Ayahs 14:1–21-2: اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے مخلوق کے فائدے کے لئے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ پر کتاب نازل فرمائی تاکہ وہ لوگوں کو کفر و جہالت، اخلاق بدر اور مختلف اقسام کے گناہوں کی تاریکی سے نکال کر علم و ایمان اور اخلاق حسنہ کی روشنی میں لے جائے اور فرمایا (باذ نربھم) ” ان کے رب کے حکم سے “ یعنی اللہ تعالیٰ کی محبوب مراد صرف اللہ تعالیٰ کے اراے اور اس کی مدد ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اس آیت کر یمہ میں بندوں کے لئے ترغیب ہے کہ وہ اپنے رب سے مدد طلب کریں۔ پھر اللہ نے اس ” نور “ کی تفسیر بیان فرمائی جس کی طرف یہ کتاب راہنمائی کرتی ہے، چناچہ فرمایا : (الی صراط العزیز الحمید) ” غالب اور قابل تعریف (اللہ) کے راستے کی طرف “ یعنی اللہ تعالیٰ کے عزت و تکریم والے گھر تک پہنچانے والا راستہ، جو حق کے علم اور اس پر عمل کو متضمن ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچانے والے راستے کا ذکر کرنے کے بعد (العزیز الحمید) کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو کوئی اس راستے پر گامزن ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کے کوئی اعوان و انصار نہ ہوں، تب بھی وہ اللہ تعالیٰ کے غلبے کے ساتھ غالب اور طاقتور ہے، وہ اپنے تمام امور میں قابل ستائش اور اچھے انجام کا مالک ہے۔ نیز یہ اس بات پر دلالت کرے کہ اللہ تعالیٰ کا راستہ، اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور نعوت جلال پر سب سے بڑی دلیل ہے۔ اور جس نے اپنے بندوں کے لئے یہ راستہ مقرر کیا ہے، وہ غالب، قوت والا، اپنے اقوال و افعال اور احکام میں قابل ستائش ہے۔ وہ معبود ہے اور تمام عبادات کا مستحق ہے یہ عبادات اس صراط مستقیم کی منازل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ، تخلیق، رزق اور تدبیر کے اعتبار سے جس طرح آسمانوں اور زمین کا مالک ہے اسی طرح وہ اپنے بندوں پر احکام دینی بھی نافذ کرتا ہے کیونکہ وہ اس کی ملکیت میں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لائق نہیں کہ وہ ان کو بےفائدہ چھوڑ دے۔
جب اللہ تعالیٰ نے دلیل اور برہان واضح کردی تو اس نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائ ہے جو اس کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتے، چناچہ فرمایا : (وویل للکفرین من عذاب شدید) ” اور ہلاکت ہے کافروں کے لئے سخت عذاب کی صورت میں۔ “ یعنی اس کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے نہ اس کا وصف بیان کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 14:3پھر اللہ تعالیٰ نے ان کفار کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” وہ لوگ جو دنیا کی زندگیکو پسند کرتے ہیں آخرت پر “ پس وہ دنیا پر راضی اور مطمئن ہو کر آخرت سے غافل ہوگئے۔ (ویصدون) ” اور (لوگوں کو) روکتے ہیں “ (عن سبیل اللہ) ” اللہ کے راستے سے “ وہ راستہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے مقرر فرمایا ہے اور اسے اپنی کتابوں میں اور اپنے رسولوں کی زبان پر خوب بیان کردیا ہے مگر یہ لوگ اپنے آقا و مولا کے مقابلے میں عداوت و محاربت کا اظہار کرتے ہیں (ویبغونھا) ” اور تلاش کرتے ہیں اس میں “ یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں (عوجاً ) ” کجی “ یعنی وہ اس راستے کو خراب کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس کے خلاف نفرت پیدا ہوجائے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو پورا کر کے رہے گا خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔ (اولئک) یعنی وہ لوگ جن کا وصف بیان کیا گیا ہے، (فی ضل بعید) ” دور کی گمراہی میں ہیں۔ “ کیونکہ وہ خود گمراہ ہوئے، لوگوں کو گمراہ کیا، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور ان کے خلاف جنگ کی۔ پس اس سے بڑھ کر اور کون سی گمراہی ہے ؟ لیکن اہل ایمان کا معاملہ اس کے برعکس ہے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں، دنیا پر آخرت کو ترجیح دیتے ہیں، وہ لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف دعوت دیتے ہیں، وہ امکان بھر اس راستے کو خوبصورت بناتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ سیدھا رہے۔
Ayah 14:4یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ ” اس نے ہر ایک رسول کو اس کی قوم کی زبان میں بھیجا تاکہ وہ ان کے سامنے ان امور کو واضح کرے جن کے وہ محتاج ہیں “ اور وہ ان کی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں کتاب لے کر آیا ہوتا تو وہ اس زبان کو سیکھنے کے محتاج ہوتے جس میں رسول کلام کرتا ہے تب کہیں جا کر رسول کی باتیں ان کی سمجھ میں آتیں پس جب رسول ان تمام امور کو بیان کردیتا ہے جن کا انہیں حکم دیا گیا اور جن سے ان کو روکا گیا ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوجاتی ہے تو ان میں سے جو لوگ ہدایت کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ انکو گمراہ کردیتا ہے اور جن کو اپنی رحمت کے لئے مختص کرلیتا ہے ان کو راہ ہدایت سے نواز دیتا ہے۔ (وھو العزیز الحکیم) ” اور وہ غالب حکمت والا ہے۔ “ جس کا غلبہ یہ ہے کہ وہ ہدایت دینے، گمراہ کرنے اور جس طرف چاہے دلوں کو پھیر دینے میں منفرد ہے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ وہ ہدایت اور گمرایہ کو اسی مقام پر واقع کرتا ہے جو ان کے لائق ہے۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ وہ علوم عربیہ، جن کے ذریعے سے کلام اللہ اور کلام رسول کی توضیح و تبیین ہوتی ہے، امور مطلوبہ میں شمار ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں کیونکہ ان کے بغیر کتاب اللہ کی معرفت کی تکمیل نہیں ہوتی۔ البتہ اگر لوگوں کی حالت یہ ہو کہ وہ ان علوم عربیہ کے محتاج نہ ہوں اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ انہیں عربی زبان پر عبور حاصل ہو اور ان کے چھوٹے بچوں نے عربی زبان میں تعلیم و تربیت حاصل کی ہو اور عربی زبان ان کی طبیعت بن گئی ہو، تو اس صورت میں اس مشقت میں پڑنے کی ان کو ضرورت نہیں اور وہ ابتدا ہی میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے دین اس طرح اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس طرح صحابہ کرام (نے بغیر علوم آپ یہ اور عبریہ کے) دین اخذ کیا تھا۔
Ayah 14:5اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنی بڑی بڑی نشانیوں کے ساتھ موسیٰ کو مبعوث فرمایا جو آپ کی رسالت کی صداقت اور صحت پر دلالت کرتی تھیں اور ان کو بھی وہی حکم دیا جو اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو دیا ہے بلکہ یہ وہی حکم ہے جو تمام انبیاء ومرسلین نے اپنی قوم کو دیا تھا (ان اخرج قومک من الظلمت الی النور) ” یہ کہ نکال اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف “ یعنی جہالت، کفر اور اس کی فروعات کی تاریکیوں سے نکال کر علم، ایمان اور اس کی توابع کی روشنی کی طرف (وذکرھم بایتم اللہ) ” اور یاد دلا ان کو اللہ کے دن “ یعنی ان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور اس کے احسانات اور جھٹلانے والی قوموں (کفار) کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سلوک اور وقائع یاد دلایئے تاکہ یہ اس کی نعمت کا شکر ادا کریں اور اس کے عذبا سے ڈریں۔ (ان فی ذلک) ” اس میں “ یعنی بندوں کے متعلق ایام الٰہی میں (لایت لکل صبار شکور) ” ہر صابر و شاکر کے لئے نشانیاں ہیں۔ “ یعنی مصائب، تکلیف اور تنگی میں نہیات صابر، اور خوشحالی اور نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے والے۔
Ayah 14:6ایام الٰہی سے اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل قدرت، بےپایاں احسان اور اپنے کامل عدل و حکمت پر استدلال کیا ہے۔ اس لئے موسیٰ نے اپنے رب کے حکم کی میل لی اور ان کو اللہ کی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے فرمایا : (اذکروا نعمۃ اللہ علیکم) ” اللہ نے تم پر جو انعامات کئے ہیں ان کو یاد کرو۔ “ یعنی اپنے دل اور زبان سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ (اذا انجکم من ال فرعون یسومونکم) ” جب اس نے تمہیں فرعونیوں سے بچایا، وہ چکھاتے تھے تمہیں “ یعنی تمہیں عذاب دیتے تھے (سوء العذاب) ” برے عذاب “ یعنی سخت ترین عذاب، پھر اس عاب کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ویذبحون ابنآء کم و یستحیون نسآء کم) ” اور وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کردیتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے “ یعنی وہ تمہاری عورتوں کو قتل نہیں کرتے تھے بلکہ ان کو زندہ رکھتے تھے (وفی ذلکم) ” اور اس میں “ یعنی اس نجات میں (بلاء من ربکم عظیم) ” تمہارے رب کی طرف سے عظیم نعمت تھی۔ “ یعنی عظیم نعمت تھی یا (اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ) اس عذاب میں جس میں تمہیں فرعون اور اس کے سرداروں نے مبتلا کیا تھا، تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی تاکہ وہ دیکھے کہ آیا تم اس سے عبرت حاصل کرتے ہو یا نہیں۔
Ayah 14:7اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی نعمتوں پر شکر کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا : (واذ تاذن ربکم) ” جب تمہارے رب نے آگاہ کیا ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا اور وعدہ کیا (لئن شکر تم لازیدنکم) ” اگر تم شکر کرو گے، تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا “ یعنی اپنی نعمتوں میں اضافہ کروں گا (ولئن کفرتم ان عذا بی لشدید) ” اور اگر تم نے کفر کیا، تو میرا عذاب نہایت سخت ہے ‘ عذاب کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ ان نعمتوں کو زائل کر دے جو انہیں عطا کی تھیں۔ شکر سے مراد، دل سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف کرنا، ان نعمتوں پر دل سے اس کی حمد و ثنا کرنا اور انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق صرف کرنا ہے اور ان امور کے برعکس رویہ اختیار کرنا، کفران نعمت ہے۔
Ayah 14:8(وقال موسیٰ ان تکفروآ انتم ومن فی الارض جمیعاً ) ” موسیٰ نے کہا، اگر تم اور جو لوگ زمین میں ہیں سارے کفر کریں “ تو تم اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے (فان اللہ لغنی حمید) ” بیشک اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے سب خوبیوں والا۔ “ پس نیکیاں اس کی بادشاہی میں اضافہ کرسکتی ہیں نہ گناہ اس کی بادشاہی میں کوئی کمی واقع کرسکتے ہیں، وہ غنا میں کامل ہے اور وہ اپنی ذات، اپنے اسماء وصفات اور افعال میں قابل حمد و ستائش ہے اس کی ہر صفت، صفت حمد و کمال ہے۔ اس کا ہر نام اچھا نام ہے اور اس کا ہر فعل، فعل جمیل ہے۔
Ayah 14:9جھٹلانے والی قوموں کے پاس جب ان کے رسول آئے اور انہوں نے ان کو جھٹلایا تو ان قوموں پر عذاب نازل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس دنیا ہی میں ان کو جو سزا دے دی یہ عذاب لوگوں نے دیکھا اور سنا، پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس عذاب سے ڈراتے ہوئے فرماتا ہے : (آیت) ” کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، قوم نوح، عاد اور ثمود “ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نہایت بسط و تفصیل سے ان کے واقعات ذکر فرمائے ہیں۔ (آیت) ” اور جو ان کے بعد ہوئے، جن کو صرف اللہ جانتا ہے “ انکی کثرت اور ان کی تاریخ مٹ جانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا (جآء تھم رسلھم بالبینت) ” ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں لے کر آئے “ یعنی ان کے رسول ان کے پاس ایسے دلائل لے کر آئے جو ان کی تعلیمات کی صدقات پر دلالت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جو بھی رسول مبعوث فرمایا اس کو ایسی آیات عطا فرمائیں جو انسان کے بس میں نہ تھیں۔ جب ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ ان کے پاس آئے تو انہوں نے ان دلائل کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا بلکہ انہوں نے نہایت تکبر کے ساتھ ان کو ٹھکرا دیا۔ (فردوآ ایدیھم فی افواھھم) ” پس لوٹائے انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں “ یعنی وہ اس وحی پر ایمان نہ لائے جو رسول لے کر آئے تھے انہوں نے کوئی ایسی بات نہ کہی جو ان کے ایمان پر دلالت کرتی ہو۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ (آیت) ” تو یہ بجلی کی کڑک سے ڈر کر موت کے خوف سے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں۔ “
(وقالوآ) اور صراحت کے ساتھ اپنے رسولوں سے انہوں نے کہا : (آیت) ” ہم نے انکار کیا اس چیز کا جس کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا اور بیشک ہمیں اس چیز میں جس کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو ایک خلجان میں ڈالنے والا شک ہے۔
Ayah 14:10اس بارے میں انہوں نے یقیناً جھوٹ کہا تھا اور ظلم کیا تھا۔ اسی لئے (قالت رسلھم) ” ان کے رسولوں نے (ان سے) کہا : (افی اللہ شک) ” کیا اللہ کے بارے میں بھی شک ہے ؟ “ (فاطر السموت والارض) ” جو آسمان اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ “ یعنی جس کے وجود پر تمام اشیاء کے وجود کا دار و مدار ہے۔ تو اس کے پاس کوئی مضبوط دلیل نہیں جو معلوم ہو، حتیٰ کہ امور محسوسہ بھی اس کی تائید نہیں کریت۔ اس لئے انبیاء ومرسلین نے ان کو اس طرح خطاب فرمایا ہے کہ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ (یدعوکم) ” وہ تمہیں بلاتا ہے “ یعنی وہ تمہیں تمہارے فائدے کے امور اور تمہارے مصالح کی طرف بلاتا ہے (لیغفرلکم من ذنوبکم ویوخرکم الی اجل مسمی) ” تاکہ تمہارے گناہ بخشے اور فائدہ پہنچانے کے لئے ایک مدت مقرر تک تم کو مہلت دے۔ “ یعنی تمہیں رسول کی دعوت پر لبیک کہونے کے اجر میں دنیاوی اور اخروی ثواب عطا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس لئے دعوت نہیں دی کہ تمہاری عبادت سے مستفید ہو بلکہ تمہاری عبادت کا فائدہ تمہاری ہی طرف لوٹے گا۔ انہوں نے اپنے رسولوں کی دعوت کو اس طرح ٹھکرا دیا جیسے جاہل اور بیوقوف لوگ ٹھکراتے ہیں (قالوآ) انہوں نے اپنے رسولوں سے کہا (ان انتم الا بشر مثلنا) ” تم تو ہم جیسے انسان ہی ہو “ یعنی تمہیں ہم پر نبوت اور رسالت کی بنا پر کیسے فضیلت حاصل ہے ؟ (ثریدون ان تصدونا عما کان یعبدابآؤنا) ” تم چاہتے ہو کہ تم ہمیں ان چیزوں سے روک دو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے “ تب ہم تمہاری سکتے ہیں جب کہ تم ہماری ہی طرف انسان ہو ؟ (فاتونا بسلطن مبین) ” پس ہمارے پاس کوئی کھلی دلیل لاؤ۔ “ یعنی واضح دلیل اور حجت پیش کرو اور دلیل سے ان کی مراد وہ آیت اور معین معجزہ تھا جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے، حالانکہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ ان کے رسول ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے تھے۔
Ayahs 14:11–1211-12: (قالت لھم رسلھم) ان کے رسولوں نے ان کے مطالبے اور اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : (ان نحن الا بشر مثلکم) ” ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں۔ “ یعنی یہ صحیح اور حقیقت ہے کہ ہم تمہاری ہی طرح بشر ہیں (ولکن) مگر تمہارا یہ اعتراض اس حق کو باطل نہیں کرسکتا جسے ہم لے کر آئے ہیں، کیونکہ (اللہ یمن علی یشآء من عبادہ) ” اللہ اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے، احسان فرماتا ہے۔ “ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی وحی اور رسالت سے نواز دیا، تو یہ اس کا فضل و احسان ہے اور کسی کے بس میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو روک سکے اور اس کو اس کی نوازشوں سے منع کرسکے۔ تم اس چیز میں غور کرو جو تمہارے پاس لے کر آئے ہیں اگر وہ حق ہے تو اسے قبول کرلو اور اگر وہ حق نہیں ہے تو بیشک اسے ٹھکرا دو ۔ مگر ہم جو کچھ لے کر آئے اسے ٹھکرانے کے لئے ہمارے حال کو اپنے لئے دلیل نہ بناؤ اور تمہارا یہ کہنا (فاتونا بسلطن مبین) ” کوئی واضح دلیل لے کر آؤ “ تو یہ چیز ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے اور ہمارے اختیار میں تو کچھ بھی نہیں۔
(وما کان لنا ان ناتیکم بسلطن الا باذن اللہ) ” ہمارا کام نہیں کہ تمہارے پاس کوئی دلیل لے آئیں، مگر اللہ کی حکم سے “ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اگر وہ چاہے تو تمہارے پاس معجزہ لے آئے اور اگر وہ نہ چاہے تو تمہارے پاس معجزہ نہ لائے، اور وہ جو کچھ بھی کرتا ہے اپنی حکمت اور رحمت کے تقاضے کے مطابق کرتا ہے۔ (وعلی اللہ) ” اللہ تعالیٰ ہی پر “ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور پر نہیں (فلیتوکل المؤمنین) ” چاہیے کہ مومن بھروسہ کریں “ پس وہ اپنے مصالح کے حوصل اور ضرر کو روکنے کے لئے اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ کیونکہ انہیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ کفایت تامۂ قدرت کاملہ اور بےپایاں احسان کا مالک ہے۔ جلب مصالح اور دفع ضرر میں آسانی پیدا کرنے میں اہل ایمان اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں اور ان کا توکل ان کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے توکل کا وجوب مستفاد ہوتا ہے نیز اس سے ثابت ہوتا ہے کہ توکل لوازمات ایمان اور بڑی بڑی عبادات میں شمار ہوتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کو محبوب اور جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے کیونکہ تمام عبادات توکل پر موقوف ہیں۔ (آیت) ” اور ہم کو کیا ہوا کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ کریں اور وہ سجھاچکا ہمیں ہماری راہیں “ یعنی کون سی چیز ہمیں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے سے روک سکتی ہے۔ حالانکہ ہم واضح حق اور ہدایت پر ہیں اور جو کوئی حق اور ہدایت کی راہ پر گامزن ہوتا ہے تو یہ ہدایت اس کے لئے توکل کی تکمیل کی موجب بنتی ہے۔ اسی طرح یہ معلوم ہونا کہ، اللہ تعالیٰ راہ ہدایت پر چلنے والے کے بوجھ کی کفالت کرتا اور اس کے لئے کافی ہوجاتا ہے، توکل کی دعوت دیتا ہے۔ اس کے برعکس جو کوئی حق اور ہدایت کی راہ اختیار نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کی کفالت و کفایت کا ضامن نہیں ہوتا، پس اس کا حال متوکل کے حال کے برعکس ہوتا ہے۔
اس آیت کریمہ میں، انبیاء ومرسلین کی طرف سے گویا اپنی قوم کے لئے ایک عظیم معجزے کی طرف اشارہ ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ انبیاء کی قوم غالب حالات میں، اقتدار اور غلبہ کی مالک ہوتی ہے۔ اس کے رسول ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ ان کی چالوں اور سازشوں کو ناکام کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کی کفایت کا پورا یقین ہے اور کفار کی انبیاء ومرسلین کی بیخ کنی کی خواہش اور نورحق کو بجھانے کی حرص کے باوجود، اللہ نے انبیاء ومرسلین کی کفایت کی اور انہیں کفار کے مکروکید سے بچایا۔
یہ جناب نوح (علیہ السلام) کے اس قول کی مانند ہے جو انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا : (آیت : یونس : 10؍71) ” اے میری قوم ! اگر تمہارے درمیان میرا قیام اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے تمہیں میرا نصیحت کرنا تم پر گراں گزرتا ہے، تو میرا توکل اللہ پر ہے، پس تم اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ساتھ لے کر ایک فیصلے پر متفق ہوجاؤ اور تمہارے اس فیصلے کا کوئی پہلو تم پر پوشیدہ نہ رہے پھر میرے خلاف جو کچھ کرنا چاہو کر گزرو اور مجھے کوئی مہلت نہ دو ۔ “ اسی طرح ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا تھا : (آیت : ھود : 11؍54، 55) ” میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ تم نے جو اللہ کے شریک ٹھہرا رکھے ہیں میں ان سے بیزار ہوں، پس تم سب مل کر میرے خلاف چال چل لو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ۔ “
(والنصبرن علی مآاذیتمونا) ” اور ہم ضرور ان تکلیفوں پر صبر کریں گے جو تم ہمیں دو گے “ یعنی ہم تمہیں حق کی دعوت دیتے اور تمہیں وعظ و نصیحت کرتے رہیں گے اور تمہاری طرف سے ہمیں جو تکلیف پہنچے گی ہم اس کی پروانہ کریں گے، ہم اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھتے ہیں اور تمہاری خیرخواہی کرتے ہوئے اپنے آپ کو تمہاری اذیتوں کا عادی بنائیں گے۔ شاید کثرت نصیحت کی بنا پر اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت سے نواز دے۔ (وعلی اللہ) ” اور صرف اللہ پر “ اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر نہیں، (فلیتوکل المتوکلون) ” چاہیے کہ بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے “۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر توکل ہر بھلائی کی کنجی ہے۔۔۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ انبیاء ومرسلین توکل کے بہترین مطالب اور بلند ترین مراتب پر فائز ہیں اور وہ ہے اقامت دین میں، اللہ تعالیٰ کی مدد میں، اس کے بندوں کی راہنمائی اور ان سے گمراہی کے ازالے میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا اور یہ کامل ترین توکل ہے۔
Ayah 14:13جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے انبیاء ورسل کی اپنی قوم کے سامنے دعوت، اس پر دوام اور عدم ملال کا ذکر فرمایا، تو ان کی قوم کے ساتھ ان کا متہائے حال بھی بیان فرمایا، چناچہ فرمایا : (وقال الذین کفرو الرسلھم ) ” اور جو کافر تھے انہوں نے اپنے رسولوں سے کہا “ ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا : (لنخرجنکم من ارضنآ اولتعودن فی ملتنا) ” ہم تمہیں اپنے وطن سے نکال دیں گے یا پھر تم ہمارے مذہب میں واپس آجاؤ “ یہ انبیاء کی دعوت کو ٹھکرانے کا سب سے زیادہ بلیغ طریقہ ہے اور اس کے بعد ان پر کوئی امید باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ انہوں نے ہدایت ہی سے ردگردانی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے رسولوں کو ان کے وطن سے نکال دینے کی بھی دھمکی دی اور وطن کو صرف اپنی طرف منسوب کیا، ان کا زعم تھا کہ وطن پر رسولوں کا کوئی حق نہیں۔ اور یہ سب سے بڑا ظلم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو روئے زمین پر پھیلایا اور ان کو اپنی عبادت کا حکم دیا اور زمین اور زمین کی ہر چیز کو ان کے لئے مسخر کردیا، اور وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر ان چیزوں سے مدد لیتے ہیں۔ پس جو کوئی ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں استعمال کرتا ہے یہ اس کے لئے جائز ہیں اور اس پر کوئی گرفت نہیں اور جو کوئی ان کو کفر اور مختلف قسم کے گناہ اور معاصی میں استعمال کرتا ہے تو یہ اشیاء اس کے لئے خالص ہیں نہ اس کے لئے حلال ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ دشمنان انبیاء، درحقیقت، زمین کی کسی شے کے مالک نہیں، وہ زمین سے جس سے وہ انبیاء کرام کو جلاوطن کرنے کی دھمکی دیتے ہیں اس کی کسی چیز کے بھی مالک نہیں۔۔۔ اگر ہم مجروعادت کی طرف رجوع کریں تو انبیاء ومرسلین بھی اہل بلاد میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے وطن ہی میں بسنے والے افراد ہیں، تب وہ انہیں ان کے واضح اور صریح حق سے کیوں محروم کررہے ہیں کیا یہ تمام تر دین اور مروت کے منافی نہیں ؟۔۔۔ اسی لئے جب رسولوں کے خلاف ان کی سازشیں اس حال کو پہنچ گئیں تو اس کے سوا کچھ باقی نہ رہا کہ اللہ اپنے حکم کو نافذ کردے اور اپنے اولیاء کی مدد کرے۔ (فاوحی الیھم ربھم لتھلکن الظلمین) ” پس ان کے رب نے ان کی طرف وحی کی کہ ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کردیں گے “ عذاب کی مختلف اقسام کے ذریعے سے۔
Ayah 14:14(ولنسکننکم الارض من بعدھم ذلک ) ” اور ان کے بعد ہم تم کو زمین میں آباد کریں گے، یہ “ یعنی یہ اچھا انجام جس سے اللہ تعالیٰ نے انبیاء ورسل اور ان کے پیروکاروں کو بہرہ ور کیا، اس شخص کی جزا ہے (لمن خاف مقامی) ” جو میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرے “ یعنی جو دنیا میں، مرے حضور کھڑا ہونے سے ڈرتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی نگہبانی کا اس شخص کی مانند خوف کھاتا ہو جسے علم ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ (وخاف وعید) ” اور میرے عذاب سے خوف کرے۔ “ یعنی میری وعید سے ڈرتا ہو جو میں نے اپنے نافرمانوں کو سنائی ہے، پس یہ ڈر اس بات کا موجب ہے کہ وہ ان امور سے رک جائے جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے اور ان کی طرف سبقت کرے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔
Ayah 14:15(واستفتحوا) ” اور انہوں نے فیصلہ طلب کیا “ یعنی کفار نے۔ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے فیصلے، اس کے اولیاء اور اس کے اعداء کے درمیان تفریق و امتیاز کے مطالبے میں جلدی مچائی، پس انہوں نے جو فیصلہ طلب کیا تھا، وہ ان کے پاس آگیا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ تو نہایت حلم والا ہے۔ وہ اپنے نافرمانوں کو سزادینے میں جلدی نہیں کرتا۔ (وخاب کل جبار عنید) ” اور نامراد ہوا ہر سرکش ضدی “ یعنی جو اللہ تعالیٰ ، حق اور اللہ کے بندوں کے مقابلے میں سرکشی دکھاتا ہے، زمین میں تکبر کرتا ہے اور انبیاء ورسل کے خلاف عنادرکھتا ہے اور ان کی مخالفت کرتا ہے، وہ دنیا و آخرت میں خائب و خاسر ہوتا ہے۔
Ayah 14:16(من ورآبہ جھنم ) ” اس کے پیچھے دوزخ ہے “ یعنی جہنم اس معاند حق، جابر شخص کی گھات میں ہے وہ ضرور اس جہنم میں وارد ہوگا، تب اسے سخب عذاب کا مزاچکھایا جائے گا۔ (ویسقی من مآء ضدید) ” اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا “ جو اپنے رنگ، ذائقے اور بدبو میں خون اور پیپ جیسا ہوگا اور وہ انتہائی گرم ہوگا۔
Ayah 14:17(یتجرعہ) ” اور اس کو گلے سے نہیں اتار سکے گا “ کیونکہ جب وہ اسے اپنے منہ کے قریب لے کر جائے گا تو وہ چہرے کو بھون کر رکھ دے گا اور جب یہ پانی پیٹ میں جائے گا تو جہاں سے گزرے گا انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ (ویاتیہ الموت من کل مکان وما ھو بمیت) ” اور اسے ہر جگہ سے موت آئے گی جب کہ وہ مرے گا نہیں “ یعنی اس کو ہر قسم کا سخت عذاب دیا جائے گا اور اپنی شدت کے اعتبار سے عذاب کی ہر نوع موت کی مانند ہوگی مگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوگا کہ اسے موت نہ آئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت : فاطر : 35؍36، 37) ” انہیں موت نہیں آئے گی کہ مرجائیں نہ ان پر عذاب ہی کو ہلکا کیا جائے گا ہم ہر بڑے کافر کو اسی طرح سزادیتے ہیں اور وہ اس میں چلائیں گے “۔ (ومن ورآۂ ) ” اور اس کے پیچھے “ یعنی جبار، معاند حق کے پیچھے (عذاب غلیظ) ” سخت عذاب ہوگا۔ “ یعنی نہایت قوی اور سخت عذاب، جس کے وصف اور شدت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Ayah 14:1818-20: اللہ تبارک وتعالیٰ کفار کے اعمال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔۔۔ اور ان اعمال سے یا تو وہ اعمال مراد ہیں جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر کئے ہیں۔ یہ اعمال بےفائدہ جانے، اپنے بطلان اور اپنے اضمحلال میں راکھ کی مانند ہیں جو سب سے گھٹیا اور سب سے ہلکی چیز ہے۔ سخت آندھی والے دن جب سخت ہواچلتی ہے، تو اس راکھ میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہتا، اس راکھ کے اڑجانے اور مضمحل ہونے سے روکنے کی قدرت کوئی نہیں رکھتا۔ اسی طرح کفار کے اعمال ہیں (لایقدرون مما کسبواعلی شء) ” جو وہ کام کرتے رہے ان پر وہ کچھ دسترس نہ رکھیں گے۔ “ یعنی وہ اپنے اعمال میں سے ذرہ بھر عمل کے اجر کے حصول پر بھی قادر نہ ہوں گے کیونکہ یہ عمل کفر اور تکذیب پر مبنی ہے (ذلک ھو الضلل البعید) ” یہی ہے دور کی گمراہی “ کیونکہ ان کی کوشش رائیگاں گئی اور ان کا عمل باطل ہوگیا۔ یا ان اعمال سے مراد کفار کے وہ اعمال ہیں جن کے ذریعے سے وہ حق کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے، وہ حق میں جرح اور قدح کیا کرتے تھے۔ ان کے مکروفریب کا وبال انہی کی طرف لوٹ آئے گا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ اس کے رسول اور اس کے لشکر اور حق کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔
Ayah 14:19اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ان اللہ خلق السموت والارض بالحق) ” بیشک اللہ نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ “ یعنی تاکہ مخلوق اس کی عبادت کرے اور اس کی معرفت حاصل کرے، اور اللہ تعالیٰ ان کو اپنے اوامرونواہی جاری کرے اور مخلوق ان آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دنوں میں ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی صفات کمال پر استدلال کرے اور ان کو معلوم ہوجائے کہ وہ ہستی جس نے اتنے بڑے اور وسیع آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ تمام مخلوق کو نئے سرے سے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے تاکہ ان کی نیکی اور بدی پر ان کو جزاوسزا دے اور اس کی قدرت ومشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں ہے۔ بنا بریں فرمایا : (ان یشایذھبکم ویات بخلق جدید) ” اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور نئی مخلوق لے آئے “ اس آیت کریمہ میں اس معنیٰ کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تمہیں لے جائے اور تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے جو تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والی ہو اور یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں فنا کردے اور پھر تمہیں دوبارہ زندہ کرکے ایک نئی تخلیق عطا کرے۔ اس احتمال کے مطابق اس آیت سے قیامت کے احوال کا اثبات ہوتا ہے جن کا ذکر مابعد سطور میں آرہا ہے۔
Ayah 14:20(وماذلک علی اللہ بعزیز) ” اور یہ اللہ کو کچھ بھی مشکل نہیں۔ “ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کے لئے مشکل نہیں، بلکہ بہت آسان ہے (آیت لقمان : 13؍82) ” تمہیں پیدا کرنا اور پھر دوبارہ جلا اٹھانا ایک شخص کو پیدا کرنے اور اس کو جلا اٹھانے کی مانند ہے۔ “ ( سورة الروم : 03؍72) ” وہی تو ہے جو تخلیق کی ابتداء کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا اور یہ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لئے زیادہ آسان ہے۔ “
Ayah 14:21(وبرزو اللہ جمعاً ) ” اور سب لوگ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے۔ “ یعنی قیامت کے روز جب صورپھونکا جائے گا تو تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوگی، سب اپنی اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی خدمت میں جائیں گے۔ وہ ایک ہموار زمین میں کھڑے ہوں گے جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے اور اس سے ان کی کوئی بات پوشیدہ نہ رہے گی۔ پس جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہوں گے تو آپس میں جھگڑا کریں گے، ہر شخص اپنے آپ کی مدافعت کرے گا۔ مگر وہ ایسا نہیں کرسکیں گے۔ (فقال الضعفوا) ” پس کمزور کہیں گے “ یعنی پیروی کرنے والے اور مقلدین (للذین استکبروا) ” بڑائی والوں کو “ یہ وہ لوگ ہیں جن کی دنیا میں پیروی کی جاتی تھی جو گمراہی کے میدان میں قیادت کرتے تھے (انا کنا لکم تبعاً ) ” ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ “ یعنی دنیا میں ہم تمہاری پیروی کرتے تھے، تم ہمیں گمراہی کا حکم دیا کرتے تھے اور گمراہی کو ہمارے سامنے آراستہ کیا کرتے تھے، پس تم نے ہمیں بدراہ کردیا (فھل انتم مغنون عنا من عذاب اللہ من شیء) ” کیا پس تم ہم کو بچاؤ گے اللہ کے کسی عذاب سے کچھ “ یعنی خواہ یہ عذاب سے بچانا ذرہ بھر ہی کیوں نہ ہو (قالوا) یعنی قائدین اور سردار کہیں گے جیسے ہم گمراہ تھے ویسے ہی ہم نے تمہیں گمراہ کردیا۔ اور (لوھدنا اللہ لھدینکم) ” اگر اللہ ہمیں ہدایت کرتا تو ہم تمہیں ہدایت کردیتے “ پس کوئی کسی کے کام نہ آئے گا (سوآء علینا اجزعنا) ” اب برابر ہے ہمارے حق میں بےقراری کریں “ عذاب کی وجہ سے۔ (امرصبرنا) ” یا صبر کریں “ اس عذاب پر (مالنا من محیص) ” ہمارے لئے کوئی خلاصی نہیں۔ “ یعنی کوئی پناہ گاہ نہیں جہاں ہم پناہ لے سکیں اور کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں ہم اللہ کے عذاب سے بھاگ کر جاسکیں۔
Ayah 14:22(قال الشیطٰن) شیطان، جو دنیا میں واقع ہونے والی ہر برائی کا سبب ہے جہنمیوں سے براءت کا اظہار کرتے ہوئے ان سے مخاطب ہو کر کہے گا : (لماقضی الامر) ” جب فیصلہ ہوچکے گا سب امور کا “ اور جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے اور جہنمی جہنم میں دھکیل دیئے جائیں گے۔ (ان اللہ وعدکم وعدالحق) ” جو وعدہ اللہ نے کیا تھا وہ تو سچ تھا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی زبان پر تمہارے ساتھ سچا وعدہ کیا تھا مگر تم نے اس کی اطاعت نہ کی، اگر تم نے اس کی اطاعت کی ہوتی تو تم فوزعظیم سے بہرہ ور ہوتے (ووعدتکم ) ” اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا “ بھلائی کا (فاخلفتکم) ” پس میں نے تم سے وعدہ خلافی کی “ یعنی میں نے تمہیں جو جھوٹی آرزوئیں اور امیدیں دلائی تھیں وہ حاصل نہیں ہوئیں اور نہ کبھی حاصل ہوں گی۔ (وماکان لی علیکم من سلطن) ” اور میرا تم پر کوئی زور نہیں تھا “ میرے پاس کوئی دلیل اور اپنے قول کی کوئی تائید نہ تھی۔ (الا ان دعوتکم فاستجبتم لی) ” مگر یہ کہ میں نے تمہیں بلایا اور تم نے میری بات مان لی “ یعنی میرے پاس زیادہ سے زیادہ جو اختیار تھا وہ یہ تھا کہ میں نے تمہیں اپنے مقصد کی طرف بلایا اور تمہارے سامنے اسے خوب آراستہ کیا، تم نے اپنی خواہشات نفس اور شہوات کی پیروی کرتے ہوئے دعوت پر لبیک کیا۔
جب صورت حال یہ ہے (فلاتلومونی ولو موا انفسکم ) ” تو تم مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ کو ملامت کرو “ پس موجب عذاب میں تم ہی پر دارومدار ہے اور تم ہی اس عذاب کا سبب ہو۔ (ماانا بمصرخکم) ” میں تمہاری فریاد کو نہیں پہنچ سکتا “ یعنی جس شدت عذاب میں تم مبتلا ہو میں تمہاری مدد نہیں کرسکتا۔ (وما انتم بمصرخی) ” اور نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو “ ہر ایک کے لئے اپنے اپنے حصے کا عذاب ہے (انی کفرت بما اشرکتمون من قبل) ” میں منکر ہوں جو تم نے مجھے شریک بنایا تھا اس سے پہلے “ یعنی تم نے مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا تھا، میں اللہ تعالیٰ کا شریک نہ تھا اور تم پر میری اطاعت واجب نہ تھی پس میں تم سے بری الذمہ ہوں (ان الظلمین) بیشک شیطان کی اطاعت کرکے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے (لھم عذاب الیم) ” ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ “ وہ اس عذاب میں ابدالآباد تک رہیں گے۔ اور یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے انہیں شیطان کی اطاعت سے ڈرایا ہے، اس نے شیطان کے مقاصد اور ان راستوں کی نشاندہی کردی ہے جہاں سے وہ داخل ہو کر انسان کو گمراہ کرتا ہے، اس کا مقصد صرف انسان کو جہنم کی آگ میں جھونکنا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ہم پر واضح کردیا ہے کہ جب شیطان اپنے لشکر سمیت جہنم میں داخل ہوگا تو وہ اپنے متبعین سے بری الذمہ ہوجائے گا اور ان کے شرک سے صاف انکار کردے گا۔ (فاطر : 53؍41) ” اور اللہ باخبر کی مانند تمہیں کوئی خبر نہیں دے سکتا۔ “
آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا ہے کہ شیطان کے پاس کوئی اختیار نہیں اور ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا : (النحل : 61؍001) ” شیطان کا زور تو صرف انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اسے اپنا والی اور سرپرست بناتے ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ “ پس وہ ” زور “ اور ” تسلط “ جس کی اللہ تعالیٰ نے نفی کی ہے اس سے مراد حجت اور دلیل ہے، شیطان جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے، اس پر درحقیقت اس کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ یہ کرتا ہے کہ ان کو شبہات میں مبتلا کرے، گناہوں کو ان کے سامنے مزین اور آراستہ کرے، جن سے متاثر ہو کر وہ گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرلیں۔ رہا وہ ” زور “ جس کا اللہ تعالیٰ نے اثبات کیا ہے تو اس سے مراد وہ تسلط ہے جس کے بل پر وہ اپنے دوستوں کو گناہوں پر آمادہ کرتا ہے اور ان کو نافرمانیوں پر ابھارتا ہے۔ بندے شیطان سے موالات پیدا کرکے اور اس کے گروہ میں شامل ہو کر اس کو اپنے آپ پر مسلط کرلیتے ہیں۔ اس لئے شیطان کا ان لوگوں پر کوئی زور نہیں چلتا جو ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔
Ayah 14:23اللہ تعالیٰ نے ظالموں کو دیئے جانے والے عذاب کا ذکر کرنے کے بعد اطاعت کرنے والوں کے لئے ثواب کا ذکر فرمایا ہے۔ چناچہ فرمایا : (وادخل الذین امنوا وعملوا الصلحٰت) ” اور داخل کئے گئے وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کئے نیک “ یعنی وہ لوگ جنہوں نے قول وفعل اور اعتقاد کے ساتھ دین کو قائم کیا۔ (جنت تجری من تحتھا الانھر) ” ایسے باغات میں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں “ ان جنتوں میں ایسی لذات وشہوات ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کے تصور کا گزر ہوا ہے۔ (خالدین فیھا باذن ربھم ) ” وہ ان میں اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے “ یعنی وہ اپنی قوت واختیار سے جنت میں داخل نہیں ہوں گے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی قوت واختیار سے جنت میں داخل ہوں گے (تحیتھم فیھا سلم) ” ان کی دعائے ملاقات ہے ان میں سلام “ وہ سلام اور اچھے کلمات کے ساتھ ایک دوسرے کا خیر مقدم کریں گے۔
Ayah 14:24(آیت) ” کیا آپ نے نہیں دیکھا، کیسے بیان کی اللہ نے ایک مثال، ستھری بات “ یہاں کلمہ طیبہ (ستھری بات) سے مراد ہے اس امر کی گواہی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کی فروعات (ایسے ہے) (کشجرۃ طیبۃ) ” جیسے ایک ستھرا درخت ہے “ اور اس سے مراد کھجورکا درخت ہے (اصلھا ثابت) ” اس کی جڑ مضبوط ہے “ یعنی زمین میں مضبوطی سے گڑی ہوئی ہے (وفرعھا) ” اور اس کی شاخیں “ یعنی اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ (فی السمآء) ” آسمان میں “ اور یہ درخت دائمی طور پر کثیر الفوائد ہے۔
Ayah 14:25(توتی اکلھا) ” وہ پھل لاتا ہے “ (کل حین باذن ربھا) ” ہر وقت پر اپنے رب کے حکم سے “ یہی حال شجر ایمان کا ہے، اس کی جڑیں علم و اعتقاد کے اعتبار سے بندۂ مومن کے قلب کی گہرائیوں میں نہایت مضبوطی سے جمی ہوئی ہیں، اس کی شاخیں یعنی کلمات طیبات، عمل صالح، اخلاق جمیلہ، آداب حسنہ ہمیشہ آمان کی طرف بلند رہتی ہیں۔ بندۂ مومن کی طرف سے ایسے اعمال واقوال بلند ہوتے ہیں، جو شجر ایمان سے نکلتے ہیں، جن سے بندۂ مومن اور دیگر لوگ منتفع ہوتے ہیں۔ (آیت) ” اور اللہ لوگوں کے واسطے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔ “ ان سے جن کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے اور ان سے جن سے ان کو روکا ہے، کیونکہ ضرب الامثال میں، معانی معقولہ کو امثال محسوسہ کے ذریعے سے قریب لایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے معنی مراد کی غایت حدتک تبیین اور توضیح ہوتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حسن تعلیم ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے پوری، کامل اور بےپایاں حمدوثنا ہے۔ پس یہ بندۂ مومن کے قلب میں کلمۂ توحید کا وصف اور اس کے ثبات کا بیان ہے۔
Ayah 14:26پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے کلمۂ توحید کی ضد کلمۂ کفر اور اس کی شاخوں کا ذکر فرمایا۔ چناچہ فرمایا : (آیت) ” اور گندی بات کی مثال، جیسے گندادرخت ہے “ جو کھانے اور ذائقے میں بدترین درخت ہے اور اس سے مراد اندرائن وغیرہ کا پودا ہے (اجتثت) یعنی اس پودے کو اکھاڑ لیا گیا (من فوق الارض مالھا من قرار) ” زمین کے اوپر سے، اس کو کوئی ٹھہراؤ نہیں “ یعنی اس پودے کو ثبات حاصل نہیں اس پودے کی رگیں نہیں ہیں جو اس کو سہارا دے کر کھڑا کرسکیں اور نہ یہ کوئی اچھا پھل لاتا ہے بلکہ اس میں پھل پایا بھی جاتا ہے تو انتہائی بدذائقہ۔
اسی طرح کفر اور گناہ کی بات قلب میں کوئی فائدہ مند مضبوطی اور ثبات پیدا نہیں کرتی، اس کا ثمرہ بھی قول خبیث اور عمل خبیث کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جو اس کو تکلیف دیتا ہے۔ اس بندے کی طرف سے کوئی عمل صالح اللہ تعالیٰ کی طرف بلند نہیں ہوتا۔ اس قول وعمل سے وہ خود منتفع ہوتا ہے نہ کوئی اور۔
Ayah 14:27اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے جو کامل طور پر قلبی ایمان کو قائم کرتے ہیں۔ جو اعمال جوارح کو مستلزم ہے یہ اعمال اس ایمان کا ثمرہ ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دنیا کے اندر شبہات کے وارد ہونے کے وقت ہدایت اور یقین کے ذریعے سے ثبات اور استقامت عطا کرتا ہے اور جب شہوات پیش آتی ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں قطعی اور پختہ ارادہ عطا کرتا ہے تب وہ خواہش نفس اور اس کی مراد پر اس امر کو مقدم رکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ آخرت میں، موت کے وقت دین اسلام اور خاتمہ بالخیر پر ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور قبر میں منکر نکیر کے سوالات کے وقت صحیح جواب کی توفیق عطا کرکے ثبات اور مضبوطی سے نوازتا ہے۔ جب میت سے پوچھا جاتا ہے ” تیرا رب کون ہے ؟ تیرا دین کیا ہے ؟ تیرا نبی کون ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ صحیح جواب کی طرف اس کی راہ نمائی کرتا ہے اور مومن جواب دیتا ہے ” میرا رب اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد ﷺ ہیں۔ “ (ویضل اللہ الظلمین) ” اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے۔ “ یعنی دنیا وآخرت میں راہ صواب سے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔
یہ آیت کریمہ، قبر کے امتحان، قبر کے عذاب اور اس کی نعمت اور آرام پر دلالت کرتی ہے۔ جیسا کہ قبر کے امتحان، اس کی صفت وکیفیت، قبر کے عذاب اور اس کے آرام کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے نہایت تواتر کے ساتھ نصوص واردہوئی ہیں۔
Ayah 14:28اللہ تبارک وتعالیٰ ، رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار قریش کا اور ان کے معاملات کا مآل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (آیت) ” کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا “ یہاں اللہ تعالیٰ نعمت سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی رسالت ہے۔ آپ انہیں دنیا وآخرت میں نیکیوں کے ادراک کی طرف دعوت دیتے تھے، مگر انہوں نے اس نعمت کو ٹھکرا کر، اس کا انکار کرکے اور اپنے آپ کو اس نعمت کو قبول کرنے سے باز رکھ کر اس نعمت کو بدل ڈالا۔ (و) اور دوسروں کو اس نعمت کو قبول کرنے سے روکا حتیٰ کہ (احلواقومھم دارالبوار) ” اتارا انہوں نے اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں “ اس سے مراد جہنم ہے، کیونکہ وہ ان کی گمراہی کا سبب بنے اور اپنی قوم کے لئے وبال بن گئے جبکہ ان سے نفع کی اور امید تھی۔ منجملہ اس کے یہ بھی ہے کہ غزوہ بدر کے لئے ان کو نکلنے پر آمادہ کرنے کے لئے جنگ پر نکلنے کے بڑے فوائد بیان کئے۔ تاکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کریں۔ پس ان کے ساتھ عبرت ناک سلوک ہوا اور جنگ بدر میں ان کے بہت سے بڑے بڑے سردار اور بہادر مارے گئے۔
Ayah 14:29(جھنم یصلونھا) ” جن ہم، داخل ہوں گے وہ اس میں “ یعنی جہنم کی حرارت انہیں ہر جانب سے گھیرلے گی (وبئس القرار) ” اور (جہنم) بہت ہی براٹھکانہ ہے۔ “
Ayah 14:30(وجعلو اللہ انداداً ) ” اور ٹھہرائے انہوں نے اللہ کے لئے مقابل “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہمسر اور شریک (لیضلواعن سبیلہ) ” تاکہ اس کے راستے سے گمراہ کریں۔ “ یعنی، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہمسر بناکر اور ان کی عبادت کی طرف دعوت دے کر بندوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکا سکیں (قل) ان کو وعید سناتے ہوئے کہہ دیجئے (تمتعوا) اپنے کفر اور گمراہی سے تھوڑا سا فائدہ اٹھالو۔ پس یہ تمہیں کوئی فائدہ نہ دیں گے (فان مصیرکم الی النار) ” اس لیے کہ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے “ اور یہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
Ayah 14:31(قل لعبادی الذین امنوا) ” میرے مومن بندوں سے کہہ دو ۔ “ یعنی انہیں ان امور کا حکم دیجئے جن میں ان کی اصلاح ہے اور انہیں یہ بھی حکم دیا کہ اس سے قبل کہ ان کی اصلاح ممکن نہ ہو وہ فرصت کو غنیمت جانیں۔ (یقیموا الصلوٰۃ) وہ ظاہری اور باطنی آداب کے ساتھ نماز قائم کریں (وینفقواممارزقنھم ) ” اور ہم نے جو انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کریں۔ “ یعنی ہم نے انہیں کم یا زیادہ جو بھی نعمتیں عطا کی ہیں ان میں سے خرچ کریں (سراوعلانیۃ) ” چھپے اور ظاہر “ یہ حکم نفقات واجبہ مثلاً زکوٰۃ اور نفقات کفالت اور نفقات مستحبہ مثلاً عام صدقات وغیرہ کو شامل ہے۔ (آیت) ” پہلے اس کے کہ وہ دن آجائے، جس میں نہ کوئی سودا ہوگا نہ دوستی “ یعنی اس دن کوئی چیز فائدہ نہ دے گی اور جو چیز فوت ہوگئی ہوگی تو کسی خریدوفروخت کے معاوضے، کسی ہبہ اور کسی دوست یار کے ذریعے سے اس کا تدارک ممکن نہیں ہوگا۔ پس ہر شخص کا اپنا اپنا معاملہ ہوگا جو اس کو دوسروں سے بےنیاز کردے گا۔ اس لیے ہر شخص کو اپنے لئے کچھ بھیجنا چاہیے، اور خوب اچھی طرح غور کرلے کہ وہ کل کے لئے کیا آگے بھیج رہا ہے ؟ وہ اپنے اعمال پر نظر ڈالے اور بڑے حساب کتاب سے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ کرلے۔
Ayah 14:32اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اکیلا ہے ہے (الذی خلق السموٰت والارض) ” جس نے آسمانوں اور زمین کو (ان کی وسعتوں کے ساتھ) پیدا کیا “ (وانزل من السمآء مآءً ) ” اور اتار آپ سمان سے پانی “ اس سے مراد وہ بارش ہے جسے اللہ تعالیٰ بادلوں سے برساتا ہے (فاخرج بہ) ” پس اس کے ذریعے سے نکالے۔ “ یعنی اس پانی کے ذریعے سے (من الثمرات) مختلف انواع کے پھل (رزقاً لکم) تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے لئے رزق (وسخرلکم الفلک) ” اور کام میں لگادیا تمہارے لئے کشتیوں کو “ یعنی جہاز، اور کشتیاں (لتجری فی البحر بامرہ) ” کہ چلیں وہ سمندر میں اس کے حکم سے “ وہی ہے جس نے جہازوں اور کشتیوں کی صنعت کو تمہارے لئے آسان بناکر تمہیں ان پر قدرت عطا کی۔ پانی کی موجوں پر ان کی حفاظت کی۔ تاکہ تمہیں اور تمہارے تجارتی مال واسبا کو اس شہرتک اٹھالے جائے جہاں کا تم قصد رکھتے ہو۔
(وسخرلکم الانھر) ” اور کام میں لگادیا تمہارے لئے نہروں کو “ تاکہ تم اپنے کھیتوں اور باغات کو سیراب کرو اور خود بھی ان کا پانی پیو۔
Ayah 14:33(وسخرلکم الشمس والقمر دآئبین) ” اور کام میں لگادیا تمہارے لئے سورج اور چاند کو، ایک دستور پر برابر۔ “ ان کی رفتار میں نرمی آتی ہے نہ وہ سست پڑتے ہیں بلکہ تمہارے مصالح یعنی زمان واوقات کے حساب، تمہارے ابدان، تمہارے مویشی و حیوانات، کھیتوں اور باغات کے فائدے کے لئے رواں دواں رہتے ہیں۔ (وسخرلکم الیل) ” اور کام میں لگایا دیا تمہارے لئے رات کو “ تاکہ تم آرام کرسکو۔ (والنھار) ” اور دن کو “ تمہارے دیکھنے کے لئے تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو۔
Ayah 14:34(0) (واتکم من کل ما سالتموہ) ” اور دیا تم کو ہر چیز میں سے جو تم نے مانگا “ یعنی اس نے تمہیں ہر وہ چیز عطا کی جس کے ساتھ تمہاری آرزوئیں اور ضرورتیں وابستہ ہیں جو تم اپنی زبان حال یا زبان قال کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہو۔ مثلاً مال مویشی، مختلف اقسام کے آلات وصناعات وغیرہ ( وان تعدوانعمت اللہ لا تحصوھا) ” اور اگر اللہ کے احسان گننے لگو تو تم شمار نہ کرسکو۔ “ یعنی تمہارا ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا تو کجا، تم ان کو شمار بھی نہیں کرسکتے۔ (ان الانسان لظلوم کفار) ” یقیناً انسان نہایت نادان، بہت بےشکرا ہے “ یہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے، کیونکہ وہ نہایت ظالم، معاصی کے ارتکاب کی جسارت کرنے والا، اپنے رب کے حقوق کے بارے میں کوتاہی کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف اور اس کا شکروہی ادا کرسکتا ہے، جس کی اللہ تعالیٰ راہ نمائی کرے۔ تب وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے، اپنے رب کے حق کو پہچانتا ہے اور اسے قائم کرتا ہے۔
پس ان آیات کریمہ میں بندوں پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بہت سی اصناف مجمل اور مفصل طور پر بیان ہوئی ہیں۔۔۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کا ذکر اور اس کا شکر ادا کریں اور وہ ان کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ دن رات اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے اور اس سے دعا مانگتے رہیں جیسے ہر وقت بتکرار ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا فیضان رہتا ہے۔
Ayah 14:35(و) ” اور یعنی اس حالت جمیلہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کو یاد کیجئے (آیت) ” جب ابراہیم نے کہا، اے رب ! بنادے اس شہر کو “ یعنی حرم مبارک کو (آمناً ) ” امن والا “ پس اللہ تعالیٰ نے شرعاً اور قدراً آپ کی دعا قبول فرمائی اور اس کی حرمت کے اسباب میسر فرمائے جو کہ ہمیں معلوم ہیں حتیٰ کہ اگر کوئی ظالم حرم میں برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا قلع قمع کردیتا ہے جیسے اصحاب فیل کے ساتھ کیا تھا۔۔۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے لئے، اپنے بیٹوں کے لئے اور اس ارض محترم کے لئے امن کی دعا کی۔ چناچہ فرمایا : (آیت) ” اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے دور رکھ “ یعنی ان کے قریب جانے سے بچا۔
Ayah 14:36پھر آپ نے اپنے اور اپنی اولاد کے بارے میں ان خدشات کا ذکر فرمایا جو انہیں اکثر لوگوں کے ان بتوں کی عبادت کے فتنے میں مبتلا ہونے کی وجہ سے لاحق ہوئے، اس لئے انہوں نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا : (آیت) ” اے پروردگار ! انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ “ یعنی ان کے سبب سے بہت سے لوگ گمراہ ہوئے۔ (فمن تبعنی) ” پس جس نے میری اتباع کی “ یعنی توحید الٰہی اور اخلاص للہ میں جس نے میری پیروی کی۔ (فانہ منی) ’۔ تو وہ میرا ہے “ یعنی کامل موافقت کی وجہ سے وہ مجھے سے ہے، جو کوئی جس قوم سے محبت کرتا ہے اور اس کی پیروی کرتا ہے، وہ اسی قوم سے ملحق شمار ہوتا ہے۔ (آیت) ” اور جس نے میری نافرمانی کی، تو تو بہت بخشنے والا مہربان ہے “ یہ حضرت خلیل (علیہ السلام) کی شفقت ہے کہ انہوں نے گناہ گاروں کے لئے بخشش اور رحمت کی دعا کی اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ صرف اسے عذاب دے گا جو سرکشی اختیار کرتا ہے۔