Ibrahim 14:1

14. Ibrahimابراهيم

Abraham · Meccan · 52 ayahs · 7 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

14:1

الٓرٰ ۫— كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ۙ۬— بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ ۟ۙالۤرٰ‌ ۚكِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ اِلَيۡكَ لِـتُخۡرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ  ۙ بِاِذۡنِ رَبِّهِمۡ اِلٰى صِرَاطِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِۙ

الٓرٰ۔ (یہ) ایک (پُرنور) کتاب (ہے) اس کو ہم نے تم پر اس لیے نازل کیا ہے کہ لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاؤ (یعنی) ان کے پروردگار کے حکم سے غالب اور قابل تعریف (خدا) کے رستے کی طرف

— Fateh Muhammad Jalandhari

Alif, Lam, Ra. [This is] a Book which We have revealed to you, [O Muhammad], that you might bring mankind out of darknesses into the light by permission of their Lord - to the path of the Exalted in Might, the Praiseworthy -

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Ibrahim

All translations of 14:1

ا ل ر اے محمدؐ، یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ، ان کے رب کی توفیق سے، اُس خدا کے راستے پر جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

الٓرٰ۔ (یہ) ایک (پُرنور) کتاب (ہے) اس کو ہم نے تم پر اس لیے نازل کیا ہے کہ لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاؤ (یعنی) ان کے پروردگار کے حکم سے غالب اور قابل تعریف (خدا) کے رستے کی طرف

— مولانا فتح محمد جالندہری

الرٰ! یہ عالی شان کتاب ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف ﻻئیں، ان کے پروردگار کے حکم سے، زبردست اور تعریفوں والے اللہ کی طرف

— مولانا محمد جوناگڑہی

الر۔ (اے پیغمبر) یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے، تاکہ تم لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آؤ، یعنی اس ذات کے راستے کی طرف جس کا اقتدار سب پر غالب ہے، (اور) جو ہر تعریف کا مستحق ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری کہ تم لوگوں کو اندھیریوں سے اجالے میں لا ؤ ان کے رب کے حکم سے اس کی راہ کی طرف جو عزت والا سب خوبیوں والا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

الف، لام، را (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، یہ (عظیم) کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے تاکہ آپ لوگوں کو (کفر کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان کے) نور کی جانب لے آئیں (مزید یہ کہ) ان کے رب کے حکم سے اس کی راہ کی طرف (لائیں) جو غلبہ والا سب خوبیوں والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

الۤرٰ۔ ایک کتاب ہے جسے ہم نے تیری طرف نازل کیا ہے، تاکہ تو لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لائے، ان کے رب کے اذن سے، اس کے راستے کی طرف جو سب پر غالب، بےحد تعریف والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ا۔ ل۔ ر یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف اس لئے اتاری ہے کہ آپ لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں (یعنی) ان کے پروردگار کے حکم سے لوگوں کو اس راہ کی طرف لائیں جو غالب اور قابل حمد اللہ تعالیٰ کی راہ ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ الرٰ ہے۔ یہ کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اس لیے اتاری ہے کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ ان کے رب کے اذن سے۔ خدائے عزییز وحمید کے راستہ کی طرف

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ال رٰ۔ یہ ایک عظیم الشان کتاب ہے جس کو ہم نے اتارا ہے آپ کی طرف (اے پیغمبر !) تاکہ آپ لوگوں کو (تہ در تہ) اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاسکیں، ان کے رب کی توفیق سے یعنی اس خدا کے راستے کی طرف جو سب پر غالب بھی ہے اور اپنی ذات میں آپ ہی محمود بھی،

— مولانا اسحاق مدنی

الف۔ لام۔ را۔ (یہ) کتاب ہے جسے ہم نے آپ پر اتارا ہے تاکہ آپ لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکال لائیں ان کے پروردگار کے حکم سے یعنی (خدائے) غالب) وستودہ صفات کی راہ کی طرف۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

الۗرٰ (اے نبی !) یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے آپ کی طرف تاکہ آپ نکالیں لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف ان کے رب کے اذن سے اس ہستی کے راستے کی طرف جو سب پر غالب اور اپنی ذات میں خود محمود ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

الۗرٰ۔ یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف اتاری تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائیں ان کے رب کے حکم سے غالب اور قابل تعریف اللہ کے راستے کی طرف۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Alif. Lam. Ra'. This is a Book which We have revealed to you that you may bring forth mankind from every kind of darkness into light, and direct them, with the leave of their Lord, to the Way of the Mighty, the Innately Praiseworthy,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Alif, Lam, Ra. This is a book We have sent down to you, so that you may deliver the people, with the will of their Lord, out of all sorts of darkness into the light, leading them to the path of the Almighty, the Praiseworthy

— Muhammad Taqi Usmani

Alif, Lam, Ra. This is a book We have sent down to you, so that you may deliver the people, with the will of their Lord, out of all sorts of darkness into the light, leading them to the path of the Almighty, the Praiseworthy

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Alif-Lam-Ra. (This is) a Book which We have revealed unto you in order that you might lead mankind out of darkness into light by their Lord's leave to the path of the Almighty, the Praised.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Alif. Lam. Ra. (This is) a Scripture which We have revealed unto thee (Muhammad) that thereby thou mayst bring forth mankind from darkness unto light, by the permission of their Lord, unto the path of the Mighty, the Owner of Praise,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Alif, Lam, Ra. [This is] a Book which We have revealed to you, [O Muhammad], that you might bring mankind out of darknesses into the light by permission of their Lord - to the path of the Exalted in Might, the Praiseworthy -

— Saheeh International

Alif. Lam. Ra. A Book has been revealed to you, (Muhammad), so that, by the permission of their Lord, you would be able to lead people from darkness into light along the path of the Majestic, Praised One.

— Muhammad Sarwar

Alif Lam Ra. (This is) a Book which We have revealed to you that you may bring forth men, by their Lord's permission from utter darkness into light-- to the way of the Mighty, the Praised One,

— Muhammad Habib Shakir

Alif. Lam. Ra. This is a Book which We have sent down unto thee, that thou mayest bring the mankind forth from the darknesses unto the light, by the command of their Lord: unto the path of the Mighty, the Praiseworthy.

— Abdul Majid Daryabadi

A. L. R. A Book which We have revealed unto thee, in order that thou mightest lead mankind out of the depths of darkness into light - by the leave of their Lord - to the Way of (Him) the Exalted in power, worthy of all praise!-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 14:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–3

حوف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں انکا بیان پہلے گزر چکا ہے اے نبی ﷺ یہ عظیم الشان کتاب ہم نے تیری طرف اتاری ہے۔ یہ کتاب تمام کتابوں سے اعلیٰ ، رسول تمام رسولوں سے افضل وبالا۔ جہاں اتری وہ جگہ دنیا کی تمام جگہوں سے بہترین اور عمدہ۔ اس کتاب کا پہلا وصف یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے تو لوگوں کو اندھیروں سے اجالے میں لاسکتا ہے۔ تیرا پہلا کام یہ ہے کہ گمراہیوں کو ہدایت سے برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے ایمانداروں کا حمایتی خود اللہ ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے میں لاتا ہے اور کافروں کے کے ساتھی اللہ کے سوا اور ہیں جو انہیں نور سے ہٹا کر تاریکیوں میں پھانس دیتے ہیں اللہ اپنے غلام پر اپنی روشن اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–2

سورة اِبْرٰهِیْم 1 یعنی تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لانے کا مطلب شیطان راستوں سے ہٹا کر خدا کے راستے پر لانا ہے، دوسرے الفاظ میں ہر وہ شخص جو خدا کی راہ پر نہیں ہے وہ دراصل جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہے، خواہ وہ اپنے آپ کو کتنا ہی روشن خیال سمجھ رہا ہو اور اپنے زعم میں کتنا ہی نور علم سے منور ہو۔ بخلاف اس کے جس نے خدا کا راستہ پا لیا وہ علم کی روشنی میں آگیا، چاہے وہ ایک ان پڑھ دیہاتی ہی کیوں نہ ہو۔ پھر یہ جو فرمایا کہ تم ان کو اپنے رب کے اذن یا اس کی توفیق سے خدا کے راستے پر لاؤ، تو اس میں دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی، مبلغ، خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو، راہ راست پیش کردینے سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر الۗرٰ (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ (قرآن) ایک کتاب ہے جس کو ہم نے آپ پر نازل فرمایا ہے تاکہ آپ (اس کے ذریعہ سے) تمام لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے (مرتبہ تبلیغ میں کفر کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان و ہدایت کی) روشنی کی طرف یعنی ذات غالب ستودہ صفات کی راہ کی طرف لاویں (روشنی میں لانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ راہ بتلا دیں) جو ایسا خدا ہے کہ اس کی ملک ہے جو کچھ کہ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ کہ زمین میں ہے اور (جب یہ کتاب خدا کا راستہ بتلاتی ہے تو) بڑی خرابی یعنی بڑا سخت عذاب ہے ان کافروں کو جو (اس راہ کو نہ تو خود قبول کرتے ہیں بلکہ) دنیوی زندگانی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ ڏ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ اِلٰي صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ۔ الرا، حروف مقطعات پر جامع بحث سورة بقرہ کے شروع میں ملاحظہ فرمائیے۔ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ ظلمت اور نور سے مراد : ظلمات سے مراد عقائد و اعمال کی تاریکیاں اور نور سے مراد ایمان و عمل صالح کی روشنی ہے۔ گمراہی کے ہزاروں راستے ہیں لیکن ہدایت کی راہ ایک ہی ہے اس وجہ سے ظلمات جمع ہے اور نور واحد۔ ہدایت خدا کی توفیق بخشی پر منحصر ہے : " بِاِذْنِ رَبِّھِمْ " یعنی یہ تاریکیوں سے کل کر روشنی کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

1۔ 1 جس طرح دوسرے مقام پر بھی اللہ نے فرمایا ' (هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ عَلٰي عَبْدِهٖٓ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ لِّيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ) 57۔ الحدید :9) سورة الحدید۔ وہی ذات ہے جو اپنے بندے پر واضح آیات نازل فرماتی ہے تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لائے ' (اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۙيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ) 2۔ البقرۃ :257)۔ اللہ ایمان داروں کا دوست ہے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے۔ 1۔ 2 یعنی پیغمبر کا کام ہدایت کا راستہ دکھانا ہے۔ لیکن اگر کوئی اس راستے کو اختیار کرلیتا ہے تو یہ صرف اللہ کے حکم اور مشیت سے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–4

اب پہلے سورة کا حصہ اول۔ درس نمبر 114 تشریح آیات 1۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 27 آیت نمبر 1 تا 4 الر کتب انزلنہ الیک (14 : 1) “ اے محمد یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ”۔ یہ کتاب الف ، لام اور میم اور ان جیسے دوسرے حروف کی ترکیب سے بنائی گئی ہے۔ یہ تمہاری طرف ہم نے نازل کی ہے ، کسی اور نے تمہاری طرف اسے نہیں اتارا۔ نہ تم نے خود اس کی تخلیق کی ہے۔ اور اسے کیوں اتارا گیا ہے۔ لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) “ تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لاؤ ”۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ اوہام و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی اس کتاب کی عظمت شان کا اندازہ اس بات سے کرنا چاہیے کہ ہم اس کے اتارنے والے اور آپ جیسی رفیع الشان شخصیت اس کی اٹھانے والی ہے اور مقصد بھی اس قدر اعلیٰ وارفع ہے جس سے بلند تر کوئی مقصد نہیں ہوسکتا وہ یہ کہ خدا کے حکم و توفیق سے تمام دنیا کے لوگوں کو خواہ عرب ہوں یا عجم، کالے ہوں، یا گورے، مزدور ہوں یا سرمایہ دار، بادشاہ ہوں یا رعایا۔ سب کو جہالت و اوہام کی گھٹا ٹوپ اندھیریوں سے نکال کر معرفت و بصیرت اور ایمان و ایقان کی روشنی میں کھڑا کرنے کی کوشش کی جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

الۗرٰ اس مقام پر حروف مقطعات کے بارے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ مکی سورتوں کے اس سلسلے کے پہلے ذیلی گروپ کی تینوں سورتوں یونس ، ہود اور یوسف کا آغاز الۗرٰ سے ہو رہا ہے ‘ جبکہ دوسرے ذیلی گروپ کی پہلی سورة الرعد ا آمآرٰ سے اور دوسری دونوں سورتیں ابراہیم اور الحجر پھر الۗرٰ سے ہی شروع ہورہی ہیں۔ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ ڏ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ قرآن کریم میں اندھیرے کے لیے لفظ ”ظُلُمات“ ہمیشہ جمع اور اس کے مقابلے میں ”نُور“ ہمیشہ واحد استعمال ہوا ہے۔ چونکہ کسی فرد کی ہدایت کے لیے فیصلہ اللہ کی طرف سے ہی ہوتا ہے اس لیے فرمایا کہ آپ کا انہیں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 ہدایت اور اللہ کا اذن ؟ روشنی یا نور کے مقابلہ میں تاریکی نہیں بلکہ تاریکیاں فرمایا اس لیے صراط مستقیم صرف ایک ہی ہوسکتی ہے اور اسی صراط مستقیم کو روشنی سے تعبیر فرمایا جبکہ ٹیڑھی یا باطل کی راہیں لاتعداد ہوسکتی ہیں اور یہ سب گمراہی کے راستے ہیں اس لیے ان سب راستوں کو تاریکیوں سے تعبیر کیا۔ گویا اس کتاب قرآن کریم کو اتارنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ آپ اس کے ذریعہ لوگوں کو باطل کی تمام راہوں سے ہٹا کر صراط مستقیم پر لائیں۔ اور یہ کام تب ہی ہوسکتا ہے جب لوگوں کے پروردگار کو بھی انھیں راہ راست پر لانا منظور ہو۔ اور اس منظوری کا قانون یہ ہے کہ جو ہدایت کا طالب ہو اسے اللہ یقیناً ہدایت کی توفیق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1۔ یعنی اس کتاب مقدس کی تنزیل کی غرض وغایت تمامتر یہ ہے کہ آپ ﷺ اس کے واسطہ سے لوگوں کو جواب تک تاریکی میں پڑے ہوئے ہیں، توحید وہدایت کی روشنی میں لے آئیں۔ (آیت) ” الر “۔ یہاں مخفف سمجھا گیا ہے انا اللہ اری کا۔ میں اللہ ہوں دیکھنے والا، حروف مقطعات پر حاشیہ شروع سورة بقرہ میں گزر چکا۔ (آیت) ” لتخرج “۔ اس نکال لانے کا حکم مرتبہ تبلیغ میں ہے۔ یہ مراد نہیں کہ آپ سب کو نکال لائیں ہی گے۔ مراد یہ ہے کہ آپ تبلیغ اسی کی اور اسی غرض سے کرتے رہیں۔ (آیت) ” الناس “۔ ال استغراق کا کلیت کا چاہتا ہے۔ یعنی جمیع نسل انسانی۔ یہ ایک مزید دلیل ہے اس کی کہ آپ ﷺ کی بعثت کسی مخصوص قوم کی جانب نہیں، بلکہ عام اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–6

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 6 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ قرآن عظیم الشان کتاب ہے اے محمد اس کو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو کفر کی ظلمتوں سے انکے رب کے حکم سے ایمان کی روشنی کی طرف نکالیں، اور الی النور سے الی صراط العزیز بدل ہے یعنی غالب اور قابل ستائش اللہ کے راستہ کی طرف (لائیں) (اللہ) کا جر (العزیز) سے بدل یا عطف بیان ہونے کی وجہ سے ہے، اس کا مابعد (یعنی الذین لہ الخ) اللہ کی صفت ہے اور (اللہ) کے رفع کی صورت میں اللہ مبتداء ہوگا اور الذین لہ اس کی خبر ہوگی وہ اللہ کہ آسمانوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ا ل ر کتب انزلنہ الیک ا آرٰ- (یہ سورة یا قرآن) ایک ایسی کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے۔ لتخرج الناس من الظلمت الی النور باذن ربھم تاکہ آپ لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئیں۔ یعنی آپ ہماری کتاب کی ہدایات کی طرف لے آئیں۔ یعنی آپ ہماری کتاب کی ہدایات کی طرف لوگوں کو بلائیں اور نفع و نقصان میں امتیاز پیدا کرنے والے امور کی تعلیم دیں۔ تاریکیوں سے مراد ہیں : طرح طرح کی گمراہیاں اور نور سے مراد ہے : ہدایت۔ اِذْن سے مراد ہے : توفیق اور اسباب سہولت فراہم کردینا۔ دربان داخلہ کی اجازت دیتا ہے ‘ یعنی اندر داخل ہونے میں سہولت دے دیتا ہے اور رکاوٹ دور کردیتا ہے) ۔ الی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(1) الر۔ یعنی میں اللہ ہوں جو کچھ تم کہہ رہے ہو اور کر رہے ہو میں سب سے باخبر ہوں یا یہ کہ ایک قسم ہے، یہ ایک کتاب ہے جس کو جبریل امین کے ذریعے ہم نے آپ پر نازل کیا ہے تاکہ آپ اہل مکہ کو اپنے پروردگار کے حکم سے کفر سے ایمان کی طرف لائیں اور اس اللہ کے دین کی طرف دعوت دیں جو ایمان نہ لانے والوں کو سزا دینے پر قادر ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–2

الۗرٰ : حروف مقطعات کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ :”كِتٰبٌ“ کو ”الۗرٰ“ کی خبر بنائیں تو معنی ہوگا کہ ”الۗرٰ“ ایک کتاب ہے، یعنی وہ حروف تہجی جن سے تمہارا کلام وجود میں آتا ہے، انھی سے یہ کتاب وجود میں آئی ہے، اگر مقابلے کی ہمت ہے تو آؤ انھی حروف سے تم صرف ایک سورت ہی بنادو۔ ایک صورت یہ ہے کہ اسے مبتدا محذوف ”ھٰذَا“ کی خبر بنالیں، پھر معنی ہوگا، یہ ایک کتاب ہے۔ ”نازل کیا“ کے لفظ سے اس کا بلندی سے اترنا اور اللہ تعالیٰ کا بلندی پر ہونا ثابت ہوتا ہے۔ معلوم ہوا اللہ تعالیٰ کو نہ لامکان کہہ سکتے ہیں اور نہ ہر جگہ میں کہہ سکتے ہیں، بلکہ وہ بلند ہے، عرش پر ہے۔ ”ہم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 1 قولہ تعالیٰ : الر، کتب انزلنہ الیک اس کا معنی گزر چکا ہے۔ لتخرج الناس یعنی آپ نکالیں کتاب کے ذریعے اور وہ قرآن ہے، یا اس کی طرف بلانے کے ذریعے لوگوں کو نکالیں۔ من الظلمت الی النور۔ یعنی کفر، گواہی اور جہالت کی تاریکیوں سے ایمان اور علم کے نور کی طرف اور یہ بطور تمثیل ہے، کیونکہ کفر بمنزلہ ظلمت اور اسلام بمنزلہ نور ہے۔ اور ایک قول یہ ہے : بدعت سے سنت اور شک سے یقین کی طرف۔ سب کا معنی قریب قریب ہے۔ باذن ربھم یعنی انہیں اللہ تعالیٰ کی توفیق ملنے سے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے باذن ربھم میں باتخرج کے متعلق ہے اور فعل کی اضافت نبی کریم ﷺ کی طرف اس لیے ہے کیونکہ دعوت دینے والا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1:۔ امام عبد ابن منذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ” التخرج الناس من الظلمت الی النور “ سے مراد ہے گمراہی سے ہدایت کی طرف۔ 2:۔ امام ابن بن حمید، ابویعلی، ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں حاکم نے (اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو آسمانوں پر اور (سب) انبیاء (علیہم السلام) پر فضلیت عطاء فرمائی ان سے پوچھا گیا آسمان والوں پر ان کی فضیلت کیسی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان والوں کے لئے فرمایا (آیت ) ” ومن یقل منہم انی الہ من دونہ فذلک نجزیہ جھنم “ (الانبیاء آیت 29) اور محمد ﷺ کے لئے فرمایا (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[الۗرٰ ۔۔] [ كِتٰبٌ: (یہ) ایک کتاب ہے ] [ انزَلْنٰهُ : ہم نے اتارا اس کو ] [اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ لِتُخْرِجَ : تاکہ آپ ﷺ نکالیں ] [ النَاسَ : لوگوں کو ] [مِنَ الظُّلُمٰتِ : اندھیروں سے ] [اِلَي النُّوْرِ : روشنی کی طرف ] [بِاِذْنِ رَبِھِمْ : اپنے رب کی اجازت سے ] [اِلٰي صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ : حمد کئے ہوئے بالا دست کے راستے کی طرف ] ترکیب : (آیت۔ 1) کِتٰبٌ خب رہے اور اس کا مبتدا محذوف ہے۔ نوٹ۔ 1: ظُلُمٰت سے مراد عقائد و اعمال کی تاریکیاں اور نور سے مراد ایمان اور عمل صالح کی روشنی ہے۔ گمراہی کے ہزاروں راستے ہیں لیکن ہدایت کی راہ ایک ہی ہے۔ اس وجہ سے ظُلُمٰت جمع ہے اور نور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب اس لیے نازل فرمائی ہے کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف بلائیں ‘ اللہ غالب ہے ستودہ صفات ہے سارے جہانوں کا مالک ہے : یہاں سے سورة ابراہیم شروع ہے اول تو یہ فرمایا کہ یہ کتاب عظیم کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی پھر فرمایا کہ کتاب کا نازل فرمانا اس لیے ہے کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالیں اور ساتھ ہی (بِاِذْنِ رَِبِّھْمْ ) بھی فرمایا کہ کتاب سنانا اور حق کی تبلیغ کرنا یہ آپ کا کام ہے جسے ہدایت ہوگی اللہ تعالیٰ کے حکم اور مشیئت ہی سے ہوگی۔ پھر نور کا مصداق بتایا اور فرمایا (اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ ) کہ آپ جو لوگوں کو اندھیروں سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–4

آغاز سورت بہ بیان مقصد بعثت قال اللہ تعالیٰ الرٰ کتب انزلنہ الیک لتخرج الناس من الظلمت الی النور ... الیٰ ... وھو العزیز الحکیم گزشتہ سورت کی طرح اس سورت کا آغاز بھی قرآن کریم کی عظمت سے کیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بتلا دیا گیا کہ قرآن کے نازل کرنے اور نبی کریم (علیہ السلام) کی بعثت سے مقصد یہ ہے کہ آپ ﷺ اس کتاب کے ذریعے سے لوگوں کو اندھیرے سے روشنی کی طرف نکالیں اور جو لوگ دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں ان کو آخرت کا راستہ بتلائیں دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے اور ” ظلمات “ یعنی اندھیروں سے کفر اور شرک اور معصیت کے انواع و اقسام مراد ہیں چناچہ فرماتے ہیں الرٰ اس کے معنی اللہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

2:۔ یہ تمہید مع ترغیب ہے اس میں قرآن کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔ یعنی یہ قرآن ہم نے آپ پر اس لیے نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کو شرک و ضلالت کے اندھیروں سے نکال کر توحید اور ہدایت کی روشنی سے ہمکنار کریں۔ ” لِتُخْرِجَ النَّاسَ “ کے بعد ” ببیان الوقائع “ مقدر ہوگا۔ یعنی دلائل بیان ہوچکے، تنبیہات کا ذکر ہوچکا اور شبہات کا ازالہ بھی ہوچکا اب آپ ان کے سامنے وقائع بیان کریں تاکہ اس طرح ہی وہ ظلمات سے نور کی طرف آجائیں۔ کیونکہ اس کے بعد اسی رکوع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ وَ ذَکِّرْھُمْ بِاَیَّامِ اللہِ “ یعنی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–3

(نام اور کوائف) اس سورة کا نام سورة ابراہیم ہے ، سورة کے چھٹے رکوع میں خانہ کعبہ کی تعمیر پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور ملت ابراہیمیہ کا ذکر ہے اسی مناسبت سے سورة کا یہ نام رکھا گیا ہے ، سابقہ سورة کی طرح یہ سورة بھی مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی ، اس کی باون آیات اور سات رکوع ہیں ، یہ سورة 831 الفاظ اور 3434 حروف پر مشتمل ہے ۔ (مضامین سورة ) جس طرح اس سورة کا سابقہ سورة سے زمانہ نزول ملتا ہے اسی طرح ان دونوں سورتوں کے مضامین بھی ملتے جلتے ہیں ، اس سورة میں بھی دین کے بنیادی عقائد ، توحید ، تردید شرک ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت ، وصداقت کا ذکر ہے نبوت و رسالت کے متعلق…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ ڏ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ اِلٰي صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب : کتاب موصوف انزلناہ الخ صفت مجموعہ خبر ہے مبتدا مخدوف ھذا یا الرا کی باذن ربہم موضع نصب میں ہے ای ماذو قالھم الی صراط بدل ہے الی النور سے باعادۃ حرف الجر اللہ مجرور ہے الحمید سے بدل ہو کر تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس کے اخیر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا مناجات کا بھی اس خوبی کے ساتھ ذکر ہے کہ جس سے قدیم زمانہ کے خدا پرست لوگوں کا اپنے رب کے ساتھ عجز و نیاز اور سچا توکل ان لوگوں کے دلوں پر کہ جن پر بت پرستی یا الحاد کا دھبہ نہیں لگا ‘ عجب اثر پیدا کرتا ہے۔ اس لئے اس سورة کا نام سورة ابراہیم ہے۔ اس سورة میں بھی بیشتر اصول مذہب کا ثبوت ہے ایک نئے ڈھنگ سے آنحضرت ﷺ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

الٓرٰقف کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ 5 لا بِاِذْنِ رَبِّہِمْ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ ۔ اللّٰہِ الَّذِیْ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِط وَوَیْلٌ لِّلْکٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِنِ ۔ (سورۃ ابراہیم : 1۔ 2) (ا۔ ل۔ ریہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے آپ ﷺ کی طرف نازل کیا تاکہ آپ ﷺ لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔ ان کے رب کی توفیق سے اس خدا کے راستے پر جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب کا مالک ہے۔ اور کافروں کے لیے ایک عذاب شدید کی تباہی ہے۔ ) اس سورت کا آغاز ( ا۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–2

فہم القرآن ربط کلام : ” ا ل ر “ حروف مقطعات ہیں۔ جن کے بارے میں پہلے بھی عرض کیا ہے کہ ان کا حقیقی معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ البتہ بعض مفسرین کے استدلال کے مطابق یہ دنیا بھر کے لوگوں کو چیلنج ہے کہ قرآن مجید انہی حروف پر مشتمل ہے اگر تم قرآن مجید کو منجانب اللہ تسلیم نہیں کرتے تو پھر اس جیسا قرآن مجید بنا کر پیش کرو۔ جس کا قیامت تک، کوئی فرد، جماعت اور کوئی حکومت جواب نہیں دے سکتی۔ اس قرآن کو اللہ تعالیٰ نے رسول معظم ﷺ کی ذات اقدس پر نازل فرمایا ہے۔ تاکہ لوگوں کو کفر وشرک، بدعت ورسومات اور ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت اور علم کی طرف لانے کی کوشش فرمائیں۔ اس رب کے راستے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1: الٓرٰ ! کِتٰبٌ (یہ کتاب ہے ) ۔ نحو : یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے اور مبتدا ” ھذا “ ہے اور کتاب سے مراد سورت ہے اور اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ (جس کو ہم نے اتارا) یہ جملہ موضع ِرفع میں ہے اور کِتٰبٌ نکرہ کی صفت ہے۔ لِتُخْرِجَ النَّاسَ (تاکہ تم لوگوں کو نکالو) ان کو دعوت دیکر مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ (اندھیروں سے روشنی کی طرف) گمراہی سے ہدایت کی طرف۔ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ (ان کے رب کے حکم سے) یعنی اس کے آسانی اور سہولت کردینے کے سبب۔ یہ ایسے اذن کیلئے بطور استعارہ استعمال ہوا جس کا مقصد حجاب کا آسان کردینا ہے اور یہی توفیق دینا ہے۔ اِلٰی صِرَاطِ (راستہ کی طرف) عامل کو دوبارہ لایا گیا ہے یہ نور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر : 1۔” الر کتب “ کتب خبر ہذا متبداء محذوف کی ۔ ” انزلناہ الیک “ اے محمد ! ( ﷺ) ہم نے آپ کی طرف قربان نازل کیا ۔ ” لتخرج الناس من الظلمات الی النور “ ‘ تا کہ وہ تمہیں دعوت دے گمراہی سے نور ایمان کی طرف ۔ ” باذن ربھم “ اپنے رب کے حکم سے۔ بعض نے کہا کہ اپنے رب کے علم سے ” الی صراط العزیز الحمید “ اپنے دین کی طرف ، عزیز غالب اور حمید وہ ہے جو حمد کا مستحق ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–3

1۔ 3۔ الٓر۔ انہیں حروف مقطعات میں سے ہے جن کا ذکر پہلے ہوچکا کہ اس کے معنے سوائے خدا کے اور کسی کو معلوم نہیں ہیں۔ قرآن کا یہ طرز بیان ہے کہ بعد حروف مقطعات کے قرآن پاک کی عظمت بیان کی جاتی ہے۔ اس لئے یہاں بھی فرمایا کہ یہ قرآن مجید اور آسمانی کتابوں سے اشرف ہے اور اشرف الانبیاء محمد ﷺ پر اس کو ہم نے اتارا ہے اور جس طرح پہلی کتابیں خاص خاص قوم اور علیحدہ علیحدہ امت کی ہدایت کو بھیجی گئیں اسی طرح یہ کتاب کل انسان کیا عرب کیا عجم ہر ایک بستی ہر ایک گاؤں ہر ملک کے رہنے والوں کی ہدایت کو اتاری گئی ہے تاکہ لوگوں کو کفر اور گمراہی سے نکال کر خدا کی توحید اور ایمان کے سیدھے رستہ کی طرف لاوے پھر اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–2

1-2: اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے مخلوق کے فائدے کے لئے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ پر کتاب نازل فرمائی تاکہ وہ لوگوں کو کفر و جہالت، اخلاق بدر اور مختلف اقسام کے گناہوں کی تاریکی سے نکال کر علم و ایمان اور اخلاق حسنہ کی روشنی میں لے جائے اور فرمایا (باذ نربھم) ” ان کے رب کے حکم سے “ یعنی اللہ تعالیٰ کی محبوب مراد صرف اللہ تعالیٰ کے اراے اور اس کی مدد ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اس آیت کر یمہ میں بندوں کے لئے ترغیب ہے کہ وہ اپنے رب سے مدد طلب کریں۔ پھر اللہ نے اس ” نور “ کی تفسیر بیان فرمائی جس کی طرف یہ کتاب راہنمائی کرتی ہے، چناچہ فرمایا : (الی صراط العزیز الحمید) ” غالب اور قابل تعریف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

1۔ قرآن حکیم ایک عظیم الشان کتاب : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ایک عظیم الشان کتاب ہے، یعنی " کتاب " کی تنوین تعظیم کے لئے ہے۔ اور یہ کتاب عظیم کتاب ہے۔ کہ اس کی عظمتوں کا یہ نہ کوئی کنارہ ہے نہ ٹھکانا۔ کہ یہ کلام ہے اس رب ذوالجلال کا جس کی عظمت شان غیر محدود اور ابدی و لازوال ہے۔ پس جس نے اس کتاب عظیم وحکیم کو دل وجان سے اپنا لیا وہ ایسی سچی اور حقیقی عظمت سے ہم کنار ومالا مال ہوگیا جس کی دوسری نہ کوئی نظیر ہوسکتی ہے نہ مثال۔ اللہ نصیب فرمائے اور اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں سے سرفراز فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف یہ کتاب ایک عظیم الشان کتاب ہے جو انسان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–4

قرآن کا مقصد، کفر کی سزا اور ہدایت کا طریقہ تشریح : یہاں پہلی آیت میں اللہ کے دو صفاتی نام دیے گئے ہیں ” اَلْعَزِیْزُ الْحَمِیْدُ “ یعنی سب پر غالب، تعریف کے قابل۔ وہ اتنا زبردست ہے کہ اس نے یہ اتنی بڑی دنیا بنائی۔ کیونکہ آسمان و زمین اس نے بنائے ہیں اس لیے یہاں کی ہر چیز اس کے قبضے میں اور علم میں ہے انسانوں کو اس نے پیدا کیا تو ان میں کچھ برے ہیں کچھ اچھے ہیں تو بروں کو نیکی کی راہ دکھانے کے لیے انہی میں سے انہی کی زبان بولنے والا ایک ہدایت دینے والا مقرر کردیا پھر اس کو اپنے بہترین احکامات قرآن کی صورت میں دیئے۔ اور پھر نبی اکرم ﷺ کو بھی ان کی ڈیوٹی سمجھا دی کہ تمام بگڑے ہوئے انسانوں کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–6

(رکوع نمبر 1) اسرارومعارف الر حروف مقطعات ہیں اور اس کے بعد ارشاد ہے کہ ۔ (کتاب کی عظمت) یہ عظیم الشان کتاب ہم نے کی طرف فرمائی تاکہ آپ لوگوں کو ان کے پروردگار کی اجازت سے تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائیں ، سب سے پہلے تو کتاب کی عظمت کا اظہار ہے کہ یہ اللہ جل جلالہ کا ذاتی کلام ہے اور کلام الملوک ملوک الکلام کہ بادشاہوں کا کلام ، کلام کا بادشاہ ہوا کرتا ہے کے مصداق بہت ہی عظیم الشان ہے پھر ظاہرا کمال یہ ہے کہ ادبی لحاظ سے کوئی بڑے سے بڑا ادیب ایک جملے کے مقابلے میں جملہ لانے کی جرات نہیں کرسکتا انسانی زندگی کے ہر پہلو پہ راہنمائی اور اس کا معیار یہ کہ ساری انسانیت کے لیے بیک وقت قابل عمل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ۔ یعنی اسلام اور اس کی شریعت پر۔ ” باذن ربھم “ میں اس طرف اشارہ ہے کہ کوئی مبلغ، چاہے وہ نبی ﷺ ہی کیوں نہ ہو، لوگوں کو اگر اسلام کی راہ راست کی طرف لاسکتا ہے تو اللہ ہی کی دی ہوئی توفیق سے لاسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(14:1) الر۔ ملاحظہ ہو۔ الم ۔ 2:1 ۔ کتب۔ یعنی القران ۔ کتب خبر ہے۔ اس کا مبتدا ھذا محذوف ہے انزلنہ۔۔ اس کی صفت ہے۔ انزلنہ میں ہُ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع کتب ہے۔ کتب یہاں نکرہ ہے نکرہ کا استعمال بعض دفعہ رفع شان کے اظہار کے لئے بھی کیا جاتا ہے یعنی موصوف کی شان اس قدر مشہورو معروف ہے کہ اسے معرفہ لانے کی ضرورت نہیں۔ الناس۔ میں ال استغراق کا ہے جو کلیت چاہتا ہے۔ یعنی جمیع نسل انسانی۔ ظلمت الی النور۔ میں ظلمت کا صیغہ جمع اور نور کا صیغہ واحد اس بات کی دلیل ہیں کہ گمراہیاں اور اقسام کفر کثرت سے ہیں۔ جب کہ ہدایت کی راہ صرف ایک ہی راہ مستقیم ہے۔ الی صراط العزیز الحمید۔ بدل ہے النور کا۔ کیونکہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–4

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4 لتخرج تاکہ تو نکالے الظلمت (الظلمۃ) ۔ اندھیرے اذن اجازت۔ توفیق صراط راستہ الحمید اللہ کی صفت۔ تمام تعریفوں کا مستحق ویل بربادی۔ تباہی یستحبون وہ پسند کرتے ہیں یصدون وہ روکتے ہیں یبغون وہ تلاش کرتے ہیں عوج کجی۔ ٹیڑھا پن ضلل گمراہی بعید دور لسان زبان لیبین تاکہ وہ کھول دے۔ واضح کر دے یضل وہ گمراہ کرتا ہے یھدی وہ ہدایت دیتا ہے۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 4 نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت ساری دنیا کفر و شرک ، ظلم و ستم، قتل و غارت گری، رسم و رواج، بت پرستی، عقیدوں کی خرابی اور جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی کسی شخص، قوم یا قبیلے کو سکون اور چین حاصل نہ تھی۔ نبی کریم ﷺ پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–3

الرا۔ حروف مقطعات میں سے ہے جس کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ اب ارشاد ہوتا ہے کہ قرآن ایسی کتاب ہے کہ ہم نے اس کو تمہارے پاس اس لیے بھیجا ہے تاکہ لوگوں کو کفر و نفاق اور شرک و بدعت کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور اخلاص اور سنت و توحید کی روشنی میں لے جاؤ۔ مگر یہ کام نہیں ہوسکتا جب تک کہ ہماری توفیق نہ ہو اور ہم کسی پر آسان نہ کریں۔ پھر فرمایا کہ خدا کی راہ پر چلو اور وہ خدا ایسا ہے کہ ہر شے پر غالب ہے اور زمین اور آسمانوں میں اس کی حمد و ثنا ہوتی ہے۔ وہ اللہ ایسا شہنشاہ بادشاہ احکم الحاکمین ہے کہ تمام آسمانوں اور زمین کے اختیارات رکھتا ہے اور کل موجودات آسمانی اور مخلوقات ارضی اس کے محکوم…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

روشن کتاب : (ف 1) یعنی قرآن حمید نورروشن کی دعوت ہے ، اجالے کی جانب بلاوا ہے ، ظلمت و تاریکی سے بیزاری ہے اس میں وہم وتخ میں کو داخل نہیں ، لا یعنی رسوم و خرافات کا وجود نہیں ، جو بات ہے علم ویقین کی جچی تلی ، حشو وزوائد کا شائبہ نہیں ۔ سراسر ضروریات وحقائق کا مرقع ہے ۔ حضور ﷺ کو ارشاد ہوتا ہے کہ آپ اس مستقل ہدایت کو ہاتھ میں لے کر سارے عرب میں اجالا کردیں ، لوگوں کو تعصب وجہالت کی تاریکیوں سے نکالیں ، اور علم وعرفان کی روشنی میں لائیں ، ان کو خرافات وظنون کی وادیوں سے نکالیں ، اور سلوک و احسان کے مرغزاروں میں لا بسائیں ، یہ نسخہ تاریکی جہالت اور تعصب دور کرنے کا مجرب نسخہ ہے ، دنیا کی تمام…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

1 ۔ الر قف یہ قرآن ایک کتاب ہے جس کو ہم نے آپکی جانب اس لئے نازل کیا ہے کہ اس قرآن کے ذریعے آپ تمام بنی نوع انسان کو ان کے پروردگار کے حکم سے تاریکیوں اور اندھیروں سے نکال کر روشنی اور اجالے کی طرف جو ایک زبردست ستودہ صاف کی راہ ہے لے آئیں۔ یعنی کفر کے اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لے آئیں اور وہ اجالا کیا ہے وہ زبردست اور ستودہ صفات کی راہ ہے اس راہ کی جانب لے آئو کہ اسی کا نام نور ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان کو وہ راستہ بتلا دیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حروف مقطعات کے بعد کتاب الٰہی کی سچی تعلیم کا بیان 1 ؎ حروف مقطعات قرآن کریم کی انتیس سورتوں کے شروع میں آئے ہیں اور ان سورتوں کے مضامین سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ ان سورتوں کے شروع میں دیئے گئے ہیں جن سورتوں کے مضامین میں انسانوں کیلئے تنبیہات بیان کی گئی ہیں۔ ان حروف کا مفصل بیان سورة البقرہ کی آیت ایک میں کردیا گیا ہے اس لئے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں۔ فر مایا اس کتاب مقدس قرآن کریم کی تنزیل کی غرض وغایت تمام تر یہ ہے کہ آپ ﷺ اس کے ذریعہ سے لوگوں کو جو اس وقت تک تاریکی میں پڑے ہوئے ہیں توحید و ہدایت کی روشنی میں لے آئیں۔ اس کا طریقہ کیا ہے ؟ فرمایا اس نکال لانے کا طریقہ تبلیغ دین ہے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The Surah and Its Subjects Beginning here is Surah Ibrahim, the fourteenth Surah of the Holy Qur'an. This Surah is Makki. It was revealed before Hijrah with the exception of some verses about which difference exists whether they are Makki or Madani. In the beginning of the Surah, there is a description of the attributes of the mission of messengers and prophets which is followed by the theme of Tauhid, the Oneness of Allah, and its proofs. It was in this connection that the story of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) was introduced and it was in this context that the Surah was named:…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

1. This is the purpose for which the Prophet (peace be upon him) had been sent. He was entrusted with the mission that he should bring mankind back from the ways of darkness and ways of wickedness into the way of God by the help of the light of the Quran. For everyone who is not on the way of God is, in fact, wandering about in the ways of the darkness and ignorance, even though he might consider himself to be very enlightened and full of knowledge. On the other hand, the one who finds the Way of Allah, comes into the light of knowledge, even though he might be an illiterate person. As…

Read the full tafseer →