14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsبیان القرآن

Ayahs 14:1–2

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

آ لر یہ (قرآن) ایک کتاب ہے جس کو ہم نے آپ پر نازل فرمایا ہے تاکہ آپ تمام لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے تاریکیوں سے روشنی کی طرف یعنی خدائے غالب ستودہ صفات کی راہ کی طرف لاویں۔ (ف 4) (1)

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

وہ ایسا خدا ہے کہ اس کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بڑی خرابی یعنی بڑا سخت عذاب ہے۔ (2)

ف 4۔ روشنی میں لانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ راہ بتلادیں۔
Ayah 14:3

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

ان کافروں کو جو دنیوی زندگانی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور (بلکہ) اللہ کی راہ (مذکور) سے روکتے ہیں اور اس میں کجی (یعنی شبہات) کے متلاشی رہتے ہیں (ف 5) ایسے لوگ بڑی دور کی گمراہی میں ہیں۔ (3)

ف 5۔ یعنی ایسے شبہات جن کے ذریعے سے دوسروں کو گمراہ کرسکیں۔
Ayah 14:4

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور ہم نے تمام (پہلے) پیغمبروں کو (بھی) ان ہی کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا تاکہ ان سے (احکام الہیٰہ کو) بیان کریں پھر جس کو اللہ تعالیٰ چاہیں گمراہ کردیتے ہیں جس کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں اور وہی (سب امور) پر غالب ہے اور حکمت والا ہے (ف 6) (4)

ف 6۔ اوپر حضور ﷺ کی رسالت کا ذکر تھا آگے اس کی تائید کے لیے دوسرے رسل کا ذکر ہے جس سے یہ معلوم ہوجائے کہ رسالت کوئی انوکھی چیز نہیں کہ اس کا انکار کیا جائے پہلے بھی رسول ہوتے آئے ہیں۔
Ayah 14:5

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو (کفر کی) تاریکیوں سے (ایمان کی) روشنی کی طرف لاؤ اور ان کو اللہ تعالیٰ کے معاملات (نعمت اور نقمت کے) یاد دلاؤ بلاشبہ ان معاملات میں عبرتیں ہیں ہر صابر شاکر کے لیے۔ (ف 7) (5)

ف 7۔ کیونکہ نعمت کو یاد کرکے شکر کے گا اور نقمت کو پھر اس کے زوال کو یاد کرکے آئندہ حوادث میں صبر کرے گا اور یاد دلانے کا یہ ایک فائدہ ہے۔
Ayah 14:6

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور اس وقت کو یاد کیجیئے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کا انعام اپنے اوپر یاد کرو جب کہ تم کو فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو سخت تکلیفیں پہنچاتے تھے تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈال دیتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑا امتحان تھا۔ (ف 1) (6)

ف 1۔ یعنی مصیبت میں بلا تھی اور نجات میں نعمت تھی اور بلا اور نعمت دونوں بندہ کے لیے امتحان ہیں پس اس میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایام اللہ یعنی نعمت ونقمت دونوں کی تذکیر فرمادی۔
Ayahs 14:7–8

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب کہ تمہارے رب نے تم کو اطلاع فرما دی کہ اگر تم شکر کرو گے تم کو زیادہ نعمت دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے (یہ سمجھ رکھو کہ) میرا عذاب بڑا سخت ہے۔ (ف 2) (7)

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے (یہ بھی) فرمایا کہ اگر تم اور تمام دنیا بھر کے آدمی سب کے سب مل کر بھی ناشکری کرنے لگو تو اللہ تعالیٰ (کا کوئی ضرر نہیں کیوں کہ وہ) بالکل بےاحتیاج ستودہ صفات ہیں۔ (8)

ف 2۔ شکر میں ایمان اور ناشکری میں کفر بھی داخل ہے۔
Ayah 14:9

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

(اے کفار مکہ) کیا تم کو ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے ہوگزرے ہیں یعنی قوم نوح (علیہ السلام) اور عاد (قوم ہود (علیہ السلام) اور ثمود (قوم صالح (علیہ السلام) اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں جن کو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا ان کے پیغمبر ان کے پاس دلائل لے کر آئے سو ان قوموں نے اپنے ہاتھ ان پیغمبروں کے منہ میں دے دیے (ف 3) اور کہنے لگے کہ جو حکم دے کر تم کو بھیجا گیا ہے ہم اس سے منکر ہیں اور جس امر کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو ہم تو اس کی جانب سے بہت بڑے شبہ میں ہیں جو ہم کو تردد میں ڈالے ہوئے ہیں۔ (ف 4) (9)

ف 3۔ یعنی مانتے تو کیا یہ کوشش کرتے تھے کہ ان کو بات تک نہ کرنے دیں۔ 4۔ مقصود اس سے توحید و رسالت دونوں کا انکار ہے۔
Ayahs 14:10–11

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان پیغمبروں نے کہا کیا (تم کو) اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے (ف 5) تم کو بلا رہا ہے تاکہ تمہارے گناہ معاف کر دے اور معین مدت تک تم کو (خیر و خوبی کے ساتھ) حیات دے (ف 6) انہوں نے کہا کہ تم ایک محض آدمی ہو جیسے ہم ہیں تم یہ چاہتے ہو کہ ہمارے آباؤاجداد جس چیز کی عبادت کرتے تھے (یعنی بت) اس سے ہم کو روک دو سو کوئی صاف معجزہ دکھلاؤ۔ (10)

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے (اس کے جواب میں) کہا کہ ہم بھی تمہارے جیسے آدمی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے (وہ) احسان فرما دے اور یہ بات ہمارے قبضے کی نہیں کہ ہم تم کو کوئی معجزہ دکھلا سکیں بغیر خدا کے خکم کے اور اللہ ہی پر سب ایمان والوں کو بھروسہ کرنا چاہیے۔ (11)

ف 5۔ یعنی اس کا ان چیزوں کا پیدا کرنا خود دلیل اس کی ہستی اور وحدانیت کی ہے پھر اس دلیل کے ہوتے ہوئے شک کرنا بڑے تعجب کی بات ہے۔ 6۔ مطلب یہ کہ توحید علاوہ اس کے کہ فی نفسہ حق ہے تمہارے لیے دونوں جہان میں نافع بھی ہے۔
Ayahs 14:12–13

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

اور ہم کو اللہ پر بھروسہ نہ کرنے کا کون امر باعث ہوسکتا ہے حالانکہ اس نے ہم کو ہمارے (منافع دارین کے) راستے بتلا دیئے (ف 1) اور تم نے جو کچھ ہم کو ایذا پہنچائی ہے ہم اس پر صبر کریں گے اور اللہ ہی پر بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ (12)

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور ان کفار نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تم کو اپنی زمین سے نکال دیں گے یا یہ ہو کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آجاؤ پس ان رسولوں پر ان کے رب نے (تسلی کے لیے) وحی نازل فرمائی کہ ہم (ہی) ان ظالموں کو ضرور ہلاک کریں گے۔ (13)

ف 1۔ جس کا اتنا بڑا فضل ہو اس پر تو ضرور بھروسہ کرنا چاہیے۔
Ayah 14:14

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

ان کے (ہلاک کرنے کے) بعد تم کو اس سزمین میں آباد رکھیں گے ( اور) یہ ہر اس شخص کے لیے (عام) ہے جو میرے روبرو کھڑے ہونے سے ڈرے اور میرے وعید سے ڈرے۔ (ف 2) (14)

ف 2۔ مراد یہ کہ جو مسلمان ہو جس کی علامت خوف موقف اور خوف وعید ہے سب کے لیے یہ وعدہ عذاب سے نجات دینے کا عام ہے۔
Ayahs 14:15–16

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور کفار فیصلہ چاہنے لگے اور جتنے سر کش ( اور) ضدی (لوگ) تھے وہ سب بےمراد ہوئے۔ (ف 3) (15)

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

اس کے آگے دوزخ ہے اور اس کو (دوزخ میں) ایسا پانی پینے کو دیا جائے گا جو کہ پیپ لہو (کے مشابہ) ہوگا۔ (16)

ف 3۔ یعنی ہلاک ہوگئے اور جو ان کی مراد تھی کہ اپنے کو اہل حق سمجھ کر فتح وظفر چاہتے تھے وہ حاصل نہ ہوئی۔
Ayah 14:17

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

جس کو گھونٹ گھونٹ کر کے پیوے گا اور گلے سے آسانی کے ساتھ اتارنے کی صورت نہ ہوگی اور ہر (چہار) طرف سے اس پر (سامان) موت کی آمد ہوگی اور وہ کسی طرح مرے گا نہیں (ف 4) اس کو اور سخت عذاب کا سامنا ہوگا۔ (17)

ف 4۔ بلکہ یوں ہی سسکتا رہے گا۔
Ayah 14:18

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

جو لوگ اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کرتے ہیں ان کی حالت با اعتبار عمل کے یہ ہے جیسے کچھ راکھ ہو جس کو تیز آندھی کے دن میں تیزی کے ساتھ ہوا اڑا لے جائے (ف 5) (اسی طرح) ان لوگوں نے جو کچھ عمل کیے تھے ان کا کوئی حصہ ان کو حاصل نہ ہوگا (راکھ کی طرح برباد ہوجائے گا) یہ بھی بڑی دور دراز کی گمراہی ہے۔ (ف 6) (18)

ف 5۔ اس صورت میں اس راکھ کا جو اڑنے میں بہت خفیف ہوتی ہے نام ونشان بھی نہ رہے گا۔ 6۔ اس لیے کہ گمان تو ہو کہ ہمارے عمل نیک اور نافع ہیں اور پھر ظاہر ہوں بد اور مضر۔
Ayah 14:19

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

اے مخاطب تجھ کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو بالکل ٹھیک ٹھیک (ف 7) پیدا کیا ہے (اس سے اس کا قادر ہونا معلوم ہوگیا) پس اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور ایک دوسری نئی مخلوق پیدا کر دے۔ (19)

ف 7۔ یعنی مشتمل برمنافع ومصالح۔
Ayah 14:20

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اور یہ خدا کو کچھ بھی مشکل نہیں۔ (ف 8) (20)

ف 8۔ پس جب نئی مخلوق پیدا کرنا آسان ہے تو تم کو دوبارہ پیدا کردینا کون سامشکل ہے پس اس میں خلق سموات وارض سے تو قدرت علی اخلق جدید پر استدلال کیا اور اس سے اعادہ خلق قدیم پر قادر ہونے پر استدلال کیا غرض یہ زعم بھی طریق نجات کا باطل ہوا۔
Ayah 14:21

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور خدا کے سامنے سب پیش ہونگے پھر چھوٹے درجے کے لوگ (یعنی عوام وتابعین) بڑے درجہ کے لوگوں سے کہیں گے کہ ہم (دنیا میں) تمہارے تابع تھے تو کیا تم خدا کے عذاب کا کچھ جز ہم سے ہٹا سکتے ہو (ف 9) وہ جواب میں کہیں گے کہ اگر اللہ ہم کو کوئی راہ بتلاتا تو ہم تم کو بھی (وہ) راہ بتلا دیتے ( اور اب تو) ہم سب کے حق میں دونوں صورتیں برابر ہیں خواہ ہم پریشان ہوں خواہ ضبط کریں ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ (ف 1) (21)

ف 9۔ یعنی اگر بالکل نہ بچاسکو تو کسی قدر بھی بچاسکتے ہو۔ 1۔ اس سوال و جواب سے معلوم ہوگیا کہ طریق کفر کے اکابر بھی تابعین کے کچھ کام نہ آویں گے یہ طریق بھی نجات کا محتمل نہ رہا۔
Ayahs 14:22–23

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

اور (جب قیامت میں) تمام مقدمات فیصل ہو چکیں گے تو شیطان جواب میں کہے گا اللہ تعالیٰ نے تم سے سچے وعدے کئے تھے اور میں نے بھی کچھ وعدے کیے تھے سو میں نے وہ وعدے تم سے خلاف کئے تھے اور میرا تم پر اور تو کچھ زور چلتا نہ تھا بجز اس کے کہ میں نے تم کو بلایا تھا سو تم نے (باختیار خود) میرا کہنا مان لیا تو تم مجھ پر (ساری) ملامت کرو اور (زیادہ) ملامت اپنے آپ کو کرو (ف 2) ورنہ میں تمہارا مددگار (ہو سکتا) ہوں اور نہ تم میرے مددگار ہو (سکتے) ہو میں خود تمہارے اس فعل سے بیزار ہوں کہ تم اس کے قبل (دنیا میں) مجھ کو (خدا کا) شریک قرار دیتے تھے یقینا ظالموں کے لئے دردناک عذاب مقرر ہے۔ (ف 3) (22)

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے وہ ایسے باغوں میں داخل کئے جاویں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ( اور) وہ ان میں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ( اور) وہاں ان کو سلام اس لفظ سے کیا جائے گا السلام علیکم۔ (23)

ف 2۔ کیونکہ اصلی علت عذاب کی تمہارا ہی فعل ہے اور میرا فعل تو محض سبب ہے جو بعید اور غیر مستلزم ہے۔ 3۔ پس اس سے معبودین غیر اللہ کا بھروسہ بھی قطع ہوا کیونکہ جو ان معبودین کی عبادت کا اصل بانی و محرک ہے جب اس نے صاف جواب دیا تو اور ون سے کیا امید ہوسکتی ہے پس نجات کفار کے سب طریقے مسدود ہوگئے۔
Ayah 14:24

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیسی مثال بیان فرمائی ہے کلمہٴ طیبہ (توحید و ایمان) کی کہ وہ مشابہ ہے ایک پاکیزہ درخت کے (ف 4) جس کی جڑ خوب گڑی ہوئی ہو اس کی شاخیں اونچائی میں جاری ہوں۔ (24)

ف 4۔ مراد کھجور کا درخت ہے۔
Ayahs 14:25–27

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

وہ خدا کے حکم سے ہر فصل میں اپنا پھل دیتا ہے (ف 5) اور اللہ تعالیٰ (ایسی) مثالیں لوگوں کے واسطے اس لیے بیان فرماتے ہیں تاکہ وہ خوب سمجھ لیں۔ (25)

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور گندہ کلمہ کی (یعنی کلمہ کفر و شرک کی) مثال ایسی ہے جیسے ایک خراب درخت ہو کہ زمین کے اوپر ہی اوپر سے اکھاڑ لیا جاوے اس کو کچھ ثبات نہ ہو۔ (26)

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو اس سچی بات (یعنی کلمہٴ طیبہ کی برکت) سے دنیا اور آخرت مضبوط رکھتا ہے اور ظالموں (یعنی کافروں) کو (دین میں اور امتحان میں) بچلا دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ (27)

ف 5۔ یعنی خوب پھلتا ہے کوئی فصل ماری نہ جاتی ہو اسی طرح کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ کی ایک جڑ ہے یعنی اعتقاد جو مومن کے قلب میں استحکام کے ساتھ جانگیر ہے اور اس کی کچھ شاخیں ہیں یعنی اعمال صالحہ جو ایمان پر مرتب ہوتے ہیں جو بارگاہ قبولیت میں آسمان کی طرف لے جائے جاتے ہیں پھر ان پر رضائے دائمی کا ثمرہ مرتب ہوتا ہے۔
Ayah 14:28

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے بجائے نعمت الہٰی کے کفر کیا (ف 6) اور جنہوں نے اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر یعنی جہنم میں پہنچا دیا۔ (28)

ف 6۔ مراد اس سے کفار مکہ ہیں۔
Ayah 14:29

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

وہ اس میں داخل ہوں گے اور وہ رہنے کی بری جگہ ہے۔ (ف 7) (29)

ف 7۔ اس میں اشارہ ہوگیا کہ ان کا داخل ہونا قرار اور دوام کے لیے ہوگا۔
Ayah 14:30

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ کے ساجھی قرار دیئے تاکہ (دوسروں کو بھی) اس کے دین سے گمراہ کریں آپ کہہ دیجیئے کہ چندے عیش کرلو کیوں کہ اخیر انجام تمہارا دوزخ میں جانا ہے۔ (ف 1) (30)

ف 1۔ عیش سے مراد حالت کفر میں رہنا ہے کیونکہ ہر شخص کو اپنے مذہب میں لذت ہوتی ہے یعنی اور چندرے کفر کرلو یہ تہدید ہے۔
Ayahs 14:31–33

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

جو میرے خالص ایمان والے بندے ہیں ان سے کہہ دیجیئے کہ وہ نماز کی پابندی رکھیں اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کیا کریں پوشیدہ اور آشکارا ایسے دن کے آنے سے پہلے پہلے جس میں نہ خریدو فرخت ہوگی اور نہ دوستی ہوگی۔ (ف 2) (31)

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

اللہ ایسا ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی (یعنی مینہ) بر سایا پھر اس پانی سے پھلوں کی قسم سے تمہارے لیے رزق پیدا کیا اور تمہارے (نفع) کے واسطے کشتی ( اور جہاز) کو مسخر بنایا کہ وہ (خدا) کے حکم (وقدرت) سے دریا میں چلے اور تمہارے نفع کے واسطے نہروں کو (اپنی قدرت کا) مسخر بنایا۔ (32)

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور تمہارے (نفع) کے واسطے سورج اور چاند کو (اپنی قدرت کا) مسخر بنایا جو ہمیشہ چلنے ہی میں رہتے ہیں اور تمہارے نفع کے واسطے رات اور دن کو (اپنی قدرت کا) مسخر بنایا۔ (33)

ف 2۔ مطلب یہ کہ عبادات بدنیہ ومالیہ کو ادا کرتے رہیں کہ یہی شکر ہے نعمت کا۔
Ayah 14:34

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور جو چیز تم نے مانگی تم کو ہر چیز دی اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اگر (ان کو) شمار کرنے لگو تو شمار میں نہیں لا سکتے (مگر) یہ سچ ہے کہ آدمی بہت ہی بےانصاف بڑا ہی ناشکرا ہے۔ (ف 3) (34)

ف 3۔ کیونکہ وہ اللہ کی نعمتوں کی قدر اور شکر نہیں کرتا بلکہ اور بالعکس کفر و معصیت کرنے لگتا ہے۔
Ayah 14:35

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور جب کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا (ف 4) اے میرے رب اس شہر (مکہ) کو امن والا بنا دیجیئے اور مجھ کو اور میرے خاص فرزندوں کو بتوں کی عبادت سے بچائے رکھیئے۔ (35)

ف 4۔ حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کو بحکم الٰہی میدان مکہ میں لاکررکھنے کے وقت۔
Ayah 14:36

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

اے میرے پروردگار ان بتوں نے بہتیرے آدمیوں کو گمراہ کردیا پھر جو شخص میری راہ پر چلے گا وہ تو میرا ہے ہی اور جو شخص (اس بات میں) میرا کہنا نہ مانے سو آپ تو کثیر المغفرت اور) کثیر الرحمت ہیں۔ (ف 5) (36)

ف 5۔ مقصود اس دعا سے شفاعت مومنین کے لیے اور طلب ہدایت غیرمومنین کے لیے ہے۔
Ayah 14:37

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

اے ہمارے رب میں اپنی اولاد کو آپ کے معظم گھر کے قریب (ف 6) ایک (کف دست) میدان میں جو زراعت کے قابل نہیں آباد کرتا ہوں اے ہمارے رب تاکہ وہ لوگ نماز کا اہتمام رکھیں تو آپ کچھ لوگوں کے قلوب ان کی طرف مائل کر دیجیئے (ف 7) اور ان کو (محض اپنی ضرورت سے) پھل کھانے دیجیئے تاکہ یہ لوگ (ان نعمتوں کا) شکر کریں۔ (37)

ف 6۔ یعنی خانہ کعبہ۔ 7۔ تاکہ آبادی پر رونق ہوجائے۔
Ayahs 14:38–40

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

اے ہمارے رب آپ کو تو سب کچھ معلوم ہے جو ہم اپنے دل میں رکھیں اور جو ظاہر کریں اور اللہ تعالیٰ سے (تو) کوئی چیز بھی مخفی نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ (ف 8) (38)

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

تمامی حمد وثناء خدا کے لیے (سزاوار) ہے جس نے مجھ کو بڑھاپے میں اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) (دو بیٹے) عطا فرمائے حقیقت میں میرا رب بڑا سننے والا ہے۔ (39)

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے میرے رب مجھ کو بھی نماز کا (خاص) اہتمام رکھنے والا رکھیئے اور میری اولاد میں بھی بعضوں کو اے ہمارے رب اور میری (یہ) دعا قبول کیجیئے۔ (40)

ف 8۔ یہ دعائیں محض عبودیت وافتقار کے لیے ہیں آپ کو اپنی حاجات کی اطلاع کے لیے نہیں۔