14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsسراج البیان

Ayahs 14:1–3

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

المر ۔ یہ کتاب ہے جو ہم نے تیری طرف نازل کی تاکہ تو لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لائے ، ان کے رب کے اذن سے راہ پر غالب سزاوار حمد کی (ف 1)

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

راہ پر اللہ کی جو آسمانوں اور زمین کی چیزوں کا مالک ہے ۔ اور خرابی ہے کافروں کی سخت عذاب کے سبب

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

جو آخرت پر دنیا کی زندگی پسند کرتے ہیں ، اور اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں عیب تلاش کرتے ہیں ، وہ پورے درجے کی گمراہی میں ہیں

روشن کتاب : (ف 1) یعنی قرآن حمید نورروشن کی دعوت ہے ، اجالے کی جانب بلاوا ہے ، ظلمت و تاریکی سے بیزاری ہے اس میں وہم وتخ میں کو داخل نہیں ، لا یعنی رسوم و خرافات کا وجود نہیں ، جو بات ہے علم ویقین کی جچی تلی ، حشو وزوائد کا شائبہ نہیں ۔ سراسر ضروریات وحقائق کا مرقع ہے ۔ حضور ﷺ کو ارشاد ہوتا ہے کہ آپ اس مستقل ہدایت کو ہاتھ میں لے کر سارے عرب میں اجالا کردیں ، لوگوں کو تعصب وجہالت کی تاریکیوں سے نکالیں ، اور علم وعرفان کی روشنی میں لائیں ، ان کو خرافات وظنون کی وادیوں سے نکالیں ، اور سلوک و احسان کے مرغزاروں میں لا بسائیں ، یہ نسخہ تاریکی جہالت اور تعصب دور کرنے کا مجرب نسخہ ہے ، دنیا کی تمام مصیبتیں اس کتاب ہدی پر عمل پیرا ہونے سے دور ہوجاتی ہیں ، اس پر عمل کرنے سے عزتو وسعت حاصل ہوتی ہے ، قومیں نصرت و غلبہ کے ہم قرین ہوجاتی ہیں ، اور قابل ستائش بن جاتی ہیں ، کائنات کفر میں چھا جاتی ہیں ، ظفر و تسلط ان کے پاؤں چومتے ہیں ، کیونکہ یہ عزیز وحمید خدا کی کتاب ہے ، مالک الملک خدا کا پیغام ہے زمین اور وآسمانوں کے مالک کا کلام ہے ، بدبخت ہیں وہ نفوس جو انکار کرتے ہیں ، اور اس کے فیض و برکت سے محروم رہتے ہیں ۔ حل لغات : اجل : وقت ، وقت مقررہ ، کتاب ، مصدی معنے مراد ہیں ، ام ال کتاب : علم الہی سے تعبیر ہے اطرافھا ، بعض نے شیوخ واشراف مراد لئے ہیں المکر : تدبیر و رائے ۔
Ayahs 14:4–5

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور ہم نے جو رسول بھیجا ، وہ اپنی ہی قوم کی بولی بولتا تھا ۔ تاکہ ان کے آگے کھول سکے ، پھر جسے چاہے اللہ گمراہ کرے اور جسے چاہے ہدایت کرے ، اور وہ غالب حکمت والا ہے (ف 1)

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا تھا کہ اپنی قوم کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لا ، اور انہیں اللہ کے دن یاد دلا ، اس میں ہر صبر کرنے والے شکر گزار کے لیے نشانیاں ہیں

(ف 1) پیغمبر وقت قوم کی زبان اور قوم کی نفسیات سے خوب واقف اور آگاہ ہوتا ہے ، تاکہ قول بیلغ سے ان کے دلوں میں جگہ حاصل کرسکے اس کا الہام قوم کے محاوارت وادب کے ماتحت ہوتا ہے ، تاکہ انحام محبت ہو سکے قوم یہ نہ کہے اور عذر نہ کرسکے کہ رسول کی زبان ہمارے لئے ناقابل فہم تھی ۔ عرب چونکہ حضور ﷺ کے مخاطب اول تھے منشاء الہی یہ تھا کہ اس مرکز ضلالت وگمراہی کو اولا درست کیا جائے ، وہاں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کی جائے تاکہ دوسروں کے لئے چراغ راہ بنیں ، اس لئے حضور ﷺ کو جو قرآن دیا گیا ، وہ عربی زبان میں ہے تاکہ یہ لوگ آسانی سے اپنی گمراہیوں کا مطالعہ کرسکیں ، اور دوسروں کے لئے نمونہ ہوں ۔ حل لغات : ویل : بمعنے وائے وکلمہ افسوس وبمعنے سختی ، عداوت وشور و فغاں پر مصیبت وبمعنے ہلاکت ۔
Ayahs 14:6–7

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا ، کہ اللہ کا احسان جو تم پر ہوا ہے یاد کرو جب اس نے قوم فرعون سے تمہیں نجات دی ، وہ تمہیں بری طرح عذاب دیتے تھے ، تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے اور تمہاری لڑکیوں کو جیتا رکھتے تھے ، اور اس میں تمہارے رب سے تمہاری بڑی آزمائش تھی

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور جب تمہارے رب نے سنا دیا تھا کہ اگر شکر کرو گے تو تم کو زیادہ دوں گا اور جو نا شکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے

(ف 1) داستان استقلال : (ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وفرعون کا قصہ قرآن میں بار بار آیا ہے ، اس لئے کہ یہ واقعہ صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وفرعون کا واقعہ نہیں ، بلکہ حریت وآزادی کی داستان ہے استقلال قومی کا نمونہ ہے ، غلامی کے مضر اثرات کا مرقع ہے ، قوموں کے عروج وزوال کی بحث ہے ، اس میں یہ مذکور ہے کہ جب قوم میں فرعون پیدا ہوتے ہیں ، اللہ کی غیرت جوش میں آتی ہیں ، اور موسیٰ (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر انقلاب پسند حضرات پیدا ہوتے ہیں ، اور کس طرح صدیوں کی غلام قومیں بیدار ہوجاتی ہیں ، اور آزادی کی نعمت سے ہمکنار ہوتی ہیں ۔ بنی اسرائیل چار سو سال سے غلام تھے قبطی ان پر طرح طرح کے ستم ڈھا رہے تھے ، سچوں کو ذبح کیا جاتا عورتوں کو زندہ رہنے دیا جاتا ، عہدوں اور منصبوں پر فرعونی قابض تھے ، محنت ومشقت کے ذلیل کام بنی اسرائیل کے سپرد تھے ، نتیجہ یہ تھا کہ قوم کمزور ہو رہی تھی زندگی کی تمام آسائشوں سے محروم ہوتی جاتی تھی ، غلامی رگ رگ میں سرائیت کرچکی تھی ، اور قریب تھا ، قوم کی قوم فنا کے گھاٹ اتر جائے ۔ اللہ نے ایوان فرعون میں موسیٰ (علیہ السلام) کی تربیت کی جو فرعون شان و شوکت کے طول وعرض سے آگاہ تھے انہوں نے قوم کو انقلاب وآزادی کی دعوت دی اسلام و توحید کی جانب بلایا ، اور فرعون سے ڈنکے کی چوٹ کہہ دیا کہ اب اسرائیلی غلام نہیں رکتے جاسکیں گے ۔ حل لغات : باسم اللہ : وقائع عذاب ، عبرتناک حوادث ، تاذن : بڑا کہہ دیا ۔
Ayahs 14:8–9

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تھا کہ اگر تم اور سب اہل زمین کافر ہوجاؤ ، تو اللہ بےپرواہ ہے ، لائق تعریف کے ہے (ف 1)

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

کیا قوم نوح ، و عاد ، وثمود کی خبریں جو تم سے پہلے تھے اور ان کے بعد کے لوگوں کی خبریں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا تم پاس نہیں آچکیں ؟ ان کے پاس ان کے رسول معجزے لیکر آئے تھے پھر ان کی قوموں نے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں دیے (قبول نہ کیا) اور کہا جو تم لائے ہو ہم اسے نہیں مانتے اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں شک ہے ایسا کہ دل کو اطمینان نہیں ہوتا

(ف 1) ان آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو زندگی کا پیغام دیا ہے ، اور فرمایا ہے کہ جب تک تم شاکر رہو گے ، اللہ کے حکموں کو مانتے رہو گے ، اسی کی اطاعت کا دم بھرتے رہو گے ، اور اس کے سوا ہر معبود کا انکار کرو گے ، تو اللہ تعالیٰ تمہیں سرفرازی عنایت کرے گا ، غنی رکھے گا ، نعمتیں زیادہ سے زیادہ دے گا ، اور اگر انکار کرو گے ، تو یاد رکھو ناشکری سے قوموں کو عذاب شدید دیا جاتا ہے ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی سمجھا دیا کہ تمہاری عبادت اور اطاعت سے اللہ کو کوئی فائدہ نہیں ہے ، اس کی اطاعت سے دنیا تمہاری اطاعت کرے گی ، اور اگر تم اور تمہارے ساتھی انکار کردیں ، تو یاد رکھو ، اللہ ہے یا نہ ہے ، اور ہر طور پر قابل ستائش ومدح غرض یہ ہے کہ جس قدر تم میں بیداری ہوگی اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا ، اور جس قدر تم غفلت وبے اعتنائی سے کام لو گے ، اللہ کی رحمتوں سے دور رہو گے ۔ حل لغات : نباء : قصہ ، بات ۔ فاطر : بغیر استمداد کے پیدا کرنے والا ۔
Ayahs 14:10–16

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے کہا کیا خدا کی ذات میں شک ہے ، جو زمین اور آسمانوں کا خالق ہے ، تمہیں بلاتا ہے کہ تمہارے بعض گناہ بخش دے ، اور مقررہ وقت (موت) تک تمہیں مہلت دے ؟ بولے تم تو ہماری ہی مانند انسان ہو ، تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان کی عبادت سے جنہیں ہمارے بڑے پوجتے تھے ، روکو ، پس ہمارے پاس کوئی صاف دلیل لاؤ (ف 1)

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

ان کے رسول بولے ، ہم تمہاری مانند انسان ہیں لیکن خدا اپنے بندوں میں جس پر چاہے ، احسان کرے ، اور دلیل لانا ہمارا کام نہیں ، مگر خدا کے حکم سے ، اور چاہیے کہ مومن اللہ پر بھروسہ کریں

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

اور ہم اللہ پر بھروسہ کیوں نہ کریں ، اور اس نے ہمری راہیں ہمیں بتلائیں اور جو تم ہمیں دکھ دیتے ہو ، ہم اس پر صبر کریں گے اور توکل کرنے والوں کو اللہ ہی پر تو وکل کرنا چاہیے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ، کہ ہم تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے ، ورنہ ہمرے دین میں پھر آجاؤ ۔ سو ان کے رب نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کریں گے

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور ان کے بعد تمہیں زمین میں بسائیں گے یہ وعدہ اس کے لیے جو میرے سامنے کھڑا ہونے اور میرے ڈرانے سے ڈرتا ہے

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور (رسولوں نے) فتح مانگی ، اور ہر سرکش ضدی نامراد رہ گیا

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

اس کے پیچھے دوزخ ہے ۔ اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا

ایمان افروز استفہام : (ف 1) ” افی اللہ شک “۔ کا انداز بیان نہایت یقین افزا اور ایمان پرور ہے یعنی دنیا کی ہر بات میں شک وشبہ کی گنجائش ہے مگر یہ ناممکن ہے کہ رب خاطر کے باب میں کسی شبہ کا اظہار کیا جائے ۔ ٍقرآن حکیم کے نزدیک اللہ کا وجود اور اس کی توحید مسلمات فطرت میں سے ہے ، یعنی یہ ایسی حقیقت ہے جس کا اقرار ہر دل میں موجود ہے ، اس لئے قرآن تعجب سے پوچھتا ہے ، کیا تمہیں اللہ کی نسبت شک ہے ؟ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ۔ قرآن نے الفاظ میں استفہام پیدا کرکے مضمون میں عجیب اثر پیدا کر دے ، وہ لوگ جو عربی ذوق سے آشنا ہیں جب اس جملہ کو پڑھیں گے تو بےاختیار ان کا جی چاہے گا کہ قلب ودل کو معارف توحید سے معمور کرلیا جائے ، یہ حقیقت ہے کہ ” افی اللہ شک “ پڑھ کر ایک دہریہ بھی محسوس کرے گا ، کہ کسی نے اسے ہلا کر خواب غفلت سے بیدار کردیا ہے ، بشرطیکہ اس کے پہلو میں دل ہو ۔ اور مذاق ادب سے بھی آشنا ہو ، ان تین حروف میں وہ اثر ہے جو شاید ہزاروں دلائل میں نہیں ۔ اس قسم کی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ قرآن ایک علمی اور ادبی معجزہ ہے ۔ ان تین حروف میں کفر وشرک پر اظہار تعجب ہے یقین افروزی ہے ۔ زجر وتوبیخ ہے ۔ فطرت وقلب کی جانب رجوع کی دعوت ہے ، جلال وہیبت ہے ، اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ایک زبردست قوت کند سے پکڑ کر جھنجھوڑ رہی ہے ، اور آنکھیں لال پیلی کرکے پوچھ رہی ہے کہ کیوں بیوقوف ! تمہیں اب اللہ کا بھی انکار ہے ؟ سبحان اللہ ! اصل بات یہ ہے ، قلم و زبان میں طاقت نہیں ، کہ وہ ان حروف کے اثر کو بیان کرسکیں ، اس مختصر سی آیت میں غفلت وتساہل کی مذمت ہے ، توحید و تفرید کی جانب دعوت ہے ۔ گویا یوں معلوم ہوتا ہے ، جیسے کسی چیز نے چونکا دیا ہے ، اور قلب سے تمام حجاب ایک ایک کرکے اٹھ رہے ہیں ، اور وہ روشنی جو دل میں موجود تھی اور اندر پڑگئی تھی ، اب پھر اجاگر ہوگئی ہے ، اور توحید کی کرنوں سے دل جگمگا اٹھا ہے ۔ حل لغات : سبلنا : یعنی کامیابی و کامرانی کی راہیں ۔ جبار : سرکش ومتکبر ، جبکہ اللہ کی صفت ہو ، تو اس کے معنی شکستہ حالات کو درست کرنے والے کے ہوتے ہیں ۔
Ayah 14:17

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

اسے گھونٹ گھونٹ پیے گا اور گلے سے اتار سکے گا اور ہر جگہ اسے موت آئے گی ، اور نہ وہ مرے گا ۔ اور پیچھے اس کے سخت عذاب ہوگا (ف 1)

(ف 1) سرکشوں اور معاندوں کے لئے سزا کا ذکر ہے ، جن کا سر کسی دوسرے کے سامنے تو جھکے ، مگر اللہ کے آستانہ جلال پر نہ جھکے ، جو محض عناد ودشمنی کے لئے حق وصداقت کی مخالفت کریں ، جو سچائی کی آواز کو سنیں ، دلائل وبراہین ان کے سامنے موجود ہوں ، اور دل میں حرارت ایمان پیدا نہ ہو ، ایسے لوگوں کے لئے جہنم جگہ ہے ، جو اللہ کی جانب سے مقام عتاب ہے ، یہاں دنیا میں یہ لوگ کام ودہن کی لذتوں کے لئے زندہ رہے ، آخرت میں انہیں چیزوں کے لئے بےقرار ہوں گے ، اور یہ چیزیں انہیں میسر نہ ہو نگی ، اس لئے انہیں محسوس ہوگا ، کہ ہم نے دنیا میں اگر صرف خواہشات نفس کو جائز وناجائز طریق سے پورا کیا ہے ، تو کوئی بڑا کام نہیں کیا ، جو لائق اعتناء ہو ، اور یہاں جن چیزوں کی ضرورت ہے ، وہ ہمارے پلے نہیں ، نتیجہ خسران اور گھاٹا ہے
Ayahs 14:18–19

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

جو لوگ اپنے رب کے منکر ہیں ان کی مثال ایسی ہے کہ گویا ان کے اعمال راکھ ہیں جس کا آندھی کے دن زور سے ہوا چلے وہ اپنی کمائی میں سے کسی شئے پر قام نہ ہوں گے ، یہی پرلے درجے کی گمراہی ہے (ف 2)

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

کیا تونے دیکھا ، کہ اللہ آسمانوں اور زمین کو ٹھیک پیدا کیا اگر وہ چاہے تو تمہیں نیست کر ڈالے ۔ اور نئی خلقت لا بسائے

شیرازہ اعمال : (ف 2) اعمال کے لئے ایک شیرازہ کی ضرورت ہے ، اور جب تک یہ شیرازہ موجود نہ ہو ، اعمال میں غرض وترتیب پیدا نہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے ، کیا اعمال ضائع ہوجاتے ہیں ، قرآن حکیم کہتا ہے ، یہ شیرازہ ایمان صحیح ہے ، ایک دیوانہ ہے اس کے افعال کو کیوں آپ قابل اعتنا نہیں سمجھتے ، اور اس کی تمام حرکتیں کیوں عبث قرار پائی ہیں ۔ اس لئے کہ اس کے اعمال میں شیرازہ عقل موجود نہیں ، اسی طرح وہ شخص جو خیر وعمل صالح کے مفہوم سے آگاہ نہیں جو انسانیت کے صحیح پروگرام سے واقف نہیں کیونکہ صالح قرار دیا جاسکتا ہے ، جبکہ اس کے اعمال میں شیرازہ ایمان موجود نہیں قرآن حکیم نے اس حقیقت کو نہایت عمدہ مثال میں بیان فرمایا ہے ، فرمایا ان کے اعمال عدم وزن اور ثبات وقرار کے لمحات سے یوں ہیں جیسے کوئی شخص پتھر پر راکھ کا ڈھیر جمع کر دے اور آندھی چلنے پر وہ سب کے سب اڑ جائے ، ان کے اعمال بھی اسی طرح کے ہیں ، وہ راکھ کے ڈھیر سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے ، جب کفر ریاکاری کی آندھیاں چلتی ہیں تو اعمال کی راکھ اڑ جاتی ہے ، اور نشان تک باقی نہیں رہتا ۔
Ayah 14:20

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اور اللہ پر یہ کام کچھ مشکل نہیں (ف 1)

(ف 1) قرآن حکیم نے متعدد بار اس حقیقت کو دہرایا ہے ، کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے ، جب تک تم اس مقصد کو پورا کرتے رہو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی نعمتوں سے مشرف فرماتے رہیں گے ، اور جہاں تم نے انکار کیا ، وہ تم سے روگردانی کرے گا ، اور تمہیں دنیا سے حرف غلط کی طرح ہٹا دے گا ، اور وہ ایک دوسری قوم کو پیدا کر دے گا ، جو اس کے مقصد کو سمجھے گی ، اور پورا کرے گی ، اور اس میں کچھ بھی دقت اللہ تعالیٰ محسوس نہیں کریں گے ، یہ اس کا اٹل قانون ہے ۔
Ayah 14:21

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور اللہ کے سامنے سب آ کھڑے ہوں گے ، پھر ضعیف لوگ سرکشوں سے کہیں گے کہ ہم دنیا میں تمہارے پیچھے تھے ، سو کیا تم اللہ کا کچھ عذاب ہم سے دفع کرسکتے ہو ؟ وہ کہیں گے کہ اگر دنیا میں اللہ ہمیں ہدایت کرتا تو ہم تمہیں ہدایت کرتے اب ہم بیزاری کریں یا صبر کریں ہمارے لیے برابر ہے ہم کسی طرح نہیں چھوٹ سکتے (ف 2)

کمزوروں کی فریاد بڑوں بڑوں سے : (ف 2) جب لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور جمع ہوں گے اور اپنے اپنے نامہ اعمال سے آگاہ ہوجائیں گے ، تو اسی وقت زمین کا وہ طبقہ جو ضعفاء اور کمزور لوگوں کا ہے ۔ کبراء اور بڑے بڑے لوگوں سے کہے گا ، ہم تو دنیا میں تمہارے تابع تھے ، جب تم نے عیش تکلیف کی محفلیں آراستہ کیں ، شراب و لے سے شغل کیا تو ہم نے تمہاری تقلید کی ، ہم سمجھے ، جب سمجھدار اور بڑے بڑے لوگ ان باتوں میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھے ، تو واقعی یہ بات جائز ہوگی ، ہم نے بےخوفی سے گناہ کی جانب قدم بڑھائے ، کیا آج تمہارے یہاں شنوائی نہیں ہے ؟ تمہارا اثرورسوخ کیا ہوا ، کیا یہاں رشوت نہیں چلتی ، اور کیا تم ہمیں عذاب سے نہیں بچا سکو گے ، کبراء کہیں گے یہاں ہم اور تم دونوں برابر کے مجرم ہیں ، اس لئے سوائے صبر کے چارہ نہیں ، یہ وہ مقام ہے جہاں بڑے چھوٹے میں کوئی امتیاز نہیں رہتا ، اور سب ایک صف میں کھڑے کئے جاتے ہیں ۔
Ayahs 14:22–23

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

اور جب فیصلہ ہوچکے گا تب شیطان بولے گا کہ خدا نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا سو میں نے تم سے وعدہ خلافی کی ، اور میری تم پر کچھ حکومت نہ تھی ، صرف یہ کہ میں نے تمہیں پکارا تھا ۔ تم نے میری بات مان لی سو مجھے ملامت نہ کرو اور اپنی جانوں کو ملامت کرو میں نہ تمہارا فریاد رس ہوں اور نہ تم میرے فریاد رس ہو تم نے جو مجھے پہلے اللہ کا شریک ٹھہرایا تھا میں اسے اب قبول نہیں کرتا ، ظالموں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے (ف 1)

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور ایماندار اور نیک کردار باغوں میں داخل ہوں گے ۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ ان میں اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے ۔ ان کی ملاقات کے وقت کی دعا اس میں سلام ہو گی

(ف 1) وہ شیطان جس نے دنیا میں عیب کو ہمیشہ صواب دکھایا ، جس نے گناہوں کو سنوار سنوار کر پیش کیا ، کہے گا ، جناب اللہ کا وعدہ سچا ہے ، میں نے اب تک جو کچھ کہا ، جھوٹ کہا مگر میں آپ کو گمراہ کرنے کا ذمہ دار نہیں میں نے تو صرف دعوت دی ہے ، وسوسہ اندازی سے کام لیا ہے ، برے خیالات کی تائید کی ہے ، لیکن یہ تمہارا قصور ہے ، کہ تم نے میری دعوت پر کان دھرا ، اور میری رائے سے اتفاق کیا ، آج میں تمہارے کام نہیں آسکتا ، اور نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو ، ہم دونوں ظالم ہیں ، اور دونوں کے لئے عذاب مقدر ہے ۔ (آیت) ” وما کان لی علیکم من سلطن “۔ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے ، کہ ان شریر نفوس کی حدود امتیاز کیا ہیں ؟ مضبوط اور پکے عقیدے کے لوگ ان کے شر سے محفوظ رہتے ہیں ، اور ضعیف ال ایمان وسوسہ اندازیوں کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ حل لغات : بمصرخکم : فریاد رس ۔
Ayahs 14:24–25

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

کیا تونے نہیں دیکھا کہ خدا نے نیک بات کی مثال کیونکر بیان کی ہے ؟ کہ وہ ستھرے درخت کی مانند ہے جس کی جڑ مضبوط زمین میں اور شاخ آسمان میں ہے (ف 1)

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

وہ اہنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل دیتا ہے ۔ اور اللہ آدمیوں کو مثالیں سناتا ہے ۔ شاید وہ سوچیں

پاک درخت : (ف 1) نیک بات ، پاکیزہ خیالات کی مثال عظمت وبقاء اور اور نفع کے لحاظ سے ایک خوش منظر درخت کی سی ہے جس کی جڑیں مضبوط ہوں ، جس کی بلندی آسمان سے باتیں کرے ، اور ہر وقت پھلوں سے لدا رہے ۔ غرض یہ ہے کہ اسلام جڑوں کے لحاظ سے مضبوط ہے ، دنیا کی کوئی قوت اسے اکھاڑ نہیں سکتی ، اس کی عظمت و رفعت کا یہ عالم ہے ، کہ آسمان تک بلند ہے ، ہر وقت نسل انسانی اس کے پھلوں سے استفادہ کرتی رہتی ہے اس کے برکات وفیوض ہمیشہ جاری رہتے ہیں ، یعنی اسلام شجرہ طبیہ ہے ، ایک پاک اور نفع رساں درخت کی مانند ہے ۔
Ayah 14:26

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی مانند ہے جو زمین کے اوپر سے اکھاڑا گیا ۔ اسے قرار نہیں (ف 2)

کفر وشرک شجرہ خبیثہ : (ف 2) کفر وشرک کو ایک ایسے درخت سے تشبیہ دی ہے ۔ جو بےاصل ہو ، بدوضع اور مکروہ ہو ، بےفائدہ ہو ، جس کی جڑیں زمین پر پھیلی ہوں ، اور قطر زمین میں گڑی ہوئی نہ ہوں ، یعنی جو بےبنیاد ہو ، دلائل ومنطق جس کی تائید نہ کریں ، عقل سلیم ٹھکرائے ، قلب وضمیر قبول نہ کرے ، اور اس کے تعلق لادلائل کی وجہ سے دنیا اسے مردہ قرار دے ۔ یہ کفر وشرک کی کتنی عمدہ مثال ہے ، پاک قلب اور سلجھے ہوئے دماغ کے لوگ کبھی کفر کو قبول نہیں کرتے ، ان کے لئے اس میں کوئی جاذبیت نہیں ہوتی ، اور بڑی بات یہ ہے کہ اس نوع کے عقائد کو ثبات وقرار نہیں ہوتا ، ایمان کے مقابلہ میں یہ پنپ نہیں سکتے ، صداقت اور سچائی کو دوام حاصل ہے اور کفر وضلال کو فنا وزوال ۔ حل لغات : احتثت : اکھاڑ دیا جائے ، جثہ سے مشتق ہے جس کے معنی اس جسم کے ہوتے ہیں جو ابھرا ہوا ہو ۔ والحث ھا ارتفع من الارض کالاکمۃ ۔
Ayahs 14:27–30

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

اللہ ایمانداروں کو مضبوط بات کے ساتھ زندگی دیتا ہے ، اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے ۔ اور اللہ جو چاہے سو کرے (ف 1)

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

کیا تونے ان کی طرف نہ دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدلا اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں جا اتارا ؟

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

کہ دوزخ ہے جس میں داخل ہوں گے اور برا ٹھکانا ہے

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور اللہ کے لیے شریک مقرر کیے ہیں تاکہ اس کی راہ سے لوگوں کو بہکائیں ، تو کہہ (کوئی دن) فائدہ اٹھا لو ۔ پھر تمہیں آگ میں جانا ہے ۔

قول ثابت : (ف 1) حدیث میں آیا ہے کہ قبر کی تنہائی میں کام آنے نہیں پائے ، قول ثابت یعنی حقیقت توحید ہے ، جو لوگ وحدت و توحید کی حقیقت سے آگاہ ہیں وہ نہ تو دنیا میں مصائب سے گھبرائے ہیں اور نہ عالم قبر میں ان کے لیے فزع و خوف ہے ، اللہ ان کو توحید کے وسیلے سے توفیق دیتا ہے کہ جرات سے دنیا میں مشکلات کا مقابلہ کریں ۔ ان کے دل منور ہوجاتے ہیں توحید کا نور قلب میں جاگزین ہوجاتا ہے اور قبر کی تاریکی میں یہی نور جنت کی روشنی میں تبدیل ہوجاتا ہے ، اور وہ لوگ جنہیں اس دنیا میں اس حقیقت سے آگاہی نہیں دنیا و آخرت میں خائب و خاسر رہتے ہیں نہ یہاں انہیں کامیابی و کامرانی میسر ہوئی اور نہ آخرت میں ۔
Ayahs 14:31–33

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

میرے ایماندار بندوں سے کہہ نماز پڑھیں ۔ اور جو ہم نے ان کو دیا اس میں سے چھپا کر اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں خرید وفروخت ہے اور دوستی نہ چلے گی (ف 2)

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ۔ اور آسمان سے پانی اتارا ، پھر اس سے پھل نکالے ، جو تمہاری روزی ہیں ، اور کشتیاں تمہارے بس میں کیں ، کہ اس کے حکم سے دریا میں چلیں ، اور نہروں کو بھی تمہارے قابو میں کیا

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور سورج اور چاند کو بھی جو ہمیشہ پھرنے والے ہیں تمہارا مسخر کیا ۔ اور دن رات کو تمہارے قابو میں رکھا

(ف 2) یعنی ایمان کے لیے ضروری ہے کہ عمل کی توفیق بھی ہو ورنہ صرف اقرار و اعتراف اللہ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ، مومن وہ ہے جو اعمال صالح سے ایمان کا نبوت ، اس کا سر صبح کو خدا کے سامنے جھکے ، جو عین عبودیت کی نشانی ہے ، دیکھنے والا آگاہ ہو ، جو اللہ تعالیٰ میں اور بندے میں تعلق ہے ، نیز مال خدا کی راہ میں خرچ کرے اپنی قوت خڑچ کر کے نیکی جمع کرے غافل نہ ہو کیونکہ وقت ایسا آنے والا ہے کہ فرصت حیات ختم ہوجائے گی اور سا وقت نہ کچھ خریدا اور بیچا جاسکے گا ، دوستی محبت اور تعلقات اس وقت کام ہیں آئیں گے ۔ حل لغات : دار البوار : ہلاکت کا گھر ، یعنی دوزخ خلال : دوستی ، دوستاں
Ayah 14:34

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور جو کچھ تم نے اس سے مانگا اس نے تمہیں دیا ۔ اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرو ، تو ہرگز نہیں کرسکو گے ۔ بیشک آدمی بڑا بےانصاف ناشکرا ہے (ف 1)

چاند سورج مسخر ہیں ! (ف 1) اسلام نے انسان کا مرتبہ بہت بلند رکھا ہے ، اسے کائنات میں مرکزی مقام عنایت فرمایا ہے ، اور کہا ہے کہ جو کچھ دنیا میں ہے ، وہ تمہارے لئے ہے چاند ، سورج ، رات ، دن ، نہریں اور سمندر سب تمہارے تابع ہیں ، تمہاری حکومت اور تسخیر کا دائرہ وسیع ہے تمہیں اللہ نے ہر نوع کی نعمتیں بخشی ہیں ، مگر تمہیں کہ اللہ کی نعمتوں سے استفادہ نہیں کرتے ، اس نے تمہارے لئے سمندر مسخر کئے چاند اور سورج کو تمہارے تابع بنایا ۔ رات اور دن تمہارے فائدے کے لئے بنائے مگر تم بعضے کافر نعمت ہو کہ ذرے ذرے کے سامنے جھکتے ہو ، ہر چیز کو اپنا معبود کہتے ہو اور اپنے ماتھے کو ہر بلند وبالا شے کے سامنے جھکا دیتے ہو ، یہ ظلم ہے انسانیت کے حق میں اور کفر ہے شرافت نوع کا ۔ حل لغات : ظلوم : ناانصاف ۔
Ayahs 14:35–38

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ اے رب اس شہر (مکہ) کو جائے امن بنائے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا (ف 1)

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

اے رب ان بتوں نے آدمیوں میں سے بہتوں کو گمراہ کیا ہے ۔ سو جو میرے تابع ہوگا وہی مجھ سے ، اور جس نے میرا کہا نا مانا تو تو بخشنے والا مہربان ہے

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

اے ہمارے رب میں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو تیرے حرمت والے گھر کے پاس ایسے میدان میں بسایا کہ جہاں کھیتی نہیں ، اے ہمارے رب یہ میں نے اس لیا کہ وہ نماز کو قائم رکھیں ، تو ایسا کہ کہ لوگوں میں سے بعض کے دل ان کی طرف مائل ہوں ، اور انہیں میوں سے روزی دے ، شاید وہ شکر کریں

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

اے ہمارے رب ہم جو ہم چھپاتے اور جو ہم ظاہر کرتے ہیں تو جانتا ہے اور زمین وآسمان میں کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہیں ۔

نقطہ توحید کی تعمیر ! (ف 1) یہ اس وقت کی بات جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ کی تاسیس کی اخلاص و توحید کی بنیاد رکھی ، جب قوم کے لئے ایک مرکز وحدت تعمیر کای جب معبد عمومی نقطہ عبادت منصہ شہروپر جلوہ گر ہوئے ۔ اس وقت قرب و جوار کے لوگوں میں بت پرستی کا رواج تھا لوگ غیر اللہ کی پوجا میں منمک تھے ، اور اللہ کی چوکھٹ کو چھوڑ کر جبینوں کو غیروں کے آگے جھکایا جا رہا تھا ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی کہ مولا اس اخلاص و توحید کے گھر کو دارالامن بنانیویہ یہاں روحانی اور مادی بےچینوں سے لوگ رہائی حاصل کریں ، مجھے اور میری اولاد کو توفیق دیجیو کہ لوگوں کو بس مرکز توحید پر جمع کردیں ، اور بت پرستیہ نہ کریں نیز اس غیر ذی ذرع آبادی کو جو میری اولاد کا مسکن قرار فرمایا ہے ، بارونق بنا نیو ، اسے اس یا جازب نظر بنا کہ لوگ کینچھے ہوئے دور دور سے اس کی زیارت کے لئے آئیں ، اور تیرا نام بلند کریں ، انہیں رزق کی نعمت سے سرفراز فرمانیو ۔ درمیان میں اللہ کی نعمت کا ذکر فرمایا ، کہ اس نے ہمیشہ میری دعاؤں کو سنا ہے ، اور مایوسیوں کے وقت انعامات سے نوازتا ہے ، اس وقت اولاد بخشی ہے ، جب عام لوگ مایوس ہوجاتے ہیں ، اور یقین افروز انداز میں فرمایا ہے کہ میرا رب یقینا دعاؤں کو سنتا ، اور قبول کرتا ہے ، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دعاء کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قلبی کیفیت کیا تھی ، لب ہل رہے تھے اور دل میں ایمان کود رہا تھا ، کہ دعاء قبول ہو رہی ہے حقیقت یہ ہے جب اللہ پر اس درجہ بھروسہ اور اعتماد ہو تو دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں ۔ حل لغات : الاصنام : بت ، جمع صنم ۔ افئدۃ : دل ، جمع فواد ۔ تھوی : ھوی الیہ ، جھکاؤ ، مائل ہوا ۔