14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 14:1–4

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

ا۔ ل۔ ر۔ اے محمد ﷺ ، یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ، ان کے رب کی توفیق سے ، اس خدا کے راستے پر جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

اور زمین اور آسمانوں کی ساری موجودات کا مالک ہے۔ اور سخت تباہ کن سزا ہے قبول حق سے انکار کرنے والوں کے لئے

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں۔ جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ (ان کی خواہشات کے مطابق) ٹیڑھا ہوجائے۔ یہ لوگ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

ہم نے اپنا پیغام دینے کے لئے جب بھی کوئی رسول بھیجا ہے اس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تا کہ وہ انہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے۔ پھر اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، ہدایت بخشتا ہے ، وہ بالادست اور حکیم ہے ”۔

اب پہلے سورة کا حصہ اول۔ درس نمبر 114 تشریح آیات 1۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 27 آیت نمبر 1 تا 4 الر کتب انزلنہ الیک (14 : 1) “ اے محمد یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ”۔ یہ کتاب الف ، لام اور میم اور ان جیسے دوسرے حروف کی ترکیب سے بنائی گئی ہے۔ یہ تمہاری طرف ہم نے نازل کی ہے ، کسی اور نے تمہاری طرف اسے نہیں اتارا۔ نہ تم نے خود اس کی تخلیق کی ہے۔ اور اسے کیوں اتارا گیا ہے۔ لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) “ تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لاؤ ”۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ تم پوری انسانیت کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ اوہام و خرافات کی تاریکیاں ، رسوم تقالید کی تاریکیاں ، ارباب متفرقہ کی بندگی اور کشاکش اور حیرت کی تاریکیاں ، جاہلی اقدار اور پیمانوں اور جاہلی خیالات و تصورات کی تاریکیوں سے تم انسانیت نکالو اور قرآن کی روشنی میں داخل کر دو ۔ ایسی روشنی جو فی الحقیقت ان تمام تاریکیوں کو دور کر دے۔ وہ عالم ضمیر کو روشن کر دے اور میدان فکر و نظر میں اجالا برپا کردے۔ زندگی کی عملی راہوں میں اور زندگی کے اعلیٰ مقاصد اور اعلیٰ افکار میں اجالا برپا کر دے۔ اللہ پر ایمان لانا ایک نور ہے جس سے دل روشن ہوجاتا ہے اور جس کا دل روشن ہوجائے اس کی پوری شخصیت اور اس کا بشری ڈھانچہ بھی منور ہوجاتا ہے اور انسانی شخصیت کے دونوں پہلو ، مٹی اور روح اللہ دونوں روشن ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب انسانی شخصیت اس روشنی سے خالی ہوجائے اور جس کے اندر سے یہ چراغ بجھ جائے تو پھر انسان تاریک مٹی کا ایک ڈھیر ہوتا ہے اور خون اور گوشت کی شکل میں ایک کیچڑ ہوتا ہے۔ کیونکہ گوشت اور خون پوری طرح زمین کے مادی عناصر پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اگر یہ نور نہ ہو جو روح اللہ سے پھوٹتا ہے اور اس کے اندر ایمان اپنی شفاف صیقل شدہ صورت میں موجود ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے یہ سیاہ مادہ شفاف اور چمکدار ہوجاتا ہے اور پھر یہ سیاہ کیچڑ ایک شفاف شیشہ ہوجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان باللہ ایک ایسا نور ہے جس کے ساتھ نفس انسانی چمک اٹھتا ہے۔ اس کی روشنی میں انسان اپنی راہ متعین کرسکتا ہے۔ اسے اللہ کی طرف راہ بالکل واضح نظر آتی ہے۔ اس راہ میں نہ دھند ہوتی ہے اور نہ غبار۔ اوہام و خرافات کا غبار ، لالچ اور خواہشات کا غبار اور جب نفس انسانی راہ دیکھ لے اور صاف صاف نظر آنے لگے تو پھر ایسی راہ میں کوئی ٹھوکر اور کوئی اضطراب نہیں ہوتا اور نہ اس میں کوئی تردد ہوتا ہے اور نہ کوئی حیرانگی ہوتی ہے۔ پھر اللہ پر پختہ ایمان ایک ایسا نور ہے جس سے پوری زندگی چمک اٹھتی ہے۔ تمام لوگ اللہ کے مساوی بندے ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان ربط اور رشتہ خدائی رشتہ ہوتا ہے۔ وہ صرف اللہ کی اطاعت اور بندگی کرتے ہیں۔ اب ان میں آقا اور غلام کی تقسیم نہیں ہوتی۔ ان کو اس پوری کائنات کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور وہ اس پوری کائنات سے بھی جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ پوری کائنات ایک ناموس الٰہی اور قانون قدرت کے ساتھ چلتی ہے اس لیے وہ اس پوری کائنات ، اس کے اندر موجود پوری مخلوقات کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتے ہیں اس لیے کہ سب کے سب اللہ کے مخلوق ہیں۔ پھر ایمان ایک نور ہے ، انصاف کی روشنی ہے ، آزادی کی روشنی ہے۔ علم و معرفت کی روشنی ہے ، اللہ کے لئے محبت کی روشنی ہے۔ اللہ کے عدل ، حکمت اور رحمت پر اعتماد کی روشنی ہے۔ خواہ مشکلات ہوں یا مسرتیں ہوں یہ ایمان مشکلات میں صبر پر آمادہ کرتا ہے اور مسرتوں میں شکر رب کی تعلیم دینا ہے اور آزمائش میں حکمت و تجربہ عطا کرتا ہے۔ صرف اللہ پر ایمان کہ وہی الٰہ اور رب ہے ، یہ ایمان ایک نظام زندگی بھی ہے۔ فقط عقیدہ اور تصور ہی نہیں ہے جو دل کو روشن کرتا ہے۔ یہ نظام زندگی صرف اللہ کی بندگی کے اصول پر قائم ہے۔ جس میں صرف اللہ کی ربوبیت کا عقیدہ ہوتا ہے۔ اور تمام دوسری ربوبیتوں کا افکار ہوتا ہے ، جس کے اندر برتری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہوتی ہے ۔ وہی حاکم ہوتا ہے اور سب اس کے بندے ہوتے ہیں۔ اس نظام زندگی میں انسانی فطرت کے ساتھ ہم آہنگی ہے ، اس میں انسان کی ضروری اور لابدی حاجات کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ ایسی حاجات جو انسان کو سعادت سے ہمکنار کرتی ہیں۔ اس کو نور اطمینان دیتی ہے اور اسے خوشی اور مسرت عطا کرتی ہیں۔ اس نظام میں قرار و ثبات بھی موجود ہے اور جو معاشرے اللہ کے سوا دوسرے انسانوں کی بندگی کرتے ہیں۔ ان میں جو تغیرات ، انقلابات اور حیرانیاں اور پریشانیاں ہوتی ہے ان سے اس میں انسان محفوظ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا حاکم نہیں ہوتا۔ سیاست میں حکومت میں ، معاشیات میں اور سوسائٹی کے اجتماعی روابط اور رسم و رواج میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا غلام نہیں ہوتا۔ اس نظام میں انسانوں کی قوتیں اس کام میں صرف نہیں ہوتیں کہ وہ دوسرے انسانوں کو غلام بتائیں اور نہ اس نظام میں کوئی شخص کسی طاغوتی قوت کا طبلچی ہوتا ہے۔ اس مختصر جملے لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) “ کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالو ” کے پیچھے معانی و مفہومات کے جہاں پوشیدہ ہیں بڑے بڑے حقائق یہاں ہیں اور قلب و نظر کی گہری سوچ کے نتیجے میں وہ نظر آسکتے ہیں۔ اسلامی نظام زندگی کے قیام کے بعد ہی وہ آفاق نظر آسکتے ہیں۔ صرف انسانی الفاظ ان وسیع معانی کے بیان کے لئے کافی نہیں ہے۔ لتخرج الناس من الظلمت الی النور باذن ربھم (14 : 1) “ تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکال لاؤ ان کے رب کے حکم سے ”۔ اللہ کے حکم سے اور اذن ہی سے تم یہ کام کرسکتے ہو کیونکہ رسول کا کام تو صرف یہ ہے کہ وہ پیغام پہنچائے۔ اس کی ڈیوٹی صرف بیان ہے۔ رہا لوگوں کا تاریکیوں سے روشنی میں آنا تو یہ صرف اللہ کے فضل و کرم اور اس کے حکم اور اذن سے ہو سکتا ہے اور یہ کام اس سنت کے مطابق ہوتا ہے جو اللہ کی مشیت کے مطابق کام کرتی ہے۔ رسول تو فقط رسول ہوتا ہے۔ الی صراط العزیز الحمید (14 : 1) “ اس خدا کے راستے کی طرف جو زبردست اور اپنی ذات میں محمود ہے ”۔ نحو کے اعتبار سے صراط نور کا بدل ہے ، اور اللہ کی راہ اللہ کا طریقہ ہے۔ اللہ کی سنت ہے ، اس کا وہ ناموس ہے جو اس پوری کائنات پر حکمران ہے ، اس کی راہ اس کی وہ شریعت ہے جو زندگی پر حاوی کرنے کے لئے بھیجی گئی ہے اور ایمان کی روشنی اور نور اسی شریعت کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ بلکہ یہ نور بذات خود یہ صراط اور شریعت ہے۔ انسانی نفس کے اندر جو ایمانی نور چمکتا ہے وہی نور اس پوری کائنات کے اندر بھی چمکتا ہے۔ یہ سنت الٰہیہ ہے ، ناموس فطرت ہے اور وہی شریعت ہے جو نفس اس نور سے منور ہو وہ ادراک اور تصور میں غلطی کا ارتکاب نہیں کرتا۔ طرز عمل اور طریقہ زندگی میں بھی وہ غلطی نہیں کرتا۔ یہی صراط مستقیم ہے۔ عزیز وحمید کی راہ یہی ہے اور یہ عزیز قوت قاہرہ کا مالک ہے ، اور اپنی ذات میں محمود اور پوری کائنات پر قابض ہے۔ یہاں اللہ کی قوت کا اظہار اس لیے کیا گیا ہے کہ کفار سن کر ذرا خائف ہوجائیں اور حمید اس لیے کہا گیا کہ اہل شکر اس کی حمد و ثنا کر کے اس کا شکر ادا کریں۔ اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ وہ زمین و آسمان کا مالک اور حاکم بھی ہے۔ وہ لوگوں کا محتاج نہیں ہے وہ تو اس پوری کائنات کو اپنے قبضہ قدرت میں رکھتا ہے۔ اللہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض (14 : 2) “ اور زمین و آسمان کی ساری موجودات کا مالک ہے ”۔ جو شخص اندھیروں سے نکل کر نور میں آگیا اور اس نے راہ ہدایت پالی تو اس کے بارے میں یہاں خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے۔ یہاں ان لوگوں کو دھمکی دی جاتی ہے جو روشنی میں آنے سے انکار کرتے ہیں۔ کافروں کو عذاب شدید سے ڈرایا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اس نعمت سے استفادہ کرنے سے انکار کردیا۔ اس سے بڑی نعمت اور کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ نے رسول بھیجا ، اسے ایک کتاب دی تا کہ وہ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کرے۔ یہ اس قدر عظیم نعمت ہے کہ کوئی انسان اس نعمت عظمیٰ کا شکر ہی ادا نہیں کرسکتا۔ لیکن اگر کوئی الٹا اس نعمت کی ناشکری کرے تو پھر کہا : وویل للکفرین من عذاب شدید (14 : 2) “ اور سخت تباہ کن سزا ہے قبول حق سے انکار کرنے والوں کے لئے ” ۔ یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ صفت کیا ہے جس سے اس نعمت کی نا شکری اور کفر ہوتا ہے جو رسول کریم لے کر آئے ہیں۔ وہ صفت یہ ہے۔ الذین یستحبون ۔۔۔۔۔ فی ضلل بعید (14 : 3) “ جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں ، جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ (ان کی خواہشات کے مطابق) ٹیڑھا ہوجائے ، یہ لوگ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں “۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی محبت ایمان کے تقاضوں کے ساتھ متصادم ہے اور صراط مستقیم پر استقامت کے خلاف ہے اور جب کوئی دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دے تو صورت یہ نہیں رہتی۔ آخرت کو ترجیح دینے سے دنیا میں بھی اعتدال پیدا ہوتا ہے اور دنیا میں خدا کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا آخرت کی محبت اور ترجیح سے ترک دنیا لازم نہیں آتا۔ واقعہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے دل آخرت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ دنیا کے میدان میں بھی خسارے میں نہیں ہوتے۔ یہ بات ان لوگوں کے ذہن میں آتی ہے جن کی فکر جاوۂ اعتدال سے منحرف ہو۔ اسلام میں آخرت کو ترجیح دینے کا تصور بھی دراصل دنیا ہی کی اصلاح کے لئے ہے۔ ایمان باللہ کے تقاضوں میں سے ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ فریضہ خلافت ارضی کو بحسن و خوبی سر انجام دیا جائے۔ حق خلافت ارضی میں یہ بھی داخل ہے کہ زمین کی تعمیر و ترقی میں دلچسپی کی جائے اور اس کے اندر موجود خزانوں سے استفادہ کیا جائے۔ اسلام میں یہ تصور نہیں ہے کہ آخرت کے فائدے کے لئے دنیا کے نظام کو معطل کردیا جائے بلکہ سچائی ، انصاف ، راستی اور خدا کی رضا مندی کی خاطر زندگی کی تعمیر و ترقی ہی دراصل تمہید ہے ، آخرت کی ترقی کے لئے۔ یہ اسلام کی پالیسی ہے کہ دنیا میں بھی حسنہ ہو اور آخرت میں بھی حسنہ۔ پھر وہ لوگ کون ہیں جو دنیا کو آخرت کے مقابلے میں ترجیح دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نور ایمان کی روشنی میں اپنے مذموم مقاصد تک نہیں پہنچ سکتے ، وہ زمین کے قدرتی و مسائل پر تب ہی فیصلہ کرسکتے ہیں ، وہ حرام تب ہی کما سکتے ہیں ، وہ لوگوں کا استحصال تب ہی کرسکتے ہیں اور لوگوں کی اجتماع دولت کو تب ہی لوٹ سکتے ہیں جب وہ نور ایمان کے دائرے سے نکل جائیں اور اللہ کے دین کی طرف ہدایت اور اس پر استقامت سے محروم ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے دنیا پر ست لوگوں کو بھی اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور خود بھی اللہ کے راستے پر نہیں چلتے بلکہ وہ اللہ کے دین اور شریعت کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی سعی کرتے ہیں۔ دین سے استقامت اور عدالت کو معیشت سے عدل کو نکالنا چاہتے ہیں۔ جب یہ لوگ اپنے آپ کو اور دوسرے عوام الناس کو اللہ کی راہ سے روک لینے میں ، کامیاب ہوجاتے ہیں اور جب وہ اسلام کی عدالت اور استقامت سے دامن چھڑا لیتے ہیں ، تب جا کر ایسے لوگ ظلم کرسکتے ، سرکشی کرسکتے ، دھوکہ دے سکتے ، اور لوگوں کو فساد پر آمادہ کرسکتے ہیں۔ اس طرح وہ پھر زمین کے وسائل پر قابض ہوجاتے ہیں ، حرام کماتے ہیں ، ذلیل اور غیر اخلاقی ذرائع سے دولت جمع کرتے ہیں۔ پھر یہ زمین میں سرکشی اور علو فی الارض اختیار کرتے ہیں۔ لوگوں کو غلام بناتے ہیں اور لوگوں کو اس قدر کمزور کردیتے ہیں کہ ان میں مقابلے یا احتجاج کی سکت بھی نہیں رہتی۔ یہ واقعہ ہے کہ ایمانی نظام زندگی ہی دراصل زندگی ، حرمت اور معاشی انصاف کا ضامن ہے اور یہی اس بات کی بھی ضمانت ہے کہ اس میں ان لوگوں کا اثرو رسوخ ختم ہوگا جو وسائل ارضی پر قابض ہونا چاہتے ہیں یا وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا پرستی کو رواج دینا چاہتے ہیں۔ وما ارسلنا من ۔۔۔۔۔۔ لھم (14 : 4) ” اور ہم نے اپنا پیغام دینے کے لئے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ہے اس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تا کہ وہ اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے “۔ یہ انسانوں کے لئے ہر نبی کی نبوت میں ایک بڑی نعمت رہی ہے کہ رسول ان کی زبان ہی کا بھیجا ہے تا کہ وہ لوگوں کو اندھیروں سے نور کی طرف بڑی سہولت سے نکال سکے اور اس بات کی ضرورت بھی تھی کہ وہ اہل لسان ہوتا کہ وہ بیان کرے اور یہ سمجھیں اور مقصد پورا ہو۔ رسول اللہ ﷺ کو بھی ان کی قوم کی زبان میں رسول بنا کر بھیجا گیا ۔ اگرچہ آپ پوری انسانیت کے لئے رسول تھے کیونکہ آپ کی قوم کے ذمہ یہ فریضہ عائد کردیا گیا تھا کہ اب پوری انسانیت تک عربوں کا فرض ہے کہ وہ اس پیغام کو پہچانیں۔ رسول اللہ ﷺ کی عمر تو محدود تھی۔ آپ کے ذمہ یہ فریضہ عائد کیا گیا کہ آپ سب سے پہلے جزیرۃ العرب کو جاہلیت سے پاک کردیں اور اسلام کو وہاں غالب کردیں تا کہ وہ مرکز اور سرچشمہ ہو اور آپ کی رسالت اور پیغام کو پھر امت کے لوگ دور دراز تک پہنچائیں اور عملاً ایسا ہی ہوا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے جزیرۃ العرب میں اسلام کو غالب کردیا تو اللہ نے آپ ؐ کو اس جہاں سے اٹھا لیا لیکن خود آپ نے جیش اسامہ کو جزیرۃ العرب کے اطراف کے لئے تیار کر کے بھیج دیا تھا۔ یہ لشکر ابھی نکلا نہ تھا کہ حضور ﷺ وفات پاگئے۔ اس سے قبل رسول اللہ ﷺ نے جزیرۃ العرب سے باہر دوسرے ممالک تک اپنے دعوتی خطوط ارسال کر دئیے تھے۔ یہ خطوط آپ ؐ نے اس لیے بھیجے تھے کہ لوگ دیکھ لیں کہ آپ کی رسالت تمام انسانوں کے لئے ہے۔ لیکن اللہ نے رسول اللہ ﷺ کے لئے صرف یہی فریضہ مقرر کیا تھا اور مختصر عمر انسانی میں ایک انسان صرف یہی کرسکتا ہے کہ آپ جزیرۃ العرب میں عربی زبان میں تبلیغ کا کام کریں اور اس کے بعد پوری دنیا تک تبلیغ رسالت کا کام بعد میں دعوت اسلامی کے حاملیں کریں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا لہٰذا اس بات میں کوئی تعارض نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت پوری انسانیت کے لئے تھی اور خود آپ ؐ نے اپنی قومی زبان میں کام کرنا تھا اور اپنی زندگی میں عملاً عربوں ہی میں کام کرنا تھا۔ فیضل اللہ ۔۔۔۔۔ العزیز الحکیم (14 : 4) ” پھر اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، ہدایت بخشتا ہے ، وہ بالادست اور حکیم ہے “۔ ہر رسول اور نبی آخر الزمان کی رسالت کا فریضہ صرف یہی ہے کہ وہ اپنا پیغام پہنچا دے۔ رہی یہ بات کہ کوئی ہدایت کی راہ لیتا ہے یا نہیں ، تو یہ کام تو کسی رسول کی قدرت میں نہیں ہے۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ کسی کو ہدایت دے یا گمراہ کر دے۔ خود رسول کی خواہش بھی اس سلسلے میں ضروری نہیں ہے کہ پوری ہو۔ یہ شان الٰہی ہے ۔ اللہ نے اس کے لئے اس کائنات میں ایک سنت وضع کر رکھی ہے۔ یہ سنت اللہ کی مشیت کے مطابق چلتی ہے۔ جو شخص گمراہی کے مقدمات اختیار کرتا ہے اور گمراہی کی راہ لیتا ہے تو وہ گمراہ ہوجاتا ہے اور جو شخص ہدایت کے مقدمات اختیار کرتا ہے اور ہدایت کی راہیں اپناتا ہے تو وہ اہل ہدایت میں سے ہوجاتا ہے۔ یہ سب کام اللہ کی مشیت کے مطابق اور تابع ہوتے ہیں۔ اور انسان کے لئے یہی سنت اللہ نے وضع کی۔ وھو العزیز الحکیم (14 : 4) ” وہ بالادست اور حکیم ہے “۔ وہ اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ جس طرح اس کی مشیت ہو اس کے مطابق لوگوں کی زندگی پھرجائے اور وہ یہ تصرف اپنی حکمت اور اپنی تقدیر سے کرتا ہے ۔ اللہ نے تمام معاملات اپنے کنٹرول میں لے رکھے ہیں۔ اس کی مملکت میں واقعات اتفاقاً ، بغیر کسی سبب اور بغیر کسی تدبیر کے رونما نہیں ہوتے۔
Ayahs 14:5–8

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

ہم اس سے قبل موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیج چکے ہیں۔ اسے بھی ہم نے حکم دیا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لا اور انہیں تاریخ الٰہی کے سبق آموز واقعات سنا کر نصیحت کر۔ ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا ” اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا جو تم سخت تکلیفیں دیتے تھے ، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ بچا رکھتے تھے ، اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور یاد رکھو ، تمہارے رب نے خبردار کردیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازدوں گا اور اگر کفران نعمت کروگے تو میری سزا بہت سخت ہے “۔

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ ” اگر تم کفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہوجائیں تو اللہ نے بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے “۔

اس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنی قوم کی زبان میں ارسال کیا تھا۔ آیت نمبر 5 تا 8 حضرت نبی ﷺ کو جو حکم دیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو حکم دیا گیا تھا دونوں کے الفاظ ایک ہی ہیں۔ اس سورة میں یہی انداز کلام اختیار کیا گیا ہے۔ اس فقرے کے بارے میں ابھی ہم مفصل بات کرچکے ہیں ، یہی تفسیر یہاں بھی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کے لئے یہ حکم تھا۔ لتخرج الناس من الظلمت الی النور (14 : 1) ” تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔ اور یہی حکم موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہے۔ ولقد ارسلنا ۔۔۔۔۔۔۔ الی النور (14 : 5) ” یہ کہ اپنی قوم کو ظلمات سے نکال کر روشنی میں لاؤ “۔ حضور ﷺ کو حکم پوری انسانیت کے لئے ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم صرف ان کی قوم کے لئے تھا ۔ لیکن مقصد دونوں کا ایک ہی تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکالو۔ وذکرھم بایم اللہ (14 : 5) ” اور انہیں تاریخ الٰہی کے سبق آموز واقعات سنا کر نصیحت کرو “۔ سب کے سب دن اللہ کے ہیں۔ لیکن یہاں ان تاریخی دنوں سے مقصد ہے جن میں اللہ کے انعامات یا اللہ کا عذاب واضح طور پر نظر آتا ہے تا کہ ان سے انسانیت یا انسانیت کی کوئی جماعت استفادہ کرے اور نصیحت حاصل کرے۔ بعد میں تفصیلات آرہی ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ اللسام نے اپنی قوم کو ایام اللہ سے ڈرایا اور اقوام کے تاریخی واقعات ، قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود اور ان کے بعد آنے والی اقوام کے بارے میں یاد دہانی کرائی۔ یہ ہیں ایام اللہ۔ ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (14 : 5) ” ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو “۔ ان ایام میں بعض آیات ، دلائل اور نشانات اقوام کی بدبختی کے ہیں تو اس سے صبر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے اور بعض آیات اللہ کی نعمتوں کی ہوتی ہیں اور ان سے شکر کی نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص صبر کرنے والا اور شکر بجا لانے والا ہوتا ہے وہی ان نصیحتوں کا ادراک کرسکتا ہے اور ان کے اندر پائی جانے والی حکمت اور عبرت کو سمجھ سکتا ہے۔ نیز ان میں اس کے لئے تسلی اور یاد دہانی بھی ہوتی ہے۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم میں نبوت کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور قوم کو نصیحت کرتے رہے۔ واذ قال موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ من ربکم عظیم (14 : 6) ” یاد کرو جب موسیٰ علی السلام نے اپنی قوم سے کہا ” اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے ۔ اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے ، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ بچا رکھتے تھے ، اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو اللہ کی نعمتیں یاد دلاتے ہیں۔ یہ نعمت کی اللہ نے ، ان کو سخت عذاب سے نجات دی۔ یہ عذاب ان کو آل فرعون کی طرف سے دیا جا رہا تھا اور یہ عذاب مسلسل ان پر ڈھایا جا رہا تھا۔ اس میں کوئی وقفہ یا کوئی چھٹی کا پیریڈ نہ تھا اور اس عذاب کی انتہا یہ تھی کہ وہ ان کے بچوں میں سے لڑکوں کو قتل کردیتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ یہ اس لیے کہ ان کے اندر قوت مدافعت باقی نہ رہے اور مردوں کی کمی کی وجہ سے جنگی اعتبار سے وہ ضعیف ہوجائیں تا کہ ان کو ذلیل کر کے رکھا جاسکے۔ اللہ نے ان کو غلامی اور ذلت کی اس حالت سے نکالا۔ چناچہ یہاں ان کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یاد دلاتے ہیں تا کہ وہ شکر بجا لائیں۔ وفی ذلکم بلاء من ربکم عظیم (14 : 6) ” اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی “۔ پہلے تو ان کو نعمت کے ساتھ نہیں بلکہ مصیبت میں آزمایا گیا تا کہ ان کے صبر ، برداشت اور قوت مدافعت اور عزم کو آزمایا جائے کہ وہ کس قدر مخلص ہیں اور کس قدر اللہ کے احکام بجا لانے والے ہیں۔ صبر کا یہ مفہوم یہ نہیں ہے کہ کوئی انسان ذلت کو برداشت کرتے کرتے اپنے آپ کو اس کا عادی بنا لے بلکہ صبر یہ ہے کہ انسان مصائب کو برداشت کرے لیکن اس کی استقامت میں کوئی تزلزل نہ آئے۔ وہ شکست برداشت نہ کرے ، روحانی طور پر ہمت نہ ہارے ، اپنے پروگرام پر چلنے کا عزم پورا رکھتا ہو اور اس کے اندر ظلم اور سرکشی کے مقابلے کے لئے تیاری کا عزم موجود ہو۔ اگر ایسا نہیں ہے تو صبر نہیں بلکہ خواری اور ذلت کو قبول کرنا ہے اور نجات میں بھی ان کے لئے آزمائش ہے کہ آیا وہ شکر کرتے ہیں یا نہیں۔ اللہ کی اس نعمت کا اعتراف کرتے ہیں یا نہیں۔ اور نجات کے بدلے اللہ کی راہ ہدایت کو اپناتے ہیں یا نہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اب مزید بیان کرتے ہیں۔ ایام اللہ کے بیان کے بعد اب ان کو مستقبل کی ہدایات دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اب تمہیں چاہئے کہ صبر اور شکر کو اپنا وطیرہ بنا لو اور اگر تم شکر کروگے تو اس کا نتیجہ اچھا ہوگا اور اگر کفر کروگے تو اللہ کا عذاب پھر تیار ہوگا۔ واذ تاذن ۔۔۔۔۔۔ عذابی لشدید (14 : 7) ” یاد رکھو ، تمہارے رب نے خبردار کردیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفران نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے “۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہے ، یہ حقیقت کہ شکر نعمت سے نعمت میں اضافہ ہوتا ہے اور کفران نعمت سے انسان اللہ کی شدید پکڑ میں آجاتا ہے۔ جب ہم ذرا اس حقیقت پر غور کرتے ہیں تو پہلی ہی سوچ میں ہمارے دل اس حقیقت پر مطمئن ہوجاتے ہیں کیونکہ ایک تو یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور اس نے بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے لیکن اگر ہم اس کے اسباب کو بھی معلوم کرنا چاہیں اور ایسے اسباب کی تلاش کریں جنہیں ہم سمجھ سکتے ہیں تو بھی ہمیں کچھ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ شکر نعمت سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر کرنے والے کے نفس میں ایک صحیح معیار بیٹھا ہوا ہے۔ اللہ کی نعمت کا فطری تقاضا ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے۔ ہر فطرت سلیم ، احسان کا فطری صلہ شکر کو سمجھتی ہے۔ ایک تو یہ سبب ہے ، دوسرے یہ کہ جو شخص نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ ہی ان نعمتوں کا متصرف ہے۔ اس طرح یہ شخص سر کشی سے باز رہتا ہے ، لوگوں پر اپنے آپ کو برتر نہیں سمجھتا اور اللہ کی نعمتوں کو مخلوق خدا کے اذیت دینے ، شر کرنے ، معاشرے میں فساد پھیلانے اور خصوصاً گندگی پھیلانے کے لئے استعمال نہیں کرے گا۔ ان امور سے انسان کے نفس کے اندر پاکی آجاتی ہے اور ایسا شخص عمل صالح کے لئے آگے بڑھتا ہے۔ خدا کی دی ہوئی دولت میں اچھا تصرف کرتا ہے اور اس اچھے تصرف کی وجہ سے اس میں ترقی ہوتی ہے اور برکت آجاتی ہے ۔ اس طرح ایسے شخص سے اس کے اردگرد کے لوگ بھی خوش ہوتے ہیں اور پھر اس خوشی کی وجہ سے وہ اس کی اور معاونت کرتے ہیں۔ اس طرح معیشت کی ترقی کے لئے مزید پر امن ماحول فراہم ہوتا ہے اور اس میں ترقی ہوتی ہے۔ اگرچہ ایک مومن کے لئے تو صرف یہی کافی ہے کہ اگر شکر کرو گے تو میں زیادہ دولت دوں گا چاہے وہ دوسرے اسباب کو سمجھ سکے یا نہ سمجھ سکے کیونکہ اللہ کا وعدہ ایک حق ہے اور اس نے بہرحال پورا ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر دو طرح کا ہوتا ہے ایک تو اس طرح کہ نعمت کا شکر ادا نہ کیا جائے ، دوسرے اس طرح کہ دولت مند شخص اس بات کا انکار کردے کہ ان نعمتوں کا بخشنے والا اللہ ہے۔ وہ ان نعمتوں کو اپنے علم ، اپنی مہارت اور اپنی ذاتی جدو جہد کا ثمرہ قرار دے۔ گویا وہ یہ سمجھتا ہے کہ علم ، مہارت ، جدو جہد کی قوت یہ اللہ کی نعمتیں نہیں ہیں۔ یہ اس کی خود کی پیدا کردہ ہیں اور بھی کفران نعمت یوں ہوتا ہے کہ ان کی وجہ سے یہ شخص سرکشی اختیار کرتا ہے ، تکبر کرتا ہے ، اپنے آپ کو لوگوں کے مقابلے میں بڑی چیز سمجھتا ہے اور ان کے ذریعہ فساد پھیلاتا ہے اور عیش و عشرت کرتا ہے۔ یہ سب امور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری میں آتے ہیں۔ عذاب شدید کی بھی پھر مختلف شکلیں ہیں ، کبھی تو یہ یوں آتا ہے کہ اللہ کی نعمت کسی سے سلب کرلی جاتی ہے اور وہ مشخص طور پر ان سے محروم ہوجاتا ہے یا انسانی شعور پر نعمتوں کا جو اثر ہوتا ہے وہ مٹ جاتا ہے۔ بعض اوقات کسی نعمت کو انسان کے لئے مصیبت بنا دیا جاتا ہے اور صاحب نعمت پر اس کی وجہ مصائب آجاتے ہیں۔ جو لوگ اس نعمت سے محروم ہوتے ہیں وہ اس کے ساتھ حسد کرتے ہیں اور کبھی یوں ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اس پر ایک عرصے کے بعد عذاب آجاتا ہے اور کبھی اس عذاب کو آخرت تک ملتوی کردیا جاتا ہے۔ لیکن عذاب ملتا ضرور ہے کیونکہ کفران نعمت کا جرم بغیر سزا کے نہیں رہ سکتا۔ اگر کوئی شکر کرتا ہے تو اللہ کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ اور اگر کوئی کفران نعمت کرتا ہے تو اللہ کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ اللہ تو بذات خود غنی ہے اور دونوں جہانوں میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ بذات خود محمود ہے۔ یہ نہیں ہے کہ وہ صرف لوگوں کے شکر اور حمد کے ساتھ محمود ہو سکتا ہے۔ وقال موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ لغنی حمید (14 : 8) ” اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم کفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہوجائیں تو اللہ بےنیاز ہے اور اپنی ذات میں محمود ہے “۔ اگر تم شکر کرو گے تو اس سے تمہاری زندگی سدھرے گی۔ لوگوں کے نفوس اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے اور پاکیزہ ہوں گے اور شکر کی وجہ سے وہ سدھر جائیں گے۔ وہ مطمئن ہوجائیں گے کہ اب یہ نعمت انشاء اللہ جاری رہے گی اور اس کے بگڑنے اور ختم ہونے کا خطرہ نہ رہے گا۔ نیز بطور شکر نعمت جو خرچ کیا جائے گا اس پر کوئی نفس پریشان نہ ہوگا بلکہ خوش ہوگا۔ کیونکہ منعم موجود ہے اور بطور شکر جو حصہ جائے گا اس سے بقیہ حصہ پاک ہوگا اور اجر مزید ملے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے سامنے وعظ و نصیحت جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن وہ پس منظر میں چلے گئے تا کہ منظر پر ایک عظیم معرکہ دکھایا جاسکے۔ جو تمام انبیاء کی امتوں اور ان کے بالمقابل جاہلیتوں میں برپا ہوگا۔ ان جاہلیتوں نے اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی۔ قرآن مجید کا یہ انوکھا اسلوب ہے کہ وہ کلام کا انداز یکلخت بدل کر اسے زندہ منظر میں بدل دیتا ہے۔ یہ منظر زندہ اور متحرک ہوتا ہے۔ اس میں افراد چلتے پھرتے نظر آتے ہیں اور ان کے تاثرات بھی صاف نظر آتے ہیں۔ زمان ومکان کو لپیٹ کر اب ایک عظیم منظر۔
Ayahs 14:9–11

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

” کیا تمہیں ان قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ؟ قوم نوح (علیہ السلام) ، عاد ، ثمود اور ان کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے ؟ ان کے رسول جب ان کے پاس صاف صاف باتیں اور کھلی کھلی نشانیاں لیے ہوئے آئے تو انہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ ” جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں “۔

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے کہا ” کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے۔ وہ تمہیں بلا رہا ہے تا کہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مدت مقرر تک مہلت دے۔ انہوں نے جواب دیا ” تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں۔ تم ہمیں ان ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو ، جن کی بندگی ہمارے باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے ۔ اچھا تو لاؤ کوئی صریح سند “۔

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

ان کے رسولوں نے ان سے کہا ” واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان۔ لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ، نوازتا ہے۔ اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لا دیں۔ سند تو اللہ ہی کے اذن سے ہو سکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہیے “۔

آیت نمبر 9 تا 11 یہ نصیحت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قوم میں سے ہے لیکن سیاق کلام میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر چھوڑ دیا گیا تا کہ منظر پر رسولوں اور ان کی دعوت کا حصہ لایا جائے۔ یعنی تمام رسولوں کا اپنی اپنی بالمقابل جاہلیتوں کے ساتھ مکان و زمان کے اختلاف کے باوجود جو رویہ رہا ، اسے یکجا کر کے اس منظر میں لایا گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) گویا اس عظیم قصے کو پیش کرنے والے Compairor تھے۔ انہوں نے اس قصے کو بڑے کرداروں کو آمنے سامنے کردیا۔ اب وہ خود منظر پر شریک گفتگو ہیں۔ قصص کو پیش کرنے کا یہ ایک مخصوص اسلوب ہے جو قرآن نے اختیار کیا ہے کہ وہ ایک حکایتی اور بیانیہ انداز کلام کو زندہ کرداروں کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سب رسول اور ان کی امم موجود ہیں اور تمام رسولوں کا مقابلہ جاہلیتوں کے ساتھ ہے۔ اقوام اور رسولوں کے درمیان زمان و مکان کے فاصلے مٹا دئیے جاتے ہیں اور واقعات کو زمان ومکان سے علیحدہ کر کے پیش کردیا جاتا ہے ، جب کہ زمان و مکان کے پردوں کے پیچھے وجود کی حقیقت ہے۔ الم یاتکم ۔۔۔۔۔ الا اللہ (14 : 9) ” کیا تمہیں ان قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ؟ قوم نوح (علیہ السلام) ، عاد ، ثمود اور ان کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے ؟ “ یہ بہت سی اقوام ہیں ۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہوا۔ یعنی قوم موسیٰ (علیہ السلام) اور اقوام ثمود کے درمیان۔ یہاں سیاق کلام کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ان اقوام کی تفصیلات دی جائیں کیونکہ رسول بھی دراصل ایک زمرہ ہیں اور جن لوگوں کو تبلیغ کی جا رہی تھی وہ بھی ایک زمرہ کے لوگ ہیں۔ جاء تھم رسلھم ۔۔۔۔۔ الیہ مریب (14 : 9) ” تو انہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ ” جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت ہو اس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں “۔ فردوا ایدیھم (14 : 9) کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح کوئی شخص اپنی آواز کو بلند کرنے کے لئے منہ کے سامنے ہاتھ رکھتا ہے تا کہ آواز بلند ہو اور دور تک سنی جاسکے۔ اس وقت لوگ اپنے منہ کے سامنے ہتھیلی ہلاتے ہیں تا کہ ہتھیلی کے آگے پیچھے ہونے سے آواز زیادہ بلند ہو۔ اس طرح آواز میں زیادہ موجیں پیدا ہوں اور اس تموج کی وجہ سے آواز دور تک جائے۔ یہاں ان کی اس حرکت کو اس لئے پیش کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ پرزور انداز میں تکذیب کرتے تھے۔ ببانگ دہل اور توہین آمیز طریقے سے نہایت ہی کرخت اور تہذیب و آداب سے خالی طریقوں سے انہوں نے پیغمبروں کی بات کا انکار کیا۔ رسولوں کی دعوت کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہوتا تھا کہ اللہ ایک ہے اور وہی وحدہ الٰہ ورب ہے اور اپنے بندوں میں سے کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ اس حقیقت میں شک کرنا جس کا ادراک ہر فطرت سلیمہ کرتی ہے اور اس کائنات کے اندر پھیلے ہوئے شواہد بھی ظاہرو باہر ہیں تو ایسے حالات میں عقیدۂ توحید میں شک کرنا نہایت ہی مکروہ اور قبیح حرکت ہے۔ رسولوں نے اس شک کو بےحد مکروہ سمجھا کہ زمین و آسمان کا یہ نظام شاہد عادل ہے۔ قالت رسلھم ۔۔۔۔ والارض (14 : 10) ” ان کے رسولوں نے کہا ” کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے “۔ کیا اللہ کے بارے میں شک ہے حالانکہ زمین و آسمان کا یہ نظام بآواز بلند پکار رہا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے یہ نظام بنایا ہے اور اسے چلایا ہے ۔ رسولوں نے یہ بات اس لیے کی کہ زمین و آسمان نہایت ہی واضح اور کھلے دلائل و نشانات ہیں۔ ان کی طرف صرف اشارہ ہی کافی ہے۔ ان کے نظام کو ہر گمراہ دیکھ کر راہ ہدایت پر آسکتا ہے۔ رسولوں نے زمین و آسمان کی طرف فقط اشارے ہی کو کافی سمجھا۔ اس کے بعد رسولوں نے بندوں پر اللہ کی نعمتوں کو گنوانا شروع کردیا کہ اللہ نے ان کو ایمان کی دعوت دی اور ایک وقت تک مہلت بھی دی تا کہ وہ دعوت ہدایت پر سوچ سکیں۔ یدعوکم لیغفر لکم من ذنوبکم (14 : 10) ” وہ تمہیں بلا رہا ہے تا کہ تمہارے قصور معاف کرے “۔ حقیقی دعوت تو ایمان کی دعوت ہے جس کے نتیجے میں مغفرت نصیب ہوتی ہے۔ لیکن یہاں دعوت و مغفرت کو ایک ساتھ لایا گیا ہے تا کہ اللہ کا احسان اچھی طرح واضح ہو کہ ایمان لاتے ہیں مغفرت ہوجاتی ہے اور پھر ان لوگوں کا رویہ اور سخت انکار مزید قابل تعجب ہے اور قابل مذمت ہوجاتا ہے کہ مغفرت کی طرف دعوت دی جارہی ہے اور یہ لوگ ہیں کہ منہ میں ہاتھ ڈال کر انکار کرتے ہیں۔ ویؤخرکم الی اجل مسمی (14 : 10) ” اور تم کو ایک مدت مقررہ تک مہلت دے “۔ اللہ تعالیٰ ایمان و مغفرت کی دعوت دینے کے ساتھ ہی ان سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ فوراً قبول کریں اور نہ ان کی تکذیب کے بعد فوراً ان کو ہلاک کرتا ہے ، بلکہ مہلت دیتا ہے۔ یہ مہلت اس دنیا میں بھی ایک وقت تک ہوتی ہے ۔ اور قیامت تک بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس عرصے میں تم اچھی طرح اس دعوت پر غور کرسکتے ہو اور اللہ کی عزت اور رسولوں کے بیان پر بھی غور کرسکتے ہو۔ یہ اللہ کی بہت بڑی رحمت اور مہربانی ہے اور یہ بھی اللہ کے انعامات میں سے ایک نعمت ہے۔ تو کیا ایسے انعامات الہٰیہ کا وہی جواب ہے جو تم دے رہے ہو۔ لیکن یہ لوگ بہت ہی جاہل ہیں اور وہ اسی پرانے جاہلانہ اعتراض کا سہارا لیتے ہیں۔ قالوا ان انتم ۔۔۔۔۔ یعبد اباؤنا (14 : 10) ” انہوں نے جواب دیا ” تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں۔ تم ہمیں ان ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے “۔ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیجا۔ یہ تو انسانوں کے لئے اعزاز تھا لیکن یہ وہ نہ صرف یہ کہ اسے سمجھتے نہیں بلکہ اس کا انکار کرتے ہیں اور اس میں نہ صرف شک کرتے ہیں ، بلکہ وہ الٹا رسولوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے خلاف یہ سازش کی ہے کہ ہمیں اس راہ سے ہٹا دیں جس پر ہمارے باپ دادا چلے آئے ہیں۔ لیکن سوچتے نہیں کہ رسول کیوں نہیں اس راہ سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ تمام بت پرست ہمیشہ عقلی جمود میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کے پاس یہی دلیل ہوتی ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد یہی کام کرتے رہے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ آباء کے مذہب کی حیثیت کیا ہے ؟ اگر غورو فکر سے کام لیا جائے تو ان الہٰوں کی حیثیت کیا ہے ؟ بجائے اس کے کہ وہ کوئی عقل و فکر سے کام لیں اور اس جدید معقول دعوت کو قبول کرلیں یہ لوگ الٹا پیغمبروں سے ثبوت مانگتے ہیں۔ فاتونا بسلطن مبین (14 : 10) ” اچھا تو لاؤ کوئی صریح سند “ ۔ رسول اپنی بشریت کا انکار نہیں بلکہ اقرار کرتے ہیں بلکہ وہ لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ اللہ نے ان پر احسان کیا کہ انہیں بار رسالت کے اٹھانے کے اہل بنایا ۔ قالت لھم ۔۔۔۔۔ من عبادہ (14 : 11) ” ان کے رسولوں نے ان سے کہا ” واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جو کو چاہتا ہے ، نوازتا ہے “۔ یہاں سیاق کلام میں اللہ کے احسان کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ اس پوری سورة میں فضا اللہ کے احسانات کی ہے۔ ہر جگہ اللہ کے انعامات کا ذکر ہے۔ چناچہ یہاں بھی لکھا گیا کہ اللہ کے احسانات ہیں جس پر ہوجائیں۔ یہ احسان صرف رسولوں کی ذات پر ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ پوری بشریت پر احسان ہے کہ اس میں سے بعض افراد کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ دوسروں کی ہدایت اور راہنمائی کا کام کریں۔ یہ ڈیوٹی ہے کیا ؟ یہ کہ عالم بالا سے ان کا رابطہ ہو اور پھر لوگوں تک پیغام پہنچائیں اور پھر پوری انسانیت پر احسان ہے کہ یہ رسول لوگوں کی فطرت کو جگائیں اور اس کے اوپر سے زنگ دور کردیں تا کہ فطرت انسانی میں وہ قوتیں تازہ ہوجائیں جو ہدایت کو قبول کریں اور جمود کی موت سے نکل کر قبولت حق کی زندگی میں داخل ہوں۔ پھر انسانیت پر یہ بہت بڑا احسان ہے کہ یہ رسول لوگوں کو مختلف الہٰوں کی بندگی اور غلامی سے نکال کر صرف اللہ کی بندگی میں داخل کریں اور ان کی عزت نفس ، اور ان کی قوتوں کو لوگوں کی غلامی میں صرف ہونے سے بچائیں۔ کیونکہ غلامی میں جب ایک انسان اپنے جیسے انسان کے سامنے جھکتا ہے تو اس کی عزت نفس ختم ہوجاتی ہے۔ انسانی قوت اپنے جیسے انسانوں کو الٰہ بنا کر بکھر جاتی ہے۔ رہی یہ بات کہ رسول کوئی واضح معجزہ پیش کریں یا کسی فوق الفطرت قوت کا مظاہرہ کریں تو تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم سے یہی کہا کہ معجزات کا صدور تو اللہ کے ہاتھ میں ہے تا کہ عوام الناس کے تاریک ذہنوں میں یہ بات بیٹھ جائے کہ ذات الٰہی اور ذات بشر میں فرق کیا ہے تا کہ لوگوں کے ذہنوں میں توحید کا ایسا صاف تصور بیٹھ جائے کہ اللہ کی ذات صفات میں کوئی شریک نہ ہو۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر پہنچ کر تمام بت پرستوں نے راستہ گم کردیا اور عیسائیوں نے بھی توحید کا راستہ اس وقت گم کردیا جب انہوں نے اپنے دین کو یونانی ، رومی ، مصری اور ہندی فلسفوں کے ساتھ مکس کرلیا۔ عیسائیوں کی گمراہی کا آغاز ہی اس عقیدے سے ہوا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر خوارق عادت معجزات کا صدور ہوا۔ چناچہ خود عیسائیوں نے بعد میں ان کو الٰہ مان لیا۔ وما کان لنا۔۔۔۔۔۔ المومنون ( 14 : 11) ” اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لا دیں۔ سند تو اللہ ہی کے اذن سے ہو سکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہئے “۔ رسولوں کا کہنا یہ تھا کہ ہم اللہ کی قوت کے سوا کسی اور قوت پر کبھی کوئی بھروسہ نہیں کرتے اور یہ ان کا دائمی اصول ہے۔ کیونکہ اہل ایمان کا بھروسہ صرف اللہ ہی پر ہوتا ہے۔ ایک مومن کا دل صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، اور وہ اس کے اوپر بھروسہ کرتا ہے۔ رسولوں کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی طرف سے تمام زیادتیوں کا مقابلہ ایمان سے کرتے ہیں۔ اور ان کی اذیتوں کا مقابلے ثابت قدمی سے کرتے ہیں۔ رسول سو الیہ انداز میں ان جاہلوں سے پوچھتے ہیں کہ ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں۔
Ayah 14:12

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

” اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے ؟ جو اذیتیں تم لوگ ہمیں دے رہے ہیں ان پر ہم صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کا بھروسہ اللہ ہی پر ہونا چاہئے “۔

آیت نمبر 12 وما لنا۔۔۔۔۔۔۔ ھدنا سبلنا (14 : 12) ” اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے ؟ “ یہ اس شخص کی بات ہے جسے اپنے موقف اور اپنے طریقہ کار پر پختہ یقین ہو اور وہ اپنے منہاج پر مطمئن ہو۔ اس کا دامن اپنے حقیقی ولی اور ناصر کے اعتماد سے بھرا ہوا ہو ، اور وہ یقین رکھتا کہ جو ذات ہدایت دیتی ہے وہ اس کی معین و مددگار ہوگی۔ اگر ایک راہ رو صحیح راہ پر جا رہا ہو تو اسے کیا پرواہ ہے کہ وہ منزل تک پہنچتا ہے یا نہیں۔ اصل فکر تو اس بات کی ہونا چاہئے کہ راہ رو جس راہ پر سفر کر رہا ہے وہ راہ دعوت ہے یا نہیں۔ جو شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ دست قدرت اس کی رہنمائی کر رہا ہے اور اپنے قدم بقدم چلا رہا ہے ، تو وہ ایک ایسا شخص ہے جس کا شعور اللہ کے وجود اور اس کی قدرت قاہرہ کو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایسے شخص کا دل اللہ تک پہنچا ہوا ہوتا ہے۔ جس شخص کو یہ شعور حاصل ہو وہ اپنی راہ پر چلنے میں پھر کوئی تردد نہیں کرتا اگرچہ راستے میں مشکلات ہوں ، اور اگرچہ راستے میں بڑی سے بڑی طاغوتی قوتیں بیٹھی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں انبیاء (علیہم السلام) کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ وہ یہ یقین رکھیں کہ اللہ ان کا ہادی و ناصر ہے اور وہ طاغوتی قوتوں کو خاطر نہیں نہ لا کر اپنی راہ پر بےدھڑک چلیں۔ اور اللہ پر بھروسہ کریں اور طاغوتی قوتوں کی دھمکیوں کو خاطر میں نہ لا آگے ہی بڑھیں۔ اس عظیم حقیقت تک صرف وہی لوگ پہنچ سکتے ہیں جو کسی موجود اور مستحکم مقتدر اعلیٰ طاغوتی نظام کے خلاف عملاً اسلامی تحریک کو لے کر اٹھتے ہیں۔ صرف ایسے عملی لوگوں کے دل میں یہ شعور پیدا ہوتا ہے کہ اللہ خود ان کی راہنمائی کر رہا ہے۔ وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں اور ان کے دل ایمان ویقین سے بھر جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دل محسوس کرتے ہیں کہ ان کے لئے روشنی کی کھڑکیاں کھل گئی ہیں اور ان کھڑکیوں اور روشن دانوں سے ان پر روشنی آتی ہے ، جو ایمان کی روشنی ہوتی ہے۔ اس رابطے کے ذریعہ ایمان کی تازہ ہوا کے جھونکے بھی آتے رہتے ہیں اور ایسے دل اللہ کے ساتھ نہایت انس اور قرب محسوس کرتے ہیں۔ تحریک اسلامی کے جن کارکنوں کے دلوں میں یہ شعور پیدا ہوتا ہے وہ پھر اس زمین پر پائے جانے والی مقتدر طاغوتی قوتوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ ان کو نہ کوئی دھوکہ دے سکتا ہے اور نہ کوئی دھمکا سکتا ہے۔ ایسے کارکن پھر ایسی طاغوتی قوت کی قوت اور اقتدار کو نہایت ہی حقارت سے دیکھتے ہیں اس لیے کہ ان کے قلوب اللہ تک پہنچے ہوئے ہوتے ہیں اور ان حقیر لوگوں کی سازشوں اور مظالم کو پھر وہ خاطر ہی میں نہیں لاتے۔ وما لنا الا۔۔۔۔۔۔۔۔ ما اذیتمونا ” اور ہم کیوں اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے ؟ “ اور جو اذیتیں تم لوگ ہمیں دے رہے ہو ان پر ہم صبر کریں گے “۔ ہم صبر سے کام لیں گے اور انشاء اللہ ہمارے پاؤں ہرگز نہ ڈگمگائیں گے ، ہم کمزوری نہ دکھائیں گے اور ہمارے قدم متزلزل نہ ہوں گے اور وھن ہمارے قریب نہ آئے گا اور نہ ہم الٹے پاؤں پھریں گے۔ ہم اس راہ سے ہرگز ادھر ادھر نہ ہوں گے ۔ نہ جدو جہد میں کمی کریں گے اور نہ ہی ہم شک میں گرفتار ہوں گے۔ اور یہ اس لیے کہ : وعلی اللہ فلیتوکل المتوکلون (14 : 12) ” اور بھروسہ کرنے والے ، اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ اب سرکش طاغوتی قوتیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں ، یہ قوتیں ، مجادلہ اور مباحثہ ترک کردیتی ہیں ، غوروفکر چھوڑ دیتی ہیں کیونکہ یہ محسوس کرتی ہیں کہ یہ لوگ لوہے کے چنے ہیں۔ ان کو نہیں چبایا جاسکتا۔ نظریات کے مقابلے میں ان قوتوں کو شکست ہوجاتی ہے ۔ اب یہ لوگ تشدد کے اوچھے ہتھیار لے کر سامنے آتے ہیں کیونکہ طاغوتی سرکش قوتوں کے پاس اس کے سوا ہوتا گیا ہے۔
Ayahs 14:13–14

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

” آخر کار منکرین نے اپنے رسولوں سے کہہ دیا کہ ” یا تو تمہیں ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے “۔ ” تب ان کے رب نے ان پر وحی بھیجی کہ ” ہم ان ظالموں کو ہلاک کردیں گے

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور ان کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے۔ یہ انعام ہے اس کا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو “۔

آیت نمبر 13 تا 14 اس مقام پر اسلام اور جاہلیت کے معرکے کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ دراصل کوئی جاہلی نظام اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ اسلام کا کوئی مستقل اقتدار اعلیٰ ہو ، اور وہ جاہلیت کے انتداب سے باہر ہو۔ نہ جاہلیت اس بات کو برداشت کرتی ہے کہ اس کے مستحکم نظام سے باہر کوئی اسلامی نظام ہو ، اگرچہ اسلام کی یہ مقتدر اعلیٰ قوت جاہلیت کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کے اصول پر چلنے کے لئے راضی ہو۔ اس لیے کہ جاہلیت کو پتہ ہے کہ اسلام ایک مستقل متحرک سوسائٹی کی شکل اختیار کرتا ہے جس کی اپنی قیادت ہوتی ہے ، جس کا اپنا دائرہ دوستاں ہوتا ہے ، جبکہ یہی وہ بات ہے جسے کوئی نظام جاہلیت کبھی گوارا نہیں کرتا۔ چناچہ یہاں جاہلیت رسولان کرام سے فقط یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ وہ اپنی دعوتی سرگرمیاں بند کردیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ تم ہماری ملت اور ہماری پارٹی میں واپس آجاؤ، اور ہماری جاہلی سوسائٹی میں مدغم ہوجاؤ، بلکہ ہماری کان میں پگھل جاؤ، اس طرح کہ تمہارا کوئی مستقل وجود نہ رہے۔ یہی تو وہ بات ہے جسے اسلامی نظام کا مزاج قبول ہی نہیں کرتا اور نہ اس بات سے رسول۔۔۔۔ دستبردار ہوتے ہیں۔ چناچہ وہ انکار کردیتے ہیں اس لئے کہ ایک مسلم جو جاہلی سوسائٹی سے کٹ کر باہر آتا ہے کس طرح وہ دوبارہ اس سوسائٹی میں گھل مل سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر جاہلی سوسائٹی ، ایسے عناصر سے مرکب ہوتی ہے جو اپنے طبعی مزاج کے اعتبار سے کسی اسلامی عنصر کو قبول ہی نہیں کرتی الا یہ کہ کوئی مسلمان اپنی پوری تحریکی اور عملی قوتیں اس جاہلی سوسائٹی کے استحکام ہی کے لئے خرچ کر رہا ہو ، اور جاہلیت کی بنیادیں مضبوط کر رہا ہو۔ بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی لاحق ہے کہ وہ جاہلیت میں گھس کر اور جاہلیت کے نظام کے اندر پگھل کر اور اس کا کل پرزہ بن کر اسلام کی خدمت کرسکتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ دراصل اسلامی سوسائٹی کے عضویاتی عناصر ترکیبی اور اس کے مزاج ہی سے واقف نہیں ہیں اور نہ جاہلی معاشرے کے مزاج سے یہ لوگ واقف ہیں۔ ہر معاشرہ دراصل اپنے اندر صرف انہی اجزاء کو قبول کرتا ہے جو اس معاشرے کے لئے کام کر رہے ہوں۔ اس کے مقام اور نظام کو مستحکم کر رہے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ رسولان کرام اعلانیہ انکار کردیتے ہیں کہ ہم اب تمہاری ملت اور سوسائٹی میں واپس نہیں آسکتے۔ اس مقام پر اللہ کی قوت قاہرہ پھر جاہلیت پر ضرب لگاتی ہے۔ یہ ایسی ضرب ہوتی ہے کہ اس کے مقابلے میں کوئی قوت نہیں ٹھہر سکتی کیونکہ یہ ضرب نہایت ہی عظیم قوت کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس ضرب کو پھر بڑے بڑے سرکش اور ڈکٹیٹر بھی نہیں سہہ سکتے۔ یہ بات جان لینا چاہئے کہ اللہ کی عظیم قوت تحریکی معاملات میں تب مداخلت کرتی ہے جب رسول اپنی قوم سے مکمل علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں۔ ان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے انہیں اس جاہلیت سے نجات دے دی ہے ، اس لیے اب وہ دوبارہ اس نظام جاہلیت میں واپس نہیں جاسکتے۔ جب تک وہ اپنی امتیازی شان پر اصرار نہیں کرتے۔ جب تک وہ اپنے دینی نظریہ پر مصر نہیں ہوتے اور اپنی قیادت کی ماتحتی میں اپنی الگ سوسائٹی کی تشکیل نہیں کرتے۔ اور جب تک یہ تحریک اور قیادت نظریاتی بنیادوں پر اپنی قوم کو منقسم نہیں کردیتی۔ غرض جب تک یہ صورت نہیں ہوتی کہ ایک قوم دو ملتوں کی شکل میں منقسم ہوجائے ، جن کا نظریہ ، جن کا طریق زندگی ، جن کی سوسائٹی اور جن کی قیادت علیحدہ ہوجائے تو اس وقت تک اللہ کی عظیم قوت مداخلت نہیں کرتی۔ جب اسلامی تحریک یہ پوزیشن اختیار کرلیتی ہے تو پھر اللہ کی عظیم قوت جاہلیت پر فیصلہ کن ضرب لگاتی ہے۔ اب پھر کیا ہوتا ہے ، وہ تمام طاغوتی قوتیں پاش پاش کردی جاتی ہیں جو تحریک اسلامی کے لئے خطرہ ہوتی ہیں اور پھر ایسے لوگوں کو اللہ کی عظیم قوت زمین میں مستحکم کر کے بٹھا دیتی ہے اور تب جا کر اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے جو رسولوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور ان کے بعد داعیان حق کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ لیکن اگر تحریک اسلامی جاہلی سوسائٹی کا حصہ ہو۔ اس کے اندر پگھل چکی ہو ، اور جاہلی سوسائٹی کے طور طریقوں کے اندر ، جاہلی تنظیم کے اندر کام کر رہی ہو ، اس سے علیحدہ ، ممتاز اور جدا تحریک یا نظام نہ رکھتی ہو اور اس کی اپنی قیادت نہ ہو۔ اس وقت تک یہ مداخلت نہیں ہوتی اور نہ اللہ کی نصرت آتی ہے۔ فاوحی الیھم ربھم لنھلکن الظلمین (14 : 13) “ تب ان کے رب نے ان پر وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ہلاک کردیں گے ”۔ یہ نون تاکید اور عظمت کے لئے ہے۔ یہ دونوں معانی اس سخت موقعہ پر بہت اہمیت رکھتے ہیں ، یعنی ہم ان جابر مشرکوں ، ظالموں اور سرکشوں کو ہلاک کردیں گے ، ان کی ذاتی خرابیوں کی وجہ سے اور اس سچائی کی خاطر جو عوام کے لئے بھیجی گئی اور اس خوف و ہراس کی وجہ سے جو انہوں نے عوام کے اندر پیدا کردیا تھا۔ ولنسکننکم الارض من بعدھم (14 : 14) “ اور اس کے بعد تمہیں زمین پر آباد کریں گے ”۔ یہ کام کسی طرف داری یا مزاح کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے اور اللہ کے ہاں فیصلے عدل کے مطابق ہوتے ہیں۔ ذلک لمن خاف مقامی وخاف وعید (14 : 14) “ یہ انعام ہے اس کا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو ”۔ یعنی ایک مقتدر کو بنا کر کسی اور کو اقتدار دینا ، اور زمین کی خلافت دینا ، اس لیے ہوتا ہے کہ سرکشوں کو ہٹا کر ان کی جگہ خدا کا خوف رکھنے والی قیادت لائی جائے۔ پھر وہ دست درازی نہ کرے ، زمین میں غرور اور تکبر نہ کرے ، جباری و قہاری سے حکمرانی نہ کرے ، اللہ کے حدود سے ڈرے اور اللہ کے سامنے جوابدہ ہو اور فساد فی الارض سے بچے ، زمین میں ظلم نہ کرے ، اس لیے کہ اسے یہ اقتدار اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ اس کے لئے اہل سمجھی گئی ہے۔ جب اہل حق اور اہل باطل کے درمیان مکمل جدائی ہوجاتی ہے تو پھر سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کی اس حقیر دنیاوی قوت کے مقابلے میں اللہ جبار وقہار اور مکمل گھیر لینے والے کی عظیم قوت سامنے آتی ہے۔ کیونکہ رسولوں کی تبلیغ کی مہم ختم ہوجاتی ہے ، حق و باطل ایک دوسرے کے بالمقابل صف آراء ہوجاتے ہیں اور مومن جھوٹوں سے جدا ہوجاتے ہیں۔ اب صورت حالات یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف ایک کیمپ میں دنیا کے سرکشوں کی قوت سامنے آتی ہے اور رسول اور داعیان حق دوسری طرف کھڑے ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ اللہ کی عظیم قوت ہوتی ہے۔ دونوں فتح و نصرت کے لئے دعا کرتے ہیں ، اور انجام یوں ہوتا ہے۔
Ayahs 14:15–17

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

“ انہوں نے فیصلہ چاہا تھا (تو یوں ان کا فیصلہ ہوا) اور ہر جبار دشمن حق نے منہ کی کھائی ،

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

پھر اس کے بعد آگے اس کے لئے جہنم ہے۔ وہاں اسے کچ لہو کا سا پانی پینے کو دیا جائے گا۔

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

جسے وہ زبردستی حلق سے اتارنے کی کوشش کرے گا اور مشکل ہی سے اتار سکے گا۔ موت ہر طرف سے اس پر چھائی رہے گی مگر وہ مرنے نہ پائے گا اور آگے ایک سخت عذاب اس کی جان کا لاگو رہے گا ”۔

آیت نمبر 15 تا 17 یہ ایک عجیب منظر ہے ، اس میں ہر سرکش ڈکٹیٹر تباہ حال ہوتا ہے ، اس دنیا کے میدان جنگ میں یہ شکست کھاتا ہے ، لیکن یہ منظر اسے کھڑا کر کے ایک دوسرا تخیلاتی منظر اسکرین پر بولا جاتا ہے۔ اب یہ آخرت میں جہنم کے اندر ہے ، اس جہنم میں یہ شدید پیاساے اور اس کو انسانی زخموں سے بہنے والا سیال مادہ پلایا جا رہا ہے ، یہ اسے نہیں پینا چاہتا مگر اسے یہ مشروب بجبر پلایا جاتا ہے۔ یہ اس کے حلق سے نہیں اتر رہا کیونکہ یہ تو تلخ اور بدمزہ ہے۔ گندہ اور مکروہ مشروب ۔ اس ڈکٹیٹر کی طرف سے اظہار کراہیت اور تکلیف الفاظ کی اسکرین پر صاف و شفاف نظر آتے ہیں۔ صورت یہ ہے کہ ہر طرف سے اس پر آنے والا عذاب اس قدر شدید ہے کہ شاید ابھی مرجائے مگر اسے مرنے کی تو اجازت ہی نہیں ہے۔ شدید عذاب پر عذاب اس پر آرہا ہے ، اسی لئے تو نہیں مرتا۔ یہ ایک عجیب منظر ہے۔ اس میں ایک شکست خوردہ جبار اور ڈکٹیٹر کی تصویر کشی کی گئی ہے اور اس تصویر کے پس منظر میں دکھائی جاتی ہے جس طرح کسی منظر کے درمیان میں تخیل آتا ہے۔
Ayah 14:18

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

“ جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کے اعمال کی مثال اسی اکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اڑا دیا ہو۔ وہ اپنے کئے کا کچھ بھی پھل نہ پاسکیں گے ۔ یہی پرلے درجے کی گم گشتگی ہے ”۔

آیت نمبر 18 یہ منظر کہ سخت طوفانی ہوا کے دن راکھ اڑرہی ہے ، پیش آتا رہتا ہے اور ہر کسی کے ذہن میں ہے۔ یہاں اس منظر سے قرآن کریم یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ کوئی چیز کسی طرح مجسم طور پر ضائع ہوجاتی ہے اور اس کا مالک اس کے یوں ضائع ہونے کو کسی طرح نہیں روک سکتا اور نہ ایسی ضائع شدہ چیز سے کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے اس طوفانی منظر میں اس مفہوم کو مجسم کر کے پیش کیا جاتا ہے اور یہ منظر انسانی شعور کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے ، ضیاع اعمال کی تعبیر اگر مجرد ذہنی اور فلسفیانہ انداز میں کی گئی ہوتی تو اس کا اس قد اثر ہرگز نہ ہوتا۔ اس سے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجاتی ہے کہ یہ اعمال پوری طرح اکارت گئے۔ یہ منظر کفار کے اعمال کی بساط لپیٹ کر رکھ دیتا ہے جو اعمال ایمان کی مضبوط بنیاد پر قائم نہیں ہوتے اور جو اپنے حقیقی اسباب کے ساتھ مضبوط رسی سے باندھے ہوئے نہیں اور جن کا باعث اور سبب تعلق باللہ نہیں ہوتا۔ وہ اسی طرح اڑ جاتے ہیں جس طرح سخت آندھی میں راکھ اڑ جاتی ہے اور ایسے اعمال نہ مضبوطی سے قائم ہو سکتے اور نہ منظم ہو سکتے ہیں ، کیونکہ اصل بات عمل نہیں ہوتا بلکہ وہ داعیہ ہوتا ہے جس کی اساس پر عمل کا ظہور ہوتا ہے اس لیے کہ عمل ایک آلاتی حرکت ہے ، جس طرح مشین حرکت کرتی ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ عمل کے پیچھے محرک ہو اور اس عمل کا کوئی متعین مقصد ہو۔ اس منظر میں ایک گہر معنوی حقیقت اور ظاہری تصور کے درمیان مکمل مطابقت ہے اور یہ منظر اس مفہوم کو نہایت موثر ، اشاراتی اور دلچسپ اسلوب میں ظاہر کرتا ہے اور پھر جو نتیجہ سامنے آتا ہے وہ اس مفہوم پر فٹ آتا ہے۔ ذلک ھو الضلل البعید (14 : 18) “ یہی پرلے درجے کی گم گشتگی ہے ”۔ یہ نتیجہ جس قدر تاریک ہے وہ راکھ کی اڑان کی تاریکی کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہے ، کافر خود اپنے اعمال کے غبار میں گم گشتہ راہ نظر آتا ہے۔ پھر ایک دوسری جھلکی جو اگلی آیت میں آرہی ہے ، وہ بھی اس منظر کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اس میں سیاق کلام میں اہل قریش کو یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ اقوام سابقہ کے مکذبین والا انجام تمہارے انتظار ہیں ہے۔ اگر تم درست نہ ہوئے تو اللہ تمہیں مٹا کر کسی دوسری قوم کو میدان میں اتار دے گا۔