Ayahs 14:1–4لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4
لتخرج تاکہ تو نکالے الظلمت (الظلمۃ) ۔ اندھیرے اذن اجازت۔ توفیق صراط راستہ الحمید اللہ کی صفت۔ تمام تعریفوں کا مستحق ویل بربادی۔ تباہی یستحبون وہ پسند کرتے ہیں یصدون وہ روکتے ہیں یبغون وہ تلاش کرتے ہیں عوج کجی۔ ٹیڑھا پن ضلل گمراہی بعید دور لسان زبان لیبین تاکہ وہ کھول دے۔ واضح کر دے یضل وہ گمراہ کرتا ہے یھدی وہ ہدایت دیتا ہے۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 4
نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت ساری دنیا کفر و شرک ، ظلم و ستم، قتل و غارت گری، رسم و رواج، بت پرستی، عقیدوں کی خرابی اور جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی کسی شخص، قوم یا قبیلے کو سکون اور چین حاصل نہ تھی۔ نبی کریم ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نازل فرمایا جو ان کی زندگی کے اندھیروں کو دور کرنے کے لئے مشعل راہ بن گیا۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ہم نے اس کتاب کو اس لئے نازل فرمایا جو ان کی زندگی کے اندھیروں کو دور کرنے کے لئے مشعل راہ بن گیا۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ہم نے اس کتاب کو اس لئے نازل کیا ہے کہ آپ اس کی تعلیمات کے ذریعہ ساری ساری دنیا کو جو جہالت کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہے اس کو زندگی کی روشنی میں لے آئیں تاکہ ان کی آخرت اور دنیا کا ہر معاملہ درست ہوجائے۔ جو لوگ انسانیت اور اس کے جذبوں کا کالے، گورے، عرب، عجم، مزدور، سرمایہ دار اور حکمران و رعایا کے طبقوں میں تقسیم کرتے ہیں وہ انسانیت پر ظلم عظیم کرتے ہیں۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! جو لوگ ان اندھیروں سے نکلنا چاہتے ہیں ان کو اس صراط مستقیم کی طرف بلائیے۔ لیکن جو لوگ اس دنیا کی زندگی کو اصل سمجھتے ہوئے اندھیروں میں ہی رہنا چاہتے ہیں ان کی اصلاح کی فکر کیجیے لیکن ان کی پرواہ نہ کیجیے کیونکہ اگر انہوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو اللہ ان کی زندگی کو نشان عبرت بنا دے گا۔ ان آیات کا خلاصہ یہ ہے جس میں نبی کریم ﷺ سے خطاب فرمایا گیا ہے کہ :
1) اے نبی ﷺ ! آپ ﷺ پر قرآن کریم کو نازل کیا گیا تاکہ آپ ﷺ اللہ کے حکم سے لوگوں کو اس صراط مستقیم کی طرف بلائیں جو اس ذات کی طرف سے ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے۔
2) لیکن وہ لوگ جنہوں آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے وہ نہ صرف اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں بلکہ وہ اس میں کجی اور کمزوریاں تلاش کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں حالانکہ اس طرح لاشعوری طور پر گمراہی کے اندھیروں میں ڈوبتے چلے جاتے ہیں۔
3) اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان میں اپنا پیغام دے کر بھیجا ہے تاکہ وہ رسول جب ان کو واضح طریقے سے بتائے تو کسی کو سمجھنے میں دشواری نہ ہو اور جس کو ہدایت پر آنا ہو اس کے لئے کوئی رکاوٹ نہ ہو اور جو سمجھ کر بھی اس طرف نہ آئے وہ اپنے برے انجام کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔
4) لیکن اس کے باوجود بھی اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہی کے راستے پر لگا دیتا ہے کیونکہ وہ زبردست حکمت والا ہے۔ اس جگہ ایک مرتبہ پھر اس بات کی وضاحت کردی جاتی ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے وہ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے سب سے زیادہ پاکیزہ اور مقدس ہستیوں کو بھیجتا ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے ہدایت کا راستہ معلوم نہ تھا۔ پھر بھی جو لوگ جانتے بوجھتے ہدایت کا راستہ اختیار نہیں کرتے اور گم راہی کا راستہ ہی پسند کرتے ہیں اللہ ان کو پھر ہدایت کی توفیق نہیں دیتا اور ان کو ان کے برے انجام تک پہنچانے کے لئے ذلت و گمراہی کی انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔
Ayahs 14:5–6لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 6
اخرج نکال۔ ذکر یاد دلا۔ ایام اللہ اللہ کے دن (تاریخی واقعات) صبار بہت صبر کرنے والا۔ شکور بہت شکر کرنے والا۔ انجی اس نے نجات دی چھٹکارا دیا۔ ال فرعون قوم فرعون۔ یسومون وہ پہنچناتے ہیں۔ سوء العذاب بدترین تکلیفیں۔ یذبحون وہ ذبح کرتے ہیں۔ یستحیون وہ زندہ کھتے ہیں۔ نسآء (امراۃ) عورتیں۔ لڑکیاں۔ بلآء آزمائش
تشریح : آیت نمبر 5 تا 6
سورة ابراہیم کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو اس لئے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر سچائی کی روشنی میں لے آئیں۔ ان آیات میں فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ نے اسی طرح حضرت موسیٰ کو بھی توریت جیسی کتاب دے کر حکم دیا تھا کہ وہ ہماری نشانیوں کے ذریعہ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر سچائی کی روشنی کی طرف لے آئیں اور ان کو ” ایام اللہ “ یعنی وہ عظیم الشان واقعات یاد دلائیں کہ جب اللہ نے فرعون اور اس کے لشکریوں کے ظلم سے ان کو نجات عطا کی تھی اور فرعون کی سلطنت کا بنی اسرائیل کو مالک بنا دیا تھا۔ پھر انہیں اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے تھا مگر بعد میں وہ قوم اللہ کے احسانات کو بھول کر پھر روشنیوں سے اندھیروں کی طرف پلٹ گئی۔ بہرحال اللہ کا کلام اور اس کے نبیوں کا ہمیشہ سے ایک ہی طریقہ رہا ہے کہ وہ ان انسانوں کو جو اپنے حقیقی مالک اللہ کو بھول گئے ہیں اور اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں ان کو سچائی، صداقت اور ہدایت کی روشنی میں لے آئیں۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ روشنی اور صداقت کا زمانہ صرف وہی ہے جس میں انبیاء کرام تشریف لائے اور ان کی لائی ہوئی روشنی پھیلتی رہی۔ اس کے علاوہ سب اندھیرا ہی اندھیرا چھایا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں اور نبیوں کے آخر میں خاتم الانبیاء احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو قرآن کریم دے کر ایک ایسی روشنی عطا فرمائی ہے جو قیامت تک تمام انسانوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ آپ نے چند برسوں میں جس طرح عرب کے اندھیرے دور فرما دیئے تھے اور صحابہ کرام کی ایک ایسی پاکیزہ و مقدس جماعت تیار فرما دی تھی جو ستاروں کی مانند زندگی کے اندھیروں کو روشن کرتی رہی۔ صحابہ کرام نے پوری دیانت و امانت کے ساتھ اس روشنی کی قندیلوں کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا اور ان یہ کے راستے پر چل کر امت کے علماء حق نے ہزاروں تکلیفوں، پریشانیوں اور مصیبتوں کے باوجود اس شمع کو روشن رکھا کہ آج تک اس کی روشنی اور چمک دمک میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اس روشنی کو اتنا روشن کردیا کہ جس سے اندھیروں میں بھٹکنے والے کانپ رہے ہیں اور اس روشنی کو بجھانے کے لئے اپنی تمام طاقتوں کو لگائے ہوئے ہیں اسی لئے کفار و مشرکین اکابرین ملت اور مسلمانوں پر ہر طرح کے ظلم و ستم کئے جا رہے ہیں جنہوں نے یہ طے کر رکھا ہے ہم مٹ جائیں تو مٹ جائیں لیکن نہ دین کو مٹنے دیں گے اور نہ اس روشنی کو مدہم ہونے دیں گے جس کو رسول اللہ ﷺ خلفاء راشدین، صحابہ کرام ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین، بزرگان دین اور علماء کرام نے روشن فرمایا تھا۔ الحمد للہ دشمنان اسلام علماء کی استقامت اور ثابت قدمی سے بوکھلا اٹھے ہیں اور ان کے خلاف اپنے میڈیا کے ذریعے ایک طوفان بپا کر رکھا ہے لیکن انشاء اللہ یہ اندھیروں میں بھٹکنے والے بھٹکتے ہی رہیں گے اور یہ بوریہ نشین اور غریب علماء اللہ کے دین کی اس شمع کو اپنے ہاتھوں پر اٹھائے منزل کی طرف رواں دواں رہیں گے۔ پھونکوں سے یہ چراغ بجھا یا نہ جائے گا۔
Ayahs 14:7–9لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 9
شکرتم تم نے شکر کیا۔ ازیدن میں ضرور بڑھاؤں گا۔ انتم تم۔ غنی بےنیاز۔ حمید تمام خوبیوں کا مستحق۔ لم یات نہیں آئی۔ نبو خبر، اطلاع۔ لایعلم نہیں جانتا ردوا انہوں نے پلٹائے۔ ایدیھم ان کے ہاتھ ۔ افواہ منہ (فوہ) ۔ کفرنا ہم نے کفر کیا، انکار کیا۔ تدعون تم بلاتے ہو۔ مریب کھٹکنے والا، تردد کرنے والا۔
تشریح آیت نمبر 7 تا 9
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اتنی نعمتیں عطا فرمائی ہیں کہ اگر انسان ان کو شمار کرنا چاہے تو کر نہیں سکتا۔ ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے۔ ان آیات میں اگرچہ خطاب بنی اسرائیل سے ہے لیکن درحقیقت کفار مکہ کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ اللہ کی سب سے بڑی نعمت رسول اللہ ﷺ کی ذات بابرکات ہے۔ اگر انہوں نے نبی کریم ﷺ کی قدر کی تو ان کو قیامت تک کے لئے عزت و عظمت کا مقام مل جائے گا اور آخرت میں ان کا کیا مقام ہوگا۔ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن اگر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی ناقدری کی ان کی اطاعت نہ کی تو پھر قیامت تک ان کی ہدایت کا امکان باقی نہیں رہے گا۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو یہ یاد دلایا ہے کہ اللہ نے ان پر کتنی بڑی بڑی عنایتیں کی ہیں۔ فرعون کے ظلم و ستم اور زیادتیوں سے ان کو بچایا۔ فرعون اور ان کے ماننے والوں کو غرق کردیا بنی اسرائیل کو عیش و آرام کی زندگی عطا کی، صحرا میں پانی، بادل کا سایہ اور کھانے کے لئے من وسلویٰ عطا کیا، ہدایت کے لئے توریت جیسی کتاب عطا کی گئی۔ فرمایا کہ تم ان نعمتوں کو یاد کرو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ اگر تم نے اللہ کا شکر ادا کیا تو اور ہزاروں نعمتوں سے نوازا جائے گا۔ لیکن اگر ناشکری کا طریقہ اختیار کیا گیا تو پھر اسی شدت سے اللہ کا عذاب بھی نازل ہوگا ۔ بیشک اللہ تعالیٰ انسانوں اور ان کی عبادتوں اور تعریفوں کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اپنی ذات میں تمام تعریفوں کا مستحق ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی حمد و ثنا کر رہا ہے وہ کسی کی تعریف کا محتاج نہیں ہے وہ تمام خوبیوں اور کمالات کا مالک ہے۔ البتہ اگر انسان اللہ کی عبادت و بندگی اور اس کی حمد و ثنا کرتا ہے تو یہ اس کے لئے فائدہ مند ہے۔ اللہ کسی کی عبادت و بندگی کا محتاج نہیں ہے۔ ان کو یاد دلایا گیا ہے کہ ان سے پہلے قوم نوح قوم عاد اور قوم ثمود جیسی زبردست قومیں گذر چکی ہیں ان کو قصہ کہانی سمجھ کر چھوڑ دینا ایک بہت بڑی غلطی ہے بلکہ ان قوموں کے ساتھ اللہ نے کیا معاملہ کیا اس پر غور کرنا چاہئے۔ جب ان کی نافرمانیاں حد سے بڑھ گئیں تب اللہ نے ان کو ان کے برے انجام تک پہنچایا۔ فرمایا کہ جب ان کفار و مشرکین کو اللہ کے رسول سچی باتیں بتاتے تھے تو وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے پیغمبروں کے منہ بند کرنے کی کوشش کرتے تھے کیونا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے منہ سے چی باتیں نکلیں اور اس بدمستی میں یہ کہتے تھے کہ ہم تمہاری رسالت کو نہیں مانتے ہم اس کا انکار کرتے ہیں اور جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس میں ہمیں سخت تر دد اور شبہ ہے لہٰذا ہم تمہاری کوئی بات ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ فرمایا کہ اس کفر و انکار کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان قوموں پر اللہ کا شدید ترین عذاب آیا اور ان کو ان کی دولت اور بلند وبالا عمارتیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکیں۔
Ayah 14:10لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 12
فاطر پیدا کرنے والا۔ لیغفر تاکہ وہ مغفرت کر دے ذنوب واحد (ذنب) گناہ یوخر وہ تاخیر کرتا ہے۔ مہلت دیتا ہے اجل مسمی مقرر مدت بشر انسان مثلنا ہم جیسے قاتونا پس تم لاؤ ہمارے پاس سلطان دلیل۔ معجزہ یمن وہ احسان کرتا ہے نتوکل ہم بھروسہ کرتے ہیں۔ ھدانا اس نے ہمیں راستہ دکھایا سبل واحد (سبیل) راستے نصبرن ہم ضرور صبر کریں گے اذیتمونا تم نے ہمیں تکلیفیں پہنچائیں ۔
تشریح :- آیت نمبر 10 تا 12
اس سے پہلی آیات میں قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود کی زندگی جو کہ ہر عقل اور سمجھ رکھنے والے انسان کے لئے غور و فکر اور سوچنے کا مقام رکھتی ہے جنہوں نے ہزاروں ترقیات کے باوجود ایک بنیادی چیز کو بھلا دیا تھا اور وہ اللہ رب العالمین کی ذات ہے جس نے کائنات کے ذرے ذرے کو پیدا فرمایا ہے۔
اب ان آیات میں فرمایا جا رہا ہے کہ رسولوں نے ہمیشہ ایک ہی بات کہی ہے کہ اے لوگو ! تم اس ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرو جو اس پوری کائنات کا پیدا کرنے والا ہے جس نے انسان کو پیدا کر کے اس کے لئے اس کائنات کو بکھیر دیا ہے جس سے تم دن رات فائدہ حاصل کرتے ہو۔ انبیاء کرام نے یہی سوال کیا کہ کیا تم ایسے خلاق ومالک کے متعلق بھی شک و شبہ کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارا ایسا خیر خواہ ہے جو تمہارے گناہوں کو معاف کرتا ہے اور تمہیں ایک مقرر مدت تک مہلت اور ڈھیل دے رہا ہے۔ اس بات کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اس لئے وہ یہ کہنے لگتے کہ اگر یہ بات ٹھیک ہے تو تھوڑی دیر کے لئے ہم اسے مان لیتے ہیں مگر تمہاری اس بات کا ہم کیسے اعتبار کرلیں کہ تم اللہ کے نبی ہو جب کہ تم تو مہارے ہی جیسے انسان ہو۔ جیسا کہ آپ نے اس سے پہلے بھی کئی مقامات پر کفار کا یہی ایک سوال ملاحظہ کیا ہے کہ وہ یہی کہتے تھے کہ ایک وہ شخص جو ہماری ہی طرح انسان ہے۔ کھاتا ہے پیتا ہے۔ شادی بیاہ کرتا اور اولاد رکھتا ہے۔ بازاروں میں چلتا پھرتا ہے وہ نبی کیسے ہو سکتا ہے ؟ ان کے اس احمقانہ سوال کے جواب میں کبھی کسی نبی یا رسول نے یہ نہیں کہا کہ ہم بشر نہیں ہیں بلکہ ان کے جواب میں یہی فرمایا ہے کہ بیشک ہم تم ہی جیسے بشر ہیں اور بشریت کے تمام تقاضے بھی رکھتے ہیں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس عظیم منصب اور مقام کے لئے چن لیا ہے اور ہماری طرف وحی کی گئی ہے۔ ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف اشارہ الٰہی کے تحت کہتے ہیں۔ اگر کسی کام کے لئے اللہ کا حکم نہیں ہوتا تو اس میں تو ہم اپنے اختیار سے کچھ نہیں کرسکتے مثلاً اگر ہم کوئی معجزہ دکھانا چاہیں تو وہ اللہ کے حکم سے تو ہو سکتا ہے مگر ہمارے اختیار سے ممکن نہیں ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم ہر کام میں حض اللہ ہی پر بھروسہ کریں کیونکہ وہی ایک ذات ہے جس پر ہر صاحب ایمان کو بھروسہ کرنا چاہئے۔ وہی ہمارا رہبر ہے جو ہمیں راستے دکھاتا ہے۔ اگر تم اس سچائی کو قبول نہیں کرتے ہو اور ہمیں اذیتیں پہنچاتے ہو تو ہم ان پر صبر کرتے ہوئے اللہ کی ذات پر بھروسہ کریں گے۔
ان آیات سے معلوم ہوا کہ یہ سوال کوئی نیا سوال نہیں ہے کہ انبیاء کرام بشر ہیں یا نور ہیں کفر کا مزاج یہ ہے کہ تمام انبیاء کی بشریت کا انکار کر کے ان کو بشریت سے ماورا مخلوق ثابت کردیں۔ حالانکہ غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ انسان سے بڑھ کر بھی کیا کوئی مخلوق ہے جس کو بشریت سے اعلیٰ و افضل ثابت کیا جاسکے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ہر مخلوق کو بشریت کے قدموں کی طرف جھکایا ہے اور بشریت ہی کو کائنات کی عظمت قرار دیا ہے۔ بیشک اللہ کے نبی اور رسول بشر ہوتے ہیں جن پر انسانیت اور بشریت ناز کرتی ہے۔
Ayahs 14:13–17لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 17
ارض زمین، سر زمین۔ لتعودن البتہ تمہیں ضرور لوٹنا ہوگا ۔ ملت مذہب، قوم، دین۔ اوحی اس نے وحی کی نھلکن ہم ضرور ہلاک کردیں گے۔ نسکنن ہم ضرور جما دیں گے۔ مقامی میرا مقام۔ وعید تنبیہ، غفلت سے جگانے والی استفتحوا انہوں نے فیصلہ طلب کیا۔ مانگا۔ خاب ذلیل و خوار ہوا۔ جبار بہت جبر کرنے والا۔ عنید ضدی ۔ وراء پیچھے۔ یسقی پلایا جائے گا۔ ماء صدید پیپ کا پانی، گندہ پانی یتجرع گھونٹ گھونٹ پیئے گا۔ لایکاد قریب نہ ہوگا۔ یسیغ حلق سے اتارے گا۔ میت مرنے والا۔ غلیظ سخت۔
تشریح : آیت نمبر 13 تا 17
قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انبیاء کرام نے جب بھی کفر و شرک، بدعات اور طرح طرح کی بےحقیقت رسموں سے اپنی قوم کو روکنے کی کوشش تو انہوں نے ان کو اپنی ملت اور قوم کا غدار قرار دے کر پہلے تو مذاق اڑایا۔ پھر کچھ اعتراضات کئے اور معجزات کا مطالبہ کیا۔ جب وہ اپنی ان تدبیروں سے تھک گئے اتو اپنے غرور اور تکبر میں ان دھمکیوں پر اتر آئے کہ ہم :
1) تمہیں اپنی بستی اور ملک سے نکال دیں گے۔
2) اپنی قوم کے طریقوں پر چلنے کے لئے مجبور کردیں گے۔
ان کی دھمکیوں کے جواب میں اللہ کی طرف سے یہی کہا جاتا کہ اے نبیوں اور رسولوں تم صبر اور برداشت سے کام لو ہم خود ان سے انتقام لے کر ان کو بےبس کردیں گے اور ان کو اس قابل نہ چھوڑیں گے کہ وہ اپنے گھروں میں آباد رہ سکیں۔ ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ حق و صداقت پر چلنے والوں کو وہ قوت و طاقت عطا فرمائیں گے کہ وہ ان ظالموں کی بستیوں کے مالک بن جائیں گے۔
ان آیات میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ کفار نے اپنے غرور اور تکبر میں اللہ کے رسولوں سے یہ کہا کہ ہم تمہیں اپنی سر زمین سے نکال باہر کریں گے یا ہم تمہیں اپنے طریقوں کی طرف واپس لے ائٓیں گے یعنی اپنے رسم و رواج پر چلنے کے لئے مجبور کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ یہ ارشاد فرمایا کہ اے انبیاء کرام آپ اللہ کا دین پہنچاتے رہئے یہ ظالم آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے فرمایا کہ ہم ان ظالموں کو ہلاک کردیں گے اور ان تمام لوگوں کو جو اللہ سے ڈرنے والے اور اس کی ہر تنبیہ کو سامنے رکھنے والے ہیں ان کو ان ظالموں کی جگہ مالک بنا کر اسی سر زمین پر ان کو غلبہ و قوت عطا کردیں گے۔ فرمایا کہ یہ تو دنیا میں ان ظالموں کی سزا ہوگی اور آخرت میں تو ان کے لئے سوائے تکلیفوں اور ذلتوں کے کچھ بھی نہ ہوگا ۔ ان کو پینے کے لئے وہ پانی دیا جائے گا جو لہو پیپ ہوگا۔ وہ اسے گھونٹ گھونٹ پئیں گے لیکن ان کے حلق سے نہ اتر سکے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ فرشتے گرز مار مار کر ان کو یہ گندا پانی پینے پر مجبور کردیں گے۔ جس وقت وہ اس گرم گرم پانی کو ان کے منہ کے قریب کریں گے تو اس کی گرمی اور حرارت دماغ تک پہنچ جائیں گی اور ان کیم نہ کی کھال لٹک کر نیچے ڈھلک جائے گی ہر طرف سے موت ہی موت نظر آئے گی۔ اس وقت یہ کفار اور ظالم پچھتاتے ہوئے کہیں گے کہ اے کاش دنیا کی چند روزہ زندگی میں غرور وتکبر اور کفر و شرک نہ کرتے اور حسن عمل کا وہ مظاہر کرتے کہ آج یہ تکلیف اور اذیت نہ دیکھنی پڑتی اور اس طرح عذاب الٰہی کا شکار نہ ہوتے۔
تمام انبیاء کرام کے ساتھ ان کی قوم نے جو معاملہ کیا اس سے بھی سخت معاملہ کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جان نثار صحابہ کرام کے ساتھ کیا۔ ظلم و ستم اور بربریت کی انتہا کردی۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کو مکہ مکرمہ کی سر زمین چھوڑنا پڑی۔ لیکن ہجرت کے چند برسوں ہی میں اللہ نے اہل ایمان کو فتح و نصرت عطا فرمائی کفار ذلیل و خوار ہوئے اور ان پر مکمل غلبہ عطا فرما دیا گیا۔ اللہ کا یہی فیصلہ ہے جو ہمیشہ باطل پرستوں کے خلاف کیا جاتا ہے اور حق پر چلنے والوں کو غلبہ عطا کیا جاتا ہے۔
Ayahs 14:18–21لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 21
رماد راکھ۔ اشتدت تیز چلی۔ الریح ہوا۔ عاصف تیز آندھی۔ لایقتدرون وہ طاقت وقدرت نہیں رکھتے ہیں۔ کسبوا انہوں نے کمایا۔ یشآء وہ چاہتا ہے۔ یذھب وہ لے جائے۔ وہ جاتا ہے۔ خلق جدید نئی مخلوق ۔ برزوا وہ ظاہر ہوئے۔ وہ حاضر ہوں گے۔ الضعفوا (ضعیف) ، کمزور ۔ استکبروا انہوں نے تکبر کیا۔ بڑائی کی۔ تبع پیچھے ۔ تابع داری کرنا ۔ مغنون بچانے والے ، ہلکا کرنے والے۔ ھدنا اس نے ہمیں راستہ سمجھایا، بتایا ۔ اجزعنا کیا ہم گھبرائیں ، چلائیں محیص چھٹکارا پانے کی جگہ ۔
تشریح :- آیت نمبر 18 تا 21
قرآن مجید اور احادیث رسول ﷺ سے یہ بات ثابت ہے کہ انسان دوسرے انسانوں کی بھلائی کے لئے جو کام بھی کرتا ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں وہ انتہائی قابل قدر ہے۔ اس پر بھی بدلہ دیا جائے گا لیکن فرق یہ ہے کہ اگر یہ نیک اور بھلے کام کوئی ایسا شخص کرے گا جو صاحب ایمان نہیں ہے تو اس کو اس کا اجر اسی دنیا میں دے دیا جائے گا۔ دولت، شہرت اور نیک نامی سے لوگ اس کی قدر کریں گے اور یہی اس کا بدلہ ہے لیکن اگر یہی نیک اعمال ایک ایسا شخص کرتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر مکمل یقین و ایمان رکھتا ہے تو اس کا اجر وثواب اس کو اس دنیا میں بھی ملے گا اور آخرت میں تو بہت زیادہ قدر ہوگی اور اس کا ثواب کئی گنا بڑھا کردیا جائے گا۔
فرمایا گیا ہے کہ وہ لوگ جو اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور پھر بھلے کام بھی کرتے ہیں تو ان کے اعمال کی مثال اس راکھ کے ڈھیر کی طرح ہے جو دیکھنے میں بہت زیادہ نظر آتی ہے لیکن ہوا کا ایک طوفان یا آندھی اس کو اس طرح اڑا کر فضا میں بکھیر دیتی ہے کہ اس کا وجود ہی مٹ جاتا ہے ۔ اسی طرح ان کافروں کے کئے ہوئے بھلے کام ہیں کہ وہ بہت نظر اتٓے ہیں لیکن موت آتے ہی یہ سارے اعمال آخرت میں راکھ کا ڈھیر ثابت ہوں گے جن کا آخرت میں کوئی وجود نہیں ہوگا ۔ یہ لوگ اپنے نیک اعمال کے ساتھ جن غیر اللہ کی عبادت و بندگی کرتے ہیں جن کے متعلق ان کا یہ گمان ہے کہ وہ ان کو قیامت کے دن اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے جب یہ بتوں کو ماننے والے کمزور لوگ قیامت کے دن ان سے درخواست کریں گے کہ ان کو عذاب الٰہی سے بچا لیں تو وہ تکبر اور غرور کے پیکر اپنے ماننے والوں سے یہی کہیں گے کہ اگر ہمیں کوئی راستہ ملا تو ہم تمہیں ضرور بتا دیں گے لیکن ایسا لگتا ہے کہ آج کے دن نجات کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ البتہ ہم اس بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتے۔ فرمایا کہ یہی وہ چیز ہے جو ان کو ہدایت سے بہت دور کئے ہوئے تھی کیونکہ ان کا سہارا ان پر تھا جو یہ کہہ اٹھیں گے کہ آج کے دن ہمارا رونا اور چلانا بھی ہمارے کام نہ آسکے گا۔ ہم تو خود اس عذاب سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے نجات پانا ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔ فرمایا کہ یہ اللہ کا کرم ہے کہ کفار و مشرکین کے کفر و شرک کے باوجود اللہ ان کے وجود کو گوارا فرما رہا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو ان لوگوں کو ختم کر کے کوئی دوسری مخلوق یا قوم کو لے آتا جو اس کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ لیکن نافرمانیوں کے باوجود اللہ ان کو ان کے ٹھکانوں پر برقرار رکھے ہوئے ہے۔ لیکن اگر انہوں نے نافرمانیوں کا یہ سلسلہ اسی طرح قائم رکھا تو پھر ان کے اعمال اور وجود کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا جائے گا جس کی نہ کوئی قیمت ہوتی ہے نہ وزن ہوتا ہے اور نہ یہ راکھ کا ڈھیر کسی کام کا ہوتا ہے۔
کفار مکہ باہر سے آنے والے حجاج اور زائرین کی راحت و آرام کے لئے مہمان نوازی اور کھانے پینے کا انتظام کرتے تھے اور یہ سجھتے تھے کہ صرف حجاج اور زائرین کے لئے پانی کی سبلیں اور کھانے پینے کا انتظام کردینا ان کی نجات کا ذریعہ بن جائے گا۔ ان آیات میں اسی کا جواب دیا گیا ہے کہ حجاج وغیرہ کے لئے یہ خدمات بھی اللہ کے ہاں قبول ہیں اور ان کا صلہ دنیا ہی میں دیدیا جائے گا۔ لیکن اگر یہی اعمال اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کے ساتھ کئے جائیں تو ان کا ثواب بہت زیادہ عطا کیا جائے گا دنیا میں بھی اور آخرت بھی۔ لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کفر و شرک کے ساتھ ساتھ یہ نیک اعمال اس کی نجات کا باعث ہوں گے تو اس کو اس غلط فہمی کو دل سے نکال دینا چاہئے کیونکہ نہ یہ اعمال اس کا ساتھ دیں گے اور نہ وہ سہارے اس کے کام آئیں گے جن پر بھروسہ کر کے وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کو اللہ کے عذاب سے بچا لیا جائے گا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اہل ایمان کے اعمال کا بدلہ ان کو اس دنیا میں بھی دیا جائے گا لیکن اگر ان کو ان کے نیک اور بھلے کاموں کا بدلہ اس دنیا میں نہ ملے تو قیامت میں ان کو اتنا اجر وثواب ملے گا جس کا وہ اس دنیا میں تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایمان کے ساتھ عمل صالح اور دنیا اور آخرت میں بھلائیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Ayahs 14:22–23لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 23
قضی فیصلہ کردیا گیا۔ الامر کام ، حکم وعد اس نے وعدہ کیا۔ اخلفت میں نے وعدہ خلافی کی۔ سلطن دلیل ، قوت، زور۔ دعوت میں نے بلایا، میں نے دعوت دی۔ استجبتم تم نے جواب دیا۔ تم نے قبول کیا۔ لاتلومونی تم مجھے لعنت ملامت نہ کرو۔ مصرخی میرا مددگار، میری فریاد کو پہنچنے والا اشرکتمونی تم نے مجھے شریک کیا۔ مجھے شریک ٹھہرایا۔ ادخل۔ داخل کیا گیا ۔ داخل کئے جائیں گے اذن اجازت ، توفیق۔ تحیۃ دعا۔ سلام سلام، سلامتی۔
تشریح : آیت نمبر 22 تا 23
جب اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ذلیل کر کے اپنی بارگاہ سے نکال دیا تھا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن تک اس بات کے لئے مہلت مانگ لی تھی کہ وہ ثابت کر دکھائے گا کہ انسان کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو قیامت تک کی مہلت عطا کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ جو لوگ سچائی اور تقویٰ کی زندگی والے ہوں گے ان پر شیطان کا داؤ نہ چل سکے گا۔ اب اس دنیا میں شیطان کا کام ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو صراط مستقیم سے بھٹکانے اور ڈگمگانے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے جو لوگ اس کے بہکائے میں آ کر پتھر کے بتوں اور اپنے جیسے انسانوں کو معبود بنا کر ان کی عبادت و بندگی کرتے ہیں جب وہ سب کے سب اللہ کے پاس میدان حشر میں جمع ہوں گے تب ان کفار و مشرکین کے لئے بڑا حسرت بھرا دن ہوگا۔ ایک حسرت تو یہ ہوگی کہ شیطان یہ کہہ کر الگ ہوجائے گا کہ اگر میں اس بات کا مجرم ہوں کہ میں نے تمہیں بہکایا تو مجھ پر یہ الزام نہ رکھو تم سب سے بڑے جرم ہو کیونکہ میں نے تمہارے دل میں جو بات ڈالی تھی تم نے اس کو کیوں تسلیم کیا میں نے کونسا تمہارا ہاتھ پکڑ کر اس راستے پر لگایا تھا مجھے لعنت ملامت کرنے سے پہلے خود اپنے آپ کو ملامت کرو۔ دوسری طرف جن بتوں کو انہوں نے اپنا معبود بنا رکھا تھا وہ ان کا کیا ساتھ دیں گے وہ تو خود جہنم کا ایندھن ہوں گے ایک حسرت تو ان کو یہ ہوگی کہ ان کے تصوراتی معبود ایک ایک کرکے اس کڑے وقت میں ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ دوسری حسرت یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نیک اور پرہیزگار مومنوں کے متعلق فرمائیں گے کہ اے فرشتو ! ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والوں کو اللہ کے حکم سے ایسی جنتوں میں داخل کر دو جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں گی۔ کفار اس موقع پر ایک دوسرے کو لعنت کر رہے ہوں گے اور اہل جنت ایک دوسرے کو سلام کر کے سلامتی بھیجتے ہوں گے۔ اس وقت کیفیت یہ ہوگی کہ ایک جماعت کے چہروں پر حسرت و افسوس کے اثٓار ہوں گے اور دسوری جماعت یعنی اہل ایمان و عمل صالح رکھنے والوں کے چہرے خوشی اور مسرت سے چمک اور دمک رہے ہوں گے۔ ایک طرف کفار کے سامنے ہمیشہ کی جہنم کے انگارے دھک رہے ہوں گے۔ دوسری طرف اہل ایمان اس تصور سے خوش اور مگن ہوں گے کہ ان کو ایسی جنتیں عطا کی گئی ہیں جو ان کے پاس ہمیشہ ہمیشہ رہیں گی اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اہل ایمان کے گروہ میں شامل فرمائے اور کفار و مشرکین کے جیسے برے انجام سے محفوظ فرمائے۔ آمین
Ayahs 14:24–27لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 27
ضرب اس نے چلایا، بیان کیا، مارا۔ کلمۃ طیبۃ پاکیزہ بات، شجرۃ درخت ۔ اصل بنیاد، جڑ ثابت جمی ہوئی۔ فرع شاخ۔ شاخیں توتی دیتا ہے۔ اکل پھل۔ کل حین ہر وقت، ہر آن۔ الامثال مثالیں۔ یتذکرون وہ دھیان دیتے ہیں۔ غور فکر کرتے ہیں۔ کلمۃ خبیثۃ گندی بات۔ اجتثت اکھاڑ لیا گیا، اکھاڑ لیا جائے ۔ فوق اوپر۔ قرار جماؤ، استحکام۔ یثبت جماتا ہے۔ ثابت رکھتا ہے۔ القول الثابت مضبوط و مستحکم بات۔ یضل وہ گم راہ کرتا ہے۔ یفعل وہ کرتا ہے۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 27
قرآن کریم میں عام زندگی کی چھوٹی چھوٹی مثالوں سے بڑی سے بڑی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کفار و مشرکین عرب طرح طرح سے اللہ اور اس کے رسول کا مذاق اڑا کر ان کو کم تر ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے کبھی کہتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے جو ہماری طرح بشر ہے، کھاتا ہے پیتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ؟ اس کا جواب تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر یہ دیا ہے کہ :
1) تمام انبیاء اور رسول بشر ہی تھے کوئی اور مخلوق نہیں تھے۔ ان کی سب سے بڑی عظمت یہ ہے کہ بشریت ان پر ناز کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی وحی کو نازل فرماتا ہے جس کے ذریعہ راہ سے بھٹکے ہوئے انسانوں کی رہنمائی فرماتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ سے بھی یہی فرمایا گیا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ساری دنیا کو بتا دیجیے کہ میں بشر ہوں اللہ نے سب سے پہلے میرے نور یعنی روح لطیف کو پیدا کیا۔ تمام انبیاء اور رسولوں کی طرح میری طرف بھی وحی کی جاتی ہے۔
2) اسی طرح کفار و مشرکین اگرچہ قرآن کریم کے سامنے عاجز اور بےبس تھے مگر اپنے دلی حسد اور بغض کا اظہار یہ کہہ کر کرتے تھے کہ یہ کیسا قرآن ہے جس میں مکڑی ، مچھر، گائے، بھینس کا ذکر ہے۔ وہ گستاخی کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیتے تھے کہ اللہ کو شرم نہیں آتی کہ وہ اپنے کلام میں ایسی معمولی معمولی چیزوں کا ذکر کرتا ہے۔ اللہ نے ان کی بات کا ان کے انداز ہی میں یہ کہہ کر جواب دیا کہ اللہ کو اس بات سے شرم نہیں آتی کہ وہ مچھر یا اس سے بھی بڑھ کر کسی چیز کی مثال بیان کرتا ہے کیونکہ جو اہل ایمان ہیں وہ جانتے ہیں کہ اللہ نے جو بھی فرمایا ہے وہ بالکل سچ اور برحق ہے لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر کی روش کو اختیار کر رکھا ہے وہ یہی کہیں گے کہ بھلا یہ مثال بھی کوئی بیان کرنے کے قابل تھی ( سورة بقرہ)
اس جگہ اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت کی عظمت اور باطل کے بےحقیقت ہونے کی مثال بیان کرتے ہوئے کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کے فرق کو دو مثالوں سے واضح فرمایا ہے ۔ سب سے پہلے کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کے معانی اور اس کی تفصیل سن لیجیے تاکہ یہ مثالیں واضح طریقہ پر ہمارے سامنے آسکیں۔
کلمہ طیبہ :
توحید و رسالت پر ایمان، پائیدار عقیدہ، حق و صداقت کا سدا بہار کلام جو انسانی فطرت کا سچا ترجمان، پاکیزہ، صاف ستھرا اور سچا قول ہے۔
کلمہ خبیثہ : جھوٹا، کمزور، ناپائیدار باطل عقیدہ، غیر فطری انداز فکر، دنیا پرستی، شیطانی وسوسہ اور روحانی سکون و اطمینان سے خلای گندے کلام کو کلمہ خبیثہ کہا جاتا ہے۔
کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کا فرق، حق و باطل ، سچ اور جھوٹ، نور اور اندھیرے کا فرق ہے کلمہ طیبہ حق، سچائی نور اور روشنی ہے اور کلمہ خبیثہ باطل، جھوٹ، اندھیرے اور تاریکی کا نام ہے۔
کلمہ طیبہ :
نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے :
قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا (الحدیث)
اے لوگو ! یہ کہو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے تم کامیاب ہوجاؤ گے۔ اسی بات کو نبی کریم ﷺ نے ایک دوسرے انداز سے بھی ارشاد فرمایا ہے ” من قال لا الہ الا اللہ دخل ال جنتہ “ یعنی جس نے بھی یہ کہا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ۔ دونوں حدیثوں کا خلاصہ یہ ہے کہ جس نے بھی کلمہ طیبہ پر اپنے ایمان و یقین کو مستحکم کرلیا وہ کامیاب و بامراد ہوا اور وہ جنت کا حق دار ہوگا ۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نبی اور ہر رسول کا یہی ایک کلمہ تھا اور انہوں نے اپنی امتوں کو پہلا درس اسی بات کا دیا تھا کہ وہ اس کلمہ پر آجائیں اسی میں ان کی نجات اور کامیابی ہے۔ چونکہ ہر نبی اور رسول نے اسی کلمے کو پیش کیا تو اس کلمہ کا تقاضا یہ تھا کہ اس کے ساتھ اس رسول اور نبی پر ایمان کا بھی اقرار کیا جائے چناچہ حضرت آدم سے حضرت عیسیٰ تک اس کلمہ کے ساتھ ان پر ایمان لانے کا بھی اقرار کرنا ضروری تھا۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ کی امت کے لئے جو کلمہ ہے وہ اس طرح ہے ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ یعنی اس بات کا اقرار کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ چونکہ قرآن کریم اور متواتر احادیث سے یہ ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں آپ کے بعد کوئی کسی طرح کا نبی یا رسول نہیں آئے اور آپ کے بعد جو بھی نبوت و رسالت کا دعویٰ کرے گا وہ قطعی جھوٹا ہوگا۔ اس لئے اس کلمہ کے ساتھ آپ ﷺ کی ختم نبوت پر کامل یقین رکھنا بھی اس کلمہ کا تقاضا ہے۔ اس کلمہ طیبہ کی بہت سی برکتیں ہیں جو درج ذیل ہیں :
1) کلمہ طیبہ وہ کلمہ ہے جو اہل ایمان کو دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں اور کامیایباں عطا کئے جانے کی ضمانت ہے۔
2) اس کلمہ کی برکت سے ایک مومن راہ مستقیم پر چل کر شیطان کے وسوسوں اور فتنوں سے محفوظ ہوجاتا ہے۔
3) کلمہ طیبہ پر چلنے سے ایک مومن نہ صرف ثابت قدم رہتا ہے بلکہ ہر طرح کی گمراہیوں سے بچ جاتا ہے۔
4) جب موت کے فرشتے سامنے آتے ہیں تو وہ ایمان پر قائم رہتا ہے۔
5) قبر جو سفر آخرت کی پہلی منزل ہے اس کلمہ کی برکت سے اس پر آسان ہوجاتی ہے۔
6) اس کلمہ طیبہ کی برکت سے اس پر جنت کی ابدی راحتوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔
7) اس کلمہ کی برکت سے وہ میدان حشر کے ہولناک دن ہر اندیشے اور خوف سے محفوظ رہے گا۔
8) کلمہ طیبہ کی برکت سے قبر کی منزل آسان، سفر آخرت سہل اور حشر کی رسوائیوں سے محفوظ رہے گا۔
9) کلمہ طیبہ ایسا پائیدار اور مبوط عقیدہ ہے جس سے مومن کو دلی سکون کی دولت نصیب ہوتی ہے۔
01) کلمہ طیبہ توحید و رسالت پر پختہ یقین، کامل اعتماد اور دنیا و آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔
11) کلمہ طیبہ فطرت کی سچی آواز اور حق و صداقت کا سدا بہار کلام ہے۔
21) کلمہ طیبہ ایک ایسے پاکیزہ درخت کی طرح ہے جو نہایت مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے۔ جس کی جڑیں تو اتنی مضبوط ہوتی ہیں کہ تیز و تند آندھی اور بڑی سے بڑا طوفان بھی اس کو جڑوں سے نہ اکھاڑ سکے اور بڑی سے بڑی آفت کے وقت بھی وہ اپنی جڑوں پر کھڑا رہے اور اس کی شاخیں اس قدر بلند وبالا اور پھیلی ہوئی ہیں جو آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔ دیکھنے میں حسین و خوبصورت ۔ ہمیشہ پھل دینے والا درخت جس کا سایہ بھی دوسروں کی راحت کا سبب ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح ایک مستحکم و مضبوط درخت جس کی جڑیں زمین کی گہرائیوں تک اور اس کی بلندی آسمان کی پنہائیوں تک ہو۔ آرام پہنچانے والا سایہ دار اور دائمی پھل دینے والا درخت ہو کسی کے اکھاڑنے سے اکھڑ نہ سکتا ہو اسی طرح کلمہ طیبہ ہے جو اس درخت کی مانند ہے جو مستحکم و مضبوط ہو۔ بتایا یہ جا رہا ہے کہ جو لوگ کلمہ طیبہ کی ساری سچائیوں کو اپنا لیتے ہیں وہ نہایت مضبوط و مستحکم ہوتے ہیں ان کے اعمال کی مضوبطی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ شیطان کے تمام تر حربے ، فتنے اور سوسوے ان پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ اسی طرح حالات کی گردش ، طوفانی کیفیات اور بڑی سے بڑی آفات ان کے پائے استقلال کو ڈگمگا نہیں سکتیں ان کے اعمال کی بلندی اس طرح مضبوط اور پائیدار ہوتی ہے کہ فرشتے بھی اس کی بلندیوں کی عظمت پر ناز کرتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام کی ہے کہ کفر کی تمام طاقتوں نے متحد و متفق ہو کر ان کو راہ حق سے ہٹانے کے لئے ہر طرح کے ظلم و ستم کئے مگر وہ کفر و شرک اور باطل کے سامنے اس طرح ڈٹ گئے کہ کفر کے ایوانوں میں زلزلے آگئے مگر ان کے پاؤں میں ذرا بھی پیدا نہیں ہوئی۔
کلمہ خبیثہ :
کلمہ خبیثہ کی مثال ایک ایسے معمولی، گندے اور کمزور درخت کی جیسی ہے جس کی جڑیں زمین کے اوپر ہی ہوتی ہیں جس کو کسی طرح کا جماؤ، مضبوطی اور استحکام حاصل نہیں ہوتا یہ درخت نہ دیکھنے میں اچھا لگتا ہے۔ نہ اس کا سایہ کسی کو آرام پہنچاتا ہے۔ نہ اس کا پھل مزیدار ہوتا ہے اور نہ اس کے پھل میں کوئی خوشبو ہوتی ہے۔ فرمایا کہ اسی طرح کفر و شرک کلمہ خبیثہ کی طرح ہیں جس کے ماننے والوں کو نہ تو مضبوطی اور استحکام حاصل ہوتا ہے اور ان کے اعمال و افعال نہ ان کو فائد دیتے ہیں اور نہ دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ کمزور اس قدر ہیں کہ حالات کے ذرا سے جھٹکے کو وہ برداشت نہیں کرسکتے۔ ہر وہ چیز جو ناحق، باطل اور جھوٹ ہو وہ کلمہ خبیثہ ہے۔
1) کلمہ خبیثہ یہ ہے کہ ایک غلط اور ناحق بات کو سچا ثابت کرنے پر پوری طاقتیں لگا دی جائیں۔
2) کلمہ خبیثہ انسانی فطرت اور ضمیر کے خلاف کوششوں کا نام ہے جو ظاہری خوبصورتی کے باوجود انسانی قلوب کی گہرائیوں میں اترنے کی صلاحیت نہیں کھتیں۔
3) کلمہ خبیثہ شیطان کے وسوسں، گمراہیوں اور نشوں کا دوسرا نام ہے۔
4) کلمہ خبیثہ اختیار کرنے والوں کی دنیاوی زندگی کتنی ہی کامیاب کیوں نہ ہو قبر اور حشر میں ان کو شدید تر ذلتوں اور رسوائیوں سے دوچار ہونا پڑے گا۔
5) کلمہ خبیثہ پر عمل کرنے والے اسی دنیا میں ڈلوتے اور ڈگمگاتے رہتے ہیں۔
6) کلمہ خبیثہ پر عمل کرنے والے راہ مستقیم سے محروم اور آخرت کی دائمی راحتوں اور جنتوں سے دور رہیں گے۔
7) کلمہ خبیثہ فطرت سے جنگ اور حق و صداقت سے دشمنی کا دوسرا نام ہے۔
کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کا فرق بالکل واضح اور صاف ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ کلمہ طیبہ یعنی ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کریں گے اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت میں ہر طرح کی خیر و فلاح ، عزت و سربلندی اور مضبوطی و استحکام عطا فرمائے گا۔ لیکن جن ظالموں نے کلمہ خبیثہ یعنی کفر و شرک کی راہ اختیار کر رکھی ہے ان کی آخرت کی ابدی زندگی بھی تباہ و برباد ہوگی اور وہ جنت کی راحتوں کی خوشبو تک نہ سونگھ سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے اپنے فیصلے کو نافذ کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔ اسی نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ حق و صداقت جب بھی نکھر کر سامنے آئے گی باطل مٹ جائے گا کیونکہ کمزور اور ناپائیدار چیزیں طوفان کے ساتھ بہہ جاتی ہیں۔
Ayahs 14:28–31لغات القرآن آیت نمبر 28 تا 31
بدلوا انہوں نے بدل دیا۔ نعمت اللہ اللہ کی نعمت احلوا اتارا دار البوار تباہی کا گھر (جہنم) اندادا (ند) شرکاء شریک تمتعوا تم فائدہ اٹھا لو۔ حاصل کرلو۔ مصیر ٹھکانا۔ عبادی میرے بندے یقیموا الصلوۃ وہ نماز قائم کرتے ہیں ینفقون وہ خرچ کرتے ہیں رزقنا ہم نے دیا ۔ سر چھپ کر۔ علانیۃ کھلم کھلا ۔ بیع تجارت، لین دین۔ خلل دوستی ، دوستانہ تعلقات
تشریح : آیت نمبر 28 تا 31
گزشتہ آیات میں اس بات کو تفصیل سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کلمہ طیبہ کی برکتیں اور رحمتیں کیا ہیں ؟ اور کلمہ خبیثہ کی نحوستیں کیا کیا ہیں ؟ مکہ کے مغرور اور امتکبر سرداروں سے کہا جا رہا ہے کہ تمہیں تو اس بات پر ناز ہے کہ تم اللہ کے گھر والے اور بیت اللہ کے رکھوا لے ہو۔ اس کے گھر کے قریب رہتے ہو لیکن تم نے کلمہ طیبہ کی برکتوں کے بجائے کلمہ خبیثہ کی نفرتوں کے گلے ڈال رکھا ہے۔ اللہ نے تمہیں ایسے عظیم پیغمبر پر ایمان لانے کا موقع عطا فرمایا ہے جو تمام نبیوں کے سردار اور آخری نیب اور آخری رسول ہیں ان پر ایک ایسی کتاب ہدایت کو نازل کیا ہے جو قیامت تک ساری دنیا کے انسانوں کے لئے مشعل راہ اور ہدایت کی روشنی ہے۔ فرمایا کہ تمہیں تو اللہ کی ان عظیم نعمتوں پر شکر ادا کرنا چاہئے تھا ۔ ایمان کی دولت سے مالا مال ہو کر اپنی آخرت کو سنوارنا تھا مگر تم نے کلمہ خبیثہ یعنی کفر و شرک اختیار کرنے کے جہنم کو اپنا ٹھکانا بنا لیا جو ایک بدترین ٹھکانا ہے۔ نبی کریم ﷺ سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تم نے جس راستہ کا انتخاب کیا ہے تم چند روزہ زندگی کے مزے اڑا لو پھر تمہیں ایک ایک بات کا حساب دینا ہوگا۔ اور نجات کا ہر راستہ بند کردیا جائے گا۔
فرمایا گیا کہ اے نبی ﷺ وہ لوگ جنہوں نے کلمہ طیبہ یعنی ایمان اور عمل صالح کی زندگی کو اختیار کرلیا ہے ان صاحبان ایمان سے کہہ دیجیے کہ وہ اللہ کی اس نعمت کی قدرت کرتے ہوئے ناشکری کے ہر طریقے کو چھوڑ کر اللہ کا شکر ادا کریں اور اس خلوص سے نمازوں کو قائم کریں کہ شکر کا حق ادا ہوجائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو عطا کیا ہے اس کو اپنی ذات اور اپنی اولاد تک محدود نہ کرلیں بلکہ کھل کر یا چھپ کر جس طرح ممکن ہو اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔ یہی وقت ہے جس میں اپنی دولت اور محنت کی کمائی سے آخرت کی راحتیں خریدی جاسکتی ہیں لیکن موت کے بعد نہ کاروبار اور تجارت ہوگی نہ دوستیاں کام آئیں گی۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ” ال دنیا مزرعت الاخرۃ “ دنیا آخرت کی کھیتی ہے یعنی تمہیں اپنی نیکیوں کو کاشت کرنے کا موسم عطا کردیا گیا ہے۔ یہاں جو کچھ تم کاشت کرو گے وہ آخرت میں تمہارے کام آئے گا۔ یہ انسان کے اختیار میں ہے کہ وہ اس مختصر عارضی زندگی میں کلمہ طیبہ یعنی ایمان اور عمل صالح کے بیج بوتا ہے یا کلمہ خبیثہ کی کاشت کرتا ہے۔ انجام دونوں کا واضح ہے ۔ دنیا کی زندگی کا موسم کاشت کرنے کا موسم ہے اور آخرت اس سے نتیجہ حاصل کرنے کا موسم ہے۔ کاٹنے بونے والا پھلولوں کی سیج کی امید نہ رکھے۔
Ayahs 14:32–34لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 34
انزل اس نے اتارا، نازل کیا۔ اخرج نکالا۔ الثمرات (ثمرۃ) ، (پھل، سبزہ، سبزی) رزق کھانے کو۔ سخر مسخر کردیا، حکم کے تابع کردیا ۔ الفلک کشتی، جہاز دائبین ہمیشہ کام میں لگے رہنے والے ۔ اتکم اس نے تمہیں دیا۔ سالتموہ تم نے اس سے مانگا۔ تعدوا تم گننا چاہو۔ تم شمار کرنا چاہو۔ لاتحصوا تم شمار نہ کرسکو گے۔ ظلوم بہت ظالم
تشریح : آیت نمبر 32 تا 34
جیسا کہ گزشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ انسانی زندگی اور اس کی بقا و سلامتی کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ اللہ نے ایک نعمت کے طور پر اس کائنات میں بکھیر دی ہیں۔ جن پر ہر انسان کو اللہ کا شکر ادا ا کرنا چاہئے مگر انسان ہر آن اپنی پریشانیوں کے گلے شکوے ہی کرتا ہے۔
فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ بلندیوں سے پانی برسایا جس کے ذریعے اس نے زمین پر ہر طرح کے ثمرات (سبزی ، سبزی، پھل وغیرہ) کو پیدا کیا۔ اس اللہ نے عظیم الشان سمندروں اور دریاؤں کو اس طرح مسخر اور اپنے حکم کے تابع کردیا کہ وہ بڑی بڑی کشتیاں اور جہاز انسانی نفع اور تجارت کے سامان کو ایک کنارے سے دور سے کنارے تک پہنچاتے ہیں۔ اس نے چاند اور سورج کو ای طرح پابند کردیا ہے کہ وہ ایک خاص حساب اور طریقے سے روزانہ نکلتے اور ڈوبتے ہیں۔ انسانی گھڑیاں بند ہو سکتی ہیں ان کا وقت اور حساب غلط ہو سکتا ہے مگر ہزاروں سال سے چمکتے ہوئے سورج اور چمکتے چاند کے حساب اور وقت میں کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے نکلنے اور ڈوبنے سے رات اور دن بنتے ہیں۔ انسان رات کو آرام کر کے تازہ دم ہوجاتا ہے اور سارے دن اپنی روزی کماتا ہے۔ فرمایا کہ وہ کونسی نعمت ہے جو اللہ نے تمہیں عطا نہیں کی۔ اگر تم ان کو شمار کرنا چاہا تو شمار نہیں کرسکتے لیکن ان نعمتوں کے باوجود انسان ناشکری اور زیادتیاں کرتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نعمتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)