14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 14:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

الف۔ لام۔ را۔ (یہ) کتاب ہے جسے ہم نے آپ پر اتارا ہے تاکہ آپ لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکال لائیں ان کے پروردگار کے حکم سے یعنی (خدائے) غالب) وستودہ صفات کی راہ کی طرف،1۔

1۔ یعنی اس کتاب مقدس کی تنزیل کی غرض وغایت تمامتر یہ ہے کہ آپ ﷺ اس کے واسطہ سے لوگوں کو جواب تک تاریکی میں پڑے ہوئے ہیں، توحید وہدایت کی روشنی میں لے آئیں۔ (آیت) ” الر “۔ یہاں مخفف سمجھا گیا ہے انا اللہ اری کا۔ میں اللہ ہوں دیکھنے والا، حروف مقطعات پر حاشیہ شروع سورة بقرہ میں گزر چکا۔ (آیت) ” لتخرج “۔ اس نکال لانے کا حکم مرتبہ تبلیغ میں ہے۔ یہ مراد نہیں کہ آپ سب کو نکال لائیں ہی گے۔ مراد یہ ہے کہ آپ تبلیغ اسی کی اور اسی غرض سے کرتے رہیں۔ (آیت) ” الناس “۔ ال استغراق کا کلیت کا چاہتا ہے۔ یعنی جمیع نسل انسانی۔ یہ ایک مزید دلیل ہے اس کی کہ آپ ﷺ کی بعثت کسی مخصوص قوم کی جانب نہیں، بلکہ عام اور کافہ انام کی جانب تھی، والناس عام اذھومبعوث الی الخلق کلھم (بحر) والمراد من الناس جمیعھم (روح) (آیت) ” کتب انزلنہ الیک “۔ یعنی اس کتاب کے ذریعہ سے آپ ﷺ لوگوں کو راہ ہدایت دکھائیں۔ (آیت) ’ الظلمت الی النور “۔ ظلمت کا صیغہ جمع اور نور کا صیغہ واحد اس کی دلیل ہیں کہ گمراہیاں اوراقسام کفر کثرت سے ہیں، بہ خلاف اس کے راہ ہدایت ایک ہی ہے۔ وہی فرق جو ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک خطوط مخنی اور خط مستقیم میں ہوتا ہے۔ (آیت) ” باذن ربھم “۔ یہ جو کچھ بھی ہوگا، خدائے قادروتوانا ہی کی قدرت ومشیت سے ہوگا۔ پیغمبر متصرف وحاکم اس حد تک بھی نہیں۔ (آیت) ” العزیز الحمید “۔ غلبہ وقوت بھی اسی کو حاصل ہے۔ اور مدح وتحسین کی حقدار بھی اسی کی ذات ہے۔ وہی ایک صفات کمال و جمال دونوں کا مالک ہے۔
Ayah 14:2

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

وہی اللہ کہ اس کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے،2۔ اور بڑی خرابی ہے عذاب شدید سے کافروں کے لئے

2۔ مالک حقیقی وہی چھوٹی بڑی ہر چیز کا ہے کوئی دوسری ہستی اس کی مالکیت کے کسی ادنی جزء میں بھی شریک نہیں۔
Ayah 14:3

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے (لوگوں کو) روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے رہتے ہیں یہ لوگ بڑی دور کی گمراہی میں (پڑے) ہیں،3۔

3۔ (اصل حقیقت سے بہت ہی دور) (آیت) ” الذین۔۔۔ الاخرۃ “۔ گمراہی، بےدینی، کفر کی اصلی بنیاد بھی آخرت پر اسی دنیا کو ترجیح دینا ہے۔ محبت دنیا مطلق صورت میں ممنوع نہیں (جیسا کہ بعض اہل غلو نے ٹھیرا لیا ہے) بلکہ وہ تو ایک امر طبعی و جبلی ہے۔ البتہ آجل پر عاجل کو ترجیح دینا ” آج “ کے پیچھے ” کل “ کو بھلا دینا، یہ جرم اور جرم عظیم ہے۔ (آیت) ” یبغونھا عوجا “۔ یعنی اس میں شبہ نکال نکال کر دوسروں کو بھی گمراہ کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 14:4

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اسی کی زبان میں کہ وہ ان لوگوں پر (احکام وتعلیمات کو) کھول کر بیان کریں،4۔ پھر اللہ ہی جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راہ دکھا دیتا ہے،5۔ اور وہی غالب ہے حکمت والا ہے،6۔

4۔ تو گویا اصل مقصود پیغمبر کی زبان اور اس کی امت کی زبان کے توافق سے یہ ہے کہ احکام وتعلیمات کی خوب تبیین وتشریح ہوجائے جس سے امت کو عمل میں کوئی دشواری نہ رہ جائے۔ (آیت) ” بلسان قومہ “۔ یعنی اس قوم کی زبان جو اس پیغمبر کی مخاطب اول وبراہ راست ہوتی ہے رسول اللہ ﷺ اور تمام پیغمبروں سے ممتاز، دوہری حیثیت رکھتے تھے ایک حیثیت تو آپ ﷺ کے رہبر عالم ہونے کی تھی جس کی توضیح قرآن مجید کی ایک آیت میں نہیں متعدد آیتوں میں ہے۔ للناس۔ کافۃ للناس وغیرہ الفاظ کے ذریعہ سے۔ دوسری حیثیت پیغمبر عرب ہونے کی تھی اور یہاں اسی کا ذکر ہے۔ 5۔ (چنانچہ وہ احکام کو قبول کرلیتا ہے۔ ) (آیت) ” فیضل اللہ “۔ یعنی جسے حق تعالیٰ گمراہی میں چھوڑے رکھتا ہے وہ احکام شریعت کو قبول نہیں کرتا ہے۔ (آیت) ” من یشآء “۔ یعنی یہ اضلال وہدایت کی جتنی بھی کاررائیاں ہوتی ہیں، سب مشیت ومصلحت تکوینی کے ماتحت ہی ہوتی ہیں۔ 6۔ یہ صفات یہاں لا کر یہ یاد دلا دیا کہ اس کی قدرت میں ہر ایک کو ہدایت دینا ہے، لیکن، وہ ہدایت انہی کو دیتا ہے جن کی ہدایت مصالح تکوینی کے عین موافق ہوتی ہے :۔
Ayah 14:5

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور بالیقین ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا کہ اپنی قوم کو نکال لاؤ تاریکیوں سے روشنی کی طرف اور انہیں اللہ کے معاملات یاد دلاؤ،7۔ بیشک ان میں (بڑی) نشانیاں ہیں ہر صابر ہر شاکر کے لئے،8۔

7۔ (رحمت و عذاب دونوں کے اہم معاملات جو جزو تاریخ بن چکے ہیں) (آیت) ” قومک “۔ یعنی قوم بنی اسرائیل کو۔ (آیت) ” من الظلمت الی النور “۔ یعنی معاصی سے طاعت کی طرف۔ فقہاء نے یہاں سے یہ پہلو نکالا ہے، کہ وعظ وتذکیر میں واقعات اثر انگیز کا لانا جائز ہے فی ھذادلیل علی جواز الوعظ المرقق للقلوب المقوی للیقین (ابن العربی) (آیت) ” ایم اللہ “۔ یعنی جو بڑی بڑی نعمتیں قدرت کی طرف سے مختلف قوموں کو عطا ہوتی رہیں مثلا حکومت واقتدار یا جو بڑی بڑی مصیبتیں مختلف قوموں کو قدرت کی طرف سے پیش آتی رہیں۔ مثلا وباوقحط، م، حکومی وغلامی، غرض یہ کہ ایام اللہ کے تحت میں ہر قسم کے اہم تاریخی واقعات آجاتے ہیں عن ابن عباس ؓ والربیع ومقاتل وابن زید المراد بایام اللہ وقائعہ سبحانہ ونعماۂ فی الامم الخالیۃ (روح) وانذرھم بوقائع التی وقعت علی الامم قبلھم (کشاف) یعبر بالایام من الوقائع العظیمۃ التی وقعت فیھا یقال فلان عالم بایام العرب ویرید وقائعھا (کبیر) ایام کی اضافت اللہ کی جانب ان واقعات کی اہمیت پر دلالت کرنے کے لئے ہے۔ اضافۃ الایام الی اللہ تعالیٰ تشریف لامرھا لما افاض اللہ علیم من نعمۃ فیھا (راغب) (آیت) ” ان اخرج “۔ من ان اے کے معنی میں ہے اس لئے کہ ارسلنا میں قلنا کے معنی بھی شامل ہیں۔ بمعنی اے اخرج لان الارسال فیہ معنی القول کانہ قیل ارسلنا وقلنا لہ اخرج (کشاف) 8۔ (صابر کیلئے یہ کہ وہ مصیبت پر صبر کرنا سیکھے اور شاکر کے لئے یوں کہ وہ نعمت پر شکر ادا کرنا سیکھے) (آیت) ” فی ذلک “۔ یعنی اللہ میں قوم کے ساتھ اللہ کے انہی تاریخی معاملات میں، یا ان کی تذکر میں۔ اے فی التذکیر بایام اللہ تعالیٰ اوفی الایام (روح)
Ayah 14:6

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم والوں سے کہا کہ اللہ کا انعام اپنے اوپر یاد کرو جب کہ اس نے تم کو فرعون والوں سے نجات دی جو تمہیں سخت تکلیف پہنچاتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ہلاک کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی آزمائش تھی،9۔

9۔ آیت تقریباانہی الفاظ کے ساتھ پارۂ اول سورة بقرہ رکوع 6 میں آچکی ہے۔ اور وہیں مفصل حاشیے بھی گزر چکے ہیں۔
Ayah 14:7

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے تمہیں اطلاع دے دی تھی،10۔ کہ اگر شکر کروگے تو تمہیں ضرور زیادہ دوں گا، اور اگر تم ناشکری کروگے تو بیشک میرا عذاب بڑا سخت ہے،11۔

10۔ (میرے ذریعہ سے) گفتگو ابھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کی چل رہی ہے۔ 11۔ (دنیا اور آخرت دونوں میں) (آیت) ” لازیدنکم “۔ زیادتی اور افزونی کس چیز میں ہوگی ؟ خود اسی نعمت میں ہونا تو ظاہر ہی ہے باقی اگر توفیق شکر وغیرہ بھی مراد لی جائے تو عموم لفظ سے یہ سب بھی بخوبی نکل سکتا ہے۔ بائبل کے حوالوں کیلئے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” لئن شکرتم “۔ شکر کی تعریف امام رازی (رح) نے یہ کی ہے کہ معنم کی نعمت کا اعتراف کیا جائے، اس کی تعظیم کی جائے اور طبیعت کو اس طریقہ کا عادی کیا جائے، اما الشکر فھو عبارۃ عن الاعتراف بنعمۃ المنعم مع تعظیمہ وتوطین النفس علی ھذہ الطریقۃ (کبیر) بعض صوفیہ نے کہا ہے کہ امور ناگوار طبع پر عمل اور ثبات اور ترک شکایت کا نام صبر ہے اور امور موافق طبع کی قدر کرنا اور اس پر مدح وثناء کرنا یہ شکر ہے، اور یہ دونوں حالات رفیع ہیں لیکن ان حجابات لطیف سے بھی گزر کر ہر حال میں نظر اپنے رب رؤف ورحیم پر رکھنا، اسی کو فاعل حقیقی سمجھنا اور حال طاری کی تلخی و شیرینی دونوں سے غیر متاثر رہ کر فعل محبوب ہی سے لذت ومسرت حاصل کرتے رہنا اور اسی کے آگے بہ کمال ادب سرجھکائے رکھنا رضاء و تسلیم ہے اور اس کا مرتبہ سب سے اعلیٰ ہے :۔
Ayah 14:8

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم اور روئے زمین کے سارے لوگ بھی ناشکری کریں تو اللہ بالکل بےاحتیاج ہے ستودہ صفات ہے،12۔

12۔ (نہ اسے کسی کی ناشکری سے مطلق ضرر پہنچ سکتا ہے اور نہ اس کے استکمال بالغیر کا گزر ہے۔ ضمنا ان مشرک قوموں کی تردید بھی آگئی جن کے دیوتا خود اپنے بچاریوں کے چڑھاوے وغیرہ کے محتاج رہتے ہیں۔ من نہ گردم پاک از تسبیح شاں۔
Ayah 14:9

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے قبل ہوچکے ہیں (یعنی) قوم نوح (علیہ السلام) اور عاد وثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں انہیں اور کوئی نہیں جانتا ہے بجز اللہ کے،13۔ ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلے ہوئے نشان لے کر آئے مگر انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے منہ میں دے دیئے اور بولے ہم منکر ہیں اس (حکم) کے جسے لے کر تم بھیجے گئے ہو،14۔

13۔ بہت سی قومیں ایسی بھی گزری ہیں جن کا کوئی تفصیلی علم نہ تاریخ کو ہے نہ ان کے آثار ہی کسی تفصیل کے ساتھ اثریات کی کھدائی کرنے والوں کو ہاتھ لگ سکے ہیں۔ قوم نوح (علیہ السلام) ، قوم عاد، قوم ثمود سب پر مفصل حاشیے پہلے گزر چکے ہیں۔ 14۔ (اپنے زعم ودعوے کے مطابق) (آیت) ” بالبینت “۔ بینات میں دلائل ومعجزات دونوں آگئے۔ (آیت) ” فردوا ایدیھم فی افواھھم “۔ ان کافروں کی شدت عناد کا یہ عالم تھا کہ اپنے پیغمبروں کی بات تو کیا مانتے کوشش یہ رہتی تھی کہ انہیں بولنے تک نہ دیا جائے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کفر و انکار کے علاوہ پیغمبروں کے ساتھ سوء ادب ایک مستقل جرم ہے۔
Ayah 14:10

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

اور جس امر کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو اس کی طرف سے ہم بڑے شبہ میں ہیں (جو ہم کو) تردد میں ڈالے ہوئے ہیں،15۔ ان کے پیغمبر بولے تو کیا (تم کو) شک اللہ کے بارے میں ہے (جو) پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا،16۔ وہ تمہیں (توحید کی طرف) بلاتا ہے تاکہ تمہارے گناہ معاف کردے اور تمہیں ایک مدت معین تک حیات دے،17۔ (اس پر وہ) کہنے لگے تم اور کچھ بھی نہیں بجز اس کے کہ ہمارے ہی جیسے بشر ہو،18۔ تم بس یہ چاہتے ہو کہ ہمارے باپ دادا جس چیز کی عبادت کرتے آئے ہیں اس سے ہم کو روک دو ، سولاؤ ہمارے پاس کھلا ہوا معجزہ،19۔

15۔ (کہ تم کیسی عجیب عجیب سمجھ میں نہ آنے والی باتیں کہہ رہے ہو) (آیت) ” مماتدعونناالیہ “۔ یعنی عقیدہ توحید و قانون شریعت۔ (آیت) ” فی شک “۔ کے بعد مریب کا اضافہ تاکید اور زور دینے کے لئے ہے یعنی شک ایسا نہیں جو نکل جائے بلکہ شبہات اور زیادہ بڑھتے ہی جاتے ہیں۔ ھو صفۃ توکیدیۃ (روح) 16۔ پیغمبر یہ سن کر غایت حیرت واستعجاب سے بول اٹھے۔ ارے تو کیا تمہیں شک وشبہ ایسی کھلی ہوئی حقیقت کے بارے میں ہے۔ 17۔ (اس دنیا میں خیر و خوبی کے ساتھ) (آیت) ” من ذنوبکم ‘ ّ ‘۔ یعنی تمہارا پچھلا کفر و انکار اور پھر جتنے گناہ اس سے پیدا ہوئے :۔ 18۔ (اور بشر کسی فوق البشر روحانی مرتبہ پر کیسے پہنچ سکتا ہے ؟ ) مشرک اور مشرک مزاج قوموں کا یہ وصف ان صفحات میں بار بار بیان ہوچکا ہے کہ رسالت کا مسئلہ کسی طرح ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ وہ کہتے ہیں کہ دیوتاؤں کا وجود تو خیر ایک بات ہے۔ اوتار یعنی خدا کا کسی انسانی یا حیوانی قالب میں تجسم یہ بھی ہماری سمجھ میں آجاتا ہے لیکن یہ کہ انسان انسان بھی رہے، انسانوں ہی کی طرح رہے سہے، چلے پھرے، سوئے جاگے، اور پھر دعوی کرے کہ میرا تعلق خصوصی خالق کائنات سے جڑا ہوا ہے۔ میں اس کی مرضیات کا علم رکھتا ہوں اور دوسروں کو وہی راہ بتاتا ہوں یہ چیز ہماری سمجھ سے بالکل باہر ہے ! آہ ! کہ آج مسلمان بھی کس کثرت اور شدت سے اسی مرض میں مبتلا ہے۔ سید الانبیاء تو خیر بڑی چیز ہیں، ان کے ایک ایک خادم وچاکر کو جس سے بھی عقیدت پیدا ہوجائے، اسے فوق البشر بنائے بغیر ” دیوتا “ کے مرتبہ پر پہنچائے بغیر نہیں چھوڑتے۔ 19۔ (جس کے بعد انکاروتردد کی گنجائش ہی نہ رہے) معجزہ کوئی نہ کوئی تو ہر پیغمبر کے پاس ہوتا ہی تھا، یہ احمق معاندین جب دلیل میں مغلوب ہوجاتے تو کہنے لگتے کہ اچھا کوئی ایسا معجزہ ہمیں دکھاؤ جس میں چوں وچرا کی گنجائش ہی سرے سے نہ رہ جائے !۔۔۔ احمق اتنا بھی نہ سوچتے کہ یہ صورت تو جبر واضطرار کی ہوگئی اور جب انسان ایمان پر مضطر اور مجبور ہوگیا تو اس ایمان کے کوئی معنی ہی نہیں اور نہ ایسا ایمان سرے سے مطلوب ہی ہے (آیت) ” تریدون۔۔۔ ابآ ؤنا “۔ کفر و انکار کے سلاح خانہ میں ایک بڑا مؤثر وقوی حربہ یہی ہے۔ جب گفتگو میں عاجز ولاجواب ہوجاتے تو کہنے لگتے یہ پیغمبر وغیرہ (نعوذباللہ) ایک ڈھکوسلا ہے۔ تمہارا اصل مقصود بس یہی ہے کہ ہمارے آبائی دین وآئین میں رخنہ ڈال دو اور ہمیں ہمارے بزرگوں سے چھڑا دو !
Ayah 14:11

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

ان سے ان کے پیمبروں نے کہا (بیشک) ہم تمہارے ہی جیسے بشر ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے احسان فرمادے،20۔ اور یہ ہمارے بس میں نہیں کہ ہم تمہارے پاس کوئی معجزہ بجز حکم الہی کے لے آئیں،21۔ اور ایمان والوں کو تو چاہیے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں،22۔

20۔ اور بندوں پر اس کا عظیم ترین ممکن احسان یہی منصب رسالت سے سرفرازی ہے) منکروں کے استدلال کا ایک مقدمہ (صغری) توتمامتر صحیح تھا، یعنی پیغمبر بھی محض بشر ہی ہوتے ہیں لیکن جب اس پر مقدمہ اول (کبری) ان پر لگا کر کہ جو بشر ہے وہ رسول نہیں ہوسکتا، نتیجہ یہ نکالنا چاہتے تھے کہ ” اس لئے “ تم رسول ہو ہی نہیں سکتے “ تو ان کا استدلال تمامتر فاسد ہوجاتا تھا۔ اس لئے کہ ان کا یہ مفروضہ کہ بشر رسول نہیں ہوسکتا، خود تمامتر باطل تھا، حضرات انبیاء کے جواب کا ماحصل یہ ہے کہ ” ہم کب اپنی بشریت کے منکر ہیں، یقیناً ہم بشر ہی ہیں لیکن بشریت ہی کے سب سے اعلی، اشرف اکمل و افضل مرتبہ کا نام نبوت و رسالت ہے اور یہ انہی کو عطا ہوتا ہے جن کو حق تعالیٰ اپنے فضل خاص سے نواز دے (آیت) ” بشرمثلکم “۔ یہ مثلیت جو حضرات انبیاء اور کافروں، منکروں کے درمیان ثابت ہے، اصل انسانیت اور عجز عبودیت کے لحاظ سے ہے نہ کہ مراتب فضل اور اعمال کے اعتبار سے۔ 21۔ یہ حضرات انبیاء کے اسی جواب کا تتمہ ہے۔ فرماتے ہیں کہ ہم تو اپنی طرف سے معجزہ دکھلانے کے مدعی ہی نہیں، وہ تو سب اللہ ہی کے حکم اور اس کی مشیت کے مطابق ہوتا ہے تو کوئی امر دکھلادیا جاتا ہے جو تمہیں خارق عادت معلوم ہوتا ہے۔ 22۔ (چہ جائیکہ پیغمبر جو مومنین میں افضل واکمل ہوتے ہیں ان کا تو بھروسہ ہی اللہ پر اسی درجہ و مرتبہ کا ہونا چاہیے) آیت سے ادھر بھی اشارہ ہوگیا کہ بندہ کا منتہائے کمال وقوت اس کے اندر عبدیت کا احساس اور توکل ورجوع الی اللہ ہے نہ کہ حصول اقتدار یا اس کا احساس۔
Ayah 14:12

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

اور ہم اللہ پر بھروسہ کیسے نہ رکھیں درآنحالیکہ اس نے ہمیں ہمارے راستے دکھادئیے،23۔ اور تم نے جو ہمیں ایذا پہنچائی اس پر ہم صبر ہی کریں گے، اور بھروسہ رکھنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے،24۔

23۔ (تو ایسے شفیق محسن پر تو کامل بھروسہ کرنا اور ضروری ہوگیا) (آیت) ” سبلنا “۔ یعنی ہمارے نفع دارین کے راستے۔ 24۔ (نہ کہ کسی اور پر، یہ اپنی تدبیروں پر) توکل شریعت اسلامی میں ہرگز ترک تدبیر کے مرادف نہیں، حضرات انبیاء اور ان کے اصحاب ورفقاء تدبیر امور سے کبھی بھی غافل نہ ہوئے، بلکہ اس بات میں نہایت مستعد رہے، البتہ مؤثر ان تدبیروں ہی کو کبھی نہ سمجھے، بلکہ انجام وتاثیر میں ہمیشہ اللہ ہی کے فضل وکرم کے امیدوار رہے، (آیت) ” ولنصبرن “۔ یہ صبر بھی ایک فرد اسی توکل علی اللہ کی ہے۔ (آیت) ” علی مآاذیتمونا “۔ اس ایذاء کے تحت میں دماغی، جسمانی ہر قسم اور ہر درجہ کی اذیتیں آگئیں جو مخالفین معاندین کے ہاتھوں حضرات انبیاء کرام کو برابر پہنچتی رہیں :۔
Ayah 14:13

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور کافروں نے اپنے پیمبروں سے کہا کہ ہم تمہیں اپنی زمین سے نکال کر رہیں گے یا یہ ہو کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آؤ،25۔ پھر ان (رسولوں) پر ان کے پروردگار نے وحی نازل فرمائی کہ ہم ضرور (ان) ظالموں کو ہلاک کرکے رکھیں گے،26۔

25۔ حضرات انبیاء کی گفتگو سے بجائے اس کے کہ منکروں کے دل کچھ نرم پڑتے۔ الٹے انہوں نے یہ معاندانہ تقریر شروع کردی، (آیت) ” لتعودن “۔ سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ پیغمبر بھی کبھی کفر وشرک میں مبتلا رہ چکے ہوتے ہیں، مراد صرف یہ ہے کہ قبل بعثت حضرات انبیاء جو حکومت اور مذہب رائج سے بےتعلقی رکھتے تھے اس کی تاویل بھی اہل کفر یہی کرلیا کرتے تھے کہ یہ بہرحال ہیں ہمارے ہی مذہب پر۔ اور عود کے معنی اگر بجائے پلٹ آنے یا واپس آنے کے محض آجانے کے لئے جائیں جیسا کہ لغت عرب میں ہیں تو کوئی سوال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا۔ اور متعدد ائمہ تفسیر ولغت اسی طرف گئے ہیں۔ العود بمعنی الصیرورۃ وھو کثیر فی کلام العرب کثرۃ فاشیۃ (کشاف) عاد قد تستعمل بمعنی صار فلا تستدعی الرجوع الی حالۃ ساسقۃ (ابو البقاء) والمراد من العود الصیرورۃ والانتقال من حال الی اخری وھو کثیر الاستعمال بھذا المعنی (روح) 26۔ (تو بےیہ چارے تمہیں کیا نکال سکیں گے) قوم کی قوم جب مخالفت پر تل جائے اور اس کے پاس سامان قوت واقتدار بھی ہر طرح کا موجود ہو تو اس کی دھمکیوں سے کسی حدتک متاثر ہونا ایک امر طبعی ہے۔ پیغمبروں کو ایسے ہی موقع پر وحی الہی سے تسکین دی جاتی ہے کہ ان ظالموں کی اتنی کیا مجال ہے، یہ تو خود عذاب سے ہلاک ہونے والے ہیں۔
Ayah 14:14

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور ان کے بعد تم کو زمین پر آباد کردیں گے یہ (وعدہ) ہر اس شخص کے لئے ہے جو میرے روبرو کھڑے ہونے سے ڈر رکھے اور میری وعید سے ڈر رکھے،27۔

27۔ ابھی ابھی فتح ونصرت کا وعدہ حضرات انبیاء سے تھا کہ تمہارے مخالفین تمہارے سامنے نیست ونابود کئے جائیں گے اور سرفرازی وسربلندی تو تم کو نصیب ہوگی، معا بعد اس وعدہ کا دائرہ وسیع کرکے اسے ہر مومن کے لئے عام کردیا جاتا ہے۔ اور مومن کی علامت ہی یہ ہے کہ وہ موقف حشر کی حاضری اور اللہ کی وعیدوں کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہو۔
Ayah 14:15

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور انہوں نے فیصلہ چاہا اور ہر سرکش ضدی نامراد ہوا،28۔

28۔ یعنی اس عملی فیصلہ کے وقت عذاب سے ہلاک ہو کر رہا۔ (آیت) ” واستفتحوا “۔ کا فاعل کون ہے ؟ یعنی فیصلہ کس نے چاہا ؟ اکثر کی رائے ہے کہ یہ فیصلہ کا مطالبہ کرنے والے کافر تھے اے استنصروا یعنی الامم (معالم، عن ابن عباس ؓ ومقاتل) الضمیر للکفار (روح۔ عن ابن زید) ضمیر بجائے کفار کے حضرات انبیاء کی طرف بھی جاسکتی ہے۔ والضمیر للانبیاء (علیہ السلام) (بیضاوی)
Ayahs 14:16–17

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

اس کے آگے دوزخ ہے اور اسے پیپ لہو پانی پلایا جائے گا

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

وہ اسے گھونٹ گھونٹ پئے گا جیسے وہ حلق سے نہ اترے گا،29۔ اور ہر طرف سے اس پر موت آئے گی اور وہ (کسی طرح) مر نہ چکے گا اور اسے ایک (اور) عذاب سخت کا سامنا کرنا ہوگا،30۔

29۔ (شدت حرارت یا غایب کراہت سے) (آیت) ” من ورآۂ جھنم “۔ وراء لغات اضداد میں سے ہے۔ اور اس کے معنی جس طرح ” پیچھے “ کے ہیں۔” آگے “ کے بھی آتے ہیں۔ ائمہ لغت سے یوں ہی منقول ہے۔ قال ابوعبیدہ وابن السکیت الوراء من الاضداد یقع علی الخلف والقدام (کبیر) اے من بین یدیہ (کشاف) یقال لمن خلفہ ویقال لمن قدامہ (راغب) 30۔ یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ دوزخی کے لئے بس یہی ایک عذاب ہوگا۔ سلسلۂ عذاب تو بےنہایت ہے۔ برابر اس میں اضافہ و ترقی ہی ہوتی جائے گی، (آیت) وما ھو بمیت “۔ اور وہ کسی طرح مر نہ چکے گا، بلکہ اسی طرح سسکتا رہے گا۔ عذاب دوزخ کی شدت اور ہولناکی کا جو منظر حق تعالیٰ نے خود کھینچ دیا ہے کسی شارح یا مفسر کی قدرت میں ہے کہ اس پر کچھ اضافہ کرسکے۔ اللھم احفظنا۔
Ayah 14:18

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

جو لوگ اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کرتے رہتے ہیں ان کے اعمال کی حالت یہ ہے کہ جیسے راکھ جسے تیز آندھی کے دن ہوا تیزی سے اڑا لے جائے،31۔ انہیں کچھ بھی حاصل نہ ہوگا جو کچھ انہوں نے کیا دہرا تھا (اس سے) بڑے دور دراز کی گمراہی یہی تو ہے،32۔

31۔ (اور اس کا نام ونشان بھی باقی نہ رہ جائے) (آیت) ” مثل الذین کفروا “۔ مثال کافروں کے ان اعمال کی جو بہ ظاہر اعمال حسنہ ہیں، ان کی بےاثری ولا حاصلی کے لحاظ سے دی جارہی ہے۔ 32۔ محرومی اور بدنصیبی اس سے بڑھ کر اور کیا ممکن ہے کہ اپنے جن اعمال پر انسان کو بھروسہ اور ناز ہو، عین وقت پر وہی بالکل ہیچ اور ناکارہ نکلیں۔ (آیت) ” لایقدرون مماکسبوا علی شیء “۔ یعنی نفع اور اثر کے قسم سے انہیں کچھ بھی نہ حاصل ہوگا۔
Ayah 14:19

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے،33۔ وہ اگر چاہے تو تم (سب) کو فنا کردے اور ایک نئی مخلوق لے آئے،34۔

33۔ یعنی یونہی اور بےمقصد نہیں، بلکہ یہ سارا کارخانہ کائنات ایک غرض صحیح اور مقصد متعین کے ساتھ مخصوص منافع ومصالح کو لئے ہوئے برپا کیا گیا ہے۔ بہت سی مشرک قوموں کا عقیدہ یہ رہا کہ کائنات کو وجود خالق کی محض شوقیہ تفریخ کا نتیجہ ہے۔ یہ اس کا رد ہورہا ہے۔ (آیت) ” الم تر “۔ یعنی اسے مخاطب تو نے اس حقیقت پر غور نہیں کیا۔ 34۔ (تم سے بہتر طور پر اس مقصد کو پورا کرنے والی) ضمنایہ مسئلہ بھی نکل آیا کہ عالم فناپذیر اور قائم بالغیر ہے۔
Ayahs 14:20–21

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اور یہ اللہ کو (کچھ بھی) مشکل نہیں

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور اللہ کے سامنے سب (ہی) پیش ہوں گے،35۔ پھر کمزور لوگ ان سے کہیں گے جنہوں نے بڑائی کی تھی کہ ہم تو تمہارے تابع تھے،36۔ سو کیا تم ہم سے اللہ کے عذاب کا کچھ جزء ہی ہٹا سکتے ہو ؟ ،37۔ تو وہ کہیں گے اگر اللہ نے ہم ہی کو راہ (بچنے کی) بتائی ہوتی تو ہم تمہیں بھی راہ بتا دیتے (اور اب تو) ہم دونوں کے لئے برابر ہے خواہ ہم چیخیں چلائیں خواہ ہم صبر کریں، (بہرحال) ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں،38۔

35۔ ذکر قیامت کا ہورہا ہے۔ کوئی ایسا نہیں جس کی پیشی وہاں نہ ہو، اور کوئی ایسا نہیں کہ بجائے اللہ کی پیشی اس کے سامنے ہو۔ 36۔ (چنانچہ ہم تمہاری ہی پیروی میں گمراہ ہوئے) (آیت) ” قال الضعفؤا للذین استکبروا “۔ یعنی جو لوگ اس دنیا میں عوام واصاغر سمجھے جاتے تھے وہ قیامت میں اسی دنیا کے خواص و اکابر سے یوں گفتگو کریں گے۔ 37۔ (کہ شدید ترین مصیبت کے وقت اس کا کسی قدر ہلکا ہوجانا بھی بہت غنیمت معلوم ہوتا ہے) (آیت) ” من شیء “۔ یعنی کل عذاب تو بہرحال نہیں ہٹ سکتا۔ اس کا کچھ بھی جزء ہٹ جائے تو ہم اسی کو غنیمت سمجھیں۔ وہ جو دنیا میں خواص و اکابر سمجھے جاتے تھے وہ تمامتر اپنی بےبسی اور بےکسی کا اعتراف کریں گے۔ 38۔ یہ سب دنیا کے خواص و اکابر جہنم میں یہاں کے عوام اصاغر سے ان کے گلے شکو وں اور طعن وتشنیع کے جواب میں کہیں گے :۔
Ayah 14:22

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

اور جب (سب) فیصلہ ہوچکے گا شیطان کہے گا،39۔ کہ اللہ نے تم سے (جو) وعدہ کیا تھا (وہ) سچا وعدہ (تھا) اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا، سو میں نے تم سے وعدہ خلافی کی،40۔ اور میرا تم پر کچھ زور تو تھا نہیں البتہ میں نے تمہیں بلایا اور تم نے میرا کہنا مان لیا سو تم ملامت مجھ پر نہ کرو ملامت اپنے آپ کو کرو،41۔ (آج) نہ میں تمہارا فریادرس اور نہ تم میرے فریادرس،42۔ میں خود بیزار ہوں اس سے کہ تم اس کے قبل مجھے شریک (خدائی) قرار دیتے تھے یقیناً ظالموں کے حق میں دردناک عذاب ہے،43۔

39۔ (اہل دوزخ سے ان کے گلے شکو وں کے جواب میں) (آیت) ’ ’ قضی الامر “۔ فیصلہ سے مراد یہ کہ مطیع جنت میں اور نافرمان دوزخ میں پہنچ چکیں گے۔ 40۔ اللہ کا وعدہ یہ کہ ایک روز جزاوسزا کا آنے والا ہے۔ اہل ایمان کو اس روز نجات نصیب ہوگی اور اہل کفر کو ہلاکت۔ دنیا میں اس عقیدہ پر دلائل قوی قائم ہیں اور آخرت میں اسی کے صدق کا ظہور ہوگا۔ شیطان کا وعدہ یہ کہ کفر پر ایمان کو کوئی ترجیح نہیں اور کوئی جزا وسزا آخرت میں نہیں ہونا ہے۔ دنیا میں اس عقیدہ کے ابطال پر دلائل قوی قائم ہیں۔ اور آخرت میں اسی ابطال کا ظہور ہوگا۔ 41۔ (کہ عذاب کا اصل باعث خود تمہارا ہی فعل ہوا ہے۔ میرا اس میں کیا دخل) (آیت) ” ماکان لی علیکم من سلطن “۔ میرا تم پر کچھ زور اور دباؤ تو تھا نہیں کہ میں تمہیں مجبور کردیتا۔ یہ عقیدہ اسلام میں بالکل صاف ہے کہ شیطان کو کسی کو گمراہی پر مجبور کرنے کی قوت بالکل نہیں دی گئی ہے۔ باقی دوسرے جنات وغیرہ کی طرح جو دوسری قوتیں انسان کو ستانے یا نقصان پہنچانے کی دی گئی ہیں، ان سے یہاں کوئی تعرض نہیں۔ (آیت) ” الا ان دعوتکم فاستجبتم “۔ یعنی میں نے تو صرف اتنا کیا کہ تمہیں سبز باغ دکھا کر اپنی راہ کی طرف بلایا، ترغیب وتشویق پیدا کی اور تم نے اپنے ارادہ واختیار سے بہ سلامتی حواس وصحت عقل، میری دعوت کو قبول کرلیا، تو اصلی ذمہ دار تم ہوئے نہ کہ میں، یہاں سے یہ حقیقت صاف ہوگئی ہے کہ ہر کفر ومعصیت کی اصلی ذمہ داری خود انسان پر ہے۔ شیطان کی حیثیت محض شریک جرم یا معین جرم کی ہے۔ (آیت) ” فلاتلومونی “۔ مجھے ذمہ دار کیسے ٹھیرا رہے ہو کہ میرا فعل تو درحقیقت صرف ایک سبب بعید وغیر مستلزم تھا۔ 42۔ (آخرت میں کفار ومشرکین الگ رہے۔ شیطان تک کو اپنی اور ہر مخلوق کے عجز کامل اور بےبسی کا انکشاف کامل ہوجائے گا۔ 43۔ (سو تم اپنے کئے ہوئے ظلم بھگتو اور میں اپنے کئے ہوئے بھگتوں گا۔ مجھ سے کسی قسم کی امید نہ رکھو) (آیت) ” انی۔۔۔ من قبل “۔ میں تو خود تمہارے طریق کو غلط سمجھ رہا اور اس سے بری وبیزار ہوں۔ (آیت) ” اشرکتمون “۔ شیطان کی ہر امر میں اطاعت کئے جانا ہی عملا اس کو شریک خدائی بنالینا ہے۔
Ayah 14:23

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ ایسے باغوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے نہریں پڑی بہ رہی ہوں گی ان میں وہ اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے اس کے اندر ان کی دعا (آپس میں) سلام ہوگی،44۔

44۔ یعنی اہل جنت جب آپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں گے یا فرشتے انہیں سلام کریں گے تو سلامتی ہی کی دعا سے ایک دوسرے کو مخاطب کریں گے۔
Ayah 14:24

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کیسی (اچھی) تمثیل کلمہ طیبہ کی بیان فرمائی کہ وہ ایک پاکیزہ درخت کے مشابہ ہے جس کی جڑ (خوب) مضبوط ہے اور اسکی شاخیں (خوب) اونچائی میں جارہی ہیں،45۔

45۔ کلمہ توحید کی شاخیں وہ اعمال حسنہ ہیں جو ایمان پر مرتب ہوتے ہیں اور بارگارہ قبولیت میں آسمان کی طرف لے جائے جاتے ہیں۔ کلمہ حق کا بول بالا دنیا میں بھی رہتا ہے اور آخرت میں بھی۔ (آیت) ” فی السمآء “۔ سے مراد صرف بلندی کی سمت ہے۔ اے فی جھۃ العلو (روح) ومعنی فی السمآء جھۃ العلو (بحر) (آیت) ” کلمۃ طیبۃ “۔ یعنی کلمہ ایمان و توحید۔ (آیت) ” اصلھاثابت “۔ یعنی اس کی جڑ زمین میں خوب مضبوط ہے۔ کلمہ توحید و ایمان کی بھی اسی طرح ایک جڑ ہوتی ہے۔ یعنی عقیدہ صحیح جو قلب مومن میں راسخ رہتا ہے۔
Ayah 14:25

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

وہ اپنا پھل ہر فصل میں اپنے پروردگار کے حکم سے دیتا رہتا ہے،46۔ اور اللہ لوگوں کے لئے تمثیلات اس لئے بیان کرتا ہے تاکہ وہ خوب سمجھ لیں،47۔

46۔ (اور اس کا کوئی پھل کسی فصل میں بھی ضائع نہیں جاتا) ایمان اور اعمال صالحہ پر رضائے الہی کا ثمرہ اسی طرح دائما مرتب ہوتا رہتا ہے اس کے کبھی ضائع جانے کا احتمال نہیں۔ اسی سے ملتی ہوئی ایک تمثیل عہد نامہ عتیق میں بھی ملتی ہے :۔ ” مبارک وہ آدمی ہے جو شریروں کی صلاح پر نہیں چلتا۔ سو وہ اس درخت کے مانند ہوگا جو پانی کی نہروں کے کنارے پر لگایا جائے اور اپنے وقت پر میوے لائے۔ جس کے پتے مرجھاتے نہیں اور اپنے ہر ایک کام میں پھلتا پھولتا رہے گا۔ شریر ایسے نہیں بلکہ بھوسے کی مانند ہیں جسے ہوا اڑا لے جاتی ہے۔ “ (زبور۔ 1: 4) 47۔ (معنی ومقصود کو اور پھر اسی پر عمل کرتے رہیں) تمثیلات کی غرض وغایت بھی توضیح مطالب ومقاصد ہے۔
Ayah 14:26

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور گندہ کلمہ کی تمثیل ایسی ہے جیسے ایک گندہ درخت ہو کہ وہ زمین کے اوپر ہی اوپر اکھاڑلیا جائے (اور) اسے کچھ بھی ثبات نہ ہو،48۔

48۔ (زمین میں) تو ظاہر ہے کہ جب اس کی جڑ ہی جمی ہوئی نہیں، تو اس کی شاخیں کہاں سے بلند ہوں گی اور اس میں پھل کہاں سے آئیں گے ؟ (آیت) ” کلمۃ خبیثۃ “۔ یعنی کلمہ کفر وشرک۔ (آیت) ” اجتثت من فوق الارض “۔ راہ ایمان و توحید کے سوا جتنی بھی راہیں ہیں، خواہ انہیں مذہب کا لقب دیا جائے یا فسلفہ کہہ کر پکارا جائے یا اور کوئی شاندار نام رکھ دیا جائے بہرحال وہ سب بالکل سطحی ہوں گی، عمق انمیں نام کو نہ ہوگا۔۔ ایسا درخت جسے زمین کے اوپر ہی اوپر اکھاڑ لیاجائے۔ (آیت) ” مالھا من قرار “۔ غیر اسلامی جتنے فلسفے، جتنے نظریئے، جتنے مذاہب ہیں، وہ عقلا ہی کب ثابت ہیں ؟ قرآنی فقرہ سے مقصود ان کی بےحقیقتی کی تاکید ہے۔ (آیت) ” کشجرۃ خبیثۃ “۔ مزہ کے لحاظ سے گندہ، رنگ کے لحاظ سے گندہ، بو کے لحاظ سے گندہ، طبع سلیم ہرگز اس کی طالب نہ ہو،
Ayah 14:27

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

اللہ ایمان والوں کو اس پکی بات (کی برکت) سے مضبوط رکھتا ہے دنیوی زندگی میں (بھی) اور آخرت میں (بھی) ،49۔ اور اللہ ظالموں کو بچلائے رکھتا ہے،50۔ اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے،51۔

49۔ یعنی دنیا کے ہر امتحان میں بھی اور آخرت کے امتحان میں بھی۔ اسی دنیا کی زندگی میں ہر فرد بشر کو کیسی کیسی مشکلات کا سامنا ہوتا رہتا ہے۔ یہی ایمان ہی کی صراط مستقیم ایسی ہے جو اسے ہر امتحان میں ثابت قدم رکھتی اور ہر تاریکی میں روشنی دکھلاتی رہتی ہے اور پھر برزخ اور محشر میں ایک سے بڑھ کر ایک ہولناک منظر کے وقت بھی آڑے آنے والی چیز یہی کلمہ توحید و ایمان ہے۔ نجات کی راہ میں اور آخرت دونوں میں بجز دین توحید کے اور کوئی نہیں۔ 50۔ (دنیا وآخرت دونوں میں) بےدین حقیقی چین اور آرام سے دنیا میں بھی محروم رہتا ہے اور آخرت میں اس کی حرمان نصیبی تو ظاہر ہی ہے۔ (آیت) ” الظلمین “۔ یعنی راہ توحید و ایمان کو چھوڑ کر جاہلی اور مشرکانہ نظریوں اور فلسفوں کو ماننے والے اور ان پر چلنے والے، والمراد بھم الکفرۃ (روح) 51۔ (اپنی حکمتوں اور مصلحتوں کے مطابق) نہ اس کی مشیت پر کوئی غالب نہ اس کی قدرت پر کوئی غالب نہ اس کی قدرت پر کوئی حاکم نہ اس کی راہ میں کوئی حائل یا مانع۔ مشرک قومیں وجود باری کی قائل ہونے کے باوجود ارادۂ کو بھی کسی نہ کسی چیز سے مغلوب و محدود سمجھتی رہی ہیں۔ قرآن مجید ان تمام باطل عقیدوں پر ضرب بار بار لگاتا ہے۔
Ayahs 14:28–29

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمتوں کے معاوضہ میں کفر کیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر یعنی جن ہم میں لااتارا

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ (کیسا) برا ٹھکانا ہے،52۔

52۔ یہ ذکر سرداران کفر وپیشوایان ضلالت کا ہورہا ہے چھوٹے چھوٹے مذہبوں اور فلسفوں کے با بوں کا اور اہل باطل کے رئیسان نامدار کا۔ (آیت) ’ ’ بدلوا نعمت اللہ کفرا “۔ یعنی طرح طرح کی نعمتوں سے مستفید ہونے کے بعد بجائے اس کے کہ شکر مزید ادا کرتے اور الٹے ناشکری اور کوشش ابطال حق میں مصروف ہوگئے۔ نعمۃ اللہ میں نعمۃ بہ طور اسم جنس کے ہے ایک مفرد نعمت مراد نہیں، ہر طرح کی نعمتیں مراد ہیں، (آیت) ” بئس القرار “۔ قرار کے لفظ سے یہ بھی نکل آیا کہ جہنم میں داخلہ بطور گزر گاہ کے نہ ہوگا بلکہ قیام و دوام کے لئے ہوگا۔ اے المفر (کبیر)
Ayah 14:30

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ کے ساجھی قرار دیئے تھے تاکہ اس کی راہ سے (اپنے کو اور دوسروں کو) گمراہ کریں آپ کہہ دیجیے چندے عیش کرلو پھر تمہارا (آخری) انجام تو دوزخ ہی ہے،53۔

53۔ دنیا کو مشیت حق نے دارالعمل بنارکھا ہے، دار الجزاء بنایا ہی نہیں، اس لئے کسی سخت کافر کو بھی دنیا میں سزا ملنا ہرگز ضروری نہیں، (آیت) ” جعلوا “۔ جعل کے معنی یہاں ٹھیرا لینے، قرار دے لینے، سمجھ لینے کے ہیں، والمراد من ھذا الجعل الحکم والاعتقاد (کبیر) (آیت) ” جعلوا للہ اندادا “۔ شرک کی مختلف صورتیں اور عجیب عجیب قسمیں مسلمانوں، موحدوں کے خیال میں بھی آنی مشکل ہیں۔۔ ایک شرک ستارہ پرستی کا ہے کہ زحل، مشتری، زہرہ وغیرہ مستقل دیویاں ہیں، ایک شرک آفتاب پرستی وماہتاب پرستی کا ہے کہ آفتاب اور ماہتاب بھی بڑے بڑے دیوتا اور اس نظام کائنات میں دخیل و متصرف ہیں ایک شرک اوتار پرستی کا ہے کہ خدا فلاں انسان یا فلاں حیوان کا قالب اختیار کرکے اس دنیا میں آگیا اور اتنی مدت تک زمین پر چلتا پھرتا، کھاتا پیتا رہا۔ (آیت) ” لیضلوا “۔ میں ل عاقبت کا ہے یعنی ان کے اس ساتھی ٹھیرا لینے کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا تھا کہ یہ خود اور دوسرے راہ حق سے بھٹک کر رہیں۔ اللام لام العاقبۃ لان عبادۃ الاوثان سبب یؤدی الی الضلال (کبیر)
Ayah 14:31

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

آپ میرے ان بندوں سے کہہ دیجیے جو ایمان رکھتے ہیں کہ نماز کی پابندی رکھیں اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ وعلانیہ خرچ کرتے رہیں پیشتر اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید وفروخت ہوگی اور نہ دوستی (ہی) ،54۔

54۔ (بلکہ خالص اور کامل انصاف ہی کا سکہ چلے گا) (آیت) ” لعبادی “۔ عبادی میں مومن بندوں کی اضافت حق تعالیٰ کا اپنی ذات پاک کی طرف کرنا ان کے غایت اکرام وشرف کیلئے ہے۔ خصھم بالاضافۃ تنویھا لھم (بیضاوی) (آیت) ” وینفقوا “۔ یعنی نیک اور مطابق شریعت کاموں میں خرچ کرتے رہیں۔ حکم انفاق قرآن مجید میں جہاں جہاں بھی آیا ہے ظاہر ہے کہ مراد مطلق خرچ کرنا نہیں، بلکہ امور خیر میں خرچ کرنا ہے۔ (آیت) ” مما رزقنھم “۔ رزق کو حق تعالیٰ نے اپنی جانب منسوب کرکے اوپر بھی اشارہ کردیا کہ رزق حلال ہونی چاہیے، حرام کمائی کا گزر ہی نہ ہو۔ (آیت) ” سرا وعلانیۃ “۔ پوشیدہ وعلانیہ جہاں جیسی بھی مصلحت شرعی نظر آئے۔ (آیت) ” لابیع فیہ “۔ یعنی یہ نہ ہوگا کہ اس وقت کچھ قیمت دے دلا کر نجات حاصل کی جاسکے۔ بعض جاہلی عقاید پر ضرب (آیت) ” ولا خلل “۔ یعنی یہ نہ ہوگا کہ کسی کی دوستی اور مروت اور رورعایت سے کام نکل جائے۔ یہود وغیرہ کا عقیدہ تھا کہ پیغمبروں اور مقبولان الہی کی عزیز داری کام آجائے گی، جس دوستی اور تعلق سے نفع کی نفی مطلق بیان کی گئی ہے وہ وہ دوستی اور تعلق ہے جو بغیر ایمان کے ہو ،
Ayah 14:32

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمانوں سے پانی اتارا پھر اس (پانی) سے (مختلف) پھل تمہارے لئے بہ طور رزق پیدا کئے اور تمہارے (نفع کے) لئے کشتی کو (اپنی قدرت کا) مسخر کردیا تاکہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلے اور تمہارے (نفع کے) لئے دریاؤں کو (اپنی قدرت کا) مسخر کردیا،55۔ اور تمہارے (نفع کے) لئے سورج اور چاند کو (اپنی قدرت کا) مسخر کردیا جو دوام رکھنے والے ہیں اور تمہارے (نفع کے) لئے رات اور دن کو (اپنی قدرت کا) مسخر کردیا،56۔

55۔ (آیت نے شرک کی بہت سی قسموں کی جڑ کاٹ دی، زمین و آسمان کوئی دیوی دیوتا نہیں، سب اللہ ہی کی مخلوق ہیں۔ آسمان سے پانی اور کوئی نہیں برساتا، ہوا اور بارش کا کوئی دیوتا نہیں، یہ سب وہی کرتا ہے، پھر زمین سے طرح طرح کے پھل اور میوے اگانا بھی تمامتر اسی کا کام ہے، زراعت، باغبانی وغیرہ کیلئے کوئی الگ دیوی دیوتا نہیں، علی ھذا سمندر اور دریاؤں کو پیدا کرنا اور انہیں انسانی ضروریات کے لئے مسخر کر دنیا بھی سوفیصدی اس کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ (آیت) ” رزقا لکم، وسخرلکم “۔ یہ سب اسی حقیقت کو واضح اور موکد کررہے ہیں، کہ اس کارخانہ کائنات میں جو کچھ بھی ہے سب انسان ہی کی خدمت کیلئے ہے نہ یہ کہ الٹا انسان، زمین، آسمان، شجر وحجر، دریا، سمندر کی پرستش شروع کردے۔ اور یہی معنی ہیں انسان کے خلیفۃ اللہ ہونے کے۔ (آیت) ” لتجری فی البحر بامرہ “۔ تاکہ یہ جہاز اور کشتیاں سمندر میں چلیں اور تم ان کے ذریعہ سے تجارت، سفر وغیرہ کے نفع حاصل کرو، اسلام مسلمانوں کو راہب، باد یہ نشین نہیں بنا دینا چاہتا، بحری تاجر بنانے کی ترغیب دیتا ہے لیکن ملحد و خدا فراموش نہیں، بلکہ مومن ومسلم ” بحری تاجر “۔ سخرلکم الانھر “۔ یعنی تاکہ تم دریاؤں کے پانی کو اپنی ہر انفرادی اور اجتماعی تمدنی ضرورت کے کام میں لاؤ، کشتیاں چلاؤ آبپاشی کرو، ان سے نہریں کاٹو، پن چکیاں چلاؤ بجلی پیدا کرو، وقس علی ہذا۔ غرض اپنی جائز تمدنی ترقی کے کام میں لاؤ، بس شرط صرف اتنی ہے کہ خود مسلمان اور صاحب ایمان بنے رہو۔ 56۔ (کہ اس سارے عظیم الشان اور حیرت انگیز طور پر وسیع کارخانہ قدرت سے اپنے لئے ہر جائز شخصی اور تمدنی نفع حاصل کرتے رہو) (آیت) ” الشمس والقمر۔ الیل والنھار “۔ آفتاب اور ماہتاب اور رات اور دن تو سب خلیفۃ اللہ بشر کی خدمت کے لئے ہیں، پھر یہ کیسا شدید جاہلانہ ظلم ہے کہ الٹا انہی کو معبود سمجھ لیا جائے ، ! (آیت) ” دآئبین “۔ یعنی اپنی عادت جاریہ پر ثبات و دوام رکھنے والے اپنی روشنی و اپنی گرمی، اپنی شرح رفتار اور اپنی دوسری طبعی خصوصیات سے ہمیشہ فائدہ پہنچاتے رہنے والے۔ معنی الدواب فی اللغۃ مرور الشیء فی العمل علی عادۃ مطردۃ (کبیر) الدب والدبیب مشی خفیف (راغب) قال المفسرون معناہ یدا بان فی سیرھما وافادتھما وتاثیرھما (کبیر)
Ayah 14:33

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور تم کو ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے مانگی،57۔ اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہوتو انہیں شمار نہ کرپاؤگے بیشک انسان بڑا ہی ناانصاف ہے، بڑا ہی ناشکرا ہے،58۔

57۔ (اور اس کا دینا بھی تمہارے حق میں قرین مصلحت ہوا) (آیت) ” من کل “۔ یعنی تمہاری ہر طلب کی ہوئی شے میں سے تمہیں کچھ دیا :۔ 58۔ (کہ نعمتوں کی قدر اور شکر نہیں کرتا بلکہ اور الٹا کفر ومعصیت میں مبتلا ہوجاتا ہے) (آیت) ” الظلوم کفار “۔ امام رازی (رح) کہتے ہیں کہ یہاں اللہ نے انسان کے یہ دو وصف بیان کئے ہیں، اور سورة نحل میں اپنے دو وصف ذکر کئے ہیں۔ ان اللہ لغفور رحیم گویا وہ آیت کے ٹھیک مقابل ہے اور انسان کی ناانصافی کے مقابلہ میں اللہ کی مغفرت اور انسان کے کفران نعمت کے مقابلہ میں اللہ کی رحمت ہے۔ والمقصود کانہ یقول ان کنت ظلوما فانا غفور وان کنت کفارا فانا رحیم (کبیر) (آیت) ” نعمت اللہ “۔ نعمت بطور جنس کے ہے اس لیے ترجمہ صیغہ جمع کیا گیا۔ اہل لطائف نے لکھا ہے کہ حق تعالیٰ کے احسان سے تو اہل نار تک خالی نہیں کہ اللہ تعالیٰ بہرحال اس سے بھی سخت تر سزا پر قادر تھا۔ اور یہ مضمون حدیث میں بھی آیا ہے۔ (آیت) ” لا تحصوھا “۔ احاطہ میں نہ لے پاؤ گے کہ وہ تو ہیں ہی بےپایاں۔ انسان کہاں سے اتنی فرصت اور اتنی ہمت لائے گا ! الانسان “۔ انسان سے یہاں مراد ہر فرد انسانی نہیں بلکہ جنس انسانی ہے عام اس سے کہ اس ظلم اور کفران کا تحقق چند میں پایا جائے یا زائد میں۔ والمراد من الانسان ھھنا الجنس یعنی ان عادۃ ھذا الجنس ھو اھذا (کبیر)
Ayah 14:34

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کی کہ اے میرے پروردگار اس شہر (مکہ) کو امن والا بنادے اور مجھ کو اور میرے فرزندوں کو اس سے بچائے رکھ کہ ہم لوگ مورتی پوجا کرنے لگیں،59۔

59۔ (جیسا کہ اب تک بچائے رکھا ہے) آیت میں صاف دلالت اس امر پر ہے کہ حضرات انبیاء تک امکان کفر وشرک سے م اور انہیں ہوجاتے بلکہ برابر اس سے ڈرتے ہی رہتے ہیں، کہنا چاہیے کہ اسی خوف لغزش ہی نے تو انہیں معصوم رکھا ہے تو بھلا ہم دنیا داروں کا کیا ذکر جو ہر وقت نفس اور شیطان کی کمند میں پھنسے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” ھذا البلد “ یعنی شہر مکہ، (آیت) ” امنا “۔ یعنی اسے حرم مقرر کردے جس کے رہنے بسنے والے مستحق امن ہوتے ہیں۔ (آیت) ” واذ قال ابراہیم “۔ یہ وقت وہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) شہر مکہ میں خانہ کعبہ کے قریب حضرت اسمعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ ؓ کو لا کر چھوڑ گئے ہیں۔
Ayah 14:35

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اے میرے پروردگار ان (مورتیوں) نے بہترے آدمیوں کو گمراہ کردیا ہے،60۔

60۔ یعنی یہ بت ان کی گمراہی کا سبب اور ذریعہ بن گئے ہیں، یہ مراد نہیں کہ ان بےجان مورتیوں نے عمدا اور قصدا کسی کو گمراہ کیا ہے۔ (آیت) ” کثیرا من الناس “۔ اس میں دنیا میں بت پرستوں کی کثرت تعداد کی جانب اشارہ ہے جو مشاہد ہے۔
Ayah 14:36

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

سو جو کوئی میری راہ پر چلے گا وہ تو میرا ہی ہے،61۔ اور جو کوئی میری نافرمانی کرے تو تو بڑا مغفرت والا ہے، بڑا رحمت والا ہے،62۔

61۔ (اور اس کے لئے تیرا وعدہ مغفرت موجود ہی ہے) 62۔ (تو تیرے لئے کیا مشکل ہے کہ تو اب انہیں ہدایت دے کر ان کی مغفرت و رحمت کا سامان کردے) (آیت) ’ ومن عصانی “ یعنی جو لوگ دین حق کے پیرو نہ بنے۔
Ayah 14:37

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار میں نے اپنی کچھ اولاد کو ایک بےزراعت میدان میں آباد کردیا ہے تیرے معظم گھر کے قریب،63۔ (یہ اس لئے) اے ہمارے پروردگار کہ وہ لوگ نماز کا اہتمام رکھیں،64۔ سو تو کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے اور انہیں کھانے کو پھل دے جس سے یہ شکرگزار رہیں،65۔

63۔ یعنی خانہ کعبہ سے متصل، کعبہ اگرچہ اس وقت منہدم حالت میں تھا تاہم اس کی جگہ تو خوب جانی پہچانی ہوئی اور نگاہوں میں محترم ومتبرک تھی، (آیت) ” من ذریتی “۔ ذریت سے مراد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کا سلسلہ اولاد ہے۔ من تبعیضیہ ہے یعنی اپنی اولاد میں سے کچھ من بمعنی بعض اے اسکنت بعض ذریتی (روح) اے بعض ذریتی اور ذریۃ من ذریتی (بیضاوی) (آیت) ’ ’ غیرذی زرع “۔ شہر مکہ جو ملک عرب کے صوبہ حجاز میں بحر احمر سے 48 میل پر سمت مشرق میں واقع ہے اپنی زمین کی خشکی کے لئے مشہور ہے اور زمین کے کہیں تو پتھریلی اور کہیں ریتلی ہونے کے باعث حضرات ابراہیم (علیہ السلام) ہی کے زمانہ میں نہیں بلکہ اس وقت تک بھی ناقابل کاشت ہے۔ اور اگر کہیں آیندہ مصنوعی ذرائع وتدابیر سے اسے کسی حد تک قابل کاشت بنالیا جائے تو یہ اس قرآنی بیان کے ذرا بھی منافی نہ ہوگا۔ ملاحظہ ہوں، انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے، بعض فقہاء نے یہاں تصریح کردی ہے کہ ایک بےآب وگیاہ ملک میں لاکر اپنے بیوی بچوں کو ڈال دینا اور اس امر کو اسوۂ ابراہیمی کا اتباع سمجھنا اب جائز نہیں۔ لایجوز لاحد ان یتلق بہ فی طرح عیالہ وولدہ بارض مضیعۃ اتکالا علی العزیز الرحیم واقتداء بفعل ابراھیم (ابن العربی) 64۔ (اور نماز کے تحت میں یہاں طواف وغیرہ کل عبادات داخل ہیں) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مقصود گزارش یہ ہے کہ یہ آبادی خدا پرستی کے لئے ہے اور کعبہ خدا پرستوں کا مقام ہے۔ (آیت) ” لیقیموا الصلوۃ “۔ میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو کعبہ کے گرد بسانے کی غرض خدمت کعبہ بتا کر یہود ونصاری کے اس خیال کی تردید کردی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو وہاں وادی مکہ میں چھوڑنا، محض حضرت سارہ ؓ کو خوش کرنے کے لئے تھا۔ (آیت) ” لیقیموا “ کے ل کا نحوی تعلق (آیت) ” اسکنت “ سے ہے یعنی میں نے اپنی اولاد کی نوآبادی جو یہاں قائم کی ہے اس کی غرض وغایت ہی یہ ہے کہ اقامت صلوۃ کا اہتمام رکھا جائے۔ اللام متعلقۃ باسکنت اے ما اسکنتھم بھذا الوادی البلقع الا لیقیموا الصلوۃ (مدارک) 65۔ اور تیری ہی عبادت میں لگے رہیں) (آیت) ” فاجعل۔۔۔ الیھم “۔ ابراہیم خلیل (علیہ السلام) عرض کررہے ہیں کہ اے پروردگار میں نے جو اپنی اولاد کو یہاں لا بسایا ہے تو اول تو اس سرزمین میں کوئی مادی کشش ہی نہیں کوئی یہاں آنے کیوں لگا، تو ہی اپنی قدرت سے خلقت کے دل میں یہ اں کی حاضری کی تمنا و آرزو ڈال دے ! کہ خود بخود کھنچے ہوئے چلے آئیں، اور پھر اس خشک اور بےآب وگیاہ سرزمین میں پھل پھلاری کہاں ؟ تو انہیں اپنی قدرت سے یہ بھی نصیب کر دے !۔۔۔ یہ دعا ابراہیمی پوری ہوئی اور کس معجزانہ حد تک پوری ہوئی اس کا کچھ اندازہ سفر حج کے بعد ہی ہوسکتا ہے، وہ ہزار ہا اور لکھو کھا انسانوں کا چین سے اور روس سے، جاپان سے اور جاوا سے، مصر سے اور ایران سے، افغانستان سے اور شام سے، پاکستان سے اور ہندوستان سے، مراقش سے اور برما سے اس وادی (آیت) ” غیر ذی زرع “۔ میں جمع ہوجانا اگر (آیت) ” افئدۃ من الناس تھوی الیھم “۔ کی عملی تفسیر نہیں تو اور کیا ہے ؟ اسی طرح مکہ کی منڈیوں کا اور منی کے بازاروں کا تروتازہ سیب واناروانگور اور سنترے اور ہر ہر طرح کے شاداب میووں اور رسیلے پھلوں سے پٹے پڑے رہنا اگر (آیت) ” وارزقھم من الثمرت “۔ کا حیرت انگیز عملی ظہور نہیں تو اور کیا ہے ؟ (آیت) ” افئدۃ من الناس “۔ تقدیر کلام یوں ہے افئدۃ من افئدۃ الناس “۔ (آیت) ” من الناس “۔ من تبعیض کے لئے ہے۔ من للتبعیض (مدارک) (آیت) ” فاجعل افئدۃ “۔ الخ ‘۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ مال وجاہ کا بقدر ضرورت اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے طلب کرنا مذموم نہیں خصوصا جبکہ اعانت علی الدین کے لئے ہو جیسا کہ (آیت) ” لیقیموا الصلوۃ اور لعلھم یشکرون “۔ سے ظاہر ہورہا ہے :۔
Ayah 14:38

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار تو سب کچھ جانتا ہے جو کچھ ہم چھپائیں اور جو کچھ ہم ظاہر کریں اور اللہ سے کوئی بھی چیز نہیں چھپی رہتی ہے (نہ) زمین میں اور نہ آسمان میں،66۔

66۔ (چنانچہ ان دعاؤں سے بھی یہ ہرگز مقصود نہیں کہ تو اب تک ہماری ان حاجتوں اور تمناؤں سے بیخبر تھا تیرے لئے تو ہر پوشیدہ اور علانیہ یکساں ہے بلکہ یہ دعائیں تو تمامتر ہماری عبودیت اور افتقار سے پیدا ہوئیں ہیں) آیت سے تردید ان تمام مشرک قوموں اور جاہلی فلسفیوں کی ہوگئی، جنہوں نے خدا کے علم کو ناقص، محدود یا صرف کلیات پر مشتمل قرار دیا ہے، ہندوستان، مصر، یونان سب کے بڑے بڑے ” حکماء “ اور ” عقلاء “ اس جہل میں شریک رہے۔ (آیت) ” ربنا “۔ ندا کی تکرار تضرع وخشوع طلب کی دلیل ہے۔ النداء المکرر دلیل التضرع واللجا الی اللہ۔ (مدارک) (آیت) ” من شیء “۔ من استغراق کے لئے ہے۔ من لاستغراق (مدارک) ترجمہ اسی لئے ” کوئی بھی چیز “۔ سے کیا گیا ہے۔
Ayah 14:39

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

ساری حمد ہے اللہ کیلئے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمعیل واسحق (دو بیٹے) دیئے بیشک میرا پروردگار دعاؤں کا بڑا سننے والا ہے،67۔

67۔ (چنانچہ اس نے جس طرح میری پچھلی دعائیں سن لیں اور قبول کرلیں اس کی ذات سے یقین ہے کہ آیندہ بھی ایسا ہی کرتا رہے گا) (آیت) ’ لسمیع الدعآء “۔ یعنی بڑا قبول کرنے والا۔ اے مجیب الدعاء (مدارک) اے انہ یستجیب ممن دعاہ (ابن کثیر) فالسمع بمعنی القبول والاجابۃ مجاز کمافی سمع اللہ تعالیٰ لمن حمدہ (روح) (آیت) ” الحمد للہ “۔ الخ۔ اولاد خصوصا کبرسنی کی اولاد، اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے، مسرت وشکر کے قابل نہ کہ کوئی عیب جسے چھپایا جائے یا اس سے شرمایا جائے۔ (آیت) ” علی الکبر “۔ توریت میں ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی ولادت کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر 84 سال کی تھی، (پیدائش 16: 16) اور حضرت اسحاق کی ولادت کے وقت 100 سال کی (پیدائش 21: 5) اس وقت کے اوسط عمر کے لحاظ سے باپ بننے کا یہ سن اگرچہ ایسا غیر معمولی نہیں، پھر بھی بہرحال ضعیفی ہی کا تھا، علی الکبر میں علی مع کے مرادف ہے اور مراد حالت کبر سنی سے ہے۔ علی الکبر بمعنی مع وھو فی موضع الحال ومعناہ وھب لی فی حال الکبر (کبیر)
Ayah 14:40

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے میرے پروردگار مجھ کو بھی نماز کا پابند رکھیے اور میری نسل میں سے بھی (کچھ کو) اے ہمارے پروردگار ہماری دعا قبول کر،68۔

68۔ دعاء کے آداب اور طریقے کوئی حضرات انبیاء ہی سے سیکھے، عبودیت کے کن کن پہلوؤں سے کیسے کیسے لجاجت کے انداز سے اپنے محبوب مالک کو پکارتے رہتے ہیں، (آیت) ” رب اجعلنی مقیم الصلوۃ “۔ نماز کی اہمیت اسی سے ظاہر ہے کہ ایک نبی جلیل القدر اپنے حق میں اس کے واسطے دعائے خصوصی کرتے ہیں۔ (آیت) ” ومن ذریتی “۔ محققین نے لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو وحی سے علم ہوگیا تھا کہ حضرت کی نسل میں سب مومن ہی نہ ہوں گے کچھ غیر مومن بھی ہوں گے اس لئے دعاء سب کے حق میں نہ فرمائی، اے بعض ذریتی۔۔۔ انما بعض لانہ علم باعلام اللہ انہ یکون فی ذریتہ کفار (مدارک)