Ayah 14:1اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب اس لیے نازل فرمائی ہے کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف بلائیں ‘ اللہ غالب ہے ستودہ صفات ہے سارے جہانوں کا مالک ہے :
یہاں سے سورة ابراہیم شروع ہے اول تو یہ فرمایا کہ یہ کتاب عظیم کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی پھر فرمایا کہ کتاب کا نازل فرمانا اس لیے ہے کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالیں اور ساتھ ہی (بِاِذْنِ رَِبِّھْمْ ) بھی فرمایا کہ کتاب سنانا اور حق کی تبلیغ کرنا یہ آپ کا کام ہے جسے ہدایت ہوگی اللہ تعالیٰ کے حکم اور مشیئت ہی سے ہوگی۔
پھر نور کا مصداق بتایا اور فرمایا (اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ ) کہ آپ جو لوگوں کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالتے ہیں یہ نور عزیز حمید یعنی اس ذات پاک کا راستہ ہے جو زبردست ہے اور غالب ہے اور ستو دہ صفات ہے یعنی ہر اعتبار سے وہ مستحق حمد ہے ‘ پھر (عَزِیْزٌ حَمِیْدٌ) کا اسم ذات ذکر فرمایا کہ وہ ذات پاک اللہ تعالیٰ ہے
Ayah 14:2پھر اللہ تعالیٰ کی شان مالکیت کو بیان فرمایا (الَّذِیْ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ ) اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اس کی ملکیت ہے ‘ وہی ان سب چیزوں کا مالک بھی ہے اور خالق بھی ہے سارا ملک بھی اسی کا ہے اور سب کچھ ملکیت اسی کی ہے ‘ جو لوگ اللہ کی کتاب پر اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لاتے وہ اپنے خالق ومالک سے منحرف ہیں ایسے لوگوں کے لیے وعید بیان فرمائی (وَ وَیْلٌ لِّلْکٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِ ) (اور کافروں کے لیے ہلاکت ہے یعنی سخت درد ناک عذاب ہے) ۔
Ayah 14:3کافروں کی صفات :
پھر کافروں کی تین صفات بیان فرمائیں اور وہ یہ ہیں کہ (الَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ ) (اور یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا والی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور آخرت کے مقابلہ میں اسے ترجیح دیتے ہیں) ان کا یہ دنیا سے محبت کرنا اور آخرت کو نظر انداز کرنا ان کے کفر پر جمے رہنے کا باعث بنا ہوا ہے ‘ ان کی دوسری صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) (یعنی وہ اللہ کی راہ سے روکتے ہیں) نہ خود ایمان لاتے ہیں نہ دوسروں کو ایمان لانے دیتے ہیں۔
تیسری صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ یَبْغُوْنَھَا عِوَجًا) (کہ اللہ کی راہ میں کجی تلاش کرتے ہیں) یعنی یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے دین میں کوئی عیب نکالیں اور اس پر اعتراض کریں۔
ان لوگوں کی یہ حرکتیں بیان فرمایا کر ارشاد فرمایا (اُولٰٓءِکَ فِیْ ضَلٰلٍ بَعِیْدٍ ) کہ یہ لوگ دور کی گمراہی میں ہیں راہ حق کا انکار کر کے ہدایت سے دور پہنچ چکے ہیں۔ قال صاحب الروح والمراد انھم قد ضلوا عن الحق ووقعوا عنہ بمراحل۔
Ayah 14:4حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنی قوموں کی زبان بولنے والے تھے :
اس آیت میں ایک بہت اہم بات بیان فرمائی اور وہ یہ کہ ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ سب اپنی اپنی قوموں کی زبان میں ان سے بات کرتے تھے اور اپنی قوم کی زبان میں انہیں اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچاتے اور بیان فرماتے تھے ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) دنیا میں تشریف لائے ان کی بیوی حوا بھی تشریف لائیں اور ان دونوں سے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی بھاری تعداد میں مرد اور عورت پیدا فرمائے۔ (وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَآءً ) حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذریت بڑھتی رہی پھیلتی رہی قبیلے بنتے چلے گئے مختلف زبانیں پیدا ہوتی چلی گئیں یہ زبانوں اور صورتوں کا مختلف ہونا اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کی بڑی نشانیاں ہیں سورة روم میں فرمایا (وَمِنْ اٰیَاتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوَاتِ وَاْلَارْضْ وَاخْتِلَافِ اَلْسِنَتِکُمْ وَاَلْوَانِکُمْ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَاتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ ) (اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں کا اور زمین کا پیدا فرمانا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا مختلف ہونا بیشک اس میں جاننے والوں کے لیے نشانیاں ہیں) ۔
اللہ تعالیٰ شانہ نے نبوت اور رسالت کا سلسلہ بھی جاری فرمایا ہدایت دینے کے لیے انبیاء کرام اور رسل عظام ( علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تعلیم و تبلیغ اور افادہ و استفادہ کا سب سے بڑا ذریعہ زبان ہی ہے جب زبانیں مختلف ہیں اور لوگوں کو ایمان کی دعوت دینا اور باری تعالیٰ شانہ کے احکام بیان کرنا اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنے پیغمبروں کے سپرد فرمایا تو ظاہر ہے کہ ہر نبی کو وہی زبان بولنا ضروری ہوا جو زبان ان کے مخاطبین کی تھی (لِیُبَیِّنَ لَھُمْ ) میں اس بات کو بیان فرمایا کہ جو بھی نبی آیا اس نے اپنی قوم سے انہیں کی زبان میں باتیں کیں اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے وطن سے ہجرت کر کے ملک شام آباد ہوگئے تھے ان کا وطن سابق بابل کے قریب تھا وہاں جو بھی زبان بولتے ہوں ہجرت کر کے جب شام میں تشریف لے آئے اور وہاں کے لوگوں میں شادی کرلی اور ان لوگوں کی زبان سیکھ لی تو نبوت سے سر فراز ہو کر انہی کی زبان میں تبلیغ فرماتے اور حق کی دعوت دیتے تھے ‘ مطلب یہ نہیں ہے کہ رسول اپنی قوم کی زبان کے علاوہ دوسری زبان نہیں جانتے تھے ‘ مطلب یہ ہے کہ جس قوم کی طرف بعثت ہوئی ان کی زبان جانتے تھے بعض لوگوں نے جو حضرت لوط (علیہ السلام) کے بارے میں اشکال کیا ہے کہ وہ دوسرے ملک سے آکر آباد ہوئے تھے پھر آیت کے عموم میں کیسے داخل ہوئے یہ اشکال کوئی وزن نہیں رکھتا کیونکہ جس قوم کی طرف مبعوث ہوئے ان کی زبان جاننا دعوت و تبلیغ کے لیے کافی ہے۔
محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت عامہ اور عربی زبان میں قرآن نازل ہونے اور نماز و اذان مشروع ہونے کی حکمت :
سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث ہوئے وہ کسی خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتے تھے تمام انسانوں کی طرف ان کی بعثت نہیں ہوتی تھی کما قال النبی وکان النبی یبعث الی قومہ خاصۃ و بعثت الی الناس عامۃ (صحیح بخاری) آپ کی بعثت سارے زمانوں کے لیے سارے جنات کیلئے اور سارے انسانوں کے لئے ہے چونکہ آپ کے مخاطبین اولین اہل عرب ہی تھے اس لیے آپ بھی اپنی قوم کی زبان میں خطاب فرماتے تھے اور قرآن مجید بھی عربی زبان میں نازل ہوا پھر عربی زبان کی بلاغت اور لطافت ایسی ہے جو دوسری کسی زبان میں نہیں ہے اس میں الفاظ بھی ثقیل نہیں ہیں جیسا کہ انگریزی اور سنسکرت وغیرہ میں ہیں اور اس زبان کا سیکھنا بھی آسان ہے اور معجزہ کی جو شان عربی زبان میں ہے وہ دوسری زبانوں میں نہیں ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے محمد عربی کو خاتم الانبیاء بنایا اور اپنی آخری کتاب بھی عربی زبان میں نازل فرمائی چونکہ سارے انسان خاتم الانبیاء ﷺ کی امت دعوت ہیں اس لیے امت کی وحدت قائم رکھنے کے لئے کسی ایک ہی زبان میں آخری کتاب کا نازل ہونا ضروری تھا اور اپنی لطافت فصاحت و بلاغت اور معجزہ ہونے کے اعتبار سے عربی زبان ہی کو برتری حاصل تھی اور اب بھی ہے اس لیے عربی ہی کو ساری امت کی مرکزی زبان قرار دیا گیا اگر ہر ہر علاقے کے رہنے والوں کی زبانوں میں الگ کتاب اللہ ہوتی تو پوری امت کی مرکزیت اور وحدت کی صورت نہ بنتی جیسا کہ قرآن مجید کے معانی کا جاننا اور سمجھنا اور اس کے احکام پر عمل کرنا مطلوب ہے اسی طرح اس کے الفاظ کا یاد رکھنا پڑھنا پڑھانا تلاوت کرنا بھی مطلوب ہے جیسا اس کے احکام پر عمل کرنے سے ثواب ملتا ہے ایسا ہی اس کے الفاظ کی تلاوت کرنے پر بھی اجر ملتا ہے۔ زبان کی سلاست اور لطافت جو عربی زبان میں ہے وہ کسی دوسری زبان میں نہیں ہے چھوٹے چھوٹے بچے بھی اسے حفظ کرلیتے ہیں اور بوڑھے لوگ بھی یاد کرلیتے ہیں اس کے حروف بھی ایسے ہیں جنہیں سب ادا کرسکتے ہیں (اگرچہ بعض حروف کی ادائیگی میں ذرا محنت اور مشق کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ادا سب ہوجاتے ہیں) برخلاف اس کے بعض زبانوں کے حروف ایسے ہیں کہ دیگر علاقوں کے باشندوں سے ادا نہیں ہوتے مثلاً (ڑ) اور (ڈ) اہل عرب ادا نہیں کرسکتے اس لیے عربی زبان ہی کو اسلامی عربی زبان قرار دیا گیا قرآن بھی اسی زبان میں نازل ہوا نماز بھی اسی زبان میں پڑھی جاتی ہے اور اذان بھی اسی زبان میں دی جاتی ہے۔
پھر چونکہ اہل استطاعت پر حج کرنا بھی فرض ہے اس کے لیے مکہ معظمہ آنا پڑتا ہے اور یہاں اہل عرب سے واسطہ پڑنا ضروری ہے اس لیے بھی مسلمانوں کے لیے مرکزی عالمی زبان عربی ہی ہونا ضروری ہوا۔
حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی ذمہ داری حق پہنچانے اور حق سمجھانے کی تھی رہا ہدایت دینا تو یہ اللہ جل شانہ کی قضاء وقدر اور ارادہ سے متعلق ہے اسی لئے فرمایا (فَیُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ) یعنی حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنی قوموں کی زبانوں میں بیان فرماتے تھے اس کے بعد اللہ نے جس کو چاہا گمراہی پر باقی رکھا اور جس کو چاہا ہدایت دی قال صاحب الروح ص 182 ج 13 کانہ قیل فبینوا لھم فاضل اللہ تعالیٰ من شاء اضلا لہ وھدی من شاء ھدایتہ حسب ما اقتضتہ حکمتہ تعالیٰ البالغۃ۔
آیت کے ختم پر فرمایا (وَ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) اور وہ غالب ہے وہ جو چاہے وہی ہوگا اور وہ حکمت والا بھی ہے وہ اپنی حکمت کے موافق فیصلے فرماتا ہے اس کا کوئی فیصلہ حکمت سے خالی نہیں۔
Ayah 14:5حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مبعوث ہونا اور بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلانا :
ان دو آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے زمانہ اقتدار میں جب اپنے والدین اور بھائیوں کو اور ان کی ازواج واولاد کو بلا لیا تھا تو یہ لوگ مصر میں مستقل طور پر بس گئے اور وہیں کے ہو کر رہ گئے چونکہ یہ لوگ مصری قوم یعنی قبطیوں کے نہ ہم وطن تھے نہ ہم مذہب تھے اس لیے انہوں نے ان کو اجنبی ہونے کی پاداش میں بہت بری طرح رگڑا۔ چار سو سال کی بدترین غلامی میں جکڑے رہے پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جو بنی اسرائیل ہی میں سے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات عطا فرمائے اور ان پر توریت شریف نازل فرمائی چونکہ وہ پیدا ہونے کے بعد سے تیس سال کی عمر تک مصر ہی میں رہے اس کے بعد دس سال مدین میں رہے اس لیے بنی اسرائیل کی زبان بھی جانتے تھے اور قبطیوں کی زبان سے بھی واقف تھے ‘ آپ فرعون اور قوم فرعون کی طرف بھی مبعوث ہوئے اور بنی اسرائیل کی طرف بھی ‘ فرعون اور اس کی قوم تو کافر مشرک تھے ہی ان کی اپنی قوم یعنی بنی اسرائیل بھی نہ صرف یہ کہ فسق وفجور میں مبتلا تھی بلکہ شرک کو بھی پسند کرنے لگی تھی اس لیے جب سامری نے بچھڑا بنایا تو اس کی پرستش کرنے لگے اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مشرکین پر گزرے تو کہنے لگے (یَا مُوْسَی اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰھًا کَمَا لَھُمْ اٰلِھَۃٌ) (اے موسیٰ ہمارے لیے بھی ایسے ہی معبود تجویز کر دیجئے جیسے ان لوگوں کے لیے معبود ہیں) اللہ تعالیٰ شانہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ تم اپنی قوم کو اندھیروں سے نکالو اور نور کی طرف لے آؤ کفر و شرک اور فسق وفجور اور معاصی سے انہیں ہٹاؤ اور بچاؤ اور ہدایت کی روشنی کی طرف لے آؤ (وَ ذَکِّرْھُمْ بِاَیّٰمِ اللّٰہِ ) (اور انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ) دن تو سارے اللہ ہی کے ہیں کیونکہ سب دنوں کو اسی نے پیدا فرمایا ہے لیکن محاورہ کے اعتبار سے یہاں انقلابات جہاں اور دکھ تکلیف کے واقعات یاد دلانا مقصود ہے دنیا میں کیسے کیسے بادشاہ اور دبدبے والے اصحاب اقتدار آئے انہوں نے کیا کیا بنایا اور کیا کیا خود صفحہ ہستی سے مٹ گئے ان کے لشکر بھی تباہ ہوئے قومیں بھی ختم ہوئیں محلات بھی برباد ہوئے جن میں سے بعض کا کوئی نشان باقی ہے اور بعض کے نشان بھی ختم ہوگئے ‘ انہیں میں فرعون بھی تھا جس کی سطوت اور شوکت بنی اسرائیل دیکھ چکے تھے اور چار سو سال سے دکھ تکلیف کو بھگت رہے تھے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ انہیں یہ واقعات اور قصے یاد دلاؤ دوسروں کو دیکھ کر عبرت حاصل کریں ان کا جو اپنا حال تھا اس کو بھی یاد کریں۔
بعض حضرات نے ایام اللہ سے نعماء اللہ مراد لیے ہے یعنی تم پر اللہ تعالیٰ کے جو انعامات ہوئے ہیں ان کو یاد کرو۔ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ ) (بلاشبہ اس میں نشایاں ہیں ہر ایسے بندہ کے لیے جو خوب صبر کرنے والا ہو خوب شکر کرنے والا ہو) ۔ صبر شکر والے بندے بصیرت والے ہوتے ہیں جو شخص کسی مصیبت میں مبتلا ہو وہ گزشتہ انسانوں کی مصیبتیں یاد کرلے تو اس کی مصیبت ہلکی ہوجائے گی اور مصیبت پر صبر کرنا آسان ہوجائے گا اور جو نعمتیں اسے ملی ہیں ان پر زیادہ سے زیادہ شکر ادا کرنے کی طرف متوجہ ہوگا۔
Ayah 14:6اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خطاب کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اپنی قوم سے کیا تھا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالو اور انہیں پرانے زمانے یاد دلاؤ تو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ نے جو تم پر انعام فرمایا اسے یاد کرو انعامات تو ان پر بہت تھے لیکن ان کے حالات کے اعتبار سے جو ان پر سب سے بڑا انعام تھا وہ یاد دلایا کہ دیکھو اللہ نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی فرعون اور اس کے متعلقین اور اس کے سپاہی بنی اسرائیل پر بری طرح مسلط تھے وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے یعنی ذبح نہ کرتے تھے مگر یہ ان کی کوئی مہربانی نہ تھی وہ سمجھتے تھے کہ سبھی کو قتل کردیا جائے تو ہماری خدمت گزاری کون کرے گا وہ بنی اسرائیل سے طرح طرح کی بیگاریں لیتے تھے انہیں سخت ترین کاموں میں استعمال کرتے تھے یہ سب کچھ بنی اسرائیل کو معلوم تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں یاد دلایا اور فرمایا (وَ فِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ) کہ اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑا امتحان تھا عربی زبان میں آزمائش اور امتحان کو بلاء کہتے ہیں۔ اور بلاء کا دوسرا معنی ” انعام “ ہے اگر یہ معنی لئے جائیں تو ترجمہ اور مطلب یہ ہوگا کہ ایسی تکلیفوں سے اور غلامی سے نجات دینے میں تم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔
Ayahs 14:7–8اللہ تعالیٰ کا اعلان کہ شکر پر مزید نعمتیں دوں گا اور ناشکری سخت عذاب کا سبب ہے :
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ آیت (وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ ) بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقولہ ہے مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلانے کے بعدیہ بھی فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرما دیا ہے کہ نعمتوں کی شکر گزاری پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مزید انعامات ملیں گے اور جیسا کہ شکر نعمتوں کے زیادہ ہونے کا سبب ہے اسی طرح سے ناشکری اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوجانے کا سبب ہے۔ لہٰذا زبان سے بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے اور دل سے بھی اور اعضاء وجوارح سے بھی ‘ اعضاء وجوارح کا شکر ادا کرنا یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں لگائے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچائے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو مال ملے اس کو فضول نہ اڑا دے طاعات میں خرچ کرے ‘ گناہوں میں خرچ کرنے سے بچے ‘ شکر ان سب باتوں کو شامل ہے اور ان سب امور کے خلاف اختیار کرنا ناشکری ہے۔ جس طرح شکر گزاری کی وجہ سے نعمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے اسی طرح ناشکری کی وجہ سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں اور طرح طرح کے مصائب اور مشکلات اور دکھ تکلیف اور عذاب میں مبتلا ہونا پڑتا ہے۔
سورة نحل کی آیت (وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَریۃ) (الایۃ) میں ایک بستی پر نعمتوں کی فراوانی پھر ان کی ناشکری اور ناشکری کی سزا کا تذکرہ فرمایا ہے۔ نیز سورة سبا رکوع 2 میں قوم سبا پر جو نعمتیں تھیں ان نعمتوں کا تذکرہ ہے پھر قوم کی ناشکری اور ناشکری کی سزا مذکور ہے دونوں جگہ کا مطالعہ کرلیا جائے۔ مزید فرمایا کہ دیکھو اگر تم شکر کرو گے تو تمہارا ہی فائدہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ غنی ہے بےنیاز ہے حمید ہے سب تعریفوں کا مستحق ہے اسے کسی کے شکر کی حاجت نہیں ہے تم سب اور زمین کے رہنے والے تمام افراد اگر اللہ کی ناشکری کریں تو اس بےنیاز ذات کا کچھ بھی نقصان نہ ہوگا شکر گزاری میں تمہارا اپنا نفع ہے ناشکری میں تمہارا اپنا ضرر ہے۔
Ayahs 14:9–12سابقہ امتوں کا عناد ‘ رسولوں کو تبلیغ سے روکنا اور جاہلانہ سوال جواب کرنا :
قریش مکہ کفر و شرک سے باز نہیں آتے تھے جب اس کے سامنے حق بات پیش کی جاتی تھی تو الٹے الٹے جواب دیتے تھے ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ تم سے پہلے جو قومیں گزری ہیں مثلاً نوح (علیہ السلام) کی قوم اور قوم عاد اور قوم ثمود اور ان کے بعد جو بہت سی اقوام آئیں جن کا علم صرف اللہ ہی کو ہے کیا ان کے احوال تمہیں معلوم نہیں ہیں۔ کچھ اجمالاً اور کچھ تفصیلاً ان لوگوں کے حالات تمہیں معلوم ہیں قرآن مجید میں بھی ان کے احوال بتائے ہیں اور تم اپنے اسفار میں ہلاک شدہ قوموں کے نشانات دیکھ چکے ہو کچھ نہ کچھ یہود اور نصاریٰ سے بھی سنا ہے ان لوگوں کی بربادی سے تم سبق کیوں نہیں لیتے ان کی وہی حرکتیں تھیں جو تمہاری حرکتیں ہیں انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلاتے تھے اور کہتے تھے کہ تم جو پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرتے ہو اور جو کچھ ہمیں دعوت دیتے ہو کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ہم اسے نہیں مانتے ہمیں تمہاری باتوں میں شک ہے اور شک بھی معمولی نہیں ہے اس نے ہمارے دلوں کو تردد میں ڈال دیا ہے ‘ ان لوگوں نے صرف اسی پر بس نہیں کیا بلکہ انبیاء کرام (علیہ السلام) جب انہیں حق کی دعوت دیتے تھے تو ان کے مونہوں میں اپنے ہاتھ دے دیتے تھے۔
حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی پہلی دعوت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مانو اس کی توحید کا اقرار کرو اسے خالق اور مالک جانو اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو جب یہ دعوت ان حضرات نے اپنی اپنی اقوام کے سامنے رکھی تو ان لوگوں نے جھٹلا دیا اس پر ان حضرات نے فرمایا کیا تمہیں اللہ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں کا اور زمینوں کا پیدا فرمانے والا ہے اس کی اتنی بڑی نشانیاں آسمان و زمین تمہارے سامنے ہیں اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ اس پر ایمان لاؤ اور اس کی عبادت کرو ہم اس کے پیغمبر ہیں دعوت دینے والا وہی ہے تم اس کی دعوت قبول کرو ایسا کرو گے تو وہ تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور مقررہ وقت تک (جو اس کے علم میں ہے) تمہیں ڈھیل دے گا۔
حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی یہ باتیں سن کر ان کی قومیں جب دلیل سے لا جواب ہوگئیں اور اللہ تعالیٰ کی خالقیت و مالکیت کا انکار نہ ہوسکا تو کٹ حجتی پر اتر آئیں اور کہنے لگیں کہ ہم کیسے مان لیں کہ تم اللہ کے رسول ہو تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو تم نے جو معبود بنا رکھا ہے اس میں ہم اپنے باپ دادوں کی اقتدا کرتے ہیں اور ان کی راہ پر چلتے ہیں اور اپنے خیال میں ہم ان کے طریقہ کو صحیح سمجھتے ہیں اب تم ہمیں باپ دادوں کے راستے سے روکنا چاہتے ہو لہٰذا کوئی واضح کھلی ہوئی دلیل یعنی معجزہ دکھاؤ تاکہ ہم اسے دیکھ کر تمہاری بات مان لیں اور اپنے باپ دادوں کا طریقہ چھوڑ دیں، ان کے جواب میں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بلاشبہ ہم تمہارے ہی جیسے انسان ہیں لیکن انسان ہونا نبی ہونے کے منافی نہیں ہے اللہ تعالیٰ شانہ جسے چاہے نبوت سے سرفراز فرما دیتا ہے اور اپنے اس احسان کے لیے منتخب فرما لیتا ہے وہ انسان ہی میں سے نبی بھیجتا ہے لہٰذا انسان ہوتے ہوئے ہم نبی ہوئے اس میں کوئی اشکال کی بات نہیں جہاں تک دلیل کا تعلق ہے وہ تو ہم نے پیش کردی ہے لیکن اب جو تم یہ کہتے ہو کہ تمہیں ایسا خاص معجزہ دکھایا جائے جو تمہاری فرمائش کے مطابق ہو تو یہ ہمارے بس میں نہیں، اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ہم کوئی معجزہ تمہارے سامنے نہیں لاسکتے ہم اللہ ہی پر توکل کرتے ہیں اور مومن بندوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔
حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) نے مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی اور زندگی کے جو طریقے اسے محبوب ہیں وہ ہمیں بتائے جب اس نے ہم پر یہ کرم فرمایا تو ہم اس پر بھروسہ کیوں نہ کریں ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمیں تکلیفیں دے رہے ہو اور آئندہ بھی تمہاری طرف سے تکلیفیں پہنچ سکتی ہیں، ہمیں ان تکلیفوں پر صبر ہی کرنا ہے اور اللہ ہی پر بھروسہ کرنا ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ذات نہیں جس پر بھروسہ کیا جائے (معلوم ہوا کہ دعوت حق کا کام کرنے والوں کو مخاطبین سے تکلیفیں پہنچیں تو صبر سے کام لیں اور اللہ پر بھروسہ کرکے کام کرتے رہیں۔ )
Ayah 14:13سابقہ امتوں کا رسولوں کو دھمکی دینا کہ ہم تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے کافروں کے سخت عذاب کا تذکرہ
حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنی امتوں کو جو حق کی دعوت دیتے اور توحید کی طرف بلاتے اور اللہ جل شانہ وحدہ لاشریک کی بلاشرکت غیر عبادت کرنے کی دعوت دیتے تھے تو یہ بات ان لوگوں کو کھلتی تھی اور ناگوار ہوتی تھی، طرح طرح کی باتیں بناتے تھے اور بری طرح پیش آتے تھے ان کی انہیں باتوں میں سے یہ بھی تھا کہ ہم تمہیں اپنی سرزمین سے نکال دیں گے نہ تمہیں یہاں رہنے دیں گے اور نہ ان لوگوں کو جنہوں نے تمہارا دین قبول کیا، ہاں اگر تم لوگ ہمارے دین میں واپس ہوجاؤ تو پھر ہم تم ایک ہوجائیں گے اور اس صورت میں ہماری تمہاری مخالفت ختم ہوجائے گی، چونکہ وطن چھوٹ جانا اور بےگھر ہوجانا بھی انسان کے لیے ایک بڑی تکلیف دہ بات ہے اس لیے کافروں نے انہیں یہ تڑی دی (معلوم ہوا کہ اہل ایمان کو اہل کفر زمانہ قدیم سے جلا وطن کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں اور آج بھی اہل ایمان کے ساتھ ایسا ہوتا رہتا ہے) کافروں نے اپنی سرزمین سے نکالنے کی جو دھمکی دی، اس پر اللہ جل شانہ نے اپنے رسولوں کو اور ان پر ایمان لانے والے بندوں کو تسلی دی اور یہ وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کردیں گے اور تمہیں اس زمین میں آباد رکھیں گے۔
جب خاتم النّبیین ﷺ نے اہل مکہ کو توحید کی دعوت دی تو وہ انہیں بہت بری لگی آپ کو اور آپ کے صحابہ کو بہت تکلیفیں دیں بہت سے صحابہ ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے آنحضرت ﷺ کے بارے میں مشورہ لے کر بیٹھے کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے۔ سورة انفال رکوع 3 میں ہے کہ کسی نے کہا کہ آپ کو قید میں ڈال دیں کسی نے کہا آپ کو قتل کردیا جائے کسی نے کہا ان کو یہاں مکہ کی سرزمین سے نکال دیا جائے آپ مکہ معظمہ چھوڑ کر ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے آئے ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر پیش آیا جس میں کفر کے ستر سرغنے مقتول ہوئے اور ستر سرغنے قید ہوئے پھر چھ سال کے بعد مکہ معظمہ فتح ہوگیا کفر مٹا شرک دفع ہوا اور اہل ایمان کو مکہ معظمہ میں امن وامان کے ساتھ رہنا نصیب ہوا پہلی امتوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے کفر و ایمان کی جنگ چلتی رہی بالآخر اہل ایمان غالب ہوئے۔
Ayah 14:14فسق و فجور کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد کا انتظار قرآن کی شرط کے خلاف ہے
ظالمین کو ہلاک کرنے کے بعد اہل ایمان کو ان کی سرزمین میں بسانے کا وعدہ جو فرمایا اس کے بعد ارشاد فرمایا (ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ ) اس میں یہ بتایا ہے کہ ظالموں کے ہلاک کرنے اور ان کی جگہ اہل ایمان کو بسانے کا جو وعدہ فرمایا ہے یہ وعدہ ان لوگوں سے ہے جنہیں حساب کتاب کا ڈر ہے وہ یقین کرتے ہیں کہ قیامت کا دن آئے گا اور وہاں حاضر ہونا پڑے گا اور نیکی بدی کا حساب ہوگا اور یہ وعدہ ان لوگوں سے ہے جو اللہ کی وعیدوں سے ڈرتے رہے جو اس نے اپنے نبیوں اور کتابوں کے واسطہ سے بیان فرمائیں، اور ڈرنا جبھی ہوگا جب کہ ایمان اور یقین کی صفت سے متصف ہونگے، جب قیامت کے دن کے حساب کا خوف ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی وعیدوں پر یقین ہوگا تو گناہوں سے بھی دور رہیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن گناہوں کو نہ چھوڑتے ہوں ان لوگوں سے مذکور یہ وعدہ نہیں ہے آج دنیا میں کروڑوں افراد آباد ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ایمان والے لیکن فرائض واجبات کا اہتمام کرنے اور گناہوں کے چھوڑنے کو تیار نہیں متقی بہت کم ہیں، عموماً فاسق ہیں، نمازوں تک سے غافل ہیں کاروبار میں حلال حرام تک کی کوئی تمیز نہیں سود کا لین دین بھی ہو رہا ہے۔ رشوتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ حقوق العباد بھی ادا نہیں کیے جاتے، اسلام کے دعویداروں کا گناہگاری میں لت پت ہونے کے اعتبار سے برا حال ہے جب کافروں کی طرف سے تکلیف پہنچتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نہیں آتی تو تعجب کرتے ہیں اور بعض جاہل تو اللہ تعالیٰ پر اعتراض کر بیٹھتے ہیں۔ گناہ چھوڑیں اللہ کی شرط پوری کریں پھر مدد کے منتظر ہوں، نفس کی خواہشوں کے مطابق چلیں اور گناہوں میں غرق ہوں اور پھر اللہ تعالیٰ پر اعتراض کریں کہ ہماری مدد نہ فرمائی یہ جہالت کی بات ہے۔ سورة آل عمران میں غزوہ احد (جس میں مسلمانوں کو شکست کا سامنا ہوا تھا) کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا (وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ) (اور تم ہمت نہ ہارو اور رنج نہ کرو اور تم بلند ہو گے اگر تم مومن ہو) جو مدعی ایمان ہو وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرے پھر نصرت الٰہی کا امیدوار ہو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے اسی بات کو فرمایا تھا (اسْتَعِیْنُوْا باللّٰہِ وَ اصْبِرُوْا اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰہِ یُوْرِثُھَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَ الْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ ) (اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو بیشک زمین اللہ ہی کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے عطا فرما دے اور انجام کے اعتبار سے کامیابی متقیوں کے لیے ہوتی ہے۔ )
سورة ھود میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی غرقابی اور نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کے باسلامت کشتی سے اترنے کا ذکر فرمانے کے بعد فرمایا (اِنَّ الْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ ) جس کا مطلب یہ ہے کہ اچھا انجام متقیوں ہی کے لیے ہوتا ہے۔
Ayah 14:15پھر فرمایا (وَاسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ ) (الآیات الثلاث) اس میں حضرات مفسرین نے دو وجوہ لکھی ہیں اول یہ کہ واسْتَفْتَحُوْا کی ضمیر مرفوع مستتر حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی اور فیصلہ چاہا، یہ معنی لینا بھی سیاق کلام کے موافق ہے اور اس کی نظیر حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی دعا ہے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مانگی تھی جب ان کی قوم نے ان سے یوں کہا تھا کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ ورنہ ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ اس پر ان حضرات نے جو جواب دیا تھا وہ سورة اعراف میں مذکور ہے، ساتھ ہی وہاں ان کی یہ دعا بھی نقل فرمائی ہے۔ (رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ ) (اے ہمارے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرما دیجیے اور آپ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں) اس صورت میں سورة ابراہیم کی آیت بالا کا یہ مطلب ہوا کہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی اور ان کے مقابلہ میں جو سرکش ضدی تھے وہ نامراد ہوئے برباد ہوئے دنیا و آخرت دونوں جگہ کے عذاب میں مبتلا ہوئے اس کے بعد کچھ آخرت کے عذاب کی تفصیل مذکور ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ (وَاسْتَفْتَحُوْا) کی ضمیر امتوں کی طرف راجع ہو اور اس صورت میں مطلب ہوگا کہ جب حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنی قوموں کو سمجھاتے رہے اور وہ لوگ انکار پر اصرار کرتے رہے تو اسی طرح شدہ شدہ وہ وقت آگیا کہ ان کی قوموں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں عرض کیا کہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ ہوجانا چاہیے اور اس بات کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ یہ لوگ جو ہمیں وعید سناتے ہیں کہ اگر تم ایمان نہ لائے تو ہلاک ہوجاؤ گے اور تم پر عذاب آجائے گا تو ہمارے انکار کرنے پر اگر عذاب آنا ہے تو آجائے، یہ ایسا ہے جیسے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے کہا تھا (فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ) اور جیسے شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے کہا تھا (فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا کِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِِنْ کُنْتَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ ) اور جیسا کہ قریش نے کہا (عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ ) اور یہ بھی کہا (اللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِاءْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ) ان لوگوں کا اس طرح کی باتیں کرنا اور عذاب لانے کی درخواست کرنا استہزاء اور تمسخر کے طریقہ پر تھا چونکہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی باتوں پر یقین نہیں کرتے تھے اس لیے بطور تمسخر ایسی باتیں کرتے تھے لیکن عذاب کو دعوت دینا ان کے لیے وبال بن گیا اور واقعی عذاب آگیا، جب عذاب آیا تو سرکش اور ضدی عذاب میں مبتلا ہوگئے اور دنیا سے نامراد ہو کر چلے گئے، وہ سمجھتے تھے کہ حضرات انبیاء ( علیہ السلام) کی بات نہ ماننے میں کامیابی ہے حالانکہ ان کی بات ماننے میں کامیابی تھی اور نہ ماننے میں نامرادی تھی، یہ تو ان کو دنیا میں سزا ملی کہ عذاب میں گرفتار ہوئے اور جس عذاب کو مذاق میں طلب کرتے تھے اس نے سچ مچ آگھیرا اور آخرت کا عذاب اس کے سوا ہوگا وہاں دوزخ میں داخل ہونا پڑے گا جہاں بہت سے عذابوں کے علاوہ کھانے پینے کا بھی عذاب ہوگا جب پانی پینے کے لیے طلب کریں گے تو وہ پانی سراپا پیپ ہوگا پینے کو تو دل نہ چاہے گا لیکن مجبوری میں پینا پڑے گا یہ پیپ کا پانی خود دوزخیوں کے جسموں سے نکل کر بہتا ہوگا کافر اسے مشکل سے گھونٹ گھونٹ کرکے پئے گا اور گلے سے اتار نہ سکے گا لیکن پھر بھی پئے گا اور پینا پڑے گا۔
Ayah 14:16ماء صدید کیا ہے
حضرت ابوامامہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (یُسْقٰی مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍ یَّتَجَرَّعُہٗ ) کے بارے میں فرمایا کہ ماء صدید (پیپ کا پانی) جب دوزخی کے منہ کے قریب کیا جائے گا تو وہ اس سے نفرت کرے گا پھر اور قریب کیا جائے گا تو چہرہ کو بھون ڈالے گا اور اس کے سر کی کھال گرپڑے گی پھر جب اسے پئے گا تو انتڑیاں کاٹ ڈالے گا اور پاخانے کے مقام سے باہر نکل جائے گا اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ذیل کی آیات تلاوت فرمائیں اور اول سورة محمد کی آیت (وَسُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَ ھُمْ ) دوسری سورة کہف کی آیت یعنی (وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْاِ بمَآءٍ کَالْمُھْلِ یَشْوِی الْوُجُوْہَ بِءْسَ الشَّرَابُ ) (مشکوٰۃ المصابیح ص 503 از ترمذی)
دوزخی کی مصیبت بتائے ہوئے مزید فرمایا (وَیَاْتِیْہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّ مَا ھُوَ بِمَیِّتٍ ) اس کے پاس ہر جگہ سے یعنی ہر طرف سے موت آجائے گی یعنی طرح طرح کے عذاب میں گرفتار ہوتا رہے گا جتنی بھی سخت تکلیف پہنچ جائے وہ یہ سمجھے گا کہ اب مرا اب لیکن پھر بھی وہ مرے گا نہیں کیونکہ اس کو دائمی عذاب ہوگا وہاں کی زندگی نہ تو ایسی ہوگی جسے زندگی کہا جائے اور نہ تکلیف کی وجہ سے اسے موت آئے گی اسی کو سورة طٰہٰ اور سورة الاعلیٰ میں (لَا یَمُوْتُ فِیْھَا وَ لَا یَحْیٰی) فرمایا ہے کہ وہاں نہ مرے گا نہ زندہ رہے گا۔
Ayah 14:17مزید فرمایا (وَ مِنْ وَّرَآءِہٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ) اور اس کے آگے سخت عذاب ہے جتنا بھی عذاب ہوگا آگے بڑھتا ہی رہے گا ختم نہ ہوگا اور ہلکا نہ ہوگا عذاب کی شدت میں اضافہ کردیا جائے گا جیسا کہ سورة نحل میں فرمایا (اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ زِدْنٰھُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوْا یُفْسِدُوْنَ ) (جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ہم ان کے لیے بمقابلہ ان کے فساد کرنے کے عذاب بڑھا دیں گے۔ )
Ayah 14:18کافروں کے اعمال باطل ہیں، قیامت کے دن دنیا والے سرداروں اور ان کے ماننے والوں کا سوال جواب
ان آیات میں اول تو کافروں کے ان اعمال کا باطل ہونا بیان فرمایا جنہیں دنیا میں نیکی سمجھ کر کرتے ہیں مثلاً صلہ رحمی کردی مہمانوں کو کھانا کھلا دیا مجبور و پریشان حال آدمیوں کی مدد کردی وغیرہ ذالک ارشاد فرمایا ان کے یہ اعمال آخرت میں بےحیثیت ہونگے ان کا آخرت میں کوئی ثواب نہیں ملے گا ان کی ایسی مثال ہے کہ جیسے کوئی راکھ پڑی ہوئی ہو جسے خوب تیز آندھی اڑا کرلے جائے اول تو راکھ یوں ہی بےحیثیت ہے پھر کسی جگہ اس کا ڈھیر بنا ہوا ہو پھر اسے آندھی نے اڑا کر ادھر ادھر منتشر کردیا، نظروں کے سامنے جو اس کا ذرا سا وجود تھا وہ بھی نہ رہا اسی طرح کافروں کے ان اعمال کو سمجھ لیا جائے جو دنیا میں نیکیوں کے عنوان سے کرتے تھے، یہ اعمال قیامت کے دن بیکار ہونگے اور ان اعمال کا کوئی فائدہ نہ ملے گا نہ ثواب ملے گا نہ عذاب سے چھٹکارہ۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ سائل کے اس سوال کا جواب ہے کہ کافروں کا یہ حال کیوں ہوگا جو گزشتہ آیت میں مذکور ہوا جبکہ انہوں نے دنیا میں کچھ نیک اعمال بھی کیے تھے اس کا جواب دیدیا کہ ان کے ان اعمال کی قیامت کے دن کوئی حیثیت نہ ہوگی اور کوئی قیمت نہ اٹھے گی ان کا یہ سمجھنا کہ ان اعمال پر ہمیں کچھ ملے گا یا ان اعمال کی وجہ سے ہم ہدایت پر ہیں یہ ضلال بعید ہے یعنی دور کی گمراہی ہے۔ سورة فرقان میں فرمایا (وَقَدِمْنَآ اِِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ھَبَآءً مَّنْثُوْرًا) (اور ہم ان کے ان کاموں کی طرف جو کہ وہ کرچکے تھے متوجہ ہونگے سو ان کو ایسا کردیں گے جیسے پریشان غبار)
اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو حق کے ساتھ یعنی حکمت کے موافق پیدا فرمایا آسمانوں میں اور زمین میں اور کچھ ان میں ہے سب اسی کی ملکیت ہے جس کا بھی جو وجود ہے اسی کی مشیت سے ہے۔
Ayahs 14:19–21نیز فرمایا (اِنْ یَّشَاْ یُذْھِبْکُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ ) (اگر وہ چاہے تو تمہیں معدوم کردے اور نئی مخلوق پیدا فرما دے) (وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ ) (اور یہ اللہ پر ذرا بھی مشکل نہیں ہے)
اس کے بعد میدان حشر کا ایک منظر بیان فرمایا اور وہ یہ کہ قیامت کے دن چھوٹے بڑے سب قبروں سے نکل کر ظاہر ہونگے اس وقت جب عذاب سامنے آئے گا اور کفر و شرک کی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو آپس میں ایک دوسرے کو دیکھیں گے اور پہچانیں گے اس وقت چھوٹے لوگ جو دنیا میں کمزور تھے اپنے بڑوں سرداروں چودھریوں اور لیڈروں کے پیچھے چلتے تھے اور ان کی بات ماننے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی دعوت کو رد کردیتے تھے وہ اپنے قائدوں، لیڈروں، سرغنوں اور سرداروں سے کہیں گے کہ ہم دنیا میں تمہارے تابع تھے تم جو کہتے تھے ہم اسے مانتے تھے اور تمہارے کہنے کے مطابق عمل کرتے تھے ہم نے تمہاری بات مانی اور اپنے خالق اور مالک کے رسولوں کی باتوں پر کان نہ دھرا تو اب بتاؤ کیا تم ہم سے اللہ کے عذاب کا کوئی حصہ ہٹا سکتے ہو۔ وہ جواب دیں گے کہ ہم تمہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتے اگر عذاب سے چھوٹنے کا کوئی راستہ اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتا تو ہم تمہیں بھی بتا دیتے اب تو ہمارے لیے اور تمہارے لیے عذاب ہی عذاب ہے اور اب تم اور ہم یہاں پریشانی ظاہر کریں یا صبر کریں بہرحال چھٹکارے کا کوئی راستہ نہیں ہے، سورة مومن میں فرمایا کہ ان کے بڑے جواب میں یوں کہیں گے کہ (اِِنَّا کُلٌّ فِیْہَا اِِنَّ اللّٰہَ قَدْ حَکَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ ) (بلاشبہ ہم سب کو اسی میں رہنا ہے بلاشبہ اللہ نے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دیا) سورة بقرہ رکوع 20 میں ہے متبوعین اپنے اتباع سے بیزاری ظاہر کردیں گے اور سورة اعراف رکوع 4 میں گزر چکا ہے کہ اہل دوزخ آپس میں ایک دوسرے پر لعنت کریں گے سورة سبا رکوع 4 میں بھی بڑوں اور چھوٹوں کا مکالمہ مذکور ہے۔
Ayah 14:22قیامت کے دن فیصلے ہوچکنے کے بعد شیطان کا اپنے ماننے والوں سے بیزار ہونا اور انہیں بیوقوف بنانا
یہ دو آیتیں ہیں پہلی آیت میں اہل دوزخ کی ایک بہت بڑی بےوقوفی کا تذکرہ فرمایا ہے شیطان مردود لوگوں کی بےوقوفی ظاہر کرے گا اور اپنی صفائی پیش کرے گا دنیا میں تو اس نے اپنے ماننے والوں کو خوب بہکایا اور راہ حق سے ہٹا کر کفر و شرک کی دلدل میں پھنسایا لیکن قیامت کے دن اپنے ماننے والوں ہی کو الزام دے گا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر بھروسہ نہ کیا اس کے وعدے سچے تھے اور میرے وعدوں پر کان دھرا اور ان کو مانا حالانکہ میرے سارے وعدے جھوٹے تھے اب دیکھو مجھے کچھ الزام نہ دو میرا تم پر کوئی زور تو چلتا نہ تھا میں نے اتنا ہی کیا کہ تمہیں کفر و شرک کی دعوت دی تم نے میری بات مان لی اب مجھے ملامت مت کرو۔ اپنی جانوں کو ملامت کرو تم خود مجرم ہو، پیغمبروں کی دعوت کو چھوڑ کر جو معجزہ اور حجت و دلیل پیش کرتے تھے تم نے میری باتوں پر کیوں کان دھرا میں نے کوئی زبردستی ہاتھ پکڑ کے تو تم سے کفر و شرک کے کام نہیں کرائے، ہم آپس میں یہاں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکتے اب تو عذاب چکھنا ہی ہے دنیا میں جو تم نے مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا ہے میں اس سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا فضل ہے کہ اس نے اسی دنیا میں بتادیا کہ شیطان ایسی باتیں کرے گا ہر عقلمند کو فکر کرنا چاہیے کہ میں کس راہ پر ہوں اگر کفر و شرک میں مبتلا ہے تو غور کرے کہ مجھے اس راہ پر کس نے لگایا ظاہر ہے کہ شیطان نے لگایا ہے اور چودھریوں اور سرداروں اور لیڈروں نے لگایا ہے دوزخ کے عذاب سے چھڑانے کے لیے نہ سردار کام آئیں گے نہ شیطان کام آئے گا سب ایک دوسرے سے بیزار ہوجائیں گے لہٰذا ہر شخص حق کا اتباع کرے جو اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیاء ﷺ کے ذریعے بھیجا ہے اور اپنی کتاب قرآن مجید میں واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔
Ayah 14:23اہل ایمان کا ثواب
دوسری آیت میں ان حضرات کے اجرو ثواب کا تذکرہ فرمایا جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ میں مشغول رہے ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ اپنے رب کے حکم سے ایسے باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی اور صرف داخلہ ہی نہیں ہوگا خلود بھی ہوگا ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جب آپس میں ملاقات کریں گے تو ایک دوسرے کو سلامتی کی دعا دیں گے آپس میں بھی ایک دوسرے کو سلام کریں گے اور فرشتے ان کے پاس آئیں گے تو وہ بھی السلام علیکم کہیں گے اس کی مزید تشریح سورة یونس کے پہلے رکوع کے ختم پر گزر چکی ہے وہاں فرمایا ہے (تَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلٰمٌ وَ اٰخِرُ دَعْوٰیھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ )
Ayah 14:24کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کی مثال
یہ تین آیات ہیں جن میں پہلی آیت میں کلمہ طیبہ کو شجرہ طیبہ سے تشبیہ دی ہے اور دوسری آیت میں کلمہ خبیثہ کو شجرہ خبیثہ سے تشبیہ دی ہے حضرات مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ کلمہ طیبہ سے کلمہ ایمان لا الٰہ الا اللہ مراد ہے اور کلمہ خبیثہ سے کلمہ کفر مراد ہے، کلمہ طیبہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایسے پاکیزہ درخت کی طرح ہے جس کی جڑ خوب مضبوطی کے ساتھ زمین میں جمی ہوئی ہے اور اس کی شاخیں اونچائی میں اوپر جا رہی ہوں اور وہ ہمیشہ پھل دیتا ہو جب بھی اس کی فصل آئے تو فصل ضائع نہ ہو۔ سنن ترمذی (تفسیر سورة ابراہیم) میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ شجرہ طیبہ (پاکیزہ درخت) سے کھجور کا درخت مراد ہے جس سے کلمہ طیبہ کو تشبیہ دی ہے لا الٰہ الا اللہ کی جڑ (یعنی مضبوط اعتقاد) مومن کے قلب میں استحکام اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے اس کی شاخیں یعنی اعمال صالحہ جو بارگاہ الٰہی میں مقبول ہوتے ہیں وہ آسمان کی طرف لے جائے جاتے ہیں اور ان پر رضائے الٰہی کے ثمرات مرتب ہوتے ہیں کما فی سورة فاطر (اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ ) کھجور کا درخت زمین میں مضبوطی کے ساتھ جما ہوا ہوتا ہے اپنی جڑوں میں استحکام اور پھلوں میں عمدگی اور شاخوں میں بلندی لیے ہوئے ہوتا ہے اس کے پھل بھی ہر فصل میں آتے رہتے ہیں اور لوگ اس سے برابر منتفع ہوتے رہتے ہیں اس کے پھل میں غذائیت بھی ہے اور قوت بھی ہے اور دیکھنے میں بھی نظروں میں خوب بھاتا ہے۔
کلمہ طیبہ کی مثال دینے کے بعد کلمہ خبیثہ کی مثال دی اور فرمایا کہ کلمہ خبیثہ یعنی کلمہ کفر ایسا ہے جیسے کوئی خبیث درخت ہو جسے زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے اور اسے کوئی قرار اور ثبات نہ ہو سنن ترمذی کی مذکورہ بالا روایت میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شجرہ خبیثہ سے حنظل مراد ہے جو بہت زیادہ کڑوا ہوتا ہے اس کا مزہ بھی برا ہے اور اس کی بو بھی بدترین ہے اور اس کے کھانے سے بہت سی مضرتیں پیدا ہوتی ہیں اس کا جماؤ بھی زمین میں نہیں ہوتا زمین سے یوں ہی ذرا تھوڑا سا تعلق ہوتا ہے ہلکے سے ہاتھ کے اشارے سے اکھڑ آتا ہے، صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ چونکہ پہلی مثال میں شجرہ طیبہ فرمایا ہے اس لیے حنظل کو مشاکلۃً شجرہ خبیثہ فرما دیا ورنہ حنظل کا درخت نہیں ہوتا بلکہ بیل ہوتی ہے حنظل کی نہ جڑ مضبوط ہے نہ مزا اچھا ہے اور بدبو سے بھرا ہوا ہے اور نہ اس کی شاخیں اونچی ہیں اور مزید یہ کہ بدبودار ہوتا ہے، کفر کے کلمات کا یہی حال ہے حق کے سامنے ان کا کوئی جماؤ نہیں کافر کو اس سے نقصان ہی نقصان ہے اور اس کے اعمال پر بھی رضائے الٰہی مرتب نہیں ہوتی اور چونکہ کافر کے اعمال کے قبول ہونے کا احتمال ہی نہیں اس لیے مشبہ بہ یعنی حنظل کے تذکرہ میں شاخوں کا ذکر ہی نہیں فرمایا۔
Ayahs 14:25–26اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو قول ثابت پر ثابت رکھتا ہے
تیسری آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو قول ثابت (پکی بات یعنی لا الہ الا اللہ) پر دنیا میں بھی ثابت رکھتا ہے اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں کلمہ ایمان پر جمانے اور مضبوط رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ شیاطین کے بہکانے اور گمراہ کرنے کا اہل ایمان پر اثر نہیں ہوتا مومن بندہ آخر دم تک ایمان پر جما ہوا رہتا ہے اور آخرت میں کلمہ ایمان پر جما رہنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ قبر میں منکر نکیر کے سوال پر مومنانہ جواب دلوا دیتا ہے حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان آدمی سے جب قبر میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دیدیتا ہے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ) میں اسی کو بیان فرمایا (رواہ البخاری)
Ayah 14:27آخر میں فرمایا (وَیُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیْنَ وَ یَفْعَلُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُ ) (اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ ظالمین سے کافرین مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے اللہ کی فطرت کو بدل دیا اور قول ثابت کی طرف راہ نہ پائی اور گمراہوں کی تقلید کرلی اور واضح دلائل کا اثر نہ لیا تو دنیا میں بھی اللہ نے انہیں راہ حق سے دور رکھا اور آخرت میں بھی وہ کلمہ ایمان زبان سے ادا نہ کرسکیں گے حدیث شریف میں ہے کہ جب منافق اور کافر سے قبر میں سوال کیا جاتا ہے کہ ان کے بارے میں (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق) کیا کہتا ہے تو جواب دیتا ہے لا ادری کنت اقول ما یقول الناس (میں نہیں جانتا میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے)
اور بعض روایات میں ہے کافر سے جب سوال کیا جاتا ہے تو جواب میں کہتا ہے ھاہْ ھَاہْ لاَ اَدْرِیْ (ہائے ہائے میں نہیں جانتا) پھر جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تیرا دین کیا ہے تو وہ یہی جواب دیتا ہے کہ ھاہْ ھَاہْ لاَ اَدْرِیْ پھر جب سوال کیا جاتا ہے کہ تو ان صاحب کے بارے میں کیا کہتا ہے جو تم میں بھیجے گئے تو وہی جواب دیتا ہے کہ ھاہْ ھَاہْ لاَ اَدْرِیْ (رواہ ابو داؤد)
آیات قرآنیہ اور احادیث نبوی سے عذاب قبر کا ثبوت
مومنین صالحین کا قبر میں اچھے حال میں رہنا اور کافروں کا اور بعض اہل ایمان گنہگاروں کا عذاب قبر میں مبتلا ہونا اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے حضرات صحابہ ؓ کا زمانہ ایمان کا زمانہ تھا قرآن مجید میں جو کچھ نازل ہوتا فوراً مان لیتے تھے اور رسول اللہ ﷺ سے جو کچھ سنتے تھے ان پر فوراً ایمان لے آتے تھے لیکن دور حاضر شکوک و شبہات کا زمانہ ہے دشمنوں کی کوششوں اور ملحدوں اور زندیقوں کی کتابوں سے اور اپنی کم عقلی پر اعتماد کرنے کی وجہ سے آج کل کے بہت سے کلمہ گو (جو نام کے مسلمان ہیں) ان میں بہت سے ایسے ہیں جو قبر کے عذاب اور وہاں کے آرام کے منکر ہیں اوپر جو آیت گذری (یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) (الآیہ) اور اس کی جو تفسیر صحیح بخاری سے معلوم ہوئی اس سے قبر میں سوال و جواب ہونا ثابت ہوا اور سورة غافر میں آل فرعون کی قوم کے بارے میں فرمایا (اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اَدْخِلُوْا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ ) (صبح شام وہ آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس وقت حکم ہوگا کہ فرعون والوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کرو)
اور سورة نوح میں فرمایا ہے (مِمَّا خَطِیْءَتِہِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا) (اپنے گناہوں کی وجہ سے وہ غرق کردئیے گئے پھر آگ میں داخل کردئیے گئے) ان آیات میں عذاب قبر کی تصریح ہے اور احادیث شریف بکثرت قبر میں سوال جواب اور عذاب کافرین اور راحت مومنین کے بارے میں وارد ہوئی ہیں جو درجہ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں بہت سے جاہل جو نہ قرآن جانیں نہ حدیث پڑھیں کہتے ہیں کہ قبر کا عذاب نہ ہماری سمجھ میں آتا ہے نہ دیکھنے میں آتا ہے پھر کیسے مانیں نہ ماننے کی سزا قبر میں جانے کے بعد مل جائے گی تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی بات ماننے کے لیے اپنی عقل سے سمجھنے اور نظر سے دیکھنے کو ضروری سمجھتے ہیں اور اہل سائنس اور ریسرچ کرنے والوں کی بات پر بےسمجھے ہی ایمان لے آتے ہیں۔ (وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ )
Ayahs 14:28–29نعمتوں کی ناشکری کرنے والوں کی بدحالی
ان آیات میں اول تو ان لوگوں کا تذکرہ ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری کو اختیار کیا، لیکن مفسرین نے فرمایا کہ ان سے مشرکین مکہ مراد ہیں ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے مکہ معظمہ میں امن وامان کے ساتھ ٹھہرا دیا دنیوی اعتبار سے بھی ان پر انعام فرما دیا دنیا بھر سے ان کے پاس ضرورت کی چیزیں پہنچتی تھیں۔ (اَوَلَمْ نُمَکِّنْ لَّھُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰٓی اِلَیْہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا) نیز ان پر یہ احسان فرمایا کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو انہیں میں سے مبعوث فرمایا اور انہیں کی زبان میں کتاب نازل فرمائی لیکن ان لوگوں نے نعمتوں کی قدر دانی نہ کی شکر کے بجائے ناشکری کو اختیار کیا اور ناشکری میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ اللہ کے رسول ﷺ کی رسالت کے بھی منکر ہوئے اور اللہ کی کتاب کے بھی، ان میں جو برے لوگ تھے انہوں نے خود بھی اپنے لیے (دَارَ الْبَوَارِ ) یعنی جہنم کو ختیار کیا اور اپنی قوم کو بھی جو ان سرداروں کے ماننے والے تھے دوزخ میں داخل کردیا۔ (یَصْلَوْنَھَا وَبِءْسَ الْقَرَارُ ) (وہ دوزخ میں داخل ہوں گے جو ٹھہرنے والوں کے لیے برا ٹھکانہ ہے)
Ayah 14:30پھر ان لوگوں کے شرک کرنے کا حال بیان فرمایا (وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِہٖ ) کہ ان لوگوں نے اللہ کے لیے انداد یعنی برابر والے تجویز کرلیے یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیر اللہ کو شریک کردیا اور باطل معبودوں کو صفت الوہیت میں اللہ کی طرح مان لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا، جو ان کی اقتداء کرتے تھے اور ان کی راہ پر چلتے تھے ان لوگوں کی سزا بیان کرتے ہوئے فرمایا (قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَکُمْ اِلَی النَّارِ ) (یعنی تم اس دنیا میں نفع حاصل کرلو دنیا کی چیزوں سے فائدہ اٹھا لو یہ چند دن کا جینا اور نفع اٹھانا ہے کفر پر مرو گے تو دوزخ میں جاؤ گے جو اہل کفر کے پہنچنے کی جگہ ہے)