Explained with ayahs 12–13
بجلی کر گرج
بجلی بھی اس کے حکم میں ہے۔ ابن عباس ؓ نے ایک سائل کے جواب میں کہا تھا کہ برق پانی ہے۔ مسافر اسے دیکھ کر اپنی ایذاء اور مشقت کے خوف سے گھبراتا ہے اور مقیم برکت ونفع کی امید پر رزق کی زیادتی کا لالچ کرتا ہے، وہی بوجھل بادوں کو پیدا کرتا ہے جو بوجہ پانی کے بوجھ کے زمین کے قریب آجاتے ہیں۔ پس ان میں بوجھ پانی کا ہوتا ہے۔
پھر فرمایا کہ کڑک بھی اس کی تسبیح و تعریف کرتی ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ ہر چیز اللہ کی تسبیح وحمد کرتی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ بادل پیدا کرتا ہے جو اچھی طرح بولتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ ممکن ہے بولنے سے مراد گرجنا اور ہنسنے سے مراد بجلی کا ظاہر ہونا ہے۔ سعد بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
سورة الرَّعْد 18
یعنی بات صرف اتنی ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو ہر حال میں براہ راست خود دیکھ رہا ہے اور اس کی تمام حرکات و سکنات سے واقف ہے، بلکہ مزید برآں اللہ کے مقرر کیے ہوئے نگران کار بھی ہر شخص کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور پورے کارنامہ زندگی کا ریکارڈ محفوظ کرتے جاتے ہیں۔ اس حقیقت کو بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ ایسے خدا کی خدائی میں جو لوگ یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں کہ انہیں شتر بےمہار کی طرح زمین پر چھوڑ دیا گیا ہے اور کوئی نہیں جس کے سامنے وہ اپنے نامہ اعمال کے لیے جواب دہ ہوں، وہ دراصل اپنی شامت آپ بلاتے ہیں۔
سورة الرَّعْد 19
یعنی اس غلط فہمی میں بھی نہ رہو کہ اللہ کے ہاں کوئی…
Read the full tafseer →(آیت) هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّيُنْشِئُ السَّحَاب الثِّقَالَ
یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات پاک ہے جو تمہیں برق و بجلی دکھلاتا ہے جو انسان کے لئے خوف بھی بن سکتی ہے کہ جس جگہ پڑجائے سب کچھ خاک کر ڈالے اور طمع بھی ہوتی ہے کہ بجلی کی چمک کے بعد بارش آئے گی جو انسان اور حیوانات کی زندگی کا سہارا اور وہی ذات پاک ہے جو بڑے بڑے بھاری بادل سمندر سے مان سون بنا کر اٹھاتا ہے اور پھر ان پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو فضا میں بڑی سرعت کے ساتھ کہیں سے کہیں لے جاتا ہے اور اپنے حکم قضا وقدر کے مطابق جس زمین پر چاہتا ہے برساتا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12۔ 13:۔ هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّيُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ۔ وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ مِنْ خِيْفَتِهٖ ۚ وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيْبُ بِهَا مَنْ يَّشَاۗءُ وَهُمْ يُجَادِلُوْنَ فِي اللّٰهِ ۚ وَهُوَ شَدِيْدُ الْمِحَالِ۔
آفاق کی بعض نشانیوں کی طرف اشارہ : اب یہ اسی مطالبۂ عذاب کے جواب میں جس کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے، آفاق کی بعض نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ نشانیوں کی طلب ہے تو نشانیاں تو روز ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ بجلی چمکتی ہے جو اپنے اندر امید و بیم دونوں کے پہلو رکھتی ہے، وہی بارش کا پیغام بھھی بن کر نمودار ہوتی ہے اور…
Read the full tafseer →12۔ 1 جس سے راہ گیر مسافر ڈرتے ہیں اور گھروں میں مقیم کسان اور کاشت کار اس کی برکت و منفعت کی امید رکھتے ہیں۔
12۔ 2 بھاری بادلوں سے مراد، وہ بادل ہیں جس میں بارش کا پانی ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
15: نگران سے یہاں مراد فرشتے ہیں اس آیت نے واضح فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی حفاظت کے لیے کچھ فرشتے مقرر فرما رکھے ہیں جو باری باری اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ قرآن کریم میں اصل لفظ معقبت استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں باری باری آنے والے اس کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک حدیث میں آئی ہے کہ فرشتوں کی ایک جماعت دن کے وقت انسانوں کی نگرانی پر مامور ہے اور دوسری جماعت رات کے وقت ان کی حفاظت کرتی ہے۔ ابو داؤد کی ایک روایت میں حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ یہ فرشتے مختلف حادثات سے انسانوں کی حفاظت کرتے ہیں، البتہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہی یہ ہو کہ کسی شخص کو کسی تکلیف میں مبتلا کیا جائے تو یہ فرشتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
اب سیاق کلام ہمیں ایک دوسری وادی میں لے جاتا ہے۔ یہ وادی بھی اس کے ساتھ متصل اور مربوط ہے جس میں ہم ابھی گھوم رہے تھے۔ یہ وادی وہ ہے جہاں طبعی مناظر اور نفس انسانی کے شعور کے مناظر باہم ملتے ہیں۔ اس وادی کے مناظر طبیعی ، ان کا پرتو اور ان کے اثرات انسانی شعور کی تصویر میں باہم جمع ہوجاتے ہیں۔ خوف ، ڈر ، جدو جہد ، امید اور خوف باہم ملے ہوئے ہیں اور انسانی شعور اس وادی میں مختلف تاثرات لیتا ہے۔
آیت 12 تا 16
چمک ، گرج اور بادل عام مناظر ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات ان مناظر میں سے برق بھی گرتی ہے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو ہر انسان کو متاثر کرتے ہیں چاہے کوئی ان کی طبعی حقیقت سے واقف ہو یا نہ ہو ، یہاں قرآن…
Read the full tafseer →10 پہلے بندوں کی حفاظت کا ذکر تھا، پھر بد اعمالیوں سے جو آفت و مصیبت آتی ہے اس کا ذکر ہوا، معلوم ہوا کہ خدا کی ذات شان انعام و انتقام دونوں کی جامع ہے۔ اسی مناسبت سے یہاں بعض ایسے نشانہائے قدرت کی طرف توجہ دلائی جن میں بیک وقت امید و خوف کی دو متضاد کیفیتیں پیدا کرنے کی صلاحیت ہے یعنی جب بجلی چمکتی ہے تو امید بندھتی ہے کہ بارش آئے گی۔ اور ڈر بھی لگتا ہے کہ کہیں گر کر ہلاکت کا سبب نہ بن جائے۔ بھاری بادل پانی کے بھرے ہوئے آتے ہیں تو خوشی ہوتی ہے کہ باران رحمت کا نزول ہوگا، ساتھ ہی فکر رہتی ہے کہ پانی کا طوفان نہ آجائے، ٹھیک اسی طرح انسان کو چاہیے کہ رحمت الٰہی کا امیدوار رہے مگر اللہ سے مامون…
Read the full tafseer →آیت 12 هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّيُنْشِئُ السَّحَاب الثِّقَالَ
گہرے بادلوں کی گرج چمک میں خوف کے سائے بھی ہوتے ہیں اور امید کی روشنی بھی کہ شاید اس بارش سے فصلیں لہلہا اٹھیں اور ہماری قحط سالی خوشحالی میں بدل جائے۔ یعنی ایسی صورت حال میں خوف ورجاء کی کیفیت ایک ساتھ دلوں پر طاری ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →19 پانی سے لدے ہوئے بادلوں کے وزن کا اندازہ کچھ اس بارش سے اور کچھ اس رقبہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ جہاں یہ بادل برستا ہے۔ ہوا جو ایک ہلکے سے کاغذ کا بھی بوجھ برداشت نہیں کرتی اور وہ زمین پر گرپڑتا ہے۔ کروڑوں ٹن پانی والے بادلوں کے بوجھ کو اس طرح اپنے دوش پر اٹھائے پھرتی ہے۔ جس کا تصور کرنے سے ہی اللہ کی بےپناہ قدرت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ یہ پانی سے بھرے ہوئے بادل کبھی تہ بہ تہ بنتے جاتے ہیں۔ اس پانی میں کہربائی قوت موجود ہوتی ہے۔ کسی تہ میں مثبت بجلی ہوتی ہے، کسی میں منفی۔ جب یہ بادل ملتے ہیں تو بجلی کے جذب و انجذاب سے زبردست دھماکہ اور آتشیں شعلہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی آتشیں شعلہ کو برق یا چمکنے والی…
Read the full tafseer →21۔ (جو پانی سے لدے ہوئے ہوتے ہیں) مدعایہ کہ بجلی اور بادل نہ خود کوئی دیوی دیوتا ہیں، نہ کسی اور دیوی دیوتا کے محکوم وماتحت ہیں محض اللہ کی ایک مخلوق اور دوسری بیجان مخلوق کی طرح تابع فرمان ہیں، اندر دیوتا یا کوئی اور دیوتا بجلی اور بارش کے خدا نہیں، (آیت) ” خوفا “۔ (یعنی یہ کہ کہیں گر کر سامان ہلاکت نہ بن جائے۔ ضمنا یہ بھی معلوم ہوگیا کہ برق میں ایک صفت ناری موجود ہے۔ (آیت) ” طمعا “۔ یعنی یہ کہ اب تیز بارش ہوگی اور اس سے سرسبزی، شادابی، خوشحالی پھیلے گی، ضمنا یہ بھی معلوم ہوگیا کہ برق میں ایک صفت نوری موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
آیت نمبر 8 تا 18
ترجمہ : اللہ بخوبی جانتا ہے کہ مادہ کس چیز سے حاملہ ہے ؟ آیا لڑکا ہے یا لڑکی اور ایک ہے یا متعدد وغیرہ وغیرہ اور مدت حمل میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اس کو بھی جانتا ہے ہر چیز اس کے نزدیک مقدار اور تحدید کے ساتھ ہے کہ اس (مقررہ مقدار) سے تجاوز نہیں ہوتا، پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے وہ عظیم اور اپنی مخلوق پر قوت کے ذریعہ غالب ہے، (المتعال میں) یاء اور بغیر یاء دونوں قراءتیں ہیں تم میں سے کوئی شخص خواہ آہستہ بات کرے یا زور سے، اللہ تعالیٰ کے علم میں سب برابر ہے اور وہ جو رات کی تاریکی میں چھپا ہو اور (یا) دن میں راستہ میں چلنے (پھرنے) کی وجہ سے ظاہر ہو ہر انسان کے ساتھ آگے…
Read the full tafseer →ھو الذی یریکم البرق خوفا وطمعا وینشیء السحاب الثقال وہ ہی تو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کیلئے بجلی دکھاتا ہے اور بھاری بھاری (پانی سے بھرے ہوئے) بادل اٹھاتا ہے۔ یعنی کڑک کا خوف ‘ سفر میں بارش کے ضرر کا خوف۔ بعض وقت کھیتی تباہ ہونے کا خوف اور بعض مکانوں کے گر جانے کا خوف اور گرمی کو دور کرنے اور کھیتی اور پھلوں اور درختوں کو فائدہ پہنچنے کی امید۔ سحاب ‘ سحابۃٌ کی جمع ہے ‘ بادل (سَحْبٌ کھینچنا ‘ اِلسِّحَابٌ کھچنا) ہوا کے ساتھ فضا میں بادل کھچ کر آتے ہیں ‘ اسی لئے ان کو سحاب کہا جاتا ہے۔ کذا فی القاموس۔ بیضاوی نے سحاب کو اسم جمع کہا ہے۔
ثقال، ثقلیۃ کی جمع ہے (بھاری) یعنی بارش سے بھرے ہوئے۔ بغوی…
Read the full tafseer →(12) اور وہ تمہیں کو بارش کے وقت بجلی چمکتی ہوئی دکھاتا ہے کہ بارش سے مسافر کو اپنے سازوسامان کے بھیگ جانے کا خوف بھی ہوتا ہے اور مقیم کو خواہش وامید ہوتی ہے کہ اس کی کھیتی سیراب ہوجائے اور وہ بادلوں کو بھی جو بارش سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں پیدا کرتا اور ان کو بلند کرتا ہے۔
Read the full tafseer →هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے ایسے نشان بیان فرمائے ہیں جو بیک وقت امید اور ڈر کے حامل ہیں، جو رحمت کا پیش خیمہ بھی بن سکتے ہیں اور موجب زحمت بھی۔ مثلاً جب بجلی چمکتی ہے تو امید بندھتی ہے کہ بارش ہوگی مگر ڈر بھی لگتا ہے کہ کہیں تباہی کا موجب نہ بن جائے، بادل دیکھ کر رحمت کی بارش کی امید بندھ جاتی ہے مگر ساتھ ہی یہ فکر بھی دامن گیر رہتی ہے کہ کہیں سیلاب نہ آجائے۔ پس انسان کو چاہیے کہ اللہ کی رحمت کا امید وار رہے اور اس کے عذاب سے بھی ڈرتا رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیت نمبر 12 تا 13
قولہ تعالیٰ : ھو الذی یریکم البرق خوفا وطمعا وینشی السحاب الثقال یعنی بارش کے ذریعے۔ السحاب جمع ہے اور واحد سحابۃ ہے، سحب اور سحاب بھی جمع آتی ہے۔ ویسبح الرعد بحمدہ والملئکۃ من خیفتہ، ویرسل الصواعق رعد، برق اور صواعق کے بارے میں سورة البقرہ میں گفتگو گزر چکی ہے اس لیے اعادہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور آیت سے مقصود اپنی قدرت کے کمال کو بیان کرنا ہے۔ اور سزا میں تاخیر عاجزی کی وجہ سے نہیں، یعنی مسافر کو ڈرانے کے لیے آسمان میں تمہیں بجلی دکھاتا ہے، تو وہ بارش، دھول اور کڑکتی بجلی سے پہنچنے والے نقصان کی اذیت سے خوف زدہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اذی من مطر (النساء :102) اور…
Read the full tafseer →1:۔ عبدالرزاق وابن جریروابن منذر وابن وابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” ھوالذی یریکم البرق خوفا وطمعا “۔ سے مراد بجلی خوف ہے مسافر کے لئے جو ڈرتا ہے اس کی تکلیف اور اس کی مشقت سے۔ (آیت) ” وطعما “ (اور امید دلانا ہے) مقیم کے لئے جو امید کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رزق ملنے کی وہ امید کرتا ہے بارش کی برکت کی اور اس کے نفع کی۔
2:۔ ابوالشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یریکم البرق خوفا وطمعا “ میں خوف ہے سمندر میں سفر کرنے والوں کے لئے اور امید ہے خشکی والوں کے لئے۔
3:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یریکم البرق خوفا وطمعا “ میں خوف سے مراد…
Read the full tafseer →[هُوَ : وہ ] [الَّذِي : وہ ہے جو ] [ يُرِيْكُمُ : دکھاتا ہے تم لوگوں کو ] [الْبَرْقَ : بجلی کی چمک ] [ خَوْفًا : خوف کے لئے ] [ وَّطَمَعًا : اور امید کے لئے ] [ وَّيُنْشِئُ : اور وہ اٹھاتا ہے ] [السَّحَابَ الثِّقَالَ : بھاری بادلوں کو ]
Read the full tafseer →بادل اور بجلی اور رعد کا تذکرہ
ان آیات میں بجلی اور بادل اور کڑک کا تذکرہ فرمایا ‘ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ سے اور اس کی تکوین اور تخلیق سے وجود میں آتی ہیں ‘ اللہ تعالیٰ بجلی کو بھیج دیتا ہے لوگ اسے دیکھتے ہیں پھر دیکھنے والوں میں بعض تو اس سے ڈر جاتے ہیں مثلاً مسافر راستوں میں ہوتے ہیں وہ ڈرتے ہیں کہ بارش ہونے لگی تو ہمارا کیا بنے گا ‘ اور بعض لوگ اسے دیکھ کر نفع کی امید باندھتے ہیں کہ بارش ہوگی تو کھیت کی آبیاری ہوگی اور بارش اچھی ہوگی۔ (وَیُنْشِءُی السَّحَاب الثِّقَالَ ) (اور اللہ تعالیٰ بھاری بادلوں کو پیدا فرما دیتا ہے۔ یہ بادل ایسی جگہ جا کر برس پڑتے ہیں جہاں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
رجوع برائے مضمون توحید
قال اللہ تعالیٰ : اللہ یعلم ما تحمل کل انثی .... الیٰ .... وھو الواحد القھار۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منکرین نبوت اور منکرین بعث بعد الموت کے شبہات کا جواب تھا اور اس سے قبل توحید کا مضمون تھا اب پھر توحید ہی کا مضمون بیان فرماتے ہیں اس ذیل میں اول حق تعالیٰ نے اپنا عالم بجمیع معلومات ہونا بیان کیا چناچہ اللہ یعلم الخ سے اپنا وسیع العلم ہونا بیان کیا کہ اللہ کا علم تمام کائنات کو محیط ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں بعد اذاں اپنا حافظ خلق اور رقیب ہونا بیان کیا چناچہ لہ معقبات سے یہ بتلا دیا کہ وہی تمام مخلوق کا محافظ اور نگہبان ہے بعد ازاں ھو الذی یریکم البرق الخ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
14:۔ یہ تیسری عقلی دلیل ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کے درمیان ” جَوۃ “ (فضا) پر اپنے اقتدار اعلیٰ اور تسلط کامل کا ذکر فرمایا ہے۔ بادل، بادلوں سے مینہ برسانا اور بادلوں کی گرج چمک سب اسی کے اختیار میں ہے۔ ” خَوْفًا وَّطَمَعًا “ جب بجلی چمکتی ہے تو لوگوں کے دلوں میں خوف اور طمع کے ملے جلے جذبات موجزن ہوتے ہیں خوف اس لیے ہوتا ہے کہ کہیں بجلی گر کر تباہی نہ مچادے اور ساتھ ہی باران رحمت کے نزول کی امید بھی ہوتی ہے۔” وَیُسَبحُ الرَّعْدُ “ رعد اس فرشتے کا نام ہے جو بادلوں پر مؤکل ہے رعد فرشتہ اور اس کے علاوہ دیگر فرشتے اللہ تعالیٰ ہیبت سے اس کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں۔ جب وہ چاہتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
(ربط آیات)
یہ آیات بھی پہلی آیات کے ساتھ ہی مربوط ہیں ، ان میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں ، گذشتہ درس میں انسان کی پیدائش کے ضمن میں رحموں کا گھٹنا بڑھنا اور مدت حمل کے متعلق اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا بیان تھا ، اللہ کے ہاں ہر چیز کا اندازہ مقرر ہے جس کے مطابق وہ تمام امور کے فیصلے کرتا ہے کوئی شخص کسی چیز کو چھپائے یا ظاہر کرے ، اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے ، وہ رات کی تاریکی میں چھپنے والے اور دن کے وقت چلنے پھرنے والے ہر نفس سے واقف ہے ، اس نے انسان کی جان اور اعمال کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو یکے بعد دیگرے آکر اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں پھر جب تک…
Read the full tafseer →هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّيُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ 12ۚ
برق
البَرْقُ : لمعان السحاب، قال تعالی: فِيهِ ظُلُماتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ [ البقرة/ 19]
( ب رق ) البرق
کے معنی بادل کی چمک کے ہیں قرآن میں ہے : فِيهِ ظُلُماتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ [ البقرة/ 19] اس میں اندھیرے پر اندھیرا چھارہا ) ہو اور بادل ) گرج ( رہا ) ہو اور بجلی کوند رہی ہو ۔
خوف
الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية .
قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
1 ؎ الثقال جمع ثقیلہ والسحاب جمع سحابۃ وقیل جنس 12 منہ قال الازہری المحال فعال من المحل بمعنی القوۃ والمیم اصلیۃ وقال ابن قتیبۃ اصلہ مقعل من الحول اذا لحیلۃ جعل المیم کمیم المکان واصلہ من الکون ومعناہ المکر والقوۃ والاخذ والحول والعداوۃ و ذھب الی کلوا حدذاہب 12 منہ
تفسیر : ان آیات میں اپنی قدرت کے چند دلائل بیان فرماتا ہے۔ اول برق یعنی بجلی کا چمکنا کہ جس سے مینہ کی امید اور جل جانے کا خوف ہوتا ہے۔ بادلوں میں پانی بھرا ہوتا ہے۔ ان میں سے ایسی آگ اور یہ روشنی پیدا کرنا اسی کا کام ہے۔ دوم دہر میں پانی کے بھرے ہوئے بادلوں کا اٹھانا جو ہفتوں برستے ہیں حالانکہ پانی کا حیز طبعی پستی ہے۔ سوم رعد…
Read the full tafseer →ھُوَالَّذِیْ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّیُنْشِی ُ ء السَّحَابَ الثِّقَالَ ۔
(سورۃ الرعد : 12)
(وہی ہے جو تمہیں دکھاتا ہے بجلی جو خوف بھی پیدا کرتی ہے اور امید بھی اور ابھارتا ہے بوجھل بادلوں کو۔ )
آفاق کی بعض نشانیوں کی طرف اشارہ
اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بےپناہی کو مزید نمایاں کرنے کے لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ وہ ہے کہ جب تم تلی ہوئی گھٹا اور تنے ہوئے بادل کو دیکھتے ہو تو تمہارا دل بلیوں اچھلنے لگتا ہے کہ اب بارش ہوگی خشک میدانوں میں ہریاول کی صورت میں زندگی بہار دے گی، کھیتیاں لہلہائیں گی۔ ہر چیز میں زندگی کی رو دوڑ جائے گی، لیکن بار ش سے پہلے جب بجلی چمکتی ہے تو ایک طرف اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیات میں یہ ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی ابتدا، انتہا سے باخبر ہے اور اسی نے انسان پر نگران مقرر کیے ہوئے ہیں۔
اب ارشاد ہوتا ہے، کہ وہی ذات ہے جو تمہیں آسمان سے گرجتی اور چمکتی ہوئی بجلی دکھاتا ہے۔ جس کے گرجنے چمکنے سے تم سہمے جاتے ہو، اس حال میں کہ اپنے دلوں میں بارش کی امید لیے ہوئے ہوتے ہو۔ وہی فضا اور ہوا میں بھاری بھر کم بادلوں کو اٹھائے اور چلائے رکھتا ہے جس بجلی کی کڑک سے تم ڈرتے ہو۔ درحقیقت وہ اپنی زبان میں اپنے رب کی حمد کرتی ہے اور فرشتے اپنے رب سے لرزاں اور ترساں رہتے ہیں۔ اللہ جہاں چاہتا ہے بجلی کو گرنے کا حکم صادر کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →قدرتِ باری تعالیٰ کا نمونہ :
12: ھُوَ الَّذِیْ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا (وہی ذات ہے جو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کیلئے بجلی دکھاتا ہے) خوفًا و طمعًا یہ دونوں البرقؔ سے حال ہیں۔ گویا کہ وہ ذاتی اعتبار سے نرا خوف اور طمع ہے۔ نمبر 2۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی : ذاخوف حذف مضاف کے ساتھ۔ خوف والے اور طمع والے ہوتے ہو۔ یعنی مخاطبین خوف والے اور طمع والے ہوتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ بجلی کے چمکنے سے بجلی کے گرنے کا خطرہ اور بارش کی طمع رکھتے ہیں۔ ابو الطیب نے کہا وہ ایسا نوجوان ہے جو سیاہ بادل کی طرح ہے کہ جس کو طوفان کا خطرہ اور بارش کی امید ہے۔ اسکے عطیہ کی امید اور گرجوں کا ڈر ہے۔ اور…
Read the full tafseer →تفسیر 12۔” ھو الذی یریکم البرق خوفاً و طمعا ً “ بعض نے کہا کہ خوف سے مراد بجلی کی کڑ اور طمعا ً سے مراد بارش سے ہونے والا نفع اور بعض نے کہا کہ سفر میں بارش کے ضرر کا خوف یا مشقت کا پہنچنا اور مقیم کا طمع کرنا کہ اس سے برکت و نفع حاصل ہوگا ۔ بعض نے کہا کہ خوف اس سے جب وہ اپنے گھروں سے دور ہوں اور طمع جب کرتے جب وہ اپنے مکانات میں موجود ہوں۔
” وینشئی السحاب الثقال ‘ ‘ بھاری بھاری بادل اٹھاتا ہے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ اللہ نے بادلوں کو اٹھایا تو بادل ظاہر ہوگئے ۔ ” سحب “ جمع ہے اس کی واحد ” سحابۃ “ آتی ہے۔ حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ بادل پانی کی چھلنی ہے۔
Read the full tafseer →12۔ اس آیت میں اللہ پاک نے یہ ذکر کیا کہ بجلی بھی خدا کے حکم کے تابع ہے وہی جب چاہتا ہے بڑے بڑے ابر کے ٹکڑوں کے ساتھ بجلی کو بھیج دیتا ہے جس کو تم لوگ دیکھتے ہو اور بعضے خوف کرنے لگتے ہیں اور بعضے طمطع کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ مسافر جو راستہ چلتا ہوا ہوتا ہے رعد کی کڑک اور بجلی کی چمک دیکھ کر ڈر جاتا ہے کہ اب رستہ کیوں کر طے ہوگا کس طرح منزل پر پہنچیں گے اور جو لوگ اپنے گھروں میں ہوتے ہیں ان کو ایک گو نہ خوشی ہوتی ہے کہ بادل اگر برس گیا تو بڑا فائدہ ہے غلہ خوب پیدا ہوگا رزق میں زیادتی ہوجائے گی۔ غرض اللہ تعالیٰ ہوا کے ذریعہ سے پانی کے بھرے ہوئے بادل پیدا کردیتا ہے اور جہاں حکم ہوتا ہے وہاں مینہ…
Read the full tafseer →(ھو الذی یریکم البرق خوفاً وطمعاً ) ” وہی ہے جو دکھاتا ہے تم کو بجلی، ڈرانے کے لئے اور امید دلانے کے لئے “ یعنی اس بجلی (کے گرنے) کی وجہ سے کڑک اور عمارتوں کے منہدم ہونے کا نیز باغات اور کھیتیوں کے پھلوں پر مختلف اقسام کے ضرر رساں اثرات کا خدشہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس میں بھلائی اور فائدے کی امید بھی ہوتی ہے۔ (وینشی السحاب الثقال) ” اور وہ بارش سے لدے ہوئے بھاری بھاری بادل اٹھاتا ہے۔ “ یہ بارش بندوں کو اور زمین کو فائدہ دیتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →37۔ اور وہی اٹھاتا ہے پانی سے بھرے بادلوں کو :
جوکہ ہزاروں لاکھوں ٹن پانی کو گرم سمندروں سے اٹھا کر کہیں سے کہیں لے جاکربرساتے ہیں۔ کیا مجال کہ کوئی قطرہ بھی راستے میں کہیں گرجائے یا زبردستی کوئی اس سے کچھ چھین لے۔ سو یہ ایسا محیرالعقول نظام ہے جو روئے زمین کی کسی بڑی سے بڑی ترقی یافتہ حکومت سے بھی ممکن نہیں۔ بلکہ روئے زمین کی تمام حکومتیں مل کر بھی اس کا کوئی عشر عشیر تک نمونہ بھی پیش نہیں کرسکتیں۔ فسبحانہ من الہ حی قادر قیوم ورحمن ورحیم بعبادہ جل وعلا۔ سو یہ اس وحدہ لاشریک کی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کا ایک عظیم الشان نمونہ ومظہر ہے جو اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
بجلی کی کڑک باعث رحمت بھی ہے اور عذاب بھی
تشریح : ان آیات میں اللہ کی قدرت اور اس کی وہ عنایت بتائی گئی ہے جو بجلی کی کڑک سے بادل کی چمک اور بارش کی فراہمی سے انسانوں پر کی جاتی ہے۔ جب ہوائیں بھاری بھاری پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو چلاتی ہیں تو بادل کے آپس میں رگڑ کھانے سے بڑی خوف ناک گرج پیدا ہوتی ہے اور انتہائی تیز چمک بھی ان دونوں چیزوں سے اللہ اپنے وجود کا اظہار کرتا ہے۔ انسان اس گرج دار آواز سے خوف بھی کھاتا ہے اور خوش بھی ہوتا ہے کیونکہ یہ دونوں چیزیں اس کے لیے انتہائی فائدہ مند اور مفت ہوتی ہیں۔ بارش کا پانی کھیتوں کو سیراب کرتا ہے اور موسم کو معتدل، خوشگوار اور فضاء کو ہر قسم کے گرد و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
رکوع نمبر 2 :
اسرارومعارف :
اللہ جل جلالہ انسانی ضروریات سے پوری طرح واقف ہے اس کا علم تو اس قدر وسیع ہے کہ نہ صرف دنیا میں بلکہ ماؤں کے پیٹوں میں قرار پکڑنے والے حمل اور اس کی ہر ہر لمحہ کی گھٹنی بڑھتی اور تبدیل ہوتی ہوئی صورت کو جانتا ہے اور آج تک طب اور جدید سائنس نے بھی اپنی پوری قوت صرف کرکے اگر اندازہ لگا بھی لیا کہ حمل سے بچی پیدا ہوگی یا بچہ تو ان کا یہ علم بھی محض ایک اندازہ ہوتا ہے یقینی نہیں ہوتا اور صرف یہ اندازہ کو لینا ہی تو کافی نہیں اس کا رنگ ، قد کاٹھ ، صحت ، عرم اور عملی استعداد یا دنیا میں زندگی کی کن منازل سے گذرے گا ، غرض ہر پیدا ہونے واے انسان کے کوائف کی ایک بہت لمبی…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے ایسے نشان بیان فرمائے ہیں جو بیک وقت امید و ہم کے حامل ہیں جو رحمت کا پیش خیمہ بھی بن سکتے ہیں اور موجبِ زحمت بھی۔ مثلاً جب بجلی چمکتی ہے تو امید بندھتی ہے کہ بارش ہوگی۔ مگر ڈر بھی لگتا ہے کہ کہیں تباہی کا موجب نہ بن جائے۔ بادل دیکھ کر بارا رحمت کی امید بندھ جاتی ہے مگر ساتھ ہی یہ اندیشہ بھی دامنگیر رہتا ہے کہ کہیں سیلاب نہ آجائے پس انسان کو چاہیے کہ اللہ کی رحمت کا امیدوار رہے اور اس کے عذاب سے بھی ڈرتا ہے۔
Read the full tafseer →(13:12) یریکم۔ وہ تم کو دکھاتا ہے۔ اری یری (افعال ) اراء ۃ سے مضارع ۔ واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔
خوفا وطمعا۔ ہر دو منصوب بوجہ حال ہونے کے ہیں۔ یہ برق کا بھی حال ہوسکتا ہے اور مخاطبین کا بھی۔ پہلی صورت میں برق ذا خوف وذا طمع یعنی برق جس میں خوف اور طمع ہو۔
دوسری صورت میں کہ تم اس سے خائف اور طامع ہو۔ خوف کی حالت اس طرح کہ کہیں بجلی گر کر نقصان کا باعث نہ بن جائے اور طمع کی حالت کہ بارش ہوگی اور کھیتیاں سیراب ہوں گی۔
ینشیئ۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ انشأ ینشیء انشاء (افعال) نشأ مادہ۔ ینشیء السحاب۔ وہ بادل کو اٹھاتا ہے۔ وینشیء اللہ الشیء ۔ اللہ پیدا کرتا ہے انشأ الحدیث والکلام۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
لغات القرآن آیت نمبر 12 تا 15
البرق بجلی ۔ چمک طمع امید ینشئی وہ اٹھاتا ہے السحاب بادل الثقال بھاری یسبح تسبیح کرتا ہے الرعد کڑک خیفۃ (اس کے ) خوف (سے) یرسل وہ بھیجتا ہے الصواعق بجلیاں۔ کڑک یصیب وہ پہنچاتا ہے۔ گراتا ہے یجادلون وہ جھگڑتے ہیں شدید المحال سخت پکڑنے والا دعوۃ الحق سچائی کی پکار لایستجیبون وہ جواب نہیں دیتے ہیں باسط پھیلانے والا لیبلغ تاکہ وہ پہنچے فاہ منہ بالغ پہنچنے والا طوع خوشی کرہ مجبوری بےبسی ظلل (ظل) ۔ سائے الغدو صبح الاصال شام
تشریح : آیت نمبر 12 تا 15
یہ کائنات اور اس کا نظام کیا ہے ؟ اس کی حقیقت کا تو ہمیں علم نہیں ہے اس کا علم صرف اللہ کو ہے البتہ اپنی معلومات اور تحقیق…
Read the full tafseer →بجلی اور رعد کا ذکر
اس آیت میں اللہ پاک نے یہ ذکر کیا کہ بجلی اس کی قدرت کا ایک ادنی نمونہ ہے۔ پھر کسی کو بجلی دکھا کر ڈراتا ہے (یعنی مسافر کو اور اسے جسے مینہ ضرر کرے) اور کسی کو بجلی سے مینہ کی توقع ہوتی ہے، اور فائدہ کی امید اور بھرے ہوئے بادل اپنی قدرت کاملہ سے ہوا میں پھراتا ہے۔
Read the full tafseer →[10] خوف اس لئے کہ کہیں گر کر سامان ہلاکت نہ بن جائے اور امید اس بات کی کہ اب تیز بارش ہوگی اور اس سے سرسبزی اور شادابی پھیلے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(ف 2) یعنی اللہ کے فرشتے تمہاری بات کو محفوظ کرلیتے ہیں اس لیے تم یہ نا سمجھو کہ تمہارے اعتراضات اللہ تک نہیں پہنچتے ۔
حتی یغیروا ما بانفسھم “۔ میں ہدایت حکیمانہ اصول بتایا ہے کہ قوموں میں انقلاب و تغیر کب پیدا ہوتا ہے ، صرف ہنگاموں اور مظاہروں سے نہیں ، بلکہ جب قومیں درحقیقت انقلاب پذیر ہوجائیں ، جب دلوں اور دماغوں میں حقیقی وواقعی تبدیلی پیدا ہوجائے دیکھ لیجئے دنیا کے کاروبار میں یہ قانون کس درجہ سچا اور درست ہے وہ قومیں جو تعلیم وتربیت میں آگے ہیں ہر انقلاب کی صلاحیت رکھتی ہیں ، اور جو وقتی وہنگامی طور پر حرکت پذیر ہوجاتی ہیں ، ان میں دوام و استقلال نہیں ہوتا ، ان کی ہر تحریک عارضی ہوتی…
Read the full tafseer →12 ۔ اللہ تعالیٰ کی مقدس اور یکتا وہ ذات ہے جو تم کو ڈرانے اور خوف ڈلانے کو اور بارش کی طمع اور امید دلانے کو بجلی چمکتی ہوئی دکھلاتا ہے اور پانی سے بھرے ہوئے بوجھل اور بھاری بادل اٹھا لاتا ہے ۔ یعنی بجلی کی چمک سے دونوں باتیں ہوتی ہیں بارش کی امید اور بجلی گرنے کا خوف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
ف 1۔ کیونکہ اس کو قبول کرنے کی قدرت ہے۔
2۔ پس جس طرح پانی ان کی درخواست قبول کرنے سے عاجز ہے اس طرح ان کے معبود عاجز ہیں۔
Read the full tafseer →وہ کون ہے جو بجلی کی چمک سے دلوں میں ہراس اور امید دونوں کو جنم دیتا ہے ؟
23 ؎ انسانی زندگی کیلئے بیم و رجا دونوں کی ضرورت ہے اور دونوں بیک وقت طاری کردیتا ہے۔ غور کرو کہ بادلوں میں جو بجلی کوندتی ہے جس کی خیرہ کن چمک کو دیکھ کر تمہارے دلوں میں بیم و رجا کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور اس وقت تم دل ہی دل میں ڈر بھی رہے ہوتے ہو کہ کہیں تم پر گر کر تمہیں ہلاک نہ کر دے اور خوش بھی ہو رہے ہوتے ہو کہ بارش ہوگی اور کھیت اور باغات سیراب ہوجائیں گے وار تم نہال ہو جائو گے۔ ذرا دیکھو تو کہ ان بادلوں کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ یہ کروڑوں ٹن پانی ایک ہی ہوا کے جھونکے سے کہیں سے کہیں پہنچا دینے والا کون ہے ؟…
Read the full tafseer →After that, it was said in verse 12: هُوَ الَّذِي يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ. It means that it is Allah Ta` ala Who makes you see the lightening and the thunder which can become a matter of fear for human beings lest it may destroy what it strikes. Then, it has a dimension of hope too by raising expectations that rains may follow the thunder, rains which support animal and human lives. And then, He is the One who lifts heavy and huge clouds up from the surface of the sea as the monsoons and carries these water-laden clouds post-haste through the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
18. That is, Allah not only directly watches over whatever each person does, and is fully aware of everything he does, but He has also appointed such guardians as accompany him everywhere and keep a full record of all his deeds. This has been stated here to warn those people who live their lives under the delusion that they have been left absolutely free to do whatever they like and shall not be required to render an account of what they did in this worldly life. The warning is that such people invite their own retribution.
19. This is to warn them further that they should not remain under…
Read the full tafseer →