Ayah 14:1ا ل ر کتب انزلنہ الیک ا آرٰ- (یہ سورة یا قرآن) ایک ایسی کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے۔
لتخرج الناس من الظلمت الی النور باذن ربھم تاکہ آپ لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئیں۔ یعنی آپ ہماری کتاب کی ہدایات کی طرف لے آئیں۔ یعنی آپ ہماری کتاب کی ہدایات کی طرف لوگوں کو بلائیں اور نفع و نقصان میں امتیاز پیدا کرنے والے امور کی تعلیم دیں۔
تاریکیوں سے مراد ہیں : طرح طرح کی گمراہیاں اور نور سے مراد ہے : ہدایت۔ اِذْن سے مراد ہے : توفیق اور اسباب سہولت فراہم کردینا۔ دربان داخلہ کی اجازت دیتا ہے ‘ یعنی اندر داخل ہونے میں سہولت دے دیتا ہے اور رکاوٹ دور کردیتا ہے) ۔
الی صراط العزیز الحمید (نور کی طرف نکال کر لائیں یعنی) اس اللہ کے راستہ کی طرف لائیں جو غالب اور مستحق ستائش ہے ‘ اس کے سوا کوئی بھی قابل تعریف نہیں۔
ا اللہ کے یہ دونوں اوصاف ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ غالب و محمود اللہ کی راہ پر چلنے والا گمراہ نہیں ہوتا اور نامراد نہیں رہتا۔
Ayah 14:2اللہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض اس اللہ کا راستہ جس کی (مخلوق اور مملوک) ہر وہ چیز ہے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے۔
وویل للکفرین من عذاب شدید اور بڑی خرابی یعنی بڑا سخت عذاب ہے ان کافروں کیلئے۔
وَیْلٌ کا معنی ہے : نزول شر ( اس سے مراد ہے : پوری خرابی) بیضاوی نے لکھا ہے : وَیْلٌ کا معنی وال کے معنی کی ضد ہے ‘ وال کا معنی ہے : نجات (پس وَیْلٌ کا معنی ہوا : ہلاکت) ہلاک کی طرح وَیْلٌ مصدر ہے مگر اس سے کوئی صیغہ مشتق نہیں ہوتا۔ بیضاوی کے تحقیقی ترجمہ کی بناء پر یہ کلمۂ وعید قرار پائے گا۔ کافروں سے مراد ہیں وہ منکرین کتاب جو تاریکیوں سے نکل کر روشنی میں نہیں آئے۔
Ayah 14:3الذین یستحبون الحیوۃ الدنیا علی الاخرۃ ویصدون عن سبیل اللہ جو دنیوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کے راستہ سے روکتے ہیں۔ استحباب پسند کرنا ‘ اختیار کرنا ‘ کسی چیز کو اپنا محبوب قرار دے لینا۔ دنیوی زندگی سے مراد ہے : دنیا کی لذتیں۔ اللہ کے راستہ پر چلنے سے روکنے کے مطلب ہے : اللہ کے پیغمبر کے اتباع سے روکنا۔
ویبغونھا عوجا اور اللہ کے راستہ میں کجی کو ڈھونڈتے ہیں ‘ یعنی عیب چینی اور ۔۔ خوردہ گیری کیلئے دین میں کجی ڈھونڈتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ حق سے مڑ کر اور اپنا رخ موڑ کر اللہ کی راہ کے طلبگار ہوتے ہیں حالانکہ ایسا ممکن نہیں (کہ حق سے منہ موڑ کر اللہ کا راستہ مل جائے) ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ راہ خدا سے منہ موڑ کر دنیا کے طلبگار ہوتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ حرام مال چاہتے ہیں۔
اولئک فی ضلل لعبید ایسے لوگ بڑی دور کی گمراہی میں ہیں ‘ یعنی ایسی گمراہی میں ہیں جو حق سے دور ہے۔
حق سے دور ہونا حقیقت میں گمراہ کا وصف ہے لیکن بطور مبالغہ کے گمراہی کی صفت قرار دے دیا گیا۔
Ayah 14:4وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ اور ہم نے ہر پیغمبر کو اسی کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا۔
قَوْمِہٖ سے مراد ہے : وہ قوم جس میں پیغمبر پیدا ہوا اور مبعوث ہوا۔ عبد بن حمید ‘ ابن جریر اور ابن المنذر نے حضرت قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ لسان قوم سے مراد ہے : قوم کی بولی۔ اگر قوم عربی ہوئی تو پیغمبر کی زبان بھی عربی ہوئی اور عربی میں ہی اس کو پیام دے کر بھیجا گیا اور اگر قوم کی زبان عجمی ہوئی تو پیغمبر کو بھی عجمی زبان میں پیام دے کر بھیجا گیا۔ اسی طرح سریانی کو سریانی زبان میں (اور ہندی کو ہندی زبان میں۔ مترجم) پیام دیا گیا۔
لیبین لھم تاکہ (پیغمبر کی امت کو جو احکام دئیے گئے تھے) وہ قوم کے سامنے کھول کر بیان کر دے اور قوم والے آسانی کے ساتھ ان کو سمجھ لیں اور پیغمبر کو قوم کے خلاف تبلیغ کی ایک مضبوط دلیل مل جائے۔ رسول اللہ ﷺ سے پہلے ہر پیغمبر کو اس کی قوم کی اصلاح کیلئے (خصوصیت کے ساتھ) بھیجا گیا تھا لیکن رسول اللہ ﷺ کو تمام انسانوں کی ہدایت کیلئے بھیجا گیا مگر اوّل اپنی قوم کو تبلیغ کرنے کیلئے آپ کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِْیْنَ ۔ دوسری آیت ہے : لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرَیٰ وَمَنْ حَوْلَھَا۔ تیسری آیت ہے : لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ ٰاٰبآءُ ھُمْ (اوّل آیت میں صرف اقرباء کو تبلیغ کرنے کا حکم ہے ‘ دوسری آیت میں اہل مکہ اور دوسرے آفاقیوں کو اور تیسری آیت میں تمام عرب کو۔ مترجم) اسلئے اہل حجاز کیلئے (اوّل اور بلاواسطہ) اور پھر بالواسطہ تمام انسانوں کیلئے آپ کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا اور واضح عربی زبان میں پیام نازل فرمایا گیا۔ پس اہل حجاز نے اللہ کا کلام اور پیام رسول اللہ ﷺ سے سیکھا ‘ پھر اس کو منتقل کیا اور دوسرے لوگوں نے (اپنی زبانوں میں) اس کے ترجمے کئے۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگ خیر و شر میں قریش کے تابع ہیں۔ رواہ احمد و مسلم فی الصحیح عن جابر۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کفار قریش چونکہ سب سے پہلے منکر نبوت ہوئے ‘ اس لئے دوسرے کافر نبوت کفار قریش کے تابع ہوئے اور کفار قریش سب کے امام۔ اسی طرح جو قریش ایمان لے آئے ‘ وہ دوسروں سے پہلے ایمان لائے اور دوسرے لوگ ان کے بعد مؤمن ہوئے ‘ اس لئے ایمان لانے والے قریشی امام اور دوسرے مؤمن ان کے تابع ہوئے۔ پس خیر و شر دونوں میں قریش امام اور باقی لوگ ان کے پیرو قرار پائے۔
حضرت جریر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ قائم کیا ‘ اس کو اس طریقے (پر چلنے کا اور قائم کرنے) کا ثواب بھی ملے گا اور اس طریقے پر جتنے لوگ چلیں گے ‘ ان کے ثواب کے برابر بھی اجر ملے گا (بعد کو) اس طریقہ پر عمل کرنے والوں کے ثواب میں کمی نہیں کی جائے گی (ایسا نہ ہوگا کہ ان کا ثواب گھٹا کر طریقۂ حسنہ قائم کرنے والے کا ثواب بڑھا دیا جائے) اور جس نے اسلام میں کوئی طریقہ برا جاری کیا ‘ اس پر اس برے طریقے (کو اختیار کرنے) کا گناہ بھی ہوگا اور (آئندہ) جو لوگ اس طریقے پر عمل کریں گے ‘ ان کا گناہ بھی ہوگا مگر اس سے برے طریقہ پر چلنے والوں کے گناہ (اور سزا) میں کوئی کمی نہیں ہوجائے گی۔ رواہ مسلم۔
ابن عساکر نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابو سعید کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے مدینے والو ! لوگ علم میں تمہارے تابع ہیں۔ مدینے والوں سے مراد ہیں : انصار اور مہاجر۔ دوسرے لوگ مہاجرین و انصار کے تابع ہیں مگر انصار ‘ دین (خلافت) میں مہاجرین کے تابع ہیں۔ دونوں حدیثوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
حضرت ابو رافع کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنے گھر والوں کیلئے شیخ (سب کا بزرگ) ایسا ہے جیسے امت کیلئے پیغمبر۔ رواہ ابن النجار والجلیلی فی مشیختہ۔ حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنے گھر میں شیخ ایسا ہے جیسے اپنی قوم (امت) میں پیغمبر۔ رواہ ابن حبان فی الضعفاء۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ رواہ احمد والترمذی وابو داؤد وابن ماجۃ والدارمی عن کثیر بن قیس۔ ترمذی نے راوی کا نام قیس بن کثیر بتایا ہے۔
حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اور لوگ تمہارے متبع ہیں۔ لوگ تمہارے پاس اطراف ملک سے دین سیکھنے آتے ہیں۔ تم ان سے اچھا سلوک کرو ‘ بھلائی کی ان کو نصیحت کرو۔ رواہ الترمذی۔
بعض علماء نے لکھا ہے کہ حدیث الشیخ فی بیتہ کالنبی فی قومہٖ میں قومہٖ کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے (اور النبی سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں) اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمام کتابیں عربی میں اتاری گئی تھیں ‘ پھر حضرت جبرئیل نے ان کا ترجمہ مختلف (انبیاء کی) زبانوں میں کیا۔ ابن مردویہ نے بوساطت کلبی ‘ حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت جبرئیل کو عربی زبان میں وحی کی جاتی تھی ‘ پھر حضرت جبرئیل ہر نبی کے پاس ان کی قوم کی زبان میں وحی لے کر آتے تھے۔
ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت سفیان ثوری کا قول نقل کیا ہے کہ (پیغمبروں پر) وحی تو صرف عربی میں نازل کی گئی ‘ پھر ہر نبی نے وحی کا ترجمہ اپنی قوم کی زبان میں کردیا۔ سفیان ثوری نے یہ بھی کہا کہ قیامت کے دن سریانی زبان ہوگی اور جنت میں جو لوگ جائیں گے ‘ وہ عربی میں کلام کریں گے۔
(حضرت مفسر نے کہا) میں کہتا ہوں : قَوْمِہٖ کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع کرنا بعید از فہم ہے۔ آیت لِیُبَیِّنَ لَھُمْ بِلِسَانِ قَوْمِہٖ کی صراحت اس کے خلاف ہے۔
فیضل اللہ من یشآء پس اللہ گمراہ کردیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ یعنی ایمان کی توفیق نہیں دیتا۔
ویھدی من یشآء اور جس کو چاہتا ہے ہدایت یاب کرتا ہے۔ یعنی ایمان کی توفیق دے دیتا ہے اور حق کا یقین اس کے دل میں پیدا کردیتا ہے۔
وھو العزیز اور وہی غالب ہے ‘ اس کی مشیّت پر کوئی غالب نہیں۔ جس کو وہ ہدایت کر دے ‘ اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جس کو وہ گمراہ کر دے ‘ اس کو کوئی ہدایت یاب نہیں کرسکتا۔
الحکیم وہی حکمت والا ہے۔ اپنی مصلحت کے تحت ہدایت یاب یا گمراہ کرتا ہے۔
Ayah 14:5ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا اور ہم نے اپنی (نو) نشانیاں دے کر موسیٰ کو بھیجا۔
ان اخرج قومک من الظلمت الی النور وذکرھم بایم اللہ (ہم نے یہ پیام دے کر بھیجا) کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاؤ اور ان کو اللہ کی نعمتوں کی یاددہانی کرو۔
ایَّام اللہ سے حضرت ابن عباس ‘ حضرت ابی بن کعب ‘ مجاہد اور قتادہ کے نزدیک اللہ کی نعمتیں مراد ہیں اور مقاتل کے نزدیک وہ واقعات مراد ہیں جو گزشتہ امتوں (عاد ‘ ثمود اور قوم نوح) کو پیش آئے۔ محاورہ میں بولا جاتا ہے کہ فلاں شخص ایام العرب کا عالم ہے ‘ یعنی عرب کی لڑائیوں سے واقف ہے۔ اس تقریر پر کلام کا مطلب اس طرح ہوگا کہ اپنی قوم کو وہ واقعات بتاؤ جو اللہ نے گزشتہ ایام میں ظاہر کئے خواہ وہ بصورت نعمت ہوں یا بشکل مصیبت۔
ان فی ذلک لایت بلاشبہ ان واقعات میں (ا اللہ کی ہستی ‘ اس کی قدرت و حکمت اور توحید کی) بڑی نشانیاں ہیں۔
لکل صبار ہر ایسے آدمی کیلئے جو (مصیبت اور طاعت اور گناہ سے اجتناب پر) بہت صبر کرنے والا
شکور (اور نعمتوں پر) بڑا شکر ادا کرنے والا ہو۔ مراد یہ ہے کہ ہر مؤمن کیلئے اس میں بڑی نشانیاں ہیں۔ صبار اور شکور کے الفاظ سے اس طرف اشارہ ہے کہ ہر مؤمن کے اندر صبر و شکر کی صفت ہونی لازم ہے۔ بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابن ابی حاتم نے باسناد ابو طبیان ‘ حسب روایت علقمہ ‘ حضرت ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے کہ صبر آدھا ایمان ہے اور یقین پورا ایمان۔ یہ قول علاء بن بدر کے سامنے ذکر کیا گیا تو علاء نے کہا : کیا یہ قرآن میں نہیں ہے ؟ کیا اللہ نے نہیں فرمایا : اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتِ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتِ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ (یعنی ایک آیت میں اللہ نے صبار و شکور کیلئے اور دوسری آیت میں مؤمنین کیلئے اس کو آیات توحید ذاتی و صفاتی قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ صابر و شاکر سے مراد مؤمن ہی ہے) ۔
بیہقی نے حضرت انس کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ ایمان دو حصوں کا مجموعہ ہے : ایمان کا آدھا حصہ صبر میں اور آدھا حصہ شکر میں ہے۔ طبرانی نے مکارم الاخلاق میں اور ابو یعلی نے نقل کیا ہے کہ ایمان ‘ صبر و سماحت (ایثار) کا نام ہے۔
مسلم اور امام احمد نے حضرت صہیب کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مؤمن کا بھی عجیب معاملہ ہے ‘ اس کا ہر کام خیر ہی خیر ہے۔ مؤمن کے علاوہ کسی اور کو یہ بات نصیب نہیں۔ اگر اس کو سکھ پہنچتا ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور یہ اس کیلئے خیر ہوجاتا ہے اور دکھ پہنچتا ہے تو صبر کرتا ہے اور یہ اس کیلئے خیر ہوجاتا ہے۔
بیہقی نے حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت سے ان الفاظ کے ساتھ یہ حدیث نقل کی ہے : مؤمن کی عجیب حالت ہے ‘ اگر اس پر مصیبت آتی ہے تو وہ امید ثواب رکھتا ہے اور صبر کرتا ہے اور اس کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ اللہ کی حمد اور شکر کرتا ہے۔ مؤمن کو ہر بات میں ثواب دیا جاتا ہے یہاں تک کہ جو لقمہ اٹھا کر وہ اپنے منہ میں رکھتا ہے (اس کا بھی اس کو ثواب ملتا ہے) ۔ حضرت ابو درداء کا بیان ہے : میں نے خود سنا ‘ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے کہ اللہ نے فرمایا : عیسیٰ ! میں تیرے بعد ایک ایسی امت پیدا کروں گا کہ جب ان کو کوئی مرغوب خاطر چیز حاصل ہوگی تو وہ اللہ کی حمد کریں گے اور اگر کوئی ناگوار بات ان کو پیش آئے گی تو وہ ثواب کی امید رکھیں گے اور صبر کریں گے حالانکہ (ان میں) نہ برداشت ہوگی نہ سمجھ۔ حضرت عیسیٰ نے عرض کیا : اے میرے رب ! یہ بات ان کو کیسے حاصل ہوگی جبکہ ان کو نہ برداشت حاصل ہوگی نہ عقل۔ فرمایا : میں ان کو اپنی دانش اور علم سے عطا کروں گا۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔
Ayah 14:6واذ قال موسیٰ لقومہ اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذ انجکم من ال فرعون یسومونکم سوء العذاب ویذبحون انباء کم ویستحیون نساء کم اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو تم پر ہوئی جبکہ اللہ نے تم کو فرعون والوں سے نجات دی۔ وہ تم کو بری تکلیفیں دیتے تھے اور تمہارے لڑکوں کو قتل کرتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ نعمت سے مراد انعام (بمعنی مصدری) نہیں ہے بلکہ عطیۂ الٰہی مراد ہے۔ عذاب سے مراد قتل اولاد نہیں بلکہ بنی اسرائیل کو غلام بنانا اور سخت ترین کام لینا مراد ہے ‘ کیونکہ وَیُذَبِّحُوْنَ کا عطف یَسُوْمُوْنَ پر ہے اور عطف مغایرت کو چاہتا ہے (معطوف ‘ معطوف علیہ سے غیر ہوتا ہے) ہاں ‘ سورة بقرہ اور سورة اعراف میں عذاب سے مراد ذبح کرنا ہی ہے۔
وفی ذلکم بلاء من ربکم عظیم اور تمہاری ان تمام باتوں میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش ہے۔
Ayah 14:7واذ تأذن ربکم لئن شکرتم لا زیدنکم ولئن کفرتم ان عذابي لشدید اور جب تمہارے رب نے اطلاع دے دی تھی کہ اگر شکر کرو گے تو میں تم کو اور زیادہ دوں گا اور ناشکری کرو گے تو (سمجھ لو) میرا عذاب یقیناً سخت ہے۔ یہ بھی حضرت موسیٰ کے کلام کا ایک حصہ ہے۔ تَأَذَّنَ کا معنی ہے : اطلاع دے دی ‘ بتادیا اور شَکَرْتُمْ وَکَفَرتُمْ کا خطاب بنی اسرائیل کو ہے۔ شکر نعمت سے مراد ہے : ایمان لانا اور اپنے پیغمبر کے حکم پر چلنا۔ شکر ‘ زیادتی نعمت کا موجب ہے ‘ موجود نعمت کو برقرار رکھتا ہے اور غیر موجود کے حاصل ہونے کا ذریعہ ہوجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کو شکر دیا گیا (شکر کرنے کی توفیق دی گئی) وہ زیادتی سے محروم نہ رہے گا۔ رواہ ابن مردویہ عن ابن عباس۔
بعض اہل تفسیر نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اگر تم اطاعت (کی شکل میں شکر ادا) کرو گے تو میں تمہارے ثواب میں زیادتی کروں گا۔
اِنَّ عَذَابِی لَشَدِیْدٌ سے مراد یہ ہے کہ میں تم کو سخت عذاب دوں گا ‘ دنیا میں اپنی نعمت تم سے چھین لوں گا اور آخرت میں عذاب دوں گا کیونکہ میرا عذاب سخت ہے۔
آیت میں وعدۂ زیادت کی تو صراحت ہے اور وعید عذاب کی طرف اشارہ ہے ‘ اس سے تنبیہ مقصود ہے اس امر پر کہ زیادتی نعمت تو شکر کی حالت میں لازم ہے ‘ اس کی خلاف وزری ممکن نہیں اور ناشکری پر عذاب کی وعید کو پورا کرنا اللہ کی مشیّت پر موقوف ہے۔ وہ چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔
Ayah 14:8وقال موسیٰ ان تکفروا انتم ومن فی الارض جمیعا فان اللہ لغني حمید اور موسیٰ نے کہا :
(اے بنی اسرائیل ! ) اگر تم اور تمام زمین کے باشندے اللہ کی ناشکری کریں تو اللہ (تم سب کے شکریہ سے) بےنیاز ہے ‘ فی نفسہٖ وہ مستحق حمد اور محمود ہے۔ اس کی حمد ابدی ازلی ہے ‘ خود اس کی ذات سے پیدا ہو رہی ہے۔ فرشتے بھی اس کی حمد کرتے ہیں اور کائنات کا ذرّہ ذرّہ اس کی حمد میں مشغول ہے۔ پورا کلام اس طرح تھا : اگر تم ناشکری کرو گے تو اپنے آپ کو خود نقصان پہنچاؤ گے ‘ اپنی ذات کو مستحق عذاب اور ثواب سے محروم بناؤ گے۔ اللہ بےنیاز اور مستحق حمد ہے۔
Ayah 14:9الم یاتکم نبؤ الذین من قبلکم قوم نوح وعاد وثمود۔ والذین من بعدھم کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی (تباہی) کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے گذر چکے ہیں ‘ نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور وہ لوگ جو ان کے بعد ہوئے۔ جیسے حضرت ابراہیم اور حضرت لوط کی قومیں اور اصحاب الرس اور مدین والے اور ایکہ والے اور تبع کی قوم۔ یہ بھی حضرت موسیٰ کے کلام کا جزء ہے ‘ اس صورت میں بنی اسرائیل کو خطاب ہے۔ یا اللہ کا کلام ہے ‘ اس صورت میں امت محمدیہ کو خطاب ہوگا۔
یا یعلمھم الا اللہ جن (کی گنتی ‘ شمار) کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ یہ جملہ معترضہ ہے۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن مسعود نے یہ آیت تلاوت کی ‘ پھر فرمایا : نسب بیان کرنے والے جھوٹے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : حضرت ابراہیم اور عدنان کے درمیان تیس قرن ہوئے ہیں جن سے سوائے اللہ کے کوئی واقف نہیں۔ امام مالک بن انس کو یہ امر پسندیدہ نہ تھا (یعنی جائز نہ سمجھتے تھے) کہ کوئی شخص مسلسل اپنے اسلاف کا سلسلہ پشت در پشت حضرت آدم تک جوڑتا چلا جائے اور رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی کے متعلق بھی امام موصوف کی یہی رائے ہے۔
جاء تھم رسلھم بالبینت ان کے پیغمبر (ان کی طرف سے) کھلے واضح معجزات لے کر پہنچے (تو غصہ یا تعجب یا استہزاء سے)
فردوا ایدیھم فی افواھم تو انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے منہ میں دے دئیے۔
حضرت ابن مسعود نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : انہوں نے غصہ سے اپنے ہاتھ اپنے دانتوں سے کاٹے۔ اسی طرح دوسری آیت میں آیا ہے : عَضُّوْا عَلَیْکُمْ الْاَنَامل مِنْ الْغَیْظ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جب انہوں نے اللہ کی کتاب سنی تو تعجب کیا اور تعجب یا استہزاء سے اپنے ہاتھ منہ میں دے دئیے ‘ جیسے ہنسی سے مغلوب ہو کر کبھی آدمی منہ پر ہاتھ رکھ لیتا ہے۔ کلبی نے کہا : انہوں نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر پیغمبروں کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور اشارہ کر کے بتایا کہ منہ بند رکھو ‘ ایسی باتیں نہ کرو۔ مقاتل نے کہا : انہوں نے اپنے ہاتھ پیغمبروں کے منہ پر ان کو خاموش کرنے کیلئے رکھ دئیے۔ اس صورت میں اَفْوَاھِمِْ کی ضمیر پیغمبروں کی طرف راجع ہوگی۔ بعض علماء کے نزدیک ایدی کا معنی ہے : ایادی نعمتیں ‘ یعنی پیغمبروں کی نصیحتیں اور احکام شریعت و وحی۔ یعنی انہوں نے پیغمبروں کے احکام اور شریعت کو پیغمبروں کے منہ پر لوٹا کر دے مارا اور انکار کیا۔ مجاہد و قتادہ نے یہی مطلب بیان کیا ہے۔ محاورہ میں بولا جاتا ہے : میں نے اس کی بات اس کے منہ میں لوٹا دی (یعنی اس کے منہ پر) اس کی تکذیب کردی۔ بعض نے کہا : فِی اَفْوَاھِمِْ کا معنی ہے : بَاَفْوَاھِمِْ یعنی اپنی زبانوں سے انہوں نے احکام انبیاء کا انکار کیا اور پیغمبروں کی نصیحتوں کو لوٹا دیا۔
وقالوا انا کفرنا بما ارسلتم اور کہنے لگے : (تمہارے دعوے کے بموجب) جو احکام تم کو دے کر اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہے ‘ ہم (تمہارے دعوے کی صحت و حقانیت کے) منکر ہیں۔
وانا لفي شک مما تدعوننا الیہ مریب : اور جس امر کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو ‘ ہم تو اس کی جانب سے بہت بڑے شبہ میں ہیں جو ہم کو تردد میں ڈالے ہوئے ہے۔
Ayah 14:10قالت رسلھم افی اللہ شک ان کے پیغمبروں نے کہا : کیا تم کو اللہ کے بارے میں شک ہے ؟ استفہام انکاری ہے ‘ یعنی ہم تو تم کو اللہ کی توحید کی طرف بلا رہے ہیں اور اللہ کی توحید قابل شک نہیں ہے ‘ تمام محسوسات اور ذہنی موجودات اللہ کی توحید کو پکار پکار کر ظاہر کر رہی ہیں۔
فاطر السموت والارض جو آسمانوں کو اور زمین کو عدم سے وجود میں لانے والا ہے۔ یہ فقرہ اللہ کی صفت یا لفظ اللہ سے بدل ہے۔
یدعوکم وہ تم کو (اپنی طرف ہم کو بھیج کر) بلا رہا ہے۔ تم کو دعوت دے رہا ہے کہ تم اس پر ایمان لاؤ۔
لیغفرلکم من ذنوبکم تاکہ تمہارے گناہ معاف کر دے۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم کو مغفرت کی طرف بلا رہا ہے۔
بعض علماء کے نزدیک مِنْ ذُنُوْبِکُمْ میں مِنْ زائد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے سب گناہ معاف کرنے کی طرف تم کو بلا رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسلام ڈھا دیتا ہے اس (گناہ) کو جو مسلمان ہونے سے پہلے کا ہو۔ رواہ مسلم فی حدیث عمرو بن العاص۔ بعض کے نزدیک مِنْ ذُنُوْبِکُمْ میں مِنْ تبعیضیہ ہے ‘ کیونکہ اسلام سے وہ گناہ معاف ہوتے ہیں جو براہ راست اللہ کے حقوق سے متعلق ہوں ‘ انسان کے حقوق معاف نہیں ہوتے۔ ایک عالم کا قول ہے کہ قرآن میں جہاں جہاں کافروں کو خطاب ہے ‘ وہاں مِنْ ضرور آیا ہے اور جہاں مؤمنوں کو خطاب ہے ‘ وہاں مِنْ نہیں ہے۔ اس تفریق کی یہ وجہ معلوم ہوتی ہے کہ کافروں کے خطاب میں جو مغفرت کا اظہار کیا گیا ہے ‘ وہ شرط ایمان پر مبنی ہے اور مسلمانوں کے خطاب میں جو مغفرت کا وعدہ کیا گیا ہے ‘ اس کا جوڑ طاعت اور اجتناب عن المعصینہ کے ساتھ ہے ‘ پس ادائے طاعت اور گناہ سے اجتناب کے ذیل میں حقوق انسانی کی ادائیگی اور معاملات باہمی میں حق تلفی سے اجتناب بھی داخل ہے ‘ اسلئے خطاب حقوق اللہ اور حقوق العباد دنوں کو شامل ہے۔
ویؤخرکم الی اجل مسمی اور تم کو ایک معین وقت تک چھوڑے رکھے۔ اَجَلٍ مُّسَمًّی یعنی وہ وقت جو اللہ نے زندگی کا مقررہ کردیا ہے ‘ اس معین وقت تک اللہ تم کو چھوڑے رکھے گا۔ عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا۔
اس آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ جن سابق قوموں کو کفر پر قائم رہنے کی وجہ سے ہلاک کیا گیا ‘ ان کی ہلاکت کفر پر اصرار رکھنے کے ساتھ مشروط تھی اور یہ قضائے ہلاکت معلق تھی۔ اگر وہ ایمان لے آتے تو ان کی عمریں طویل ہوجاتیں (اور انتہائے عمر سے پہلے ہلاک نہ ہوتے) ۔
قالوا ان انتم الا بشر مثلنا کافروں نے (پیغمبروں سے) کہا : تم تو بس ہماری طرح آدمی ہو۔ یعنی تمہاری حقیقت اور صورت دوسرے انسانوں جیسی ہے ‘ تم کو ہم پر کوئی (خلقی) برتری حاصل نہیں۔ پھر خصوصیت کے ساتھ تمہارے پیغمبر ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ اگر انسانوں کی ہدایت کے لئے اللہ کو کوئی نبی اور رسول بھیجنا ہی تھا تو اس نوع میں سے بھیجتا جو نوع انسان سے افضل ہوتی ہے۔ دوسری آیت میں کافروں کا اسی مضمون کا قول نقل کیا ہے ‘ فرمایا ہے : لَوْ شَآء اللّٰہُ لَاَنْزَلَ مَلَآءِکَۃً ۔
تریدون ان تصدونا عما کان یعبد اباؤنا تونا بسلطن مبین (اس دعوت سے) تمہارا مقصدیہ ہے کہ جن معبودوں کی ہمارے اسلاف پرستش کرتے تھے ‘ ان کی پرستش سے ہم کو روک دو (اگر یہی بات ہے) تو کوئی کھلی ہوئی دلیل پیش کرو۔ جس سے تمہاری فضیلت اور عزت نبوت کا استحقاق ثابت ہو۔ یا مراد یہ ہے کہ ایسی واضح حجت پیش کرو جس سے تمہارا دعوئے نبوت ثابت ہو سکے۔ کافروں نے واضح معجزات کو نہیں مانا اور محض عناد اور ضد کے زیر اثر مزید واضح دلائل کی طلب کی۔
Ayah 14:11قالت لھم رسلھم ان نحن الا بشر مثلکم ولکن اللہ یمن علی من یشاء من عبادہ کافروں سے ان کے پیغمبروں نے کہا : بیشک ہم تمہاری ہی طرح آدمی ہیں ‘ لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے فضل کرتا ہے۔ یعنی نبوت اور دوسری نعمتیں عنایت کرتا ہے۔ انبیاء نے عام نوع بشری سے اپنا اشتراک تسلیم کرتے ہوئے اختصاص نبوت کو اللہ کا فضل و انعام بیان کیا۔
وما کان لنا ان ناتیکم بسلطن الا باذن اللہ اور ہمارے لئے ممکن نہیں کہ اللہ کی مشیّت کے بغیر ہم تمہارے سامنے کوئی دلیل لاسکیں۔ یعنی اپنے اختیار اور قابو سے معجزات پیش کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں کہ ہم تمہاری درخواست پوری کریں۔ اس کا مدار تو اللہ کی مشیّت پر ہے ‘ وہی ہر نبی کو ایسے اور اتنے معجزات عطا فرماتا ہے جن سے نبوت کا ثبوت ہوجائے۔
وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہئے۔ اس کلام سے انبیاء نے دوسرے ساتھی ایمانداروں کو ہدایت کردی کہ کافروں کے مقابلے میں تم کو اللہ پر اعتماد کرنا چاہئے اور اپنے توکل علی اللہ کا بھی اظہار کردیا۔ آیت سے درپردہ یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ اللہ پر ہی بھروسہ رکھنا تقاضائے ایمان ہے ‘ کیونکہ مؤمن کا جب یہ پختہ عقیدہ ہوجاتا ہے کہ خیر و شر کو پیدا کرنے ولا اور نفع و ضرر پہنچانے والا اللہ کے سوا اور کوئی نہیں تو لازمی طور پر وہ اپنے تمام معاملات اللہ کے سپرد کردیتا ہے۔
Ayah 14:12وما لنا الا نتوکل علی اللہ وقد ھدئنا سبلنا اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ رکھیں جبکہ اسی نے ہم کو ہماری راہیں دکھا دی ہیں جن کی وجہ سے ہم جانتے اور پہچانتے ہیں کہ تمام امور اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں ‘ کسی دوسرے کے اختیار میں نہیں ہیں۔
ولنصبرون علی ما اذیتمونا اور ہم (اور ہمارے مؤمن ساتھی) ضرور تمہاری طرف سے ایذاء رسانیوں پر صبر کریں گے۔ یہ محذوف قسم کا جواب ہے۔ پہلے انبیاء نے اللہ پر توکل کرنے اور کافروں کی طرف سے بےنیازی کا اظہار کیا اور اس کلام سے اس کو پختہ کردیا۔
وعلی اللہ فلیتوکل المتوکلون اور اہل توکل کو اللہ ہی پر توکل کرنا لازم ہے۔ یعنی ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ اللہ ہی پر توکل کریں۔
Ayah 14:13وقال الذین کفروا الرسلھم لنخرجنکم من ارضنا او لتعوذن فی ملتنا اور کافروں نے اپنے پیغمبروں سے کہا : ہم تم کو اپنی زمین (بستی ‘ شہر وغیرہ) سے ضرور نکال باہر کردیں گے یا تم کو ہمارے مذہب میں ضرور لوٹ کر آنا ہوگا۔ یعنی اپنا مذہب چھوڑ کر ہمارے مذہب میں آنا ہوگا۔ لوٹ کر آنے سے مراد ہے : اپنا مذہب چھوڑ کر کافروں کے دین میں آنا کیونکہ پیغمبر کبھی کافروں کے مذہب پر پہلے بھی نہ تھے ‘ اسلئے لوٹنے سے مراد دوبارہ کفر اختیار کرنا نہیں ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مخاطب تمام مؤمن ہوں ‘ پیغمبر بھی اور ان پر ایمان لانے والے رفقاء بھی۔ جماعت کو بطور تغلیب خطاب کیا گیا (پیغمبروں پر ایمان لانے والے پہلے کفر پر تھے ‘ کفر چھوڑ کر ایمان لائے تھے اور پیغمبر کبھی کافر نہ تھے ‘ اسلئے خطاب تو پیغمبروں کو کیا مگر روئے خطاب دوسرے مؤمنوں کی طرف ہے کہ تم کو دوبارہ اپنے اصلی مذہب کی طرف لوٹنا لازم ہے ورنہ ہم تم کو نکال دیں گے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لفظ اَوْ کا معنی الاَّ اَنْ (ورنہ) یا اِلٰی اَن (یہاں تک) ہو ‘ اس وقت دھمکی کا تعلق صرف اخراج سے ہوگا۔ مطلب اس طرح ہوگا کہ ہم تم کو اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ ‘ یا یہاں تک کہ تم ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ۔
فاوحی الیھم ربھم لنھلکن الظلمین پس پیغمبروں کے رب نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ضرور ہلاک کردیں گے۔ یعنی ہم نے وحی بھیجی اور کہہ دیا۔
Ayah 14:14ولنسکننکم الارض من بعدھم اور (کافروں کے گھروں اور) ان کی زمین میں ان کے بعد تم کو (یعنی پیغمبروں کو اور مؤمنوں کو) ضرور بسائیں گے۔ ان کے بعد سے مراد ہے : ان کو ہلاک کرنے کے بعد۔
ذلک لمن خاف مقامي وخاف وعید (میری) یہ (رحمت و عنایت) اس شخص کیلئے ہوگی جو (قیامت کے دن) میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھتا ہو اور میرے عذاب کی وعید سے (یا میرے موعودہ عذاب سے جو کافروں کیلئے مقرر ہے) خوف کرتا ہو۔
مَقَامِی سے مراد ہے : اللہ کے سامنے قیامت کے دن کھڑا ہونا۔ لفظ مقام کا اس معنی میں استعمال آیت وَلِمَنْ خافَ مَقَام ربّہ جنتان میں بھی ہوا ہے۔ یا مقام سے مراد ہے : قیام ‘ یعنی اعمال کی نگہداشت۔ مطلب یہ ہے کہ میں جو اعمال کو محفوظ رکھتا ہوں اور ہر عمل میری نگہداشت میں ہے ‘ مؤمن اس سے ڈرتا ہے (اور حفظ اعمال پر یقین رکھتا ہے) بعض علماء نے کہا : مقام کا لفظ زائد ہے ‘ یعنی جو شخض مجھ سے ڈرتا ہے۔
Ayah 14:15واستفتحوا اور انہوں نے (یعنی انبیاء نے اللہ سے دشمنوں پر) فتح پانے کی دعا کی۔ یہی مضمون آیت رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَّا بالْحَقِّ میں بھی آیا ہے۔ اِسْتَفْتَحُوْا کا عطف اوحی پر ہے اور ضمیر انبیاء کی طرف لوٹ رہی ہے (اسی کے موافق ہم نے ترجمہ کیا ہے) ابن جریر ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے یہی قول نقل کیا ہے اور قتادہ کا بھی یہی قول ہے۔ یعنی جب انبیاء قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے فتح پانے اور کافروں پر عذاب نازل ہونے کی درخواست کی۔ حضرت نوح نے کہا : رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا اور حضرت موسیٰ نے کہا : رَبَّنَآ اَطْمِسْ عَلٰیٓ اَمْوَالِھِمْ ۔ حضرت ابن عباس اور مقاتل کا قول ہے کہ اِسْتَفْتَحُوْا کی ضمیر کافروں کی طرف لوٹ رہی ہے۔ کافروں کا اسی مضمون کا قول دوسری آیت میں بھی آیا ہے ‘ کافروں نے کہا تھا : اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَْ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِنَ السَّمَآءِ اے اللہ ! اگر یہ ہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے۔ بعض اہل تفسیر نے کہا : اِسْتَفْتَحُوْا کی ضمیر دونوں فریقوں کی طرف راجع ہے۔ اہل حق اور اہل باطل دونوں نے دعا کی کہ سچے کو فتح دی جائے اور باطل پرست کو تباہ کردیا جائے۔ کُلُِّ حزْبٍم بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ ہر فریق اپنے مسلک پر مگن تھا۔
وخاب کل جبار عنید اور ہر ظالم سرکش ناکام ہوگیا۔ اس کا عطف محذوف کلام پر ہے ‘ یعنی مؤمن کامیاب ہوئے اور نامراد و تباہ ہوگیا ہر سرکش مغرور۔ صاحب قاموس نے جبار کا ترجمہ سرکش اور عنید کا ترجمہ مغرور کیا ہے۔ تجبر کا معنی ہے : تکبر یعنی بڑا ہونا (خواہ برحق ہو یا ناحق) اللہ جبار ہے یعنی برحق ‘ اس کے اندر کبریائی ہے اور ہر سرکش بھی جبار ہے۔ یعنی اس کی بزرگی کا دعویٰ تو ہے مگر غلط اور ناحق۔ یا جبار ایسے شخص کو کہتے ہیں جس کے دل میں رحم کا گزر بھی نہ ہو اور ناحق خونریزی کرتا رہے۔ یا جبار ایسے شخص کو کہتے ہیں جو انتہائی غرور کی وجہ سے کسی کا اپنے اوپر کوئی حق نہ سمجھے (اور ہر ذمہ داری سے اپنی ذات کو بالا قرار دے) بغوی نے لکھا ہے کہ جبار اس کو کہتے ہیں جو اپنی ذات سے اعلیٰ اور بالا کسی کو نہ سمجھے۔ جَبْریَّۃٌ (مصدر ہے) انتہائی بزرگی کی طلب کہ اس سے اونچی کوئی چیز نہ ہو۔ اسی معنی کی وجہ سے اس صفت کا استحقاق صرف حق تعالیٰ کو ہے ‘ اس کے سوا جو بھی اس صفت کا دعویٰ کرے گا وہ مستحق لعنت و ہلاکت اور نامراد ہوگا۔ بعض علماء نے کہا : جبار اس کو کہتے ہیں جو مخلوق کو اپنے حکم پر چلنے کیلئے مجبور کرے اور عنید کا معنی ہے : حق سے عناد رکھنے والا اور سچائی سے بیزار ہونے والا۔ قاموس میں ہے : عَنَدَ دانستہ حق کی مخالفت کی۔ عنید و عاند حق کی دانستہ مخالفت کرنے والا۔ حضرت ابن عباس نے عنید کا ترجمہ کیا : حق سے روگردانی کرنے والا۔ مقاتل نے کہا : عنید متکبر کو کہتے ہیں۔ قتادہ نے کہا : عنید وہ شخص ہے جو لا الٰہ الا اللہ کا انکار کرے۔
Ayah 14:16من ورآۂ جھنم اس کے پیچھے (یعنی اس کے مرنے کے بعد اس کیلئے) جہنم ہے۔ مقاتل نے یہی ترجمہ کیا ہے۔ یا یہ مراد ہے کہ اس کے سامنے جہنم ہے۔ دنیا میں گویا وہ جہنم کے کنارے پر کھڑا ہوا ہے۔ جہنم اس کی گھات میں ہے۔ آخرت میں اس کو جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ ابو عبیدہ نے کہا : وراء کا ترجمہ ہے : آڑ۔ یہ لفظ اضداد میں سے ہے ‘ آگے اور پیچھے دونوں اس کے معنی ہیں۔
ویسقے من مآء صدید اور اس کو پانی یعنی کچ لہو پلایا جائے گا۔ صَدِیْد وہ پانی جو دوزخیوں کے جوف اور کھالوں سے بہے گا اور پیپ و خون اس میں آمیختہ ہوگا۔ محمد بن کعب نے کہا : جو پانی زناکاروں کے اعضاء نہانی سے بہے گا ‘ وہ کافروں کو پلایا جائے گا۔ برقول بیہقی ‘ مجاہد نے صَدِیْد کا ترجمہ کیا : پیپ و خون (کچ لہو) ۔
امام احمد ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن المنذر ‘ بیہقی ‘ بغوی نے اور ابن ابی الدینا نے صفۃ النار میں اور حاکم نے اپنی صحیح اسناد سے حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کے سلسلہ میں فرمایا : صدیدکو دوزخی کے قریب لایا جائے گا تو اس کو برداشت نہ ہوگی اور زیادہ قریب لایا جائے گا تو اس کے چہرہ کو بھون ڈالے گا ‘ اس کے سر کی کھال گرپڑے گی۔ جب اس کو پئے گا تو انتڑیوں کو کاٹ کر دبر سے نکل جائے گا۔ پس اللہ فرمائے گا : وَسْقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَ ھُمْ وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ کَالْمُھْلِ یَشْوِی الْوُجُوْہَ ۔
Ayah 14:17یتجرعہ وہ گھونٹ گھونٹ کر کے اس کو پئے گا۔ یعنی تکلف کے ساتھ تھوڑا تھوڑا پئے گا (بدبو ‘ بدمزگی اور ناگواری کی وجہ سے پینے کے طریقے سے نہ پی سکے گا) ۔
ولا یکاد ویسیغہ اور آسانی کے ساتھ اس کو نگل نہ سکے گا۔ بلکہ وہ صدید اس کے حق کا پھندا بن جائے گا ‘ آسانی سے اندر نہ اترے گا اور یونہی کافر طول عذاب میں مبتلا رہے گا۔ سَوغ (مصدر) کا معنی ہے : آسانی کے ساتھ کسی پینے کی چیز کا حلق سے اتر جانا اور طبیعت کا اس کو (خوش گواری کے ساتھ) قبول کرلینا۔ قاموس میں ہے : سَاغ الشَّرابَ سَوْغًا آسانی کے ساتھ پینے کی چیز کو حلق میں اتار لیا۔
ویاتیہ الموت من کل مکان اور موت (یعنی تکلیفیں اور قسم قسم کے عذاب) ہر طرف سے اس پر آئیں گے۔
یعنی ہر طرف سے اس کو طرح طرح کا عذاب گھیر لے گا۔ یا الْمَوْت سے مراد موت کی سختیاں اور شدائد ہیں اور کُلِّ مَکَان سے مراد ہے : جسم کا ہر حصہ ‘ یعنی ہر حصۂ جسم سے اس پر موت کی سختیاں آئیں گی۔ ابن ابی شیبہ ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ابراہیم تیمی کا قول نقل کیا ہے کہ ہر (بن) مو سے اس پر موت (کی شدت) آئے گی۔
وما ھو یمیت اور وہ مردہ نہ ہوگا کہ تکلیف سے چھوٹ جائے۔ ابن جریج نے کہا : سانس گلے میں اٹکی رہے گی ‘ نہ منہ سے باہر نکلے گی نہ اندر ہی اترے گی۔ ابن المنذر نے فضیل بن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اس سے مراد سانس کا (گلے میں) بند ہوجانا ہے۔
ومن ورآۂ عذاب غلیظ اور اس (عذاب) کے بعد اس سے بھی سخت عذاب ہوگا۔ بعض علماء نے کہا کہ عَذَابٌ غَلِیْظ سے مراد ہے : دوزخ میں ہمیشہ رہنا ‘ کبھی نہ نکلنا۔
بعض اہل علم کہتے ہیں کہ آیت اِسْتَفْتَحُوْا کا انبیاء کے قصہ سے کوئی تعلق نہیں ‘ یہ بالکل الگ آیت ہے اور اس کا نزول مکہ والوں کے متعلق ہوا۔ اہل مکہ رسول اللہ ﷺ کی بددعا سے قحط میں مبتلاہو گئے تھے ‘ اسلئے انہوں نے فتح یعنی بارش کیلئے اللہ سے دعا کی مگر اللہ نے ان کی مراد پوری نہیں کی اور بجائے پانی کے دوزخ میں دوزخیوں کے جوف کا گندہ پانی پلائے جانے کی وعید سنا دی۔
Ayah 14:18مثل الذین کفروا بربھم جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ‘ کیا ان کی تعجب آفرین حالت ایسی ہے ؟
مِثَلُ سے مراد ہے : ایسی صفت جس میں ندرت ہو۔
اعمالھم کرماد اشتدت بہ الریح فی یوم عاصف (یعنی) ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے کچھ راکھ جس کو تیز آندھی کے دن ہوا تیزی کے ساتھ اڑا لے جائے۔ عصوف ہوا کا تیز چلنا (عاصف تیز چلنے والی ہوا) دن کو عاصف بطور مبالغہ قرار دیا گیا ‘ جیسے نہارہ صائم اور لیلہ نائم کہا جاتا ہے (آدمی دن میں روزہ رکھتا ہے اور رات کو سوتا ہے۔ دن کو روزہ دار اور رات کو سونے والا ‘ بطور مجاز کہا جاتا ہے) اعمال سے مراد ہیں : کافروں کی وہ خود تراشیدہ نیکیاں جن کے ثواب کے وہ امیدوار تھے ‘ جیسے (ان کی مفروضہ) خیرات ‘ کنبہ پروری ‘ اعانت فقراء ‘ آزادی غلاماں وغیرہ۔ ان تمام کارہائے خیر کی بنیاد چونکہ خدا شناسی نہ تھی اور ان سے اللہ کی خوشنودی مطلوب نہیں تھی۔ یا بتوں کے نام پر یہ نیکیاں کی جاتی تھیں جو ان کے کسی عمل اور عبادت سے واقف نہ تھے اور نہ بدلہ دینے کی ان میں طاقت تھی ‘ اسلئے اللہ نے ایسی خوش اعمالیوں کو آندھی کی خاک سے تشبیہ دی جس کو آندھی اڑا کرلے جاتی ہے۔
لا یقدرون مما کسبوا علی شیء انہوں نے (دنیا میں) جو کچھ کیا ہوگا (قیامت کے دن) اس کے کسی حصہ پر قادر نہ ہوں گے۔ یعنی کسی عمل کا کوئی ثواب نہ پائیں گے ‘ نام و نشان بھی کسی نیکی کا ان کو نظر نہ آئے گا۔ اس تشبیہ کا خلاصہ یہی ہے۔
ذلک یہ یعنی نیکی سمجھ کر کسی کام کو کرنا اور پھر اس کی نیکی کا برباد ہوجانا اور نیکی کا گمراہی پر مبنی ہونا،۔
ھو الضلل البعید (پرلے درجہ کی) حق سے بہت دور کی گمراہی ہے۔ بدکاریوں کا گمراہی ہونا تو درکنار ‘ ان کی تو نیکیاں بھی گمراہی ہیں۔
Ayah 14:19الم تر ان اللہ خلق السموات والارض بالحق کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ حق سے مراد ہے : حکمت کاملہ اور وہ طریقہ جو کائنات کی تخلیق کیلئے مناسب تھا۔ اس جہان بالا و پست کی یہی پر حکمت تخلیق حق و باطل میں امتیاز کا راستہ بتاتی اور صانع حکیم کی واحد ہستی کو ثابت کرتی ہے۔
ان یشا یذھبکم ویات بخلق جدید اگر وہ چاہے تو تم کو (دنیا سے) لے جائے (تم کو معدوم کر دے) اور نئی مخلوق پیدا کر دے جو تم سے زیادہ فرمانبردار ہو۔ جس نے یہ آسمان و زمین حکمت سے پیدا کئے ‘ ایسا بڑا قادر اس بات پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تم کو دنیا سے معدوم کر دے اور تمہاری جگہ کوئی نئی مخلوق پیدا کر دے۔
Ayah 14:20وما ذلک علی اللہ بعزیز اور یہ بات اللہ کیلئے کچھ بھی دشوار نہیں ہے۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک چیز پر وہ قادر ہو اور دوسری چیز اس کی قدرت سے خارج ہو اور جو ایسا قادر مطلق ہو ‘ وہی مستحق ہے اس امر کا کہ اس کی پرستش اور اطاعت کی جائے اور اسی سے ثواب کی امید رکھی جائے اور اسی کی ناراضگی سے خوف کیا جائے۔
Ayah 14:21وبرزوا اللہ جمیعا اور اللہ کے حکم سے (اور حساب فہمی کیلئے) سب کے سب (اپنی قبروں سے) باہر نکل آئے (یعنی قیامت کے دن یقیناً قبروں سے نکل آئیں گے ‘ گویا نکل ہی آئے) ۔
فقال الضعفؤ پس کہیں گے : کمزور (نچلے طبقہ کے) لوگ۔ کمزور سے مراد ہیں : مال و دولت میں کمزور ‘ یا عقل و دانش میں کمزور۔
للذین استکبروا ان لوگوں سے جو (دنیا میں) بڑے بن بیٹھے تھے۔ یعنی ان سرداروں اور لیڈروں سے کہیں گے جو پیغمبروں کے اتباع سے روکتے تھے۔
انا کنا لکم تبعا ہم تو بلاشبہ تمہارے تابع حکم تھے۔ تم نے پیغمبروں کی تکذیب اور ان سے اعراض کرنے کا حکم دیا تھا ‘ ہم تمہارے حکم پر چلے۔ تبعٌ‘ تابعٌکی جمع ہے۔
فھل انتم مغنون عنا من عذاب اللہ من شیء پس کیا (تم) ہم سے اللہ کے عذاب کا کچھ حصہ بھی دفع کر دو گے۔ مِنْ عَذَاب اللّٰہِ میں مِنْ بیانیہ ہے اور مِنْ شَیْءٍ میں مِنْ تبعیضیہ ہے۔
قالوا لو ھدٰئنا اللہ لھدینکم وہ کہیں گے : اگر اللہ ہم کو (ایمان کی) ہدایت نصیب کردیتا تو ہم تم کو ہدایت پر آنے کی دعوت دے دیتے۔ لیکن ہم گمراہ تھے ‘ سو ہم نے تم کو بھی گمراہ کردیا۔ جو چیز اپنے لئے پسند کی تھی ‘ وہی تمہارے لئے بھی پسند کی۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم تم کو آگ کے کنارے پر لے آئے ‘ اب اگر اللہ عذاب سے بچنے کا کوئی طریقہ ہم کو بتادیتا تو ہم تم کو وہی راستہ بتا دیتے اور تم کو عذاب سے بچا لیتے ‘ مگر نجات کا راستہ تو خود ہمارے لئے بھی بند کردیا گیا۔
سوآء علینا اجزعنا ام صبرنا ما لنا من محیص ہم بےقراری کریں یا صبر کریں ‘ اب ہمارے لئے دونوں باتیں برابر ہیں (کوئی بات سودمند نہیں) ہمارے لئے بچنے اور بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں۔ محیص اسم ظرف ہے ‘ حیصٌ مصدر۔ حیصکا معنی ہے : بھاگنے کیلئے مڑنا۔ یا محیصمصدر ہے ‘ جیسے مغیب۔ یہ جملہ یا سرداروں کے کلام کا جزء ہے یا دونوں فریقوں کا مقولہ ہے۔ مقاتل کا قول ہے کہ کافر دوزخ کے اندر سب مل کر پانچ سو برس تک فریاد وزاری کریں گے لیکن کوئی حاصل نہ ہوگا ‘ پھر پانچ سو برس تک صبر کریں گے ‘ پھر بھی کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ اس وقت کہیں گے : سَوَآءٌ عَلَیْنَآ اَجَزِعْنَآ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ ۔
ابن ابی حاتم ‘ طبرانی اور ابن مردویہ نے حضرت کعب بن مالک کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ دوزخی کہیں گے : آؤ ہم صبر کریں (شاید اللہ کو رحم آجائے) چناچہ پانچ سو برس تک صبر کریں گے اور جب یہ دیکھیں گے کہ کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو کہیں گے : سَوَآءٌ عَلَیْنَآ اَجَزِعْنَآ الخ۔
محمد بن کعب قرظی کا بیان ہے : مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ دوزخی دوزخ کے منتظمین سے کہیں گے : اُدْعُوْا رَبَّکُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَاب اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ ایک دن ہی ہمارے عذاب میں تخفیف کر دے۔ منتظمین دوزخ جواب دیں گے : الَمْ یَأتِکُمْ رُسْلُکمْ بالْبَیِّنَات کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر احکام واضحہ لے کر نہیں پہنچے تھے ؟ دوزخی کہیں گے : پہنچے کیوں نہ تھے۔ اس پر منتظمین جواب دیں گے : اُدْعُوْا وَمَا دُعَآءُ الْکَافِرِیْنَ الاَّ فِیْ ضلٰلٍ تم خود دعا کرو ‘ کافروں کی دعا کا سوائے ناکامی کے اور کچھ نتیجہ نہیں۔ جب وہ ناامید ہوجائیں گے تو کہیں گے : یا مالک لیقض عَلَیْنَا رَبُّکَ اے مالک ! (داروغۂ جہنم) تمہارا رب تو ہمارا کام تمام ہی کر دے (یعنی موت ہی دے دے تو اس عذاب سے چھوٹ جائیں) مالک ان کو اسّی برس تک کوئی جواب نہیں دے گا۔ اسّی برس میں ہر سال تین سو ساٹھ دن کا ہی ہوگا لیکن ہر دن ہزار برس کا ہوگا (یعنی ہمارے ہزار برس کے برابر ہوگا) اسّی برس کے بعد جواب دے گا : تم کو یہیں رہنا ہوگا۔ جب وہ ناامید ہوجائیں گے تو ایک دوسرے سے کہے گا : تم پر جو مصیبت آنی تھی ‘ وہ آ ہی گئی (اب جزع فزع کرنا بیکار ہے) ہم کو صبر کرنا چاہئے ‘ ممکن ہے صبر سے کچھ اچھا نتیجہ نکل آئے۔ جس طرح دنیا میں جن لوگوں نے اللہ کی اطاعت پر صبر کیا تھا (اور ہر دکھ کو برداشت کیا تھا) تو ان کو (آج) فائدہ ہوا۔ غرض بالاتفاق (مجبوراً ) صبر کریں گے اور طویل مدت تک صبر رکھیں گے (مگر بےسود) پھر جزع فزع کریں گے اور طویل مدت تک کریں گے (لیکن کچھ نتیجہ نہ ہوگا) آخر پکار اٹھیں گے : سَوَآءٌ عَلَیْنَآ اَجَزِعْنَآ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ یعنی کوئی بچنے کا مقام نہیں۔ اس کے بعد ابلیس کھڑا ہو کر ان کو خطاب کرے گا اور کہے گا : اللہ نے بلاشبہ تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے جو وعدے تم کو دئیے تھے ‘ اس کے خلاف ہوا مگر تم پر میری کوئی زبردستی نہ تھی۔ میں نے تو تم کو صرف دعوت دی تھی ‘ تم نے میری دعوت مان لی ‘ لہٰذا آج مجھے ملامت نہ کرو ‘ خود اپنے کو ملامت کرو۔ (1) [ اِنَّ اللّٰہَ وَعَدَکُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّکُمْ فَاَخْلَفْتُکُمْ وَمَا کَانَ لِیَ عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ الاّآ اَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ فَلاَ تَلُوْمُوْنِیْ وَلُوْمُوْآ اَنْفُسَکُمْ ط ] 1 بلیس کا یہ کلام سن کر لوگوں کو خود اپنے سے نفرت ہوجائے گی۔ اس پر ندا آئے گی : جتنی نفرت تم کو (آج) اپنے سے ہے ‘ اس سے زیادہ نفرت اللہ کو تم سے اس وقت تھی جب تم کو ایمان کی دعوت دی جا رہی تھی اور تم انکار کر رہے تھے۔ (2) [ لَمَقْتُ اللّٰہِ اَکْبَرُ مِنْ مَّقْتِکُمْ اَنْفُسَکُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَی الْاِیْمَانِ فَتَکْفُرُوْنَ ۔] یہ ندا سن کر وہ پکار اٹھیں گے : اے ہمارے رب ! (نبی کے قول اور تیرے وعدے کی سچائی) ہم نے دیکھ لی اور سن لیا۔ اب ہم کو (دنیا میں) پھر لوٹا دے ‘ ہم اچھے عمل کریں گے ‘ ہم کو یقین آگیا۔ (3) [ رَبَنَّآ ابْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ ۔] اللہ ان کی تردید میں فرمائے گا : وَلَوْ شِءْنَا الَاٰیَتِنَا کُلَّ نَفْسِ ھُدَاھَا۔ اَلْاٰیَات۔ وہ تیسری مرتبہ پکاریں گے : اے ہمارے رب ! ہم تیری دعوت قبول کریں گے اور پیغمبروں کا بھی اتباع کریں گے ‘ تو تھوڑی مدت کی ہم کو مہلت دے دے۔ (4) [ رَبَّنَآ اَخِّرْنَا الآی اَجَلٍ قَرِیْبٍ تُّجِبْ دَعْوَتَکَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۔] اللہ فرمائے گا : کیا تم نے اس سے پہلے قسم کھا کر نہ کہا تھا کہ ہم کو فنا نہیں۔ (5) [ اَوَلَمْ تَکُوْنَوْآ اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَکُمْ مِّنْ زَوَالٍ ۔] پھر وہ چوتھی مرتبہ پکاریں گے : اے ہمارے رب ! تو ہم کو (یہاں سے نکال دے ‘ ہم جو کام پہلے کرچکے ان کے سوا دوسرے عمل کریں گے۔ (6) [ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ کُنَّا نَعْمَلُ ۔] اللہ ان کے رد میں فرمائے گا : کیا ہم نے تم کو ایسی اور اتنی زندگی نہیں دی تھی کہ اس میں جو نصیحت پکڑنے والا تھا ‘ نصیحت پکڑ لیتا اور کیا تمہارے پاس ڈرانے والا نہیں پہنچا تھا ؟ (7) [ اَوَلَمْ نُعَمِّرْ کُمْ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ وَجَآءَ کُمُ النَّذِیْرُ ۔] پھر ایک مدت تک توقف کرنے کے بعد اللہ ان سے فرمائے گا : کیا میرے احکام تم کو پڑھ کر نہیں سنائے گئے تھے اور تم ان کی تکذیب کرتے تھے۔ (8) [ اَلَمْ تَکُنْ اٰیَاتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ فَکُنْتُمْ بِھَا تُکَذِّبُوْنَ ۔] یہ بات سن کر وہ کہیں گے : کیا ہم پر آئندہ ہمارا رب رحم (بالکل) نہیں کرے گا ؟ اس کے بعد پکار اٹھیں گے : اے ہمارے رب ! ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی تھی ‘ ہم لوگ گمراہ ہوگئے تھے۔ اے ہمارے رب ! (اب کی بار) ہم کو یہاں سے نکال لے ‘ اگر پھر ہم نے دوبارہ ایسا کیا تو ہم بلاشبہ ظالم ہوں گے۔ (9) [ رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْھَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ ۔] اللہ فرمائے گا : اس میں ذلت کے ساتھ رہو ‘ مجھ سے بات بھی نہ کرو۔ (10) [ اِخْسَءُوْا فِیْھَا وَلاَ تُکَلِّمُوْنَ ۔] اس وقت وہ بالکل مایوس ہوں گے اور دعا کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور باہم نوحہ کریں گے اور دوزخ کا پٹ بند کردیا جائے گا۔