14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsانوار البیان

Ayah 14:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

الر (یہ) ایک (پرنور) کتاب (ہے) اس کو ہم نے تم پر اس لئے نازل کیا ہے کہ لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لیجاؤ۔ (یعنی) انکے پروردگار کے حکم سے غالب اور قابل تعریف (خدا) کے راستے کی طرف۔

(14:1) الر۔ ملاحظہ ہو۔ الم ۔ 2:1 ۔ کتب۔ یعنی القران ۔ کتب خبر ہے۔ اس کا مبتدا ھذا محذوف ہے انزلنہ۔۔ اس کی صفت ہے۔ انزلنہ میں ہُ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع کتب ہے۔ کتب یہاں نکرہ ہے نکرہ کا استعمال بعض دفعہ رفع شان کے اظہار کے لئے بھی کیا جاتا ہے یعنی موصوف کی شان اس قدر مشہورو معروف ہے کہ اسے معرفہ لانے کی ضرورت نہیں۔ الناس۔ میں ال استغراق کا ہے جو کلیت چاہتا ہے۔ یعنی جمیع نسل انسانی۔ ظلمت الی النور۔ میں ظلمت کا صیغہ جمع اور نور کا صیغہ واحد اس بات کی دلیل ہیں کہ گمراہیاں اور اقسام کفر کثرت سے ہیں۔ جب کہ ہدایت کی راہ صرف ایک ہی راہ مستقیم ہے۔ الی صراط العزیز الحمید۔ بدل ہے النور کا۔ کیونکہ مقصود النور سے وہی راستہ ہے۔ عزیزو حمید کا جو سب پر غالب ہے۔
Ayahs 14:2–3

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

وہ خدا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور کافروں کے لیے عذاب سخت (کی وجہ) سے خرابی ہے۔

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں) خدا کے راستے سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے سرے کی گمراہی میں ہیں۔

(14:2) اللہ ۔۔ العزیز الحمید۔ کا عطف بیان ہے۔ کیونکہ یہ العزیز الحمید کی وضاحت کرتا ہے یعنی وہ العزیز الحمید۔ یعنی اللہ تعالیٰ اقدس ہے۔ ویل۔ اسم مرفوع۔ ہلاکت۔ عذاب۔ خرابی۔ بربادی۔ دوزخ کی ایک وادی۔ کلمہ ٔ زجرو وعید کلمہ حسرت و ندامت ہے۔ ویل من عذاب شدید۔ عذاب شدید سے خرابی۔ عذاب شدید کے باعث خرابی (یہ عذاب دنیوی بھی ہوسکتا ہے اور عذاب اخروی بھی) ۔ یستحبونمضارع جمع مذکر غائب۔ استحباب (استفعال) مصدر وہ محبوب رکھتے ہیں وہ پسند کرتے ہیں۔ وہ ترجیح دیتے ہیں یصدون۔ صد یصد صدا۔ لازم ومتعدی دونوں میں مستعمل ہے۔ وہ روکتے ہیں وہ باز رہتے ہیں۔ اعراض کرتے ہیں۔ آیۃ ہذا میں دونوں معنی مراد ہیں۔ یبغونھا۔ (وہ اسے چاہتے ہیں) میں ھا ضمیر کا مرجع سبیل اللہ ہے۔ عوجا۔ کج ۔ ٹیڑھا۔ العوج (نصر) کے معنی کسی چیز کا سیدھا کھڑا ہونے کی حالت سے ایک طرف جھک جانے کے ہیں۔ جیسے عجت البعیر بزمامہ میں نے اونٹ کو اس کی مہار کے ذریعہ ایک طرف موڑ دیا۔ العوج۔ اس ٹیڑھے پن کو کہتے ہیں جو آنکھ سے بسہولت دیکھا جاسکے جیسے لکڑی وغیرہ میں کجی۔ اور العوج (عین کے کسرے کے ساتھ) اس ٹیڑھے پن کو کہتے ہیں جو صرف عقل اور بصیرت سے دیکھا جاسکے۔ جیسے کہ معاشرہ میں دینی اور معاشی ناہمواریاں کہ عقل و بصیرت سے ہی ان کا ادراک ہوسکتا ہے۔ یا جیسے قرآن مجید میں ہے قرانا عربیا غیر ذی عوج (39:38) قرآن واضح جس میں کوئی کجی نہیں ہے یا جیسے کہ آیہ ہذا۔ ضلال بعید۔ موصوف وصفت۔ بُعد حقیقۃً ضالّ (گمراہ) کے لئے ہے مبالغہ کے لئے گمراہ کے فعل گمراہی (ضلال) کی صفت میں اسے استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی وہ گمراہی میں بہت دور جا چکے ہیں۔
Ayah 14:4

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انھیں (احکام خدا) کھول کھول کر بتادے۔ پھر خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔

(14:4) بلسان قومہ۔ اس کی قوم کی زبان کے ساتھ۔ یعنی جس کی زبان وہی ہو جو اس کی قوم کی زبان ہے۔ لسان کے لفظی معنی زبان کے ہیں اور مجازا کلام اور لغت کے لئے بھی بولتے ہیں۔ رجل لسن۔ وہ شخص جو اپنی بات وضاحت سے بیان کرسکے۔
Ayah 14:5

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دیکر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ۔ اور انکو خدا کے دن یاد دلاؤ۔ اور اس میں ان لوگوں کے لئے جو صابر و شاکر ہیں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں۔

(14:5) ان اخرج میں ان اے کے معنی میں ہے اس لئے کہ ارسلنا میں قلنا کے معنی بھی شامل ہیں۔ لقد ارسلنا موسیٰ بایتنا وقلنا لہ اخرج ۔۔ ذکرہم۔ امر واحد مذکر حاضر ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو ان کو یاد دلا۔ تو ان کو سمجھا۔ تو ان کو نصیحت کر۔ ایام اللہ۔ اللہ کے دن۔ یعنی اللہ کی وہ نصیحتیں جو مختلف قوموں کو عطا ہوئیں مثلاً حکومت اقتدار وغیرہ۔ یا وہ مصیبتیں جو قوموں کو ان کے اعمال کی پاداش میں یا ان کی آزمائش کے لئے ان پر نازل ہوئیں۔ مثلاً وباء قحط۔ محکومی غلامی وغیرہ۔ جو اپنی اہمیت کی وجہ سے جزو تاریخ بن چکی ہیں۔ تاریخ کے اہم واقعات۔ ایّام کی اضافت اللہ کی جانب ان واقعات کی اہمیت پر دلالت کرنے کے لئے ہے۔ ذلک ۔ کا اشارہ ایام اللہ کی طرف ہے۔ صبار۔ بڑا صبر کرنے والا۔ صبر سے (فعال ) کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ شکور۔ بڑا شکر گذار۔ بڑا احسان ماننے والا۔ بڑا قدردان۔ شکر سے فعول کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور مبالغہ کے اوزان میں سے ہے۔ مذکر اور مؤنث دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جب اس کا استعمال اللہ کے ساتھ آئے تو اس کے معنی قدردان کے آتے ہیں۔
Ayah 14:6

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا نے جو تم پر مہربانیاں کی ہیں ان کو یاد کرو جبکہ تم کو فرعون کی قوم (کے ہاتھ) سے مخلصی دی۔ وہ لوگ تمہیں بڑے عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے تھے اور عورت ذات یعنی تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی۔

(14:6) یسومونکم۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ تم کو تکلیف دیتے تھے۔ سام یسوم سوما۔ السوم کے معنی کسی چیز کی طلب میں جانے کے ہیں۔ پس اس کا مفہوم دواجزاء سے مرکب ہے یعنی طلب اور جانا۔ کبھی صرف جانا کے معنی میں آتا ہے جیسے سامت الابل۔ اونٹ چراگاہ میں چرنے کے لئے چلے گئے۔ یا سمت الابل فی المرعی۔ میں نے چراگاہ میں چرنے کے لئے اونٹ بھیجے۔ اور انہی معنوں میں قرآن پاک میں آیا ہے۔ منہ شجر فیہ تسیمون۔ (16:10) اور اس سے درخت بھی (شاداب) ہوتے ہیں جن میں تم اپنے چارپایوں کو چراتے ہو۔ اور کبھی صرف طلب کے معنی پائے جاتے ہیں۔ جیسے آیہ ہذا میں۔ یعنی تم کو تکلیف پہنچانے کی نت نئی راہوں کے طالب وکوشاں رہتے ہیں۔ اس مادّہ سے سیمۃ وسومۃ وسیما۔ بمعنی علامت ونشان ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ یعرف المجرمون بسیماہم۔ (55:40) مجرمین اپنی نشانیوں یا علامتوں سے پہچانے جائین گے اور الملئکۃ مسومین۔ (3:125) اپنے پر یا اپنے گھوڑوں پر نشان امتیاز بنانے والے۔ یسومونکم سوء العذاب۔ وہ تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے۔ تمہارے لئے سخت تکلیفیں تلاش کرتے تھے۔ تفسیر مظہری میں ہے سوء العذاب سے مراد قتل ِ اولاد نہیں ہے بلکہ بنی اسرائیل کو غلام بنانا اور سخت ترین کام لینا مراد ہے کیونکہ ویذبحون کا عطف مغائرت کو چاہتا ہے۔ یستحیون۔ مضارع جمع مذکر غائب استحیاء (استفعال) مصدر۔ وہ جیتا رہنے دیتے تھے۔ بلاء عظیم۔ بڑی بھاری آزمائش ۔ بہت بڑی آزمائش۔
Ayah 14:7

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے (تم کو) آگاہ کیا کہ اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دونگا اور اگر ناشکری کرو گے تو (یاد رکھو کے) میرا عذاب (بھی) سخت ہے۔

(14:7) تاذن۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب تفعل) (تاذن) اس نے سنا دیا۔ اس نے خبر کردی۔ اس نے اعلان کردیا۔ اس نے بتادیا۔ (ملاحظہ ہو 7:167) ۔
Ayah 14:8

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے (صاف صاف) کہہ دیا کہ اگر تم اور جتنے اور لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ناشکری کرو تو خدا بھی بےنیاز (اور) قابل تعریف ہے۔

(14:8) تکفروا۔ تم ناشکری کرو۔ مضارع مجزوم۔ جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تکفرون تھا۔
Ayah 14:9

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

بھلا تم کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے (یعنی) نوح (علیہ السلام) اور عاد وثمود کی قوم ؟ اور جو ان کے بعد تھے جن کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں (جب) ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دیے (کہ خاموش رہو) اور کہنے لگے کہ ہم تو تمہاری رسالت کو تسلیم نہیں کرتے۔ اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے قوی شک ہیں۔

(14:9) بنؤا۔ بنأ۔ خبر۔ اطلاع۔ قوم نوح۔ یہ والذین من قبلکم کا بدل یا عطف بیان ہے۔ ان لوگوں ان قوموں کی خبر جو تم سے قبل گذر چکی ہیں۔ یعنی قوم نوح ۔۔ اسی طرح عاد کا عطف قوم نوح پر ہے اور ثمود اور والذین من بعدہم کا عطف بھی قوم نوح پر ہے اور لا یعلہم الا اللہ جملہ معترضہ ہے (کیا تم کو اپنے سے پہلے قوموں کی خبر نہیں ملی یعنی نوح (علیہ السلام) کی قوم۔ عاد اور ثمود کی قوم اور وہ قومیں جو ان کے بعد آئیں جن کے صحیح حالات اور تعداد کا علم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا) ۔ فردوا ایدیہم فی افواہہم۔ رد یرد۔ (باب نصر) سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ انہوں نے لوٹا دیا۔ انہوں نے الٹا دیا۔ انہوں نے پھیر دیا۔ جیسے ردوھا علی ۔ (38:23) ان گھوڑوں کو میرے پاس لوٹا لائو۔ اس جملہ کے مندرجہ ذیل مختلف معانی مفسرین نے لکھے ہیں۔ (1) غصہ سے اپنی پشت ِ دست کاٹنے لگے۔ یہ عضوا علیکم الانامل من الغیظ (3:119) وہ تم پر (شدتِ ) غیظ سے انگلیاں کاٹ کاٹ کر کھاتے ہیں۔ سے ملتا جلتا محاورہ ہے۔ (2) وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھنے لگے۔ خاموش رہنے کے لئے یا تعجب کے اظہار کے لئے یا استہزاء کے طور پر۔ (3) اگر افواہہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع انبیاء کو قرار دیا جائے تو ترجمہ ہوگا۔ انہوں نے اپنے ہاتھ انبیاء کے منہ پر رکھ دئیے ان کو خاموش کرنے کے لئے گستاخانہ انداز میں۔ (4) وہ ان کی (انبیاء کی) تکذیب کرتے تھے۔ چناچہ کہتے ہیں۔ رددت قول فلان فی فیہ۔ ای کذبتہ۔ میں نے فلاں کی بات قبول نہ کی۔ فلاں کی بات کو جھٹلادیا۔ کفرنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے انکار کیا۔ ہم منکر ہوئے۔ مریب۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ ارابۃ (باب افعال) متردّد بنا دینے والا۔ بےچین کردینے والا تردّد میں ڈالنے والا۔ یہ شک کے بعد مریب کا اضافہ تاکید مزید کے لئے ہے۔ یعنی شک ایسا نہیں جو نکل جائے بلکہ شبہات اور زیادہ بڑھتے جاتے ہیں۔
Ayah 14:10

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان کے پیغمبروں نے کہا کیا (تم کو) خدا (کے بارے) میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنیوالا ہے ؟ اور تمہیں اس لئے بلاتا ہے کہ تمہارے گناہ بخشے اور (فائدہ پہنچانے کیلئے) ایک مدت مقرر تک تم کو مہلت دے۔ وہ بولے تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تمہارا منشاء ہے کہ جن چیزوں کو ہمارے بڑے پوچتے ہیں ان (کے پوجنے) سے ہم کو بند کردو تو (اچھا) کوئی دلیل لاؤ (یعنی معجزہ دکھاؤ)

(14:10) افی اللہ شک۔ ایء انتم فی شک مریب من اللہ تعالی۔ تو کیا تم اللہ تعالیٰ کے بارہ میں شک کرتے ہو۔ (منکرین نے کہا تھا کہ ( انا کفرنا بما ارسلتم بہ وانا لفی شک مما تدعوننا الیہ مریب۔ جو حکم تم کو دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس سے منکر ہیں اور جس امر کی طرف تم ہمیں دعوت دے رہے ہو اس کی صداقت کے متعلق ہم سخت تذبذب وشک میں ہیں۔ اس کے جواب میں ان کے نبیوں نے کہا کہ :۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کے بارہ میں شک کرتے ہو ! کیونکہ یہ پیغام ہمارا نہیں اس ذات تعالیٰ کی جانب سے ہے اور اس میں شک کرنا اس ذات کے متعلق شک کرنے کے مترادف ہے۔ یہ پیغام برحق ہے اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ تمہیں بلارہا ہے کہ اس کے مطابق تم عمل کرو تو وہ تمہارے گناہ بخش دے۔ فاطر السموت والارض۔ فاطر۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ فطر مصدر (باب نصر وضرب) عدم کو پھاڑ کر وجود میں لانے والا۔ نیست سے ہست کرنے والا۔ یا تو بدل ہے اللہ کا ۔ یا اس کی صفت ہے۔ یعنی وہ اللہ جو فاطر السموت والارض ہے۔ یؤخرکم۔ مضارع منصوب واحد مذکر غائب۔ تاخیر (تفعیل) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو مہلت دے۔ ان انتم میں ان نافیہ ہے۔ استثناء سے قبل جو ان اور ما آئے وہ نافیہ ہوتا ہے۔ سلطان مبین۔ موصوف صفت۔ روشن دلیل۔ بین ثبوت۔ واضح برہان۔ معجزہ۔
Ayah 14:11

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

پیغمبروں نے ان سے کہا کہ ہاں ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے (نبوت کا) احسان کرتا ہے۔ اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم خدا کے حکم کے بغیر تم کو (تمہاری فرمائش کے مطابق) معجزہ دکھائیں۔ اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے۔

(14:11) یمن۔ مضارع واحد مذکر غائب من۔ مصدر (باب نصر) وہ احسان کرتا ہے۔
Ayah 14:12

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

ہم کیونکر خدا پر بھروسا نہ رکھیں حالانکہ اس نے ہم کو ہمارے (دین کے سیدھے) راستے بتائے ہیں جو تکلیفیں تم ہم کو دیتے ہو اس پر صبر کریں گے۔ اور اہل توکل کو خدا ہی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔

(14:12) سبلنا۔ مضاف ۔ مضاف الیہ۔ ہمارے راستے ۔ ہماری راہیں۔ سبیل کی جمع۔ ھدانا۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ہدایۃ سے ۔ ہدانا سبلنا۔ اس نے ہم کو حق کے راستے بتا دئیے۔ لنصبرت۔ مضارع جمع متکلم لام تاکید ونون ثقیلہ ۔ ہم ضرور ہی صبر کریں گے۔ اذیتمونا۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ تم نے ہم کو ایذا دی۔
Ayah 14:13

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور جو کافر تھے انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ (یا تو) ہم تم کو اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے یا (ہمارے) مذہب میں داخل ہوجاؤ۔ تو پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کر دینگے

(14:13) لتعودن۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ بالام تاکیدونون ثقیلہ ۔ تم کو ضرور بالضرور لوٹ آنا ہوگا (ہمارے مذہب میں) عود (باب نصر) سے جس کے معنی کسی شے سے پلٹنے کے بعد (خواہ پلٹنا بذات خود ہو یا بذریعہ قول یا بذریعہ عزم و ارادہ ) اس کی طرف پھرنے اور لوٹنے کے ہیں۔ اوحی۔ ماضی واحد مذکر غائب اس نے وحی بھیجی۔ اس نے حکم دیا۔ اس نے اشارہ دیا۔ ایحاء (افعال) سے۔ لنھلکن الظالمین۔ لنھلکن۔ مضارع جمع متکلم۔ بالام تاکیدونون ثقیلہ ۔ ہم ضرور تباہ کردیں گے ہلاک کردیں گے۔
Ayah 14:14

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور ان کے بعد تم کو اس زمین میں آباد کریں گے۔ یہ اس شخص کے لئے ہے جو (قیامت کے روز) میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے۔ اور میرے عذاب سے خوف کرے

(14:14) لنسکننکم۔ مضارع جمع متکلم۔ بالام تاکید ونون ثقیلہ تاکید۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اسکان مصدر باب افعال ۔ ہم تم کو یقینا آباد کردیں گے۔ یا ۔ آباد رکھیں گے۔ وعید۔ اصل میں وعیدی تھا۔ میرا وعدۂ عذاب۔ میری طرف سے ڈراوا۔
Ayah 14:15

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور پیغمبروں نے (خدا سے اپنی) فتح چاہی تو سرکش ضدی نامراد رہ گیا۔

(14:15) استفتحوا۔ ماضی جمع مذکر غائب انہوں نے فیصلہ مانگا۔ انہوں نے فتح چاہی ۔ استفتاح (استفعال) سے جس کے معنی غلبہ یا فیصلہ طلب کرنے کے ہیں۔ فتح کے معنی غلبہ کی مثال نصر من اللہ وفتح قریب۔ (61:13) (تمہیں) خدا کی طرف سے مدد (نصیب ہوگی) اور فتح عنقریب (ہوگی) اور کی مثال قل یوم الفتح لا ینفع الذین کفروا ایمانہم (33:29) کہہ دیجئے (اے محمد ﷺ ) کہ فیصلہ کے روز (یعنی روز قیامت ) کافروں کو ان کا ایمان لانا ذرا بھی نفع نہ دے گا۔ یا۔ ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق (7:89) اے ہمارے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمادے۔ استفتحوا کا فاعل کون ہے۔ ضمیر کا مرجع انبیاء بھی ہوسکتے ہیں اور کفار بھی۔ پہلی صورت میں انبیاء نے کفار سے مایوس ہوکر فتح کی دعا کی۔ اور اللہ نے کفار کو نامراد کردیا۔ دوسری صورت میں کفار نے دعا مانگی کہ اگر یہ انبیاء سچے ہیں تو پر عذاب نازل کر۔ چناچہ عذاب آیا جس نے ہر سرکش کو نامراد کر دیا خاب ۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ خیبۃ سے (باب ضرب) وہ نامراد ہوا۔ وہ خراب ہوا۔ اس کا مطلب فوت ہوا۔ الخیبۃ کے معنی ناکام ہونے اور مقصد فوت ہوجانے کے ہیں۔ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے وقد خاب من افتری۔ (20:61) اور جس نے افتراء کیا نامراد ہو ہوگیا۔ یا فینقلبوا خائبین۔ (3:127) کہ وہ ناکام ہوکر واپس جائیں۔ جبار۔ زبردست دبائو والا۔ زور کرنے والا۔ سرکش۔ مجبور کرنے والا۔ خود اختیار ۔ جبر۔ سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ الجبر۔ کے اصل معنی زبردستی اور دبائو سے کسی چیز کی اصلاح کرنے کے ہیں۔ اس صورت میں یہ ذات باری تعالیٰ کے لئے وصف مدح ہے۔ لیکن اگر کوئی انسان ناجائز تعلق سے اپنے نقص کو چھپانے کی کوشش کرے یا کسی غیر حق بات کو زبردستی منوائے یا کروائے تو ایک مذموم صفت ہے اور اسی معنی میں آیہ ہذا میں اس کا استعمال ہوا ہے۔ یعنی زبردستی کرنے والا سرکش۔ عنید۔ عناد رکھنے والا۔ مخالف۔ ضدّی۔ جان بوجھ کر حق کی مخالفت کرنے والا۔ بروزن فعیل بمعنی فاعلصفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اس کی جمع عند ہے (عند (باب نصر وضرب) وعند (باب سمع) عند (باب کرم) حق کی مخالفت کرنا۔
Ayah 14:16

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔

(14:16) من ورائہ جہنم۔ وراء لگات اضداد میں سے ہے اس کے معنی جس طرح ” پیچھے “ کے ہیں ” آگے “ کے بھی آتے ہیں۔ یہاں بمعنی من بین یدیہ (اس کے آگے ہے) یعی ان کی اس دنیاوی نامرادی و ناکامی کے آگے آخرت میں جہنم ہوگا۔ صدید۔ پیپ۔ کچ لہو۔ جو اہل دوزخ کے جسموں میں سے بہیگی۔ یہ ماء کا عطف بیان ہے۔
Ayah 14:17

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پئے گا اور گلے سے نہیں اتار سکے گا اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا۔ اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا۔

(14:17) یتجرعہ۔ مضارع واحد مذکر غائب ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع ماء صدید ہے۔ تجرع مصدر ( باب تفعل) وہ اس پانی کو گھونٹ گھونٹ کر پئے گا۔ باب تفعّل کی خصوصیات میں تکلف ہے۔ یعنی پیاس کی شدت کے باعث وہ پینے پر مجبور بھی ہوگا لیکن اس بدبودار کھولتی ہوئی پیپ کو پئے تو کیونکر۔ حلق سے اترے تو کیسے۔ ایک آدھ گھونٹ اور وہ بھی بڑی مشکل سے۔ جرع مصدر ۔ (باب نصروسمع) جرعۃ گھونٹ۔ لا یکاد یسیغہ۔ یکاد۔ مضارع واحد مذکر غائب کود مصدر ۔ قریب ہے۔ لا یکاد قریب نہ تھا۔ کاد یکاد اگرچہ افعال تامہ ہیں۔ لیکن استعمال میں ان کے بعد کوئی دوسرا فعل ضرور ہوتا ہے جس کے واقع ہونے کے قرب کو کاد سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ یسیغہ۔ مضارع واحد مذکر غائب اساغۃ مصدر باب افعال ہُ ضمیر مفعول اس کا مرجع ماء صدید ہے۔ ساغ یسیغ (ضرب) سیغ سوغ مادہ۔ کے معنی ہیں شراب کا آسانی کے ساتھ حلق میں اتر جانا۔ باب افعال سے اساغ یسیغ کے معنی حلق سے نیچے اتارنے کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے سائغا للشربین (16:66) پینے والوں کے لئے خوشگوار ہے۔ لا یکاد یسغہ۔ وہ اس کو (آسانی کے ساتھ حلق سے نیچے نہیں اتار سکے گا۔ من کل مکان۔ ای من جمیع الجھات۔ تمام اطراف سے، ہر سمت سے۔ میت۔ اسم صفت مجرور۔ مرنے والا۔ مردہ۔ وماھو بمیت اور (بایں ہمہ) وہ مرے گا نہیں۔ غلیظ غلظۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ سخت۔ شدید۔ اس کی جمع غلاظ ہے۔
Ayahs 14:18–20

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا انکے اعمال کی مثال راکھ کی سی ہے کہ آندھی کے دن اس پر زور کی ہوا چلے (اور) اسے اڑا لے جائے (اسی طرح) جو کام وہ کرتے رہے ان پر ان کو کچھ دسترس نہ ہوگی یہی تو پرلے سرے کی گمراہی ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے ؟ اگر وہ چاہے تو تم کو نابود کر دے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق پیدا کردے۔

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اور یہ خدا کو کچھ بھی مشکل نہیں۔

(14:18) کرماد۔ ک تشبیہ کے لئے رماد ۔ راکھ۔ خاکستر۔ اسم ہے اس کی جمع ارمدۃ۔ اشتدت بہ الریح۔ اشتدت۔ ماضی۔ واحد مؤنث غائب۔ وہ سخت ہوگئی۔ اشتداد (افتعال) سے مصدر۔ اشتدت بہ الریح۔ جس کو ہوا تیزی سے اڑا لے گئی۔ عاصف۔ تیزو تند ہوا۔ سخت جھونکا۔ عصف جس کے معنی تیزوتند ہوا چلنے اور آندھی آنے کے ہیں۔ المفردات میں ہے ریح عاصف تند ہوا جو ہر چیز کو توڑ کر بھس کی طرح بنا دے۔ عصف کے معنی بھس ہیں جیسے کعصف ما کول۔ (105:5) جیسے کھایا ہوا بھس ہو۔ یوم عاصف آندھی کا دن۔ عاصف بمعنی معصوف ہے۔ عاصف کی جمع عواصف ہے۔ لا یقدرون مما کسبوا علی شیئ۔ ای لا یقدرون علی شیء مما کسبوا۔ یعنی جو کچھ انہوں نے کمایا تھا اس میں سے انہیں کچھ حاصل نہ ہوگا۔ ذلک ۔ یعنی ضیاع اعمال۔ ضلال۔ گمراہی۔ بھٹکنا۔ راہ سے دور جاپڑنا۔ کھو جانا۔ ضائع ہوجانا۔ گم ہوجانا۔ ہلاک ہوجانا۔ سیدھی راہ سے ہٹ جانا۔ مغلوب ہوجانا۔ یہاں ضلال بعید سے مراد راہ حق سے بعد کا ثواب سے مرومی ہے۔ یعنی ان کے اعمال نیک تو ضائع ہوگئے اور وہ ثواب سے محروم رہے اور اعمال سوء کا عذاب بدستور رہا۔ گو یا نیکی برباد گناہ لازم کے مصداق ہوئے۔
Ayah 14:21

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف العقل متبع اپنے (رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو ؟ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا صبر کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لئے نہیں ہے۔

(14:21) برزوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ باب نصر بروز سے۔ وہ کھلم کھلا سامنے ہوئے۔ یا سامنے آنا۔ یہاں ماضی بمعنی مضارع مستقبل مستعمل ہے۔ وہ کھلم کھلا (اللہ کے ) سامنے آئینگے۔ (روز قیامت) قرآن مجید میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ برزوا کے لئے ملاحظہ ہو 3:154 ۔ ضمیر فاعل جمع مذکر غائب کا مرجع جملہ مخلوق ہے۔ الضعفؤا۔ اور الضعفاء میں محض رسم الخط کا فرق ہے۔ الضعفاء سے مراد وہ ضعیف الرائے لوگ ہیں جو دوسروں کی رائے کا اتباع کرتے ہیں۔ اور اسی طرح الذین الستکبروا سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے ضعفاء کو اپنا مطیع اور متبع بنایا تھا۔ اور جنہوں نے ضعفاء کو گمراہ کیا اور اپنے نبیوں کی نصیحت کو سن کر اس کا اتباع کرنے سے روکے رکھا۔ مغنون عنا۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اصل میں مغنیون تھا۔ اغنی یغنی سے اسم فاعل واحد مغنی۔ اغنی عن ۔ دور کرنا۔ ھذا ما یغنی عنک شیئا۔ یہ تجھے کوئی فائدہ نہ دے گا۔ فھل انتم مغنون عنا من عذاب اللہ من شیئ۔ کیا تم ہٹا سکنے والے ہو۔ ( یعنی کیا تم ہٹا سکتے ہو) ہم سے اللہ کے عذاب میں سے کوئی حصہ یعنی اس میں سے ہمارے حق میں کمی کرا سکتے ہو۔ تبعا۔ تابع ۔ پیروی کرنے والے۔ تابع کی جمع ہے۔ جیسے صاحب کی جمع صحب ہے انا کنا لکم تبعا۔ ہم تمہارے تابع تھے۔ تمہارے پیروکار تھے۔ اجزعنا۔ اَ ۔ ہمزہ استخبار ہے (کسی چیز کے متعلق کوئی خبر دریافت کرنا) اور دوچیزوں کے درمیان برابری ثابت کرنے کے لئے آیا ہے۔ بمعنی خواہ ۔ جیسے سواء علیہمء آنذرتہم ام لم تنذرہم (2:6) یکساں ہے ان کے حق میں خواہ آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں۔ جزع یجزع (سمع) بےصبری کرنا۔ جزعنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم بےصبری کریں۔ بےقراری کریں۔ مضطرب ہوں۔ اجزعنا امصبرنا۔ (برابر ہے ہمارے لئے) خواہ ہم بےقراری کریں یا صبر سے کام لیں۔ محیص۔ ظرفِ مکان۔ مجرور۔ پناہ گاہ۔ لوٹنے کی جگہ۔ حیص سے۔ اسی سے ہے۔ حاص عن الحق۔ یعنی وہ حق سے اعراض کر کے سختی اور مصیبت کی طرف لوٹ گیا۔ محیص۔ مغیب کے وزن پر مصدر میمی بھی ہوسکتا ہے۔
Ayah 14:22

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

جب (حساب کتاب کا) کام فیصل ہوچکے گا تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی طرف) بلایا تو تم نے (جلدی سے اور بےدلیل) میرا کہنا مان لیا۔ (آج) مجھے ملامت نہ کرو اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے۔ بیشک جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے۔

(14:22) لما قضی الامر۔ جب معاملہ طے ہوچکے گا۔ یعنی جب (سب کی قسمت کا فیصلہ ہوچکے گا) ۔ فاخلفتکم۔ ماضی واحد متکلم۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ میں نے تم سے وعدہ خلافی کی اخلاف (افعال) مصدر۔ لا تلومونی۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ نون وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ اصل میں تلوموننی تھا۔ نون اعرابی ساقط ہوگیا۔ تم مجھے ملامت نہ کرو۔ تم مجھے الزام مت دو ۔ لوم سے باب نصر۔ لوموا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ تم ملامت کرو۔ مصرخکم۔ اسم فاعل مضاف۔ کم ۔ ضمیر جمع مذکر حاضر۔ مضاف الیہ ۔ صرخ یصرخ باب نصر۔ چیخنا۔ فریاد کرنا۔ (فعل لازم) ۔ صرخ القوم۔ (فعل متعدی) بمعنی فریاد رسی کرنا۔ مدد کرنا۔ مصرخ فریاد رسی کرنے والا۔ مددگار ۔ ما انا بمصرخکم۔ میں تمہارا فریاد رس نہیں ہوسکتا۔ یعنی میں تمہاری فریاد رسی نہیں کرسکتا۔ میں تمہاری مدد نہیں کرسکتا۔ کفرت۔ میں انکار کرتا ہوں۔ اشرکتمون۔ تم نے مجھے شریک بنایا۔ اس میں نون وقایہ ہے ی ضمیر واحد متکلم محذوف ہے۔ اشرکتم۔ تم نے شریک بنایا۔ تم نے شرک کیا۔ من قبل۔ ای فی الدنیا۔ اس سے قبل یعنی دنیا میں۔ الیم۔ دردناک۔ دکھ دینے والا۔ فعیل بمعنی فاعل۔
Ayah 14:23

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کئے وہ بہشتوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ وہاں انکی صاحب سلامت سلام ہوگا۔

(14:23) تحیتہم۔ ان کی دعائے ملاقات۔ ان کی دعائے خیر۔ تحیۃ مضاف ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ تحیۃ اصل میں اسم مصدر ہے۔ یہ لفظ بقائے دوام درازی عمر اور ثانوی اعتبار سے خیرو برکت اور استحکام کی دعا کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ تحیتہم فیھا سلام کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو سلامتی کی دعا سے خوش آمدید کہیں گے۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ فرشتے ان کو سلامتی کی دعا سے خوش آمدید کہیں گے۔
Ayah 14:24

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے (اور ایسی ہے) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں۔

(14:24) ضرب اللہ مثلا کلمۃ طیبۃ کشجرۃ طیبۃ۔ کلمہ طیبہ سے مراد ایمان و توحید ہے۔ اس فقرہ کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) کلمۃ طیبۃ کشجرۃ طیبۃ۔ یہ قولہ تعالیٰ ضرب اللہ مثلا کی تفسیر ہے۔ (2) مثلا وکلمۃ طیبۃ بوجہ ضرب کے مفعول ہونے کے منصوب ہیں اور کلام یوں ہے۔ ضرب اللہ کلمۃ طیبۃ مثلا۔ بمعنی جعلھا مثلا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کلمہ طیبہ کو مثال کے طور پر بیان فرماتا ہے۔ کلمۃ طیبۃ بوجہ موصوف وصفت ہونے کے ہم اعراب ہیں۔ (3) اللہ تعالیٰ کلمہ طیبہ کے لئے مثال بیان فرماتا ہے ای ضرب اللہ لکلمۃ طیبۃ مثلا۔ (4) کلمۃ طیبۃ۔ کا نصب بوجہ مثلا کے بدل ہونے کے ہے۔ (5) کشجرۃ طیبۃ کا جر بوجہ ک حرف تشبیہ کے ہے۔ اور شجرۃ طیبۃ یہ کلمہ کی دوسری صفت ہے۔ (6) کشجرۃ طیبۃ خبر ہے اور اس کا مبتداء محذوف ہے۔ یعنی کلام یوں ہےھی کشجرۃ طیبۃ۔ اصلھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی جڑ۔ جمع اصول۔ ثابت۔ استوار۔ محکم ۔ مضبوط۔ ثبات اور ثبوت سے اسم فاعل ۔ واحد مذکر۔ فرعہا۔ مضاف۔ مضاف الیہ۔ اس کی شاخ۔ جمع فروع۔
Ayah 14:25

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا (اور میوے دیتا) ہو اور خدا لوگوں کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

(14:25) تؤ تی۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ ضمیر فاعل شجرۃ کی طرف راجع ہے۔ وہ دیتی ہے ۔ وہ لاتی ہے۔ یعنی وہ درخت دیتا ہے یا لاتا ہے۔ اکلھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ اکل ۔ میوہ۔ پھل۔ خوراک۔ اکل یا کل سے اکل واکل۔ جو چیز کھائی جائے۔ اسے اکل کہتے ہیں۔ اکلھا۔ اس درخت کا پھل۔ یتذکرون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ وہ خوب سمجھ لیں۔ وہ نصیحت پکڑیں۔ تذکر تفعل مصدر۔
Ayah 14:26

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے (نہ جڑ مستحکم نہ شاخیں بلند) زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے اسکو ذرا بھی قرار (وثبات) نہیں۔

(14:26) کلمۃ خبیثۃ ۔ اس سے مراد کفروشرک ہے۔ اجتثت۔ ماضی مجہول واحد مؤنث غائب۔ اجتثاث (افتعال) وہ جڑ سے اکھاڑ لی گئی۔ اس کو جڑ سے اکھاڑ لیا گیا۔
Ayah 14:27

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

خدا مومنوں (کے دلوں) کو (صحیح اور) پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی (رکھے گا) اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کردیتا ہے۔ اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

(14:27) یثبت اللہ ۔۔ بالقول الثابت۔ ثبات بخشتا ہے اللہ تعالیٰ اس قول ثابت (کلمہ طیبہ) کی برکت سے۔
Ayah 14:28

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کے احسان کو ناشکری سے بدل دیا۔ اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا ؟

(14:28) بدلوا نعمت اللہ کفرا۔ ای بدلوا شکر نعمت اللہ کفرا۔ انہوں نے اللہ کی نعمت کا حق ِ شکر کفرانِ نعمت سے بدل ڈالا۔ احلوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ احلال سے۔ انہوں نے لا اتارا۔ اصل میں حل کے معنی گرہ کشائی کے ہیں۔ اور حللت کے معنی کسی جگہ پر اترنے کے ہیں۔ اور فروکش ہونا کے بھی آتے ہیں۔ اصل میں یہ ہے۔ حل الاحمال عند النزول سے۔ جس کے معنی کسی جگہ اترنے کے لئے سامان کی رسیوں کی گرہیں کھول دینا کے ہیں۔ پھر محض اترنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ لہٰذا حل (باب نصر) حلول کے معنی کسی جگہ اترنا کے ہیں۔ اسی سے ہے محلۃ اترنے کی جگہ۔ حل (باب ضرب) سے کسی چیز کا حلال ہونا (حرام کی ضد) کے ہیں۔ دار البوار۔ تباہی و بربادی کا گھر۔ البوار۔ بار یبور بورا وبوارا۔ (باب نصر) کے معنی کسی چیز کے بہت مندا پڑنے کے ہیں۔ اور چونکہ کسی چیز کی کساد بازاری اس کے فساد کا باعث ہوتی ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کسد حتی فسد اس لئے بوار۔ بمعنی ہلاکت استعمال ہونے لگا۔ احلوا قومہم دار البوار۔ انہوں نے اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں (یعنی دوزخ میں اپنی ناشکری کی وجہ سے) لا اتارا۔
Ayah 14:29

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

(وہ گھر) دوزخ ہے۔ (سب ناشکرے) اس میں داخل ہونگے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

14:29 ۔ جہنم۔ دار البوار۔ کا عطف بیان ہے دار البوار کی وضاحت کے لئے آیا ہے۔ یصلونھا۔ مضارع جمع مذکر غائب صلی سے (باب سمع) وہ اس میں داخل ہوں گے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جہنم کے لئے ہے۔
Ayah 14:30

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کئے کہ (لوگوں کو) اسکے راستے سے گمراہ کریں۔ کہہ دو کہ (چند روز) فائدے اٹھالو آخر تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

(14:30) اندادا۔ مقابل ۔ برابر۔ ند کی جمع۔ ند اس کو کہتے ہیں جو کسی کی ذات اور جوہر۔ یضلوا۔ ای یضلوا الناس۔ لوگوں کو گمراہ کریں۔ بھٹکائیں۔ سبیلہ۔ میں ہٖ ضمیر واحدمذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ تمتعوا۔ امر۔ جمع مذکر حاضر (باب تفعل) تمتع سے تم فائدہ اٹھالو۔ تم برت لو۔ قرآن مجید میں دنیاوی سازوسامان کے متعلق جہاں کہیں بھی تمتعوا آیا ہے تو اس سے تہدید (ڈرانا دھمکانا) مراد ہے۔ مصیرکم۔ مصیر۔ اسم ظرف مکان۔ مضاف کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ مضاف الیہ تمہارے لوٹنے کی جگہ۔ صار یصیر۔ (ضرب) سے مراد ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہونا ہے۔ اسی لئے مصیر اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی چیز نقل و حرکت کے بعد پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے۔
Ayah 14:31

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ نماز پڑھا کریں اور اس دن کے آنے سے پیشتر جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہوگا اور نہ دوستی (کام آئے گی) ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے درپردہ اور ظاہر خرچ کرتے رہیں۔

(14:31) یقیموا۔ مضارع منصوب اقامۃ سے صیغہ جمع مذکر غائب وہ ٹھیک ٹھیک ادا کریں۔ پابندی سے ادا کریں۔ خلال۔ دوستی۔ باب مفاعلۃ سے مخالۃ مصدر نیز خلۃ کی جمع بھی ہوسکتی ہے۔ جس کے معنی دوستی کے ہیں۔ خلیل دوست۔ گہرا دوست۔
Ayahs 14:32–33

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے مینہ برسایا۔ پھر اس سے تمہارے کھانے کے لئے پھل پیدا کئے۔ اور کشتیوں ( اور جہازوں) کو تمہارے زیر فرمان کیا تاکہ دریا (اور سمندر) میں اسکے حکم سے چلیں۔ اور نہروں کو بھی تمہارے زیرفرمان کیا۔

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور سورج اور چاند کو تمہارے لئے کام میں لگا دیا کہ دونوں (دن رات) ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ اور رات اور دن کو بھی تمہاری خاطر کام میں لگا دیا۔

(14:33) دائبین۔ پھرنے والے۔ ایک دستور پر چلنے والے۔ اسم فاعل تثنیہ مذکر۔ الداب کے معنی مسلسل چلنے کے ہیں۔ جیسے دأب فی السیر دأبا۔ وہ مسلسل چلا۔ نیز دأب کا لفظ عادت مستمرّہ پر بھی بولا جاتا ہے جیسے قرآن مجید میں ہے کداب ال فرعون (3:11) ان کا حال بھی فرعونیوں کا سا ہے یعنی ان کی سی عادت جس پر وہ ہمیشہ چلتے رہے ہیں۔ سخرلکم الشمس والقمر دائبین۔ اس نے سورج اور چاند کو تمہارے کام میں لگا دیا کہ وہ دونوں (دن رات) ایک دستور پر چل رہے ہیں۔
Ayah 14:34

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں سے تم کو عنایت کیا۔ اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو۔ (مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہے۔

(14:34) اتکم۔ اس نے تم کو دیا۔ اتی یؤتی ایتاء (باب افعال) سے صیغہ واحد مذکر غائب ماضی معروف۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ تعدوا۔ عد یعد (باب نصر) سے مضارع مذکر حاضر۔ نون اعرابی ان شرطیہ کے آنے سے گرگیا۔ اگر تم گننے لگو۔ اگر تم شمار کرنے لگو۔ عدد مادّہ۔ لا تحصوھا۔ مضارع منفی مجزوم۔ جمع مذکر حاضر۔ نون اعرابی بوجہ لاحذف ہوگیا ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ تم اس کو شمار نہ کرسکو گے۔ یعنی تم اللہ کی نعمتوں کو شمار نہیں کرسکو گے۔ احصی یحصی احصائ۔ (افعال) سے مصدر۔ گننا۔ شمار کرنا۔ اصل میں یہ لفظ حصی سے مشتق ہے۔ جس کا معنی کنکریاں ہے۔ اور اس سے گننا کا معنی اس لئے لیا گیا ہے کہ عرب لوگ گنتی میں کنکریاں استعمال کرتے تھے۔ جس طرح ہم انگلیوں پر گنتے ہیں۔ ظلوم۔ نہایت ظلم کرنے والا۔ بڑا بےانصاف۔ نہایت ستمگار۔ ظلم سے بروزن فعول مبالغہ کا صیغہ ہے۔ کفار۔ صیغہ مبالغہ۔ زبردست کافر۔ بہت بڑا ناشکرا۔
Ayah 14:35

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ میرے پروردگار اس شہر کو (لوگوں کے لئے) امن کی جگہ بنا دے اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ بتوں کی پرستش کرنے لگیں بچائے رکھ۔

(14:35) ھذا البلد۔ البلد الحرام۔ مکہ معظمہ۔ امنا۔ امن والا۔ پر امن۔ امن سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ امن یامن (باب سمع) سے۔ اجنبنی۔ تو مجھ کو دور رکھ۔ تو مجھ کو بچا۔ جنب سے باب نصر جس کے معنی دور رکھنے اور بچانے کے ہیں۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ بنی۔ میرے بیٹوں کو۔ اصل میں بنینی تھا۔ نون جمع ی متکلم کی طرف اضافت سے گرگیا۔ اور جمع کی ی اور متکلم کی ی مدغم ہوئیں۔ ان بمعنی کہ۔
Ayah 14:36

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

اے پروردگار انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سو جس شخص نے میرا کہا مانا وہ میرا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو تو بخشنے والا مہربان ہے۔

(14:36) انہن۔ ان حرف مشبہ بالفعل ھن ۔ ضمیر جمع مؤنث غائب بیشک ان (بتوں) نے۔ رب۔ یا رب۔ اے میرے پروردگار۔ اضللن۔ اضلال (افعال) سے۔ ان مورتیوں نے گمراہ کیا۔ بہکایا۔ یہاں مراد بتوں سے ہے یعنی ان بتوں نے گمراہ کیا۔ من عصانی۔ جس نے میری نافرمانی کی۔ عصی سے ماضی واحد مذکر غائب۔ نون وقایہ ی ضمیر متکلم کی۔
Ayah 14:37

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

اے پروردگار ! میں نے اپنی اولاد میدان (مکّہ) میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت (وادب) والے گھر کے پاس لا بسائی ہے۔ اے پروردگار تاکہ یہ نماز پڑھیں۔ تو لوگوں کے دلوں کے ایسا کردیں کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میووں سے روزی دے تاکہ (تیرا) شکر کریں۔

(14:37) اسکنت۔ اسکان (افعال) سے ماضی واحد متکلم۔ میں نے بسایا۔ سکن مادہ۔ ذریتی۔ میری اولاد۔ ذریۃ مضاف۔ ی ضمیر واحد متکلم۔ مضاف الیہ۔ غیر ذی زرع۔ جس میں کوئی زراعت نہیں۔ جہاں کوئی کھیتی باڑی نہیں۔ لیقیموا الصلوۃ۔ اس لئے کہ وہ نماز کی پابندی کریں۔ افئدۃ۔ فواد کی جمع بمعنی دل۔ افئدۃ من الناس۔ ای افئدۃ من افئدۃ الناس۔ لوگوں کے دلوں میں سے کچھ دل یعنی کچھ لوگ۔ من تبعیض کے لئے ہے۔ تھوی الیہم۔ میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب ذریتی کی طرف راجع ہے۔ ھوی یھوی (باب ضرب) ھوی سے تھوی مضارع واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔ بمعنی وہ گرتی ہے وہ گرے گی۔ وہ پھینک دیتی ہے وہ پھینک دے گی۔ ھوی کے معنی سرعت سے اوپر سے نیچے گرنے اور جلدی گذر جانے کے ہیں۔ اسی معنی میں ہے تھوی بہ الریح فی مکان سحیق۔ (22:31) ہوا نے اس کو بڑی دور دراز جگہ پھینک دیا (باب سمع) سے ھوی یھوی ھوی۔ بمعنی چاہنا۔ خواہش کرنا۔ جیسے ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس۔ (53:23) یہ لوگ نرے اٹکل پر اور اپنے نفس کی خواہش پر چل رہے ہیں۔ فراء نے تھوی الیہم کے معنی تزیدہم بتایا ہے۔ وہ ان کا ارادہ کریں۔ وہ ان کو چاہیں۔ جیسا کہ بولتے ہیں۔ رایت فلانا یھوی نحرک میں نے فلاں کو تیرا ارادہ کرتے دیکھا ۔ فراء نے تھوی الیہم کے معنی تسوع الیہم کے بھی بتائے ہیں۔ یعنی ان کی طرف تیزی سے آئیں۔ ابن الانباری اس کے معنی تنحط الیہم وتنحدر وتنزل۔ (وہ ان کی طرف فروکش ہوں۔ اتریں۔ نزول کریں) بیان کرتے ہیں۔ یہ ارباب لغت کا بیان ہے ۔ اور مفسرین میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ مشتاق ہونے کے معنی کہتے ہیں۔ سدی مائل ہونے کے اور قتادہ تیزی سے روانہ ہونا بتاتے ہیں۔ تھوی کی ضمیر فاعل افئدۃ کی طرف راجع ہے۔ پس فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیہم کا ترجمہ ہوا۔ پس کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے۔