رسالت کے منکر
کافر تجھے جھٹلا رہے ہیں۔ تیری رسالت کے منکر ہیں۔ تو غم نہ کر کہہ دیا کر کہ اللہ کی شہادت کافی ہے۔ تیری نبوت کا وہ خود گواہ ہے، میری تبلیغ پر، تمہاری تکذیب پر، وہ شاہد ہے۔ میری سچائی، تمہاری تکذیب کو وہ دیکھ رہا ہے۔ علم کتاب جس کے پاس ہے اس سے مراد عبداللہ بن سلام ہیں ؓ۔ یہ قول حضرت مجاہد ؒ وغیرہ کا ہے لیکن بہت غریب قول ہے اس لئے کہ یہ آیت مکہ شریف میں اتری ہے اور حضرت عبداللہ بن سلام ؓ تو ہجرت کے بعد مدینے میں مسلمان ہوئے ہیں۔ اس سے زیادہ ظاہر ابن عباس کا قول ہے کہ یہود و نصاری کے حق گو عالم مراد ہیں ہاں ان میں حضرت عبداللہ بن سلام بھی ہیں، حضرت سلمان اور حضرت تمیم داری وغیرہ ؓ…
Read the full tafseer →سورة الرَّعْد 62
یعنی ہر وہ شخص جو واقعی آسمانی کتابوں کے علم سے بہرہ ور ہے اس بات کی شہادت دے گا کہ جو کچھ میں پیش کر رہا ہوں وہ وہی تعلیم ہے جو پچھلے انبیاء (علیہم السلام) لے کر آئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
(آیت) وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ اس آیت میں رسول کریم ﷺ کو تسلی دینے اور مطمئن رکھنے کے لئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے آپ سے کئے ہیں کہ اسلام کی مکمل فتح ہوگی اور کفر و کافر ذلیل و خوار ہوں گے یہ تو ہو کر رہے گا مگر آپ اس فکر میں نہ پڑیں کہ یہ فتح مکمل کب ہوگی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وفات کے بعد ہو اور آپ کے اطمینان کے لئے یہ بھی کافی ہے کہ آپ برابر دیکھ رہے ہیں کہ ہم کفار کی زمینوں کو ان کے اطراف سے گھٹاتے چلے جاتے ہیں یعنی یہ اطراف مسلمانوں کے قبضہ میں آجاتے ہیں اس طرح ان کی مقبوضہ زمین گھٹتی جاتی ہے…
Read the full tafseer →وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا ۭ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۙ وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۔
یعنی یہ سارے دلائل و شواہد سننے اور دیکھنے کے باوجود اگر یہ کفار یہی کہتے ہیں کہ تم فرستادۂ خدا نہیں ہو تو ان سے مزید بحث کی ضرورت نہیں۔ ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا کی گواہی کافی ہے اور ان لوگوں کی جو کتاب الٰہی کے علم کے سچے حامل ہیں۔ یہ اشارہ اہل کتاب میں سے ان علماء کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر آیت 36 میں گزرا۔
اس سورة کی تفسیر میں یہ آخری سطریں ہیں جو اس بےمایہ کے قلم سے حوالۂ قرطاس ہوئیں۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
Read the full tafseer →43۔ 1 پس وہ جانتا ہے کہ میں اس کا سچا رسول اور اس کے پیغام کا داعی ہوں اور تم جھوٹے ہو۔
43۔ 2 کتاب سے مراد جنس کتاب ہے اور مراد تورات اور انجیل کا علم ہے۔ یعنی اہل کتاب میں سے وہ لوگ جو مسلمان ہوگئے ہیں، جیسے عبد اللہ بن اسلام، سلمان فارسی اور تمیم داری وغیرہم ؓ یعنی یہ بھی جانتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ عرب کے مشرکین اہم معاملات میں اہل کتاب کی طرف رجوع کرتے اور ان سے پوچھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی فرمائی کہ اہل کتاب جانتے ہیں، ان سے تم پوچھ لو۔ بعض کہتے ہیں کہ کتاب سے مراد قرآن ہے اور حاملین علم کتاب، مسلمان ہیں۔ اور بعض نے کتاب سے مراد لوح محفوظ لی ہے۔ یعنی جس کے پاس لوح…
Read the full tafseer →41: یعنی تم جو آنحضرت ﷺ کی رسالت کا انکار کررہے ہو اس سے کیا ہوتا ہے ؟ تمہارے انکار سے حقیقت نہیں بدل سکتی، اللہ تعالیٰ بذات خود آپ کی رسالت کا گواہ ہے اور ہر وہ شخص جسے آسمانی کتابوں کا علم ہے اگر انصاف کے ساتھ اس علم کی روشنی میں آنحضرت ﷺ کے حالات کا جائزہ لے گا تو وہ بھی یہ گواہی دئے بغیر نہیں رہ سکے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 43
یہ سورة ختم ہوتی ہے ، اس نے انسانی دل کو پوری کائنات کی سیر کرائی اور نفس انسانی کی دنیا میں بھی گھمایا ، اور اس پر نہایت ہی گہرے اور وسیع اثرات ڈالے اور پھر دل مومن کو اس دلیل پر لا کر کھڑا کردیا کہ قرآن جو کچھ کہہ رہا ہے اس پر اللہ گواہ ہے اور یہ اللہ کی شہادت سورة کے آغاز میں بھی لائی گئی اور اختتام پر بھی لائی گئی۔ اللہ کی شہادت کے بعد کسی دعویٰ کے ثبوت کے لئے اور کیا شہادت درکار ہوگی۔ اللہ کی شہادت پر تو بات ختم ہوجاتی ہے۔
اس سورة کے خاتمہ پر یہ بات کہنا ضروری ہے کہ اس سورة میں اسلامی نظریہ حیات اور جس منہاج پر قرآن نے اس نظریہ کو پیش کیا ہے اس پر غور کرنا ضروری ہے ، حق تو یہ…
Read the full tafseer →1 یعنی تمہارے جھٹلانے سے کچھ نہیں ہوتا جبکہ خداوند قدوس میری صداقت کے بڑے بڑے نشان دکھلا رہا ہے قرآن جو اس کا کلام ہے جیسے اپنے کلام الٰہی ہونے کی شہادت دیتا ہے، اسی طرح میرے پیغمبر برحق ہونے کا گواہ ہے۔ اگر آنکھیں کھول کر دیکھو تو سخت ناموافق حالات میں سچ کا اس شان سے پھیلتے جانا اور دشمنوں تک کے دلوں میں گھر کرنا اور جھوٹ کا مغلوب ومقہور ہو کر سمٹتے رہنا خدا کی طرف سے کھلی ہوئی گواہی میری حقانیت کی ہے۔
2 یعنی جن کو قرآن کا علم اور اس کے حقائق کی خبر ہوگئی ہے وہ بھی دل سے گواہ ہیں کہ میں نے کچھ جھوٹ نہیں بنایا۔ نیز جنہیں پہلی کتب سماویہ اور ان کی پیشین گوئیوں کی اطلاع ہے ان کے دل گواہی دیتے…
Read the full tafseer →قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ
اللہ جانتا ہے کہ میں اس کا رسول ہوں اور اس کا جاننا میرے لیے کافی ہے۔
وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ
میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے کہ میں اس کا رسول ہوں اور پھر ہر اس شخص کی گواہی جو کتاب آسمانی کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تو جانتا ہی ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور میرا معاملہ اسی کے ساتھ ہے۔ اس کے علاوہ یہ اہل کتاب بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اہل کتاب کے اس معاملے کو البقرۃ : 146 اور الانعام : 20 میں اس طرح واضح فرمایا گیا ہے : یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَ ہُمُ کہ یہ آپ کو بحیثیت رسول ایسے…
Read the full tafseer →55 یعنی تمہارے جھٹلانے سے کیا بنتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ میری نبوت پر شاہد ہے۔ اور تمہیں میری صداقت کے کئی نشان دکھا چکا ہے اور دکھا رہا ہے اور اہل کتاب میں بھی منصف مزاج لوگ میری رسالت کی گواہی دیتے ہیں۔ کیونکہ ان کی کتابوں میں میرے متعلق کئی بشارتیں موجود ہیں پھر ان میں سے بعض اسلام بھی لاچکے ہیں۔
Read the full tafseer →85۔ (آیت) ” ومن عندہ ام الکتب “۔ یعنی محققین اہل کتاب۔ ھم اھل الکتاب من الیھود والنصاری (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ اناس من اھل الکتاب۔ کانوا یشھدون بالحق ویقرون بہ (ابن جریر عن قتادہ) اللہ کی گواہی تو وہ ہوئی جو آپ ﷺ کی امانت سے، دیانت سے، صداقت سے، پاکبازی وپارسائی سے، غرض آپ ﷺ کی عملی زندگی کے گوشہ گوشہ سے ظاہر ہورہی تھی، اور اہل کتاب کی گواہی سے اشارہ ہے ان پیشگوئیوں اور بشارتوں کی طرف جو آپ ﷺ کے متعلق کتب سابق میں موجود تھیں۔ (آیت) ” یقول الذین کفروا “۔ یہ کہنے والے اہل کتاب ہی تھے۔ قیل قالہ رؤساء الیھود (روح) قرآن مجید کی انداز بیان خود کہے دے رہا ہے کہ اہل کتاب ہی مراد ہیں، وہی کہتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
آیت نمبر 38 تا 42
ترجمہ : آئندہ آیت اس وقت نال ہوئی کہ جب انہوں نے آپ ﷺ کو کثرت ازواج پر عار دلائی، ہم آپ سے پہلے بھی رسول بھیج چکے ہیں، ہم نے ان میں سے ہر ایک کو بیوی بچوں والا بنایا، اور آپ بھی ان کی مثل ہیں ان میں سے کسی رسول کی یہ طاقت نہ تھی کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی معجزہ لاسکے، اس لئے کہ وہ تربیت یافتہ بندے ہیں، ہر دور کیلئے ایک کتاب ہے وہ اسی (دور) کیلئے محدود ہے اللہ جس چیز کو چاہتا ہے اس میں سے مٹا دیتا ہے اور جن احکام وغیرہ کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے ام الکتاب (اصل) اسی کے پاس ہے اصل کتاب کہ اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کرتا اور وہ وہی ہے جس کو اس نے ازل میں لکھا اور جس عذاب…
Read the full tafseer →ویقول الذین کفروا لست مرسلا وہ (کفار مکہ یا سرداران یہود) کہتے ہیں کہ آپ پیغمبر نہیں ہیں۔
قل کفی باللہ شھیدا ابینی وبینکم آپ کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان (میری نبوت پر) اللہ کی شہادت کافی ہے۔
یعنی میری سچائی نبوت کیلئے اللہ کی شہادت کافی ہے۔ اس نے میری رسالت کی صداقت ایسے دلائل سے واضح کردی ہے کہ ان کے بعد کسی اور شاہد کی ضرورت نہیں اور وہی قیامت کے دن فیصلہ کرے گا۔ اس روز ان منکروں کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔
ومن عندہ علم الکتب اور ان لوگوں کی شہادت کافی ہے جن کے پاس (ا اللہ کی) کتابوں کا علم ہے۔ یعنی ایمان رکھنے والے اہل کتاب کی شہادت کافی ہے ‘ جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام وغیرہ۔ رہا…
Read the full tafseer →(43) اور یہود وغیرہ یوں کہہ رہے کہ محمد ﷺ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں ورنہ ہمارے پاس اپنی نبوت کے لیے کوئی گواہ لے کر آؤ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ اور جس کے پاس کتاب آسمانی کا علم ہے یعنی حضرت عبداللہ بن سلام اور اس کے ساتھی تو وہ میری رسالت اور اس قرآن کریم کے کلام خداوندی ہونے کے لیے کافی گواہ ہیں۔
اور یا یہ کہ عبداللہ بن سلام کے علاوہ اس سے آصف بن برخیامراد ہیں کیوں کہ جس کے پاس اللہ کی طرف سے کتاب آسمانی کا علم ہوگا تو یقینی طور پر اس میں قرآن کریم کا ذکر اور بیان ہوگا۔
Read the full tafseer →لَسْتَ مُرْسَلًا : ”مُرْسَلًا“ کی تنوین کی وجہ سے ترجمہ ”کسی طرح رسول“ کیا گیا ہے۔
وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ : یعنی یہود و نصاریٰ کے علماء جیسے عبداللہ بن سلام، سلمان فارسی، تمیم داری ؓ اور ان میں سے دوسرے ایمان لانے والے۔ اہل کتاب کے علماء کی طرف رجوع کا حکم اس لیے دیا کہ مشرکین رسول اللہ ﷺ کے معاملے میں عموماً انھی کی طرف رجوع کرتے تھے اور ان کے علماء آپ ﷺ کی صفات اور آپ کے متعلق بشارتوں سے آپ کے سچا رسول ہونے کو خوب سمجھتے تھے، جیسے فرمایا : (يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْ) [ البقرۃ : 146 ] ”وہ آپ کو پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔“ مزید دیکھیے سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
آیت نمبر 42 تا 43
قولہ تعالیٰ : وقد مکر الذین من قبلھم یعنی مشرکین مکہ سے پہلے، ان لوگوں نے رسولوں کے ساتھ مکر کیا، ان کے ساتھ فریب کیا اور ان کا انکار کیا۔ فللہ المکر جمیعا یعنی مکر کرنے والوں کا مکر اسی کا پیدا کردہ ہے، لہٰذا اس کے اذن کے بغیر کوئی نقصان نہیں دیتا۔ ایک قول کے مطابق : فللہ خیر المکر یعنی وہ ان کو اس کی سزا دے گا۔ یعلم ما تکسب کل نفس یعنی خیر اور شر میں سے جو کوئی کرتا ہے وہ جانتا ہے پس اس پر وہ سزا دے گا۔ ویعلم الکافر نافع، ابن کثیر اور ابو عمر کی یہی قرآت ہے جبکہ باقیوں نے الکفار پڑھا ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس سے اللہ تعالیٰ نے ابوجہل کو مراد لیا ہے۔ لمن عقبی الدار یعنی ثواب و…
Read the full tafseer →آیت کا شان نزول :
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عیسائیوں کا مجتہدیمن سے آیا اس سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے مجھے انجیل میں رسول ہونے کا (لکھا ہوا) پایا ہے۔ اس نے کہا نہیں (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ ( آیت) قل کفی باللہ شھیدا بینی وبینکم ومن عندہ علم الکتب “ نازل فرمائی اور (آیت ) ” ومن عندہ علم الکتب “ سے مراد ہے عبداللہ بن سلام ؓ ہیں۔
2:۔ ابن جریر وابن مرودیہ رحمہما اللہ نے عبدالمالک وابن عمیر کے راستہ سے محمد بن یوسف بن عبداللہ بن سلام (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ میرے بارے میں قرآن میں نازل فرمایا ( آیت ) ” قل کفی…
Read the full tafseer →[وَيَقُوْلُ : کہتے ہیں ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ لَسْتَ : آپ ﷺ نہیں ہیں ] [مُرْسَلًا : بھیجے ہوئے ] [ قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [ كَفٰى: کافی ہے ] [ بِاللّٰهِ : اللہ ] [ شَهِيْدًۢا : بطور گواہ کے ] [ بَيْنِيْ : میرے درمیان ] [ وَبَيْنَكُمْ : اور تمہارے درمیان ] [ وَمَنْ : اور وہ (بھی)] [عِنْدَهٗ : جس کے پاس ] [ عِلْمُ الْكِتٰبِ : کتاب کا علم ہے ]
Read the full tafseer →آپ فرما دیجئے کہ میرے رسول ہونے پر اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے :
(وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا) (اور کافر کہتے ہیں کہ آپ پیغمبر نہیں ہیں) (قُلْ کَفٰی باللّٰہِ شَھِیْدًا بَیْنِیْ وَ بَیْنَکُمْ ) (آپ فرما دیجئے کہ میرے تمہارے درمیان گواہ ہونے کے لیے اللہ کافی ہے) (وَ مَنْ عِنْدَہٗ عِلْمُ الْکِتٰبِ ) (اور وہ لوگ بھی گواہی کے لیے کافی ہیں جن کے پاس کتاب ہے) تم اگر نہ مانو تو تمہارے انکار کی کوئی پرواہ نہیں ‘ نیز اہل کتاب کے علماء کی گواہی بھی میرے لئے کافی ہے جو اپنی کتابوں میں میری نبوت کی پیشین گوئی پڑھتے آئے ہیں اور ان کے جذبہ انصاف نے انہیں مومن بنا دیا انہوں نے میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
کفر کا زوال اور اسلام کا اقبال
قال اللہ تعالیٰ وان ما نرینک بعض الذی نعدھم .... الیٰ .... ومن عندہ علم الکتاب۔
(ربط) گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ نے اپنی شان محو و اثبات اور صفت تغیر و تبدیل کا ذکر فرمایا اب آئندہ آیات میں کفر کے زوال اور اسلام کے عروج اوراقبال کو بیان فرماتے ہیں کہ اس کے آثار شروع ہوگئے ہیں۔
نیز گزشتہ آیات میں کافروں پر دنیوی آفات اور مصائب کے نزول کی خبر دی تھی کام قال تعالیٰ ولا یزال الذین کفروا تصیبھم بما صنعوا قارعۃ او تحل قریبا من دارھم الخ اور فرمایا تھا لہم عذاب فی الحیوۃ الدنیا ولعذاب الاخرۃ اشق اب ان آیات میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ اب ان مواعید کے آثار ظاہر ہونے لگے ہیں…
Read the full tafseer →46:۔ یہ شکوی ہے۔ کفار مکہ محض عناداً و مکابرۃً کہتے کہ آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں حالانکہ وہ آپ کی صداقت کے دلائل قاہرہ اور آپ کی رسالت و نبوت پر معجزات واضحہ کا مشاہدہ کرچکے تھے۔ ” قُلْ کَفٰی بِاللہِ شَھِیْدًا الخ “۔” وَ مَنْ عِنْدَہٗ عِلْمُ الْکِتٰبِ “ سے علماء اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) مراد ہیں جو اسلام لا چکے تھے۔ ان کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ مشرکین مکہ ان پر اعتماد کرتے تھے۔ ” کانت شھادتھم قاطعۃ لقول الخصوم وھوم مؤمنوا اھل الکتب کعبداللہ بن سلام و سلمان الفارسی و تمیم الداری والنجاشی و اصحابہ قالہ قتادۃ و سعید بن جبیر “ (قرطبی ج 19 ص 335) ۔ یعنی اگر مشرکین مکہ آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
(ربط آیات)
سورة ہذا کی ابتدا میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا پھر مسئلہ توحید اور قیامت کا ذکر آیا اور اب آخر میں اس سورة کا اختتام رسالت کے بیان پر ہو رہا ہے مشرکین مکہ حضور خاتم النبیین ﷺ پر جو مختلف قسم کے اعتراضات کرتے تھے ان کا جواب دیا گیا ہے اور پیغمبر خدا کی رسالت اور نبوت کی تصدیق کی گئی ہے ، درمیان میں محو اور اثبات کا ذکر بھی ہوا ، شرائع کی منسوخی اور نئے احکام کا اجرا قضا وقدر میں تغیر وتبدل کسی چیز کو مٹا دینا اور کسی کو باقی رکھنا ، یہ سب اللہ کی قدرت تامہ کے تحت بیان ہوچکا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی بھی دی ، فرمایا ہم نے جن…
Read the full tafseer →وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا ۭ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۙ وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ 43ۧ
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
ترکیب : امازینک کا جواب فانما علیک البلاغ وعلینا الحساب والمعنی سواء اریناک ذلک او توفیناک قبل ظہورہ فالوا جب علیک تبلیغ احکام اللہ وعلینا حسابہم ننقصہا جملہ حال ہے ضمیر فاعل یا الارض سے۔ باللّٰہ ب زائد اللہ فاعل کفی و من موصلہ عندہ علم الکتاب صلہ یہ معطوف ہے محلاً اللہ پر فاعل ہوگا کفی کا۔
تفسیر : عرب کے مشرک اور مکہ کے کافر آنحضرت ﷺ کی نبوت پر طرح طرح کے شبہات کیا کرتے تھے۔ ازانجملہ ایک یہ تھا کہ جس کو اللہ تعالیٰ دنیا میں رسول بنا کر بھیجے اس کو دنیاوی باتوں سے پاک ہونا چاہیے فرشتوں کی مانند یہ کیسے نبی ہیں جن کے بیوی بچے ہیں کھاتے پیتے دنیا کے کاروبار خریدو فروخت بازار سے کرتے ہیں ‘ پھر…
Read the full tafseer →وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلاً ط قُلْ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا م بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ لا وَمَنْ عِنْدَہٗ عِلْمُ الْکِتٰبِ ۔ (سورۃ الرعد : 43)
(اور یہ کافر کہتے ہیں کہ تم خدا کے رسول نہیں ہو، اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے کہ کافی ہے اللہ تعالیٰ گواہ میرے اور تمہارے درمیان اور وہ لوگ جن کے پاس کتاب کا علم ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کی رسالت کی گواہی
ایسے مسکت اور قطعی دلائل سننے اور ناقابل انکار شواہد دیکھنے کے بعد بھی اگر یہ کفار اپنی ضد پر قائم ہیں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ نہیں بلکہ آپ ﷺ نے خواہ مخواہ اپنے آپ ﷺ کو رسول ﷺ کی حیثیت سے پیش کیا ہے جبکہ رسول ﷺ ہونے کے لیے جس اثرو اقتدار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
اے پیغمبر ! ان لوگوں کا مخالفت کرنا کوئی انوکھی بات اور پہلا واقعہ نہیں۔ آپ سے پہلے جتنے پیغمبر ہوئے۔ مخالفین ان کے خلاف ہر قسم کا مکرو فریب اور ظلم و زیادتی کیا کرتے تھے۔ مکر کے معافی ہیں۔ ” فریب، دھوکہ، سازش اور تدبیر کرنا۔ “ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو تمام اہل علم کے نزدیک اس کا معنی تدبیر کرنا ہوتا ہے۔ جب اس کی نسبت کفار، منافقین اور حق کے منکرین کی طرف ہو تو اس کا معنی مکرو فریب ہوجایا کرتا ہے۔ یہاں رسول مکرم ﷺ کو تسلی دینے اور حقیقت حال سے آگاہ کرنے کے لیے فرمایا ہے کہ اے پیغمبر ! گھبرانے اور دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ سے پہلے…
Read the full tafseer →آپ کی رسالت کا اللہ گواہ کافی ہے :
43: وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا (کافر کہتے ہیں کہ آپ رسول نہیں ہیں) اس سے مراد خاص کافر کعب بن اشرف اور رؤساء یہود مراد ہیں۔ وہ کہتے تھے لست مرسلًا۔ اسی لئے عطاء (رح) نے کہا کہ یہ سورت مکیہ ہے سوائے اس آیت کے۔ قُلْ کَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًام بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ (کہہ دیں اللہ تعالیٰ کی گواہی میرے اور تمہارے درمیان کافی ہے) اس وجہ سے کہ میری رسالت پر دلائل واضح کردیئے گئے باؔ فاعل پر داخل ہوئی ہے۔ اور شہیدا یہ تمیز ہے۔ وَمَنْ عِنْدہٗ عِلْمُ الْکِتٰبِ (اور وہ جنکے پاس کتاب کا علم ہے) نمبر 1۔ ہٗ کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات اور الکتاب سے…
Read the full tafseer →43۔” ویقول الذین کفروا لست مرسلا ً قل کفی باللہ شھیدا ً بینی و بینکم “ تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ۔ ” ومن عنہ علم الکتاب “ ایمان رکھنے والے اہل کتاب کی شہادت کا فی ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے عبد اللہ بن سلام مراد ہیں ۔ شعبی (رح) نے اس کا انکار کیا ہے اور کہا کہ سورة مکی ہے اور عبد اللہ بن سلام مدینہ میں اسلام لائے۔ ابو بشر نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے کہا ” ومن عندہ علم الکتاب “ سے کیا عبد اللہ بن سلام ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ اس سے عبد اللہ بن سلام کیسے ہوسکتے ہیں حالانکہ سورة مکی ہے ۔ حسن اور مجاہد رحمہما اللہ کا قول ہے کہ ” ومن عندہ علم الکتاب “ سے اللہ عزوجل ہیں جس پر حضرت ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →43۔ اس آیت میں اللہ جل شانہ نے حضرت ﷺ کو اس بات کی خبر دی کہ کفار مکہ جو تمہیں یہ کہا کرتے ہیں کہ یہ خدا کے رسول نہیں اگر ہوتے تو ہمارے سوال کو پورا کرتے تم ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان میں خدا ہی گواہ ہے کہ میں نے اس کا پیغام تمہیں پہنچا دیا اور تم نے اس کو نہیں مانا مجھے جھٹلائے ہی گئے اور پھر یہ بھی فرمایا کہ پہلے آسمانی کتابوں کے پیرو علماء یہود و نصاریٰ کو بھی خوب معلوم ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں کیونکہ ان کی کتابوں میں بھی خدا نے میری رسالت کی خبر دی ہے۔ یہی قول حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا ہے نبوت کا ثبوت میں اللہ تعالیٰ کی گواہی کا ذکر جو آیت میں کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →(ویقول الذین کفروا لست مرسلاً ) ” اور کافر کہتے ہیں کہ آپ بھیجے ہوئے نہیں ہیں “ یعنی کفار آپ ﷺ کی اور اس حق کی تکذیب کرتے ہیں جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے (قل) اگر وہ آپ سے گواہ طلب کریں تو ان سے کہہ دیجیے (کفی باللہ شھیداً بینی وبینکم) ” اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے “ اور اس کی گواہی اس کے قول و فعل اور اقرار کے ذریعے سے ہوتی ہے۔
قول کے ذریعے سے اس کی شہادت یہ ہے کہ اس نے یہ قرآن مخلوق میں سب سے سچی ہستی پر نازل فرمایا جو آپ ﷺ کی رسالت کو ثابت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اپنی تائید سے نوازا اور آپ کو ایسی فتح و نصرت عطا کی جو آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
81۔ منکرین کے دواعتراضوں کا جواب :
سو اس سے منکرین کے دواعتراضوں کا جواب دیا گیا، ایک یہ کہ ان لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ یہ کیسے رسول ہیں کہ ان کی بیویاں بھی ہیں اور بچے بھی ؟ ہم اپنے ہی جیسے ایک بشرکو نبی اور رسول کیوں کرمان لیں، اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو نبی و رسول بنا کر بھیجنا ہوتاتو کسی فرشتے کو رسول بناکربھیج دیتا جو نہ کھاتانہ پیتا، نہ بیویاں ہوتیں نہ بچے، توتب ہم مانتے، سو اس کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ آپ سے پہلے بھی ہم نے بہت سے رسول بھیجے وہ سب ہی بشر اور انسان تھے، ان میں سے کوئی بھی رسول مافوق الفطرت نہیں تھا، سب کی بیویاں اور بچے بھی تھے وہ سب کھاتے اور پیتے بھی تھے، دوسرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
کفرو ایمان، جنت و جہنم اور اللہ کی گواہی
تشریح : جنت کی بشارت صالح اور نیک لوگوں کو دی گئی ہے۔ جنت کے بارے میں فرمان نبوی ہے کسی آنکھ نے جنت دیکھی نہیں کسی کان نے سنا نہیں اور کسی دل پر اس کا خیال نہیں گزرا۔ متقی لوگ قرآن کو دنیا کی بہترین نعمت سمجھ کر خوش ہو کر پڑھتے، سمجھتے اور عمل کرتے ہیں اسی بات کا حکم بار بار دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ کتاب ہر قسم کے علوم اور خاص طور سے رشدوہدایت کا مجموعہ ہے۔ زندگی، کائنات غرض ازل سے ابد تک اور پھر آخرت کے تمام راز بتا دیے گئے ہیں۔ عربی میں قرآن نازل کیا گیا کیونکہ آپ ﷺ کی زبان اور اہل عرب کی زبان عربی تھی۔ ان کی ہی زبان اختیار کی گئی تاکہ تمام رموز،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
کفار کا یہ خیال بھی محض باطل ہے کہ نبی اور رسول تو اگر فرشتہ نہ ہو تو فرشتہ کی مانند اس کی کوئی بیوی یا اولاد نہ ہو گھر بار نہ ہو جیسے آجکل کے جہلا کے ولایت کے بارے میں ایسا ہی گمان ہے قرآن حکیم نے متعدد مقامات پر اس کا جواب ارشاد فرمایا جن میں ایک مقام یہ بھی ہے کہ نبی بھی عام انسان کی زندگی گذارتا ہے اور سرد وگرم زمانہ برداشت کرتے ہوئے اللہ جل جلالہ کی اطاعت کرتا ہے ، بیوی بچے گھر بار دوست ، دشمن ، سب معاملات اس کے ساتھ بھی ہوتے ہیں تب ہی وہ قابل اتباع ہوتا ہے کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی یہی مسائل ہوتے ہیں جن کے باعث وہ اللہ جل جلالہ کی اطاعت نہیں کر پاتے مگر نبی کی…
Read the full tafseer →ف 9 ۔ یعنی یہود و نصاریٰ کے علما جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام، سلمان فارسی ؓ اور تمہیم داری ؓ اور ان میں سے دوسرے ایمان لانے والے اہل کتاب کے علما کی طرف رجوع کا حکم اس لئے دیا کہ مشرکین آنحضرت ﷺ کے معاملے میں عموماً انہی کی طرف رجوع کرتے تھے اور ان کے علما آنحضرت ﷺ کی نعت اور آپ کے متعلق بشارتوں سے آپ ﷺ کی صداقت کو خوب سمجھتے تھے جیسے فرمایا : یعرفونہ کما یعرفون ابناھ ھم (ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(13:43) مرسلا۔ اسم مفعول ۔ واحد مذکر منصوب۔ ر س ل۔ مادّہ ۔ بھیجا ہوا۔ پیغامبر پیغمبر رسول۔
کفی ۔ ماضی۔ واحد مذکر غائب۔ (باب ضرب) صیغہ ماضی کا ہے لیکن مراد استمرار ہے۔ کفایۃ مصدر۔ اور اسم مصدر بھی ہے الکفایۃ ہر وہ چیز جس سے ضرورت پوری ہوجائے۔ اور مراد حاصل ہوجائے اور مزید حاجت نہ رہے۔
کفی باللہ شھیدا (گواہ ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے) میں ب زائدہ ہے۔ بغیر باء کے انہی معنوں میں قرآن مجید میں ہے وکفی اللہ المؤمنین القتال (33:5) اور خدا مؤمنوں کے لئے جنگ کی ضروریات کے سلسلے میں کافی ہوا۔ اور انا کفینک المستھزء ین (15:95) ہم تمہیں ان لوگوں کے شرّ سے بچانے کے لئے جو تم سے استہزاء کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 43
مکر تدبیر کی۔ چال چلے جمیع سب کا سب تکسب کماتا ہے لست تو نہیں ہے مرسل رسول۔ پیغمبر کفی کافی ہے شھید گواہی علم الکتاب کتاب کا علم۔ اہل کتاب
تشریح : آیت نمبر 42 تا 43
اس سورت کو ان الفاظ پر مکمل فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ ان کفار و مشرکین مکہ سے پہلے گذر چکے ہیں انہوں نے دنیاوی مفادات کی خاطر دین اسلام اور اس کے رسولوں اور نبیوں کے خلاف ہر طرح کی چالیں چل کر دیکھ لیں لیکن جب بھی اللہ کا داؤ ان پر چل گیا وہ اپنے وجود اور اپنی ترقیات اور تہذیب کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے۔ اللہ کو ہر انسان کی ہر کیفیت کا علم ہے کہ کون کیا کر رہا ہے اور یہ کفار لاکھ انکار کریں گے مگر یہ…
Read the full tafseer →مشرکین کا اعتراض قرآن پاک پر اور اس کا جواب
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اس بات کی خبر دی کہ کفار مکہ جو تمہیں یہ کہا کرتے ہیں کہ یہ خدا کے رسول نہیں اگر ہوتے تو ہمارے سوال کو پورا کرتے ۔ تم ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ ہے کہ میں اس کا پیغام تمہیں پہنچا دیا اور تم نے اس کو نہیں مانا، مجھے جھٹلاتے ہی گئے اور پھر یہ بھی فرمایا کہ پہلے آسمانی کتابوں کے پیرو علماء یہود و نصاری کو بھی خوب معلوم ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ کیونکہ ان کی کتابوں میں بھی خدا نے میری رسالت کی خبر دی ہے
Read the full tafseer →[32] اللہ کی گواہی تو وہ ہوئی جو آپ کی امانت سے، دیانت سے، صداقت سے، پاکبازی و پارسائی سے، غرض آپ کی عملی زندگی کے گوشے گوشے سے ظاہر ہو رہی تھی اور اہل کتاب کی گواہی سے اشارہ ان اہل کتاب کے علماء کی طرف ہے جو ان پیش گوئیوں اور بشارتوں کو جو آپ کے متعلق کتب سابقہ میں موجود تھیں دیکھ کر ایمان لائے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
(ف 3) فتوحات اسلامی کی وسعت کی جانب اشارہ ہے یعنی مسلمان سیلاب کی طرح کفر کی مملکت پر چھا رہے ہیں کیا اس کامیابی کو مخالفین بنظر امعان نہیں دیکھتے ؟ اور کیا اس وسعت اور پھیلاؤ میں ان کے لئے کرشمہ سازی کا کوئی سامان نہیں ؟ کیا یہ کم معجزہ ہے کہ مٹھی بھر مسلمان دنیائے کفر فتح کرلینے کا عزم رکھتے ہیں ، اور ہر آفتاب جو طلوع ہوتا ہے ، اسلامی اقبال و عروج کی خبر دیتا ہے ۔
Read the full tafseer →43 ۔ اور اے پیغمبر یہ لوگ جو دین حق کے منکر ہیں یوں کہتے ہیں کہ آپ خدا کے فرستادہ نہیں ہیں اور آپ پیغمبر نہیں ہیں ۔ آپ فرما دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ اور وہ شخص جس کے پاس کتب آسمانی کا علم ہے گواہی کو کافی ہیں۔
میں اللہ تعالیٰ کافر ستادہ ہوں اور وہ خدا گواہ ہے اور کتب آسمانی میں میری پیشین گوئیاں موجود ہیں ان کتابوں کی میں تصدیق کرنے والا ہوں اس لئے ان کتابوں کا علم رکھنے میرے گواہ ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ گواہ یوں ہے کہ سچ کو بڑھا دے اور جھوٹ کو مٹا دے اور گواہ ہیں پہلی کتاب جاننے والے کہ آگے بھی اسی طرح اتری ہے کتاب ۔ لم سورة رعد۔
Read the full tafseer →ف 3۔ مراد اس سے علماء اہل کتاب ہیں جو منصف تھے اور نبوت کی پیشن گوئی دیکھ کر ایمان لائے تھے۔
Read the full tafseer →پیغمبر اسلام کا دعویٰ تم تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ‘ انجام سچائی کو ظاہر کر دے گا
67 ؎ اب غور کرو کہ حق و باطل کی موجودہ آویزش کا نقطہ نزاع کیا ہے ؟ فرمایا تمہارا دعویٰ ہے کہ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہو ‘ منکر کہتے ہیں نہیں ‘ تم بھیجے ہوئے نہیں۔ اب قانون قضا بالحق کے مطابق فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس کی شہادت بس کرتی ہے۔ اللہ کی شہادت کیا ہے ؟ فرمایا اس کا مقصود بھی قضائے بالحق ہے اور بقاء انفع کے قانون کا نفاذ ہے جو ظاہر ہو کر بتلا دیتا ہے کہ حق کس کے ساتھ تھا اور باطل کا کون پرستار تھا اور اس گواہی اور شہادت کیلئے آپ کی امانت و دیانت اور صداقت ‘ پاکبازی ‘ پارسائی ہے جو آپ ﷺ کی عملی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
In verse وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (And if We show you some of what We promise them, or We take you back to Us), it is to comfort and assure the Holy Prophet ﷺ that he has been given the good news that the promises Allah has made to him that Islam will have the final victory and disbelief and disbelievers will be disgraced shall come to pass definitely. But, he is told, 'you should not concern yourself as to when this victory will finally come.' May be, this happens within his life time, and it is also possible that it comes after his departure…
Read the full tafseer →62. That is, everyone who has the knowledge of the divinely revealed Books will bear witness to the fact that my teachings are the same that were imparted by the former prophets.
Read the full tafseer →