14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 14:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

ال رٰ ۔ یہ ایک عظیم الشان کتاب ہے جس کو ہم نے اتارا ہے آپ کی طرف (اے پیغمبر ! ) تاکہ آپ لوگوں کو (تہ در تہ) اندھیروں4 سے نکال کر روشنی کی طرف لاسکیں، ان کے رب کی توفیق سے یعنی اس خدا کے راستے کی طرف جو سب پر غالب بھی ہے اور اپنی ذات میں آپ ہی محمود بھی،1

1۔ قرآن حکیم ایک عظیم الشان کتاب : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ایک عظیم الشان کتاب ہے، یعنی " کتاب " کی تنوین تعظیم کے لئے ہے۔ اور یہ کتاب عظیم کتاب ہے۔ کہ اس کی عظمتوں کا یہ نہ کوئی کنارہ ہے نہ ٹھکانا۔ کہ یہ کلام ہے اس رب ذوالجلال کا جس کی عظمت شان غیر محدود اور ابدی و لازوال ہے۔ پس جس نے اس کتاب عظیم وحکیم کو دل وجان سے اپنا لیا وہ ایسی سچی اور حقیقی عظمت سے ہم کنار ومالا مال ہوگیا جس کی دوسری نہ کوئی نظیر ہوسکتی ہے نہ مثال۔ اللہ نصیب فرمائے اور اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں سے سرفراز فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف یہ کتاب ایک عظیم الشان کتاب ہے جو انسان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہیں روشن کرتی ہے، اور اس کو تہ درتہ اندھیروں سے نکال کر حق و ہدایت کی روشنی کی طرف بلاتی ہے۔ 2۔ قرآن حکیم خداوند قدوس کی نازل کردہ کتاب : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو ہم نے اتارا ہے۔ آپ کی طرف (اے پیغمبر) پس یہ کتاب حکیم کسی بشر کی تالیف یا اس کی ذہنی اختراع کا نتیجہ وثمرہ نہیں۔ بلکہ یہ خالق بشر۔ جل جلالہ۔ کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہدایت ہے۔ سو اسی سے اس کتاب عظیم کی عظمت شان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ کہ یہ خالصتا اتاری گئی کتاب ہے۔ کسی انسانی اور بشری فکر و کاوش کا اس میں کوئی شائبہ تک نہیں۔ اور جب یہ کلام ہے اس ذات اقدس واعلی کا جو کہ اس کائنات کی خالق ومالک اور بےمثال ذات ہے تو اس کا یہ کلام بھی سب سے اعلی وبالا اور بےمثال وبے نظیرکلام ہے۔ سو اس کی دعوت پر لبیک کہنا سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ اور اس سے اعراض وروگردانی۔ والعیاذ باللہ۔ دنیا وآخرت کی سعادت و سرخروئی اور ہر خیروبرکت سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ 3۔ کفر و باطل کے اندھیرے انتہائی مہیب و خطرناک : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کتاب کو ہم نے آپ کی طرف اس لئے اتارا تاکہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کو اندھیروں سے نکالیں، کیوں کہ کفر وباطل کے غیرمرئی اور معنوی اندھیرے ظاہری اور حسی اندھیروں سے کہیں بڑھ کر ہولناک اور خطرناک ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہ کتاب حکیم کفرو شرک اور زیغ وضلال کے ان معنوں اور غیرمرئی اندھیروں سے نکلنے کا واحدذریعہ ہے جن کی سیاہی ان ظاہری اور محسوس اندھیروں سے کہیں بڑھ کرمہیب اور خطرناک ہے۔ والعیاذ باللہ۔ کہ یہ معنوی اور غیرمرئی اندھیرے انسان کو نہایت ہلاکت و تباہی میں ڈالنے والے ہیں اور ایسی تباہی میں کہ اس سے نکلنے کی بھی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوسکتی سوائے رجوع الی اللہ کے۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب حکیم قدرت کی طرف سے اس کے بندوں پر کس قدر بڑا احسان ہے۔ 4۔ اندھیروں سے نکلنا رب کی توفیق ہی سے ممکن ہوسکتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئیں ان کے رب کے اذن اور اس کی توفیق سے، سو پیغمبر کا کام صرف پیغام حق پہنچا دینا ہے اور بس لوگوں کو راہ حق پر ڈال دینا نہ ان کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ ان کی ذمہ داری ہے یہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ اور اس کی اس کائنات میں ہوتاوہی ہے جو اس خالق ومالک اور مالک مطلق کو منظور ہوتا ہے، سو اندھیروں سے نکل کر روشنی کی طرف آنا تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جبکہ رب کی توفیق شامل حال ہو، کیونکہ اس کا تعلق بنیادی طور پر انسان کے قلب وباطن اور اس کی نیت و ارادہ سے ہے۔ اور قلب وباطن اور نیتوں اور ارادوں کے حال کو وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے اور وہ اسی کے مطابق معاملہ فرماتا ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید۔ 5۔ اللہ تعالیٰ سب پر غالب ہے سبحانہ تعالیٰ : جو کرنا چاہئے کرسکتا ہے کسی کی ہمت نہیں کہ وہ اس کی راہ میں رکاوٹ بن سکے۔ اور اس کے ارادہ و فیصلہ کو ٹال سکے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کہ وہ سب پر غالب اور تمام قوتوں کا خالق ومالک ہے۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ جہاں اس رب عزیز کے راستے کی طرف بلانا اور اس کی دعوت دینا ایک عظیم الشان سعادت ہے وہاں اس کے راستے سے روکنے والے اس کے عذاب سے بچ نہیں سکیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس صراط مستقیم اور راہ حق وصواب وہی ہے جو اس عزیز وحمید خدواند قدوس تک پہنچاس کے۔ کہ وہی ہے جو حقیقی عزت، جودوسخا اور کرم واحسان کا مالک ہے، اور اس تک پہنچانے والی راہ سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 6۔ اللہ ہی ہر تعریف کا حقدار ہے سبحانہ تعالیٰ ۔ کہ سب کا خالق ومالک بھی وہی ہے۔ سب پر حکومت و بادشاہی بھی اسی کی ہے اور سب پر حکم وتصرف بھی اسی کا چلتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کتاب حکیم کا اتارا جانا کس قدر بڑا احسان ہے۔ حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کا اس کے بندوں پر۔ اور کتنی بڑی نعمت ہے یہ کتاب حکیم کہ اس سے اس راستے کی رہنمائی ملتی ہے جو کہ انسان کو اپنے خالق ومالک سے ملاتا ہے۔ اور جس سے انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی نصیب ہوتی ہے۔ اور یہ رہنمائی اس صدق وصفا اور کمال وضوح و جامعیت کے ساتھ اس کتاب حکیم کے سوا دنیا جہاں کی کسی بھی دوسری کتاب سے نہیں مل سکتی۔ سو کتنے بدنصیب و محروم اور کس قدر ناشکرے اور بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس کتاب حکیم سے منہ موڑتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے میں انسان کا خود اپنا بھلا ہے۔ دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ اور اللہ پاک کی عبادت و بندگی اور حمدوثناء میں بھی خودبندے کا اپنا ہی بھلا ہے۔ ورنہ وہ خدائے عزیز وحمید جو سب پر غالب اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے، بندے کی عبادت و بندگی اور حمدوثنا کی نہ اس کو کوئی ضرورت وحاجت ہے اور نہ اس سے اس کی شان اقدس واعلی میں کسی طرح کے اضافے اور بڑھوتری کا کوئی سوال ہے۔ وہ ایسے تمام تصورات سے پاک اور ارفع واعلی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 14:2

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

یعنی اس اللہ کے راستے کی طرف جس کے لئے وہ سب کچھ ہے جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے2 اور کافروں کے لئے بڑی خرابی ہے ایک بڑے ہی سخت عذاب سے،

7۔ راہ حق کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو اس سے راہ حق کی عظمت شان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ راستہ اس ذات اقدس واعلی کی طرف لے جانے والا راستہ ہے جو کہ آسمانوں اور زمین کی اس ساری کائنات کی خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے۔ اور جب کائنات کے خالق ومالک اور اس کے حاکم و متصرف تک پہنچانے والی راہ حق وصواب سے آگہی نصیب ہوجائے تو اس سے بڑھ کر سعادت وخوش نصیبی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ کہ یہی وہ راہ ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ مند کرنے والی واحد راہ ہے۔ اور اس راہ سے مراد توحید خداوندی کی راہ ہے جو انسان کو اس کے خالق ومالک تک پہنچاتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی توضیح کے سلسلے میں حضرت حق۔ جل مجدہ۔ نے ابلیس لعین کے دعوائے مردود کے جواب اور اس کے رد میں ارشاد فرمایا کہ یہی ہے وہ راہ جو سیدھی مجھ تک پہنچتی اور پہنچاتی ہے۔ (قال ھذا صراط علی مستقیم) (الحجر : 41) یعنی یہ سیدھی راہ ہے جو مجھ تک پہنچنے والی ہے۔
Ayahs 14:3–4

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

ان کے لیے جو کہ پسند کرتے ہیں دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں، اور جو (خود محروم ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے کو بھی) روکتے ہیں اللہ کی راہ سے، اور وہ اس میں کجی تلاش کرتے ہیں، (اپنی اھواء و اغراض کے مطابق) یہ لوگ پڑے ہیں (راہ حق سے) بڑی دور کی گمراہی میں،3

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور ہم نے جو بھی کوئی رسول بھیجا وہ اس کی اپنی قوم کی زبان کے ساتھ ہی بھیجا تاکہ وہ کھول کر بیان کرے ان کے لئے (پیغام حق و ہدایت کو) پھر اللہ جسے چاہتا ہے ڈال دیتا ہے گمراہی میں، اور جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے (نور حق و) ہدایت سے، اور وہی ہے غالب، اور نہایت ہی حکمت والا۔

8۔ دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینا خساروں کا خسارہ۔ والعیاذ باللہ : سو یہ ہے اصل بیماری کہ دنیا اور اتنی جو کہ آخرت کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے، نہ بری ہے نہ ممنوع۔ بلکہ اس کو اگر آخرت کی کمائی کا ذریعہ بنایا جائے تو یہ محمودومطلوب ہے۔ سو دنیا اور اس کے مفادات کو آخرت کے مقابلے میں ترجیح دیکر آخرت کو بھول جانا اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر دنیا ہی کے لیے جینا اور اسی کے لیے مرنا خساروں کا خسارہ اور سب سے بڑا نقصان ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ نیز اس ارشاد سے کافروں کی محرومی اور انکار کے اصل سبب سے بھی پردہ اٹھادیا گیا کہ ان لوگوں کے نزدیک اصل چیز چونکہ دنیا ہی دنیا ہے اور یہ آخرت کی خاطر اور اس کے تقاضوں کی بناء پر اپنے دنیاوی مفادات کو قربان کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے یہ لوگ دین کی بات کو کان دھرنے اور اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ سو دنیا کی محبت اور اس کو آخرت پر ترجیح دینا خرابیوں کی خرابی اور محرومی کی جڑ بنیاد اور سب سے بڑا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ وضلال وسوء وانحراف۔ 9۔ اللہ کی راہ سے روکنے کا جرم اور اس کی مختلف صورتیں۔ والعیاذ باللہ : اور اللہ کی راہ سے ان کا یہ روکنا کئی طرح سے ہوتا ہے۔ اول تو ان کا اپنے کفر پر اڑے اور ڈٹے رہنا اور ان کا اس دنیائے دوں کی ظاہری چمک دمک اور کروفر سے رہنا بسنا ہی عملی طور پر اور غیر محسوس طریقے سے دوسروں کو راہ حق سے روکنے اور پھیرنے کا ایک بڑا باعث ہے کہ اس سے عام لوگ متاثر ہوجاتے ہیں۔ اور وہ شعوری یا لاشعوری طور پر کہتے ہیں کہ یہی طریقہ ٹھیک ہے جس پر یہ کفار چل رہے ہیں کہ یہ اس قدر ٹھاٹھ اور مزے سے رہ رہے ہیں۔ پس یہ دنیا ہی سب کچھ ہے اور بس۔ لہذا جو کچھ کرنا ہے صرف اسی کے حصول اور اس کی فانی لذتوں کے لیے کرو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ایسے لوگ باضابطہ طور پر اپنی زبان وبیان، قول وقرار اور تصنیف اور تالیف وغیرہ کے ذریعے اپنے کفر و باطل کی خوبیاں بیان کرتے اور حق اور اہل حق کو مطعون کرتے اور ان میں نقائص نکالتے رہتے ہیں۔ جس کے نمونے اور مظاہرآج بھی ہم یہاں اور وہاں ہر جگہ اور طرح طرح سے دیکھ رہے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور تیسرے اس طرح کہ یہ ابنائے کفر و باطل اپنے اپنے کفر و باطل کی طرف طرح طرح سے لوگوں کو بلاتے اور اس کی دعوت دیتے رہتے ہیں۔ اور اس کے لیے یہ لوگ اپنے طرح طرح کے مادی ذرائع و وسائل سے کام لیتے ہیں۔ اور کتنے ہی سادہ لوح اور جاہل لوگوں کو دنیاوی مفادات کی بناء پر یہ لوگ اپنے جال میں پھنساتے اور ان کو حق و ہدایت کی دولت سے محروم کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ 10۔ اہل باطل کا ایک مشترکہ وطیرہ راہ حق میں کجی تلاش کرنا۔ والعیاذ باللہ : اور وہ طرح طرح کے حیلوں حوالوں اور مفروضوں اور ڈھکوسلوں کے ذریعے خلق خدا کو یہ باور کرانے کی سعی مذموم کرتے ہیں کہ خدائے عزیز وحمید کی طرف لے جانے والی سیدھی راہ ان کے مزعومہ معبودوں اور خود ساختہ سرکاروں کی طرف سے ہوکرہی گزرتی ہے۔ اور یہ کہ ان کے توسط کے بغیر اور ان کی پگڈنگڈیوں سے گزرے بدوں تم اس تک نہیں پہنچ سکتے۔ " ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے " یہ چھوٹے خدا ہمیں اس بڑے اور حقیقی خدا تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔ (مانعبدہم الالیقربونا الی اللہ زلفی) ۔ اور یہ کہ ہمارے معبود اور خود ساختہ (SELFMADE) " سرکاریں " اس کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ (ھؤلآء شفعآؤنا عنداللہ) اور اس طرح ان اصحاب زیغ وضلال نے شاہراہ حق اور صراط مستقیم کو خود ساختہ پگڈندیوں کی طرف موڑنے اور اس میں کجی اور ٹیڑھا پن تلاش کرنے سے جہاں دوسرے سادہ لوح لوگوں کی ضلالت و گمراہی کا سامان کیا، وہیں یہ خود بھی شاہراہ صدق وصواب سے بہک اور بھٹک کردور کی گمراہی میں جاپڑے۔ اور حق و ہدایت کی روشنی سے یہ لوگ اس قدر دور اور محروم ہوگئے کہ راہ حق وصواب کی طرف ان کی واپسی بھی بہت دور کی بات ہوگئی۔ اور ایسے لوگ (اولئک فی ضلال بعید) کا مصداق بن گئے۔ یعنی یہ لوگ دور کی گمراہی میں پڑے ڈبکیاں کھا رہے ہیں جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔
Ayah 14:5

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور بلاشبہ (اس سے پہلے) موسیٰ کو بھی ہم بھیج چکے ہیں (رسول بنا کر) اپنی آیتوں کے ساتھ، کہ نکال لاؤ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف، اور (یہ کہ) انھیں یاد دلاؤ اللہ کے (وہ عہد ساز) دن (جن میں بڑے عبرت انگیز واقعات رونما ہوئے) بیشک اس میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو ہمیشہ (زندگی بھر) صبر اور شکر ہی سے کام لینے والا ہو،

13۔ ایام اللہ کی تذکیر و یاددہانی کا حکم وارشاد : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یاددہانی کراؤلوگوں کو اللہ کے (عہدساز) دنوں کی تاکہ اس سے یہ لوگ سبق سیکھیں اور عبرت پکڑیں۔ اور " تذکیربایام اللہ " کا یہ کام حسب ضرورت وموقع ہمیشہ کرنے کا ہے نہ کہ کسی خاص وقت اور خاص طریقہ کی تعیین کے ساتھ۔ کہ کسی خاص طریقہ اور دن کی تعیین جب شریعت کی طرف سے نہیں کی گئی تواز خود ایسا کرنا بدعت اور احداث فی الدین ہوگا جو کہ نصوص صریحہ کے مطابق باطل و مردود ہے۔ پس اہل بدعت کے تحریف پسندوں کا اس سے اپنے یہاں کی مروجہ بدعات کے لیے دلیل کشید کرنا ان کی تحریفانہ ذہنیت کی عکاس اور آئینہ دار ایک نرالی منطق ہے۔ جو خیرالقرون اور ان کے اتباع اور ثقہ اہل علم میں سے کسی کو بھی نہ سوجھی۔ نصوص قرآن وسنت اور فقہ اسلامی اور خاص کر فقہ حنفی میں جس کے ماننے کے ایسے لوگ خود بھی دعویدار ہیں اس میں ایسی بدعات کانہ کوئی ثبوت ہے نہ ذکر وتذکرہ۔ اس کے باوجود ان کو تفسیر کے نام سے قرآن حکیم کے حواشی پر ثبت کر دنیا کتنا بڑا ظلم اور کس قدر دیدہ دلیری اور سینہ زوری ہے۔ چناچہ ان کے یہ تحریف پسند لکھتے ہیں کہ جن دنوں کو اللہ کے پیاروں سے کوئی خاص نسبت ہو وہ اللہ کے دن بن جاتے ہیں۔ اور پھر اس سے آگے یہ صاحب خود بھی لکھتے ہیں کہ یہاں ایام اللہ سے مراد یا تو قوم عاد وثمود پر عذاب آنے کی تاریخیں ہیں یا بنی اسرائیل پر من وسلوی اترنے کی اور فرعون کے غرق ہونے کی۔ اب بدعت کے مارے ان صاحب سے کوئی پوچھے کہ کیا عاد وثمود اور فرعون بھی اللہ کے پیارے تھے ؟ سو یہ ایک نمونہ ہے بدعت کی اس ظلمت و نحوست کا جس سے حق سے انحراف کرنے کے بعد اہل بدعت دو چار ہوتے ہیں۔ اور وہ ایسی ایسی لغویات ہانک دیتے ہیں۔ اور ان کو یہ بھی نظر نہیں آتا کہ یہ کیا لکھ رہے ہیں اور یہ کہاں سے بہک کر کہاں پہنچ رہے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 14:6

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرو کہ) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ یاد کرو تم لوگ اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کو جو اس نے فرمائے ہیں تم پر، جب کہ اس نے تم کو نجات دی فرعون والوں (کے ظلم و ستم) سے، جو کہ چکھا رہے تھے تم کو طرح طرح کے برے عذاب، اور وہ چن چن کر ذبح کر رہے تھے تمہارے بیٹوں کو، اور زندہ رکھتے تھے تمہاری عورتوں کو، اور اس میں بڑی بھاری آزمائش تھی تمہارے پروردگار کی طرف سے،1

14۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو اللہ کی نعمتوں کی تذکیر و یاددہانی : سو آپ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگ یاد کرو اللہ تعالیٰ کے ان انعامات اور احسانات کو جو اس نے تم پر فرمائے۔ خاص کر اس کے اس احسان کو کہ اس نے تم کو فرعون اور اس کے مظالم سے نجات بخشی۔ تاکہ اس طرح تم اس کا شکر ادا کرسکو۔ اسی لیے یہودا اس کے شکرئیے میں دسویں محرم کا روزہ رکھتے تھے اور آنحضرت ﷺ کو جب یہ بات یہود مدینہ سے پوچھنے پر معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے اصل حقدار تو تم سے زیادہ ہم ہیں۔ اس لیے شکرانے کا یہ روزہ ہم بھی رکھیں گے " نحن احق بموسی منکم " البتہ اس بات کی پیش نظر کہ اس سے یہود کی اقتداء اور مشابہت لازم نہ آجائے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہم اس کے ساتھ ایک دن کا روزہ اور رکھیں گے۔ یعنی دسویں کے ساتھ نویں یا گیارہویں کا بھی۔ تاکہ حق شکر کی ادائیگی بھی ہوجائے اور یہود بےبہبود سے مشابہت بھی لازم نہ آئے۔ بہرکیف نعمت ایک مطلوب و محمود امر ہے۔ اور اس سے نعمت میں خیروبرکت آتی اور اضافہ وبڑھوتری نصیب ہوتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے (لئن شکرتم لازیدنکم) اور اس کے برعکس کفران نعمت باعث وبال و محرومی ہے ارشاد ہوتا ہے (ولئن کفرتم ان عذابی لشدید) اور حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ گناہ کے ارتکاب سے انسان روزی سے محروم ہوجاتا ہے " ان العبد لیحرم الرزق بالذنب یصیبہ " (ابن کثیر وغیرہ) ۔ اور شکر نعمت کا طریقہ اللہ پاک کی عبادت و بندگی اور اس کی طرف رجوع ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور عبادت و بندگی کا کوئی طریقہ از خود مقرر کرنا جائز نہیں۔ جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا اور کرنا ہے۔ بلکہ اس میں ضرورت ہے اتباع کی۔ کہ بدعت " احداث فی الدین " ہے جو کہ نصوص صریحہ کی رو سے باطل و مردود ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور عبادات قیاس سے ثابت نہیں ہوتیں جس طرح کہ اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں نے اس موقع پر کہا ہے۔ بلکہ ان کے لیے دلیل شرعی سے ثبوت درکار ہوتا ہے جو قرآن و حدیث سے ہی مل سکتی ہے۔ یا پھر اجتہادی مسائل میں فقہ اسلامی سے جو کہ قرآن وسنت کے مآخذ اصلیہ ہی سے ماخوذ ومستنبط ہے۔
Ayah 14:7

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرو کہ) جب تمہارے رب نے تمہیں خبردار کردیا تھا کہ اگر تم لوگ شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ نوازوں گا، اور اگر تم نے ناشکری کی تو (پھر) میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے،2

15۔ شکر نعمت اور اس کی صورتیں : سو شکر نعمت ایک اہم مطلوب ہے جس میں سب سے پہلا درجہ اقرار نعمت کا ہے۔ اس طرح کہ دل میں بھی اس کا احساس و یقین ہو اور زبان وبیان سے بھی اس کا اقرار واظہار کہ یہ نعمت اللہ ہی کی عطاء فرمودہ اور صرف اسی کی بخشی ہوئی ہے۔ اور پھر اس نعمت کو صرف وخرچ بھی اللہ تعالیٰ کی رضاء و خوشنودی کے لیے اور اس کی ہدایت وتعلیم کے مطابق کرے۔ یہ سب شکرنعمت میں داخل ہے۔ سو شکر نعمت بذات خود ایک عظیم الشان نعمت ہے کہ اس سے نعمتوں میں برکت نصیب ہوتی ہے اور ان کی حفاظت ہوتی اور ان کو بقاء ملتی اور دوام نصیب ہوتا ہے۔ اور سب سے بڑی نعمت ایمان و ہدایت کی نعمت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرتی ہے۔ اللہ اپنے فضل وکرم سے اپنی بخشی ہوئی ہدایت ایمان کی اس عظیم الشان وبے مثال نعمت اور اس کے علاوہ دوسری ان نعمتوں کے شکر کی توفیق بخشے جن کا احاطہ و ادراک بھی اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔ فلک الحمد والشکر یاربی حتی ترضی ولک الحمد والشکر بعد ماترضی والی ان نتشرف برؤیتک ولقائک۔ 16۔ کفران نعمت باعث وبال ونکال۔ والعیاذ باللہ : پس کفران نعمت اور ناشکری تمہارے لیے وبال ونکال کا باعث بنے گی، سو اس طرح ناشکری اور کفران نعمت کا نقصان خود تم ہی کو پہنچے گا اور اس کا بھگتان تم ہی کو بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔ اور کفران نعمت خداوندی کے جحودوکتمان سے بھی ہوتا ہے اور کفر و معصیت کے ارتکاب سے بھی۔ (ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) بہرکیف کفران نعمت کا نتیجہ وانجام بہت برا ہے۔ اور یہ چیز انسان کے لیے بڑے وبال ونکال کا باعث اور ذریعہ بن جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ وضلال وسوء وانحراف۔
Ayah 14:8

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ نے (اپنی قوم کو) یہ بھی بتادیا کہ اگر تم نے کفر کیا اور (تم ہی نہیں بلکہ اگر) تمہارے ساتھ روئے زمین کے سب لوگ بھی کفر کرلیں (والعیاذ باللہ العظیم) ، تو بیشک (اس میں اللہ تعالیٰ کا ذرہ برابر کوئی نقصان نہیں کہ یقیناً ) اللہ بڑا ہی ہے بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے،

17۔ اللہ بڑا ہی بےنیاز اور تعریفوں والا ہے : پس اس کو نہ کسی کی کسی طرح کی تعریف و توصیف کی ضرورت ہے نہ مدح وثناء کی۔ سبحا نہ وتعالیٰ ۔ بلکہ اس حمید مطلق۔ جل وعلا۔ کی مدح سرائی خود انسان کے اپنے ہی بھلے کے لیے ہے اور یہ اس غنی مطلق کا حق بھی ہے جو اس کے بندوں پر عائد ہوتا ہے کہ وہ دل وجان سے اس وہاب مطلق کی یاد دلشاد سے سرشار اور اس کی حمد ثناء میں مشغول ورطب اللسان رہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ جس کے احسانات میں ان کے جسم وجاں کارواں رواں ڈوبا ہوا ہے۔ کہ اس میں اپنے خالق ومالک کے حق کی ادائیگی کے علاوہ خود بندوں کا اپنا ہی بھلا اور فائدہ ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویریدجل وعلا شانہ۔ وھو الھادی الی سواء السبیل، وبیدہ ازمۃ التوفیق۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 14:9

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

کیا تمہیں (اے منکرو ! ) نہیں پہنچے حالات ان لوگوں کے جو گزر چکے ہیں تم سے پہلے ؟ یعنی قوم نوح، عاد، ثمود اور ان کے جو ان سے بھی پہلے گزر چکے ہیں، جن (کی صحیح تعداد اور پورے حالات) کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے، ان کے پاس آئے ان کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر، مگر انہوں نے اپنے ہاتھ دے دیے ان کے مونہوں میں،3 اور صاف کہہ دیا کہ ہم اس دین کو کسی طور پر بھی ماننے کے لئے تیار نہیں جس کے ساتھ تم کو بھیجا گیا ہے، اور بلاشبہ ہم اس چیز کے بارے میں ایک بڑے ہی خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں، جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو،

18۔ عالم غیب اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : سوان قوموں اور انکے رسولوں کا علم اللہ ہی کو ہے کہ عالم الغیب وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ نفی اور اثبات کے حصر پر مبنی اس ارشاد خداوندی (لایعلمہم الا اللہ) سے اہل بدعت کے علم غیب کے شرکیہ عقیدے کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ مگر برا ہوبدعت پرستی اور اس کی نحوست کا کہ اہل بدعت کے ایک بڑے تحریف پسند بغیر کسی سند ودلیل کے اور اس قرآنی ارشاد کے بالکل برعکس اس کے جواب میں یوں گوہر افشانی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو تمام انبیاء اور ان کی امتوں کا تفصیلی علم دیا۔ یعنی آیت کریمہ میں جو کچھ فرمایا گیا اس کے بالکل برعکس اور ارشاد خداوندی کا کھلا معارضہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پھر موصوف نے اپنے اس دعوے کے لیے نہ کسی دلیل کا ذکر فرمایا اور نہ کسی حوالہ وثبوت کا۔ جس کو دیکھ کر انسان حیرت میں ڈوب کر رہ جاتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر ہٹ دھرمی اور بےباکی سے اللہ تعالیٰ کی صریح آیات ونصوص کے جواب اور ان کے معارضہ میں اس طرح کی ہرزہ سرائی سے کام لیتے ہیں۔ کیا ان کے دلوں سے خوف خدا ختم ہوگیا ؟ اور یہ لوگ اس کی گرفت وپکڑ سے اس درجہ عاری اور نڈر وبے خوف ہوگئے ؟ والی اللہ المشتکی وھو المستعان ولا حول ولا قوۃ الا بہ جل و علا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے راہ حق وصواب پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔ 19۔ انہوں نے اپنے ہاتھ دے دیئے ان کے مونہوں میں : یعنی حضرات انبیائے کرام کی دعوت توحید کو سننے پر ان لوگوں نے ان حضرات کی تکذیب اور ان کی زبان بندی کے لئے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دیئے۔ یا یہ کہ اپنے ہاتھ اپنے مونہوں پر رکھ دیئے حیرت واستعجاب کی بناء پر۔ یا یہ کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے حضرات انبیائے کرام کو چپ رہنے کی تلقین کرتے ہوئے اپنے ہاتھ ان کی طرف اٹھائے وغیرہ۔ یہ مختلف مطلب اس ارشاد ربانی کے حضرات مفسرین کرام نے بیان فرمائے ہیں۔ اور الفاظ و کلمات کے عموم میں ان سب ہی کے مراد لئے جانے کی گنجائش موجود ہے۔ والعلم عند اللہ سبحانہ وتعالیٰ ۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو (ابن جریر، قرطبی، ابن کثیر، معارف، کشاف اور محاسن التاویل وغیرہ) ۔ بہرکیف اس سے اس عناد اور ہٹ دھرمی کا پتہ چلتا ہے اور اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جس سے اہل باطل نے حضرات انبیائے کرام کے مقابلے میں کام لیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس میں ایک طرف تو اہل حق اور خاص کر دعاۃ حق کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ اہل فکروباطل سے آج ان کو جس دکھ اور دلآزار سلوک سے واسطہ پڑرہا ہے یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں۔ بلکہ اس سے پہلے بھی ایسے ہی ہوتا آیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرات انبیائے کرام کی قدسی صفات ہستیوں سے بھی یہی کچھ ہوتا آیا ہے۔ اور دوسری طرف اس میں منکرین و مکذبین کے لیے تنبیہ وتہدید بھی ہے کہ اگر تم لوگ تکذیب وانکار کی اپنی اس روش سے باز نہ آئے تو آخرکار تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو اس سے پہلے کے منکرین و مکذبین کا ہوچکا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کے لیے ایک اور یکساں وبے لاگ ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا ہی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ 20۔ دعوت حق سے اعراض و روگردانی کا نتیجہ قلق واضطراب : سوان لوگوں نے پیغمبروں سے کہا کہ ہم یقیناتمہاری دعوت کی بناء پر سخت اضطراب انگیزشک میں پڑے ہیں۔ اور یہ دعوت حق کی ایک خصوصیت اور اس کی امتیازی شان ہے کہ اس کا انکار کرنے اور اس سے منہ موڑنے والوں کا سکون واطمینان غارت ہوجاتا ہے۔ اور ایک ایسا کانٹا ان کے دلوں میں لگ جاتا ہے جو برابر نہیں چبھتارہتا ہے۔ اور اس طرح یہ لوگ ایک داخلی کرب اور قلبی قلق واضطراب کے نقد عذاب میں مبتلا رہتے ہیں جبکہ حق سے محرومی کا اصل عذاب آخرت میں ہوگا جو کہ بڑا سخت، انتہائی کربناک اور رسواکن ہوگا۔ جیسا کہ دوسرے مقامات پر فرمایا گیا (ولعذاب الاخرۃ اکبر) نیز فرمایا گیا (ولعذاب الاخرۃ اشق) نیز فرمایا گیا (ولعذاب الاخرۃ اخزی) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جبکہ اس کے برعکس دعوت حق کو قبول کرنے اور اس کے مطابق ذکرویاد خداوندی میں مصروف ہوجانے سے دلوں کو سکون واطمینان کی وہ عظیم الشان اور بےمثال دولت نصیب ہوتی ہے جو دنیا کے کسی بازار اور منڈی میں نہیں مل سکتی، اور جس کے لیے دنیا ماری ماری پھرتی اور طرح طرح کے جتن کرتی ہے۔ وہ ایمان والوں کو مفت اور اس قدر ارزانی اور سہولت سے ملتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ (الا بذکر اللہ تطمئن القلوب) (الرعد : 28) یعنی آگاہ رہے اے لوگو ! کہ اللہ کے ذکرہی سے اطمینان ملتا ہے دلوں کو۔ وباللہ التوفیق ،۔
Ayah 14:10

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے ان سے کہا کہ کیا تمہیں شک ہے اس اللہ کے بارے میں جو پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین (کی اس عظیم الشان کائنات) کا ؟4 اور وہ تمہیں بلاتا بھی اس لئے ہے کہ تاکہ بخشش فرما دے تمہارے گناہوں کی اور تمہیں مہلت سے نواز دے ایک مقررہ مدت تک ؟ ان لوگوں نے (بطور تعجب داستکار) کہا کہ تم تو ہم ہی جیسے بشر (اور انسان) ہو (پھر تمہیں ہم نبی کیسے مان لیں) ،5 تم تو دراصل ہمیں روکنا چاہتے ہو ان چیزوں (کی پوجا پاٹ) سے جن کو پوجتے چلے آئے ہیں ہمارے باپ دادا پس لے آؤ ہمارے پاس کوئی کھلی سند،1

21۔ حق کو قبول کرنے کا فائدہ خود اس کے قبول کرنے والوں کے لئے : یعنی یہ دعوت سراسر تمہارے ہی بھلے اور فائدے کے لیے ہے۔ تو آخراس میں حیرت واستعجاب کی کون سی بات ہے ؟ جبکہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے خالق ومالک کی عظمت شان اور اس کی وحدانیت مطلقہ کی گواہی دے رہا ہے۔ اور یہ بتارہا ہے کہ اس کائنات اور اس کی ہر شئی کا مخدوم ومطاع یہ حضرت انسان عبث وبے کار نہیں ہوسکتا۔ جو اس انسان کو اپنے انجام اور مقصد زندگی سے آگاہ و باخبر کرنا، تاکہ یہ فرصت عمر کے ضیاع سے قبل اس سے استفادہ کرکے اپنے انجام اور حقیقی کامیابی کے لیے تیاری کرسکے۔ سو یہ تو وہ کرم واحسان ہے اس رب رحمن کا جس کا کوئی مول نہیں ہوسکتا تو اس پر کوئی تعجب کس طرح روا ہوسکتا ہے ؟ تمہاری کھوپڑیوں کو آخر کیا ہوگیا اور اتنی موٹی بات بھی تم لوگوں کو آخرکیوں سمجھ نہیں آرہی ؟ بہرکیف دعوت حق کو قبول کرنے کا نفع و فائدہ ان کے قبول کرنے والوں ہی کو ہوگا۔ اور اس سے اعراض اور کفر انکار کا نکال ووبال انکار کرنے والوں کے سر ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور حق و ہدایت کی دعوت دینے والے لوگ انسانیت کے سے بڑے محسن اور سچے اور حقیقی خیرخواہ ہیں کہ یہی وہ لوگ ہیں جو انسان کو اس کے مقصد حیات کی تذکیر و یاددہانی کراتے اور اس کو انسانی شرف ومقام سے آگاہ کرتے ہیں۔ اور اس کو اشرف المخلوقات ہونے کے تقاضوں کی تعلیم و تلقین کرتے ہیں۔ ورنہ انسان اپنے مقصد حیات اور اپنے اصل اور حقیقی نصب العین سے غافل وبے خبر اور لاپرواہ ہو کر " شرالبریہ " یعنی بدترین مخلوق بن کر اسفل السافلین کے ہاویے میں جاگرتا ہے اور ہمیشہ ہمیش کی ہلاکت و تباہی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ من کل زیغ وضلال۔ 22۔ منکرین کا حضرات انبیاء ورسل پر اعتراض کہ تم تو ہم ہی جیسے بشرہو : تو پھر تم نبی اور رسول کس طرح ہوسکتے ہو کہ نبوت و بشریت کی دونوں صفتیں یکجا نہیں ہوسکتیں۔ سو یہی غلط فہمی تھی کل کے اس کھلے مشرک کو اور یہی غلط فہمی آج کے جاہل مسلمان کو ہے۔ فرق اگر ہے تو یہ کہ ان لوگوں نے پیغمبر کی بشریت کو دیکھتے ہوئے ان کی نبوت و رسالت کا انکار کیا۔ جبکہ یہ ان کی نبوت و رسالت پر ایمان کا دعویدار بن کر ان کی بشریت کا انکار کرتا ہے۔ یعنی ان لوگوں نے کہا کہ چونکہ یہ حضرات بشر اور انسان ہیں، لہذا ہم ان کو نبی و رسول ماننے کے لیے تیار نہیں۔ جبکہ آج کے ان بہکے بھٹکے لوگوں کا کہنا ہے کہ چونکہ ہم ان کو نبی و رسول مانتے ہیں، لہذا وہ بشر اور انسان نہیں ہوسکتے۔ جبکہ حق اور حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر بیک وقت بشر بھی ہوتا ہے اور نبی و رسول بھی۔ جیسا کہ کلمہ شہادت میں ہمیں تعلیم و تلقین فرمایا گیا ہے " واشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ " سو اس کلمہ شہادت میں ان کی عبدیت و بشریت کا اقرار و اعلان پہلے ہے اور نبوت و رسالت کا بعد میں۔ اور اسی بات کی تصریح آنحضرت ﷺ نے خود اس طرح فرمائی " کنت عبدا قبل ان اکون رسولا " یعنی میں عبد وبشر پہلے تھا اور نبوت و رسالت سے سرفرازی بعد میں نصیب ہوئی " (مؤطا امام مالک) بہرکیف یہ ایک صاف وصریح حقیقت ہے جو عقل ونقل اور فطرت سلیمہ کے عین مطابق ہے کہ حضرات انبیائے کرام۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ اصل اور حقیقت کے اعتبار سے انسان اور بشرہی ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے انتخاب اور شرف نبوت و رسالت سے مشرف ہونے کے بعد ان کا درجہ و مرتبہ تمام مخلوق میں سب سے بڑا اور سب سے اونچا ہوجاتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ حضرات اپنی اصل اور ذات کے اعتبار سے تو انسان اور بشر ہوتے ہیں لیکن اپنی صفت اور شان کے اعتبار سے نور۔ کیونکہ حق و ہدایت کا معنوی نور جو ظاہری اور حسی نور سے کہیں بڑھ کر عظیم الشان ہوتا ہے وہ دنیا کو انہی نورانی ہستیوں سے ملتا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان منکرین و مکذبین نے اپنے انبیاء ورسل سے کہا کہ چونکہ تم ہم ہی جیسے بشر ہو۔ اور مزید یہ کہ تم ہمیں ان چیزوں کی پوجا پاٹ سے روکتے ہو جن کی پوجا پاٹ ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے۔ اس لیے ہم تمہیں اللہ کا نبی ماننے اور تمہاری اطاعت و فرمانبرداری کرنے کے لیے تیار نہیں۔
Ayah 14:11

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے ان کے جواب میں فرمایا کہ بلاشبہ ہم ہیں تو تم ہی جیسے بشر (اور انسان) لیکن (بشریت اور نبوت میں کوئی تضاد نہیں اس لئے) اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرما دیتا ہے،2 اور ہمارے بس میں نہیں کہ ہم تمہارے پاس کوئی سند لے آئیں مگر اللہ ہی کے اذن سے، اور اللہ پر بھروسہ کرنا چاہئیے ایمان والوں کو (ہر حال میں) ،

23۔ حضرات انبیاء ورسل کا اعلان کہ ہم تم ہی جیسے بشر ہیں : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے رسولوں نے ان لوگوں کے اس اعتراض کے جواب میں کہا اور حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ان سے کہا کہ ہم یقینا اور قطعاتم ہی لوگوں جیسے بشر اور انسان ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے اپنا انعام واحسان فرماتا ہے۔ اور اپنے احسان اور فضل وکرم سے نوازکروہ جسے چاہتا ہے بڑی شان عطا فرما دیتا ہے۔ سو اسی بناء پر اس نے محض اپنے فضل وکرم سے ہمیں نبوت و رسالت کے شرف سے نواز کر باقی تمام مخلوق پر فوقیت و فضیلت عطاء فرمادی ہے۔ اور ہم جو کچھ تم سے کہہ رہے ہیں وہ اسی وحدہ لاشریک کے حکم وارشاد کے مطابق اور اسی کی طرف سے کہہ رہے ہیں۔ سو کتنی صاف، صریح اور واضح حقیقت ہے جس کو قرآن حکیم نے حضرات انبیائے کرام۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ کے اس قول صدق اور فرمان حق ترجمان سے اس طرح واضح فرما دیا کہ پیغمبر اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے انسان اور بشر ہی ہوتے ہیں۔ مگر اللہ پاک کے انتخاب اور شرف نبوت و رسالت سے مشرف ہوجانے کے بعدان کا مرتبہ ومقام اللہ پاک کی باقی تمام مخلوق میں سب سے بڑا اور سب سے ممتاز ہوجاتا ہے۔ اس کو قرآن حکیم میں جگہ جگہ اور طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے۔ یہاں پر بھی اس کو " ان " نافیہ اور " الا " استثنائیہ کے کلمات حصروتاکید کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔ مگر اس کے باوجود اہل بدعت ہیں کہ بشریت انبیاء کے اس بنیادی عقیدہ کو جو کہ نصوص قرآن و سنت میں مصرح اور عقل ونقل کے تقاضوں کے عین مطابق ہے ماننے کے لیے تیار نہیں۔ اور اس طرح کی آیات کریمہ میں وہ طرح طرح کی تلبیسات اور تحریفات سے کام لینے پر اتر آتے ہیں۔ مثلا یہاں پر ان کے ایک بڑے تحریف پسند نے ان حضرات کے اس قول کے بارے میں اس طرح ایک نئی منطق بگھاری ہے کہ اچھا یہی مانو کہ ہم واقعی انسان ہیں۔ گویا واقعتا ایسے نہیں۔ محض مان لینے اور تسلیم کرلینے کی بات ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اب دیکھئے قرآن کیا کہتا ہے اور یہ صاحب کیا کہتے ہیں۔ اور ان کے ایک اور تحریف پسند نے جو بڑھک ماری ہے وہ تو اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز اور افسوس ناک ہے۔ چناچہ موصوف لکھتے ہیں کہ خیال رہے کہ نبی کو بشر یا تو رب نے فرمایا یا خود نبی نے اپنے آپ کو یا کفار نے۔ ان تینوں کے سوا کسی نے انہیں بشر نہیں کہا۔ اب جو انہیں بشر کہہ کر پکارے وہ نہ رب ہے نہ نبی لامحالہ بےایمان ہی ہے " (بلفظہ ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ دیکھیے کہ کس قدر ظلم، کتنی ہٹ دھرمی اور کیسی تحریف وتلبیس سے کام لیا ہے۔ اہل بدعت کے اس ظالم تحریف پسند نے ؟ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ خوف خدا سے کس قدر عاری، بےفکر اور لاپرواہ ہیں۔ اور حق اور اہل حق سے ان کو کس قدر بغض و عداوت ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم والی اللہ المشتکی وایاہ نجعل فی نحورہم ونعوذبہ من شرورہم۔ ایسے لوگوں سے کوئی پوچھے کہ بھلا جس حقیقت نفس الامری کا اعلان واظہار حضرت حق۔ جل مجدہ۔ خود فرمائے اور اس قدر صاف وصریح طور پر اور نفی واثبات کے کلمات حصر کے ساتھ فرمائے۔ حضرات انبیاء کرام۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ پوری صراحت و وضاحت اور حصروتاکید کے ساتھ اس کا اقرار و اعتراف کریں اور جو اتنی جلی اور واضح حقیقت ہو کہ کفار ناہنجار تک کو اس کے ماننے میں کوئی پس وپیش نہ ہو۔ اس کو بھی جو نہ مانے اور اس کے انکار کے لیے وہ اس حدتک لچر، واہی اور بےہودہ تاویلات وتلبیسات پر اترآئے، اس سے بڑھ کر احمق، ظالم، ہٹ دھرم اور محرف اور کون ہوسکتا ہے ؟ اور تلبیس مزید ملاحظہ ہو کہ اپنے دجل پر پردہ ڈالنے کے لیے کہا کہ جو انہیں بشر کہہ کر پکارے بھلا ایسا بھی کوئی مومن ہوسکتا ہے۔ جو حضرات انبیائے کرام۔ علیہم الصلوہ والسلام، میں سے کسی کو یا بشر اور یا انسان کہہ کر بلاتا پکارتا ہو ؟ کبھی اور کہیں ایسا کوئی مسلمان دیکھایا سنا ہے ؟ جو اپنے پیغمبر کو اس طرح پکارتاہو ؟ اور کسی کا عقیدہ و ایمان اس کو اس طرح کے خطاب کو گوارا کرسکتا ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ تو پھر دجالوں کے ایسے دجل و فریب کو کیا کہا جائے جو اس طرح کے خود ساختہ اور خود تراشیدہ ٹوٹکوں کی آڑ لے کر اس طرح تلبیسات سے کام لیتے ہیں۔ اور یہاں تک کہ ان کو تفسیر کے نام سے قرآن کریم کے حواشی میں درج اور ثبت کردیں۔ اور کوئی بتائے اور از روئے عدل وانصاف بتائے کہ ایسے خود تراشیدہ ٹوٹکوں کی بناء پر یہ دوسروں کو بےایمان قررد دینے والے خود کہاں کھڑے ہیں اور کس فتوے کے مستحق ہیں ؟۔ والعیاذ باللہ الذی لآالہ الا ہو جل وعلا۔ بہرکیف حضرات انبیاء ورسل نے اپنے بارے میں صاف اور صریح طور پر اعلان واظہار فرما دیا کہ بلاشبہ ہم تم ہی لوگوں کی طرح انسان اور بشر ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے ہمیں نبوت و رسالت کے شرف سے نواز کر خاص شرف و مرتبہ سے مشرف فرمادیا۔ 24۔ معجزہ نبی کے اختیار میں نہیں ہوتا : اس لیے ان حضرات انبیاء ورسل نے ان منکرین و مکذبین کے مطالبہ معجزہ کے جواب میں فرمایا۔ اور ہمارے بس میں نہیں کہ ہم تمہارے پاس کوئی سند لے آئیں مگر اللہ ہی کے اذن سے۔ کہ معاملہ سب کا سب اللہ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ وہ جو چاہئے، جب چاہے، جیسے چاہے کرے۔ اور جس کے ہاتھ پر جو چاہے ظاہر فرمائے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا (وما کان لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ) الایۃ (الرعد : 37) سو معجزہ پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ اللہ پاک ہی کے اختیار میں ہوتا ہے۔ اور جب معجزہ پیغمبر کے قضبہ اور اختیار میں نہیں ہوتا تو پھر کرامت ولی کے اختیار میں کس طرح ہوسکتی ہے ؟ پس اہل بدعت نے اس بارے جو طرح طرح کے شرکیہ عقائد گھڑ رکھے ہیں اس سے وہ سب ھبآء منثورا ہوجاتے ہیں۔ والحمد للہ۔ بہرکیف حضرات انبیاء ورسل نے ان لوگوں سے فرمایا کہ اگر تم لوگ اپنا بھلا چاہتے ہو تو ہماری دعوت قبول کرکے راہ حق و ہدایت کو اپناؤ۔ تاکہ تم لوگوں کو نورحق و ہدایت سے سرفرازی نصیب ہوسکے۔ رہ گئے اس طرح کے فرمائشی معجزے تو وہ نہ تمہارے اختیار میں ہیں اور نہ ہم نے ان کا کبھی دعوی ہی کیا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے اذن اور اسی کی مشیت پر موقوف ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 25۔ ایمان کا تقاضا ! کہ بھروسہ اللہ تعالیٰ ہی پر ہو : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا اور حصروقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے ایمان والوں کو، کہ ایمان کا تقاضایہی ہے کہ بھروسہ اللہ پر اور صرف اللہ ہی پر ہو۔ مگر افسوس کہ آج کے کلمہ گو مشرک نے اس کے برعکس طرح طرح کے سہارے گھڑرکھے ہیں اور قسما قسم کی ایسی خود ساختہ سرکاریں بنا رکھیں ہیں جن پر اس نے تکیہ کر رکھا ہے۔ اور اللہ کو چھوڑ کر اس کی مخلوق میں سے مختلف ہستیوں کو حاجت رواومشکل کشا قرار دے کر وہ انہی کو پکارتا اور ان ہی پر اعتماد کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف حضرات انبیاء ورسل نے صاف طور پر اعلان وارشاد فرمادیا کہ اللہ ہی پر بھروسہ و اعتماد کرنا چاہئے ایمان والوں کو کہ ایمان و یقین کا تقاضا یہی ہے کہ بھروسہ و اعتماد اللہ وحدہ لاشریک ہی پر ہو۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس ہم تمہارے اس مطالبے کو بھی اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے کرتے ہیں۔ اگر وہ چاہے گا تو کوئی معجزہ دکھادے گا اور اگر نہیں چاہے گا تو نہیں دکھائے گا۔ ایمان کا تقاضا اور اہل ایمان کی شان یہی ہے کہ وہ تمام معاملات اسی کے حوالے کردیں اور ہر حال میں اسی پر بھروسہ رکھیں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویریدبکل حال من الاحوال وھوالھادی الیٰ سوآالسبیل، وعلیہ نتوکل وبہ نستعین فی آن وحین۔
Ayah 14:12

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

اور ہم کیوں اللہ پر بھروسہ نہ کریں جب کہ اسی نے ہمیں (دارین کی سعادتوں کی) راہیں سمجھا دیں، اور ہم ضرور صبر (و برداشت) ہی سے کام لیتے رہیں گے ان ایذاؤں پر جو تم لوگ ہمیں پہنچا رہے ہو، اور اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے (ہر حال میں) ، بھروسہ کرنے والوں کو،

26۔ حضرات انبیائے کرام کی طرف سے صبروبرداشت کا اعلان : سومنکرین و مکذبین کے جواب میں حضرات انبیائے کرام نے کہا کہ ہم صبروبرداشت ہی سے کام لیتے رہیں گے تمہاری ایذاء رسانیوں پر۔ پس نہ ہم تمہاری ان بےہودگیوں اور ایذاء رسانیوں کا کوئی جواب دیں گے اور نہ ہی جادہ حق واستقامت کو ترک کریں گے۔ سو یہ حضرات انبیائے کرام۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ کے صدق و اخلاص اور ان کے استقلال واستقامت اور للہیت کے اعلی مدارج و درجات کا ایک واضح نمونہ ہے کہ معاندین و منکرین کی طرف سے ایسے معاندانہ اور اذیت رساں سلوک کے جواب میں بھی نہ کسی انتقام کا کوئی ذکر اور نہ کسی اشتعال اور جذباتیت کا کوئی پہلو ہے۔ بلکہ صبر و برداشت ہی کا اعلان وارشاد ہے۔ سو یہ انہی قدسی صفت حضرات کی شان ہوسکتی ہے جو سراپا صدق و اخلاص ہوتے ہیں۔ اور ان میں کسی ذاتی غرض یا مفاد کا کوئی شائبہ تک نہیں ہوتا۔ سو ان حضرات نے منکرین و مکذبین کی جواب میں ارشاد فرمایا کہ ہمارا عزم و ارادہ یہی ہے کہ ہم راہ حق و ہدایت پر ثابت قدم رہیں اور اس راہ میں تمہاری طرف سے جو بھی ابتلائیں پہنچیں گی ان پر ہم صبر و برداشت ہی سے کام لیں گے۔ اور اس سب میں ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کر رکھا ہے کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی وحدہ لاشریک پر بھروسہ کرنا چاہئے۔
Ayahs 14:13–14

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

مگر (اس سب کے باوجود) ان کافروں نے اپنے رسولوں کو آخری جواب یہی دیا کہ یا تو تمہیں ہمارے مذہب میں واپس آنا ہوگا، یا ہم تمہیں نکال باہر کریں گے اپنی سرزمین سے، تب ان کے رب نے ان پر وحی بھیج (کر انھیں تسلی) دی کہ (یہ بےچارے تمہیں کیا نکالیں گے) ہم ضرور بالضرور ان ظالموں کو ہلاک کر (کے ان کا تیاپانچا کر) دیں گے

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور اس سرزمین میں ان کے بعد ہم تم ہی کو آباد کردیں گے یہ (وعدہ اور انعام) ہر اس شخص کے لئے ہے جو ڈرتا ہو میرے حضور جواب دہی سے اور جو ڈرتا ہو میری وعید سے،3

27۔ " یا تم واپس لوٹ آؤ ہمارے مذہب میں " کا مطلب ؟۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضرات انبیائے کرام اس سے پہلے ان لوگوں کے دین و مذہب پر تھے۔ والعیاذ باللہ۔ وہ تو شرک اور کفر و شرک کے ہر شائبہ سے ہمیشہ پاک وصاف رہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اعلان حق سے قبل چونکہ یہ حضرات ایک طرح کے سکوت اور خاموشی کی زندگی گزارتے ہیں، تو اس سے اہل باطل کو خود یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ یہ حضرات اس سے پہلے ان ہی کے دین پر تھے، اس لیے ان کا کہنا ہوتا ہے کہ ہمارے دین میں واپس آجاؤورنہ حضرات انبیائے کرام کفر و شرک کی نجاستوں سے ہمیشہ پاک اور ہر طرح سے معصوم ہوتے ہیں۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے نبوت و رسالت کے شرف سے مشرف ہونے سے پہلے بھی کفر و شرک کے ہر شائبہ سے پاک اور بری ہوتے ہیں۔ (علیہم الصلوۃ والسلام۔ بہرکیف ہر پیغمبر کی زندگی میں بالآخر یہ مرحلہ بھی پیش آیا ہے کہ اس کی قوم کے ان متکبروں اور منکروں نے ان کو صاف طور پر یہ نوٹس دے دیا کہ تم ہماری ملت میں واپس آجاؤورنہ یاد رکھو کہ ہم تمہیں اپنی سرزمین سے نکال باہر کریں گے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب ان بدبختوں سے کسی خیر کی کوئی توقع نہیں۔ اب یہ اس قابل ہیں کہ اپنے آخری انجام کو پہنچ کررہیں۔ سو آخر کار ان کو دھر لیا جاتا ہے اور اس طرح وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 28۔ کفار کی طرف سے حضرات انبیائے کرام کو ملک بدری کی دھمکی : سو آخرکارکفار واشرار کی طرف سے حضرات انبیائے کرام کو اپنے ملک سے نکال دینے کی دھمکی دی گئی۔ اور یہی طریقہ ووطیرہ ہوتا ہے اہل باطل کا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ جب یہ لوگ حجت وبرہان کے میدان میں عاجز وبے بس ہوجاتے ہیں تو اس طرح کی دھمکیوں اور گیدڑ بھبکیوں پر اتر آتے ہیں۔ اور طاقت کے استعمال اور ظلم کی دھمکیاں دینے لگتے ہیں۔ سو اس سے ایک بات تو یہ واضح ہوجاتی ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں کفر و شرک وغیرہ باطل کی کسی بھی شکل کی جڑیں پکی ہوجاتی ہیں ان کا ان کے دلوں سے نکلنا اور ایسے لوگوں کا کفر کی ظلمت سے رہائی پانا بہت ہی مشکل ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ حضرات انبیائے کرام کی آواز بھی وہاں بےاثر ہوجاتی ہے۔ الا ماشاء اللہ۔ اور دوسری حقیقت اس سے یہ واضح ہوجاتی ہے کہ حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ السلام۔ مختار کل نہیں ہوتے، جس طرح کہ اہل بدعت وغیرہ کا کہنا اور ماننا ہے۔ ورنہ ان کی امتیں اس طرح اپنے کفر وباطل پر اڑی اور ڈٹی نہ رہتیں۔ اور وہ اپنے رسولوں کی اس طرح کی دھمکیاں نہ دیتیں۔ اور جب حضرات انبیائے کرام بھی حاجت روامشکل وکشا اور مختار کل نہیں بلکہ وہ سب بھی اللہ تعالیٰ ہی کی رحمت و عنایت کے محتاج ہوتے ہیں تو پھر ان کے بعد کے کسی شخص کے اور ان کی امت میں کے کسی فرد اور کسی پیر فقیر کے مشکل کشا اور حاجت روا ہونے کا کیا سوال ہوسکتا ہے ؟ سو ایسا ہر عقیدہ وخیال بےبنیاد اور ضلالت و گمراہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 29۔ ظلم کا نتیجہ ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ : سو اس مرحلے پر حضرات انبیاء ورسل کو بذریعہ وحی تسلی دی گئی کہ ہم ضرور ہلاک کردیں گے ان ظالموں کو۔ ان کے اپنے ہی اختیار کردہ وانکار اور ظلم وعدوان کی بناء پر۔ پس ظلم وعدوان کا نتیجہ وانجام بہرحال تباہی اور بربادی ہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو لوگوں کو یہ بات سمجھ آئے یا نہ آئے اور وہ اس حقیقت کو تسلیم کریں یا نہ کریں۔ حق اور حقیقت بہرحال یہی اور صرف یہی ہے کہ ظالموں کو جتنی بھی ڈھیل اور مہلت ملے ان کا آخری انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف جب منکرین و مکذبین کی طرف سے تکذیب وانکار کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرات انبیائے کرام کو بذریعہ وحی یہ بشارت دی گئی کہ ہم ان ظالموں کو ہلاک کردیں گے اور ان کی جگہ تمہیں اس زمین میں آباد کریں گے کہ اپنی کائنات کے مالک ہم ہی ہیں۔
Ayah 14:15

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

انہوں نے فیصلہ چاہا تھا اور (وہ ہوگیا کہ) ناکام و نامراد ہوگیا ہر بڑا سرکش ضدی

30۔ خوف وخشیت خداوندی اصلاح احوال کی اصل اساس و بنیاد : سوخوف وخشیت خداوندی اصلاح احوال کی اصل اساس و بنیاد ہے۔ پس یہ وعدہ کسی فرد، قوم یا علاقہ اور رنگ ونسل اور کسی وقت کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ سب کے لیے عام ہے۔ اور اس کے استحقاق کی اساس و بنیاد وخوف وخشیت خداوندی ہے کہ یہی وہ سب سے اہم اور بنیادی عنصر ہے جس سے انسانی زندگی اور سنورتی ہے۔ اللہم فخذ نا بنواصینا الی مافیہ حبک ورضاک یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین۔ بہر کیف اس ارشاد ربانی سے یہ حقیقت واضح اور آشکارا ہوجاتی ہے کہ خوف وخشیت خداوندی اصلاح احوال کی اصل اساس و بنیاد ہے۔ وباللہ التوفیق۔ اور رسولوں کو دی گئی اس بشارت میں چونکہ ان کے پیروکار بھی شامل ہیں اس لیے ان کے لیے اس میں تنبیہ و تلقین ہے کہ وہ راہ حق و ہدایت میں صبر و برداشت اور عزم واستقامت سے کام لیں۔ اور مخالفین سے ڈر کر کہیں خوف خدا کو نظر انداز نہ کردیں۔ کہ راہ حق وصواب پر استقامت ہی وسیلہ نجات و سرفرازی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید، بکل حال من الاحوال۔ 31۔ اور انہوں نے فیصلہ چاہا : یعنی نبیوں نے اپنی قوموں اور امتوں کے خلاف جبکہ وہ ان کی ہدایت سے مایوس ہوگئے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا (ربنا بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیرالفاتحین) (الاعراف : 89) نیز قوموں نے اپنے پیغمبروں کے خلاف کہ وہ لوگ کفر وضلال پر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ان کے اس قول وقرار کو اس طرح بیان فرمایا گیا (اللہم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء اوائتنا بعذاب الیم) (الانفال : 32) ۔ سو (استفتحوا) کی ضمیر فاعل کا مرجع حضرات انبیائے کرام بھی ہیں اور کفار و مشرکین بھی۔ ان سب سب ہی نے اللہ سے فیصلے کی دعاء و درخواست کی تھی کہ حق واضح ہوجائے۔ سو وہ ہوگیا۔ حضرات انبیائے کرام کی صداقت و حقانیت ان کے دشمنوں کے مقابلے میں واضح ہوگئی اور حق روز روشن کی طرح نکھر کر سامنے آگیا۔ بہرکیف اس ضمیر کا مرجع دونوں ہیں یعنی حضرات انبیاء ورسل بھی اور ان کے معاندین و منکرین بھی۔ اور معنی و مفہوم دونوں ہی صورتوں میں صحیح اور درست ہے۔ (المراغی، المحاسن اور المعارف للکاندھلوی (رح) وغیرہ) ۔
Ayah 14:16

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

اس (دنیوی عذاب) کے آگے اس کے لئے جہنم ہے جہاں سے پیپ لہو (کا پانی) پینے کو دیا جائے گا

32۔ اور اس کے آگے ان کے لئے جہنم : یعنی صرف یہی نہیں کہ دنیاوی عذاب ہوا اور بس جان چھوٹ گئی۔ نہیں بلکہ دنیا کے اس چھوٹے عذاب کے بعد اصل اور بڑا عذاب آخرت کا وہ عذاب ہے جس میں انہوں نے ہمیشہ کے لیے رہنا ہے اپنے کفر وعناد کی پاداش میں۔ والعیاذ باللہ۔ اور وہ اتنا بڑا اور اس قدر ہولناک عذاب ہوگا کہ اس کے سامنے دنیا کا یہ عذاب نہ ہونے کے برابر ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (ولعذاب الاخرۃ اکبر) نیز فرمایا گیا (ولعذاب الاخرۃ اشق) نیز فرمایا گیا (والعذاب الاخرۃ اخزی) ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ سو کفار و منکرین کے لئے حقیقی عذاب جو کہ کفر انکار کا اصل اور پھر پوربدلہ ہوگا وہ دائمی اور ایسا ہولناک عذاب ہوگا کہ اس دنیا میں اس کا تصور کرنا بھی کسی کے لیے ممکن نہیں۔ سو جن کفار و منکرین کا انجام یہ ہونے والا ہے ان کو اگر دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں دنیا بھر کی دولت بھی مل جائے تو بھی ان کو کیا ملا کہ ان کا انجام تو یہ ہونے والا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اصل دولت ایمان و یقین کی دولت ہے۔ وباللہ التوفیق۔
Ayahs 14:17–18

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

جسے وہ گھونٹ گھونٹ کر کے (مجبوراً ) پئے گا، اور وہ ایسا نہیں ہوگا کہ آسان سے اتر جائے اور اسے ہر طرف سے موت آتی دکھائی دے رہی ہوگی، پر وہ مرنے بھی نہ پائے گا، اور اس کے آگے ایک بڑا سخت عذاب ہوگا۔ 1

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

مثال ان لوگوں (کے حال ومال) کی جنہوں نے کفر کیا اپنے رب (مہربان) کے ساتھ، ایسے ہے جیسا کہ راکھ کا ایک ڈھیر ہو جسے اڑا کر رکھ دیا ہو تیز ہوا نے، جھکڑ کے ایک دن میں (اسی طرح) یہ لوگ کچھ بھی پھل نہ پاسکیں گے اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا یہی ہے گمراہی دور کی

33۔ منکرین کے عذاب کے بعض ہولناک پہلوؤں کا ذکر وبیان : وہاں پر پینے کے لیے پیپ اور کچ لہوکا پانی دیا جائے گا جس کو کوئی پی نہ سکے گا۔ مگر ان کو اسے (مجبورا) گھونٹ گھونٹ کرکے پینا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ وہ کوئی پینے کی چیز نہ ہوگی بلکہ وہ نہایت گندی اور بدبودار شئی ہوگی۔ اور ان کو اگر وہاں پانی بھی پینے کو ملے گا تو وہ بھی ایسا گرم اور اس قدر سخت ہولناک اور کھولتا ہوا ہوگا کہ سامنے آتے ہی چہروں کو بھون کر رکھ دے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (وان یستغیثوا یغاثوابمآء کالمہل یشوی الوجوہ بئس الشراب وسآءت مرتفقا) (الکہف : 29) اور جب اس کو یہ لوگ پی لیں گے تو اندر جاکروہ ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا (وسقوا مآء حمیما فقطع امعآء ہم) (محمد : 15) ۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ من کل نوع من انواء العذاب فی الدنیا ولاخرۃ) سو جس کافر ومنکر کا انجام یہ ہونے والا ہے اس کو اگر دنیا بھر کی تمام دولت بھی مل جائے تو بھی اس کو کیا ملا کہ اس کو آخرکار ایسے ہولناک انجام سے دوچارہونا ہے۔ اور اس کے برعکس جس مومن صادق کو اس کے صدق ایمان و یقین کے نتیجے میں اور اس کی برکت سے دوزخ کے اس ہولناک عذاب سے بچا کر جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز فرما دیا جائے گا وہ کتنا خوش نصیب اور کس قدر نیک بخت ہے۔ اگرچہ دنیا میں اس کو پیٹ بھر کر کھانے کو بھی میسر نہ آیا ہو۔ سو اصل دولت ایمان و یقین کی دولت۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ صراط مستقیم پر قائم رکھے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔ 34۔ ان کو ہر طرف سے موت آتی دکھائی دے گی مگر وہ مرنے نہ پائیں گے : سو یہ اہل دوزخ کے لیے ایک خاص عذاب ہوگا کہ ان کو ہر طرف سے موت آتی دکھائی دے گی مگر وہ مرنے نہیں پائیں گے کہ اس طرح اس عذاب سے جان چھوٹ جائے کہ کسی عذاب سے بچنے کا آخری درجہ اور طریقہ یہی ہوتا ہے کہ موت آجائے اور اس سے گلوخلاصی نصیب ہوجائے۔ مگر وہاں پر ایسے بھی نہیں ہوگا۔ بلکہ وہاں انکو (لایموت فیھا ولا یحیی) ۔ والی ہولناک زندگی گزارنا ہوگی۔ سو جس کافر و مشرک اور باطل پرست کا انجام یہ ہوگا اس کو دنیاوی زندگی کی اس عارضی فرصت میں اگر روئے زمین کی ساری دولت بھی مل جائے تو بھی اسے کیا ملا ؟ اور اس سے بڑھ کر محروم اور بدبخت اور کون ہوسکتا ہے ؟۔ والعیاذ باللہ۔ اس کے مقابلے میں جس مومن صادق کو ایمان و یقین کی سچی اور بےمثال و لازوال دولت مل گئی اس سے بڑھ کر خوش نصیب اور کون ہوسکتا ہے اگرچہ دنیاوی زندگی کی اس محدود و مختصر مدت میں اس کو نان جویں بھی میسر نہ ہو۔ فالحمدللہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان والیقین فضلامنہ واحسانا۔ اللہ ایمان و یقین کی اس دولت کو کامل ومکمل فرمائے۔ اس کو سلامت و محفوظ رکھے۔ اور اسی پر خاتمہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین۔ بہرکیف ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان بدبختوں کو وہاں پر ایسے لگے گا جیسے طرف سے موت ان پر پل پڑرہی ہو مگر ان کو موت آئے گی نہیں۔ کہ اس عذاب سے چھٹکارا پاس کیں۔ اور اسی پر بس نہیں بلکہ ان کے لیے وہاں پر مزید بڑا ہی سخت عذاب ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔