Explained with ayahs 10–11
سب پہ محیط علم
اللہ کا علم تمام مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔ کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں، پست اور بلند ہر آواز وہ سنتا ہے چھپا کھلا سب جانتا ہے۔ تم چھپاؤ یا کھولو اس سے مخفی نہیں۔ حضرت صدیقہ ؓ فرماتی ہیں وہ اللہ پاک ہے جس کے سننے نے تمام آوازوں کو گھیرا ہوا ہے قسم اللہ کی اپنے خاوند کی شکایت لے کر آنے والی عورت نے رسول اللہ ﷺ سے اس طرح کانا پھوسی کی کہ میں پاس ہی گھر میں بیٹھی ہوئی تھی لیکن میں پوری طرح نہ سن سکی لیکن اللہ تعالیٰ نے آیتیں (قد سمع اللہ) الخ اتاریں یعنی اس عورت کی یہ تمام سرگوشی اللہ تعالیٰ سن رہا تھا۔ وہ سمیع وبصیر ہے، جو اپنے گھر کے تہ خانے میں راتوں کے اندھیرے میں چھپا ہوا ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
سورة الرَّعْد 18
یعنی بات صرف اتنی ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو ہر حال میں براہ راست خود دیکھ رہا ہے اور اس کی تمام حرکات و سکنات سے واقف ہے، بلکہ مزید برآں اللہ کے مقرر کیے ہوئے نگران کار بھی ہر شخص کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور پورے کارنامہ زندگی کا ریکارڈ محفوظ کرتے جاتے ہیں۔ اس حقیقت کو بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ ایسے خدا کی خدائی میں جو لوگ یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں کہ انہیں شتر بےمہار کی طرح زمین پر چھوڑ دیا گیا ہے اور کوئی نہیں جس کے سامنے وہ اپنے نامہ اعمال کے لیے جواب دہ ہوں، وہ دراصل اپنی شامت آپ بلاتے ہیں۔
سورة الرَّعْد 19
یعنی اس غلط فہمی میں بھی نہ رہو کہ اللہ کے ہاں کوئی…
Read the full tafseer →(آیت) لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ مُعَقِّبٰتٌ
معقبۃ کی جمع ہے اس جماعت کو جو دوسری جماعت کے پیچھے متصل آئے اس کو معقبہ یا متعقبہ کہا جاتا ہے مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ کے لفظی معنی ہیں دونوں ہاتھ کے درمیان مراد انسان کے سامنے کی جہت اور سمت ہے وَمِنْ خَلْفِهٖ پیچھے کی جانب مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ میں من بمعنی باء سببیت کے لئے ہے بامر اللہ کے معنی میں آیا ہے بعض قراءتوں میں یہ لفظ بامر اللہ منقول بھی ہے (روح)
معنی آیت کے ہیں کہ ہر شخص خواہ اپنے کلام کو چھپاتا ہے یا ظاہر کرنا چاہتا ہے اسی طرح اپنے چلنے پھرنے کو رات کی تاریکیوں کے ذریعہ مخفی…
Read the full tafseer →لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۭ وَاِذَآ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْۗءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ ۚ وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّال۔ " معقبت " یعنی ارواح معقبات " مراد اس سے وہ فرشتے ہیں جو باری باری ہر انسان پر خدا کی طرف سے نگرانی کے لیے مقرر ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ من امر اللہ بیان کے لیے ہے جس طرح قل الروح من امر ربی۔ اور بعض دوسری آیات میں ہے۔ یعنی یہ فرشتے یا یہ ارواح اللہ اللہ کے امر سے ہیں۔
اوپر کے مضمون کی توضیح مزید : یہ آیات اوپر والی آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
11۔ 1 معقبات، ، معقبۃ۔ کی جمع ہے ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے، مراد فرشتے ہیں جو باری باری ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں۔ دن کے فرشتے جاتے ہیں تو شام کے آجاتے ہیں شام کے جاتے ہیں تو دن کے آجاتے ہیں۔
11۔ 2 اس کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة انفال آیت 53 کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
15: نگران سے یہاں مراد فرشتے ہیں اس آیت نے واضح فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی حفاظت کے لیے کچھ فرشتے مقرر فرما رکھے ہیں جو باری باری اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ قرآن کریم میں اصل لفظ معقبت استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں باری باری آنے والے اس کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک حدیث میں آئی ہے کہ فرشتوں کی ایک جماعت دن کے وقت انسانوں کی نگرانی پر مامور ہے اور دوسری جماعت رات کے وقت ان کی حفاظت کرتی ہے۔ ابو داؤد کی ایک روایت میں حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ یہ فرشتے مختلف حادثات سے انسانوں کی حفاظت کرتے ہیں، البتہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہی یہ ہو کہ کسی شخص کو کسی تکلیف میں مبتلا کیا جائے تو یہ فرشتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
یہ تھی ایک اچٹتی سی نظر آفاق کائنات پر۔ اس پر تبصرے تھے ، اب کائنات کی بعض مخصوص وادیوں میں آپ کو لے جایا جائے گا۔ مثلاً نفس انسانی ، انسانی شعور و ادراک اور اس کرۂ ارض پر حیات انسانی اور دوسری زندہ اشیاء پر غور۔
آیت نمبر 8 تا 11
جب حیات انسانی کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ مناظر پیش کیے جاتے ہیں تو انسانی حس اور شعور ششدرزہ جاتا ہے۔ خصوصاً قرآن کے اس ترنم آمیز انداز بیان پر۔ اللہ کے علم اور اللہ کی حکمتوں کی کرشمہ سازیاں دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ وہ علوم جو جنین کے بارے میں انسان پر ظاہر ہوچکے ہیں ، پھر وہ راز جو ہر انسان نے اپنے سینے میں چھپا رکھے ہیں ، راتوں میں انسان کی حرکات اور دوڑ…
Read the full tafseer →8 یعنی ہر بندہ کے ساتھ خدا کے فرشتے مامور ہیں جن میں بعض اس کے سب اگلے پچھلے اعمال لکھتے ہیں اور بعضے خدا کے حکم کے موافق ان بلاؤں کے دفع کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جن سے حق تعالیٰ بندہ کو بچانا چاہتا ہے جس طرح اس عالم میں خدا کی عام عادت ہے کہ جو چیز پیدا کرنا چاہے اس کے ظاہری اسباب مہیا کردیتا ہے ایسے ہی اس نے کچھ باطنی اسباب و ذرائع پیدا کیے ہیں جن کو ہماری آنکھیں نہیں دیکھتیں لیکن مشیت الٰہی کی تنفیذ ان کے واسطہ سے ہوتی ہے۔
9 یعنی اللہ تعالیٰ اپنی نگہبانی اور مہربانی سے جو ہمیشہ اس کی طرف سے ہوتی رہتی ہے کسی قوم کو محروم نہیں کرتا۔ جب تک وہ اپنی روش اللہ کے ساتھ نہ بدلے۔ جب بدلتی ہے تو آفت…
Read the full tafseer →آیت 11 لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ
یہ مضمون اس سے پہلے ہم سورة الانعام آیت 61 میں بھی پڑھ چکے ہیں : وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے تمہارے اوپر محافظ بھیجتا ہے۔ اللہ کے مقرر کردہ یہ فرشتے اللہ کی مشیت کے مطابق ہر وقت انسان کی حفاظت کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ اس کی موت کا وقت آ پہنچتا ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ
آپ اپنی باطنی کیفیت کو بدلیں گے ‘ اس کے لیے محنت کریں گے تو اللہ کی طرف سے بھی آپ کے معاملے میں تبدیلی کردی جائے گی۔ مولانا ظفر علی خان نے اس آیت…
Read the full tafseer →16 حفاظت کرنے والے فرشتے اور باطنی اسباب :۔ یعنی اس دنیا میں صرف ظاہری اسباب ہی کارفرما نہیں بلکہ بہت سے باطنی اسباب بھی ہیں جن کو انسان دیکھ نہیں سکتا اور اس بات کا تجربہ ہر انسان کو ہوتا رہتا ہے۔ بسا اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص کسی ایسے شدید حادثہ سے دوچار ہوتا ہے کہ بظاہر اس کا جانبر ہونا ناممکن نظر آتا ہے لیکن وہ اس حادثہ سے بالکل محفوظ رہتا ہے اور ایسے موقعوں پر بےاختیار ہماری زبانوں پر یہ الفاظ آجاتے ہیں۔ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے انہی غیر مرئی اسباب کی اس آیت میں وضاحت کی گئی کہ یہ محض اتفاقات نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقررہ کردہ فرشتے ہوتے ہیں جو ایسے خوفناک موقعوں سے انسان…
Read the full tafseer →18۔ خالق کا تعلق مخلوق سے بےاعتنائی اور بےالتفاتی کا نہیں، وہ غایت شفقت وکرم سے سب کی حفاظت کی فکر واہتمام رکھتا ہے۔ (آیت) ” من امر اللہ “۔ توحید کی تاکید واہتمام مزید کے لئے ہے، فرشتہ تک بھی متصرف بالذات نہیں، جو کچھ بھی کرتے ہیں، اطاعت سرشت بندوں کی طرح، اپنے خالق کے حکم ہی سے کرتے ہیں، اللہ اللہ ! توحید خالص پر اس کتاب برحق نے کن کن طریقوں سے زور دیا ہے۔ (آیت) ” معقبت “۔ مراد فرشتہ ہی ہیں، خدائی حکومت میں فرشتوں کی ڈیوٹی لگی رہتی ہے، پہرہ اپنے اپنے وقت پر بدلتا رہتا ہے۔
19۔ (مسلسل نافرمانیاں کرکے) یہاں یہ قانون بیان کیا ہے کہ حق تعالیٰ تو عدل مطلق ہے، اسکی طرف سے کسی ظلم و زیادتی کا امکان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
آیت نمبر 8 تا 18
ترجمہ : اللہ بخوبی جانتا ہے کہ مادہ کس چیز سے حاملہ ہے ؟ آیا لڑکا ہے یا لڑکی اور ایک ہے یا متعدد وغیرہ وغیرہ اور مدت حمل میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اس کو بھی جانتا ہے ہر چیز اس کے نزدیک مقدار اور تحدید کے ساتھ ہے کہ اس (مقررہ مقدار) سے تجاوز نہیں ہوتا، پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے وہ عظیم اور اپنی مخلوق پر قوت کے ذریعہ غالب ہے، (المتعال میں) یاء اور بغیر یاء دونوں قراءتیں ہیں تم میں سے کوئی شخص خواہ آہستہ بات کرے یا زور سے، اللہ تعالیٰ کے علم میں سب برابر ہے اور وہ جو رات کی تاریکی میں چھپا ہو اور (یا) دن میں راستہ میں چلنے (پھرنے) کی وجہ سے ظاہر ہو ہر انسان کے ساتھ آگے…
Read the full tafseer →لہ معقبت من بین یدیہ ومن خلفہ یحفظونہ من امر اللہ ہر شخص (کی حفاظت یا اعمال کے لکھنے) کیلئے کچھ (فرشتے) مقرر ہیں جن کی بدلی ہوتی رہتی ہے ‘ کچھ اس کے آگے اور کچھ اس کے پیچھے کہ وہ بحکم خدا اس کی حفاظت یا نگرانی رکھتے ہیں۔
مُعَقِّبَاتٌ، مُعَقِّبَۃٌ کی جمع ہے۔ یہ لفظ عَقَّبَسے بنا ہے (اور متعدی نہیں ہے بلکہ) مبالغہ کیلئے عَقَّبَہٗ اس کے پیچھے آگیا۔ یا اعتقب سے بنا ہے۔ اس صورت میں مُعَقِّبَۃٌ کی اصل مُعْتَقِبَۃٌ ہوگی۔ تا کو قاف میں ادغام کردیا گیا۔ باب افتعال کی تا مبالغہ کیلئے ہے۔
بغوی نے لکھا : مُعَقَّبٌ واحد کا صیغہ ہے ‘ اس کی جمع مُعَقَّبَۃٌ ہے اور مُعَقَّبَۃٌ کی جمع مُعْقِّبَاتٌ ہے ‘ جیسے…
Read the full tafseer →(11) ہر ایک شخص کی حفاظت کے لیے کچھ فرشتے بھی مقرر ہیں، جن کی تبدیلی ہوتی رہتی ہے کہ رات کے فرشتے چلے جاتے ہیں اور دن کے آجاتے ہیں اور دن کے چلے جاتے ہیں اور رات کے آجاتے ہیں کہ وہ خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں تقدیر کے مطابق ان کی نگرانی کرتے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب اور اس کی ہلاکت تجویز کرلیتا ہے تو پھر ان سے فیصلہ خداوندی کے ہٹنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی اور اللہ تعالیٰ کے سوا پھر کوئی ان سے عذاب خداوندی کو ہٹانے والا نہیں اور نہ اس کے علاوہ اور کوئی جائے پناہ ہے۔
Read the full tafseer →لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ۔۔ : ”مُعَقِّبٰتٌ“ (باری باری ایک دوسرے کے بعد آنے والے) یہ ملائکہ کی صفت ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی نگرانی و حفاظت کا جو انتظام کر رکھا ہے اس کی ایک جھلک دکھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس نے ہر انسان پر کتنے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، کیونکہ دو فرشتے تو نیک و بدعمل لکھنے والے دائیں اور بائیں ہیں۔ (ق : 17، 18) حفاظت کرنے والوں کی تعداد یہاں بیان نہیں فرمائی جو چاروں طرف سے انسان کی ہر آفت و مصیبت سے حفاظت کرتے ہیں، سوائے اس مصیبت کے جو اللہ نے اس کے لیے لکھی ہے۔ فرشتوں کی ایک اور قسم کے متعلق عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول…
Read the full tafseer →آیت نمبر 11
قالہ تعالیٰ : لہ معقبت یعنی اللہ تعالیٰ کے ایسے فرشتے ہیں جو رات، دن انسان کا تعاقب کرتے رہتے ہیں، جب رات کے فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں تو دن کے فرشتے ان کے پیچھے آجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے معقبت فرمایا ہے۔ فرشتے مذکر ہیں کیونکہ معقبات، معقبہ کی جمع ہے اور کہا جاتا ہے : ملک معقب اور ملائکۃ معقبۃ، پھر معقبات جمع الجمع ہے۔ بعض لوگوں نے لہ معاقب من بین یدیہ ومن خلفہ پڑھا ہے۔ معاقیب، معقب کی جمع ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ملائکۃ کے لئے معقبۃ کا لفظ ملائکۃ کے لفظ کا اعتبار کرتے ہوئے ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ فرشتوں کی طرف سے تعاقب کی کثرت کی وجہ سے معقبۃ مؤنث ہے جیسے نسابۃ، علامۃ اور راویۃ وغیرہ۔…
Read the full tafseer →محافظ فرشتوں کا ذکر :
1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم والطبرانی نے الکبیر میں وابن مردویہ ابونعیم نے دلائل میں عطاء بن یسار کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اربد بن قیس اور عامر بن طفیل رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ منورہ آئے آپ کے پاس پہنچے تو آپ بیٹھے ہوئے تھے دونوں آپ کے سامنے بیٹھ گئے عامر نے کہا اگر میں مسلمان ہوجاوں تو سب میرے لئے کیا کریں گے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا تیرے لئے وہی حقوق و فرائض ہوں گے جو دوسرے مسلمانوں کے حقوق و فرائض ہوں گے اور تیرے اوپر وہی سزا ہوگی۔ جو ان کے لئے ہیں۔ عامر نے کہا اپنے بعدخلافت کا حق میرے لئے مختص کریں گے۔ اگر میں اسلام قبول کرلوں یہ خلافت کا معاملہ نہ تیرے لئے…
Read the full tafseer →[لَهٗ : اس کے لئے ہیں ] [مُعَقِّبٰتٌ: پہرہ دینے والے (فرشتے)] [مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ : اس کے سامنے سے ] [وَمِنْ خَلْفِهٖ : اور اس کے پیچھے سے ] [ يَحْفَظُوْنَهٗ : وہ حفاظت کرتے ہیں اس کی ] [مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ : اللہ کے حکم سے ] [ان : بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ لَا يُغَيِّرُ : نہیں بدلتا ] [مَا : اس کو جو ] [ بِقَوْمٍ : کسی قوم کے ساتھ ہے ] [ حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [يُغَيِّرُوْا : وہ لوگ بدلیں ] [مَا : اس کو جو ] [بِانفُسِهِمْ : ان کی نفسیات میں ہے ] [ وَاِذَآ : اور جب کبھی ] [ اَرَادَ : ارادہ کرتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ بِقَوْمٍ : کسی قوم سے ] [ سُوْۗءًا : کسی برائی کا ] [ فَلَا مَرَدَّ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فرشتے بندوں کی حفاظت کرتے ہیں :
(لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْم بَیِْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ ) کہ انسان کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر فرمائے ہیں جو یکے بعد دیگرے آتے رہتے ہیں جو آگے سے اور پشت کے پیچھے سے انسان کی حفاظت کرتے ہیں اور ضرر دینے والی چیزوں سے بچاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اس کام پر لگایا ہے کہ وہ انسان کی حفاظت کریں۔ صاحب روح المعانی نے بحوالہ ابن ابی الدنیا وغیرہ حضرت علی ؓ سے نقل کیا ہے کہ ہر بندہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے حفاظت کرنے والے فرشتے مقرر فرما دیئے جو اس کی حفاظت کرتے ہیں تاکہ اس پر کوئی دیوار نہ گرجائے یا وہ کسی کنویں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
رجوع برائے مضمون توحید
قال اللہ تعالیٰ : اللہ یعلم ما تحمل کل انثی .... الیٰ .... وھو الواحد القھار۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منکرین نبوت اور منکرین بعث بعد الموت کے شبہات کا جواب تھا اور اس سے قبل توحید کا مضمون تھا اب پھر توحید ہی کا مضمون بیان فرماتے ہیں اس ذیل میں اول حق تعالیٰ نے اپنا عالم بجمیع معلومات ہونا بیان کیا چناچہ اللہ یعلم الخ سے اپنا وسیع العلم ہونا بیان کیا کہ اللہ کا علم تمام کائنات کو محیط ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں بعد اذاں اپنا حافظ خلق اور رقیب ہونا بیان کیا چناچہ لہ معقبات سے یہ بتلا دیا کہ وہی تمام مخلوق کا محافظ اور نگہبان ہے بعد ازاں ھو الذی یریکم البرق الخ سے…
Read the full tafseer →12:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ لَہٗ کی ضمیر کا مرجع مَنْ اَسَرَّ الخ ہے یعنی ہر انسان کی ھفاظت کے لیے محافظ فرشتے مقرر ہیں الضمیر راجع الی من تقدم ممن اسر بالقول و جھر بہ (روح ج 13 ص 111) ۔ یا ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے یعنی اللہ کے ایسے فرشتے بھی ہیں جو انسانوں کی حفاظت پر مقرر ہیں۔ ای للہ ملائکۃ یتعاقبون بالیل والنھار (خازن و معالم ج 4 ص 7 و قرطبی ج 9 ص 291) ۔ ” مُعَقِّبٰتٌ“ معقبۃ کی جمع ہے مراد فرشتوں کی جماعتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی حفاظت کے لیے مقرر کی ہوئی ہیں۔ ” مِنْ اَمْرِ اللہِ “ میں من سببیہ ہے یعنی وہ اللہ کے حکم سے انسان کی حفاظت کرتے ہیں۔ ” و من للسببیۃ ای یحفظونہ من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
(ربط آیات)
جیسا کہ سورة ہذا کے تعارف میں بیان ہوچکا ہے ، اس میں بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے ، اللہ نے ابتداء میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کو بیان کرنے کے بعد توحید کے دلائل ذکر کیے ، ان دلائل میں سے بعض کا تعلق عالم بالا سے اور بعض کا عالم زیریں سے ہے ، اس کے ساتھ ساتھ قیامت کا مسئلہ بھی سمجھایا گیا ہے اور درمیان میں حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کی حقانیت کا ذکر بھی آگیا ہے اب آج کے درس میں بھی توحید ہی کے دلائل بیان کیے گئے ہیں جن پر غور کر کے انسان مسئلہ توحید کو پہچان سکتا ہے اور اپنے ایمان کو درست کرسکتا ہے ۔
(شکم مادر میں بچے کی کیفیت)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اللہ یعلم ما تحمل کل انثی “ اللہ…
Read the full tafseer →لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۭ وَاِذَآ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْۗءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ ۚ وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ 11
تَّعْقيبُ :
أن يأتي بشیء بعد آخر، يقال : عَقَّبَ الفرسُ في عدوه . قال : لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] ، أي : ملائكة يتعاقبون عليه حافظین له . وقوله : لا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ [ الرعد/ 41] ، أي : لا أحد يتعقّبه ويبحث عن فعله،
( ع ق ب ) العقب والعقیب
التعقیب ایک چیز کے بعد دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
1 ؎ جس کے وہ طالب تھے ورنہ بہت سی نشانیاں اتری تھیں یا وہ نشانیاں ان کو نشانیاں ہی نہ معلوم ہوتی تھیں بات کو معمولی سمجھ کر ٹھٹھوں میں ٹال دیتے تھے۔ یہ پورا اندھا پن ہے جس کی طرف بہت جگہ قرآن میں اشارہ ہوا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْ م بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِاللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُغَیِّرُمَابِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ ط وَاِذَآ اَرَادَاللّٰہُ بِقَوْمٍ سُوْٓئً ا فَلاَ مَرَدَّلَہٗ ج وَمَا لَھُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّالٍ ۔ (سورۃ الرعد : 11)
(انسان کے لیے یکے بعد دیگرے آنے والے فرشتے ہیں اس کے آگے بھی اور اس کے پیچھے بھی۔ وہ نگہبانی کرتے ہیں اس کی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ اپنا معاملہ اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی روش میں تبدیلی نہ کرے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر کوئی آفت لانے کا ارادہ کرلیتا ہے تو وہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے براہ راست بندے کی نگرانی کرنے کے علاوہ ہر انسان پر محافظ بھی مقرر کر رکھے ہیں۔
اللہ تعالیٰ انسان کی ابتدا اور انتہا، اس کے ظاہر اور باطن سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس نے ہر بات اپنے ہاں لوح محفوظ پر ثبت کر رکھی ہے۔ اس کے باو جود اس نے ہر انسان پر فرشتے تعینات کر رکھے ہیں جو اس کے تمام امور کی نگرانی کرتے ہیں۔ جن میں محافظ فرشتوں کے ساتھ کراماً کاتبین بھی ہیں۔ جو صبح وشام انسان کی تمام حرکات و سکنات کا اندراج کرتے ہیں اور ان کے ساتھ محافظ فرشتے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہر انسان کے آگے پیچھے رہتے ہیں اور ہر انسان کی حفاظت کرتے ہیں۔ لیکن جب اللہ کا حکم…
Read the full tafseer →1 1: لَہٗ (اسکے لئے ہے) ہٗ کی ضمیر منؔ کی طرف لوٹتی ہے گویا اس طرح فرمایا لمن اسرّومن جھرومن استخفٰی و من سرب مُعَقِّبٰتٌ (حفاظتی فرشتے) فرشتوں کی وہ جماعتیں جو حفاظت میں باری باری آتی ہیں۔ اصل معتقبات تھا تاؔ کو قاف ؔ میں ادغام کردیا۔ نمبر 2۔ یہ عقبہ سے مفعّلات کا وزن ہے جبکہ وہ اسکے پیچھے آئے کیونکہ وہ ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں۔ نمبر 3۔ کیونکہ وہ کلام کرنے کے بعد آکر اس بات کو لکھ لیتے ہیں۔ مِّنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ (سامنے اور پیچھے سے) یعنی اسکے آگے اور پیچھے یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ (وہ اسکی حفاظت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے) یہ دونوں اکٹھی مل کر صفتیں ہیں۔ من…
Read the full tafseer →11۔” لہ معقبات “ اللہ تعالیٰ کے فرشتے جو دن رات اترتے اور چڑھتے ہیں ۔ جب رات والے فرشتے آسمان کی طرف چڑھتے ہیں تو دن والے فرشتے زمین کی طرف اترتے ہیں اور جب دن والے فرشتے اوپر جاتے ہیں تو رات والے فرشتے نیچے اترتے ہیں ۔ ” تعقیب “ کسی چیز کے ظاہر ہونے کے بعد اس کا لوٹ جانا ۔ اس کو مؤنث کے لفظ سے ذکر کیا کیونکہ اس ا واحد معقب ہے اور جمع معقبا ت آتی ہے، جیسا کہ ابناوات سعد اور رجالات بکر ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے آگے پیچھے آتے جاتے رہتے ہیں ۔ فجر اور عصر کی نماز میں ان کا اجتماع ہوتا رہتا ہے ، رات بھر جو…
Read the full tafseer →11۔ صحیحین میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر شخص کی حفاظت کے لئے رات اور دن کے الگ الگ فرشتے ہر انسان پر خدا کی طرف سے مقرر ہیں صبح کی نماز کے وقت دن کے فرشتے اور رات کے فرشتے آن کر چوکی بدلوا 1 ؎ دیتے ہیں۔ معتبر سند سے تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حفاظت کے فرشتے ان سب صدموں اور آفتوں سے آدمی کی حفاظت کرتے ہیں جن صدموں اور آفتوں سے اس کی قسمت میں بچنا لکھا ہے اور جب تقدیری کوئی آفت آنے والی ہوتی ہے جس سے حفاظت کرنے کا کوئی حکم اللہ کا نہیں ہوتا تو ایسے حالت میں فرشتے حفاظت چھوڑ دیتے ہیں تفسیر ابن جریر میں کنانہ عدوی کی روایت سے حضرت عثمان ؓ کا…
Read the full tafseer →(لہ) ” اس کے لئے “ یعنی انسان کے لئے (معقبت) ” پہرے دار ہیں “ یعنی فرشتے جو شب و روز ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں۔ (آیت) ” بندے کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے اللہ کے حکم سے اس کی نگہانی کرتے ہیں۔ “ یعنی یہ فرشتے اس کے جسم و روح کی ہر اس چیز سے حفاظت کرتے ہیں جو اس کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے، وہ اس کے اعمال کی حفاظت کرتے ہیں اور وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتے ہیں۔ پس جیسے اللہ تعالیٰ کے علم نے انسان کا احاطہ کر رکھا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لئے یہ فرشتے بھیج رکھے ہیں جب کہ انسان کے اعمال اور احوال اللہ تعالیٰ سے اوجھل ہیں نہ وہ ان میں سے کچھ بھولتاے۔
(ان اللہ لایغیرما بقوم) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →32۔ نگران فرشتوں کی تذکیر و یاددہانی :
سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ ہر کسی کے لئے بدلتے رہنے والے فرشتے مقرر ہیں " جو کہ رات کے الگ ہوتے ہیں اور دن کے الگ۔ اور وہ دونوں صحیح احادیث کی رو سے فجر اور عصر کی نمازوں میں باہم ملتے ہیں (صحیح بخاری، کتاب مواقیت الصلوۃ) اور " معقبات "۔ ادلی بدلی ہونے والے " یہ وہ فرشتے ہیں جو انسانی خدمت و حفاظت کے کام پر مامور ہوتے ہیں۔ اور یہ ان دو فرشتوں کے علاوہ ہوتے ہیں جو کہ انسانی اعمال لکھنے پر مقرر ہیں۔ اور جن کو " کراما کا تیبن " کہا جاتا ہے۔ اور جو ادلتے بدلتے نہیں۔ اور ان " معقبات " کی تعداد میں علمائے کرام کے مختلف اقوال ہیں (روح، خازن، اور مدارک وغیرہ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
اللہ علیم وخبیر ہے
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ذکر بڑے موثر انداز میں کیا گیا ہے۔ جب انسان ایک قطرہ پانی کی صورت میں ماں کے رحم میں تین پردوں کے اندر نشوونما پانا شروع کرتا ہے جب سے وہ اللہ علیم وخبیر کی حفاظت، نگہبانی اور علم میں ہوتا ہے۔ اس قطرہ آب کی تمام حرکات و سکنات اللہ کی تدبیر کے ریکارڈ میں موجود ہوتی ہیں۔ کوئی نہیں جانتا مگر اللہ جانتا ہے۔ اس کی جنس، رنگ، اخلاق و کردار، عمر اور موت اور زندگی گزارنے کے رنگ ڈھنگ، رہنے، عمر گزارنے اور مرنے کے مقامات غرض ایک معمولی پانی کے اس قطرے کے بارے میں اللہ کو اتنا کچھ معلوم ہوتا ہے پہلے سے ہی یہ سب اللہ کے بلندو عظیم، برتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
رکوع نمبر 2 :
اسرارومعارف :
اللہ جل جلالہ انسانی ضروریات سے پوری طرح واقف ہے اس کا علم تو اس قدر وسیع ہے کہ نہ صرف دنیا میں بلکہ ماؤں کے پیٹوں میں قرار پکڑنے والے حمل اور اس کی ہر ہر لمحہ کی گھٹنی بڑھتی اور تبدیل ہوتی ہوئی صورت کو جانتا ہے اور آج تک طب اور جدید سائنس نے بھی اپنی پوری قوت صرف کرکے اگر اندازہ لگا بھی لیا کہ حمل سے بچی پیدا ہوگی یا بچہ تو ان کا یہ علم بھی محض ایک اندازہ ہوتا ہے یقینی نہیں ہوتا اور صرف یہ اندازہ کو لینا ہی تو کافی نہیں اس کا رنگ ، قد کاٹھ ، صحت ، عرم اور عملی استعداد یا دنیا میں زندگی کی کن منازل سے گذرے گا ، غرض ہر پیدا ہونے واے انسان کے کوائف کی ایک بہت لمبی…
Read the full tafseer →ف 13 ۔ یعنی خدا نے حکم کی بنا پر اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ دو فرشتے دائیں بائیں اس کے نیک اور بد اعمال کا ریکارد جو انسان کی حفاظت و نگرانی پر مقرر ہیں۔ ان میں سے ایک اس کے آگے اور ایک اس کے پیچھے رہتا ہے۔ گویا کہ وہ ہر آن چار فرشتوں کے درمیان رہتا ہے۔ دن کے فرشتے اور ہوتے ہیں اور رات کے اور۔ صحیح حدیث میں ہے کہ ان فرشتوں کی باری صبح اور عصر کے وقت تبدیل ہوتی ہے۔ اس حقیقت کے اظہار سے مقصد یہ ہے کہ انسان ہر آن اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور حفاظت میں رہتا ہے اور اس کی کوئی حرکت اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہے۔
14 ۔ یعنی جب تک نیکی کی بجائے برائی اور اطاعت کی بجائے نافرمانی نہ کرنے لگیں البتہ جب وہ ایسا…
Read the full tafseer →(13:11) لہ میں ضمیرہُ واحد مذکر غائب کا مرجع من ہے۔ ای من اسر القول۔ من جھر بہ ۔ من ھو مستخف باللیل۔ من ھو سارب بالنھار۔
معقبت۔ اسم فاعل۔ مؤنث ۔ جمع الجمع معقب واحد۔ معقبۃ جمع۔ تعقیب (تفعیل) مصدر۔ عقب مادہ۔ روزوشب میں باری باری آنے والے ملائکہ۔ ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے معقبت اصل میں معتقبت تھا۔ ت کو ق میں مدغم کردیا گیا۔ جس طرح وجاء المعذرون من الاعراب (9:90) میں معذرون اصل میں معتذرون تھا۔ بین یدیہ۔ اس کے سامنے۔
یحفظونہ۔ مضارع جمع مذکر غائب ہٗ ضمیرمفعول واحد مذکر غائب۔ وہ اس کی حفاظت کرتے ہیں اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔
لا یغیر۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ تغییر (تفعیل) مصدر۔ وہ نہیں بدلتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
لغات القرآن : آیت نمبر 8 تا 11
یعلم وہ جانتا ہے تحمل اٹھاتی ہے انثی مادہ، عورت تغیض کمی ہوتی ہے تزداد اضافہ ہوتا ہے کل شیء ہر چیز بمقدار اندازے سے الکبیر بڑا بزرگ المتعال برتر۔ زیادہ اونچا سواء یکساں اسر جس نے چھپایا جھر جس نے کھل کر کیا۔ زور سے کیا مستخف اسم فاعل سارب چلنے والا معقبت (مقبت) ایک کے پیچھے دوسرے کا آنا۔ پہرے دار یحفظون حفاظت کرتے ہیں لایغیر وہ تبدیل نہیں کرتا حتی یغیروا جب تک وہ نہ بدلیں لامرد نہیں ہٹانے والا۔ نہیں ٹلانے والا وال حمایتی۔ مددگار
تشریح : آیت نمبر 8 تا 11
اللہ تعالیٰ کا علم کتنا وسیع ہے ؟ اس کا انتظام کتنا حسین ہے ؟ اس کی قدرت کائنات کی ہر چیز پر کس طرح محیط ہے ؟…
Read the full tafseer →ہر انسان کی فرشتوں کے ذریعے حفاظت
صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر شخص کی حفاظت کیلئے رات اور دن کے الگ الگ فرشتے ہر انسان پر خدا کی طرف سے مقرر ہیں۔ صبح کی نماز کے وقت دن کے فرشتے، اور عصر کی نماز کے وقت رات کے فرشتے آن کر چوکی بدلوا دیتے ہیں۔ ان فرشتوں کو کراماً کاتبین کہتے ہیں، اور حفاظت کے فرشتے ان سب صدموں اور آفتوں سے آدمی کی حفاظت کرتے ہیں، جن صدموں اور آفتوں سے اس کی قسمت میں بچنا لکھا ہے۔ اور جب تقدیری کوئی آفت آنے والی ہوتی ہے جس سے حفاظت کرنے کا کوئی حک اللہ کا نہیں ہوتا، تو ایسی حالت میں فرشتے حفاظت چھوڑ دیتے ہیں۔ لکاھ ہے کہ دس فرشتے دن کو، اور دس رات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
[9] یعنی بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ اللہ ہر شخص کو ہر حال میں براہ راست خود دیکھ رہا ہے بلکہ مزید برآں اللہ کے مقرر کئے ہوئے فرشتے بھی ہر شخص کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور اس کے پورے کارنامہ زندگی کا ریکارڈ محفوظ کرتے جاتے ہیں۔ لہذا جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی کے سامنے اپنے اعمال کے لئے جواب دہ نہیں دراصل اپنی شامت آپ بلاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(ف 2) یعنی اللہ کے فرشتے تمہاری بات کو محفوظ کرلیتے ہیں اس لیے تم یہ نا سمجھو کہ تمہارے اعتراضات اللہ تک نہیں پہنچتے ۔
حتی یغیروا ما بانفسھم “۔ میں ہدایت حکیمانہ اصول بتایا ہے کہ قوموں میں انقلاب و تغیر کب پیدا ہوتا ہے ، صرف ہنگاموں اور مظاہروں سے نہیں ، بلکہ جب قومیں درحقیقت انقلاب پذیر ہوجائیں ، جب دلوں اور دماغوں میں حقیقی وواقعی تبدیلی پیدا ہوجائے دیکھ لیجئے دنیا کے کاروبار میں یہ قانون کس درجہ سچا اور درست ہے وہ قومیں جو تعلیم وتربیت میں آگے ہیں ہر انقلاب کی صلاحیت رکھتی ہیں ، اور جو وقتی وہنگامی طور پر حرکت پذیر ہوجاتی ہیں ، ان میں دوام و استقلال نہیں ہوتا ، ان کی ہر تحریک عارضی ہوتی…
Read the full tafseer →1 1 ۔ ہر انسان کے لئے کچھ محافظ فرشتے اور پہرہ دار مقرر ہیں جو باری باری آتے جاتے رہتے ہیں اور ان کی بدلی ہوئی رہتی ہے وہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انسان کے سامنے سے اور اس کے پیچھے سے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں اور بلائو آفات سے انسان کو محفوظ رکھتے ہیں بلا شبہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہیں بدل دیتے اور جب حضرت حق تعالیٰ کسی قوم پر برائی اور عذات کا ارادہ کرلیتا ہے تو پھر وہ برائی اور عذاب واپس نہیں ہوسکتا اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی مدد گار بھی نہیں ہوتا ۔ یعنی ہر شخص کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ فرشتے مقرر ہیں جو کراما ً کاتبین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 4۔ یعنی وہ واقع ہو ہی جاتی ہے۔
5۔ حتی کہ فرشتے بھی ان کی حفاظت نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →انسان کے آگے پیچھے آنے والی قوتوں کا بیان اور ان کی حفاظت
20 ؎ ” انسان کے آگے اور پیچھے ایک کے بعد ایک آنے والی قوتیں ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتی ہیں “۔ ” معقبت معقبہ “ کی جمع ہے یہ اس جماعت کو کہتے ہیں جو کسی دوسری جماعت کے پیچھے آئے اور متصل آئے۔ “ ” من بین یدیہ “ کے لفظی معنی ہیں دونوں ہاتھوں کے درماین مراد انسان کی سامنے کی طرف ہے۔ ” ومن خلفہ “ پیچھے کی جانب ” من امر اللہ “ ای بامر اللہ یعنی اللہ کے حکم سے۔ مطلب یہ ہے کہ شکم مادر میں قطرہ آپ سے لے کر انسان کامل بننے تک جتنے تغیرات ہوئے وہ ہمارے مقرر کئے ہوئے اندازے کے مطابق ہوئے وہ سب ہمارے علم میں ہیں ت۔ ہر انسان کی استعداد…
Read the full tafseer →لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ
For him there are angels replacing each other, before him and behind him, who guard him under the command of Allah - 11.
The word: مُعَقِّبَاتٌ (mu’ aqqibat) is the plural form of mu’ aqqibah. A group which comes concurrently behind another group is called mu'aqqibah or muta'aqqibah (hence, the translation: 'replacing each other' ). The expression: مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ (min bayni yadayhi) literally means in between the two hands. It denotes the direction in front of a person. And: وَمِنْ خَلْفِهِ (wa…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
18. That is, Allah not only directly watches over whatever each person does, and is fully aware of everything he does, but He has also appointed such guardians as accompany him everywhere and keep a full record of all his deeds. This has been stated here to warn those people who live their lives under the delusion that they have been left absolutely free to do whatever they like and shall not be required to render an account of what they did in this worldly life. The warning is that such people invite their own retribution.
19. This is to warn them further that they should not remain under…
Read the full tafseer →