہ راز جو ہر انسان نے اپنے سینے میں چھپا رکھے ہیں ، راتوں میں انسان کی حرکات اور دوڑ…
Read the full tafseer →7 علم الٰہی کا عموم بیان کر کے بلحاظ مناسبت مقام خاص احوال مکلفین کی نسبت بتلاتے ہیں کہ تمہارے ہر قول و فعل کو ہمارا علم محیط ہے۔ جو بات تم دل میں چھپاؤ یا آہستہ کہو اور جو اعلانیہ پکار کر کہو، نیز جو کام رات کی اندھیری میں پوشیدہ ہو کر کرو اور جو دن دہاڑے برسر بازار کرو، دونوں کی حیثیت علم الٰہی کے اعتبار سے یکساں ہے۔ بعض مفسرین نے آیت کو تین قسم کے آدمیوں پر مشتمل بتلایا ہے۔ " مَنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ " (جو بات کو چھپائے) " مَنْ جَہَرَبِہٖ " (جو ظاہر کرے) (وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ ) 13 ۔ الرعد :10) (جو اپنا کام رات کو چھپائے مثلاً شب کو چوری کرنا اور دن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
آیت 10 سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ
غیاب کی صورت ہو یا ظہور کا عالم ‘ اللہ کے علم کے سامنے سب برابر ہے۔ ہرچیز اور اس کی ہر کیفیت ہر آن اس کے سامنے حاضر و موجود ہے۔
Read the full tafseer →15 اس آیت میں زمانہ حال سے متعلق دو مثالیں پیش کی گئی ہیں اور ان مثالوں میں غیب اور شہادت دونوں آجاتے ہیں۔ مثلاً ایک آدمی اپنے دل میں کوئی بات کرتا یا سوچتا ہے یہ ہم لوگوں کے لیے غیب ہے اور دوسرا بلند آواز سے پکار کر بات کرتا ہے۔ یہ ہم لوگوں کے لیے شہادت ہے۔ مگر اللہ کے ہاں ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ وہ غیب کو بھی ویسے ہی جانتا ہے جیسے شہادت کو۔ اسی طرح ایک شخص رات کی تاریکیوں میں چھپ چھپا کر کوئی کام کرتا ہے۔ یہ ہمارے لیے غیب ہے اور دوسرا دن دہاڑے برسرعام کوئی کام کر رہا ہے یہ ہمارے لیے شہادت ہے۔ مگر اللہ کے ہاں ان دونوں میں کوئی فرق نہیں وہ غیب کو بھی اتنا ہی جانتا ہے جتنا شہادت کو۔
Read the full tafseer →17۔ یعنی یہ سروجہر، یہ پوشیدگی و ظہور، یہ تاریکی و روشنی، سب تمہاری نسبت سے ہے، اس کے علم کے اعتبار سے سب یکساں ہے۔ مشرک قوموں نے اپنے دیوی، دیوتاؤں کو بھی اپنے ہی محدود اور ناقص حواس اور قوتوں پر قیاس کیا ہے۔ اس کی اصلاح ضروری تھی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
آیت نمبر 8 تا 18
ترجمہ : اللہ بخوبی جانتا ہے کہ مادہ کس چیز سے حاملہ ہے ؟ آیا لڑکا ہے یا لڑکی اور ایک ہے یا متعدد وغیرہ وغیرہ اور مدت حمل میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اس کو بھی جانتا ہے ہر چیز اس کے نزدیک مقدار اور تحدید کے ساتھ ہے کہ اس (مقررہ مقدار) سے تجاوز نہیں ہوتا، پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے وہ عظیم اور اپنی مخلوق پر قوت کے ذریعہ غالب ہے، (المتعال میں) یاء اور بغیر یاء دونوں قراءتیں ہیں تم میں سے کوئی شخص خواہ آہستہ بات کرے یا زور سے، اللہ تعالیٰ کے علم میں سب برابر ہے اور وہ جو رات کی تاریکی میں چھپا ہو اور (یا) دن میں راستہ میں چلنے (پھرنے) کی وجہ سے ظاہر ہو ہر انسان کے ساتھ آگے…
Read the full tafseer →سوآء منکم من اسر القول ومن جھربہ ومن ھو مستخف بالیل وسارب بالنھار جو شخص تم سے کوئی بات چپکے سے کہے اور جو پکار کر کہے اور جو شخص رات میں کہیں چھپ جائے اور جو دن میں چلے پھرے ‘ یہ سب (ا اللہ کے علم میں) برابر ہیں۔
مَنْ اَسَرَّ جو دل میں بات چھپائے رکھے۔ وَمَنْ جَھَرَبِہٖ اور جو دوسروں سے اپنی بات کہہ دے۔ مَنْ ھُوَ مُسْتَخُفٍ م جو اپنے کو دوسروں سے چھپائے رکھنا چاہے۔ سَارِبٌم بالنَّھَارِ جو دن میں باہر نکلے کہ اس کو ہر شخص دیکھے۔ سَارِبٌ‘ سَرَبَ ‘ سُرُوبًا سے مشتق ہے۔ سَرَبَ کا معنی ہے : برآمد ہونا ‘ باہر نکلنا۔ بعض نے کہا : سَرَبٌ کا معنی ہے : راستہ۔ پس سارِبٌ کا معنی ہے : راستہ میں چلتے…
Read the full tafseer →(10) تم میں سے کوئی بات یا کوئی کام چپکے سے کرین یا پکار کر کہے سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ سب برابر ہیں اور ایسے ہی جو شخص رات میں کہیں چھپ جائے اور جو دن میں چلے پھرے وہ سب کو جانتا ہے۔
Read the full tafseer →سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ۔۔ : یہ اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت کی ایک اور تاکید ہے، یعنی تمہارا کوئی آدمی چھپا کر بات کرے یا بلند آواز سے اللہ کے نزدیک دونوں برابر ہیں، وہ دونوں کو یکساں سنتا ہے، جبکہ تم اور ساری مخلوق چھپی بات کو تو سن ہی نہیں سکتے، البتہ بلند آواز سے کی ہوئی ایک شخص کی بات تم سن اور سمجھ سکتے ہو، مگر جب چار چھ آدمی اونچی آواز میں بولنا شروع کردیں تو کسی کے پلے کچھ نہیں پڑے گا، اب اللہ تعالیٰ کے علم کا اندازہ کرلو کہ اس کے ہاں یہ سب برابر ہیں، وہ ایک ہی وقت میں سب کی سنتا اور سمجھتا اور سب کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔
”مُسْتَخْفٍ“ ”خَفِیَ یَخْفَی“ (چھپنا) کے باب…
Read the full tafseer →آیت نمبر 10
قولہ تعالیٰ : سواء منکم من اسر القول ومن جھربہ۔ اسر القول سے مراد وہ بات ہے جو بندہ اپنی ذات کے ساتھ کرے اور جھر سے مراد وہ بات ہے جو بندہ کسی اور کے ساتھ کرے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ خیر و شر میں جو بندہ پوشیدہ طور پر کرے اسے اللہ تعالیٰ جانتا ہے جس طرح کہ وہ اسے جانتا ہے جو ظاہری طور پر ہو۔ منکم کے بارے میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ سوآء کی صفت ہو اور تقدیر کلام یوں ہو : سر من أسر وجھر من جھر سواء منکم اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سواء کے متعلق ہو کلام یوں ہو : یستوی منکم جس طرح کہ آپ کا قول : مررت بذید اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تقدیر عبارت یہ ہو : سر من أسر منکم وجھر من جھر منکم تقدیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” علم الغیب والشھادۃ “ سے مراد ہے کہ چھپے ہوئے اور علانیہ۔
2:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وبوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” سوآء منکم من اسر القول ومن جھر بہ “ یعنی بلند آواز سے بات کرنے والا اور آہستہ بات کرنے والا ان کے نزدیک برابر ہے۔ (آیت) ” ومن ھو مستخف بالیل “ رات کو چھپ کر گناہ کرنے والا (آیت) ” وسارب بالنھار “ دن کو ظاہر میں گناہ کرنے کے برابر ہیں۔
3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” سوآء منکم من اسر القول ومن جھر بہ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →[سَوَاۗءٌ: برابر ہے ] [ مِّنْكُمْ : تم لوگوں میں سے ] [مَنْ : وہ جس نے ] [ اَسَرَّ : چھپایا ] [الْقَوْلَ : بات کو ] [ وَمَنْ : اور وہ جس نے ] [جَهَرَ : نمایاں کیا ] [ بِهٖ : اس کو ] [ وَمَنْ هُوَ : اور جو وہ ہے (کہ)] [ مُسْتَخْفٍۢ: چھپنے والا ہے ] [ بِالَّيْلِ : رات میں ] [ وَسَارِبٌۢ: اور چلنے پھرنے والا ہے ] [ بِالنَّهَارِ : دن میں ]
س ر ب
[سُرُوْبًا : (ن) پانی کا جاری ہونا۔ گھستے چلے جانا۔] [سَرَبًا : (س) پانی کا برتن سے بہہ نکلنا۔ نشیب میں اترنا۔ فَاتَّخَذَ سَبِیْلَہٗ فِی الْبَحْرِ شَرَبًا (تو اس نے یعنی مچھلی نے بنایا اپنا راستہ پانی میں، نشیب میں گھستے ہوئے) 18:61 ۔] [شَارِبٌ: اسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فرشتے بندوں کی حفاظت کرتے ہیں :
(لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْم بَیِْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ ) کہ انسان کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر فرمائے ہیں جو یکے بعد دیگرے آتے رہتے ہیں جو آگے سے اور پشت کے پیچھے سے انسان کی حفاظت کرتے ہیں اور ضرر دینے والی چیزوں سے بچاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اس کام پر لگایا ہے کہ وہ انسان کی حفاظت کریں۔ صاحب روح المعانی نے بحوالہ ابن ابی الدنیا وغیرہ حضرت علی ؓ سے نقل کیا ہے کہ ہر بندہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے حفاظت کرنے والے فرشتے مقرر فرما دیئے جو اس کی حفاظت کرتے ہیں تاکہ اس پر کوئی دیوار نہ گرجائے یا وہ کسی کنویں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
رجوع برائے مضمون توحید
قال اللہ تعالیٰ : اللہ یعلم ما تحمل کل انثی .... الیٰ .... وھو الواحد القھار۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منکرین نبوت اور منکرین بعث بعد الموت کے شبہات کا جواب تھا اور اس سے قبل توحید کا مضمون تھا اب پھر توحید ہی کا مضمون بیان فرماتے ہیں اس ذیل میں اول حق تعالیٰ نے اپنا عالم بجمیع معلومات ہونا بیان کیا چناچہ اللہ یعلم الخ سے اپنا وسیع العلم ہونا بیان کیا کہ اللہ کا علم تمام کائنات کو محیط ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں بعد اذاں اپنا حافظ خلق اور رقیب ہونا بیان کیا چناچہ لہ معقبات سے یہ بتلا دیا کہ وہی تمام مخلوق کا محافظ اور نگہبان ہے بعد ازاں ھو الذی یریکم البرق الخ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
11:۔ جو چیزیں انسانوں پر طاہر ہیں اور جو ان سے پوشیدہ ہیں اللہ تعالیٰ کو وہ سب معلوم ہیں۔ اَلْکَبِیْرُ ایسا عطیم الشان کہ تمام صفات کمال اس میں موجود ہیں۔ ” اَلْمُتَعَالِ “ ہر چیز سے برتر اور صفات مخلوقات سے مبرا اور پاک۔ ” سَوَاءٌ مِّنْکُمْ مَّنْ اَسَرَّ “ جو شخص آہستہ باتیں کرتا ہے اور جو شخص بلند آواز سے گویا ہوتا ہے یا جو شخص رات کی تاریکی میں چھپا بیٹھا ہے اور جو شخص دن کو راستہ میں چل رہا ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کے نزدیک یکساں ہیں اور وہ یکساں طور پر سب کو جانتا ہے۔ اور اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
(ربط آیات)
جیسا کہ سورة ہذا کے تعارف میں بیان ہوچکا ہے ، اس میں بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے ، اللہ نے ابتداء میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کو بیان کرنے کے بعد توحید کے دلائل ذکر کیے ، ان دلائل میں سے بعض کا تعلق عالم بالا سے اور بعض کا عالم زیریں سے ہے ، اس کے ساتھ ساتھ قیامت کا مسئلہ بھی سمجھایا گیا ہے اور درمیان میں حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کی حقانیت کا ذکر بھی آگیا ہے اب آج کے درس میں بھی توحید ہی کے دلائل بیان کیے گئے ہیں جن پر غور کر کے انسان مسئلہ توحید کو پہچان سکتا ہے اور اپنے ایمان کو درست کرسکتا ہے ۔
(شکم مادر میں بچے کی کیفیت)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اللہ یعلم ما تحمل کل انثی “ اللہ…
Read the full tafseer →سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ 10
سواء
ومکان سُوىً ، وسَوَاءٌ: وسط . ويقال : سَوَاءٌ ، وسِوىً ، وسُوىً أي : يستوي طرفاه، ويستعمل ذلک وصفا وظرفا، وأصل ذلک مصدر، وقال :
فِي سَواءِ الْجَحِيمِ [ الصافات/ 55] ، وسَواءَ السَّبِيلِ [ القصص/ 22] ، فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلى سَواءٍ [ الأنفال/ 58] ، أي : عدل من الحکم، وکذا قوله : إِلى كَلِمَةٍ سَواءٍ بَيْنَنا وَبَيْنَكُمْ [ آل عمران/ 64] ، وقوله : سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ [ البقرة/ 6] ،
سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
1 ؎ جس کے وہ طالب تھے ورنہ بہت سی نشانیاں اتری تھیں یا وہ نشانیاں ان کو نشانیاں ہی نہ معلوم ہوتی تھیں بات کو معمولی سمجھ کر ٹھٹھوں میں ٹال دیتے تھے۔ یہ پورا اندھا پن ہے جس کی طرف بہت جگہ قرآن میں اشارہ ہوا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →سَوَآئٌ مِّنْکُمْ مَّن اَسَرَّالْقَوْلَ وَمَنْ جَھَرَبِہٖ وَمَنْ ھُوَمُسْتَخْفٍ م بِالَّیْلِ وَسَارِبٌ م بِالنَّھَارِ ۔ (سورۃ الرعد : 10)
(اس کے علم میں) سب یکساں ہیں، تم میں سے وہ بھی جو آہستہ بات کرتا ہے اور وہ بھی جو زور سے بولتا ہے، شب کی تاریکی میں چھپا رہتا ہے اور دن کے وقت چلتا پھرتا ہے۔ )
اس کے علم محیط کا عالم یہ ہے کہ کوئی شخص آہستہ بات کرے یا زور سے بولے، وہ سب کو جانتا ہے اور سب کو سنتا ہے۔ اس کے یہاں سرگوشیاں اور رازداریاں کسی اخفا کا سبب نہیں بنتیں۔ کوئی دن کے اجالے میں گھومے پھرے اور کوئی رات کی تاریکیوں میں چھپ کے رہے، اللہ تعالیٰ کے علم کے سامنے سب یکساں ہیں۔ تاریکی ہمارے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیت میں نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ہادی ہیں لہٰذا لوگوں کو سمجھاتے جائیں۔ جہاں تک ان کے مال اور اعمال کا تعلق اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اس کی پیدائش کے وقت سے جاتا اور اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ اس عقیدہ کا تقاضا ہے کہ آدمی آخرت پر ایمان لائے اور ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے۔
اللہ تعالیٰ انسان کو یہ باور کرواتا ہے کہ اے انسان ! تجھے کسی وقت بھی یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ میں تیری حرکات و سکنات سے بیخبر ہوں بلکہ میں تجھے اس وقت سے جان رہا ہوں جب تیرا تخم ماں کے رحم میں داخل ہوا تھا۔ پرانی طب اور جدید میڈیکل سائنس اس بات پر متفق ہیں کہ جب میاں بیوی کا آپس میں ملاپ…
Read the full tafseer →10: سَوَآ ئٌ مِّنْکُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَھَرَ بِہٖ (جوشخص تم میں سے کوئی بات چپکے سے کہے اور جو پکار کر کہے یہ سب برابر ہیں) اللہ تعالیٰ کے علم میں وَمَنْ ھُوَ مُسْتَخْفٍم بِالَّیْلِ (اور جو شخص رات کو چھپنے والا ہو) مستخف کا معنی چھپنے والا وَسَارِبٌم بِالنَّھَارِ ( اور جو دن میں چلے) اپنے راستہ پر چلنے والا ہو اور سامنے جانے والا ہو۔ کہا جاتا ہے سرب فی الارض سروبا اور ساربؔ کا عطف من ہو مُسْتَخْفٍپر ہے صرفمُسْتَخْفٍپر نہیں ہے نمبر 2۔ مُسْتَخْفٍ پر ہو تو من ؔ دو کے معنی میں ہے۔
Read the full tafseer →10۔” سو اء منکم من اسرا القول ومن جھربہ “ کہ اللہ کے علم میں سب برابر ہیں خواہ وہ اپنی بات پوشیدہ طور پر کریں یا جہر کے طور پر ۔ ” ومن ھو مستخف باللیل “ رات کے اندھیروں میں دوسروں کو چھپائے رکھنا ۔ ” وسارب بالھنار “ جو دن کو نکلے تو سب اسی کی طرف دیکھیں ۔ ” سرب “ سین کے فتحہ اور راء کے سکون کے ساتھ راستہ کو کہتے ہیں۔
مستخف باللیل و سارب بالنہار کی تفسیر
قیتیبی (رح) کا قول ہے ” سارب بالنھار “ سے مراد دن میں اپنے کام کاج میں مشغول ہونے والا ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس آیت میں فرمایا گیا کہ مستخف سے مراد رات کو چھپ کر زنا کرنے والا اور ” سارب بالنھار “ کا مطلب ہے کہ دن میں باہر نکل کر وہ لوگوں…
Read the full tafseer →10۔ آیت کے اس ٹکڑے میں فرمایا کہ لوگوں کے آہستہ آہستہ باتیں کرنے کو بھی سنتا ہے خواہ کوئی چلا کے باتیں کرے یا چپکے سے اور جو شخص اندھیری رات میں اپنے گھر کے تہ خانہ میں بیٹھ کر بولے یا دن کے وقت روشنی میں سر راہ کھلم کھلا باتیں کرے سب اس کے نزدیک برابر ہے غرض کہ اللہ کا علم بہت ہی وسیع ہے کوئی بات کسی قسم کی اس سے پوشیدہ نہیں۔ مسند امام احمد صحیح بخاری مسلم وغیرہ کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث گزر چکی ہے جس میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں مشرکین مکہ میں تین شخصوں نے ایسے چپکے سے کچھ باتیں کعبہ میں کریں کہ میں نے وہ باتیں نہیں سنیں مگر اللہ تعالیٰ نے وہ باتیں سن کر حم سجدہ کی چند…
Read the full tafseer →(سوآء منکم) ” برابر ہے تم میں سے “ یعنی اس کے علم اور سمع و بصر میں (من اسر القول و من جھربہ ومن ھو مستخف بالیل) ” جو آہستہ بات کہے اور جو پکار کر کہے اور جو چھپنے والا ہے رات میں “ یعنی رات کے وقت کسی خفیہ مقام پر ٹھہرا ہوا ہے۔ (وسارب بالنھار) ” اور جو دن میں چلنے والا ہے۔ “ یعنی دن کے وقت اپنی پناہ گاہ کے اندر ہے اور (السرب) اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں انسان چھپتا ہے، خواہ یہ جگہ گھر کے اندر ہو، کوئی غار ہو یا کوئی کھوہ وہغیرہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →30۔ اللہ سے کوئی چھپ نہیں سکتا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے یہاں ایک برابر ہے جو چپکے سے کوئی بات کرے اور جو پکار کرک ہے " سو اس سے کوئی بھی کسی بھی حال میں چھپ نہیں سکتا۔ کیونکہ جو بھی کوئی چھپنے والا ہوگا وہ اس کے علم سے غائب اور پوشیدہ نہیں رہ سکتا خواہ وہ اپنے مکان کے کسی تہ خانے یا بند کمرے میں چھپا ہو۔ یا کسی غار اور رات کے اندھیروں میں کہیں چھپاہو۔ کسی بھی طرح اس سے مخفی نہیں رہ سکتا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو جو کوئی اپنی بات چھپائے اور اس کو زبان پر لائے ہی نہ، یا اس کو ظاہر نہ کرے، اللہ تعالیٰ اس سب کو ایک برابر جانتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (وان تجھر بالقول فانہ یعلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
اللہ علیم وخبیر ہے
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ذکر بڑے موثر انداز میں کیا گیا ہے۔ جب انسان ایک قطرہ پانی کی صورت میں ماں کے رحم میں تین پردوں کے اندر نشوونما پانا شروع کرتا ہے جب سے وہ اللہ علیم وخبیر کی حفاظت، نگہبانی اور علم میں ہوتا ہے۔ اس قطرہ آب کی تمام حرکات و سکنات اللہ کی تدبیر کے ریکارڈ میں موجود ہوتی ہیں۔ کوئی نہیں جانتا مگر اللہ جانتا ہے۔ اس کی جنس، رنگ، اخلاق و کردار، عمر اور موت اور زندگی گزارنے کے رنگ ڈھنگ، رہنے، عمر گزارنے اور مرنے کے مقامات غرض ایک معمولی پانی کے اس قطرے کے بارے میں اللہ کو اتنا کچھ معلوم ہوتا ہے پہلے سے ہی یہ سب اللہ کے بلندو عظیم، برتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
رکوع نمبر 2 :
اسرارومعارف :
اللہ جل جلالہ انسانی ضروریات سے پوری طرح واقف ہے اس کا علم تو اس قدر وسیع ہے کہ نہ صرف دنیا میں بلکہ ماؤں کے پیٹوں میں قرار پکڑنے والے حمل اور اس کی ہر ہر لمحہ کی گھٹنی بڑھتی اور تبدیل ہوتی ہوئی صورت کو جانتا ہے اور آج تک طب اور جدید سائنس نے بھی اپنی پوری قوت صرف کرکے اگر اندازہ لگا بھی لیا کہ حمل سے بچی پیدا ہوگی یا بچہ تو ان کا یہ علم بھی محض ایک اندازہ ہوتا ہے یقینی نہیں ہوتا اور صرف یہ اندازہ کو لینا ہی تو کافی نہیں اس کا رنگ ، قد کاٹھ ، صحت ، عرم اور عملی استعداد یا دنیا میں زندگی کی کن منازل سے گذرے گا ، غرض ہر پیدا ہونے واے انسان کے کوائف کی ایک بہت لمبی…
Read the full tafseer →ف 12 ۔ یہ سب اس کے علم میں برابر ہیں۔ (ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(13:10) مستخف۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ استخفاء (استفعال) مصدر۔ چھپنے والا۔ چھپنے کی خواہش کرنے والا۔ یہ لفظ اصل میں مستخفی تھا۔ خفی مادہ اخفاء (افعال) چھپانا۔ مستخف بالیل جو چھپا رہتا ہے رات کے وقت۔ یعنی وہ جو رات کی تاریکی کے پردے میں دکھائی نہیں دیتا اور پوشیدہ ہوتا ہے۔
سارب۔ گلیوں میں پھرنے والا۔ راہ چلنے والا۔ سروب مصدر۔ اپنے رخ پر چلنا۔ اس کی جمع سرب ہے جیسے راکب کی جمع رکب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
لغات القرآن : آیت نمبر 8 تا 11
یعلم وہ جانتا ہے تحمل اٹھاتی ہے انثی مادہ، عورت تغیض کمی ہوتی ہے تزداد اضافہ ہوتا ہے کل شیء ہر چیز بمقدار اندازے سے الکبیر بڑا بزرگ المتعال برتر۔ زیادہ اونچا سواء یکساں اسر جس نے چھپایا جھر جس نے کھل کر کیا۔ زور سے کیا مستخف اسم فاعل سارب چلنے والا معقبت (مقبت) ایک کے پیچھے دوسرے کا آنا۔ پہرے دار یحفظون حفاظت کرتے ہیں لایغیر وہ تبدیل نہیں کرتا حتی یغیروا جب تک وہ نہ بدلیں لامرد نہیں ہٹانے والا۔ نہیں ٹلانے والا وال حمایتی۔ مددگار
تشریح : آیت نمبر 8 تا 11
اللہ تعالیٰ کا علم کتنا وسیع ہے ؟ اس کا انتظام کتنا حسین ہے ؟ اس کی قدرت کائنات کی ہر چیز پر کس طرح محیط ہے ؟…
Read the full tafseer →اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم کے سامنے بات کا چھپانا اور ظاہر کرنا برابر ہے۔ وہ خفیہ بات کو بھی خوب جانتا ہے اور ظاہر کو بھی خوب پہچانتا ہے۔ جو شخص رات کو خفیہ کارروائی کرتا ہے اسے بھی پہچانتا ہے اور جو دن کو اعلانیہ کام کرتا ہے اس سے واقف ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
[9] یعنی بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ اللہ ہر شخص کو ہر حال میں براہ راست خود دیکھ رہا ہے بلکہ مزید برآں اللہ کے مقرر کئے ہوئے فرشتے بھی ہر شخص کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور اس کے پورے کارنامہ زندگی کا ریکارڈ محفوظ کرتے جاتے ہیں۔ لہذا جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی کے سامنے اپنے اعمال کے لئے جواب دہ نہیں دراصل اپنی شامت آپ بلاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(ف 1)
فرض کرو کہ اللہ تمہارے مطالب کو ضرور پورا کرے گا اور کوئی نشان نازل کرے گا جب بھی کون جانتا ہے یہ کب ہوگا غیب کی باتیں تو وہی جانتا ہے ۔
Read the full tafseer →10 ۔ تم میں سے وہ شخص جو چپکے سے کوئی بات کہے اور وہ شخص جو پکار کر بات کہے اور وہ شخص جو رات کو کہیں چھپ رہے اور وہ شخص جو دن کو راستہ میں چلے پھرے یہ سب خدا تعالیٰ کے نزدیک برابر یعنی رات کی تاریکی میں چھپ جائے یا دن کو بازاروں میں اور گلیوں میں چلتا پھرتا رہے خدا کے علم میں برابر ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جو اپنا کام رات کو چھپا دے یا دن کو ظاہر کرے خدا تعالیٰ کے نزدیک برابر ہے۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 4۔ یعنی وہ واقع ہو ہی جاتی ہے۔
5۔ حتی کہ فرشتے بھی ان کی حفاظت نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →اس کو چپکے سے بلائو یا پکار کر ‘ تاریکی میں یا روشنی میں سب برابر ہے
19 ؎ فرمایا کہ یہ سرد جہر ‘ پوشیدہ اور ظاہر ‘ تاریکی اور روشنی سب تمہاری یعنی انسانوں کی نسبت سے ہے اس کے علم کے اعتبار سے سب یکساں ہے۔ مشرک قوموں نے اپنے دیوی دیوتائوں ‘ محنت و پروہت ‘ پیرو مرشد کو بھی اپنے ہی محدود اور ناقص حواس اور قوتوں پر قیاس کیا ہے اس لئے اس کی اصلاح ضروری تھی۔ ” اسرالقول “ اسرار سے بنا ہے جس کے معیق خفیہ کلام اور جبر کے معنی اعلانیہ کلام کے ہیں جو کلام انسان کسی دوسرے کو سنانے کیلئے کرتا ہے اسے جہر کہتے ہیں اور جو خود اپنے آپ کو سنانیکیلئے کرتا ہے اس کو سر کہا جاتا ہے۔ اس سے سورة فاتحہ کا جہر اور سر…
Read the full tafseer →سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ
Alike [ for Him ] is he, from among you, who speaks quietly and he who speaks aloud, and he who hides in the night and he who walks out in the day - 10.
The expression: أَسَرَّ الْقَوْلَ (speaks quietly) is a derivation from: اَسرَار (asrar) which means secret talk and: جَهَرَ (jahr) means open talk. When one talks to be heard by others, it is called jahr and what one says for his own hearing is called sirr. The word: مُسْتَخْفٍ (mustakhfin) refers to one who hides, and:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
17. When amplified the verse will mean: Allah remains fully aware of all the developments that take place in the child while in its mother’s womb, and He watches over the decrease or increase in each of its limbs, and its potentialities, capabilities and powers.
Read the full tafseer →