Ayah 14:13 یعنی اس کتاب کی عظمت شان کا اندازہ اس بات سے کرنا چاہیے کہ ہم اس کے اتارنے والے اور آپ جیسی رفیع الشان شخصیت اس کی اٹھانے والی ہے اور مقصد بھی اس قدر اعلیٰ وارفع ہے جس سے بلند تر کوئی مقصد نہیں ہوسکتا وہ یہ کہ خدا کے حکم و توفیق سے تمام دنیا کے لوگوں کو خواہ عرب ہوں یا عجم، کالے ہوں، یا گورے، مزدور ہوں یا سرمایہ دار، بادشاہ ہوں یا رعایا۔ سب کو جہالت و اوہام کی گھٹا ٹوپ اندھیریوں سے نکال کر معرفت و بصیرت اور ایمان و ایقان کی روشنی میں کھڑا کرنے کی کوشش کی جائے۔
Ayah 14:24 یعنی صحیح معرفت کی روشنی میں اس راستہ پر چل پڑیں جو زبردست و غالب، ستودہ صفات، شہنشاہ مطلق اور مالک الکل خدا کا بتایا ہوا اور اس کے مقام رضاء تک پہنچانے والا ہے۔
5 یعنی جو لوگ ایسی کتاب نازل ہونے کے بعد کفرو شرک اور جہالت و ضلالت کی اندھیری سے نہ نکلے ان کو سخت عذاب اور ہلاکت خیز مصیبت کا سامنا ہے، آخرت میں یا دنیا میں بھی۔
Ayah 14:36 یہ کافروں کا حال بیان فرمایا کہ ان کا اوڑھنا بچھونا یہ ہی دنیا ہے آخرت کے مقابلہ میں اسی کو پسند کرتے ہیں اور ترجیح دیتے ہیں۔ شب و روز اسی کی محبت میں غرق رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی چاہتے ہیں کہ دنیا کی محبت میں پھنسا کر خدا کی خوشنودی کے راستہ سے روک دیں۔ اسی لیے یہ فکر رہتی ہے کہ خدا کے دین میں کوئی عیب نکالیں اور سیدھے راستہ کو ٹیڑھا ثابت کریں۔ فی الحقیقت یہ لوگ راستہ سے بھٹک کر بہت ہی دور جا پڑے ہیں جن کے واپس آنے کی توقع نہیں۔ خدا کی سخت مار پڑے گی تب آنکھیں کھلیں گی۔
Ayah 14:47 یعنی جس طرح آپ کو ہم نے لوگوں کی ہدایت کے لیے یہ عظیم الشان کتاب عطا فرمائی، پہلے بھی ہر زمانہ میں سامان ہدایت بہم پہنچاتے رہے ہیں۔ چونکہ طبعی ترتیب کے موافق ہر پیغمبر کے اولین مخاطب اسی قوم کے لوگ ہوتے ہیں جن سے وہ پیغمبر اٹھایا جاتا ہے اس لیے اسی کی قومی زبان میں وحی بھیجی جاتی رہی۔ کہ احکام الٰہیہ کے سمجھنے سمجھانے میں پوری سہولت رہے۔ نبی کریم ﷺ کی امت دعوت میں گو تمام جن و انس شامل ہیں، تاہم جس قوم میں سے آپ اٹھائے گئے اس کی زبان عربی تھی اور ترتیب طبعی کے موافق شیوع ہدایت کی یہ ہی صورت مقدر تھی کہ آپ کے اولین مخاطب اور مقدم ترین شاگرد ایسی سہولت اور خوبی سے قرآنی تعلیمات و حقائق کو سمجھ لیں اور محفوظ کرلیں کہ ان کے ذریعہ سے تمام اقوام عالم اور آنے والی نسلیں درجہ بدرجہ قرآنی رنگ میں رنگی جاسکیں چناچہ ایسا ہی ہوا۔ عربوں نے اپنے نبی کی صحبت میں رہ کر اپنی قومی زبان میں جس سے انھیں بیحد شغف تھا، قرآنی علوم پر کافی دسترس پائی، پھر وہ مشرق و مغرب میں پھیل پڑے اور روم وفارس پر چھا گئے۔ اس وقت قدرت نے عجمی قوموں میں ایسا زبردست جوش اور داعیہ کلام الٰہی کی معرفت اور زبان عربی میں مہارت حاصل کرنے کا پیدا فرما دیا کہ تھوڑی مدت کے بعد وہ قرآنی علوم کی شرح و تبیین میں اپنے معاصر عربوں سے گوئے سبقت لے گئے بلکہ عموماً علوم دینیہ و ادبیہ کا مدار ثریا تک پرواز کرنے والے عجمیوں پر رہ گیا۔ اس طرح خدا کی حجت بندوں پر تمام ہوتی رہتی اور وقتاً فوقتاً قرآنی ہدایت سے مستفید ہونے کے اسباب فراہم ہوتے رہے۔ فَالْحَمْدُ للّٰہِ عَلٰی ذَالِکَ ۔ بہرحال خاتم الانبیاء ﷺ کے خاص قوم عرب میں سے اٹھائے جانے کی اگر کچھ وجوہ موجود ہیں (اور یقینا ہیں) تو ان ہی وجوہ کے نتیجہ میں اس سوال کا جواب بھی آجاتا ہے کہ قرآن عربی زبان میں اتار کر خداوند عالم نے عربوں کی رعایت کیوں کی ؟
8 یعنی تبیین و ہدایت کے سامان مکمل کردیے پھر جس نے ان سامانوں سے منتفع ہونا چاہا اس کی دستگیری فرما کر راہ پر لگا دیا جس نے روگردانی کی اسے گمراہی میں چھوڑے رکھا۔ وہ زبردست اور غالب ہے چاہے تو سب کو زبردستی راہ ہدایت پر لگا دے لیکن اس کی حکمت مقتضی ہوئی کہ انسان کو کسب و اختیار کی ایک حد تک آزادی دے کر رحمت و غضب دونوں کے مظاہر کو دنیا میں باقی رہنے دے۔
Ayah 14:51 " نشانیاں دے کر یعنی معجزات دے کر جو " آیات تسعہ " کے نام سے مشہور ہیں یا آیات تورات مراد ہوں۔ اور " یاد دلا ان کو دن اللہ کے " یعنی ان دنوں کے واقعات یاد دلاؤ جب ان پر شدائد و مصائب کے پہاڑ ٹوٹے پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے نجات دی اور اپنی مہربانی مبذول فرمائی کیونکہ دونوں قسم کے حالات سننے سے صابر و شاکر بندوں کو عبرت حاصل ہوتی ہے کہ مصیبت کے وقت گھبرانا اور راحت کے وقت اترانا نہیں چاہیے جو لوگ پہلے کامیاب ہوئے ہیں وہ سختیوں پر صبر اور نعمائے الٰہیہ پر شکر کرنے سے ہوئے ہیں۔ (وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ڏ بِمَا صَبَرُوْا ۭوَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهٗ وَمَا كَانُوْا يَعْرِشُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :137)
Ayah 14:62 مثلاً تم کو غلام بنا رکھا تھا اور سخت بیگاریں لیتے تھے۔
3 کہ تم کو غلامی کی ذلت سے نکالا اور دولت آزادی سے مالا مال کیا۔ " بلاء " کے اصل معنی آزمائش کے ہیں۔ تکلیف و راحت دونوں حالتوں میں بندے کے صبر و شکر کی آزمائش ہے (وَنَبْلُوْكُمْ بالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً ) 21 ۔ الانبیاء :35) (وَبَلَوْنٰهُمْ بالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :168) چونکہ فرعونیوں سے نجات دینا بڑی نعمت تھی تو یہاں آزمائش انعام سے ہوئی جیسے مترجم محقق نے بطور حاصل معنی لفظ " مدد " سے تعبیر کیا۔ اس قسم کی آیت سورة بقرہ اور اعراف میں گزر چکی ہے وہاں کے فوائد ملاحظہ کرلیے جائیں۔
Ayah 14:74 موسیٰ (علیہ السلام) کا مقولہ ہے یعنی وہ وقت بھی یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے اعلان فرما دیا کہ اگر احسان مان کر زبان و دل سے میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے تو اور زیادہ نعمتیں ملیں گی۔ جسمانی و روحانی اور دنیاوی و اخروی ہر قسم کی۔
5 موجودہ نعمتیں سلب کرلی جائیں گی اور ناشکری کی مزید سزا الگ رہی۔ حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ کی خدمت میں ایک سائل آیا آپ ﷺ نے اسے ایک کھجور عنایت فرمائی۔ اس نے نہ لی یا پھینک دی۔ پھر دوسرا سائل آیا اس کو بھی ایک کھجور دی وہ بولا سُبْحَان اللّٰہِ تَمْرَۃٌ مِّنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یعنی رسول اللہ کا تبرک ہے۔ آپ ﷺ نے جاریہ کو حکم دیا کہ ام سلمہ کے پاس جو چالیس درہم رکھے ہیں وہ اس شکر گزار سائل کو دلوا دے۔
Ayah 14:86 یعنی کفران نعمت کا ضرر تم ہی کو پہنچے گا۔ خدا کا کچھ نہیں بگڑتا اسے تمہارے شکریوں کی کیا حاجت ہے۔ کوئی شکر ادا کرے یا نہ کرے، بہرحال اس کے حمید و محمود ہونے میں کچھ کمی نہیں آتی۔ صحیح مسلم میں حدیث قدسی ہے جس میں حق تعالیٰ نے فرمایا " اے میرے بندو ! اگر تمہارے اگلے پچھلے، جن و انس سب کے سب ایک اعلیٰ درجہ کے متقی شخص کے نمونہ پر ہوجائیں تو اس سے میرے ملک میں کچھ بڑھ نہیں جاتا۔ اور اگر سب اگلے پچھلے جن و انس مل کے بفرض محال ایک بدترین انسان جیسے ہوجائیں (العیاذ باللہ) تو اس سے میرے ملک میں ذرہ برابر کمی نہیں ہوتی "۔
Ayah 14:97 یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام کا تتمہ ہے یا اسے چھوڑ کر حق تعالیٰ نے اس امت کو خطاب فرمایا ہے۔ بہرحال اس میں بتلایا کہ بیشمار قومیں پہلے گزر چکیں ان کے تفصیلی پتے اور احوال بجز خدا کے کسی کو معلوم نہیں۔ البتہ چند قومیں جو عرب والوں کے یہاں زیادہ مشہور تھیں ان کے نام لے کر اور بقیہ کو والَّذِیْنَ مِنْ بَعْدِ ہِمْ میں درج کر کے متنبہ فرماتے ہیں کہ ان اقوام کا جو کچھ حشر ہوا کیا وہ تم کو نہیں پہنچا۔ تعجب ہے اتنی قومیں پہلے تباہ ہو چکیں اور ان کے حال سے ابھی تک تمہیں عبرت حاصل نہ ہوئی۔ (تنبیہ) ابن عباس نے لَا یَعْلَمُہُمْ اِلَّا اللّٰہُ کو پڑھ کر فرمایا " کَذَبَ النَّسَّابُوْن " (یعنی انساب کی پوری معرفت کا دعویٰ رکھنے والے جھوٹے ہیں) عروہ بن الزبیر فرماتے ہیں کہ ہم نے کسی کو نہیں پایا جو معد بن عدنان سے اوپر (تحقیقی طور پر) نسب کا حال بتاتا ہو واللہ تعالیٰ اعلم۔
8 یعنی کفار فرط غیظ سے اپنے ہاتھ کاٹنے لگے جیسے دوسری جگہ ہے۔ " عَضُّوْا عَلَیْکُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیطِ " یا انبیاء کی باتیں سن کر فرط تعجب سے ہاتھ منہ پر رکھ لیے، یا ہاتھ منہ کی طرف لے جا کر اشارہ کیا کہ بس چپ رہیے یا ہماری اس زبان سے اس جواب کے سوا کوئی توقع نہ رکھو جو آگے آرہا ہے۔ یا پیغمبر کی باتیں سن کر ہنستے تھے اور کبھی ہنسی دبانے کو منہ پر ہاتھ رکھ لیتے تھے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اَیْدِیَہُمْ کی ضمیر کفار کی طرف اور اَفْوَاہِہِمْ کی " رُسل " کی طرف راجع ہو، یعنی ملعونوں نے اپنے ہاتھ پیغمبروں کے منہ میں اڑا دیے کہ وہ بالکل بول نہ سکیں یا دونوں ضمیریں رسل کی طرف ہوں یعنی گستاخانہ طور پر انبیاء کے ہاتھ پکڑ کر انہی کے منہ میں ٹھونس دیے بعض کے نزدیک یہاں " ایدی " سے مراد نعمتیں ہیں۔ یعنی جو عظیم الشان نعمتیں انبیاء نے پیش کی تھیں، مثلاً شرائع الٰہیہ وغیرہ وہ ناقدری سے ان ہی کی طرف لوٹا دیں کسی کو قبول نہ کیا جیسے ہمارے محاورات میں کہتے ہیں کہ میں نے فلاں شخص کی چیز اس کے منہ پر ماری۔ بہرحال کوئی معنی لیے جائیں سب کا حاصل یہ ہے کہ انہوں نے نعمت خداوندی کی ناقدری کی اور انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت قبول نہ کی ان کے ساتھ بڑی بےرخی بلکہ گستاخی سے پیش آئے۔
Ayah 14:101 یعنی خدا کی ہستی اور وحدانیت تو ایسی چیز نہیں جس میں شک و شبہ کی ذرا بھی گنجائش ہو، انسانی فطرت خدا کے وجود پر گواہ ہے۔ علویات وسفلیات کا عجیب و غریب نظام شہادت دیتا ہے کہ اس مشین کے پرزوں کو وجود کے سانچہ میں ڈھالنے والا، پھر انھیں جوڑ کر نہایت محکم و منظم طریقہ سے چلانے والا بڑا زبردست ہاتھ ہونا چاہیے جو کامل حکمت و اختیار سے عالم کی مشین کو قابو میں کئے ہوئے ہے۔ اسی لیے کٹّر سے کٹّر مشرک کو بھی کسی نہ کسی رنگ میں اس بات کے اعتراضات سے چارہ نہیں رہا کہ بڑا خدا جس نے آسمان و زمین وغیرہ کر ات پیدا کیے وہ ہی ہوسکتا ہے جو تمام چھوٹے چھوٹے دیوتاؤں سے اونچے مقام پر براجمان ہو۔ انبیاء کی تعلیم یہ ہے کہ جب انسانی فطرت نے ایک علیم و حکیم قادر و توانا منبع الکمالات خدا کا سراغ پا لیا پھر اوہام و ظنون کی دلدل میں پھنس کر اس سادہ فطری عقیدہ کو کھلونا یا چیستاں کیوں بنایا جاتا ہے۔ وجدان شہادت دیتا ہے کہ ایک قادر مطلق اور عالم الکل خدا کی موجودگی میں کسی پتھر یا درخت یا انسانی تصویر یا سیارہ فلکی یا اور کسی مخلوق کو الوہیت میں شریک کرنا فطرت صحیحہ کی آواز کو دبانے یا بگاڑنے کا مرادف ہے کیا خداوند قدوس کی ذات وصفات میں معاذ اللہ کچھ کمی محسوس ہوئی جس کی مخلوق خداؤں کی جمعیت سے تلافی کرنا چاہتے ہو۔
2 یعنی ہم نہیں بلاتے۔ فی الحقیقت ہمارے ذریعہ سے وہ تم کو اپنی طرف بلا رہا ہے کہ توحید و ایمان کے راستہ چل کر اس کے مقام قرب تک پہنچو۔ اگر تم اپنی حرکتوں سے باز آکر ایمان و ایقان کا طریق اختیار کرلو تو ایمان لانے سے پیشتر کے سب گناہ (بجز حقوق و زواجر کے) معاف کر دے گا۔ پھر ایمان لانے کے بعد جیسا عمل کرو گے اس کے موافق معاملہ ہوگا۔
3 یعنی کفر و شرارت پر قائم رہنے کی صورت میں جو جلد تباہ کیے جاتے اس سے محفوظ ہوجاؤ گے اور جتنی مدت دنیا میں رہو گے سکون و اطمینان کی زندگی گزارو گے۔ (يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا) 11 ۔ ہود :3) اور (فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ) 16 ۔ النحل :97) وغیرہ نصوص کے موافق۔
4 یعنی اچھا خدا کی بحث کو چھوڑیے۔ آپ اپنی نسبت کہیں، کیا آپ آسمان کے فرشتے ہیں ؟ یا نوع بشر کے علاوہ کوئی دوسری نوع ہیں ؟ جب کچھ نہیں ہم ہی جیسے آدمی ہو تو آخر کس طرح آپ کی باتوں پر یقین کرلیں۔ آپ کی خواہش یہ ہوگی کہ ہم کو قدیم مذہب سے ہٹا کر اپنا تابع بنالیں تو خاطر جمع رکھئے یہ کبھی نہ ہوگا۔ اگر آپ اپنا امتیاز ثابت کرنا اور اس مقصد میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو کوئی ایسا کھلا ہوا نشان یا خدائی سرٹیفکیٹ دکھلائیے جس کے سامنے خواہی نہ خواہی سب کی گردنیں جھک جائیں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہماری فرمائش کے موافق معجزات دکھلائیں۔
Ayah 14:115 یعنی تمہارا یہ کہنا درست ہے کہ ہم نہ فرشتے ہیں نہ کوئی اور مخلوق، بلکہ نفس بشریت میں تم ہی جیسے ہیں لیکن نوع بشر کے افراد میں احوال و مدارج کے اعتبار سے کیا زمین و آسمان کا تفاوت نہیں۔ آخر اتنا تو تم بھی مشاہدہ کرتے ہو کہ حق تعالیٰ نے جسمانی، دماغی، اخلاقی اور معاشی حالات کے اعتبار سے بعض انسانوں کو بعض پر کس قدر فضیلت دی ہے۔ پھر اگر یہ کہا جائے کہ خدا نے اپنے بعض بندوں کو ان کی فطری قابلیت اور اعلیٰ ملکات کی بدولت روحانی کمال اور باطنی قرب کے اس بلند مقام پر پہنچا دیا جسے " مقام نبوت " یا " منصب رسالت " کہتے ہیں تو اس میں کیا اشکال واستبعاد ہے ؟ بہرحال دعویٰ نبوت سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم اپنی نسبت بشر کے سوا کوئی دوسری نوع ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ ہاں اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ اپنے بندوں میں سے بعض پر ایک خصوصی احسان فرماتا ہے جو دوسروں پر نہیں ہوتا۔
6 یعنی اب رہا سند اور سرٹیفکیٹ لانے کا قصہ، سو خدا کے حکم سے ہم پہلے ہی اپنی نبوت کی سند اور روشن نشانیاں دکھلا چکے ہیں۔ کما قال (جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بالْبَيِّنٰتِ ) 7 ۔ الاعراف :101) جو آدمی ماننا چاہے اس کے اطمینان کے لیے وہ کافی سے زیادہ ہیں۔ باقی رہا تمہاری فرمائشیں پوری کرنا، تو یہ چیز ہمارے قبضہ میں نہیں۔ نہ ہماری تصدیق عقلاً اس پر موقوف ہے۔ خدا تعالیٰ اپنی حکمت کے موافق جو سند اور نشان چاہے، تم کو دکھلائے گا۔ فرمائشی نشانات دیکھنے سے ایمان نہیں آتا، اللہ کے دینے سے آتا ہے۔ لہذا ایک ایمان دار کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اگر تم نہ مانو گے اور ہماری عداوت و ایذاء رسانی پر تیار ہو گے تو ہمارا بھروسہ اسی خدا کی مہربانی اور امداد پر رہے گا۔
Ayah 14:127 یعنی حق تعالیٰ ہم کو جام توحید و عرفان پلا کر حقیقی کامیابی کے راستے بتاچکا، پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم اس پر توکل نہ کریں۔
8 یعنی تم خواہ کتنی ہی ایذاء پہنچاؤ، خدا کے فضل سے ہمارے توکل میں فرق نہیں پڑ سکتا۔ متوکلین کا یہ کام نہیں کہ سختیاں دیکھ کر توکل اور استقامت کی راہ سے ہٹ جائیں۔
Ayah 14:139 یعنی اپنے توکل وغیرہ کو رہنے دو ، زیادہ بزرگی مت جتاؤ۔ بس اب دو باتوں میں سے ایک بات ہو کر رہے گی۔ یا تم (بعثت سے پہلے کی طرح) چپ چاپ ہم میں رل مل کر رہو گے اور جن کو تم نے بہکایا ہے وہ سب ہمارے پرانے دین میں واپس آئیں گے۔ ورنہ تم سب کو ملک بدر اور جلا وطن کیا جائے گا۔
Ayah 14:141 یعنی یہ تم کو کیا نکالیں گے ہم ہی ان ظالموں کو تباہ کر کے ہمیشہ کے لیے یہاں سے نکال دیں گے کہ پھر کبھی واپس نہ آسکیں۔ اور ان کی جگہ تم کو اور تمہارے مخلص وفاداروں کو زمین میں آباد کریں گے۔ دیکھ لو کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے مکہ سے نکالنا چاہا، وہ ہی نکلنا آخر اس کا سبب بن گیا کہ وہاں اسلام اور مسلمانوں کا دائمی تسلط ہو اور کافر کا نشان باقی نہ رہے۔
2 یعنی مذکورہ بالا کامیابی ان لوگوں کے لیے ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں یہ خیال کر کے کہ وہ ہماری تمام حرکتوں کو برابر دیکھ رہا ہے اور ایک دن حساب دینے کے لیے اس کے سامنے کھڑا ہونا ہے جہاں اس کے بےپناہ عذاب سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔
Ayah 14:153 یعنی پیغمبروں نے خدا سے مدد مانگی اور فیصلہ چاہا۔ چناچہ نوح (علیہ السلام) نے کہا تھا (فَافْتَحْ بَيْنِيْ وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَّنَجِّـنِيْ وَمَنْ مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ) 26 ۔ الشعراء :118) لوط (علیہ السلام) نے کہا رَبِّ نَجِّنِیْ وَاَہْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ شعیب (علیہ السلام) نے عرض کیا (رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بالْحَقِّ ) 7 ۔ الاعراف :89) موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی (رَبَّنَآ اِنَّكَ اٰتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَاَهٗ زِينَةً وَّاَمْوَالًا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۙرَبَّنَا لِيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْــلِكَ ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰٓي اَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْا حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ ) 10 ۔ یونس :88) اور کفار نے بھی جب دیکھا کہ اتنی طویل مدت سے عذاب کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں لیکن اس کے آثار کچھ نظر نہیں آتے تو استہزاء اور تمسخر سے کہنے لگے (رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ ) 38 ۔ ص :16) اور (اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ) 8 ۔ الانفال :32) یہ تو قریش کے مقولے ہیں، قوم نوح نے کہا تھا " فَاْتِنَا بِمَاتَعِدُنَا " قوم شعیب نے کہا " فَاسْقِطْ عَلَیْنَاکِسَفاً " وغیرہ ذالک۔ غرض دونوں طرف سے فیصلہ کی جلدی ہونے لگی۔
Ayah 14:164 یعنی پیغمبروں کا خدا کو پکارنا تھا کہ مدد آئی اور ہر ایک سرکش اور ضدی نامراد ہو کر رہ گیا۔ جو کچھ خیالات پکا رکھے تھے، ایک ہی پکڑ میں کافور ہوگئے نہ وہ رہے نہ ان کی توقعات رہیں۔ ایک لمحہ میں سب کا خاتمہ ہوا۔
5 یعنی یہ تو یہاں کا عذاب تھا اس کے بعد آگے دوزخ کا بھیانک منظر ہے جہاں شدت کی تشنگی کے وقت ان کو پیپ یا پیپ جیسا پانی پلایا جائے گا۔
Ayah 14:176 یعنی خوشی سے کہاں پی سکیں گے۔ حدیث میں ہے کہ فرشتے لوہے کے گرز سر پر مار کر زبردستی منہ میں ڈالیں گے۔ جس وقت منہ کے قریب کریں گے شدت حرارت سے دماغ تک کی کھال اتر کر نیچے لٹک پڑے گی، منہ میں پہنچ کر گلے میں پھنسے گا، بڑی مصیبت اور تکلیف کے ساتھ ایک ایک گھونٹ کر کے حلق سے نیچے اتاریں گے۔ پیٹ میں پہنچنا ہوگا کہ آنتیں کٹ کر باہر آجائیں گی۔ ( وَسُقُوْا مَاۗءً حَمِيْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَاۗءَهُمْ ) 47 ۔ محمد :15) (وَاِنْ يَّسْتَغِيْثُوْا يُغَاثُوْا بِمَاۗءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوْهَ ) 18 ۔ الکہف :29) (اعاذنا اللہ منہما وسائر المومنین)
7 یعنی اس کا پینا کیا ہوگا ہر طرف سے موت کا سامنا کرنا ہوگا، سر سے پاؤں تک ہر عضو بدن پر سکرات موت طاری ہوں گے، شش جہت سے مہلک عذاب کی چڑھائی ہوگی، اس زندگی پر موت کو ترجیح دیں گے۔ لیکن موت بھی نہیں آئے گی۔ جو سب تکلیفوں کا خاتمہ کر دے۔ ایک عذاب کے پیچھے دوسرا تازہ عذاب آتا رہے گا۔ (كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَيْرَھَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ ) 4 ۔ النسآء :56) (ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيٰي) 87 ۔ الاعلی :13) سچ ہے
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
اَللّٰہُمَّ احْفَظْنَا۔
Ayah 14:188 بعض کفار کو یہ خیال ہوسکتا تھا کہ آخر ہم نے دنیا میں بہت سے اچھے کام صدقہ خیرات کی مد میں کیے ہماری خوش اخلاقی لوگوں میں مشہور ہوئی، بہتیرے آدمیوں کی مصیبت میں کام آئے اور کسی نہ کسی عنوان سے خدا کی پوجا بھی کی، کیا یہ سب کیا کرایا اور دیا لیا اس وقت کام نہ آئے گا ؟ اس کا جواب اس تمثیل میں دیا۔ یعنی جسے خدا کی صحیح معرفت نہیں۔ محض فرضی اور وہمی خدا کو پوجتا ہے اس کے تمام اعمال محض بےروح اور بےوزن ہیں۔ وہ محشر میں اسی طرح اڑ جائیں گے جس طرح آندھی کے وقت جب زور کی ہوا چلے تو راکھ کے ذرات اڑ جاتے ہیں، اس وقت کفار نیک عمل سے بالکل خالی ہاتھ ہوں گے حالانکہ وہ یہی موقع ہوگا جہاں نیک عمل کی سب سے زیادہ ضرورت ہوگی۔ اللہ اکبر ! یہ کیسی حسرت کا وقت ہوگا کہ جن اعمال کو ذریعہ قرب و نجات سمجھے تھے وہ راکھ کے ڈھیر کی طرح عین اس موقع پر بےحقیقت ثابت ہوئے جب دوسرے لوگ اپنی نیکیوں کے ثمر شیریں سے لذت اندوز ہو رہے ہیں۔
کہ بازار چنداں کہ آگندہ تر
تہی دست را دل پراگندہ تر
Ayahs 14:19–209 یعنی شاید کفار کو یہ خیال گزرے کہ جب مٹی میں مل کر مٹی ہوگئے پھر دوبارہ زندگی کہاں۔ قیامت اور عذاب وثواب وغیرہ سب کہانیاں ہیں، ان کو بتلایا کہ جس خدا نے آسمان و زمین کامل قدرت و حکمت سے پیدا کیے اسے تمہارا از سر نو دوبارہ پیدا کرنا، یا کسی دوسری مخلوق کو تمہاری جگہ لے آنا کیا مشکل ہے ؟ اگر آسمان و زمین کے محکم نظام کو دیکھ کر یہ یقین ہوتا ہے کہ اس کا پیدا کرنے اور قائم رکھنے والا کوئی صانع حکیم ہے جیسا کہ لفظ " بالحق " میں تنبیہ فرمائی تو کیسے کہا جاسکتا ہے کہ اس نے اشرف المخلوقات (انسان) کو محض بےنتیجہ پیدا کیا ہوگا اور اس کی تخلیق و ایجاد سے کوئی عظیم الشان مقصد متعلق نہ ہوگا یقینا اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی ہونی چاہیے جس میں آدم کی پیدائش کا مقصد عظیم اکمل واتم طریقہ سے آشکارا ہو۔
Ayah 14:2110 یعنی سب سے بڑی عدالت میں پیشی ہوگی۔
1 یہ اتباع اپنے متبوعین سے کہیں گے۔ یعنی دنیا میں تم بڑے بن کر بیٹھے تھے اور ہم نے تمہاری بہت تابعداری کی تھی۔ آج اس مصیبت کی گھڑی میں کچھ تو کام آؤ، کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ عذاب الٰہی کے کسی حصہ کو ہم سے ذرا ہلکا کردو۔ یہ دوزخ میں جانے کے بعد کہیں گے یا میدان حشر میں، ابن کثیر نے پہلے احتمال کو ترجیح دی ہے لقولہ تعالیٰ (وَاِذْ يَتَـحَاۗجُّوْنَ فِي النَّارِ فَيَقُوْلُ الضُّعَفٰۗؤُا لِلَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْٓا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا) 40 ۔ غافر :47) وغیر ذالک من الآیات۔ واللّٰہ اعلم۔
2 یعنی اگر خدا دنیا میں ہم کو ہدایت کی توفیق دیتا تو ہم تم کو بھی اپنے ساتھ سیدھے راستہ پر لے چلتے۔ لیکن ہم نے ٹھوکر کھائی تو تمہیں بھی لے ڈوبے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس وقت اگر خدا تعالیٰ ہم کو اس عذاب سے نکلنے کی کوئی راہ بتلاتا تو ہم تمہیں وہ ہی راہ بتا دیتے۔ اب تو تمہاری طرح ہم خود مصیبت میں مبتلا ہیں، اور مصیبت بھی ایسی جس سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں۔ نہ صبر کرنے اور خاموش رہنے سے فائدہ، نہ گھبرانے اور چلانے سے کچھ حاصل۔
Ayah 14:223 یعنی حساب کتاب کے بعد جب جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں جانے کا فیصلہ ہوچکے گا اس وقت کفار دوزخ میں جا کر یا داخل ہونے سے پہلے ابلیس لعین کو الزام دیں گے کہ مردود تو نے دنیا میں ہماری راہ ماری اور اس مصیبت میں گرفتار کرایا۔ اب کوئی تدبیر مثلاً سفارش وغیرہ کا انتظام کر۔ تاکہ عذاب الٰہی سے رہائی ملے۔ تب ابلیس ان کے سامنے لیکچر دے گا جس کا حاصل یہ ہے کہ بیشک حق تعالیٰ نے صادق القول پیغمبروں کے توسط سے ثواب و عقاب اور دوزخ و جنت کے متعلق سچے وعدے کیے تھے جن کی سچائی دنیا میں دلائل وبراہین سے ثابت تھی اور آج مشاہدے سے ظاہر ہے۔ میں نے اس کے بالمقابل جھوٹی باتیں کہیں اور جھوٹے وعدے کیے۔ جن کا جھوٹ ہونا وہاں بھی ادنیٰ فکر و تامل سے واضح ہوسکتا تھا اور یہاں تو آنکھ کے سامنے ہے۔ میرے پاس نہ حجت وبرہان کی قوت تھی نہ ایسی طاقت رکھتا تھا کہ زبردستی تم کو ایک جھوٹی بات کے ماننے پر مجبور کردیتا، بلاشبہ میں نے بدی کی تحریک کی اور تم کو اپنے مشن کی طرف بلایا، تم جھپٹ کر خوشی سے آئے اور میں نے جدھر شہ دی ادھر ہی اپنی رضا ورغبت سے چل پڑے۔ اگر میں نے اغوا کیا تھا تو تم ایسے اندھے کیوں بن گئے کہ نہ دلیل سنی نہ دعوے کو پرکھا آنکھیں بند کر کے پیچھے ہو لیے۔ انصاف یہ ہے کہ مجھ سے زیادہ تم اپنے نفسوں پر ملامت کرو۔ میرا جرم اغوا بجائے خود رہا لیکن مجھے مجرم گردان کر تم کیسے بری ہوسکتے ہو۔ آج تم کو مدد دینا تو درکنار، خود تم سے مدد لینا بھی ممکن نہیں۔ ہم اور تم دونوں اپنے اپنے جرم کے موافق سزا میں پکڑے ہوئے ہیں۔ کوئی ایک دوسرے کی فریاد کو نہیں پہنچ سکتا۔ تم نے اپنی حماقت سے دنیا میں مجھ کو خدائی کا شریک ٹھہرایا (یعنی بعض تو براہ راست شیطان کی عبادت کرنے لگے اور بہتوں نے اس کی باتوں کو ایسی طرح مانا اور اس کے احکام کے سامنے اس طرح سر تسلیم وانقیاد خم کیا جو خدائی احکام کے آگے کرنا چاہیے تھا) بہرحال اپنے جہل و غباوت سے جو شرک تم نے کیا تھا اس وقت میں اس سے منکر اور بیزار ہوں۔ یا " بِمَا اَشْرَکْتُمُوْنِ " میں بائے سببیت لے کر یہ مطلب ہو کہ تم نے مجھ کو خدائی کا رتبہ دیا اس سبب سے میں بھی کافر بنا۔ اگر میری بات کوئی نہ پوچھتا تو میں کفر و طغیان کے اس درجہ میں کہاں پہنچتا۔ اب ہر ایک ظالم اور مشرک کو اپنے کیے کی سزا دردناک عذاب کی صورت میں بھگتنا چاہیے۔ شور مچانے اور الزام دینے سے کچھ حاصل نہیں۔ گزشتہ آیت میں ضعفاء و مستکبرین (عوام اور لیڈروں) کی گفتگو نقل کی گئی تھی اسی کی مناسبت سے یہاں دوزخیوں کے مہالیڈر (ابلیس لعین) کی تقریر نقل فرمائی چونکہ عوام کا الزام اور ان کی استدعا دونوں جگہ یکساں تھی شاید اسی لیے شیطان کی گفتگو کے وقت اس کا ذکر ضروری نہیں معلوم ہوا۔ واللہ اعلم۔ مقصود ان مکالمات کے نقل کرنے سے یہ ہے کہ لوگ اس افراتفری کا تصور کر کے شیاطین الانس والجن کے اتباع سے باز رہیں۔
Ayah 14:234 یہ بطور مقابلہ کفار کی سزا کے بعد مومنین کا انجام بیان فرمایا۔
5 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ دنیا میں " سلام " دعا ہے سلامتی مانگنے کی، وہاں " سلام " کہنا مبارکباد ہے سلامتی ملنے پر۔
Ayah 14:246 یعنی دیکھئے اور غور کیجئے، کیسی با موقع اور معنی خیز مثال ہے۔ عقل مند جس قدر اس میں غور کرے سینکڑوں باریکیاں نکلتی چلی آئیں۔
7 " ستھری بات " میں کلمہ توحید، معرفت الٰہی کی باتیں، ایمان و ایمانیات، قرآن، حمد وثناء، تسبیح و تہلیل، سچ بولنا سب داخل ہے۔
8 اکثر روایات و آثار میں یہاں " ستھرے درخت " کا مصداق کھجور کو قرار دیا ہے، گو دوسرے ستھرے درخت بھی اس کے تحت میں مندرج ہوسکتے ہیں۔
9 یعنی اس کی جڑیں زمین کی گہرائیوں میں پھیلی ہوئی ہوں کہ زور کا جھکڑ بھی جڑ سے نہ اکھیڑ سکے اور چوٹی آسمان سے لگی ہو یعنی شاخیں بہت اونچی اور زمینی کثافتوں سے دور ہوں۔
Ayah 14:2510 یعنی کوئی فصل پھل سے خالی نہ جائے یا فرض کیجیے بارہ مہینے صبح و شام اس پر تازہ پھل لگا کرے۔
Ayah 14:261 کلمہ کفر، جھوٹی بات اور ہر ایک کلام جو خدا تعالیٰ کی مرضی کے خلاف ہو " کلمہ خبیثہ " میں داخل ہے۔
2 اکثر نے اس سے حنظل (اندرائن) مراد لیا ہے گو عموم لفظ میں ہر خراب درخت شامل ہوسکتا ہے۔
3 یعنی جڑ کچھ نہ ہو، ذرا اشارہ سے اکھڑ جائے۔ گویا اس کے بودے پن اور ناپائیداری کو ظاہر فرمایا، دونوں مثالوں کا حاصل یہ ہوا کہ مسلمانوں کا دعوائے توحید و ایمان پکا اور سچا ہے جس کے دلائل نہایت صاف و صحیح اور مضبوط ہیں، موافق فطرت ہونے کی وجہ سے اس کی جڑیں قلوب کی پہنائیوں میں اتر جاتی ہیں اور اعمال صالحہ کی شاخیں آسمان قبول سے جا لگتی ہیں۔ (ۭاِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهٗ ) 35 ۔ فاطر :10) اس کے لطیف و شیریں ثمرات سے موحدین کے کام و دہن ہمیشہ لذت اندوز ہوتے ہیں۔ الغرض حق و صداقت اور توحید و معرفت کا سدا بہار درخت روز بروز پھولتا پھلتا اور بڑی پائیداری کے ساتھ اونچا ہوتا رہتا ہے اس کے برخلاف جھوٹی بات اور شرک و کفر کے دعوائے باطل کی جڑ بنیاد کچھ نہیں ہوتی۔ ہوا کے ایک جھٹکے میں اکھڑ کر جا پڑتا ہے۔ ناحق بات ثابت کرنے میں خواہ کتنے ہی زور لگائے جائیں، لیکن انسانی ضمیر اور فطرت کے مخالف ہونے کی وجہ سے اس کی جڑیں دل کی گہرائی میں نہیں پہنچتیں۔ تھوڑا دھیان کرنے سے غلط معلوم ہونے لگتی ہے۔ اسی لیے مشہور ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے یعنی سچ کی طرح اپنے پاؤں نہیں چلتا۔ نہ اس سے دل میں نور پیدا ہوتا ہے۔ امام فخر الدین رازی نے صوفیاء کے طرز پر ان مثالوں کے بیان میں بہت اطناب سے کام لیا ہے۔ یہاں اس کے نقل کی گنجائش نہیں۔
Ayah 14:274 یعنی حق تعالیٰ توحید و ایمان کی باتوں سے جن کی مضبوطی و پائیداری پچھلی مثال میں ظاہر کی گئی مومنین کو دنیا و آخرت میں مضبوط ثابت قدم رکھتا ہے۔ رہی قبر کی منزل جو دنیا و آخرت کے درمیان برزخ ہے اس کو ادھر یا ادھر جس طرف چاہیں شمار کرسکتے ہیں۔ چناچہ سلف سے دونوں قسم کے اقوال منقول ہیں۔ غرض یہ ہے کہ مومنین دنیا کی زندگی سے لے کر محشر تک اسی کلمہ طیبہ کی بدولت مضبوط اور ثابت قدم رہیں گے۔ دنیا میں کیسی ہی آفات و حوادث پیش آئیں، کتنا ہی سخت امتحان ہو، قبر میں نکیرین سے سوال و جواب ہو، محشر کا ہولناک منظر ہوش اڑا دینے والا ہو، ہر موقع پر یہ ہی کلمہ توحید ان کی پامردی اور استقامت کا ذریعہ بنے گا۔
5 بےانصافوں سے مراد یہاں کفار و مشرکین ہیں، وہ دنیا میں بھی بچلے اور اخیر تک بچلتے رہیں گے کبھی حقیقی کامیابی کا راستہ ہاتھ نہ لگے گا۔
6 یعنی اپنی حکمت کے موافق جیسا معاملہ جس کے ساتھ مناسب ہوتا ہے کرتا ہے۔
Ayah 14:287 اس سے کفار و مشرکین کے سردار مراد ہیں، خصوصاً رؤسائے قریش جن کے ہاتھ میں اس وقت عرب کی باگ تھی یعنی حق تعالیٰ نے ان پر کیسے احسان کیے، ان کی ہدایت کے لیے پیغمبر ﷺ کو بھیجا، قرآن اتارا، اپنے حرم اور بیت کا مجاور بنایا۔ عرب کی سرداری دی، انہوں نے ان نعمتوں اور احسانات کا بدلہ یہ کیا کہ خدا کی ناشکری پر کمربستہ ہوگئے، اس کی باتوں کو جھٹلایا، اس کے پیغمبر سے لڑائی کی، آخر اپنی قوم کو لے کر تباہی کے گڑھے میں جا گرے۔
Ayahs 14:29–308 یعنی خدا کے احسانات سے متاثر ہو کر منعم حقیقی کی شکر گزاری اور اطاعت شعاری میں لگتے، یہ تو نہ ہوا، الٹے بغاوت پر کمربستہ ہوگئے، خدا کے مقابل دوسری چیزیں کھڑی کردیں جن پر خدائی اختیارات تقسیم کیے اور عبادت جو خدائے واحد کا حق تھا، وہ مختلف عنوانوں سے ان کے لیے ثابت کرنے لگے، تاکہ اس سلسلہ میں اپنے ساتھ دوسروں کی راہ ماریں اور انھیں بہکا کر اپنے دام سیادت میں پھنسائے رکھیں۔
9 یعنی بہتر ہے۔ بیوقوفوں کو جال میں پھنسا کر چند روز جی خوش کرلو اور دنیا کے مزے اڑا لو، مگر تابکے آخر دوزخ کی آگ میں ہمیشہ رہنا ہے۔ کیونکہ اس مزے اڑانے کا یہ ہی نتیجہ ہوگا۔ گویا یہ جملہ ایسا ہوا جیسے ایک طبیب کسی بد پرہیز مریض کو خفا ہو کر کہے " کُلَّ مَاتُرِیْدُ فَاِنَّ مَصِیْرَکَ اِلَی الْمَوْتِ " جو تیرا جی چاہے کھا کیونکہ ایک دن یہ مرض تیری جان لے کر رہے گا۔
Ayah 14:3110 کفار کے احوال ذکر کرنے کے بعد مومنین مخلصین کو متنبہ فرماتے ہیں کہ وہ پوری طرح بیدار رہیں، وظائف عبودیت میں ذرا فرق نہ آنے دیں، دل و جان سے خالق کی عبادت اور مخلوق کی خدمت کریں کہ وہ بھی بہترین عبادت ہے۔ نمازوں کو ان کے حقوق و حدود کی رعایت کے ساتھ خشوع و خضوع سے ادا کرتے رہیں۔ خدا نے جو کچھ دیا ہے اس کا ایک حصہ خفیہ یا اعلانیہ مستحقین پر خرچ کریں۔ غرض کفار جو شرک اور کفران نعمت پر تلے ہوئے ہیں ان کے بالمقابل مومنین کو جان و مال سے حق تعالیٰ کی طاعت و شکر گزاری میں مستعدی دکھلانا چاہیے۔
11 یعنی نماز اور انفاق فی سبیل اللہ وغیرہ نیکیاں اس دن کام آئیں گی، بیع و شراء یا محض دوستانہ تعلقات سے کام نہ نکلے گا۔ یعنی نہ وہاں نیک عمل کہیں سے خرید کر لا سکو گے نہ کوئی ایسا دوست بیٹھا ہے جو بدون ایمان و عمل صالح کے محض دوستانہ تعلقات کی بنا پر نجات کی ذمہ داری کرلے (ربط) پہلے کفار کی ناشکری کا ذکر تھا، پھر مومنین کو مراسم طاعت کی اقامت کا حکم دے کر شکر گزاری کی طرف ابھارا۔ آگے چند عظیم الشان نعمائے الٰہیہ کا ذکر فرماتے ہیں جو ہر مومن و کافر کے حق میں عام ہیں، تاکہ انھیں سن کر مومنین کو شکر گزاری کی مزید ترغیب ہو اور کفار بھی غور کریں تو اپنے دل میں شرمائیں کہ وہ کیسے بڑے منعم و محسن شہنشاہ سے بغاوت کر رہے ہیں۔ اسی ضمن میں خدا تعالیٰ کی عظمت و وحدانیت کے دلائل بھی بیان ہوگئے۔ ممکن ہے انھیں سن کر کوئی عاقل منصف شرکیات سے باز آجائے، یا عظمت و جبروت کے نشانات میں غور کر کے اس کی گرفت اور سزا سے ڈر جائے۔
Ayah 14:3212 یعنی آسمان کی طرف سے پانی اتارا، یا یہ مطلب ہو کہ بارش کے آنے میں بخارات وغیرہ ظاہری اسباب کے علاوہ غیر مرئی سماوی اسباب کو بھی دخل ہے۔ دیکھو آفتاب کی شعاعیں تمام اشیاء کی طرح آتشیں شیشہ پر بھی پڑتی ہیں لیکن وہ اپنی مخصوص ساخت اور استعداد کی بدولت انہی شعاعوں سے غیر مرئی طور پر اس درجہ حرارت کا استفادہ کرتا ہے جو دوسری چیزیں نہیں کرتیں۔ چاند سمندر سے کتنی دور ہے، مگر اس کے گھٹنے بڑھنے سے سمندر کے پانی میں جزر و مد پیدا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر بادل بھی کسی سماوی خزانہ سے غیر محسوس طریقہ پر مستفید ہوتا ہو تو انکار کی کون سی وجہ ہے۔
13 یعنی حق تعالیٰ نے اپنے کمال قدرت و حکمت سے پانی میں ایک قوت رکھی جو درختوں اور کھیتوں کے نشو و نما اور بار آور ہونے کا سبب بنتی ہے۔ اسی کے ذریعہ سے پھل اور میوے ہمیں کھانے کو ملتے ہیں۔
1 یعنی سمندر کی خوفناک لہروں میں ذرا سی کشتی پر سوار ہو کر کہاں سے کہاں پہنچتے ہو اور کس قدر تجارتی یا غیر تجارتی فوائد حاصل کرتے ہو، یہ خدا ہی کی قدرت اور حکم سے ہے کہ سمندر کے تھپیڑوں میں ذرا سی ڈونگی کو ہم جدھر چاہیں لیے پھرتے ہیں۔
Ayah 14:332 یعنی ندیوں میں پانی کا آنا اور کہیں سے کہیں پہنچنا گو کشتی کی طرح تمہارے کہنے میں نہیں، تاہم تمہارے کام میں وہ بھی لگی ہوئی ہیں۔ اسی طرح چاند سورج جو ایک معین نظام اور ضابطہ کے موافق برابر چل رہے ہیں، کبھی تھکتے نہیں نہ رفتار میں فرق پڑتا ہے۔ یا رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے ٹھہری ہوئی عادت کے موافق ہمیشہ چلے آتے ہیں یہ سب چیزیں گو اس معنی سے تمہارے قبضہ میں نہیں کہ تم جب چاہو اور جدھر چاہو ان کی قدرتی حرکت و تاثیر کو پھیر دو تاہم تم بہت سے تصرفات و تدابیر کر کے ان کے اثرات سے بیشمار فوائد حاصل کرتے ہو اور انسانی تصرف و تدبیر سے قطع نظر کر کے بھی وہ قدرتی طور پر ہر وقت تمہاری کسی نہ کسی خدمت میں لگے ہوئے ہیں، تم سوتے ہو، وہ تمہارا کام کرتے ہیں، تم چین سے بیٹھے ہو، وہ تمہارے لیے سرگرداں ہیں۔
Ayah 14:343 یعنی جو چیزیں تم نے زبان قال یا حال سے طلب کیں، ان میں ہر چیز کا جس قدر حصہ حکمت و مصلحت کے موافق تھا مجموعی طور پر تم سب کو دیا۔
4 یعنی خدا کی نعمتیں اتنی بیشمار بلکہ غیر متناہی ہیں کہ اگر تم سب مل کر اجمالاً ہی گنتی شروع کرو تو تھک کر اور عاجز ہو کر بیٹھ جاؤ۔ اس موقع پر امام رازی نے نعمائے الٰہیہ کا بیشمار ہونا، اور علامہ ابو السعود نے ان کا غیر متناہی ہونا ذرا بسط سے بیان فرمایا ہے اور صاحب روح المعانی نے ان کے بیانات پر مفید اضافہ کیا۔ یہاں اس قدر تطویل کی گنجائش نہیں۔
5 یعنی جنس انسان میں بہتیرے بےانصاف اور ناسپاس ہیں، جو اتنے بیشمار احسانات دیکھ کر بھی منعم حقیقی کا حق نہیں پہچانتے۔
Ayah 14:356 روسائے قریش جن کی ناشکر گزاری اور شرک و کفر کا بیان اوپر ( اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ ) 14 ۔ ابراہیم :28) میں ہوا تھا، انھیں ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ یاد دلا کر متنبہ کرتے ہیں کہ تم جن کی اولاد میں ہونے کی وجہ سے کعبۃ اللہ اور حرم شریف کے مجاور بنے بیٹھے ہو، انہوں نے اس کعبہ کی بنیاد خالص توحید پر رکھی تھی، ان ہی کی دعاؤں سے خدا تعالیٰ نے یہ شہر مکہ آباد کیا اور پتھر یلے ریگستان میں ظاہری و باطنی نعمتوں کے ڈھیر لگا دیے۔ وہ دنیا سے یہ ہی دعائیں اور وصیتیں کرتے ہوئے رخصت ہوئے کہ ان کی اولاد شرک کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ اب تم کو سوچنا اور شرمانا چاہیے کہ کہاں تک ان کی وصایا کا پاس کیا یا ان کی دعا سے حصہ پایا اور کس حد تک خدا تعالیٰ کے احسانات پر شکر گزار ہوئے۔
7 یعنی مکہ کو " حرم آمن " بنا دے (چنانچہ خدا نے بنادیا) نیز مجھ کو اور میری اولاد کو ہمیشہ بت پرستی سے دور رکھ۔ غالباً یہاں " اولاد " سے خاص صلبی اولاد مراد ہے سو آپ کی صلبی اولاد میں یہ مرض نہیں آیا اور اگر عام ذریت مراد ہو تو کہا جائے گا کہ دعا بعض کے حق میں قبول نہیں ہوئی۔ باوجودیکہ حضرت ابراہیم معصوم پیغمبر تھے، مگر یہ دعا کا ادب ہے کہ دوسروں سے پہلے آدمی اپنے لیے دعا کرے۔ اس قسم کی دعائیں جو انبیاء سے منقول ہوں ان میں یہ اشارہ ہوتا ہے کہ پیغمبروں کی عصمت بھی خود ان کی پیدا کی ہوئی نہیں بلکہ حق تعالیٰ کی حفاظت و صیانت سے ہے۔ اس لیے وہ ہمیشہ اسی کی طرف التجا کرتے ہیں جو ان کی عظمت کا ضامن و کفیل ہوا ہے۔ (تنبیہ) حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) کے نزدیک ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعائیں مکہ کی آبادی اور تعمیر کعبہ کے بعد کی ہیں۔ سورة بقرہ میں اول پارہ کے ختم پر جس دعا کا ذکر ہے وہ البتہ بنائے کعبہ کے وقت حضرت اسماعیل کی معیت میں ہوئی۔ یہ دعائیں اس کے بہت زمانہ بعد پیرانہ سالی میں کی گئی۔
Ayah 14:368 یعنی یہ پتھر کی مورتیاں بہت آدمیوں کی گمراہی کا سبب ہوئیں۔
9 یعنی جس نے توحید خالص کا راستہ اختیار کیا اور میری بات مانی وہ میری جماعت میں شامل ہے۔ جس نے کہنا نہ مانا اور ہمارے راستہ سے علیٰحدہ ہوگیا تو آپ اپنی بخشش اور مہربانی سے اس کو توبہ کی توفیق دے سکتے ہیں۔ آپ کی مہربانی ہو تو وہ ایمان لا کر اپنے کو رحمت خصوصی اور نجات ابدی کا مستحق بنا سکتا ہے۔ یا یہ مطلب ہو کہ آپ کو قدرت ہے اسے بھی بحالت موجودہ بخش دیں گو آپ کی حکمت سے اس کا وقوع نہ ہو۔ (تنبیہ) سورة مائدہ کے آخر میں ہم نے حضرت خلیل (علیہ السلام) کے اس قول اور مسیح (علیہ السلام) کے مقولے میں فرق بیان کیا ہے وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔
Ayah 14:3710 یعنی اسماعیل (علیہ السلام) کو۔ کیونکہ دوسری اولاد حضرت اسحاق وغیرہ شام میں تھے۔ خدا تعالیٰ کے حکم سے آپ حضرت اسماعیل کو بحالت شیر خوارگی اور ان کی والدہ ہاجرہ کو یہاں چٹیل میدان میں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ بعدہ ' قبیلہ جرہم کے کچھ لوگ وہاں پہنچے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل کو تشنگی اور ہاجرہ کی بیتابی کو دیکھ کر فرشتے کے ذریعہ سے وہاں زمزم کا چشمہ جاری کردیا۔ جرہم کے خانہ بدوش لوگ پانی دیکھ کر اتر پڑے اور ہاجرہ کی اجازت سے وہیں بسنے لگے۔ اسماعیل (علیہ السلام) جب بڑے ہوئے تو اسی قبیلہ میں ان کی شادی ہوئی۔ اس طرح جہاں آج مکہ ہے ایک بستی آباد ہوگئی۔ حضرت ابراہیم گاہ بگاہ ملک شام سے تشریف لایا کرتے تھے اور اس شہر اور شہر کے باشندوں کے لیے دعا فرماتے، کہ خداوندا ! میں نے اپنی ایک اولاد کو اس بنجر اور چٹیل آبادی میں تیرے حکم سے تیرے معظم و محترم گھر کے پاس لا کر بسایا ہے تاکہ یہ اور اس کی نسل تیرا اور تیرے گھر کا حق ادا کریں تو اپنے فضل سے کچھ لوگوں کے دل ادھر متوجہ کر دے کہ وہ یہاں آئیں جس سے تیری عبادت ہو اور شہر کی رونق بڑھے، نیز ان کی روزی اور دل جمعی کے لیے غیب سے ایسا سامان فرما دے کہ (غلہ اور پانی جو ضرویات زندگی ہیں ان سے گزر کر) عمدہ میوے اور پھلوں کی یہاں افراط ہوجائے تاکہ یہ لوگ اطمینان قلب کے ساتھ تیری عبادت اور شکر گزاری میں لگے رہیں۔ حق تعالیٰ نے یہ سب دعائیں قبول فرمائیں۔ آج تک ہر سال ہزاروں لاکھوں آدمی مشرق و مغرب سے، کھنچ کھنچ کر وہاں جاتے ہیں۔ اعلیٰ قسم کے میوے اور پھلوں کی مکہ میں وہ افراط ہے جو شاید دنیا کے کسی حصہ میں نہ ہو۔ حالانکہ خود مکہ میں ایک بھی ثمردار درخت موجود نہ ہوگا۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا میں اَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ (کچھ آدمیوں کے دل) کہا تھا، ورنہ سارا جہاں ٹوٹ پڑتا۔
Ayah 14:381 یعنی زمین و آسمان کی کوئی چیز آپ سے پوشیدہ نہیں۔ پھر ہمارا ظاہر و باطن کیسے مخفی رہ سکتا ہے۔ یہ جو فرمایا " جو ہم کرتے ہیں چھپا کر اور جو کرتے ہیں دکھا کر " اس میں مفسرین کے کئی اقوال ہیں لیکن تخصیص کی کوئی وجہ نہیں۔ الفاظ عام ہیں جو سب کھلی چھپی چیزوں کو شامل ہیں۔ حضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ ظاہر میں دعا کی سب اولاد کے واسطے اور دل میں دعا منظور تھی پیغمبر آخرالزمان کی۔
Ayah 14:392 یعنی بڑھاپے میں اسحاق سارہ کے اور اسماعیل ہاجرہ کے بطن سے غیر متوقع طور پر عنایت کیے۔ جیسے آپ نے اولاد کے متعلق میری دعا (رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ ) 37 ۔ الصافات :100) سنی یہ دعائیں بھی قبول فرمائیے۔
Ayah 14:403 یعنی میری ذریت میں ایسے لوگ ہوتے رہیں جو نمازوں کو ٹھیک طور پر قائم رکھیں۔
4 یعنی میری سب دعائیں قبول فرمائیے۔