Ayahs 14:1–6(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
الر حروف مقطعات ہیں اور اس کے بعد ارشاد ہے کہ ۔
(کتاب کی عظمت)
یہ عظیم الشان کتاب ہم نے کی طرف فرمائی تاکہ آپ لوگوں کو ان کے پروردگار کی اجازت سے تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائیں ، سب سے پہلے تو کتاب کی عظمت کا اظہار ہے کہ یہ اللہ جل جلالہ کا ذاتی کلام ہے اور کلام الملوک ملوک الکلام کہ بادشاہوں کا کلام ، کلام کا بادشاہ ہوا کرتا ہے کے مصداق بہت ہی عظیم الشان ہے پھر ظاہرا کمال یہ ہے کہ ادبی لحاظ سے کوئی بڑے سے بڑا ادیب ایک جملے کے مقابلے میں جملہ لانے کی جرات نہیں کرسکتا انسانی زندگی کے ہر پہلو پہ راہنمائی اور اس کا معیار یہ کہ ساری انسانیت کے لیے بیک وقت قابل عمل سارے زمانوں کے لیے حرف آخر اور ہر موضوع پر ، خواہ سیاسیات ہوں یا سلطنت کے امور معاشیات ہوں یا اخلاقیات ، جنگ ہو یا صلح تعلیم و تعلم کا میدان ہو یا سائنسی تحقیقات کا کا دائرہ کار بندے کا بندے سے زیر بحث ہو یا بندے کا رشتہ اپنے رب سے تمام امور میں مکمل راہنما اور ۔
(عظمت رسالت)
پھر عظمت رسالت ﷺ کو اتنی عظیم الشان اور بےمثل کتاب کے مخاطب اول بھی آپ ﷺ اور اسے سمجھنا بھی آپ ﷺ کا منصب عالی اور اس کی برکت سے سینوں سے کفر اور معصیت کی تاریکی نکال کر انہیں نور معرفت سے روشن کردینا بھی آپ ﷺ کا کام تو گویا جس طرح وحی کو سننا رسول اللہ ﷺ کا مقام ہے اسے سمجھنا بھی آپ ﷺ کا منصب عالی ہے اور وہی مفہوم معتبر ہوگا جو آپ ﷺ نے صحابہ کو سکھایا آپ ﷺ کے روبرو اس پر عمل ہوا اور یوں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین اس کے امین ٹھہرے جنہوں نے پوری انسانیت تک یہ پیام حیات پہنچایا آج بھی وہ معنی جو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کی روایت کے خلاف ہو ذرہ برابر وقعت نہیں رکھتا بلکہ قرآن حکیم کا معنی یہ ہوگا کتاب کی تحریف کے زمرہ میں آئے گا ۔
دوسرے یہ کہ قرآن حکیم کا نزول ہی اس لیے ہوا کہ لوگ اسے پڑھیں سمجھیں اور عمل کریں یہ محض جھاڑ پھونک کی کتاب نہیں یہ پیام حیات ہے نہ صرف یہ کہ آسانی سے مرنے کے لیے مریض کے سرہانے پڑھا جائے یا صرف مرنے والوں کو بخشوانے کے لیے پڑھا جائے بلکہ اصل مقصد سمجھنا اور عمل کرنا ہے مگر اس ۔
(تلاوت کتاب کا اثر)
کے باوجود اس کی ذات میں ایک نور موجود ہے جو مطلق تلاوت سے بھی حاصل ہو سکتا ہے اگر کوئی معنی نہ جانتا ہو تو بھی مسلسل تلاوت دل میں ایک خاص نور پیدا کردیتی ہے جس کے باعث گناہ سے نفرت اور نیکی سے محبت پیدا ہوجاتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک اور صرف ایک شرط کے ساتھ ممکن ہے کہ قرآن حکیم کو نبی اکرم ﷺ سے سیکھا جائے ، درحقیقت ربوبیت نے جس طرح وجود بخشا اور ایک انسانی وجود کی خاطر ایک بہت بڑا وسیع نظام تخلیق فرمایا سورج ، چاند ، ستارے ، بادل ، بارش ، اور ہوا ، پہاڑ وادیاں میدان اور صحرا ، ندی نالے اور سمندر یہ رنگا رنگ مخلوق ، پھل پھول سبزیاں اور غذا شب وروز کی آمد وشد ، موسموں کا تغیرو تبدل یہ سب کیا ہے انسانی وجود کی ضروریات کو پورا کرنے کے اسباب جو ربوبیت باری نے انسان کے گرد پھیلا دیئے پھر عالم ملکوت اور فرشتے ایک الگ سے نظر نہ آنے والی وسیع دنیا جو اس عالم کے پورے نظام کی ترتیب اور چلانے کا کام کرتا ہے پیدائش اور موت ، رزق ، صحت ، بیماری وغیرہ سب کا ایک مرتب شدہ نظام رواں دواں رکھنے کی خدمت پہ مامور ہے ، ایسے انسان میں صرف وجود نہیں بلکہ روح بھی ہے جو حقیقی انسان کہلانے کی مستحق ہے یہ وجود تو اس کا لباس کہہ لیں سواری کہہ لیں یا دنیا میں قیام اور کام کرنے کا آلہ ہے یہ روح انسانی ان تمام جہانوں سے بالاتر جہاں دائرہ تخلیق ختم ہوتا ہے وہاں سے شروع ہونے والے عالم امر سے متعلق ہے امر اللہ کی صفت ہے اور روح کا تعلق اللہ جل جلالہ ہی جانے کیسا ہے کیفیت وکمیت کو جاننا اللہ جل جلالہ کا کام ہے مگر یہ ضرور فرما دیا کہ روح امر ربی سے ہے اب ظاہر ہے کہ مادی جسم کے لیے جس قدر وسیع اہتمام فرمائے گئے یہ صرف اسی کی عظمت کی سزاوار ہے تو روح کے لیے اس کی غذا دوا اور آرام و سکون کے لیے اہتمام نہ فرمانا تو شان ربوبیت کو زیب نہ دیتا تھا اور عقلا بھی یہ بات محال ہے کہ ادنی کے لیے تو اتنا اہتمام اور اعلی کو محروم کردیا جائے تو رب جلیل نے اپنی کتاب اپنا ذاتی کلام نازل فرما کر روح کی تمام ضروریات کی تکمیل فرما دی کہ عالم آب وگل میں جسم کے سارے افعال روح پر اپنا اثر چھوڑتے ہیں تو ان سب کردارون کو اپنے حکم کے تابع فرما کر ایسا کردیا کہ بہترین اثر پیدا کریں اگر انسانی کمزوری کے باعث ٹھوکر لگے تو توبہ کا علاج تجویز فرما دیا اور یہ سب نظام انسانی ضرورت کے مطابق چلتا رہا اب کلام باری کو سننا سمجھنا یہ ہر انسان کے بس کی بات نہ تھی اس کے لیے وہ لطافت اور پاکیزگی ضروری تھی جو فرشتوں سے بھی بالاتر ہو تو یہ شان انبیاء کو عطا فرمایا اور یوں وقتا فوقتا اللہ جل جلالہ کے نبی مبعوث ہو کر کلام اللہ جل جلالہ کے بندوں تک پہنچاتے رہے تاآنکہ ایسا عظیم الشان رسول ﷺ مبعوث ہوا جو سب نبیوں کا بھی نبی امام اور پیشوا ٹھہرا اسے ایسی عظیم کتاب عطا ہوئی جو ساری انسانیت کی راہنمائی کے لیے سارے زمانوں میں کافی ہے اور جس میں وہ نور سمو دیا جو تمام انسانی ارواح کو سارے کمالات اور سب بلندیوں تک پہنچانے کے لیے کفایت کرتا ہے اب ظاہر ہے یہ کیفیت اسی منبع نور سے حاصل کی جائے گی جس پر اللہ جل جلالہ کی طرف سے اس کا نزول ہوا اور یوں منشائے ربوبیت اپنی تکمیل کو پہنچتا رہے گا اور آپ ﷺ لوگوں کو تاریکی سے نکال کر نور اور روشنی میں لائیں جو اس غائب اور بہت زیادہ تعریف کیے گئے اللہ جل جلالہ کا راستہ ہے جو ارض وسما اور ” مافیھا “ کا اکیلا مالک ہے ۔
(تاریکی اور روشنی)
تاریکی اور روشنی سے مراد یہ ظاہری آنکھوں سے دکھائی دینے والا اندھیرا اجالا نہیں بلکہ اس سے مراد عقائد نظریات اور فکر وعمر کا ادھیرا یا اجالا ہے اگر عقیدہ خراب ہو تو دل میں ظلمت پیدا ہوتی ہے جو ہر برے عمل سے بڑھتی رہتی ہے اور یوں کافر کا دل مزید تاریکیوں میں ڈوبتا چلا جاتا ہے حتی کہ ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جہاں سے واپسی بھی ممکن نہیں رہتی ایسے ہی لوگوں کے حق میں فرمایا گیا ہے کہ اب انہیں ہدایت نصیب نہ ہوگی اور جب کسی کو ایمان نصیب ہوتا ہے تو صرف ایمان قبول کرنا اتنا بڑا کام ہے کہ عمر بھر کے کفر نیز گناہوں کی تاریکی کو دھو دیتا ہے ، یہ نور نبی کریم ﷺ کے قلب اطہر سے نصیب ہوتا ہے پھر آپ ﷺ کی اطاعت اس کے بڑھنے اور زیادتی کا باعث بنتی ہے اور یوں مومن مسلسل اکتساب نور کرتا رہتا ہے ، تیسرا اور اعلی ترین درجہ یہ ہے جو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کو نصیب ہوا کہ آپ ﷺ کی صحبت میسرآئی تو بیک نگاہ نہ صرف قلب بلکہ سارا وجود منور ہو کر اللہ جل جلالہ کا ذکر کرنے لگ گیا اور یوں اللہ جل جلالہ کی اطاعت ان کے دل کی چاہت بن گئی ، پہلے دو طریقے علماء حق کے ہیں کہ دعوت ایمان بھی دیتے ہیں اور اطاعت کی ترغیب بھی یوں جو خوش نصیب ایمان قبول کرتا ہے اور اطاعت کے لیے کوشش کرتا ہے اسے اس کی طلب کی گہرائی کے مطابق ایمان نصیب ہوتا رہتا ہے ، اور تیسرا طریقہ صوفیاء کا ہے جنہوں نے متقدمین کی صحبتوں سے نور قلب حاصل کیا ہوتا ہے اور اپنے ہم نشینوں میں بانٹتے ہیں جس جس کو یہ نعمت نصیب ہوتی ہے اس کے نتیجہ میں اس کے اعمال اور عقائد سدھرنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہی فیض کہلاتا ہے کہ انسان کے اندر اس کے دل میں ایسی تبدیلی آئے کہ وہ حق کے سوا کچھ قبول نہ کرے اور نافرمانی سے بچنے کی بھرپور کوشش کرتا رہے ، رہے کافر یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے کو تاریکی ہی کا باسی بنا لیا تو انہوں نے خود اپنی بربادی کو آواز دی ہے چناچہ انہیں بہت شدید عذاب سے دو چار ہونا پڑے گا آخر انہوں نے ایسا کیوں کیا ۔
(کفر اور نافرمانی کا بنیادی سبب)
قرآن حکیم اس کی وجہ حب دنیا کو قرار دیتا ہے کہ ایمان کا معنی یہ ہے کہ دنیا کو اللہ جل جلالہ کے حکم کے مطابق حاصل بھی کیا جائے اور اسی کے حکم کے مطابق خرچ یا استعمال بھی کیا جائے ، مگر انسان چاہتا ہے کہ اپنی پسند سے جو چاہے کرے ، اب جو اس اندھی طلب میں گرفتار ہوئے انہوں نے ایمان قبول نہ کیا یعنی آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرلیا یہ ایسی مصیبت ہے کہ اپنے فیصلے کو درست ثابت کرنے کے لیے وہ بڑے زور شور سے دلائل دینے لگے اور دوسرے لوگوں کو بھی اس طرف بلانے لگے جو اللہ جل جلالہ کی راہ سے روکنے کا باعث بنا اور یوں ایک اور بہت بڑا جرم ہے جس کا وہ ارتکاب کرتے ہیں اور باتوں کو غلط رنگ میں پیش کرتے ہیں اور محض بودے اعتراضات کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اللہ جل جلالہ کا راستہ جو بالکل سیدھا ہے اس میں ٹیڑھا پن اور کجی بتاتے ہیں ۔
(اپنی رائے کیلئے قرآن کے مفہوم کو تبدیل کرنے والے)
ایسے لوگ بہت بڑی گمراہی کا شکار ہیں اس میں صرف کافر ہی نہیں ایسے مسلمان بھی گرفتار ہیں جو اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے یا دولت حاصل کرنے کے لیے یا محض اپنی رائے کو حق ثابت کرنے کے لیے قرآن حکیم یا شرعی فیصلوں کو ان کے اصل معانی اور مفہوم سے کھینچ تان کر اپنی تائید حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور یہ مرض آج کل تو بہت عام ہے اللہ جل جلالہ اس گمراہی سے اپنی پناہ میں رکھے آمین ۔
کفار کا یہ اعتراض کو قرآن عربی زبان میں کیوں ہے یہ تو آپ ﷺ کی مادری زبان ہے اگر اللہ جل جلالہ نے نازل فرمانا تھا تو کسی عجمی زبان میں فرماتا کہ کوئی یہ نہ کہہ سکتا کہ آپ ﷺ نے خود تصنیف فرما لیا ہے اس کا جواب تو تاریخ سے ثابت ہے کہ جن رسولوں کو تم تسلیم کرتے ہو کیا ان کی کتابیں ان کی قومی زبان میں ہی نہ تھیں رسالت ونبوت چونکہ انسانی ہدایت اور راہنمائی کے لیے ہوتی ہے لہذا ہر نبی جس قوم میں مبعوث ہوا اسی کی زبان میں کتاب بھی لایا اور شرعی احکام بھی سمجھائے اگر کوئی دوسری زبان ہوتی تو پھر اس کا ترجمہ کرنا خود اسے سمجھنا یہ ساری قوم کو ایک مصیبت میں مبتلا کردیتا اور بیشتر لوگ صرف اسی وجہ سے محرومی کا شکار ہوجاتے ، مگر اللہ جل جلالہ نے بندوں پہ آسمانی فرما کر انہیں کی زبان میں کتاب نازل فرمائی اسی طرح آپ ﷺ عرب تھے عرب قوم میں پیدا ہوئے اور عربوں کو اللہ جل جلالہ نے یہ فضیلت بخشی کہ وہ سب سے پہلے آپ ﷺ کا پیغام سنیں سمجھیں اور اسے دوسرے لوگوں تک پہنچائیں تو قرآن بھی عربی زبان میں نازل فرمایا پہلے نبی تو کسی ایک قوم کی طرف مبعوث ہوتے اور اسی کی زبان میں کتاب بھی لاتے تھے مگر آپ ﷺ کی بعثت ساری انسانیت کے لیے تھی جس میں بیشمار زبانیں رائج تھیں ، اگر ہر ہر زبان میں کتاب نازل ہوتی تو کبھی دعوت فکر پیدا نہ ہو سکتی تھی پھر کئی زبانیں جو اس وقت رائج تھیں ختم ہوگئیں ، اور نئی زبانیں آگئیں ، تو یہ الگ مسئلہ ہوتا لہذا ضروری تھا کہ قرآن کسی ایک ایسی زبان میں نازل ہوتا جو ساری انسانیت کو راہ دکھانے کا کام کرسکتی تو اللہ جل جلالہ نے عربی کو پسند فرمایا کہ عربی ہی انسانیت کی اصلی زبان ہے جو اہل جنت میں بولی جائے گی جو انسانوں کا دائمی گھر ہے ۔ اللہ جل جلالہ نے عرب قوم میں یہ خصوصیت رکھی کہ ہزار خامیوں کے باوجود جب وہ ایمان لائے تو اس کا حق ادا کردیا اور لمحوں میں دین سیکھا اور دونوں میں دوسروں تک پہنچایا حتی کہ اس راہ میں جان ومال ، عزت وناموس اور اولاد تک قربان کردی ان کی انہی خصوصیت کے باعث اللہ جل جلالہ نے اپنے آخری رسول ﷺ کو عربوں میں پیدا فرمایا اس کو بھی عربی زبان بخشی اور کتاب اور دین بھی اسی زبان میں نازل فرمایا ، بحیثیت زبان بھی دنیا کی کوئی زبان عربی کی وسعت معنی ذخیرہ الفاظ اس کی گرامر اور روحانی کا مقابلہ کرنے کی جرات نہیں رکھتی اور عربوں نے یہ ثابت کردیا کہ وہ بحیثیت قوم واقعی اس قابل ہے کہ قرآن ان کی زبان میں نازل ہوتا ، انہوں نے تئیس برس میں نازل ہونے والی اللہ جل جلالہ کی آخری کتاب کو اس کی تکمیل کے ٹھیک تئیس برس تک کے عرصے میں روئے زمین پر اور اقوام عالم میں پہنچا دیا ان کی اس جرات رندانہ پہ تاریخ عالم شاہد عادل ہے ، لہذا یہ اعتراض تو کوئی حیثیت نہیں رکھتا رہی یہ بات کہ کچھ لوگ پھر بھی ہدایت سے محروم کیوں رہے ، تو یہ ایسے بدبخت لوگ تھے کہ اگر قرآن کسی اور زبان میں بھی نازل ہوتا تو محروم ہی رہتے کہ ان کی محرومی کا سبب یہ تھا کہ اللہ جل جلالہ کہ اللہ نے انہیں ہدایت سے محروم کیوں رہے تو یہ ایسے بدبخت لوگ تھے کہ اگر قرآن حکیم کسی اور زبان میں بھی نازل ہوتا تو محروم ہی رہتے کہ ان کی محرومی کا سبب یہ تھا کہ اللہ جل جلالہ نے انہیں ہدایت سے محروم ہی کردیا ، کیونکہ ان کے دلوں میں سے ہدایت کی طلب ہی کثرت گناہ کے باعث مٹ چکی تھی اللہ جل جلالہ غالب اور حکمت والا ہے وہ جسے چاہے بخشے یا گمراہ کر دے ، اور اس نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ ہدایت اسے عطا فرماتا ہے جس کے دل میں انابت یعنی ہدایت کی طلب باقی ہو ۔
ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تو اسی عظیم مقصد کے لیے بھیجا تھا اور انہیں اپنی نشانیاں عطا فرمائی تھیں یعنی تورات اور دوسرے عظیم الشان معجزات کہ وہ اپنی قوم کو جس کی طرف مبعوث ہوئے تھے تاریکی سے نکالیں اور انہیں نور یعنی اجالے میں لے آئیں اس کے لیے انہیں اللہ جل جلالہ کے احسانات یاد دلائیں ، اور نافرمانوں کے انجام بدکا ذکر کریں ، ایام اللہ جل جلالہ سے خاص ایام مراد ہیں اور ہر دو صورت میں خواہ ان میں کوئی نعمت نصیب ہوئی ہو یا کسی قوم پر گرفت آئی ہو تو تبلیغ کے لیے دونوں طرح کی مثالیں معاون ہوتی ہیں کہ نعمت کا حصول اطاعت سے ہوتا ہے لہذا یہ ترغیب پیدا کرتی ہے اور گرفت ہمیشہ نافرمانی پہ کی جاتی ہے ، لہذا یہ ترہیب کے لیے کافی ہے ۔
(صبر وشکر)
مگر ساتھ ارشاد ہوا کہ بےصبرے اور ناشکر گذار لوگوں پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوتا ایسے لوگ جو صبر کرنے والے ہوں ٹھنڈے دل سے حالات کا جائز لینے والے ہوں اور جن میں احساس شکر بھی ہو کہ اپنے زیر استعمال نعمتوں کا اندازہ کرسکیں ایسے ہی لوگوں کے لیے ایام اللہ میں بہت واضح نشانیاں موجود ہوتی ہیں مگر صبر سے عاری جو لوگ دوسروں کی نعمتیں چھیننے کے لیے بےتاب اور موجود نعمتوں کو کبھی شمار ہی نہ کرتے ہوں انہیں کیا درس عبرت حاصل ہوگا عموما ایسے لوگ تم اپنے رب کریم سے شاکی ہی رہتے ہیں ، اسی لیے صبر کو نصف ایمان فرمایا گیا ہے کہ صبر سے مراد جائز وسائل پر قناعت کرکے دوسروں کا حق نہ چھیننا ہے اور شکر کی اصل یہ ہے کہ موجودہ نعمت کا احساس تو ہو یہی احساس زبان پر کلمہ شکر جاری کرنے کا باعث بھی بنتا ہے ، اور عملا اطاعت کرنے کی توفیق بھی نصیب ہوتی ہے لیکن اگر یہ دونوں باتیں نصیب نہ ہوں تو آیات ومعجزات بھی کم ہی متاثر کرتے ہیں ۔
چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کے احسانات یاد دلاتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو اللہ جل جلالہ نے تمہیں فرعون جیسے ظالم سے نجات بخشی جو تمہیں جانوروں کی طرح کام میں جوتتا تھا اور غلاموں کی طرح رکھتا تھا تمہارے بیٹوں کو چھین کر ذبح کردیتا تھا اور تمہاری بیٹیاں اپنی اور اپنی قوم کی خدمت کے لیے باقی رکھتا تھا اللہ جل جلالہ نے اس بےپناہ مصیبت سے تمہیں نجات بخشی ۔
Ayahs 14:7–12(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور تمہیں یہ بھی خبر ہے کہ تمہارے پروردگار نے اس بات کا اعلان فرمایا ہے کہ اگر تم اس کا شکر ادا کرو گے تو وہ تمہیں مزید نعمتیں عطا فرمائے گا ،
(شکر کی حقیقت)
شکر کی حقیقت یہ ہے کہ اپنے اعمال وکردار میں اللہ جل جلالہ کی اطاعت کے لیے بھر پور کر شش کرے ، فرائض وسنن اور واجبات یعنی عبادات کے ساتھ معاملات پر کڑی نگاہ رکھے ، کمانے کا طریقہ شرعی ہو تو خرچ میں بھی شرعی حدود ملحوظ رکھے ، اس سارے عمل کے ساتھ زبان سے بھی شکر ادا کرے تو یقینا نعمتوں میں زیادتی ہوگی اور یہ زیادتی مقدار کی بھی ہو سکتی ہے اور وقت کی بھی اور اس کو تاکیدا فرمایا کہ ” لازیدنکم “ کہ یقینا میں زیادہ کر دوں گا لیکن اگر تم لوگوں نے ناشکری کا راستہ اپنایا جب میں سب سے بڑی ناشکری عقیدے کی خرابی ہے اور پھر وہی عمل کی خرابی تو یاد رکھ لو میرے عذاب بھی بہت سخت ہیں اور یہ ناشکری اگر عقائد میں نہ بھی ہو تو اعمال کی سستی یا کجی گرفتار بلا کرسکتی ہے ، خواہ نعمت کے زوال کا سبب بن جائے یا اس کے استعمال میں رکاوٹ آجائے اور آخرت کے عذاب کا باعث بھی بن سکتی ہے ، مگر اس سب کے باوجود یہاں تاکیدا نہیں فرمایا گیا کہ چاہے تو معاف بھی کر دے یہ اس کی اپنی مرضی ہے ۔
اور موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ تمہارے شکر کرنے یا نہ کرنے سے اس کی عظمت پہ ذرہ برابر اثر نہ ہوگا نہ صرف تم اگر ساری مخلوقات ہی ناشکری کرنے لگے تو بھی وہ سب سے بےنیاز ہے اور سب اپنا نقصان کریں گے ، اللہ جل جلالہ کی عظمت اور شان میں کوئی فرق نہ آئے گا ۔
تم لوگوں نے پہلی اقوام کے حالات تو سن ہی رکھے ہیں جیسے نوح (علیہ السلام) کی قوم یا عاد وثمود یا اور دوسری اقوام جن کے حالات سے اللہ جل جلالہ ہی واقف ہیں تاریخ میں ان کا تذکرہ تک نہیں ملتا اور آج انسان ان کے نام تک سے آشنا نہیں ، ان سب لوگوں کے پاس اللہ جل جلالہ کی طرف سے رسول اور نبی مبعوث ہوئے اور بڑے بڑے معجزات سے تو ان بدنصیب افراد نے نہ صرف یہ کہ ایمان قبول کرنے سے انکار کیا بلکہ اپنی پوری محنت اس پر صرف کردی کہ یہ اللہ جل جلالہ کی بات ہی دوسروں تک پہنچا نہ سکیں اور بڑے تکبر سے کہا کہ بھئی ہم آپ کی بات نہیں مانتے ، ماننا تو دور کی بات ہے ہم تو آپ کی بات کو درست جانتے بھی نہیں بلکہ ہمیں تو تمہاری دعوت ہی مشکوک نظر آتی ہے اور تمہارے دعوے نے تو ہمیں پریشان کردیا ہے بھلا یہ بھی کوئی بات ہے جو آپ کرتے ہیں اور جس طرح کا نظریہ آپ پیش کرتے ہیں کہ ایک ہستی یہ سارا نظام نہ صرف تخلیق کرتی ہے بلکہ اسے رواں دواں رکھنا بھی اسی کی رحمت کے سبب سے ہے یہ سب ہماری دانست میں عجیب و غریب لگتا ہے ۔
ان کے انبیاء ورسل نے فرمایا کہ جہالت کی بھی حد ہوتی ہے تمہیں اللہ جل جلالہ کی ذات اور اس کی قدرت کاملہ میں بھی شک ہے جبکہ یہ زمین وآسمان اور ان کی نیرنگیاں گوناگوں مخلوقات اور ان کا نظام کار یہ سب کائنات اس کی خالقیت اور قدرت کاملہ پہ پکار پکار کر گواہی دے رہی ہے ، اس کے ہونے میں تو شک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا ، رہا معاملہ نبوت و رسالت کا تو ہمیں مبعوث فرما کر بھی تو تمہیں اپنی رحمت سے نوازنے کا سبب بنایا ہے اور تمہیں اس لیے پکار رہا ہے کہ تم نے آج تک اس کی کائنات میں اپنی پسند اپنا کر اور اس کی ذات وصفات کا انکار کرکے یا ان میں دوسروں کو شریک کرکے جو جرائم کا پہاڑ کھڑا کیا ہے اسے معاف کر دے تم اس کی اطاعت اختیار کرو اور وہ تمہیں اپنی بخشش کے سایہ میں لے لے ، ورنہ تمہارے گناہ تو تم پر قضائے معلق کو مسلط کردیں گے اور تم طبعی عمر پوری کرنے سے پہلے ہی سب کے سب تباہ ہوجاؤ گے مگر اس کی رحمت عامہ تمہیں محروم نہیں محروم نہیں رکھنا چاہتی ، لہذا سے پہلے ہی سب کے سب تباہ ہوجاؤ گے ، مگر اس کی رحمت عامہ تمہیں محروم نہیں رکھنا چاہتی ، لہذا ہمیں مبعوث فرما کر اپنی اطاعت کی دعوت دے رہا ہے کہ تم اپنا طبعی وقت تو پورا کرسکو اور پھر جب دنیا سے رخصت ہو کر اس کی بارگاہ میں پہنچو تو تمہیں نجات نصیب ہو ، لیکن وہ بدنصیب قومیں یہ بات نہ پا سکیں اور وہ لوگ کہنے لگے بھئی تم لوگ بھی تو ہماری طرح بشر ہو ، سونا ، جاگنا ، کھانا ، پینا ، گھر بار سب ضروریات بشریت رسول زندگی تمہارے ساتھ بھی ہیں ، پھر تمہیں کیوں اللہ جل جلالہ کا بھیجا ہوا رسول مان لیں بلکہ ہمارا اندازہ تو یہ ہے کہ تم ہمیں محض باپ دادا کی پیروی سے ہٹا کر اپنے پیچھے لگانا چاہتے ہو کہ اس طرح قوم کی قیادت وسیادت تمہیں مل جائے گی اگر تم اللہ کے رسول ہوتے تو بشری ضروریات سے بالاتر ہوتے یہ بحث پہلے گذر چکی کہ رسالت بنی آدم ہی کو عطا ہوئی ہے اور نبی اور رسول بھی بشر ضرور ہوتے ہیں مگر ان کی بشریت کامل ہوتی ہے جبکہ ہم ناقص ہیں اور اپنی بشریت کے معیار پر دیکھ کر انکار کردیتے ہیں ایک انکار رسالت اس لیے کرتا ہے کہ بشر رسول نہیں ہوسکتا تو دوسرا رسالت کا اقرار کرکے بشریت کا انکار کردیتا ہے کہ جب اللہ جل جلالہ کا رسول ہے تو بشر نہیں ہو سکتا ، دونوں طرف گمراہی ہے ، اللہ جل جلالہ پناہ دے ۔
یہی حال صوفیا اور اولیاء کی پہچان میں ہے کہ جاہلوں کے خیال میں ولی اللہ کوئی دوسری ہی مخلوق ہوتے ہیں بہرحال انہوں نے نے مطالبہ کیا کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو کوئی واضح دلیل پیش کرو ،
اللہ کے رسولوں نے فرمایا کہ پھر وہی بات دہراتے ہو کہ ہم کوئی مافوق الفطرت مظاہرہ کریں تب بات ہے ۔
(معجزہ و کرامت)
ارے نادانو تم انسان ہو تو ہم بھی انسان ہیں اور تخلیق طور پر ہم میں بھی وہی انسانی طاقت ہے ، ہاں یہ الگ بات ہے کہ اللہ جل جلالہ جس پر چاہے اپنا احسان فرما دے ، لہذا اس نے ہمیں نور نبوت عطا فرما کر تقدس اور اپنے قرب کا وہ اعلی مقام بخشا ہے جہاں فرشتہ کا سمند خیال بھی قدم رکھنے کی جرات نہیں کرسکتا اور اس کے اس احسان نے ہمیں مزید بندہ اور اطاعت شعار بنا دیا ہے ، رہی بات معجزہ دکھانے کی تو یہ ہم اپنی پسند سے نہیں کیا کرتے یہ تو اس کی پسند ہے کہ چاہے تو ہمارے ہاتھ پر ظاہر کر دے کہ معجزہ و کرامت فعل اللہ جل جلالہ کا ہوتا ہے صادر نبی یا ولی کے ہاتھ پر ہوتا ہے ، رہی یہ بات کہ ہم گھبرا کر کہیں کہ ایسا ضرور ہو ورنہ ہماری بات نہ رہ سکے گی تو تم نے ایمان کی عظمت کو پہچانا نہیں ایمان کا تقاضا اپنی بڑائی ثابت کرنا نہیں ہوتا رہی یہ بات کہ ہم گھبرا کر کہیں کہ ایسا ضرور ہو ورنہ ہماری بات نہ رہ سکے گی تو تم نے ایمان کی عظمت کو پہچانا نہیں ایمان کا تقاضا اپنی بڑائی ثابت کرنا نہیں ہوتا بلکہ کمال اطاعت ہوتا ہے اور ۔
(توکل)
یہی توکل ہے کہ ہر کام کے لیے وہ اسباب پوری محنت سے اختیار کئے جائیں مگر نتیجہ اللہ جل جلالہ کی پسند پہ چھوڑ دیا جائے یہ مطالبہ نہ رہے کہ جو میں چاہتا ہوں وہی ہو ۔
اور بھلا ہم اس پر بھروسہ نہ کریں یہ کیسے ممکن ہے کہ تم شک کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہو ، لہذا کرسکتے ہو مگر ہمیں تو اس نے اپنی بارگاہ کی راہوں کا آشنا کردیا ہے دن میں متعدد بار اس کی ذات کے حضور حاضری سے مشرف ہوتے ہیں اور یہی قرب کی لذتیں ہی تو ہیں کہ تمہاری اذیتوں کی ہمیں پرواہ تک نہیں ہوتی ورنہ پوری پوری قوم کے مظالم کے سامنے ایک ہستی کا یا چند افراد کا کھڑا رہنا ہرگز ممکن نہ تھا یہ لذت دیدار نے ممکن کردیا اور یاد رکھو جسے بھی یہ لذت نصیب ہوگی پھر وہ صرف اللہ جل جلالہ ہی پہ بھروسہ کرے گا ماسوا کی پرواہ نہ کرے گا ۔
Ayahs 14:13–21(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
واضح دلائل اور اتمام حجت کے بعد بھی کفار اپنے رویے سے باز نہ آئے بلکہ پہلے سے بہت بڑھ گئے اور اللہ جل جلالہ کے رسولوں سے کہنے لگے کہ بہتر یہ ہے کہ تم بھی ہمارے ہی عقیدے پر واپس آجاؤ یعنی ان کی نادانی کی حد یہ ہے کہ بعثت سے پہلے تو رسول کوئی دعوت نہیں دیتے تو انہوں نے گمان یہی کر رکھا تھا کہ شاید یہ بھی ہمارے ہی عقیدے پر ہیں ۔
(نبی کی ولایت)
حالانکہ نبی قبل بعثت بھی کفر وشرک اور نافرمانی وسرکشی میں کبھی مبتلا نہیں ہوتا اور اس کے مزاج میں ایک خاص تقدس سمو دیا گیا ہوتا ہے جسے نبی کی ولایت کہا جاتا ہے اور اولیاء کی ولایت سے یہ اسی طرح شان ہوتی ہے جو اس کے ہر کام سے چھلکتی نظر آتی ہے ، مگر ان جاہلوں نے سمجھا کہ انہوں نے اب یہ نیا مذہب ایجاد کرلیا ہے لہذا بہتر ہے کہ پہلے والے اور ہمارے والے ہی پہ واپس آجاؤ ورنہ تمہیں ملک سے نکال باہر کریں گے ، ان کے اس جرم میں انہیں مہلت نہ دی گئی ، اور یہ بات تاریخی اعتبار سے بھی ثابت ہے کہ قوموں کی نافرمانیاں برداشت ہوتی رہیں ، مگر جب انہوں نے انبیاء کرام ﷺ سے ٹکر لینے کا فیصلہ کیا تو یہ گستاخی برداشت نہ کی گئی اور وہ تباہ کردیئے گئے ، اسی طرح اللہ جل جلالہ نے اپنے رسولوں کو اطلاع دی کہ یہ کس حیثیت کے مالک ہیں جو آپ لوگوں کو نکال سکیں گے ان کے اس جرم کی پاداش میں ہم ہی ان کو تباہ وبرباد کردیں گے اور تمہیں ماننے والوں کو اسی زمین پر آباد رہنے کا موقع عطا فرمائیں گے اور ہمارا یہ وعدہ نہ صرف تمہارے لیے ہے بلکہ ہر وہ شخص جو انبیاء پر ایمان لایا اور جسے قیامت اور آخرت کے خوف نے ہماری نافرمانی سے روک دیا ان سب کو اسی طرح زمین پر آباد رکھیں گے تو ایک طرح سے یہ بات واضح ہوگئی کہ نام نہاد نیکی سے حکومت واختیار کے لیے اقتدار نصیب نہیں ہوتا ، بلکہ اعلی کردار کا ہونا شرط ہے اور اگر ملک میں کردار کی شرط اور ایسے افراد کی کثرت ہو تو اقتدار انہیں نصیب ہوتا ہے ورنہ پھر نام نہاد پارسا اور بدکردار دونوں ہی اسباب دنیا کے اسیر ہوجاتے ہیں وہ جیسے مہیا آگئے وہ اوپر چلا گیا اور اپنے لیے مزید گناہ کرنے کا موقع حاصل کرلیا یہ سب بات سن کر وہ لوگ بھی فیصلہ کے طالب ہوئے کہ اچھی بات ہے اگر ہمیں عذاب سے ڈراتے ہی ہو تو وہ عذاب لے ہی آؤ چناچہ عذاب الہی آیا اور ہر سرکش اور ضدی تباہ وبرباد ہوگیا ، اور یہ تباہی صرف دنیاوی ہلاکت پر بس نہ ہوجائے گی بلکہ اس کے بعد انہیں دوزخ میں جانا ہوگا جو اس قدر درد ناک جگہ ہے کہ جہاں پینے کو جو پانی دیا جائے گا وہ ایسا ہوگا جیسے خون اور پیپ مل کر سخت غلیظ آمیزہ سا بن گیا ہو اور دوزخیوں کو ان کی پیاس گھونٹ گھونٹ پینے پر مجبور کر دے گی جبکہ وہ سیال گلے سے اتارنا مشکل ہوجائے گا اور ہر سمت سے ایسے سخت اور درد ناک عذاب مسلسل آتے رہیں گے جو موت سے بھی بھیانک اور تباہ کرنے کے لیے کافی ہوں گے مگر دوزخ کے رہنے والے مر بھی نہ سکیں گے اور ایک کے بعد دوسرا عذاب پہلے سے شدید ترین ہوتا چلا جائے گا ،
رہی یہ بات کہ اگرچہ ان لوگوں کو ایمان نصیب نہ ہوا مگر کچھ نہ کچھ بھلائی اور نیکی بھی تو کرتے رہے ہوں گے اور نیکی تو بہرحال نیکی ہے اس کا صلہ ہونا چاہئے تھا تو اے مخاطب سن کہ ان کی نیکیوں کے تنکوں کو ان کے کفر کی آندھیاں اڑا کرلے گئیں اور میدان حشر میں ان کے ہاتھ کچھ بھی نہ تھا سوائے کفر اور گناہوں کے کہ نیکی کی بنیاد ایمان پر ہے جب آخرت پر یقین ہو اور وہاں بدلہ پانے کی غرض سے نیک کام کیا جائے تو وہ درست لیکن جو لوگ آخرت کو مانتے ہی نہیں اگر وہ کوئی بھلائی کرتے بھی ہیں تو وہ محض بھلائی کی صورت ہوتی ہے جس سے دنیا کا نفع اقتدار یا شہرت یا دولت وغیرہ مراد ہوتا ہے جو کبھی انہیں مل بھی جاتا ہے اور بعض اوقات اس میں اتنا وزن بھی نہیں ہوتا کہ دنیا ہی کما سکے تو آخرت کے لیے تو وہ کرتا ہی نہیں کہ اس کے کفر نے اسے اس اللہ جل جلالہ سے محروم کردیا ہوتا ہے ، لہذا وہاں وہ خالی ہاتھ ہی کھڑا ہوگا کہ ایسے لوگ بہت سخت گمراہی میں مبتلا تھے ،
یہ قانون قدرت تو تمہیں اس کی صنعت میں بھی نظر آئے گا خواہ زمینوں میں خیال کرو یا آسمانوں پر نگاہ ڈالو کہ جو شے جس مقصد کے لیے پیدا فرمائی ہے اس پر وہی پھل لگتا ہے لہذا کافر کا عمل بھی جس نیت سے تھا وہی پھل اس پر لگے گا اور یہ بات کہ آخرت میں دوبارہ زندہ ہونا تمہیں مشکل نظر آئے تو ارض وسما کی صنعت اس پر گواہ ہے کہ وہ ہر چیز پہ قادر ہے جو کچھ پہلے بنایا ہے تمہارے سمیت دوبارہ بنایا اس کی ذات کے لیے کچھ مشکل نہیں بلکہ وہ تو ایسا قادر ہے کہ آخرت سے پہلے بھی تمہیں تباہ کر دے اور تمہاری جگہ کوئی نئی مخلوق پیدا کر دے اس اس ذات کے لیے یہ سب بہت آسان ہے ۔
اللہ جل جلالہ کی نافرمانی اگر اس بھروسہ پر کی جائے کہ ہمارے پیشوا ہمیں اللہ جل جلالہ کے عذاب سے چھڑا لیں گے تو یہ بھی بہت بڑی غلطی ہے اور جو کچھ ہوگا وہ تمہیں اب بتا دیا جاتا ہے کہ بڑے چھوٹے سب بیک وقت میدان حشر میں اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں حاضر کھڑے ہوں گے اور کفار میں سے پیچھے چلنے والے اور کمزور لوگ اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ آج ہماری کچھ مشکل تو ضرور آسان کرو کہ ہم نے عمر بھر تمہاری غلامی کی اور تمہاری پیچھے چلتے رہے اب تمہیں چاہیے کہ ہم پر سے کچھ ہی سہی مگر عذاب الہی ہٹاؤ تو وہ کہیں گے تم پر سے کیا ہٹائیں کیا ہم خود گرفتار بلا نہیں ہیں ، ظاہر ہے جب ہم خود گمراہ تھے اور تمہیں بھی گمراہ کیا تو ہم بھی تو مبتلائے عذاب ہیں ، بھلا تمہارے کس کام آسکتے ہیں بلکہ ہمارا تمہارا حال اب یہ ہے کہ چلائیں یا صبر کریں کوئی بھی صورت عذاب ہیں بھلا تمہارے کس کام آسکتے ہیں بلکہ ہمارا تمہارا حال اب یہ ہے کہ چلائیں یا صبر کریں کوئی بھی صورت عذاب سے ذرہ برابر رہائی دلانے کی نہیں اور نہ اب خلاصی کی کوئی صورت ممکن ہے کفر پر خاتمہ ایک ابدی اور نہ ختم ہونے والی مصیبت کا نام ہے ۔
Ayahs 14:22–27(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اب آخری امید کے طور پر یہ بات باقی رہ جائے گی کہ شاید جن معبودان باطلہ کی پرستش کرتے عمر گذار دی وہی کسی کام آجائیں تو اس کا یہ ہوگا کہ جب قیامت کے روز فیصلہ ہوچکے گا تو کافر شیطان کے گرد جمع ہو کر کہیں گے کہ ہماری بربادی کا سبب تو تو بنا خود تو تباہ ہوا تھا ہمیں بھی لے ڈوبا اب ان بتوں کو کہو اور خود ہمارے لیے کچھ کرو تو وہ کم از کم اس روز کو کھری بات کہے گا کہ نامرادو مجھے ملامت کرنے آئے ہو ذرا غور کرو کہ اللہ جل جلالہ نے تمہارے ساتھ حق اور کھرے وعدے کئے تھے اور ان پر دلائل قطعیہ قائم فرمائے تھے جبکہ میں نے بھی تم سے وعدے کئے تھے مجھے اس سے انکار نہیں مگر یہ بھی سن لو کہ میں نے جھوٹ بولا تھا ، اللہ جل جلالہ نے تمہیں اپنی عبادت کی دعوت اور اس پر اپنی رضا مندی کا وعدہ اخروی اجر کا اور جنت کا وعدہ فرمایا تھا میں نے تمہیں اس سے روکا جھوٹ بول کر دنیاوی لذتوں میں الجھانے کا بہانہ کرکے اور آخرت کا انکار سکھا کر اور میں نے سب جھوٹ کہا اور یہ بھی حق ہے کہ میں تم پر کوئی اختیار نہ رکھتا تھا سوائے اس کے کہ اپنی بات تم تک پہنچاتا رہوں تم نے میرے جھوٹ کو مانا اور اللہ جل جلالہ کے سچے وعدے اور انبیاء کی کھری تعلیم کو ٹھکرا دیا بتاؤ ملامت کا مستحق کون ہے ، انصاف سے کہو کہ تمہیں ملامت کے حقدار ہو لہذا مجھے بھلا برا کہنے کی بجائے اپنے آپ کو کو سو ، اس لیے میں تمہارے کیس کام نہیں آسکتا ، بلکہ خود گرفتار بلا ہوں نہ تم میرے کام آسکتے ہو اور جو تم مجھے اللہ جل جلالہ کا شریک سمجھتے رہے یا میری پوجا کرتے رہے تو میں ایسی خرافات کو بھی نہیں مانتا بھلا تمہارجے پاس کیا دلیل تھی کہ مجھے اللہ جل جلالہ کا شریک قرار دیتے رہے اب اپنا کیا بھگتو میں بھی بھگت رہا ہوں اور یاد رکھو ظالموں کے لیے انجام کار درد ناک عذاب کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔
اور انعامات ودرجات کے مستحق تو ایمان لانے والے اور ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال صالح یعنی اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں ہیں کہ ہر وہ کام جو آپ ﷺ کی اطاعت میں کیا جائے گا عمل صالح ہوگا ، ان لوگوں کو جنت میں میں داخل کیا جائے گا ایسے باغات جو ہمیشہ شاداب رہنے والے ہیں اور جن میں نہریں جاری ہیں نہ ان باغات کی شادابی کبھی ختم ہوگی اور نہ انہیں کبھی وہاں سے نکالا جائے گا کہ ان کے پروردگار کی ربوبیت کا تقاضا یہی ہے کہ ایمان اور عمل صالح پر ایسا ہی انعام بخشا جائے بلکہ انہیں وہاں ہر طرف سے ہمیشہ سلامتی سے رہنے کی دعائیں نصیب ہو رہی ہوں گی ،
ذرا شان ربوبیت کو اس خوبصورت مثال سے سمجھیں کہ ایمان اس خوبصورت درخت کی مانند ہے جو دل کی گہرائی میں جڑ پکڑتا ہے جیسے کوئی اچھا درخت عین باغ کے درمیان اگا ہو جس کی جڑ گہری اور جو بلندی میں آسمانوں سے بات کرتا دکھائی دے اور جو اپنے رب کے کرم سے ہر آن پھل سے لدا رہتا ہو اسی طرح ایمان کی اساس گہری اور اس پر اعمال کا پودا اگتا ہے جو بلند سے بلند تر ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر اس پر اللہ کی عطا سے رضائے باری کا پھل لگتا ہے ، اللہ کریم انسانوں کو بات سمجھانے کے لیے ایسی روشن مثالیں ارشاد فرماتا ہے ۔
کافرانہ عقائد خبیث کلمات ہیں جن کی بنیاد عقلی ادہام پر ہے جیسے کسی ناکارہ زمین کے اوپر ہی اوپر کوئی بیکار سا پودا پھوٹ پڑے اور اگر کوئی پکڑے تو اکھڑ کر ہاتھ میں آجائے کہ اس میں کوئی مضبوطی نہیں ہوتی تو پھل کیا دے گا اپنا وجود باقی نہیں رکھ سکتا ، اسی طرح اللہ جل جلالہ ایمان والوں کو تو کلمہ طیبہ کی برکت سے ثبات عطا فرماتا ہے کہ دار دنیا ہو موت ہو برزخ کے سوال و جواب ہوں یا میدان حشر کلمہ طیبہ کی برکت یہ ہے کہ مومن ثابت قدم رہتا ہے اور جو لوگ ظلم کی راہ اپناتے ہیں یعنی کلمہ طیبہ کو قبول نہیں کرتے انہیں گمراہی نصیب ہوتی ہے یہ فطری نتائج ہیں جو رب جلیل نے متذکرہ اعمال پر مقرر فرما دیئے ہیں کہ وہ قادر بھی ہے اور کوئی اس کی بارگاہ میں دم مارنے کی جرات بھی نہیں رکھتا وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔
Ayahs 14:28–34(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
ذرا ان لوگوں کا حال ملاحظہ ہو کہ قانون قدرت اور تقاضائے ربوبیت کس طرح نتائج مرتب کرتا ہے کہ جن لوگوں نے اللہ جل جلالہ کی نعمتوں کو تو پایا مگر بجائے شکر ادا کرنے کے کفر کی راہ اختیار کرلی ، نعمائے الہی میں ظاہرا تو خود وجود انسانی اور اس کی بیشمار صلاحیتیں ہیں پھر اس کی ضرورتوں کی تکمیل کے اسباب وذرائع اور اس کے استعمال کے لیے بیشمار نعمتیں ، یہ سب کچھ از خود عظمت باری پہ بہت بڑی دلیل ہے ، جبکہ اللہ جل جلالہ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرما کر اور اپنی کتابیں نازل فرما کر انعامات کی حد کردی انسان ایک باشعور اور باصلاحیت مخلوق تھی اسے چاہئے تو یہ تھا کہ ان سب نعمتوں پر غور وفکر کرتا اور اس کا سربارگاہ الہی میں جھک جاتا مگر جاہلوں نے کفر کی راہ اپنائی اور قوم کو بھی جس نے ان کی بات قبول کی اسی راستے پر لگا دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اپنے ساتھ قوم بھی لے ڈوبے اور سب کو بربادیوں کی نذر کردیا ، یعنی جہنم میں جا پھینکا جو بدترین اور مشکل ترین جگہ ہے اور جہاں انہیں رہنا ہوگا ۔
ان ظالموں نے اللہ جل جلالہ کے اوصاف کو اپنے ایجاد کردہ معبودوں اور بتوں میں مان کر انہیں اللہ جل جلالہ کا شریک ٹھہرا لیا اور یوں دوسروں کو گمراہ کرنے سبب بن گئے آپ ﷺ انہیں کہہ دیجئے کہ دنیا کا نظام اپنے مقررہ طریق پر رواں ہے لہذا تمہیں بھی مہلت اور فرصت کے ساتھ زندگی صحت ، رزق وغیرہ نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع میسر ہے لہذا اٹھا لو ، مگر یاد رکھو انجام کار اپنے کافرانہ اور مشرکانہ عقائد کے سبب تمہیں جہنم میں جانا پڑے گا ۔
(رضائے باری کی دلیل)
یعنی دولت دنیا یا اقتدار وغیرہ کا ملنا اللہ جل جلالہ کی رضا مندی کی سند نہیں بلکہ اللہ کریم کی رضا کی دلیل صحت عقیدہ کے ساتھ عمل صالح کی توفیق ہے ورنہ انجام بہت برا ہوگا ۔
میرے ان بندوں سے جنہیں دولت ایمان نصیب ہے فرما دیجئے کہ نماز کو قائم کریں ، صلوۃ کا ترجمہ اردو میں نماز لکھا ہے مگر اس سے مراد عبادات ہیں اور عبادات کا مقصد اللہ کریم سے وہ خاص کیفیت حاصل کرنے کی کوشش ہے جو اس کے قرب کی تمنا اتنی شدید کر دے کہ اللہ جل جلالہ کی نافرمانی کرنے کو جی نہ چاہے اور اگر کبھی سرزد ہوجائے تو توبہ کی تمنا جاگ اٹھے اور یوں انسان ہمیشہ قرب الہی میں آگے ہی آگے ترقی کرتا رہے اس امر میں انسان کی دولت ، اقتدار یا اس کے کمالات بھی رکاوٹ بن جاتے ہیں اور وہ اپنے کمالات پر اترانے لگتا ہے اللہ کریم نے اس کا علاج تجویز فرما دیا کہ عبادات کے ساتھ یہ اہتمام بھی رہے کہ اللہ جل جلالہ نے جو نعمتیں عطا کی ہیں وہ اس کے حکم کے مطابق صرف ہوتی رہیں ، کبھی ظاہر جہاں اللہ جل جلالہ نے علی الاعلان صرف کرنے کا حکم دیا ہو جیسے میدان جہاد میں یا دوسرے نیک کاموں میں اور کبھی پوشیدہ جہاں اللہ جل جلالہ نے پوشیدہ طور پر کرنے کا ارشاد فرمایا ہو ، جیسے نفلی صدقات اور بعض اوقات صلہ رحمی میں مدد کرنا وغیرہ اس طرح ان نعمتوں یا کمالات پر تکبر پیدا نہ ہوگا بلکہ جذبہ شکر ترقی کرے گا یہ احساس زندہ ہوگا کہ یہ میری ذاتی کمالات نہیں ہیں بلکہ مجھ پر اللہ جل جلالہ کا احسان ہیں اور میرے پاس اس کی امانت ہیں تاکہ اس کے حکم کے مطابق ان میں تصرف کروں کہ آخر ایک روز آرہا ہے جہاں نہ سودا بازی ہو سکے گی اور نہ کسی کی دوستی کام آئے گی یعنی موت کے وقت یا میدان حشر میں یہ احساس ہو کہ میں نے یہ دولت یا طاقت وغیرہ غلط جگہ پر خرچ کردی تو کوئی سودا بازی نہ ہو سکے گی کہ صورت حال بدل سکے اور اگر کسی کی دوستی میں ایسا کیا ہوگا تو وہ دوست یا اس کی دوستی بھی کام نہ آئے گی ، ان آیات سے شفاعت انبیاء کرام (علیہ السلام) یا صلحا کا انکار مراد نہیں وہ تو الگ ثابت ہے کہ وہ لوگ نیکی کی دعوت دیتے ہیں یہ اس دوستی کی بات ہے جو گناہ پر آمادہ کرنے والی ہو ۔
اگر تمہیں یہ خیال ہو کہ یہ کمالات تمہارے ذاتی ہیں تو اپنے گرد نگاہ کرو ، یہ زمین اور آسمان اور ان میں طرح طرح کی خوبیاں اور کمالات کس نے بنائے صرف اللہ جل جلالہ نے اسی نے بادل سے پانی برسا کر اسے روئیدگی کا سبب بنا دیا اور طرح طرح کے پھل پیدا فرمائے جو تمہاری غذا بنے جب تمہارا وجود ہی اس غذا پر قائم ہے تمہارے اوصاف تو پھر آگے تمہارے وجود پہ انحصار رکھتے ہیں ، اس نے تمہیں عقل عطا فرمائی کہ تم مختلف طرح کے جہاز بنا کر سمندروں پہ بھی رواں دواں ہو اور دریاؤں کو تمہاری خدمت پر لگا دیا کہیں زمین سیراب کرتے ہو تو کہیں ان سے مشین چلا رہے ہو نہ صرف یہ بلکہ اس نے سورج چاند اور دیگر سیاروں کو تمہاری خدمت پر لگا دیا شب وروز کو تمہاری ضروریات کی تکمیل پر مقرر کردیا کہ پورے جہان کی ہر حرکت اور سکون اے انسانو محض تمہاری خدمت اور تربیت کے لیے وقف ہے یقینا تمہارا خالق بھی وہی ہے اور ان جہانوں کا اور اس نظام کا بھی تمہارے کمالات اسی نظام کے محتاج ہیں تو پھر سوچو بھلا وہ تمہاری ذاتی کیسے ہو سکتے ہیں ۔
وہ ایسا کریم ہے کہ تمہاری ہر ضرورت پوری فرما دی یعنی ” جو تم نے مانگا “ سے مراد ہے کہ جو بھی تمہارے وجود کا تقاضا تھا وہ موسم تھا یا رات دن وہ لباس تھا کہ غذا وہ وقت تھا یا دوا غرض ہر شے تمہارے گرد مہیا کردی اور اس قدر بیشمار نعمتیں عطا فرمائیں کہ اگر تم شمار کرنا چاہو تو بھی ممکن نہیں تم گن ہی نہیں سکتے ، پھر ایسے کریم کی ناشکری اور نافرمانی کتنی بڑی بات ہے بیشک انسان بڑا ہی بےانصاف بھی ہے اور ناشکر گذار بھی ۔